ستمبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

آزمایشیں

شیخ محمد مراتب النابلسی، ابوسعد | ستمبر ۲۰۱۴ | تذکیر

ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں اس کی دو صورتیں ہیں: ایک ظاہری اور دوسری حقیقی۔ دنیا کی حقیقت جاے عبرت اور سراے فانی کی ہے۔ یہ محنت اور جدوجہد کا میدان ہے نہ کہ عیش و آرام کا۔ جس نے اس حقیقت کو جانا، وہ اس دنیا کی آسایش اور فارغ البالی میں مدہوش نہیں رہتا اور نہ دنیا کے مصائب پر غم ہی کا شکار ہوتا ہے۔ اس لیے کہ یہ وقتی ہیں، دائمی نہیں، متاع قلیل بھی ہیں اور متاعِ غرور [دھوکا] بھی   ؎

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا

فریب سود و زیاں! لا الٰہ الا اللہ

(اقبالؔ)

اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے اور آخرت کو دارالسلام۔ دنیا کی آزمایش کو آخرت کی جزا و سزا سے جوڑ دیا ہے۔ اللہ جل شانہٗ کی سنت یہ ہے کہ وہ بندے سے کچھ لیتا ہے تاکہ اس کو آخرت میں اجرعظیم عطا کرے، اور بندے کو چند چیزوں میں آزماتا ہے تاکہ اس کو  بلندیِ درجات کا وسیلہ بہم پہنچائے۔امام شافعی سے پوچھا گیا کہ اللہ تعالیٰ سے بندہ آزمایش کی دعا کرے یا راحت کی، تو آپ نے فرمایا: آزمایش سے گزرے بغیر حقیقی راحت نصیب نہیں ہوسکتی۔

بندئہ مومن تین مراحل سے گزرتا ہے۔

  • پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اس کے عمل میں کوتاہی اور کمی دَر آتی ہے اور وہ اپنے فرائض و واجبات سے غفلت برتتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو کچھ مصائب میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ آئے۔
  • دوسری حالت میں مومن حق کی راہ پر استقامت سے گامزن رہتا ہے۔ پھر بھی اسے کچھ مصائب و آلام گھیر لیتے ہیں تاکہ اس کو آزمایا جائے۔
  • تیسری کیفیت یہ ہے کہ مومن کی زندگی بڑی راحت اور شان و شوکت سے بسر ہوتی ہے۔ گویا ہم تادیب، امتحان اور نوازش کے مراحل سے گزرتے ہیں۔

یہ تینوں مراحل علیحدہ علیحدہ بھی پیش آسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ بھی۔ ہرمومن کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ آزمایش ناگزیر ہے۔ کامیابی یہ ہے کہ آزمایش میں پورے اُتریں اور قضاے الٰہی پر راضی بہ رضا رہیں۔ یہ ایمان کے اعلیٰ مراتب میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتے ہیں تو اُسے آزماتے ہیں اور جب بندہ آزمایش میں صبر کا مظاہرہ کرتا ہے، تو اُسے مقربین میں شامل کرلیتے ہیں۔ قرآنِ مجید سے واضح ہوتا ہے کہ جس شخص کی آزمایش نہیں ہوتی، وہ منزل سے ناآشنا اُونٹ کی طرح بھٹکتا رہتا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’پھر جب انھوں نے اس نصیحت کو جو انھیں کی گئی تھی بھلا دیا، تو ہم نے ہرطرح کی خوش حالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انھیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے، تو اچانک ہم نے انھیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ  وہ ہرخیر سے مایوس تھے‘‘۔ (الانعام ۶:۴۴)

