گذشتہ سات سال سے محصور غزہ ایک دفعہ پھر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کی وجہ سے آگ اور خون کی میں زد میں ہے۔ ان سطور کے لکھنے تک ۶۵۰فلسطینی شہید اور۴ ہزار سے زائد زخمی ہوگئے ہیں،جب کہ سیکڑوں گھر ، سکول ،رہایشی عمارتیںاور مساجد ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع گابی اشکنازی نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجاکر دم لیں گے۔ ۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۲ء کے حملے کے برعکس اس دفعہ زمینی حملہ بھی کیا گیا ہے اور اسرائیلی افواج ٹینکوںاور بھاری اسلحے سمیت غزہ پر مختلف اطراف سے چڑھائی کرچکی ہیں۔یہ تو معلوم نہیں کہ ۷جولائی سے جاری آگ اور خون کا یہ کھیل مزید کتنے بے گناہوں کی جان لے گا، تاہم اس موقعے پر مسلم دنیابالخصوص عالم عرب کی خاموشی ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آئی ہے۔
حالیہ حملے کے جواز کے لیے اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ حماس ۲۰۱۲ء کے امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتی رہی ہے اور اسرائیلی آبادیوں کوغزہ سے اپنے راکٹوں سے نشانہ بنا تی رہی ہے۔اس کشیدگی میں اضافہ اس وقت ہوا جب۱۲ جون ۲۰۱۴ء کو اچانک تین اسرائیلی نوجوان غائب ہوگئے اور چند دن بعد سرحد کے قریب سے ان کی لاشیں ملیں۔ اسرائیل نے اس کا الزام براہ راست حماس پر لگا یا اور انتقامی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ حماس نے اس الزام کی تردید کی اور کہا کہ اگر انھوں نے ان اسرائیلی لڑکوں کو پکڑا ہوتاتوانھیں قتل کرنے کے بجاے ان کے بدلے اپنے قیدی رہا کرواتے ، جیسا کہ اس نے جلعاد شالیط کے بدلے تقریباً ۱۳۰۰فلسطینی مرد وخواتین قیدیوں کو رہا کروایا تھا۔ اس کے باوجود اسرائیل نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے ایک ۱۴ سالہ فلسطینی بچے کو اغوا کرکے زندہ جلادیا اور رفح کی سرحد پر حماس کے چھے قائدین کو شہید کردیا اور بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز کردیا۔وہائٹ ہاؤس نے بھی فوری طور پراسرائیل کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی جنگی کارروائیوں کو حقِ دفاع قرار دے دیا۔ امریکی شہ ملتے ہی اسرائیل نے بمباری میں اضافہ کیا اورسرکاری عمارتوںسمیت عام آبادی کو نشانہ بنانا شروع کردیا۔
در اصل جب سے مصر میں فوجی انقلاب کے ذریعے اسرائیل کے حامی اقتدار میں آئے ہیں تب سے اسرائیل کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ حماس نے شروع ہی سے اس صورت حال کا ادراک کیا اور الفتح کے ساتھ مصالحت کرکے ایک دفعہ پھر مشترکہ قومی حکومت تشکیل دینے کا دانش مندانہ فیصلہ کیا ۔ مسلمانوں کو ہمیشہ سے تقسیم کرنے کی پالیسی پر گامزن امریکا واسرائیل کو منظور نہ تھا کہ دونوں دھڑے ایک ہوکر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔یہی وجہ ہے کہ لڑکوں کی گم شدگی اور قتل کا بہانہ بنا کر ا س نے غزہ پر چڑھائی کردی ۔
بعض تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ چند سال قبل غزہ کی پٹی میں تیل اور گیس کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے ہیں ،اسرائیل انھیں اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے۔ اس لیے وہ ہر قیمت پر غزہ کو اپنے کنٹرول میں لینا چاہتا ہے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی ۹ جولائی ۲۰۱۴ء کی اشاعت میں معروف دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر نفیز احمد کے حوالے سے لکھا ہے کہ ۲۰۲۰ء تک اسرائیل کا توانائی بحران شدت اختیار کرسکتا ہے جس کے پیش نظر اسرائیل فلسطینی ذخائر پر قبضے کو ضروری سمجھتا ہے ۔ غزہ کے ساحل کے قریب تقریبا ڈیڑھ کھرب کیوبک فٹ گیس کے ذخائر موجود ہیں۔اسی وجہ سے اسرائیل نے حماس کے خاتمے کے لیے غزہ پر جنگ مسلط کی ہے۔ معروف امریکی ماہرِ توانائی ڈاکٹر گرے لفت نے امریکی جریدے جرنل آف انرجی سیکورٹی میں اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اسرائیل ، مصر سے گیس کی مسلسل فراہمی کے باوجود آیندہ چند سالوں میں گیس کے شدید بحران کا سامنا کرے گا۔ اس لیے اس کی نظریں خطے میں موجود تیل اور گیس کے ذخائرپر لگی ہوئی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پہلے ہی دن سے غزہ اسرائیل کی نظروں میں خاردار کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے اور وہ ہر قیمت پر اسے باقی مقبوضہ فلسطین میں شامل کرنا چاہتا ہے، تاکہ وہاں مصر کے آمر سیسی کی طرح وفادار اور محمود عباس کی طرح کٹھ پتلی حکومت قائم کرکے جب چاہے فلسطینیوں کو وہاں سے نکال باہر کرے اور جب چاہے وہاں نئی یہودی آبادیاں قائم کرے۔
غزہ پر حملے کے اگلے ہی دن امریکی ترجمان نے اسرائیل کی مکمل حمایت اور حماس کی مذمت پر مشتمل بیان جاری کیا ۔ اقوام متحدہ نے دونوں اطراف کو معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور جنگ بندی کا مشورہ دیا۔ گویا کہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری اور حماس کی جانب سے چلائے گئے دفاعی میزائل برابر ہیں۔امریکی رد عمل کے آتے ہی مسلم دنیا جیسے چپ سادھ گئی اور گاجر مولی کی طرح کٹتے نہتے فلسطینیوں پر جاری وحشیانہ بمباری گویا انھیں نظر ہی نہ آرہی ہو۔
عرب ممالک پہلے تو خاموش تھے لیکن جب سوشل میڈیا پراسرائیلی بموں سے معصوم فلسطینی بچوںکے جسموں کے پرخچے اڑتے ہوئے دکھائے گئے اور ہر طرف سے عرب حکمرانوںکو بے حسی کے طعنے دیے جانے لگے، تو کاغذی کارروائی کے لیے عرب وزراے خارجہ کا اجلاس طلب کیا گیا، حملے کی مذمت کی گئی اورتصویری سیشن کرکے بات ختم کردی گئی۔ مصر نے البتہ جنگ بندی کی ایک تجویز پیش کی جو در اصل اسرائیلی تجویز تھی، سب نے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے بھی اسے تسلیم کیا لیکن معاملے کے اصل فریق حماس سے نہ تو کوئی رابطہ کیا گیا نہ مشاورت ، بلکہ حماس کے ترجمان کے مطابق انھیں صرف میڈیا کے ذریعے اس معاہدے کی خبریںملیں ۔اب جس جنگ بندی کے معاہدے کا حماس کو کچھ معلوم ہی نہ تھااسے قبول کرنے سے انکار پر مطعون کیا جا رہا ہے۔
