۱۱ جنوری ۲۰۱۳ء کو شمال مغربی افریقہ کے ملک ’مالی‘ کے شمالی علاقے میں فرانس نے اسلامی جہادی قوتوں کے خلاف اپنی زمینی فوجیں اُتار دیں اور بے تحاشا بم باری کی۔ گذشتہ سال، اپریل ۲۰۱۲ء میں مالی کے شمالی حصے میں جہادی قبائل جنوب کی مرکزی حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے ملک کے ۶۰ فی صد حصے پر قابض ہوگئے اور ۶؍اپریل کو ’مملکت ازداد‘ کے قیام و آزادی کا اعلان کردیا۔ اس مملکت میں اہم شہر ٹمبکٹو،کدار اور مویٹی شامل ہیں۔ مجاہدین نے جنوب میں بھی مزید علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس طرح اہم شہر ’کونا‘ اور چاول کے کھیتوں اور ماہی گیروں کی کشتیوں سے گھرے شہر ڈایا بیلی پر بھی ۱۴جنوری کو قبضہ کرلیا۔ یہ شہر مرکزی محلِ وقوع کا حامل ہے اور ملک کے کئی اہم راستوں کے سنگم پر واقع ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق فرانس نے یہ علاقہ خالی کروا لیا ہے۔
مالی کسی زمانے میں اسلامی تہذیب کا ایک روشن ستارہ ہوا کرتا تھا۔ حالیہ مسلح کارروائیوں کے سبب باقاعدہ جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔شمالی مالی کا اہم جہادی گروپ ’انصارالدین‘ہے جو مالی کو ’اسلامی امارت‘ بنانا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کا ایک اور گروپ ’لبرل گروپ‘ ہے جس نے مرکزی حکومت سے آزادی کے اعلان سے قطع تعلق کا اعلان کیا ہے۔ وہ پہلے اعلانِ آزادی میں اسلامی قوتوں کے ساتھ تھا۔ انصارالدین کے کمانڈر عمر نے اعلان کیا ہے کہ’ ’ہماری جنگ اسلامی اصولوں کے مطابق لڑی جائے گی۔ ہم بغاوت اور علیحدگی کی تحریک کے خلاف ہیں۔ ہم اس انقلاب کے خلاف ہیں جو اسلام کے مطابق نہ ہو۔ ہم اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں‘‘۔
مالی شمال مغربی افریقہ میں صحارا کے ریگستان میں ایک مسلمان مملکت ہے۔ اس کی آبادی ایک کروڑ ۴۵لاکھ ۱۸ہزار سے زائد ہے، جب کہ رقبہ ۱۲لاکھ ۴۰ہزارایک سو۹۲ مربع کلومیٹر ہے۔ ۸۰ فی صدآبادی مسلمان ہے جو مختلف قبائل پر مشتمل ہے۔ ۲ فی صد عیسائی ہیں، جب کہ ۱۸ فی صد مظاہرپرست ہیں۔ دارالحکومت ’باما کو‘ جنوبی علاقے کا بڑا شہر ہے۔ ملک معدنی ذخائر سے مالامال ہے، خصوصاً یورینیم کے ذخائر بڑے پیمانے پر موجود ہیں جن پر بیرونی قوتوں کی للچائی نگاہ ہے۔ ’اتحاد افریقی علما‘ نام کی ایک تنظیم کے مطابق ’حکومت مخالف مسلح تنظیمیں‘ دو طرح کی ہیں۔ ایک قومی تحریک براے آزادیِ اَزداد ہے جو علاقے میں ایک خودمختار سیکولر ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔ دوسرے نقاذِ شریعت کا مطالبہ کرنے والی مسلح تحریکیں ہیں جن میں دو گروہ ہیں: ۱- انصار الدین نامی گروہ سب سے بڑا گروہ ہے، ۲-تحریک توحید و جہاد ہے، اس میں مالی کے علاوہ موریطانیہ اور الجزائر کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ آخر الذکر کو القاعدہ سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
۱۹۶۰ء میں مالی کو فرانس کی استعماری حکومت سے آزادی ملی۔ جاتے جاتے فرانس نے اپنے گماشتوں کی حکومت قائم کردی۔ تب سے اب تک ملک میں کئی فوجی بغاوتیں ہوچکی ہیں اور اَزداد کی علیحدگی کی اب یہ چوتھی بڑی کاوش ہے جہاں آزاد حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
جب سے مالی میں موجودہ صورت حال نے جنم لیا ہے، قدرتی طور پر فرانس پر وحشت طاری ہے کیونکہ وہاں اس کے مفادات خطرے میں ہیں، لہٰذا اس نے واویلا شروع کر دیا ہے۔ اپنے یورپی ہمسایوں، امریکا اور اقوامِ متحدہ کو دہائی دے رہا ہے۔انسانی حقوق کی انجمنوں کو توجہ دلارہا ہے۔ افریقی ممالک کی یونین (ECOWAS) سے مدد کی درخواست کی گئی ہے کہ اس ’خطرے‘ سے نبٹا جائے۔ افریقی ممالک کی یونین خصوصاً نائیجیریا نے اپنی فوجیں جلد بھیجنے کی حامی بھرلی ہے۔ ٹوگو اور نائیجیریا سے کچھ فوجی بھی پہنچ گئے ہیں۔ ۱۶۰۰ فوجی نائیجر میں موجود ہیں۔
فرانس نے گذشتہ سال اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرارداد منظور کرائی جس کا مقصد مالی میں شمالی علاقوں سے باغیوں کا قبضہ ختم کرانا اور افریقی اتحاد کی افواج کو وہاں تعینات کرنا تھا۔ لیکن جب افریقی اتحاد کی فوج کو مالی میں کارروائی کے حوالے سے دیر ہوئی تو فرانس نے اپنی زمینی فوجیں اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر مالی کے شمالی حصے میں اُتار دی ہیں، تقریباً ۱۹۰۰ فوجی۔ ان فوجیوں نے فوجی کارروائی شروع کردی ہے اور فوجی طیاروں سے بم باری کی جارہی ہے۔ اس کے باوجود وہ اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے۔ مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں مجاہدین مارے گئے ہیں اور انھوں نے علاقے کو چھوڑ کر بھاگنا شروع کر دیا ہے۔ پھر یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ قبائل نے فرانس کے فوجیوں کا ہاتھ ہلاہلا کر استقبال بھی کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی اطلاع ہے کہ بڑی سخت مزاحمت ہے اور مجاہدین اپنے محفوظ ٹھکانوں سے حملہ آورہورہے ہیں۔