ہم سب آزمایش اور امتحان سے گزر رہے ہیں۔ اس امتحان کی مدت انسان کی عمر ہے اور امتحان گاہ اس کا مستقر۔ دولت و ثروت، زیب و زینت، گھر، جایداد اور ہروہ چیز جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے، اس میں ہمارا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اس امتحان کے دو پرچے ہیں: ایک پرچہ   وہ ہے جس کا مضمون ہمیں حاصل شدہ نعمتیں ہیں اور دوسرے پرچے کا مضمون وہ نعمتیں ہیں جن سے ہم دنیا میں محروم ہیں۔ اولادِ نرینہ کا نہ ہونا آزمایش ہے۔ لاولد ہونا آزمایش ہے۔ کثرتِ اولاد آزمایش ہے۔ اولاد کے فوت ہونے میں آزمایش ہے۔ دولت مند ہونا آزمایش ہے اور مفلسی اور  فقر میں بھی آزمایش ہے۔ جاہ و جلال اور منصب ِ عالیہ کا حاصل ہونا ایک آزمایش ہے اور گم نام ہونے میں بھی آزمایش ہے۔ ہرچیز جو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے اور جو نہیں دی، ان سب میں بھی آزمایش ہے۔ نبی اکرمؐ نے کیا خوب دُعا سکھائی ہے: اللّٰھُمَّ مَا رَزَقْتَنِی مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْہُ قُوَّۃً لِیْ فِیْمَا تُحِبُّ ، اللّٰھُمَّ وَمَا زَوَیْتَ عَنِّی مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْہُ فَرَاغًا لِی فِیْمَا تُحِبُّ ’’خدایا! جو کچھ تو نے مجھے میری پسندیدہ چیزوں میں سے دیا ہے اسے اپنے پسندیدہ کاموں میں میرا مددگاربنادے۔ خدایا! جو کچھ تو نے میری پسندیدہ چیزوں میں سے روک رکھا ہے اُسے تو میرے حق میں ان چیزوں کے لیے موجب ِفراغ بنا جو تجھے پسند ہیں‘‘۔ (ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث ۳۸۲۹)

دنیا کی زینت میں آزمایش

یہ دنیا بہت حسین و مرغوب ہے۔ یہاں سبزہ زار ہیں۔ مرغوبات نفس، عورتیں، پُرآسایش  کوٹھیاں ہیں اور مال و اسباب ہیں۔ موٹرکاریں، دل چسپ سفر اور سیاحت کے مواقع ہیں، عمدہ کھانے، پُرتعیش محفلیں اور جاہ و منصب ہے۔سورئہ کہف میں ہے: ’’واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں، اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘۔ (الکھف ۱۸:۷)

اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت دی اور ایمان والا بنایا۔ لیکن وہ فقرا، جو آپ کے اطراف میں رہتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے یہ شکوہ کرنے میں حق بجانب ہوں گے کہ یارب آپ نے ہمارے حصے کی دولت فلاں کو عطا کردی اور اسے غنی کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زورقلم عطا کیا تاکہ حق کی تائید اور باطل کی تردید کرے۔ کیا آپ نے قلم کا حق ادا کردیا؟۔

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ایک اعلیٰ منصب عطا کیا۔ تو کیا آپ نے اس منصب کو مظلوم کی مدد کرنے اور ظالم کا زور توڑنے کے لیے استعمال کیا؟ اللہ تعالیٰ نے آپ کو طاقت ِگفتار عطا کی، تو کیا آپ اس طاقت کو حق کی ترویج اور باطل کی تردید کے لیے کام میں لائے؟

ہم دارالامتحان میں ہیں۔ ایک لمحہ بھی ہماری زندگی کا ایسا نہیں گزرتا جس گھڑی ہم آزمائے نہ جارہے ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ مال و دولت، زرعی اور صنعتی پیداوار، زیب و زینت، اموالِ تجارت وغیرہ سے ہم آزمائے جارہے ہیں۔ صحت و مرض کی بنیاد پر، طاقت اور کمزوری کے پیمانے سے، خوش حالی اور تنگ دستی کے حالات سے ہمیں آزمایا جا رہا ہے۔

جو صحت مند ہیں ان کی آزمایش صحت میں ہے۔ کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنا وقت گزارا یا معصیت کا ارتکاب کرتے رہے؟ قوت و طاقت والوں کی آزمایش یوں ہوتی ہے کہ آیا انھوں نے اپنی قوت و طاقت حق کے لیے استعمال کی یا باطل کی خاطر۔ تنگ دستی اور کمزوری میں آزمایش یہ ہے کہ آیا ہم مایوس ہوگئے اور حالات سے سمجھوتہ کرلیا یا اللہ کی نصرت سے پُرامید رہے۔ خوش حال لوگوں کا امتحان یہ ہے کہ وہ اللہ کے شکرگزار رہتے ہیں یا نعمتوں کے ملنے کے بعد خدا کو بھول جاتے ہیں۔ نبی کریمؐ کا فرمان ہے: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کے لیے تمام تعریفیں ہیں کہ  جس نے میری روح کو لوٹایا، مجھے صحت عطا کی اور اپنے ذکر کی توفیق بخشی‘‘۔ گویا زینت حیات میں، نفس میں اور مال میں ہمارا امتحان ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’مسلمانو!تمھیں مال اور جان، دونوں کی آزمایشیں پیش آکر رہیں گی‘‘۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۸۶)