اس ضمن میں ما سوائے ترکی کے کسی مسلمان ملک سے سرکاری طور پرکوئی احتجاج یا مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔ترکی نے نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ حملے بندنہ کرنے کی صورت میں سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی بھی دی۔ ترک وزیر اعظم نے اس پورے معاملے میں مصر کے منافقانہ رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوجی حکمران جنرل سیسی کو ظالم آمر قرار دیا۔
عرب وزراے خارجہ کے اجلاس منعقدہ ۱۴ جولائی قاہرہ میں مصر نے جنگ بندی کی تجویز میں کہا کہ حماس اور اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی کرنی چاہیے ۔ تجویز میں حماس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کسی قسم کے راکٹ اسرائیل کی طرف فائر نہ کرے۔ مصر نے غزہ اور اسرائیل کے مابین سرحد پر موجود تمام گزرگاہوں کو کھولنے کی بھی تجویز دی ، تاہم تجویز میں اپنی سرحد کو کھولنے کی کوئی پیش کش نہیں کی۔حماس اور دیگر جہادی تنظیموں نے اس تجویز کو مسترد کردیا ۔ القسام بریگیڈ نے اسے اسرائیلی بالادستی تسلیم کرنے کے مترادف قرار دیا ۔حماس نے موقف اختیار کیا کہ ہماری شرائط تسلیم کیے بغیر جنگ بندی قبول نہیں ہے ۔ اس تجویز میں ہمارے مطالبات کا ذکر ہے نہ ہمیں مشاورت کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے۔عرب وزراے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے کی عبارت ایسے مرتب کی گئی جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ فریقین موجودہ صورت حال کے برابر ذمہ دار ہیں۔
حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ ہم جنگ بندی چاہتے ہیں۔ ہم ۲۰۱۲ء کے معاہدے کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری بند ہو اور ہمارے عوام سُکھ کا سانس لیں لیکن ہمارا اصل مسئلہ سات سال سے جاری محاصرہ ہے جس سے ہماری قوم فاقوں کا شکار ہے اور ایک بڑی جیل میں قیدیوں کی سی زندگی گزار رہی ہے، جب کہ مصری تجویز میں اس کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ۲۰۱۲ء کے امن معاہدے میں اسرائیل کو پابندکیاگیا تھا کہ وہ حماس کے قائدین اور دیگر مجاہدین کو ٹارگٹ نہیں کرے گا ،جب کہ موجودہ تجویز میں اسرائیل کواس کا پابند نہیں کیا گیاہے ۔گویا اسے کھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ جب چاہے اور جسے چاہے ٹارگٹ کرے۔ اس تجویز میں اسرائیل کو پابند کیا گیاہے کہ ضرورت کی اشیا لانے لے جانے کے لیے گزرگاہوں کو کھول دے ،تاہم اسے امن وامان کی صورت حال سے مشروط کیاگیا ہے۔گویا اسرائیل جب چاہے ان گزرگاہوں کو بند کردے۔
غزہ پر مسلط کی گئی اس جنگ میں اگر چہ سیکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں ، لیکن پہلی بار حماس کی طرف سے داغے گئے ۱۰۰ فی صد مقامی ساخت کے میزائل تمام یہودی آبادیوں تک پہنچ رہے ہیں۔ پہلی بار خود اسرائیلی سرکاری ذرائع نے دو درجن سے زائد اسرائیلی فوجی جہنم رسید ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دکھائی گئی ہے، جس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر کا فون سن رہا ہے ۔ فون کے دوران حماس کے راکٹوں کی آواز آئی اور وہ فون چھوڑ کر بھاگا۔شاروول نامی ایک یہودی فوجی حماس کے مجاہدین کے ہاتھ لگ گیاتو فلسطینی آبادی میں خوشیوں کے شادیانے بج گئے کہ جلعاد شالیط کی طرح اب مزید قیدی رہا ہوں گے۔
وَلَا تَھِنُوْا فِی ابْتِغَآئِ الْقَوْمِ ط اِنْ تَکُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّھُمْ یَاْلَمُوْنَ کَمَا تَاْلَمُوْنَ ج وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا یَرْجُوْنَ ط ( النساء :۴:۱۰۴) اس گروہ کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاؤ- اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمھاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیںاور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں۔
ایسا ہرگز نہیں ہے کہ نقصان صرف نہتے فلسطینیوں کا ہورہا ہے۔خود اسرائیل کے اندر یہودی اپنی حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں کہ خدا را غزہ پر بمباری بند کرو اور ہمیں سکون سے رہنے دو۔فتح ان شاء اللہ حق کی ہوگی اور شیخ احمد یاسین شہید کی پیشین گوئی سچ ثابت ہوگی۔ انھوں نے کہا تھا کہ الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے اور ان شاء اللہ اس صدی کی تیسری دہائی اسرائیل کے مکمل خاتمے اور صفحۂ ہستی سے مٹ جانے کی دہائی ہوگی۔
غزہ کے نہتے اور معصوم عوام پر ظلم و سفاکیت کی یہ نئی مثال بھی ختم ہوجائے گی ، لیکن تاریخ بین الاقوامی برادری کی جانب داری ، او آئی سی اور عالم عرب کی بزدلانہ خاموشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی ۔ مصر کا منافقانہ رویہ اور اسرائیل دوستی بھی کھل کر سامنے آگئی ہے اور ترک وزیر اعظم نے بجا طور اسے اسرائیل کے ساتھ اس وحشیانہ اور ظالمانہ کارروائی میں برابر کا شریک قرار دیا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر پوری امت یک جا ہوکر اسرائیل کی طرف پھونک بھی مارے تو وہاں ایک پتّا بھی نہیں رہے گا، لیکن افسوس کہ مسلم حکمران بزدلی اور بے حسی کی تمام حدیں عبور کرچکے ہیں۔ ان سے خیر کی امید تو نہیں پھر بھی ہماری تجویز ہے کہ فوری طور پر تمام مسلم ممالک کا ہنگامی سربراہی اجلاس بلایا جائے اور غزہ پر جارحیت کو رکوانے کے لیے واضح عملی اقدامات کا اعلان کیا جائے۔ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے ایسے سخت اقدامات کرے جن سے محصور اہل غزہ کے اجتماعی قتل کو روکا جا سکے۔مصرکو پابند کیا جائے کہ اہل غزہ کا بیرونی دنیا سے رابطے کا واحد راستہ رفح گیٹ وے کوفوری اور مستقل طورپر کھول دے ،تاکہ زخمیوں اور بیماروں کو مناسب علاج معالجے کے لیے مصر اور دیگر ممالک لے جایا جاسکے ۔ مسلمان ممالک بالخصوص عرب ممالک اسرائیل کے سرپرست اور اس جارحیت کی حمایت کرنے والے ممالک کے ساتھ تمام تجارتی معاہدوں خصوصاً تیل کے معاہدوں پرنظر ثانی کریں ۔اورمشترک دشمن کے مقابلے میں فلسطینی دھڑوں میں انتشار پیدا کرنے کے بجاے انھیں متحدکرنے کی سنجیدہ کوششیں کریں۔