فرانس نے امریکا اور دوسرے ممالک کو متوجہ کرنے کے لیے یہ شوشہ بھی چھوڑا ہے کہ القاعدہ کا ایک گروپ جو لیبیا میں برسرِپیکار تھا وہ وہاں سے فارغ ہوکر مالی مجاہدین کی مدد کو آپہنچا ہے۔ لیکن امریکا کے ڈیفنس سیکرٹری لیون ہرپینٹ نے کہا ہے کہ القاعدہ کے حوالے سے ہمارا اصل ہدف یمن اور صومالیہ ہیں جہاں القاعدہ کے مراکز ہیں۔ ابھی القاعدہ نے مالی یا شمالی افریقہ میں کوئی مرکزقائم نہیں کیا ہے۔ ہماری مدد فنی نوعیت کی ہی ہوگی۔ پھر یہ کوشش بھی ہے کہ نائیجیریا کے بوکوحرام نامی مسلمان مجاہدین کو اس قضیے میں ملوث قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے لیے مالی کے حالات پریشان کن ہیں۔ اس نے فرانس کی فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ حکومت برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ اخلاقی مدد فراہم کرے گی، یعنی محدود پیمانے پر لاجسٹک مدد جو دو بڑے RAF C-17 جنگی ٹرانسپورٹ جہازوں پر مشتمل ہوگی اور چند تکنیکی فوجی ماہرین ان کی حفاظت کے لیے ساتھ ہوں گے۔ اسی طرح کی حمایت کا اعلان کناڈا کی حکومت نے بھی کیا ہے۔ یورپی یونین کئی ہزار فوجی جوانوں پر مشتمل قافلہ آیندہ چند ہفتوں میں روانہ کرے گا۔
فرانس کی فوجی مداخلت اور دوسری کارروائیوں کے باعث مالی کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ فرانس نے ناٹو سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مالی کے حالات کے پیش نظر وہاں فوجی کارروائی کرے، جب کہ خود فرانس ناٹو کی فوجوں سے علیحدہ ہوکر افغانستان سے بھاگ کھڑا ہوا ہے۔
فرانس اور مغربی دنیا مالی کے مجاہدین کو ’مسلم شدت پسند‘ اور ’دہشت گرد‘ قرار دیتے ہیں۔ یہ ’شدت پسند‘ اپنے زیرقبضہ علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ مجاہدین کی صفوں میں رخنہ ڈالنے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے کہ مالی کے مختلف مذہبی اور غیرمذہبی گروپوں کو آپس میں اُلجھا دیا جائے۔ لہٰذا آزاد خیال گروپ کو ان سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مغربی افریقہ میں چونکہ صوفیت کے بڑے اثرات ہیں، ان کی چھوٹی بڑی خانقاہیں، درگاہیں اور ذکروفکر کے مراکز ہیں، ان کو بھی ورغلایا جارہا ہے اور ساتھ ہی قدامت پسندوں کو بھی اُبھارا جا رہا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغربی دنیا بنیادی طور پر صہیونیوں کے زیراثر ہے، اور صلیبی جنگ کے حوالے سے بھی پُرامن اسلامی شریعت کے نفاذ کو ہرحال میں روکنا چاہتی ہے۔ گویا یہ ساری کوششیں اپنے ذاتی مفاد کے پیش نظر اور اسلام کے غلبے کو روکنے کے لیے ہیں۔
جنوبی مالی کو بچانے اور مجاہدین کا زور توڑنے کے ابتدائی مقصد کے حوالے سے فرانسیسی فوجوں کی کارروائی اب تک کی اطلاعات کے مطابق کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ افریقی ممالک، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکا ، کناڈا، ڈنمارک سے مختلف نوعیت کی مدد پہنچنا شروع ہوچکی ہے۔ پھر فرانسیسیوں کا خیال ہے کہ چونکہ مالی کے دیہی علاقوں میں جہادیوں نے لوگوں کا جینا حرام کررکھا ہے اس لیے ممکن ہے کہ بہت سے شہری ان سے انتقام لینے کے معاملے میں فرانس کی فوجوں سے مدد لیں۔ ان حالات کے پیش نظر فرانس کے وزیرخارجہ لارینٹ جنیس کا کہنا ہے کہ مالی میں فرانسیسی فوجی کارروائی چند ہفتوں کامعاملہ ہے لیکن دی اکانومسٹ نے اپنے ۲۶جنوری کے شمارے میں راے ظاہر کی ہے ’’مگر ایسا لگتا نہیں ہے‘‘۔ ہوسکتا ہے کہ مالی میں حقیقی استحکام پیدا کرنے میں مزید کچھ وقت لگ جائے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فرانس ناٹو افواج کی موجودگی کے باوجود افغانستان کے ’میدانِ جہاد‘ کو چھوڑ بھاگا تھا تو مالی کے میدان سے بھی رفوچکر ہوجائے۔
محترم محمد صدیق بخاری نے اُردو کے معتبر تراجم (شاہ عبدالقادر، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا احمد رضا خان، مولانا جونا گڑھی، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، محترم جاوید احمد غامدی)اور معتبر تفاسیر (معارف القرآن، خزائن العرفان، تفہیم القرآن، احسن البیان، ضیاء القرآن، تفسیرماجدی، تدبر قرآن، البیان)کے منتخب نکات نُورالقرآن میں جمع کردیے ہیں۔ یہ ایک بہترین کوشش اور کاوش ہے۔ اُردو تفاسیر کے مطالعے کا خواہش مند طالب علم اور عالم ایک مجموعے میں تمام تفاسیر کا مطالعہ کرلیتا ہے، اور اسے انتخاب کی دقت بھی نہیں اُٹھانا پڑتی۔ مترجمین اور مفسرین اپنے دور کی مشہور اور معروف بلندپایہ علمی شخصیات ہیں جو مرجع خلائق تھے اور ہیں۔ ان میں سے ہر ایک نے پوری عرق ریزی اور محنت سے قرآنِ پاک کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کیا اور اہلِ ایمان کو قرآنِ پاک سے وابستہ کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آج بھی اہلِ علم ان تفاسیر سے استفادہ کر رہے ہیں۔ مرتب نے استفادہ کرنے والوں کا کام آسان کردیا ہے۔ اس کام کا طریق کار اور مقصد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’مرتب کے پیش نظر کسی خاص مکتب ِفکر کا ابلاغ یا ترویج نہیں بلکہ خالص علمی انداز میں تعلیم دینا ہے۔ اس لیے مرتب نے کہیں بھی اپنا نقطۂ نظر بیان کرنے کی کوشش نہیں کی۔ تمام مکاتب فکر کی آرا کا خلاصہ کم و بیش انھی کے الفاظ میں قاری تک پہنچانا پیش نظر ہے۔ لیکن یہ خیال رہے کہ تمام آرا کو بیان کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مرتب کے نزدیک یہ سب صحیح ہیں۔ ان میں بہتر، غیربہتر یا صحیح یا غلط کا انتخاب قاری کے ذمے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نُورالقرآن کے قاری میں جستجو پیدا ہو اور وہ حق کی تلاش میں آگے بڑھے، اہلِ علم سے رجوع کرے اور مطالعہ و تحقیق کے ذوق کو ترقی دے تاکہ دینِ حق سے اس کا شعوری تعلق قائم ہو، نہ کہ وہ تعلق جو محض آباواجداد کی روایات اور سنی سنائی باتوں اور چند تعصبات اور رسوم پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ معاشرے میں دوسروں کی بات سننے، پڑھنے اور اس پر غور کرنے کے ساتھ ساتھ وسعت اور برداشت کی روایت جنم لے۔ مسالک اور مکاتب فکر کے درمیان فاصلے کم ہوں، نفرت کی دیواریں کمزور ہونا شروع ہوں اور شخصیات کے بجاے دلیل کی حکمرانی قائم ہو۔ اُمیدواثق ہے کہ اس سلسلے میں نُورالقرآن معاون و مددگار ثابت ہوگا‘‘۔ (نُورالقرآنکا مقصد،ص ۳)
مرتب نے قرآن کے ایک طالب علم کے لیے تفاسیر کا تقابلی مطالعہ بالکل آسان کردیا ہے۔ کسی موضوع پر قرآن کا نقطۂ نظر معلوم کرنے کے لیے نو مفسرین کی معاونت ایک ہی جگہ حاصل ہوجاتی ہے۔ ہر طالب علم قرآن کے نو مفسروں کی راے بھی جان سکتا ہے۔
نُورالقرآن کے اب تک چار اجزا سورئہ بقرہ، آل عمران، نساء اور مائدہ مرتب ہوکر سامنے آئے ہیں۔تفسیری نکات سے پہلے مذکورہ بالا سورتوں کا پورا متنِ عربی نقل کیا گیا ہے تاکہ قاری تفسیری نکات سے پہلے قرآن پاک کی تلاوت کا شرف بھی حاصل کرسکے اور متن سے اس کا تعلق کمزور نہ ہو۔ اس کارِخیر پر محمد صدیق بخاری ہدیۂ تبریک کے مستحق ہیں۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی گزارش یہ ہے کہ اگر وہ جناب جاوید احمد غامدی کے متنازعہ افکار کو اس تفسیر کا حصہ نہ بناتے تو بہتر ہوتا۔ بے شک ان کے ایسے خیالات جو متنازعہ نہیں ، جو اختلاف کے باوجود گوارا ہوں، انھیں ضرور شامل کرلیں لیکن اجماع اُمت اور اسلامی نظام کے نظریے کو نقصان پہنچانے والے مضامین سے احتراز کریں تو اس مجموعے کی افادیت ہوگی اور تمام مکاتب ِ فکر اس سے کسی تحفظ کے بغیر استفادہ کریں گے اور عوام کو استفادے کی طرف متوجہ کریں گے۔ اسلامی تحریک کے کارکنان کے لیے بھی یہ قیمتی سرمایہ ہوگا۔(مولانا عبدالمالک)
گلبدین حکمت یار، افغانستان میں اسلامی تحریکِ انقلاب کے مشہور قائد کی حیثیت سے معروف ہیں۔ لیکن کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وہ ایک دانش ور، محقق اور مصنف بھی ہیں۔ پیش نظر کتاب اپنے موضوع پر ایک منفرد دستاویز ہے۔ مصنف کہتے ہیں کہ افغانستان میں اشتراکی روس کی ناکامی کے بعد مغرب کی صلیبی طاقتوں نے یلغار شروع کی۔ خیراتی اداروں اور مشرقِ بعید سے سیاحت اور ’دوسرے کاموں‘ کی آڑ میں ہزاروں مبلغین کی غیرمسلح افواج اور طائفوں کے لشکر نے افغانستان اور ملحقہ ممالک پر حملہ کر دیا۔ ’افغانستان اور عراق پر صلیبی قوتوں کے مشترکہ حملے اور مسلم ممالک کی حکومتوں کا انھیں برملا مدد اور خفیہ ساتھ دینے سے واضح ہوگیا کہ اُمت اسلامیہ کتنی مظلوم اور اسلام کتنا تنہا ہے۔ (ص۴)
امداد، خدمت اور تبلیغِ مسیحیت کے رُوپ میں مغربی استعمار کی اس یلغار نے گلبدین حکمت یار کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ بایبل کا مطالعہ کریں، اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ عہدنامۂ قدیم اور عہدنامۂ جدید کوئی تحریف شدہ الہامی کتابیں نہیں، بلکہ یہ ساری انسانوں کی تصانیف ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ بایبل کی طرف یہ جاننے کے لیے رجوع کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق کیا کہتی ہے، اس کی تعریف کیسے کرتی ہے،اس کی صفات کیا ہیں اور اس کے وجود کے دلائل کیا ہیں، تو آپ کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ نہ صرف یہ کہ آپ خالی ہاتھ اُٹھیں گے، بلکہ دوسرے بہت سے نئے نئے سوالات آپ کے ذہن میں جنم لیں گے۔ بایبل میں آپ اللہ تعالیٰ کو اس طرح پائیں گے، جیسے وہ ایک کمزور انسان کی طرح ہے۔ اس نے انسان کو اپنی شکل میں پیدا کیا ہے، وہ صرف بنی اسرائیل کا خدا ہے، ان کے ساتھ ہے، ان کے ساتھ رہتا ہے، وہ اس کی اپنی قوم ہیں، وہ اس کے بیٹے ہیں۔ کبھی کبھار انسان کے رُوپ میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کے جدِامجد حضرت یعقوب ؑ کے ساتھ اس نے کُشتی بھی لڑی ہے، مگر انھیں پچھاڑنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ (ص۸)
پیش نظر کتاب میں عہدنامۂ قدیم کی ساری ’مقدس کتابوں‘ کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اِن میں پیدایش، خروج،، لاوی، گنتی، قضاۃ، سیموئیل، سلاطین، مزامیر اور غزل المغزلات‘ شامل ہیں۔ اِن کتابوں میں سے طویل اقتباسات دے کر مصنف نے ثابت کیا ہے کہ ان میں حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت یونس ؑ تک انبیا ؑاور اقوام کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں، اُن سے پڑھنے والے کے ذہن میں اُن کی تقدیس، عظمت اور عزت کے بجاے ان کے بارے میں نہایت منفی تصویریں سامنے آتی ہیں۔
