محمد موسیٰ بھٹو


ایک سائنسی سروے اور تجزیے کے مطابق پاکستان میں ہر تیسرا چوتھا فرد ڈپریشن یا مایوسی  اور افسردگی کا شکار ہے۔ ڈپریشن کا مطلب ذہنی عدم توازن کا شکار ہونا ہے۔ یہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ ڈپریشن دراصل اس بات کی علامت ہے کہ فرد داخلی طور پر شدید بحران کا شکار ہے۔ اس کا شعور، لاشعور سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے شدید اذیت میں مبتلا ہے۔
ڈپریشن کے ظاہری اسباب کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے:

  •         مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر، جس نے لوگوں سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا ہے۔
  •         شہروں سے لے کر قصبوں تک بے روزگار نوجوانوں کے غول پھر رہے ہیں۔
  •         شہر، محلّے سے لے کر قومی سطح تک سرمایہ داروں اور مال داروں کی طرف سے مفلوک اور مسکینوں کی دست گیری کے نظام کا نہ ہونا اور ان کے لیے دو وقت کی روٹی تک کے انتظام کا نہ ہونا۔
  •         قومی وسائل کے بڑے حصے کا لُوٹ مار، رشوت اور غبن وغیرہ کے ذریعے دوچار فی صد افراد کے قبضہ میں چلے جانا اور عام لوگوں کو قومی وسائل میں شریک کرنے کا انتظام نہ ہونا۔
  •         خواہشات کا بنیادی ضرورت کی صورت اختیار کرنا، جب خواہشات پر مبنی ضروریات کے حصول کی صورت پیدا نہیں ہوتی تو افسردگی کا شکارہونا۔
  •         خوش حال طبقات کی طرف سے زندگی کا جو مصنوعی معیار قائم کیا گیا ہے، اس کا ساتھ نہ دینے کی وجہ سے دل گرفتگی کا ہونا۔
  •         خوش حال اور مال دار طبقوں میں ہونے والے ڈپریشن میں مال کی بڑھتی ہوئی ہوس کا ہونا۔ یہ مال چونکہ اکثر یا تو ناجائز طریقوں سے حاصل ہوتا ہے، یا عوام کو مہنگائی کی بلا میں مبتلا کرنے کی صورت میں، اس لیے مال کی یہ ہوس آگ کی صورت میں خوش حال افراد کے دلوں کو جلانے کا باعث بنتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مال دار افراد ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ڈپریشن خواص میں ہو یا عوام میں، اس کا بنیادی سبب انسانی شعور اور عمل کا آپس میں ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔ شعور بھٹکتا پھرتا ہے تو اسے زندگی بے معنی نظر آتی ہے۔ ایسی زندگی جس کا کوئی پاکیزہ مقصد نہ ہو، جو دل اور روح کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہ ہو، جو محبت کے حقیقی تقاضے سے عدم مطابقت رکھتی ہو، اس طرح کی زندگی بوجھ بن جاتی ہے اور مایوسی کا ذریعہ بھی۔
یہ ایسی قابلِ رحم حالت ہے، جس پر درد مند افراد خون کے آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پاکستانی ملت کے اگر کروڑہا افراد اس بیماری، یعنی ڈپریشن کا شکار ہوں تو اجتماعی زندگی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔
ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قوم و ملّت کے ذہین افراد کی ذہنی توانائیاں اس بات پر صرف ہوتیں کہ ملّت اس بحران سے کیوں دوچار ہے؟ اور اسے اس بحران سے کس طرح نکالا جاسکتا ہے؟ لیکن بے حسی اور بے بسی ملاحظہ ہو کہ اتنے بڑے المیہ کے باوجود کہ ہمارے کروڑہا افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔ افراد اور قوم کو اس بحران سے نکالنے کے لیے قومی سطح پر کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی، جو لوگ مرض کی آخری حد کو پہنچ جاتے ہیں، انھیں ان نفسیاتی ماہرین کے حوالے کر دیا جاتا ہے، جو زندگی بھر افراد کو نشہ آور یا نیندآور گولیوں پر چلاتے رہتے ہیں۔
سچ پوچھیے تو ڈپریشن کی اس بڑھتی ہوئی بیماری کا ذریعہ مادیت پرستی، ہیجان خیز جنسی مناظر اور انسانی ہمدردی کے احساس میں فساد کا نتیجہ ہے۔ احساس میں جب پاکیزگی کے بجائے فساد برپا ہوجاتا ہے، احساس میں جب روحانیت کے بجائے مادیت کے اجزا غالب آجاتے ہیں، احساس جب محبوبِ حقیقی سے محبت کی ہم آہنگی کے بجائے مادی مقاصد سے رشتہ جوڑ لیتا ہے، تو فرد اور افراد کی داخلی زندگی شدید ہیجان خیزی، شدید اضطراب اور بے قراری کے انگاروں پر لوٹنے لگتی ہے۔ اس سے انسانی ذہن شل ہوجاتا ہے۔ وہ پاکیزہ اور صحیح مقصد ِزندگی نہ پاکر مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہی مایوسی اس کے ذہنی توازن میں خلل پیدا کردیتی ہے اور ڈپریشن کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