۱۰ جون ۲۰۱۴ء کے بعد سرزمینِ عراق نے خطے کے تمام ممالک کی توجہ اپنی طرف مبذول کیے رکھی۔ ان ایام میں تنظیم الدولہ الاسلامیہ فی العراق والشام (داعش) نے ضلع نینویٰ کے انتظامی مرکز اور عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کرلیا جس کی آبادی ۱۰لاکھ نفوس سے زائد ہے۔ شمال مغربی بغداد میں ضلع صلاح الدین اور اس کے انتظامی مرکز تکریت، مغربی عراق کے ضلع انبار اور اس کے انتظامی مرکز رمادی پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ اس کے ساتھ پٹرول مہیا کرنے والے بیش تر علاقے پر بھی تنظیم نے کنٹرول حاصل کرلیا۔ یہ تمام کارروائی فلوجہ شہر کو مسلسل محاصرے میں رکھنے اور اس کے ہزاروں شہریوں کو ہجرت پر مجبور کیے رکھنے کے بعد عمل میں آئی۔ حالیہ چند مہینے امن و امان کی صورت حال کے اعتبار سے بہت خوف ناک گزرے۔ اس طرح حکومتی افواج کی پسپائی کے نتیجے میں دارالحکومت بغداد کی طرف رسائی کا راستہ تنظیم کے لیے آسان ہوتا نظر آرہا تھا۔ چند ہفتوں کے درمیان یہ عمل اس سُرعت سے مکمل ہوا کہ عراق کے ایک تہائی رقبے پر داعش نے اپنی اتھارٹی قائم کرلی، اور بغداد میں بھی اپنی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔
اس حیرت انگیز تیزرفتار کامیابی پر تنظیم کے ترجمان ابو محمد العدنانی کے اعلانِ قیامِ خلافت نے ہرشخص کو اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ انھوں نے حلب (شام) سے لے کر دیالی (عراق) تک خلافت ِاسلامیہ قائم کرنے کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے منصب ِ خلافت پر متمکن ہونے کا مژدہ بھی سنایا۔
داعش کا یہ اعلان بظاہر غیرمعمولی حد تک غیرمعقول ہے مگر جن حالات میں یہ اعلان سامنے آیا اس نے پورے عالمِ اسلام کی توجہ حاصل کرلی۔ اس میں شک نہیں کہ عراق اور شام دیگر عرب ممالک کی نسبت زیادہ ابتر سیاسی صورتِ حال سے گزررہے ہیں۔ بیرونی طاقتوں نے اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کے لیے ملک کے انسانی و مادی وسائل کو بے دریغ تباہ و برباد کیا ہے۔ ربع صدی قبل ایران کے ساتھ تصادم میں اس کی قوتوں کو ضائع کرنے کا کھیل کھیلا گیا اور بعدازاں صدام حسین کی ’انانیت‘ کو زیر کرنے اور خلیج میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ملک کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ ظلم و ستم اور جبروقہر کی یہ تاریخ نئے سے نئے باب رقم کرتی جارہی ہے، حتیٰ کہ انسانی حقوق کی پامالی اور فرقہ وارانہ تصادم نے انسانی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ شیعہ سُنّی فسادات کو ہوا دینے کے لیے اس طرح کا اعلان جلتی پر تیل کا کام کرگیا۔ چونکہ داعش کے نام اور تذکرے کے ساتھ ہمیشہ سُنّی کا لفظ ضرور استعمال کیا گیا ہے، لہٰذا یہ بات اس خدشے کو حقیقت میں بدلتی نظر آئی کہ اس سے لازماً شیعہ سُنّی تصادم کو ہوا ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کے شیعہ مرجع آیت اللہ سیستانی نے بھی داعش کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔
اس اعلان کے بعد جس خوف ناک صورت حال کے پیدا ہونے کا خدشہ تھا اس کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے علماے اسلام کے عالمی اتحاد (الاتحاد العالمی لعلما المسلمین) نے اپنے فوری ردعمل کا اظہار کیا۔ اتحاد نے شرعی طور پر اس اعلان کا جائزہ لیا اور ایک جامع بیان جاری کیا جس میں کہا گیا: عالمی اتحاد براے علماے مسلمین نے ’الدولہ الاسلامیہ‘ نامی تنظیم کی طرف سے جاری کی گئی تصریحات کا بغور جائزہ لیا ہے۔ یہ تنظیم عراق کے اندر دیگر عراقی طاقتوں کے ساتھ ہی وجود میں آئی تھی اور مقصد عراق کے اہلِ سنت اور ملک کے مظلوم انسانوں کی مدافعت تھا۔ یہ بات باعث ِ مسرت تھی اور ہم نے اس جمعیت کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی بناپر خوش آمدید کہا۔ مگر جلد ہی اس تنظیم کی دیگر تنظیموں اور ملکی قوتوں سے علیحدگی عمل میں آگئی اور انھوں نے ’اسلامی خلافت‘ کے قیام اور ’خلیفۃ المسلمین‘ کی نامزدگی کااعلان یہ کہتے ہوئے کیا کہ دنیا بھر کے مسلمان بھی اس خلیفہ کی بیعت کریں اور اس کا حکم مانیں۔ اتحاد ان تمام اُمور کو شرعی اور دنیوی کسی بھی معیار پر درست نہیں سمجھتا۔ اتحاد کے نزدیک اس کے نقصانات زیادہ اور فوائد کم ہیں۔ اس طرح کے اُمور دیگر تنظیموں اور ملکوں کے سامنے انتشار و انارکی کا دروازہ کھول دیتے ہیں کہ ہر کوئی کھڑا ہو اور ازخود خلافت قائم کرنے کا اعلان کردے۔ اس طرح تو خلافت اسلامیہ کا مقدس مفہوم ہی داغ دار ہوکر رہ جائے گا۔ یہ بہت بڑا خطرہ ہے اور دشمن کے منصوبوں کے سوا یہ کسی کی خدمت نہیں۔
اتحاد نے یہ بھی کہا کہ خلافت ِ اسلامیہ کے معنی و مفہوم کو ایک ایسی تنظیم کے ساتھ جوڑنا جو لوگوں میں تشددپسند مشہور ہو، منفی ذہنیت کی حامل ہو، ایسا عمل کبھی بھی اسلام کی خدمت نہیں ہوسکتا۔
داعش کے موصل پر قبضے سے سیاسی وعسکری اور امن و سلامتی سے متعلق کئی سوالات کھڑے ہوگئے کہ داعش کن لوگوں پر مشتمل ہے اور عراق کے اتنے وسیع علاقے پر کیسے قابض ہوگئی ہے؟ یہ کیسے قائم ہوئی اور پروان چڑھی؟ اس کے حمایتی اور معاون کون ہیں اور اس کی حرکت کا راز کیا ہے؟ اسے مالی امداد کہاں سے ملتی ہے؟
داعش کی تشکیل کا سلسلہ عراق میں ابومصعب الزرقاوی اردنی کی قائم کردہ تنظیم ’التوحیدوالجہاد‘ سے ملتا ہے۔ ابومصعب کی یہ تنظیم ۲۰۰۴ء میں قائم ہوئی تھی۔ ۲۰۰۶ء میں زرقاوی نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی بیعت کرلی۔ زرقاوی اسی سال امریکی افواج کے ایک حملے میں جاں بحق ہوگیا۔ اس کے بعد ابوحمزہ المہاجر تنظیم کا سربراہ مقرر ہوا اور ساتھ ہی ابوعمر البغدادی کی سربراہی میں تنظیم ’دولۃ العراق الاسلامیۃ‘ کی تشکیل بھی عمل میں آگئی۔ ۱۹؍اپریل ۲۰۱۰ء کو ابوعمر البغدادی اور ابوحمزہ المہاجر امریکی و عراقی افواج کے ہاتھوں مارے گئے۔ کوئی ۱۰ دن بعد تنظیم کی شوریٰ کا اجلاس ہوا جس میں ابوبکر البغدادی کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا۔