عہدنامۂ جدید، حضرت عیسٰی ؑ کے حواریوں سے منسوب کچھ خطوط اور یادداشتوں پر مشتمل ہے جن میں متیٰ، مرقس اور یوحنا شامل ہیں۔ لوقا تو حضرت عیسٰی ؑکے حواریوں میں سے نہ تھے، مگر اُن کی ’انجیل‘ بھی اناجیل کے مجموعے میں شامل ہے۔ اِن اناجیل میں حضرت عیسٰی ؑ ایک نبی کے بجاے ایک کمزور سے مُصلح دکھائی دیتے ہیں، اپنے مشن میں ناکام ہوکر درجن بھر اصحاب بھی آخر وقت تک اُن کا ساتھ نہ دے سکے۔
بعض انبیاے کرام ؑ کا ذکر اور اُن سے متعلق واقعات قرآنِ مجید اور بایبل دونوں میں آتے ہیں، لیکن ان دونوں کے بیانات کا موازنہ کیا جائے تو الہام اور داستان کا فرق صاف نظر آتا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسماعیل ؑ، حضرت اسحاقؑ، حضرت یعقوب ؑ اور حضرت یوسف ؑسبھی نعوذباللہ بشری کمزوریوں کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایسے کردار کے حامل، جو کسی بھی باوقار اور معزز شخص کے ساتھ منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت دائود ؑاور حضرت سلیمان ؑتو معاذاللہ عام سلاطین کی طرح عیش و عشرت کے دل دادہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ ’الہامی کتابیں‘ کسی داستان گو کی کہانیاں نظر آتی ہیں، جس کا مذہب سے لگائو بس واجبی سا ہے۔
بایبل قرآن کی روشنی میں نہایت اہتمام سے طبع ہوئی ہے، تاہم ساجد افغانی کے اُردو ترجمے پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ’’آتی ہے اُردو زبان آتے آتے‘‘۔(ڈاکٹر عبدالقدیر سلیم)
بڑی تقطیع پر ، عام کتابی سائز کے تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل یہ کتاب اس صنفِ ادب سے تعلق رکھتی ہے جس میں ہم موت کے بعد کا منظر، قبر میں کیا ہوگا؟ وغیرہ میں پڑھتے رہے ہیں اور حال ہی میں ابویحییٰ کی جب زندگی دوبارہ شروع ہوگی نے فروخت کے ریکارڈ قائم کردیے۔ زیرتبصرہ کتاب بھی عالمِ برزخ کے حوالے سے دوزخ اور اس کے ہولناک مناظر کو ایسے بیان کرتی ہے جیسے آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور سب کیرکٹر خود بول رہے ہیں۔ ملک عطامحمدکے سامنے ملک کے حالات ہیں کہ یہاں کام کرنے والے، تباہی لانے والے، غلط راہوں پر لے جانے والے اپنے لیے جہنم کما رہے ہیں۔ ان لوگوں کے انجام کے بارے میں انھیں قرآن و احادیث میں بیان کی ہوئی ساری تفصیلات کا علم ہے۔ شب معراج میں تو رسولؐ اللہ نے دوچار مناظر دیکھے تھے لیکن یہاں ایک مخصوص انداز سے فاضل مصنف ۵۰۰ صفحات کی داستان سے گزارتے ہیں۔ ان کا جدید دور اور عالمی طاقتوں کا علم بھی تازہ ہے۔ اس جامع پس منظر کے ساتھ جب وہ لکھتے ہیں تو ایک نہایت قابل عبرت دستاویز بنتی ہے جس میں آپ کو پہچاننا مشکل نہیں ہوتا کہ جو فحاشی پھیلاتے ہیں ان کے لیے عذابِ الیم کیا ہے؟ ٹی وی چینل کے مالک پر کیا گزر رہی ہے؟ دہریے، کافر اور مشرک اور منافق کا حشر دیکھیے۔ غیبت کرنے والے کی سزا، ڈپٹی کمشنر دوزخ میں، مولوی دوزخ میں، ساس بہو جہنم میں، وزیر جہنم میں،اور آخری ہے صدر جہنم میں۔ آئینہ وہ رکھ دیتے ہیں، تصویر آپ کو پہچاننا ہوتی ہے۔
معلوم نہیں علماے کرام اس پر کیا فتویٰ دیں، لیکن اگر کوئی فلم ساز اس پوری کتاب پر ۳،۴ملین ڈالر خرچ کرکے کوئی اڑھائی گھنٹے کی فلم بنائے تو یہ ابلاغِ دین کی دورِحاضر کے لحاظ سے انذار کی ایک مؤثر شکل ہوگی۔ مصنف نے بتایا ہے کہ وہ اس کا دوسرا حصہ جنت کے حوالے سے تیار کر رہے ہیں۔ وہ بھی آجائے تووہ بشارت کے لحاظ سے کوشش ہوگی، اور دونوں ایک متوازن تصویر پیش کریں گے، کہ جو چاہے اہلِ جنت کے نقشِ قدم پر چلے، اور جو چاہے جانتے بوجھتے اہلِ جہنم کے راستے پر چلے اور عبرت نہ پکڑے۔طباعت معیاری بلکہ احسن ہے۔ (مسلم سجاد)
قرآنِ کریم دنیا کی واحد کتاب ہے جس کے حوالے سے ہرسال دنیا کی بے شمار زبانوں میں درجنوں کتب تحقیق کے ساتھ طبع ہوتی ہیں اور اس عظیم کتاب کے اسرار و رُموز کو مختلف زاویوں سے پیش کرتی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب میں قرآن کریم کی سورتوں کے زمانۂ نزول اور ان کے مضامین کے خلاصے کے ساتھ ایک جدول کی مدد سے ترتیب ِ نزولی بھی درج کی گئی ہے۔ کالجوں اور مدارس کے طلبہ کے لیے یہ معلومات افزا کتاب بہت مفید رہے گی ۔ گو اکثر مقامات پر معلومات فراہم کرتے وقت سند کا ذکر بھی آگیا ہے لیکن کتاب کے آغاز میں ص ۲۳ تا ۴۵ جو معلومات درج کی گئی ہیں ان کی سند اور حوالے درج نہیں ہیں۔ اگر اگلی طباعت میں اس کمی کو پورا کرلیا جائے تو بہتر ہوگا۔کتاب سلیس زبان میں ہے اور قرآن کریم کے بارے میں ابتدائی معلومات بہت سلیقے کے ساتھ آگئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مؤلف کو بہترین اجر سے نوازے، آمین!(ڈاکٹر انیس احمد)