حق و باطل کا وجود

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے یہ طے کیا ہے کہ حق و باطل کی جنگ اس کرئہ ارض پر ہرزمانے میں جاری رہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات واجب الوجود ہے اور باقی سب ممکن الوجود۔ یہ ممکن تھا کہ صرف اہلِ ایمان کو اس زمین پر بسایا جاتا۔ حق و باطل کے درمیان کوئی جنگ نہ ہوتی، کوئی فتنہ نہ ہوتا، نہ بدرواُحد اور خندق کے معرکے ہوتے لیکن مشیت الٰہی یہ ہے کہ حق و باطل کے گروہ ہرزمانے میں رہیں    ؎

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز

چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی

(اقبالؔ)

شاید اس کی علّت یہ ہے کہ حق کی قوت باطل سے نبرد آزمائی ہی میں جِلا پاتی ہے۔ اہلِ حق اسی کش مکش میں قربانی دے کر اور صبرآزمائی کا مظاہرہ کرکے جنت کے حق دار ہوسکتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور ہم ضرور تمھیں خوف وخطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمھاری آزمایش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ: ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘، انھیں خوش خبری دے دو۔ اُن پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں‘‘۔(البقرہ ۲:۱۵۵-۱۵۷)

آزمایش کی اقسام

امانت میں آزمایش:

مال و دولت، جاہ و منصب، جایداد وغیرہ کے ذریعے ایک طرف ہمارا امتحان ہورہا ہے تو دوسری طرف ہمارا اپنا نفس، اولاد و رشتہ دار، صحت و مرض، حیات و موت، کامیابی و ناکامی، عزیز و اقارب کی موت ہمارا امتحان لے رہی ہے کہ ہم کیا رویہ اختیار کریں؟ کیا ہم صبر کے امتحان میں پورے اُترتے ہیں؟ گویا ہم دارالامتحان میں ہیں۔

امانتوں کی آزمایش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہمارا امتحان ہے کہ آیا ہم اس کے وفادار بندے بنے رہتے ہیں یا نہیں؟ ہم نماز کو پورے خشوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں یا نہیں؟ عبادات محض رسم کی طرح ادا کرتے رہے یا ان کو خوش دلی کے ساتھ  ادا کرتے رہے؟ ان دونوں کیفیات میں بڑا فرق ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

میں نے جِنّ اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ (الذاریات۵۱: ۵۶)

[اللہ]جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ (المُلک۶۷:۲)

امام قرطبیؒ لکھتے ہیں: اچھے عمل سے مراد یہ ہے کہ کون اللہ کے محرمات سے اپنے آپ کو روکے رکھتا ہے؟ کون اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مسابقت کرتا ہے؟ کون کسی عزیز کی موت پر صبر کرتا ہے اور حیات پر شکرگزار رہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے موت اور حشر کو جزا کے لیے اور حیات کو آزمایش کے لیے بنایا ہے، اور مومن کے سامنے یہ تصور واضح ہوتا ہے۔

شخصی آزمایش:

کبھی کبھی انسان کے لیے راحت و آسایش اور مال و دولت کی فراوانی یا تنگ دستی میں خصوصی آزمایش ہوتی ہے۔ دوسری طرف عمومی آزمایشیں مہنگائی، قہر، جبرواستبداد، قدرتی آفات وغیرہ کی شکل میں ہوتی ہیں: ’’اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمھاری آزمایش کریں گے‘‘۔(البقرہ۲:۱۵۵)