داعش کی تشکیل ۲۰۱۳ء میں ہوئی۔ یہ عراقی تنظیم ’دولۃ العراق الاسلامیہ‘ اور شام میں مصروفِ عمل مسلح تنظیم ’جبھۃ النصرۃ‘ کے درمیان جنگی معرکہ برپا ہونے کے بعد قائم ہوئی۔ یہ جنگی سرگرمیاں ان کے درمیان موجودہ برس بھی جاری رہیںا ور بالآخر دونوں تنظیموں کا اتحاد ہوگیا اور نتیجتاً ’الدولۃ الاسلامیہ فی العراق والشام‘ قائم ہوئی۔
داعش کا سب سے پہلا قدم القاعدہ سے اپنے سابقہ تعلقات اور وفاداریوں سے دست کش ہوجانا تھا، خصوصاً ایمن الظواہری سے لاتعلق ہونا ضروری خیال کیا گیا کیونکہ اُن کی راے تنظیم کی سرگرمیاں صرف عراق تک محدود رکھنے کی تھی۔ داعش کی افرادی قوت کا اندازہ شام اور عراق دونوں ممالک میں ۱۲ سے ۱۵ ہزار تک بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس بات میں شک نہیں کہ یہ خطے کی سب سے بڑی مسلح تنظیم ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور تجزیہ نگاروں کی آرا کے مطابق داعش کو مالی امداد فراہم کرنے والے ممالک کئی ایک ہیں۔ امریکا سمیت کئی مسلم ممالک بھی اس کی پشت پر کھڑے ہیں۔ یقینا سب کے مقاصد اپنے اپنے ہیں۔ ایک روسی تجزیہ نگار نے وائس آف رشیا میں لکھا ہے کہ داعش کا امیر اور نامزد خلیفہ ۲۰۰۴ء میں امریکی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور ’بوکا‘ چھائونی میں اُسے رکھا گیا۔ ۲۰۰۹ء میں امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں اُسے رہا کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق بغدادی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں کام کرتا ہے۔ ’بوکا‘ چھائونی کے ایک سابق انسپکٹر نے بتایا کہ بغدادی کو یہاں سے عراقی افواج کے حوالے کیا گیا تھا جس نے اُسے رہا کردیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق داعش نے موصل پر قبضے کے دوران ۴۰۰ ملین ڈالر اکٹھے کیے۔ یہ بھی کہا گیا کہ یہ شہریوں سے بھتہ بھی وصول کرتے ہیں۔ مالی اور اسلحی طور پر داعش دنیا کی امیرترین مسلح تنظیم ہے جس پر دہشت گردی کا الزام ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ امریکا اس وقت شامی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت میں اضافے کو پسند نہیں کرتا۔ دوسری طرف ایرانی سرگرمیوں کا بھی اُسے احساس ہے جو روس کے تعاون سے ہوتی ہیں اور یہ خلیجی دوست ممالک کے لیے باعث ِ تشویش ہیں۔ وہ ایک طرف عراق میں اپنے مقاصد کے تحفظ کے لیے داعش کے مقاصد کو تقویت دے رہا ہے۔ دوسری طرف یوکرائن میں بھی روس امریکا کش مکش جاری ہے جس سے عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
داعش کی مسلح سرگرمیوں کے بارے میں بیش تر تجزیہ نگاروں کی راے ہے کہ عراق میں جو کچھ ہوا ہے یہ نوری المالکی کی ظالمانہ و وحشیانہ سیاسی کارروائیوں کا ردعمل ہے جو اس نے اہلِ سنت کے خلاف روا رکھیں۔ سیاسی میدان کو اہلِ سنت کے لیے بالکل بند رکھا۔ اس مسئلے کے حل کے مواقع پیدا نہ ہونے دیے۔ سوال یہ ہے کہ داعش اُس وقت بھی موجود اور طاقت ور تھی لیکن اس نے دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر اہلِ سنت کے حقوق کی جدوجہد میں کیوں حصہ نہ لیا؟ ممکن ہے داعش کے قیام سے ایک بڑا خطرہ جنم دے کر عراق کے اہلِ سنت کی سیاسی جدوجہد کو کچلنا مقصود ہو۔
اس صورتِ حال کا بغور جائزہ لیا جائے تو کئی امکانات اور خدشات دکھائی دیتے ہیں:
اس عمل سے عراق کی تقسیم کا ہدف حاصل کرنا بھی مقصود ہوسکتا ہے کہ عراق کو تین مملکتوں میں، یعنی شیعہ، سُنّی اور کرد ریاستوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ مئی میں منعقد ہونے والے انتخابات میں کُرد اور سُنّی نمایندوں کی طرف سے اس طرح کے مطالبات سامنے آچکے ہیں۔ مثال کے طور پر سوڈان کی تقسیم کو دیکھا جاسکتا ہے۔
دوسرا امکان یہ ہوسکتا ہے کہ ایک طرف شیعہ اور ایران کی طاقت کو کچلا جائے تو دوسری طرف سُنّی اور خلیج کی قوت کو توڑا جاسکے۔ ماضی میں ایران عراق تصادم اس کی مثال ہے۔ جب ان دونوں محاذوں پر خطے کے اندر انتشار و افتراق پیدا ہوجائے گا تو عالمی اہداف اور مقاصد کا حصول آسان تر ہوگا۔ نئے اتحادوں اور دوستیوں کے تناظر میں ایک نیا خطہ تشکیل دیا جائے گا۔ اس کی مثال بھی ماضی کے ’سائیکس -پیکو‘ معاہدے میں موجود ہے۔ لیکن اب معاہدے کے فریق یقینا مختلف ہوں گے۔ اس منظرنامے میں عراق کے سُنّی علاقے کو اُردن کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا اور شیعہ علاقے کو کویت اور ایران کے ساتھ، جب کہ کرد علاقہ ترکی کے ساتھ، شامل ہوجائے گا۔ مگر اس تقسیم کو امریکا قبول نہیں کرے گا، لہٰذا اس کا راستہ روکنے کے لیے اقدامات کرنا اُس کی ضرورت ہے۔
داعش کی سرگرمیوں سے عراق و شام دونوں ممالک کے اندر ایسی دائمی کش مکش برپا کرنا بھی مقصود ہوسکتا ہے جو افغانستان اور صومالیہ جیسی صورت حال پیدا کیے رکھے کہ مسلح قوتیں مستقل تصادم میں مصروف رہیں۔
ایک امکان یہ ہوسکتا ہے کہ امریکا اگر اپنے مقاصد کو پورا ہوتا نہ دیکھے تو نہ چاہتے ہوئے بھی آخری چارئہ کار کے طور پر اپنی افواج کو عراق میں اُتار دے۔ یہ بھی اُسی وقت ہوسکتا ہے جب عراقی سیاسی و انتظامی صورت حال امریکی مہروں کے کنٹرول سے باہر نکل جائے اور ملک کا انتظامی اختیار متشدد اسلامی طاقتوں کے ہاتھ میں چلا جائے۔
گذشتہ ربع صدی کے دوران عراق میں جو کچھ پیش آیا ہے یہ اس ملک کی غیرمعمولی اسٹرے ٹیجک اہمیت کی بنا پر ہوا ہے۔ دشمنانِ اُمت نے اپنے استعماری اہداف کے حصول کے لیے کھربوں ڈالر یہاں صرف کیے ہیں۔ یہ ’سرمایہ کار‘ آسانی اور سہولت سے تو اپنے اہداف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ لہٰذا ممکن نہیں کہ اتنی بڑی عسکری تحریکیں ان قوتوں کی براہِ راست نگرانی اور مداخلت سے بچ جائیں۔ ادھر ایران نے اپنے مفادات کے لیے اور شام میں نفوذ حاصل کرنے کے لیے بے پناہ دولت اور وسائل خرچ کیے ہیں، حتیٰ کہ اس نے ان روابط اور تعلقات کی بھی قربانی دے دی ہے جو اس نے ربع صدی کے دوران اُمت کے ساتھ استوار کیے ہیں۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ شام کی اسٹرے ٹیجک اہمیت ایران کے لیے عراق کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