بنگلہ دیش کے آج کل کے حالات میں شرمیلا بوس کی کتاب جو اوکسفرڈ یونی ورسٹی نے Dead Reckoning, Memories of 1971 Bangladesh War کے نام سے شائع کی ہے، اس کتاب نے برعظیم کی علاقائی سیاست میں اس لحاظ سے کھلبلی مچادی کہ اُن سیکڑوں الزامات کو اس کتاب میں ردکیا گیا ہے جو مشرقی پاکستان کی مغربی پاکستان سے علیحدگی کے دوران ہزاروں بار اُٹھائے گئے۔ ان میں ۳۰لاکھ افراد کے ہلاک کیے جانے، اور ہزاروں بنگلہ عورتوں کی عصمت دری جیسے الزامات شامل ہیں۔ طارق اسماعیل ساگر نے پاکستانی ذرائع ابلاغ پر زبردست تنقید کرتے ہوئے شرمیلا بوس کی کتاب کے کم و بیش مکمل ترجمے کو لہو پکارے گا آستیں کا کے نام سے شائع کردیا ہے۔ شرمیلابوس نے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش کی سرکردہ سیاسی و فوجی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ان تین ممالک کے علاوہ امریکا و برطانیہ کے تحقیقی اداروں کی لائبریریوں کو کھنگالا اور یہ ثابت کر دیا کہ مجیب الرحمن نے نفرت و دشمنی کا جو ہمالیائی تلاطم کھڑا کیا تھا اُس نے افواہوں اور الزامات کا بحرالکاہل تخلیق کر دیا۔ ’ادھر ہم اُدھر تم‘ کے خالق نے ۹۰ہزار فوجیوں کو جنگی قیدی بننے پر مجبور کر دیا اور بنگلہ دیش کی ریاست الاماشاء اللہ وہی فاش غلطیاں کر رہی ہے جو مشترکہ پاکستان کے سیاست دان اور فوجی جرنیل کرتے رہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جھوٹے الزامات کے ذریعے بی این پی، حساب باک کرنے کی کوشش کررہی ہے، جس سے بنگلہ دیش کسی الم ناک سانحے اور عدمِ استحکام کا شکار ہوسکتا ہے۔ بھارتی حکومت کی دیرینہ خواہش یہی ہے۔
اس کتاب کی سطر سطر حقیقی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ مَیں نے درجنوں نہیں سیکڑوں بنگلہ دیشی قصبوں اور دیہاتوں کا دورہ کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ مغربی پاکستان کی فوج نے جن ہزاروں لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا تھا اُن کی قبریں دیکھ سکے لیکن ایک دو دیہاتوں کے علاوہ کہیں اور اس کا ثبوت نہ مل سکا۔ شرمیلا نے اُن ’ہزاروں لاکھوں‘ عورتوں سے براہِ راست انٹرویو کرنے کی کوشش کی جن کے اعزہ و اقربا اُن کی ’آنکھوں کے سامنے‘ تہِ تیغ کردیے گئے تھے لیکن مصنفہ کو اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ یہی معاملہ آبروریزی کے الزامات کے ساتھ پیش آیا۔
مصنفہ نے انگریزی کتاب میں کھل کر تسلیم کیا ہے کہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں اُس کے تحقیقی کام کی تحسین نہیں کی گئی، کیونکہ بساطِ سیاست کے کئی چہرے بے نقاب ہورہے تھے۔ اُس نے اپنی تحقیق جاری رکھی اور یہ ثابت کیا کہ بھارتی دشمنی ، امریکی سرپرستی اور پاکستانی سیاست دانوں کی ہٹ دھرمی نے بنگلہ دیش کے قیام کو حتمی شکل دینے میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ۱۹۷۱ء میں شیخ مجیب الرحمن کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی جاتی تو شیخ صاحب ایک ماہ میں اپنی ناکامی کا اعلان کرکے دوبارہ انتخاب کا انعقاد کرنے پر مجبور ہوتے۔ افسوس، ایک سیاسی شاطر کی ہوس نے سب سے بڑی اسلامی مملکت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔
شرمیلا بوس نے غیربنگالیوں کے قتل عام کے حوالے سے بھی تفتیش کی ہے اور بھارت کے گھنائونے کردار کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ لہو پکارے گا آستین کا، کا مطالعہ نہ صرف ماضی کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو بھی آیندہ حادثوں سے محفوظ کرنے کی سبیل پیدا کرے گا۔(محمد ایوب منیر)
حاجی دوست محمد حاجی گل شہیدؒ جماعت اسلامی پشاور کے روحِ رواں تھے۔ سانحۂ قصۂ خوانی میں شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ جماعتی و سیاسی حلقوں، ہرمکتبۂ فکر کے علماے کرام اور خدمت خلق کے حوالے سے معروف تھے۔ بلدیہ پشاور کے کونسلر منتخب ہونے پر اصلاحِ معاشرہ، منکرات کے خاتمے اور امن و امان کے لیے ’علما کمیٹی براے اصلاحِ معاشرہ‘ قائم کی اور مثالی جدوجہد کے ذریعے شاہی باغ یونین کونسل کو مثالی حلقہ بنا دیا۔ جماعت اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع کے خصوصی اہتمام، محلے و مسجد کی سطح پر کام، دارالمطالعے، ڈسپنسریوں اور خدمت خلق، نیز علماے کرام اور مؤثر لوگوں سے خصوصی رابطہ و تعلق کی بنا پر جماعت کے کام کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھایا۔ دینی مدارس کے قیام اور انفاق فی سبیل اللہ سے خصوصی شغف تھا اور بڑے مہمان نواز تھے۔ کتاب میں اہلِ خانہ، دوست احباب اور تحریکی رفقا کے تاثرات بھی دیے گئے ہیں جن سے ان کی شخصیت کے مختلف گوشے سامنے آتے ہیں۔ آخر میں غوث الرحمن شہید، مکرم صافی شہید، ملک حسام الدین شہید، گل نذیر شہید اور غلام سرور شہید کا تذکرہ ہے جو حاجی گل شہید کے ساتھ شہید ہوئے تھے۔ کتاب ایک مثالی کارکن کا تذکرہ ہے جو دوسروں کے لیے تحریک کا باعث ہے۔(امجد عباسی)
قاضی حسین احمدؒ اور پروفیسر عبدالغفور احمدؒ (فروری ۲۰۱۳ء)، دونوں رہنمائوں سے متعلق ان کی دینی، علمی، قومی و ملّی اور سیاسی خدمات اور ان سے ذاتی تعلق اور روابط کی روشنی میں جس طرح تذکرہ کیا گیا ہے، وہ قابلِ قدر ہے۔ قاضی حسین احمد ؒ کے بارے میں آپ نے صحیح لکھا ہے کہ وہ جلال اور جمال کا مرقع تھے، اور پروفیسر غفور احمد ؒ ایک نفیس، باذوق، محبت کرنے والے اور راست باز انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ قاضی صاحب اور پروفیسرعبدالغفور صاحب رحمہم اللہ کی لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے علییّن میں جگہ دے، آمین!