شخصی آزمایش کسی کی دولت میں ہوتی ہے تو کسی کی تنگ دستی میں، کسی کی اولاد کے ذریعے تو کسی کو لاولد رہنے میں، کسی کے ہاں صرف اولادِ نرینہ ہے اور کسی کے ہاں صرف لڑکیاں۔ کوئی کثرتِ عیال کے ساتھ تنگ دست ہے، کوئی کثرتِ اولاد بھی رکھتا ہے اور دولت بھی۔ بعض ایسے رئیس ہیں جن کی کوئی اولاد نہیں۔ جو حالت تمھاری دنیا میں ہے وہ تمھارے خصوصی امتحان کا پرچہ اور مضمون ہے۔ دانا وہ ہے جو اپنے شخصی امتحان میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ تقدیر کے شر اور ناپسندیدہ نتیجے پر رضاے الٰہی کو پانے کی کوشش کرنا ایمان و یقین کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے تاکہ جو کچھ تم کودیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ بے شک تمھارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے‘‘۔(الانعام ۶:۱۶۵)

اجتماعی زندگی میں آزمایش

آپ کسی کام پر مامور ہیں۔ آپ کے اُوپر افسرانِ بالا ہیں۔ آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان سب لوگوں میں آپ قابلیت کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ یہاں ادنیٰ منصب ملنے میں آپ کی آزمایش ہورہی ہے۔ بعض اوقات نرسنگ سٹاف بعض ڈاکٹروں سے بہتر کارکردگی دکھاتا ہے۔ کہیں ایک عام فوجی اعلیٰ افسر سے زیادہ قابل ہوتا ہے ۔ کچھ سرِراہ معمولی تجارت کرنے والے غریب کسی بڑی کمپنی کے اعلیٰ افسر سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

انسان کو چاہیے کہ وہ ممکنہ اسباب اختیار کرے اور پھر اللہ پر توکل اس طرح کرے جیسے اسباب کی کوئی قدر ہی نہیں۔ کسی کام کے لیے مقدور بھر کوشش کرنا اور مطلوبہ نتیجہ برآمد نہ ہونے پر اللہ سے راضی رہنا تقدیر پر ایمان کا مظاہرہ ہے۔ کسی کا یہ کہنا کہ میں امتحان میں ناکام ہوا کیوںکہ  اللہ تعالیٰ مجھے آزمانا چاہتے ہیں، سراسر جھوٹ ہے۔ اگر وہ فی الواقع امتحان کی تیاری سے غفلت برتتا رہا تو نتیجہ ناکامی کی صورت ہی میں نکلنا تھا۔ شخصی کوتاہی اور بے عملی کو تقدیرکے لکھے سے جوڑنا دین کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے     ؎

تجاہل تساہل تغافل کیا

پڑا کام مشکل توکّل کیا

(میرؔ)

آپ نے کوئی زہریلی دوا بے احتیاطی سے گھر میں رکھ دی، جو بچوں کے ہاتھ لگ گئی۔ اب اس دوا کو پی کر کوئی بچہ ہلاک ہوجاتا ہے اور لوگ یہ سمجھیں کہ یہ تقدیر کا لکھا ہوا ہے، یہ سراسر عقیدے کی غلط تعبیر ہے۔ احتیاط کا تقاضا تھا کہ دوا کو بچوں سے دُور رکھا جاتا۔ یہ ایک اہم کام تھا جس سے غفلت برتی گئی، جو ایک خسارے کا سبب بنی۔ ایسی بے شمار مثالیں ہیں جہاں انسان ضروری احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھتا اور اس کا خمیازہ بھگتتا ہے۔

ایک اور مثال دیکھیں۔ ایک مریض بڑے جان لیوا مرحلے میں ہے۔ کسی ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کسی سے گفتگو میں مصروف ہے۔ مریض کو انتظار کرایا جاتا ہے اور وہ اس دوران انتقال کرجاتا ہے۔ فوری طبی امداد سے اگر مریض کو افاقہ ہونے کا امکان ہوتا تو ڈاکٹر پر قتل کا مقدمہ دائر کیا جانا چاہیے، کیوں کہ اس نے فوری طبی امداد فراہم نہ کی۔

ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ تمام ممکنہ اقدامات اور احتیاطی تدابیر اختیار کرلینے کے بعد چاہے مطلوبہ نتیجہ برآمد ہو یا نہ ہو، ہردو صورت میں راضی بہ رضا رہنا تقدیر ہے۔ اور اگر اس کے برخلاف معاملہ ہو تو اس نتیجے کو اپنی کوتاہی کی سزا سمجھنا چاہیے    ؎