شام کے اندر مزاحمت کاروں کی قوت ایک لاکھ سے زائد ہے۔ وہ مسلسل د و سال سے اس حکومت کے خلاف سخت معرکے میں مصروف ہیں۔ ہرقسم کا اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ مقامی چھائونیاں بھی بنا رکھی ہیں مگر وہ عراق کے اندر جاری مزاحمت کی نسبت آدھی کامیابی بھی حاصل نہیں کرپائے ، جب کہ عراق میں مزاحمت کاروں کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔
گذشتہ ایام میں ارضِ عراق کے اندر جو کچھ واقع ہوا ہے یہ عراقی افواج کی پسپائی اور ہزیمت و شکست نہیں ہے بلکہ یہ سرنڈر ہے جو عراقی افواج کے اس سرنڈر سے کامل اور عجیب مشابہت رکھتا ہے جو اس نے امریکی حملے کے سامنے کیا تھا۔ افواج کے یونٹ اپنے کمانڈروں اور سالاروں سے الگ ہوگئے اور انھوں نے سویلین کے اندر چھپنے اور فوجی وردیاں اُتارنے کا مظاہرہ کیا۔ اب کئی سال بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ سرنڈر جنگ سے بہت پہلے طے ہوچکا تھا۔
حالیہ واقعات اور داعش کی پیش قدمیوں اور عراقی افواج کی پسپائی نے یقینا بہت سے شکوک و شبہات پیدا کردیے ہیں۔ صرف داعش ہی منظر پر موجود ہے۔ وہ تنہا اپنی عسکری و سیاسی کارروائیوں کی کامیاب منصوبہ بندی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بات بطور خاص توجہ طلب ہے کہ مشکل میدانِ جنگ میں قصبات و شہروں کے اُوپر اس کا قبضہ، حتیٰ کہ بغداد اور نجف و کربلا جیسے مقدس شیعہ مقامات پر کنٹرول حاصل کرلینا، داعش کی عسکری و افرادی قوت اور جنگی حکمت عملی کے تناظر میں ممکن نہیں ہے۔ یہ بات تنظیم کے پیچھے خفیہ ہاتھ اور اس کے نام اور خود تنظیم کو استعمال کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک تجزیہ نگار نے اس کا سبب بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بغداد ۲۰۱۳ء کے اوائل میں دیرالزور میں شامی تیل کے مسئلے پر اور شمالی کردوں کی آزادی کے قضیے پر امریکا سے مزید تعاون کرتا تو یہ ممکن تھا کہ امریکا مالکی سے منہ نہ پھیرتا اور اُسے زیادہ طویل وقت دے دیا جاتا۔
مارچ ۲۰۱۳ء میں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے مطالبہ کیا کہ عراق شام کو اسلحی امداد دینا بند کرے۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اُس دوران امریکی اسلحہ عراق کے اندر داعش کو دیا جاتا رہا۔ ۲۲؍اپریل ۲۰۱۳ء کو وزراے خارجہ کے یورپی اتحاد کے ۲۷ ارکان نے اس قرارداد سے اتفاق کیا کہ شام کے جن علاقوں پر مزاحمتی تحریک کا قبضہ ہے وہاں سے آنے والے تیل کی برآمد پر پابندیاں ختم کردی جائیں۔ مقصد تحریکِ مزاحمت کی حربی جدوجہد کو مالی امداد کی فراہمی آسان بنانا تھا۔
چند ماہ سے ذرائع ابلاغ عراقی حالات و واقعات کی ایسی تصویر دکھاتے رہے ہیں جو حقائق کو ایک دوسرے ہی رنگ میں پیش کرتی ہے۔ داعش کا مسئلہ ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرکے عراق کے اندر اہلِ سنت کی اصل اور حقیقی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سُنّی مزاحمت کے حقیقی کرداروں سے اُن کا کردار چھین کر داعش کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ حوادث و واقعات اُمت مسلمہ اور عراق کے دشمنوں کا کھیل ہے۔
یہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نقصان بہرحال اُمت مسلمہ ہی کا ہوگا۔ کوئی دینی حکومت کبھی ایسا امتیازی سلوک روا نہیں رکھ سکتی جس میں اپنے ہی دینی بھائیوں کے انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہو۔ عنانِ حکومت کسی سُنّی اکثریت کے ہاتھ میں ہو یا شیعہ اکثریت کے ہاتھ میں عدل و انصاف اورتحمل و برداشت اگر حکومت کا وتیرا نہیں، تو ایسی حکمرانی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ حکومت جمہوریت کا ثمر ہو یا نظامِ خلافت کا، اس کے ناگزیر تقاضوں کو اگر پورا نہ کیا جائے تو نہ جمہوریت میں خیر ہوگی اور نہ خلافت کسی کے لیے باعث ِ کشش رہے گی۔
’رسائل و مسائل‘ میں ’اقامت ِ دین کے لیے مسجد کو زکوٰۃ دینا‘ (جولائی ۲۰۱۴ء) عنوان کے تحت جواب مبہم ہے۔
میں ایک ایسی کمپنی سے وابستہ ہوا ہوں جو کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں کام کررہی ہے۔ یہ کمپنی مختلف اشیا فروخت کرتی ہے۔ مجھے ۳۵ہزارروپے کی خریداری کرنا ہے۔ اس خریداری پر میں ۳ سٹار (Three Star) بن جائوں گا۔ اس کے بعد مزید تین افراد کو خریدار بنائوں گا۔ وہ افراد جیسے جیسے مزید افراد کو ممبر بناتے جائیں گے میرا گریڈ بڑھتا جائے گا۔ یوں مجھے بھی منافع ملتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے ۳سٹار، ۴سٹار وغیرہ افراد کو بھی حصہ ملے گا۔ دیا گیا منافع فی صد کے حساب سے مقرر ہوتا ہے، جیسے سیونگ اکائونٹ پر فی صد منافع ملتا ہے۔ اس طرح کا منافع سود ہے یا نہیں؟ نیز یہ منافع حلال ہے یا حرام؟
مذکورہ بالا کمپنی کے علاوہ بھی کئی کمپنیاں اس طرح کا کاروبار کرتی ہیں اور اپنی اشیا (products) کو فروخت کرتی ہیں۔ بعض کمپنیوں کی فروخت کنندہ اشیا میں ایسی اشیا بھی شامل ہوتی ہیں کہ جن کی خریدار کو ضرورت نہیں ہوتی۔ کمپنی سے وابستہ ہونے والا شخص محض مستقبل کے منافع کے لالچ میں یہ خریداری کرتا چلا جاتا ہے، جو کہ سراسر فضول خرچی اور تعیش کے زمرے میں آتا ہے، جب کہ شریعت بلاضرورت اشیا کی خرید اور استعمال کو منع کرتی ہے۔ نیز بلاضرورت اشیا کی خریدو استعمال کو اسراف اور تبذیر قرار دیتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَّ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ج اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَo (الاعراف ۷:۳۱) ’’اور کھائو پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ اس طرح کے کاروبار میں پہلی قباحت تو اسراف اور تبذیر کا پایا جانا ہے۔