قاضی حسین احمدؒ اور پروفیسر عبدالغفور احمدؒ (فروری ۲۰۱۳ء) دونوں پاکستان کے سنجیدہ اور مخلص رہنما تھے۔ پروفیسر عبدالغفور احمدؒ آئینی اُمور میں متخصص کا درجہ رکھتے تھے، جب کہ قاضی حسین احمدؒ تو چیز ہی دوسری تھے۔ وہ ایک سیاسی و مذہبی رہنما سے بڑھ کر ایک مربی اور ہمدرد رہنما تھے۔ اُن کی ایک عالمی سوچ تھی۔ وہ عالمی اسلامی تحریک کے ایک فرد تھے۔ وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک انجمن تھے۔ یہ پاکستان کے لیے اعزاز کی بات تھی کہ قاضی حسین احمد کی صورت میں اُسے ایک عالمی سطح کا رہنما مل گیا تھا۔ ہماری بدقسمتی یہ تھی کہ ہم نے انھیں مقامی اُلجھنوں میں اُلجھا دیا۔ قاضی حسین احمد نے تو سیّد جمال الدین افغانی مرحوم کا کردار ادا کرنا تھا اور بڑی حد تک ادا کیا بھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اُن کی کماحقہ قدر نہ کی۔ ہم نے انھیں سیاسی رہنما سے آگے کچھ نہ سمجھا۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ سیدابوالاعلیٰ مودودی مرحوم کا فیضانِ نظر تھا کہ اُن کے تربیت یافتہ دونوں حضرات نے مثالی کردار ادا کیا اور اچھی مثالیں قائم کر کے چلے گئے۔ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں محمدشکیل، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور خبیب انس، کراچی کے خطوط قابلِ توجہ ہیں۔ اُن پر غور کیا جانا چاہیے۔
’ملکی بحران : حل کے پانچ اصول‘ (فروری ۲۰۱۳ء) میں مولانا مودودیؒ کی درپیش مسائل کے حل کے لیے فکرانگیز اور اصولی و عملی رہنمائی ہے۔ کاش! ہمارے اہلِ فکرودانش اور اربابِ اقتدار آج ان اصولوں پر عمل پیرا ہوسکیں اور ملک مسائل کے گرداب سے نکل سکے۔ڈاکٹر خالد محمود ثاقب کا مضمون ’تزکیہ و تربیت،چند اہم پہلو‘ کارکن کو عمل پر اُبھارتا ہے، مسائل کا حل پیش کرتا ہے، نیز مایوسیوں میں اُمید اور روشنی کا پیغام ہے۔
مغربی تہذیب کی ساحری سے مسحور، قرآن و سیرت رسول کریمؐ کی ضرورت سے بے پروا طائفہ دانش وراں نے پچھلے ایک عشرے میں اہلِ پاکستان کو ایک نظریاتی ریاست کے شعور سے بے بہرہ رکھنے کے لیے جو خصوصی مہم چلائی ہوئی ہے اس کا نمایاں مظہر ’امن کی آشا…‘ کا ڈھنڈورا ہے۔ ایک سال ہوگیا جب پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ کے نصب العین سے پاکستان کی نوجوان نسل کو بے بہرہ اور لاتعلق کرنے کے لیے… ’لکھنے پڑھنے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا‘ ایک اشتہاری فقرہ بنا کر معصوم بچوں کی آواز میں دن میں کوئی ۲۳مرتبہ الاپا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ عالم گیریت - گلوبلائزیشن کے عنوان سے بھی بہت سے مغالطے برپا کیے گئے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر محمد عمرچھاپرا نے ’عالم گیریت: اسلام کی نگاہ میں‘ (فروری ۲۰۱۳ء)میں اس مسئلے پر جو رہنمائی دی ہے، اس سے ہمارے تصورِ حیات پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
خوشی کے حصول کے لیے کتاب (خوشیوں بھری زندگی،فروری ۲۰۱۳ء)میں بہت سے طریقے بتائے گئے ہیں ۔ ہم نے کتاب میں یہ بھی درج کیا ہے کہ ہر طریقہ ہر فرد کے لیے مؤثر نہیں۔ لہٰذا ہرفرد اپنی پسند کے چند طریقے منتخب کرے اور ان پر عمل کر کے اپنی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے۔
’امریکا میں دہشت گردی ، عالمی ضمیر کے لیے چند سوال‘ (جنوری ۲۰۱۳ء) سے امریکا کے اندورنی خلفشار اور بڑھتی ہوئی جنونی لہر سے آگاہی ہوئی۔ ع تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی۔ یہاں مجھے مدیر ترجمان سے بھی گلہ ہے کہ عصرِحاضر کی بے باک ترجمانِ اسلام محترمہ مریم جمیلہؒ سے تعارف اس وقت کروایا جب ہم سواے غم کے آنسو بہانے کے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی سعیِ جمیلہ کو قبول فرمائے، آمین!
