ستمبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| ستمبر ۲۰۱۴ | رسائل و مسائل

سوال : قربانی سے متعلق متفرق سوالات

گھر کے ہر ہر فرد کی طرف سے ایک ایک قربانی ضروری ہے یا ایک قربانی تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہے؟ قربانی کرنا زیادہ افضل ہے یا قربانی کے پیسے  صدقہ کردینا؟

جواب:

قربانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مؤکدہ ہے۔ نبی اکرمؐ نے اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے دو تندرست مینڈھے ذبح کیے تھے اور فرمایا تھاکہ: ’’اے اللہ! یہ میری طرف سے میرے گھر والوں کی طرف سے اور میری اُمت میں سے جن لوگوں نے قربانی نہیں کی ان لوگوں کی طرف سے ہے‘‘....

رہا یہ مسئلہ کہ قربانی زیادہ افضل ہے یا قربانی کے روپے کو صدقہ کرنا، تو میری راے یہ ہے کہ بلاشبہہ قربانی کرنا زیادہ افضل ہے۔ اس لیے کہ قربانی ایک عبادت ہے جس کا مقصد حضرت ابراہیم ؑ کی سنت کو برقرار اور زندہ رکھنا ہے۔ یہ عبادت ہمیشہ اس عظیم الشان واقعے کی یاد دلاتی رہتی ہے جب ابراہیم ؑ اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں اسی کی بارگاہ میں قربان کرنے چلے تھے۔ اپنے رب سے محبت کی یہ ایسی مثال ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اپنے پیارے بندے کو اس کا یہ صلہ دیا کہ اس کے اس فعل کو قیامت تک کے لیے یادگار بنادیا۔ ہر قوم اپنے اہم دن مثلاً آزادی کا دن یا جنگ میں فتح کا دن وغیرہ کی یاد تازہ رکھنے کے لیے ہر سال اس کا جشن مناتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ قربانی کر کے اس عظیم الشان واقعے کی یاد تازہ رکھیں۔ اس لیے قربانی کرنا قربانی کی قیمت کو صدقہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ افضل اور احسن ہے۔

البتہ اگر قربانی کسی میت کی طرف سے کی جارہی ہے تو میری راے یہ ہے کہ اگر قربانی کسی ایسے علاقے میں کی جائے جہاں لوگوں کو گوشت کی زیادہ ضرورت ہے تو وہاں قربانی کرنا زیادہ افضل ہے، اور اگر قربانی کسی ایسے علاقے میں کی جائے جہاں پہلے سے کافی گوشت موجود ہو اور لوگوں کو پیسوں کی زیادہ ضرورت ہو تو وہاں قربانی کی قیمت کو صدقہ کرنا زیادہ افضل ہے۔

گھر کے تمام افراد کی طرف سے صرف ایک قربانی کا جانور کافی ہے۔ کیوں کہ نبی اکرمؐ نے جب قربانی کی تو فرمایا کہ اے اللہ! یہ محمدؐ اور اس کے گھروالوں کی طرف سے ہے۔ ابوایوب انصاریؓ فرماتے ہیں کہ حضوؐر کے زمانے میں ہم میں سے ہرشخص اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے صرف ایک بکری ذبح کرتا تھا۔ لیکن اس کے بعد لوگوں نے فخرومباہات کے لیے زیادہ قربانیاں کرنی شروع کردیں جیساکہ تم دیکھ رہے ہو۔(ڈاکٹر یوسف قرضاوی، فتاویٰ یوسف قرضاوی، ص ۱۹۴-۱۹۶)

سوال : بچپن کا حج

کیا سنِ بلوغ سے قبل حج کرنے سے فرض حج ادا ہوجائے گا؟ اس سن میں اگر کسی نے حج کیا اور اس کے بعد گناہ کی زندگی گزاری تو کیا اس کا حج باطل ہوجائے گا اور اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا؟

جواب :

سنِ بلوغ سے قبل حج کرنے سے حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔ حج کی فرضیت اسی وقت ساقط ہوتی ہے جب اسے سنِ بلوغ کے بعد ادا کیا جائے۔

حج کی ادایگی کے بعد بھی کوئی شخص بُرے کاموں میں ملوث رہا تو اس سے اس کا حج باطل نہیں ہوگا کیوں کہ بُرے کاموں کی وجہ سے اچھے اور نیک اعمال رائیگاں نہیں ہوتے، البتہ ان کے ثواب میں کمی ضرور ہوجاتی ہے۔ قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے اس کے چھوٹے بڑے، اچھے اور بُرے سارے اعمال پیش کیے جائیں گے اور انھی اعمال کی بنیاد پر اس کا حساب کتاب ہوگا۔ فرمانِ الٰہی ہے: فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ o وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ o (الزلزال۹۹: ۷-۸) ’’ جوکوئی ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اس کو دیکھ لے گا اور جو کوئی ذرہ برابر بدی کرے وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘۔

بہرحال، بندۂ مومن سے یہی اُمید کی جاتی ہے کہ حج کا اثر اس کے اعمال میں ظاہر ہو۔ اپنی گذشتہ زندگی میں جن بُرے کاموں میں وہ ملوث رہا، ان سے سچی توبہ کرے اور آیندہ زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا پکا ارادہ کرے اور اس کے لیے پوری کوشش کرے۔ اللہ سے اپنے رشتے کو مضبوط تر کرے اور یہی وہ حج مبرور ہے جس کا صلہ جنت ہے۔

اگر صاحب ِ سوال نے سنِ بلوغ سے پہلے حج کیا ہے تو انھیں اب دوبارہ حج کرنا چاہیے تاکہ فرضیت ادا ہوسکے، البتہ پہلے حج کا ثواب انھیں ضرور ملے گا۔ (ایضاً،ص ۱۸۳)

سوال : بقرعید کے چاند کے بعد بال یا ناخن کٹوانا

کیا بقرعید کا چاند دیکھنے کے بعد اس شخص کے لیے ناخن یا بال کٹواناجائز ہے جو قربانی کرنا چاہتا ہو؟

جواب :

حنبلی مسلک کے مطابق قربانی کرنے والے شخص کے لیے چاند دیکھنے کے بعد بال یا ناخن کٹوانا جائز نہیں ہے، کیوں کہ حجاج کرام احرام کی حالت میں یہ چیزیں نہیں کٹواتے۔ اس لیے اس کیفیت کو زندہ رکھنے کے لیے قربانی کرنے والے کو بھی یہ چیزیں نہیں کٹوانی چاہییں۔ البتہ راجح قول یہ ہے کہ ایسا کرنا صرف مکروہ ہے۔ اگر کسی نے ناخن کٹوایا یا بال بنوا لیے تو اس پر کوئی فدیہ نہیں ہے۔ اسے چاہیے کہ اللہ سے مغفرت طلب کرے اور بس۔ اگر کسی شخص کو زیادہ دن تک ناخن یا بال چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہو اور اس نے یہ چیزیں کٹوا لیں تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ (ایضاً، ص ۱۹۶-۱۹۷)