اس معاملے میں دوسری قباحت خود لالچ کو اختیار کرنا اور دوسروں کو لالچ میں مبتلا کرنا ہے، یعنی اس کے نتیجے میں آپ کو منافع ملے گا۔ تیسری قباحت یہ ہے کہ آپ کس چیز کا کاروبار کر رہے ہیں؟ آپ نے تو کوئی سرمایہ کاری نہیں کی، نہ شراکت اور نہ مضاربت، اور نہ یہ اُجرت (اجارہ اشخاص) ہی کا معاملہ ہے، تو منافع کس چیز کا؟ چوتھی قباحت اس معاملے میں یہ ہے کہ نئے ممبر بنانے میں جو محنت اور جدوجہد دوسرے اشخاص نے کی ہے اس میں آپ کا حق کہاں سے آگیا؟ پانچویں قباحت یہ کہ سیونگ اکائونٹ میں تو ایک شخص اپنی رقم بچت کی صورت میں رکھ کر اس پر سود حاصل کرتا ہے (جو کہ حرام ہے)، جب کہ یہاں تو رقم بھی جمع نہیں کروائی گئی اور آپ ایک مخصوص رقم (final profit) لینے لگ گئے۔ مذکورہ بالا وجوہات کی بناپر یہ معاملہ شرعی لحاظ سے درست نہیں ہے اور مسلمانوں کو اس سے اپنا دامن بچانا چاہیے، واللّٰہ اعلم بالصواب۔(ڈاکٹر میاں محمد اکرم)
___________________________________________________________________
تصحیح: ۱-مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور ۔ فون: ۳۷۲۳۷۵۰۰- ۳۷۳۱۰۵۳۰-۰۴۲
۲-ماہنامہ سوچنے کی باتیں، لاہور۔ مدیر: انوار احمد، درست فون: ۳۷۱۵۸۷۵۲-۰۴۲
مغربی لادینیت اور اس کے زیراثر چلنے والے عالمی نظامِ سرمایہ داری نے اپنی بعض خباثتوں کو غازہ استعمال کر کے دنیا کی بہت سی اقوام کے لیے بہت پُرکشش بنا دیا ہے۔ ان میں سے ایک ’نیوکلیر‘ تصورِ خاندان ہے جس میں کچھ عرصہ قبل تک شوہر اور بیوی اور ان کے حد سے حد دوبچوں کو خاندان کا نام دیا جاتا اور ان کے علاوہ دیگر افراد قانونی طور پر خاندان تصور نہیں کیے جاتے تھے۔ چنانچہ شوہر کے ماں باپ، بھائی بہن ہوں یا بیوی کے ماںباپ، ان کی حیثیت اضافی سمجھی جاتی تھی۔ اب اس میں مزید ’ترقی‘ یوں ہوئی ہے کہ خاندان کی تعریف میں شوہر اور بیوی کی شادی کے لیے ’partners‘کی اصطلاح متعارف کرائی گئی ہے، تاکہ جو کچھ تھوڑا بہت تقدس میاں بیوی کے درمیان باقی رہ گیا تھا، اسے دو دوستوں کا نام دے کر ہم جنس رشتوں کو بھی قانونی حیثیت دے دی جائے۔پاکستان میں بھی مغرب پر ’ایمان بالغیب‘ لانے والے بعض افراد اور نام نہاد غیرسرکاری تنظیمیں اس تگ و دو میں ہیں کہ یہاں بھی قانون میں یہ تبدیلی لائی جائے۔ اللہ تعالیٰ ملکِ عزیز کو اس شیطانی فتنے سے محفوظ رکھے۔
زیرتبصرہ کتاب پنجاب یونی ورسٹی کے شعبۂ علومِ اسلامیہ کے ڈاکٹریٹ کے ایک مقالے پر مبنی ہے جسے معمولی تبدیلیوں کے بعد خود شعبۂ علوم اسلامیہ نے شائع کیا ہے۔کتاب چھے ابواب پر مشتمل ہے جن میں کوشش کی گئی ہے کہ عائلی زندگی کے معاشرتی، علمی اور قانونی پہلوئوں کو بڑی حد تک زیربحث لے آیا جائے۔
گو عصری مسائل پر اچھا لوازمہ جمع کیا گیا ہے لیکن بالعموم روایتی فکر کی توثیق کا رویہ اختیار کیا گیا ہے، مثلاً گھریلو کام میں عورت کی ذمہ داری (۳۱۳-۳۲۱) میں مختلف اقوالِ فقہا درج کرنے کے بعد ایک چوتھائی اقلیت کی راے کو کہ بیوی نہ صرف شوہر بلکہ سسرال والوں کی خدمت بھی بطور تطوع کرے، اختیار کیا گیا ہے، جب کہ محققہ خود تین ائمہ، یعنی امام مالک، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کے اجماع کو بیان کرنے کے بعد امام ابن القیم کے موقف کو ترجیح دیتی ہیں۔ بلاشبہہ ہرمحقق کو اس کا پورا اختیار ہے لیکن ڈاکٹریٹ کی سطح پر ہم یہ اُمید رکھتے ہیں کہ ایک محقق یا محققہ تنقیدی نگاہ سے جائزہ لے کر اپنے حقِ اختلاف کا استعمال کرے۔
بعض معلومات اخباری اطلاعات پر مبنی ہیں۔ انھیں مصدقہ سمجھنا غورطلب ہے۔ شادی اور طلاق کے حوالے سے پاکستانی معاشرے کی موجودہ صورت حال کا جو نقشہ اخبارات سے جمع کردہ معلومات کے سہارے ہمیں ملتا ہے وہ تشویش ناک حد تک پریشان کن ہے (ص ۴۷-۸۴)۔ محققہ کے مطابق نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک عورت نے خلع کی درخواست میں یہ کہا کہ اس کے شوہر نے اس کی شاشلک کھانے کی فرمایش پوری نہیں کی، اس لیے اسے خلع دی جائے۔ کتاب کے اعداد و شمار کی رُو سے پنجاب میں لاہور کی عدالتوں میں ۲۰۰۸ء میں صرف چار ماہ کے دوران ، یعنی اپریل تک ۳ہزار ۵سو ۲۳ مقدمات دائر کیے گئے۔ گویا روزانہ ۸۰ یا ۸۵ مقدمات۔ یہ اس وقت جب عدالتوں میں کیس داخل کرانا ہمت کا کام ہے اور بے شمار مرد اور عورتیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے مقابلے میں ظلم برداشت کرلینا بہتر سمجھتے ہیں۔ گویا اصل تنازعات یقینی طور پر ان اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوں گے۔
مسئلے کا حل کیا ہو؟ مصنفہ نے کتاب کے آخری باب میں نتائج و سفارشات کے زیرعنوان ۱۴تجاویز دی ہیں جن میں زیادہ اہم کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:
پہلی اصلاح یہ ہونی چاہیے کہ نظامِ تعلیم میں خاندانی زندگی کی اہمیت اور اس کے اسلامی اصول قرآن وسنت کی روشنی میں داخل نصاب ہونے چاہییں۔ ایک عرصے سے مَیں خود اس تجویز کو پیش کرتا رہا ہوں لیکن ابھی تک اس پر کوئی عمل نظر نہیں آیا۔ سورئہ بقرہ ، النساء، آلِ عمران، النحل، بنی اسرائیل، لقمان اور دیگر مقامات سے قرآنی آیات کی عمومی تفہیم و تشریح کو داخل نصاب کیا جائے تاکہ لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے حقوق و فرائض کا علم ہو۔
برقی ابلاغِ عامہ نے خصوصاً طلاق اور حلالہ کو نہ صرف آسان حل بلکہ ایک مذاق بناکر رکھ دیا ہے۔ اہلِ علم اپنے فریضے کی ادایگی میں تکلف کا شکار ہیں۔ صحیح اسلامی فکر جو قرآن و حدیث کے الفاظ و معانی دونوں کو سامنے رکھ کر لوگوں کی تربیت کرسکے ناپید ہے۔ ابلاغِ عامہ کے تعمیری استعمال کے بغیر ہم ملک کے دُوردراز خطوں میں دین کا صحیح علم نہیں پہنچا سکتے۔ اس ذریعے کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت اور دستور ساز اداروں کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی اور مسلم فیملی لا آرڈی ننس اور تحفظ ِ نسواں بل کے غیرشرعی حصوں کو منسوخ اور اسلامی شریعت کو نافذ کرنے کے لیے قانون سازی کرنی چاہیے۔
میں سمجھتا ہوں کہ گھر، تعلیم گاہ، ابلاغِ عامہ اور حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ خود معاشرے میں اخلاقی اقدار کا احیا کیے بغیر مسئلے کا حل نہیں ہوسکتا۔ اگر عورت کو معاشی دوڑ میں شامل کیا گیا تو مغرب نے اس کی قیمت گھر کی تباہی کی شکل میں ادا کی۔ ان نتائج کو دیکھنے کے بعد جانتے بوجھتے خود کو تباہی کی طرف دھکیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔
خواتین کا ایسے موضوعات پر قلم اُٹھانا ایک نیک فال ہے۔ ان موضوعات پر مزید علمی کام اور علم کی اشاعت کی ضرورت ہے۔(ڈاکٹر انیس احمد)
الایام کی بانی (اور موجودہ) مدیر ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر نے مسلسل توجہ، محنت اور تگ ودو سے رسالے کو اس معیار پر پہنچا دیا کہ ہائرایجوکیشن کمیشن نے اسے کسی جامعہ کا مجلہ نہ ہونے کے باوجود، فقط اس کے معیار کے پیش نظر، اسے منظورشدہ مجلات کی فہرست میں شامل کرلیا۔ شمارہ نمبر۸ سے رسالے کی تقطیع بڑھا دی گئی ہے اور اب اس میں نسبتاً زیادہ لوازمہ شامل ہوتا ہے۔ گذشتہ برس الایام نے شمارہ نمبر۷،علی گڑھ کی ایک علم دوست اور فاضل شخصیت ڈاکٹر کبیراحمد جائسی کی یاد میں وقف کیا تھا جس میں جائسی کے بارے میں تقریباً ۴۰ مضامین اور مرحوم کی چند منتخب تحریریں شامل تھیں۔ قدردانی کی یہ ایک اچھی مثال ہے۔
زیرنظر شمارے کا بڑا حصہ ۱۰ مضامین پر مشتمل ’گوشۂ علامہ شبلی نعمانی‘ ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے شبلی شناسوں نے مولانا شبلی کی سیرت نگاری، ملّی شاعری، مکاتیب، عربی زبان وادب سے ان کے تعلق اور اپنی تحقیقات میں عربی زبان و ادب سے استفادے کی نوعیت پر دادِ تحقیق دی ہے (آیندہ شمارے میں ’گوشۂ حالی‘ کے لیے اہلِ قلم سے نگارشات بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے)۔ مقالات کے حصے میں پروفیسر سیّد نواب علی رضوی کے احوال و آثار کا ایک مفصل تعارف اور جائزہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر عارف نوشاہی کا سفرنامۂ فرانس علمی معلومات اور مشاہدے کا عمدہ امتزاج ہے۔ مباحث کے ضمن میں حافظ محمد شکیل اوج نے ’کیا عصرِحاضر میں خلافت ِ راشدہ کا قیام ممکن ہے؟‘ کے موضوع پر ایک مختصر بحث کے بعد لکھا ہے کہ یہ ممکن ہے، بشرطیکہ ہمارے حکمرانوں میں کوئی ایسا ہو جو عصرِحاضر کا عمر بن عبدالعزیز بن کر سامنے آئے۔ ڈاکٹر ظفر حسین ظفر نے مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے ۳۲ خطوط، تعارف اور تعلیقات و حواشی کے ساتھ مرتب کر کے پیش کیے ہیں۔ ’مطبوعاتِ جدیدہ‘ میں کتابوں پر مختصر تبصرے شامل ہیں۔ ’بیادِ رفتگاں‘ کے تحت ماضی قریب میں مرحوم ہونے والی علمی و ادبی شخصیات کے تعزیتی تعارف شامل ہیں۔ ’افکارِ قارئین‘ کے تحت ایک خط اور ’رپورٹ‘ کے تحت پاکستان میں بھارت کی علمی و ادبی شخصیات کی آمد کا مختصر احوال درج ہے۔ مجلے کے انگریزی حصے میں تین تحقیقی مضامین شامل ہیں۔
تحقیقی اعتبار سے اس مجلے کی ایک اہم چیز (اگر سب سے اہم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا) ۴۵۵ خاکوں پر مشتمل کتابوں کی ایک فہرست ہے جسے کراچی کے ایک کتاب دوست جناب راشداشرف نے ایک مفصل تمہید و تعارف کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ فہرست مصنف وار ہے۔ گذشتہ شمارے (نمبر۸) میں راشد اشرف نے ۷۸۱ اُردو خود نوشتوں (آپ بیتیوں) کی فہرست شائع کی تھی۔ اس شمارے ’قرآن اور ظفر علی خان‘ میں طاہرقریشی کا ۹۸صفحاتی مقالہ بھی شامل ہے۔
اُردو ادب کے طالب علموں، تحقیق کاروں اور عام قارئین کے لیے بھی یہ فہرستیں ایک قیمتی لوازمے اور معاونِ تحقیق کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارے علم کی حد تک اس طرح کی جامع فہرستیں ابھی تک شائع نہیں ہوئیں۔ امید ہے کہ ایسی ہی مزید فہرستیں الایام میں شائع ہوں گی۔(رفیع الدین ہاشمی)
ڈاکٹر نورباقی کی یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۹۸۵ء میں ترکی زبان میں شائع ہوئی تھی۔ اس کا انگریزی ترجمہ ترکی میں ہوا۔ پھر اس کا اُردو ترجمہ سیّد فیروزشاہ گیلانی نے کیا جو ۱۹۹۸ء میں شائع ہوا، اور اب اس کا جدید ایڈیشن ۲۰۱۴ء میں شائع کیا گیا ہے۔
قرآنِ حکیم سائنس کی کتاب نہیں، وہ انسانوں کے لیے کتابِ ہدایت ہے۔ کائنات اور اس کے اندر موجود تمام چیزوں کی تخلیق اللہ رب العزت نے ہی کی ہے اور قرآنِ حکیم بھی اس کا ہی کلام ہے، لہٰذا اپنی تخلیق شدہ چیزوں کے بارے میں بعض مادی حقائق بھی بیان کیے ہیں۔ یہی وہ باتیں ہیں جو علم سائنس کا میدان بھی ہیں۔ چنانچہ سائنس دانوں نے ان عنوانات پر جو تحقیقات کی ہیں بعض جگہ وہ قرآن کے بیان سے قریب تر ہیں۔ ان عنوانات ہی کو اس کتاب میں بڑی عمدگی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں تقریباً ۷۵۰مرتبہ سائنسی حقائق کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے۔
کتاب میں ۵۰ متنوع موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ہر عنوان کے حوالے سے آیاتِ قرآنی پیش کی گئی ہیں۔ ان کا ترجمہ اور تفسیر بھی اور ساتھ ہی سائنسی تحقیقات بھی، مثلاً: سورئہ اعلیٰ آیت ۵ سے تیل کی پیشین گوئی ، سورئہ یٰسین، آیت ۳۶ سے آکسیجن کی پیشین گوئی۔ اسی طرح بعض اسلامی مذہبی عقائداور تعلیمات کو بھی سائنسی انداز میں سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، مثلاً وضو، روزہ، دوزخ، جنت، صحرا کے اسرار، حضرت عیسٰی ؑ اور حضرت آدم ؑ کی تخلیق وغیرہ۔
کتاب کا تفصیلی اور جامع تعارف اور مقدمہ پروفیسر ڈاکٹر سیّد رضوان علی ندوی نے لکھا ہے اور مقدمے کے حق ادا کردیا ہے۔پاکستان میں سائنس کے محققین اور طلبہ کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔آیندہ اشاعت میں ترجمے کی کمزوریوں اور انگریزی اصطلاحات کے اُردو مترادفات پر نظرڈال لی جائے۔(شہزاد الحسن چشتی)
زیرنظر کتاب میں ’عرف‘ کی تفصیل احسن انداز میں بیان کی گئی ہے۔ ’عرف‘ کے مترادفات میں سے عادت اور معروف بھی ہیں۔ فقہا کے ہاں اصطلاحی طور پر عرف وہ ہے جو عقلی شہادتوں کی بنیاد پر دلوں میں راسخ ہو اور طبع سلیم اس کو قبولیت کا درجہ دے۔
کتاب میں عرف کی قانونی حیثیت، فتویٰ میں عرف کا لحاظ، عرف کی بنیادی تین اقسام اور عرف کا شرعی حکم زیربحث آئے ہیں۔ اسی طرح عرف کے بدلنے سے فتویٰ کی تبدیلی کے حوالے سے ’قدیم عرف کے خلاف فتویٰ‘ کے عنوان سے کئی مثالیں بھی ذکر کی گئی ہیں جس سے شرعی حکم میں عرف کے مؤثر ہونے کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے۔ آخر میں ’چند جدید عرفی مسائل‘ بھی ذکر کیے گئے ہیں۔ کتاب میں اختصار ہے، تاہم موضوع کا احاطہ کیا گیا ہے۔(حافظ ساجد انور)