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

(اقبالؔ)

حضوؐر نے کتنی خوب صورتی سے اس پہلو کو اُجاگر کیا ہے۔حضرت عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان کسی معاملے کا فیصلہ کیا، تو جو شخص مقدمہ ہار گیا جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹا تو اُس نے کہا: مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ عجز اور بے وقوفی پر ملامت کرتا ہے بلکہ تمھارے لیے ہوش مندی اور ہوشیاری لازم ہے۔ پھر اگر کسی وجہ سے تم ہار جائو تو کہو کہ مجھے اللہ کافی ہے اور  وہ بہترین کارساز ہے (ابوداؤد)۔ فی الواقع ہم حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْل(ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) کہنے میں اسی وقت حق بجانب ہوں گے جب ہم نے سارے اسباب اور احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا اور مشیت ِ الٰہی کے آگے سرتسلیم خم کیا۔

اگر آپ اصولِ تجارت، بازار کے اُتارچڑھائو اور مال کی کھپت کا اندازہ قائم کیے بغیر تجارت میں مال لگاتے ہیں اور خسارہ ہوجاتا ہے۔ اب یہ کہنا کہ تقدیر میں خسارہ ہی لکھا ہوا تھا تو یہ صحیح نہیں۔ یہ اشد ضروری ہے کہ سارے اسباب و تدابیر کو اختیار کیا جائے، اور پھر اللہ پر توکلّ کریں۔ اس طرح کہ اسباب و تدابیر کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسی توکّل کی آج اُمت مسلمہ کو بڑی سخت ضرورت ہے۔مسلمان کوتاہ عملی کا شکار ہیں، اسباب و تدابیر کو اچھی طرح اختیار نہیں کرتے بس اللہ کی مدد اور معجزات کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

شراکت داری میں آزمایش

قرآنِ مجید میں مذکورہ درج ذیل واقعے پر غور کریں کہ شراکت داری کے معاملے میں کس طرح آزمایشیں ہوتی ہیں اور کیا رویہ اپنانا چاہیے۔ قصہ یوں ہے: ’’تمھیں کچھ خبر نہیں پہنچی ہے۔ اُن مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اُس کے بالاخانے میں گھس آئے تھے؟ جب وہ دائود ؑ کے پاس پہنچے تو وہ انھیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ انھوں نے کہا: ’’ڈریے نہیں، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیجیے، بے انصافی نہ کیجیے اور ہمیں راہِ راست بتایئے۔ یہ میرا بھائی ہے، اس کے پاس ۹۹دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔ اس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دُنبی بھی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا‘‘۔ دائود ؑ نے جواب دیا: ’’اِس شخص نے اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری دُنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقینا تجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں۔ بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں‘‘۔ (ص ٓ۳۸:۲۱-۲۴)

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ھے زندگی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو مکتب، شفاخانہ، جامعہ اور دیگر اُمور میں ذمہ دار بنایا۔ اس میں آپ کا امتحان یہ ہے کہ کام میں عدل کرتے ہیں یا ظلم کرتے ہیں؟ اپنے اقربا و اعزہ کا خیال کرتے ہیں یا عدل و انصاف اور اصولوں کو ترجیح دیتے ہیں؟ ایک مدرسے کے استاد کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹے کو جو دیگر طلبہ کے ساتھ پڑھ رہا ہے نااہل ہونے کے باوجود امتیازی حیثیت دیتا ہے یا قابل طلبہ کو امتیازی کامیابی دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ بے شک تمھارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔ (الانعام ۶:۱۶۵)

اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ انسان کو سخت کوشی میں مبتلا کرے تاکہ انسان کی حقیقت آشکار ہوجائے اور جو منافق ہے اس کا پردہ فاش ہوجائے۔ فرمایا: ’’جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے۔ وہ ان کی رسّی دراز کیے جاتا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں‘‘ (البقرہ ۲:۱۴-۱۵)۔ مزید فرمایا:’’بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے‘‘۔ (القیامۃ۷۵:۱۴-۱۵)

کہا جاتا ہے کہ چند لوگوں کو ہروقت بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن تمام لوگوں کو ہروقت بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔ اس پر یہ اضافہ کرلینا چاہیے کہ انسان کا اپنے رب کو اور اپنے آپ کو ایک لمحے کے لیے بھی دھوکا دینا ناممکن ہے۔

مومن آخرت کا طلب گار ھوتا ھے!