’امریکا میں دہشت گردی اور عالمی ضمیر کے لیے چند سوال‘ (جنوری ۲۰۱۳ء) میں تصویر کی صحیح عکاسی کی گئی ہے۔ پاکستان، افغانستان ، عراق پر ڈھائی گئی قیامت ِ صغریٰ جس میں ہزاروںبچے اپنی حیات سے محروم ہوگئے ہیں، لیکن عالمی طاقتیں ان بچوں کو انسانی فہرست میں شمار تک نہیں کرتیں۔ حقیقی موت تو احساس اور ضمیر کی موت ہوتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مغربی استعمار ضمیر کی موت سے دوچار ہے۔ ’مصری تاریخ کا پہلا جمہوری دستور‘ میں مصری حکومت اور اخوان کی کامیاب کوششوں اور سیکولرلابی کی مخالف سرگرمیوں کو عمدگی سے بے نقاب کیا گیا ہے۔ افسوس کہ ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی حقائق سے پردہ پوشی کرتا رہا۔
’جنسی بے راہ روی ایک چیلنج‘ (دسمبر ۲۰۱۲ء) کے تحت ایک اہم معاشرتی مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مغرب نے اپنی بے لگام خواہشات اور جذبات کی تکمیل کے لیے انسانی حقوق کی مادرپدر آزادی کا جو فلسفہ دیا وہ کسی بھی طرح انسان کے لیے درست نہیں۔ اس مادرپدر آزادی نے خاندانی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے اور معاشرہ معاشرتی انتشار سے دوچار ہوگیا ہے۔ آج وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر پچھتا رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس بے راہ روی سے کوئی سبق سیکھنے کے بجاے ہمارا معاشرہ بھی متاثر ہورہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ٹیلی وژن، کیبل اور انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے نوجوان نسل جنسی بے راہ روی کا شکار ہورہی ہے اور اس کا خاندان پر بُرا اثر پڑ رہا ہے۔ اس کے لیے جہاں علمی و فکری انداز میں توجہ دلانے کی ضرورت ہے وہاں پی ٹی اے اور پیمرا کو ضابطہ اخلاق کا پابند کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کی بھی ضرورت ہے۔
بیمار قوم یا کسی بھی بیمار شخص کا علاج اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اس مرض کی صحیح تشخیص نہیں ہوجاتی۔ ہمارے ملک پاکستان میں برائیوں کی اصل ذمہ دار حکومت نہیں بلکہ خود پاکستانی قوم ہے۔ کیا امیر کیا غریب، کیا پڑھے لکھے کیا اَن پڑھ، سواے چند کے ہرشخص اپنے ہرمسئلے اور ہر گناہ کی ذمہ داری حکومت پر ڈال کر خود مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتا ہے۔اگر ہم اپنے آپ کو زندہ قوم سمجھتے ہیں تو دن رات بُری حکومت کا رونا چھوڑ کر ہم اپنی ان برائیوں کی نشان دہی کریں جن کی وجہ سے اللہ ہم سے ناراض ہے، اور ان کو دُور کرنے کی جتنی اللہ نے ہم کو صلاحیت دی ہے، کوشش کی جائے۔
ملک میں نئے انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے۔ شفاف انتخابات کے پیش نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوموٹونوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمشنر اور حکومت کو پابند کریں کہ وہ آئین کی دفعہ ۶۲، ۶۳ کے تحت انتخاب لڑنے والے نمایندوں کی جانچ پڑتال کریں اور ایسے نمایندوں کو الیکشن لڑنے سے روک دیں جو آئین کے مقرر کردہ اصولوں پر پورا نہ اُترتے ہوں۔ نیز پاکستان کے دستور کی اِن دفعات کو عملہ جامہ پہنانے کے لیے مناسب طریقہ کار وضع کریں۔ اس کے علاوہ قرارداد مقاصد حکومت کو پابند کرتی ہے کہ پاکستانی عوام کو اسلام کے احکام سے روشناس کرائے اور اُن کے لیے اسلام پر عمل کرنے کو آسان بنائے۔ پاکستان کے دستور کی ان دفعات پر عمل کرنے پر حکومت کو حکم جاری کیا جائے۔
’جنسی تعلیم اسلامی اقدار کی تناظر میں‘(جون ۲۰۱۲ء) بہت ہی اچھا لکھا۔ مگر اس میں بھی ڈاکٹرصاحب کی شانِ اجتہادی نمایاں ہے۔ دو مثالیں ملاحظہ ہوں۔ قرآن کریم جنسی جذبے کو حلال و حرام اور پاکیزگی اور نجاست کے تناظر میں بیان کرتا ہے تاکہ حصولِ لذت ایک اخلاقی ضابطے کے تحت ہو نہ کہ فکری اور جسمانی آوارگی کے ذریعے۔ چنانچہ عقیدۂ نکاح کو ایمان کی تکمیل اور انکارِ نکاح کو اُمت مسلمہ سے بغاوت کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے (ص ۶۴)۔ پتا نہیں یہ کسی آیت کا ترجمہ ہے یا حدیث کا، یا کوئی اجماعی قانون ہے؟ ایک اور جگہ وعن شبا بہ فیما ابلاہ سے درج ذیل نتیجہ اخذ کیا ہے۔ احادیث بار بار اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ یوم الحساب میں جو سوالات پوچھے جائیں گے، ان میں سے ایک کا تعلق جوانی سے ہے اور دوسرے کا معاشی معاملات سے۔ گویا جنسی زندگی کا آغاز شادی کے بعد ہے، اس سے قبل نہیں (ص ۶۶)۔ ایک تو یہ کہ الفاظِ حدیث عام ہیں۔ دوسرے یہ کہ جوانی اور شادی میں کیا نسبتِ مساوات ہے؟
’اسلام کے اقتصادی نظام کے نفاذ کا پہلا قدم___ بیع سلم‘ (جون ۲۰۱۲ء) میں نجی سطح پر سود کے خاتمے کے قانون (۲۰۰۷ء) کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ اسی قانون کو صوبہ سرحد میں بھی نافذ کیا گیا تھا اور اے این پی کی موجودہ حکومت نے اسے غیرمؤثر کردیا ہے۔ (ص ۵۴)