حسنین نازش ایک نوجوان ادیب اور افسانہ نگار ہیں۔ انھیں ایک وفد کے ساتھ ترکی کے دورے کا موقع ملا تو انھوں نے پہلے زبانِ یار، یعنی ترکی زبان سیکھی، ترکی کی تاریخ، معاشرت اور اہم شخصیات کے افکار کا مطالعہ کیا۔ سفر کے دوران میں کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا، یہی وجہ ہے کہ سفرنامے میں مصنف نے جزئیات نگاری سے کام لیا ہے۔ انھوں نے ترکی زبان اور اُردو کے مشترکات تلاش کیے ہیں اور بتایا ہے کہ ان زبانوں کے کم و بیش پانچ ہزار الفاظ معمولی فرق کے ساتھ مشترک ہیں۔ کتاب کا عنوان ’قاردش‘ کا مطلب ترکی زبان میں ’دوست، بھائی‘ ہے۔
حسنین نازش سفرنامے کے لوازمات اور تکنیک سے واقف ہیں۔ وہ افسانہ نگار ہیں، اس لیے سفرنامے میں کہیں کہیں افسانوی رنگ زیادہ ہوگیا ہے۔ تاہم استنبول، قیصری، کوہِ ارجیس، بورسہ، قونیہ اور دیگر قابلِ دید مقامات کا ذکر انھوں نے دل چسپ انداز میں کیا ہے اور بعض عنوانات میں جدت ہے۔ ترکی میں جن مسلم مفکرین نے دین کو ازسرِنو زندہ و تابندہ کیا ہے، ان میں بدیع الزمان سعید نورسی کا نام سرفہرست ہے۔ وہ نصف صدی تک باطل قوتوں سے برسرِپیکار رہے۔ سیکولر قوتوں نے انھیں مظالم کا نشانہ بنایا مگر وہ ڈٹے رہے۔ ان کے علاوہ شیخ محمد فتح اللہ گولن کی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ مصنف نے گولن کے افکار اور طریقۂ کار کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ وہ گولن کے بہت قائل معلوم ہوتے ہیں۔ آج کے ترکی کو سمجھنے کے لیے یہ سفرنامہ مفید ہے۔
مصنف کے اسلوب میں ہلکے پھلکے مزاح نے سفرنامے کو دل چسپ اور پُرکشش بنا دیا ہے۔ البتہ کہیں کہیں محاوروں کا نادرست استعمال اور زبان و بیان کی خامیاںبُری طرح کھٹکتی ہیں۔ سرورق ، گٹ اَپ اور طباعت مناسب ہے۔(عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)
کالجوں کے رسالے عموماً ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہوتے ہیں۔ کچھ دائیں بائیں سے چیزیں لے کر طالب علم پیش کرتے ہیں یا پھر ابتدائی درجے کی چیزیں نئی نسل کی آواز سے متعارف کراتی ہیں۔ کالج کی سرگرمیوں کی تصویریں ، رپورٹیں اور حاضر ملازمت پرنسپل کی تعریف کے بہانے اور مواقع پیدا کیے جاتے ہیں۔ لیکن مجلہ ارقم کالجوں کے رسائل میں ایک مختلف رنگ لیے ہوئے ہے۔ علمی و ادبی اور اشاعتی مراکز سے دُور دراز واقع ایک پہاڑی علاقے کے کالج نے ایک انوکھا چراغ روشن کیا ہے۔ موضوعات کا تنوع، لکھنے والوں کی کہکشاں اور مضامین کے ذائقے اس طور بہ یک وقت چلتے نظر آتے ہیں کہ ڈیڑھ سو سال پرانے کالج بھی منہ دیکھتے رہ جائیں۔
ارقم۴ کئی حصوں پر مشتمل ہے، تقسیم دیکھیے: l تحقیق و تنقید (سات مضامین) lگوشۂ چراغ حسن حسرت (سات مضامین) lکشمیریات (تین مضامین) l گوشۂ عبدالعزیز ساحر (۱۳مضامین) l مشاہیر (تین مضامین) l فکرونظر (تین مضامین) وغیرہ۔ اس موٹی موٹی تقسیم سے حُسنِ ترتیب کا کچھ اندازہ ہوجاتا ہے لیکن تحریروں کے معیار اور تحقیق کے آہنگ سے پیدا ہونے والا احساس ، کلمۂ تحسین کہے بغیر نہیں رہتا۔ مضامین علمی اور معلوماتی اعتبار سے خوب تر کا نمونہ ہیں۔ اس تمام خوب صورتی و رعنائی کے ساتھ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مجلہ اپنے کالج کے طالب علموں کی تحریروں کے لیے بھی کوئی گنجایش رکھتا ہے یا پھر طالب علموں کو معروف اہلِ قلم کی تحریرو ں کا گلدستہ پیش کرنے ہی کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے؟ ہمارے خیال میں دونوں کا امتزاج مناسب حل ہے، یا پھر طلبہ و طالبات کا الگ میگزین شائع کیا جائے، جیسا اورینٹل کالج کے شعبۂ اُردو میں ہے: بازیافت تحقیقی مجلہ ہے اور سنخن طلبہ و طالبات کا میگزین۔ (سلیم منصور خالد)
تازہ ترین حادثہ جس نے پورے ملک میں ایک فوری جذباتی ہیجان پیدا کردیا ہے، بھارت کی حکومت کا یہ افسوس ناک اقدام ہے کہ اُس نے دریاے ستلج کے پانی کی بہت بڑی مقدار بھاکراننگل کے سلسلۂ انہار میں منتقل کرلی ہے۔
پاکستان کی نہریں دریاے ستلج سے معمولاً جس مقدار میں پانی لے رہی تھیں وہ ۲۸ ہزار کیوسک سے لے کر ایک لاکھ کیوسک تک گھٹتی بڑھتی رہتی تھی۔ یکم جولائی کو بھارت کے جارحانہ تصرف کی وجہ سے یہ مقدار ۲۲ہزار کیوسک تک آگری ، اور اب ۸جولائی کو یکایک گھٹ کر یہ ۹ہزار ۸سو کیوسک رہ گئی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا سات ہزار میل لمبا سلسلۂ انہار بے آب ہوکر رہ گیا ہے، جس پر منٹگمری، ملتان اور ریاست بہاول پور کی زمینوں کی زرخیزی کا انحصار تھا۔ تقریباً ۸۰لاکھ ایکڑ کا وہ علاقہ جو غلے اور کپاس کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان میں درجۂ اوّل پر تھا ایک بے آب و گیاہ صحرا میں بدلنے والا ہے، اور ہمارے ۵۰لاکھ بھائی ہیں جنھیں بے روزگاری اور بھوک کے سامنے لاکھڑا کر دیا گیا ہے۔ علاوہ بریں پاکستان کی غلے کی پیداوار ضرورت کے مقابلے میں جو کمی دکھا رہی تھی اس میں خوفناک اضافہ ہونا بالکل نمایاں ہے۔ واضح رہے کہ معاہدۂ تقسیم کے تحت واجبات اور اِملاک کا جو بٹوارا ہوا تھا، اس میں پاکستان پنجاب کی نہروں کا حساب مجرا [ادایگی] دے چکا ہے۔ گویا بھارت نے نہروں کی قیمت بھی وصول کرلی، اور اب پانی بھی اڑس لیا۔
بین الاقوامی قانون اور روایات کے لحاظ سے اس طرح کے اقدامات اعلانِ جنگ کے مترادف قرار پاتے ہیں۔ اس طرح کے تصرفات کو کوئی مضبوط ملک برداشت نہیں کرسکتا اور کسی سرزمین کے شہری ایسی دراز دستیوں کو چپ چاپ گوارا نہیں کرسکتے۔ تقسیم کے بعد بھارت کی طرف سے حیدرآباد، جوناگڑھ اور کشمیر کے معاملے میں پے درپے جو زیادتیاں ہوئی ہیں، ان سب کے بعد یہ بہت بڑی کاری ضرب ہے جو پاکستان کی اقتصادی زندگی پر لگائی گئی ہے۔ یہ صریحاً ایک محاربانہ اقدام ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کی حکومت بھاکرا اسکیم سے فائدہ اُٹھانے سے زیادہ پاکستان کو نقصان پہنچانا پیش نظر رکھتی ہے۔(’اشارات‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۴۲، عدد۵، ذیقعدہ ۱۳۷۳ھ،اگست ۱۹۵۴ء، ص۲-۳)