اب ہمارے دشمنوں کے احوال پر غور کریں۔ یہ بڑے طاقت ور اور سخت جان ہیں۔ شان و شوکت سے رہتے ہیں۔ ہر طرح کے اسلحے ان کے پاس ہیں۔ سائنس اور دیگر عصری علوم میں ماہر ہیں، بہت سے قدرتی وسائل انھیں حاصل ہیں اور ان کے مقابلے میں مسلمان اس کیفیت سے گزر رہے ہیں    ؎

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر

برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

(اقبالؔ)

یہ سوال ذہنوں میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دشمنانِ اسلام کو زلزلوں سے کیوں نہیں ہلاک کردیتا؟ قرآن اس کا جواب دیتا ہے: ’’اللہ چاہتا تو خود ہی اُن (کافروں) سے نمٹ لیتا مگر    (یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے آزمائے‘‘۔(محمد۴۷:۴)

اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں اجرآخرت سے نوازے۔ ہمارے لیے جہادوعمل کی راہیں ہموار کی گئی ہیں، تاکہ ہم کوشش پیہم کی جزا دیکھ لیں حالانکہ یہ بات عین ممکن تھی کہ اللہ تعالیٰ سارے اعداے اسلام کو ایک آن میں ہلاک کردے۔ فرمایا:’’ اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہرنبی کا دشمن بنایا ہے، جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں ، دھوکے اور فریب کے طور پر القا کر رہے ہیں۔ اگر تمھارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔ پس تم اُنھیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں‘‘۔ (الانعام ۶:۱۱۲)

بعض اوقات ابتلاے عام سے سابقہ پیش آتا ہے۔ زلزلے آتے ہیں، طوفان بادوباراں اور دیگر قدرتی آفات آجاتی ہیں۔ ان حالات میں بھی مومن راضی بہ رضا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ہلاکت خیز آزمایشیں آخرت میں اس کا خسارہ نہیں کرسکتیں۔

گناھوں پر اصرار نھیں، رجوع الی اللّٰہ

تمام شرائع میں گناہوں پر اصرار کی مذمت کی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے۔ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزہ چکھائے ان کو اُن کے بعض اعمال کا شاید کہ وہ باز آئیں‘‘(الروم ۳۰:۴۱)۔معاشرے میں جب فساد بڑھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ابتلاے عام مسلط کردیتا ہے۔ اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ انھیں ان کے اعمال کا مزہ چکھائے اور نہ یہ کہ تمام بُرے کاموں پر مزہ چکھائے، بلکہ یہ بتایا گیا ہے کہ بعض بُرے کام، جو کیے اس کے بدلے انھیں ہلاکت اور آزمایش سے گھیر لے تاکہ وہ پلٹ آئیں۔

حضرت ابن عمرؓروایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے مہاجرین ! پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہو۔ کسی قوم میں فحاشی علی الاعلان ہونے لگے تو طاعون اور دیگر ایسے امراض پھیل جاتے ہیں جو اس قوم میں پہلے نہیں دیکھے گئے۔ جس قوم میں ناپ تول میں کمی کی جانے لگے تو افلاس اور قہر سلطانی اس پر مسلط کردیا جاتا ہے۔ جس قوم نے مال پر زکوٰۃ ادا نہ کی تو آسمان سے بارش روک لی جاتی ہے اور اگر چوپائے زمین پر نہ ہوتے تو بارش ان پر مکمل روک لی جاتی۔ جو قوم اللہ کے عہد سے پھر جاتی ہے ان پر دشمن کی یلغار ہوتی ہے۔ جس قوم کے قائدین اللہ کی کتاب کے مطابق عمل نہیں کرتے ، آپس میں لڑائی ان کا مقدر ہوجاتی ہے‘‘ (ابن ماجہ)۔ لہٰذا ہمیں گناہوں پر اصرار نہیں بلکہ ندامت کا اظہار کرنا چاہیے، اور ان سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے تاکہ آزمایش ہماری نجات، احوال کی بہتری اور سربلندی کا ذریعہ بن جائے۔