ڈپریشن کے مریض کے سامنے آپ دولت کے ڈھیر پیش کردیں، مادی حُسن کا وافر ذخیرہ سامنے کر دیں، ذہنی دبائو کے شدید حملے کی وجہ سے ان چیزوں کی موجودگی سے اس کا ذہنی سکون بحال نہیں ہوسکتا۔ یعنی ڈپریشن دل اور روح کے اس بحران کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اسے محبوبِ حقیقی کی معرفت اور اللہ کی محبت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس عمل میں فرد کا اپنا ذاتی قصور ہو یا معاشرے کا، سردست اس سے بحث نہیں، لیکن بڑھتے ہوئے ڈپریشن کا ایک بنیادی سبب یہ ہے۔
ڈپریشن کے بڑھتے ہوئے بحران سے بچائو کی صورت یہ ہے کہ ہم اس سلسلے میں مغربی ماہرین نفسیات کی تحقیق سے بلند ہوکر، اپنے تاریخی، تہذیبی پس منظر میں اس کا علاج تلاش کریں۔  مسلم نفسیات کے ماہرین جنھیں ’اہل اللہ‘ کہنا زیادہ صحیح ہے، جب ہم ان کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی خود اختیار کردہ فقر سے عبارت تھی۔ فقر کی اس حالت میں رہ کر ، انھوں نے ہزاروں لاکھوں افراد میں زندگی کی رَو دوڑا دی تھی۔ انھیں خود اعتمادی سے سرشار کر دیا تھا اور انھیں خودشناسی اور اللہ شناسی سے اس طرح آشنا کر دیا تھا کہ ڈپریشن ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تھا۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے سارے سوچنے والے مؤثر طبقات کے ذہنوں پر ہرمعاملے میں مغرب کی نقالی اور جاہلانہ تقلید کی روش غالب ہے۔ وہ زندگی کے سارے معاملات میں مادہ پرست اہلِ مغرب کو ماہر، رہبر اور اپنا استاد سمجھ کر ان کے اختیار کردہ نسخوں پر عمل پیرا ہیں۔ اس صورت میں صحیح سمت میں سوچ کا عمل ہی دشوار ہے۔
یاد رکھیں کہ اگر ہم نے مادیت پرستی کی غیرفطری روش کو جاری رکھا اور نوجوان نسل کی فطرت سے ہم آہنگ پاکیزہ نصب العین سے مطابقت کی صورت پیدا نہ کی تو ہماری آنے والی نسلیں طرح طرح کی سنگین بیماریوں کا شکار ہوتی رہیں گی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوعمر افراد اس قدر فکری انتشار کا شکار ہیں کہ ایک طرف الحاد اور دہریت کے اسیرہیں، تو دوسری طرف جانوروں کی سی جنسی آزادی اور روش پر مٹے چلے جارہے ہیں، اور تیسری جانب امراضِ دل، شوگر اور بلڈپریشر کے بھی دائمی مریض بن رہے ہیں۔ ہمیں اپنی نسلوں پر رحم کھاتے ہوئے، اپنی پاکیزہ تہذیب سے ہم آہنگی اختیار کرنا ہوگی۔ اس کے بغیر بچائو کی ساری صورتیں مسدود ہیں۔
جب اپنی پاکیزہ تہذیب سے ہم آہنگی کی صورت پیدا ہوگی تو اس سے معاشی ناہمواری، امیرکے امیر تر اور غریب کے غریب تر ہونے کی فضا میں کمی پیدا ہوگی۔ اس لیے کہ پاکیزہ اسلامی تہذیب ہمیں اُن ہدایات پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کرے گی۔ جن میں فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک اپنے لیے جو کچھ چاہتا ہے، وہی کچھ اپنے دوسرے بھائی کے لیے نہ چاہے۔ (حدیث شریف)
قرآنِ مجید میں ہے: وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ۝۰ۥۭ  قُلِ الْعَفْوَ۝۰ۭ  (البقرہ ۲:۲۱۹) ’’یہ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں؟ ان سے کہو کہ ضرورت سے زیادہ سب کا سب‘‘۔ قرآنِ مجید میں ایک دوسری جگہ ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۥۭ (الِ عمرن۳:۹۲) ’’تم نیکی کو ہرگز نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ جس چیز سے تمھیں محبت ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو‘‘۔
اپنی پاکیزہ تہذیب پر عمل کرنے اور فطرت میں موجود محبت کے طاقت ور پاکیزہ نصب العینی تقاضے کی تسکین سے ایک تو ذہن، دل، روح اور نفسیات کے درمیان توازن اور مطابقت پیدا ہوگی، جس سے بے پناہ سکون حاصل ہوگا اور ڈپریشن قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔ دوسرا یہ کہ اس سے ایسا معاشرہ جنم لے گا، جس کے افراد محبوب حقیقی سے محبت کے جذبات کے ارتقا کی خاطر معاشرے کے مفلوک الحال افراد کو اپنی دولت میں شریک کریں گے، یعنی زکوٰۃ کے علاوہ صدقات وخیرات کی صورت میں اپنی وافر دولت غریبوں کی غربت ختم کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر صرف کریں گے۔ اس کام کو وہ اللہ کی رضا اور اللہ سے محبت کی دولت پانے کا ذریعہ سمجھیں گے۔
کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے نظام کو، اپنے حالات کو اور اپنے مزاج اور نفسیات کو بدل کر صحت مند خطوط پر تشکیل دیں؟ اور ایمانی تقاضوں کو پورا کریں؟