ریکارڈ کی درستی کے لیے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ راقم اُس ٹیم کا حصہ تھا جس نے پروفیسر خورشید احمد صاحب کی قیادت میں صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت کے دوران معیشت سے سود کے خاتمے کی جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ ایم ایم اے کی صوبائی حکومت نے پنجاب اسمبلی کے مذکورہ بالا قانون کو اختیار /نافذ (adopt) نہیں کیا تھا بلکہ ایک الگ اور مربوط منصوبہ بندی کے تحت بنک آف خیبر ایکٹ کا ترمیمی بل ۲۰۰۴ء صوبائی اسمبلی سے منظور کروا کر بنک آف خیبر کی تمام سودی شاخوںکو اسلامی بنکاری کی برانچوں میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کی تھی۔ اس ایکٹ کا پنجاب اسمبلی کے منظورکردہ ایکٹ کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم صوبائی معیشت کو اسلامیانے کے لیے ایک الگ کمیشن جسٹس فدا محمد خان ، جج شریعہ کورٹ، سپریم کورٹ آف پاکستان کی صدارت میں قائم کیا گیا تھا جس کا راقم بھی رُکن تھا۔ اِس کمیشن نے بڑی محنت کے ساتھ رپورٹ مرتب کی کہ کس طرح صوبائی معیشت کو سود سے پاک کیا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ کچھ بیوروکریٹک کوتاہیوں اور اعلیٰ سیاسی قیادت کی عدم دل چسپی کے باعث کمیشن کی سفارشات حتمی شکل اختیار نہ کرسکیں اور ایم ایم اے کی حکومت کا دورانیہ مکمل ہوگیا۔
واضح رہے کہ اے این پی کی حکومت نے مکمل طور پر بنک آف خیبر کو دوبارہ سودی کاروبار میں تبدیل نہیں کیا بلکہ بنک کی پرانی سودی برانچوں کو اسلامی برانچیں بننے سے روکنے کے لیے بنک آف خیبرایکٹ میں دوبارہ ترمیم کر کے اللہ کے غضب کو دعوت دی ہے۔ لیکن اس کے باجود وہ بنک آف خیبر میں اسلامی برانچوں کو غیرمؤثر کرنے یا نقصان پہنچانے میں (کوشش کے باوجود) کامیاب نہ ہوسکے۔ لہٰذا ایم ایم اے دور کا کام محفوظ اور intact ہے اور ان شاء اللہ جب دوبارہ ہمیں اقتدار ملے گا تو اسلامی بنکاری اور اسلامی معیشت کے کام کا آغاز وہیں سے ہوگا جہاں اِسے اے این پی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت نے پھیلنے سے روکا ہے۔
تزکیے میں ایک آرٹ کی شان بھی پائی جاتی ہے کیونکہ تزکیے کا مطمح نظر صرف اسی قدر نہیں معلوم ہوتا کہ ہمارا نفس کسی نہ کسی شکل میں راہ پر لگ جائے، بلکہ تزکیہ اس سے آگے بڑھ کر نفس کو خوب سے خوب تر بنانے کی جدوجہد کرتا ہے۔ تزکیہ صرف اتنا ہی نہیں چاہتا ہے کہ ہمیں خدا اور اس کی شریعت کا کچھ علم حاصل ہوجائے، بلکہ وہ اس سے بڑھ کر یہ چاہتا ہے کہ ہمیں خدا اور اس کی صفات کی سچی اور پکّی معرفت حاصل ہوجائے۔ تزکیہ صرف یہ پیش نظر نہیں رکھتا ہے کہ ہماری عادتیں کسی حد تک سنور جائیں، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم تمام مکارمِ اخلاق کے پیکرِ مجسم بن جائیں۔ تزکیہ صرف اتنے پر قناعت نہیں کرتا کہ ہمارے جذبات میں ایک ہم آہنگی اور ربط پیدا ہوجائے، بلکہ وہ اس پر مزید ہمارے جذبات کے اندر رقت و لطافت اور سوز و گداز کی گھلاوٹ بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ تزکیے کا مطالبہ صرف اسی قدر نہیں ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح ہمارا نفس، احکامِ شریعت کے تحت آجائے، بلکہ اس کا اصلی مطالبہ یہ ہے کہ ہمارا نفس خدا اور اس کے رسولؐ کے ہرحکم کو اس طرح بجا لائے جس طرح اس کے بجا لانے کا حق ہے۔ اس کا مطالبہ ہم سے صرف خدا کی بندگی ہی کے لیے نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس بات کے لیے بھی ہوتا ہے کہ ہم خدا کی اس طرح بندگی کریں، گویا ہم اسے اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
مختصر الفاظ میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ تزکیہ ایمان، اسلام اور احسان تینوں کے تقاضے بیک وقت ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے خدا کو اس کی تمام صفتوں کے ساتھ مانیں، پھر اس کے تمام احکام کی زندگی کے ہرگوشے میں اطاعت کریں، اور یہ ماننا اور اطاعت کرنا محض رسمی اور ظاہری طریقے پر نہ ہو بلکہ پورے شعور اور گہری للہیت کے ساتھ ہو، جس میں ہمارے اعضا و جوارح کے ساتھ ہمارا دل بھی پورا پورا شریک ہو۔(’تزکیہ نفس‘، مولانا امین احسن اصلاحی، ترجمان القرآن، جلد۳۹، عدد۶، جمادی الثانی ، ۱۳۷۲ھ، مارچ ۱۹۵۳ء، ۱۳-۱۴)
پہلا ایڈیشن ختم ہوکر دوسرے ایڈیشن کی ترسیل شروع ہوچکی ہے۔ ا س دوسرے ایڈیشن میں مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے نظرثانی فرما کر کئی مقامات پر ترمیم و اضافے کردیے ہیں۔ فہرست موضوعات بھی دوبارہ نئی ترتیب سے ترمیم و تنسیخ کے بعد شائع کی گئی ہے۔ طبع اوّل کی غلطیوں کی تصحیح بھی کردی گئی ہے۔
متوسط طبقے کی خواہش کے پیش نظر قسم سوم بھی طبع ہوچکی ہے۔
ہدیہ قسم اوّل، مجلد مع بکس -/۱۲/۲۰ ہدیہ قسم دوم، مجلد مع بکس -/۴/۱۸
ہدیہ قسم سوم مجلد بغیر بکس -/۱۱
محصول ڈاک تقریباً -/۴/۱ دیگر اخراجات بذمہ خریدار
قسم اوّل و دوم میں حسب ِ سابق خصوصی جلدیں بھی مل سکیں گی جو فرمایش کے مطابق فراہم کی جائیں گی۔
مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان - اچھرہ، لاہور
تحریک اسلامی کو سمجھنے کے لیے
(جدید) دستور جماعت اسلامی آٹھ آنے روداد جماعت اسلامی حصہ اوّل ایک روپیہ
روداد جماعت اسلامی حصہ دوم چودہ آنے روداد جماعت اسلامی حصہ سوم دو روپے
روداد جماعت اسلامی حصہ چہارم ایک روپیہ بارہ آنے روداد جماعت اسلامی حصہ پنجم دو روپے
روداد جماعت اسلامی حلقہ خواتین بارہ آنے دعوت دین اور اس کا طریق کار دوروپے بارہ آنے
منشور جماعت اسلامی تین آنے، اور جماعت اسلامی، اس کا مقصد ، تاریخ اور لائحہ عمل ایک روپیہ
کامطالعہ کیجیے
مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان، اچھرہ، لاہور، پاکستان
یا ___ اپنے شہر کے کتب فروشوں سے طلب کریں
(ترجمان القرآن، جلد ۳۹، عدد۴، ربیع الثانی ۱۳۷۲ھ ، جنوری۱۹۵۳ء، اشتہار اندرونِ سرورق و پشت)