تین سال قبل لیبیا میں شروع ہونے والے انتفاضہ کے نتیجے میں قذافی حکومت کا خاتمہ ہوا اور دیگر عرب ممالک کی طرح یہاں بھی عبوری حکومت قائم ہوئی جس نے پُرامن انتقالِ اقتدار کا وعدہ پورا کیا، مگر بدقسمتی سے نئی حکومت کے قیام سے لے کر اب تک لیبیا میں انتشار و انارکی اور ہلاکت و تباہی کا دور دورہ ہے۔ اب تو صورت حال سنگین تر ہوگئی ہے۔ داخلی جنگ نے ملک کو تخریب سے دوچار کر رکھا ہے۔ کئی ناموں سے تنظیمیں موجود ہیں جو مسلح کارروائیوں میں شریک ہیں۔ قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ عبوری حکومت بھی اور منتخب حکومت بھی دونوں ملک کو اس صورت حال سے باہر نکالنے میں ناکام رہی ہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ حکومت اور حکمرانی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ مسلح کارکن اور جماعتیں سمجھتی ہیں کہ انقلاب برپا کرنے والے صرف ہم ہیں۔ قذافی حکومت کا خاتمہ ہمارا کارنامہ ہے۔ لہٰذا اُس کی جگہ حکمرانی کا حق ہم ہی رکھتے ہیں۔ بہت سی مسلح تنظیموں کے قائدین ہتھیار چھوڑنے کے قائل نہیں ہیں۔ اسلحہ اُٹھانا اور اسے استعمال میں لانااُن کی عادت اور مزاج بن گیا ہے جس نے ملک کو ہلاکت و تباہی میں ڈال رکھا ہے۔
انقلاب کے ایک سال بعد ۲۰۱۲ء کے انتخابات کے نتیجے میں علی زیدان محمد نے وزارتِ عظمیٰ سنبھالی۔ ستمبر ۲۰۱۲ء سے لے کر مارچ ۲۰۱۴ء تک علی زیدان اس منصب پر متمکن رہے مگر اس دوران وہ کوئی بھی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہ کرپائے۔ ان کے انتخاب کے موقعے پر ہی عالمی ذرائع ابلاغ کے تبصروں میں یہ بات موجود تھی کہ وہ ایک کمزور وزیراعظم ہوں گے۔ واقعتا ان کا دورِحکومت اس بات کا شاہد رہا۔ مارچ ۲۰۱۴ء میں تو ان کے اغوا کا حادثہ بھی سامنے آیا اور پھر وہ حکومت سے دستبردار ہوگئے۔ ان کے بعد عبداللہ الثنی نے وزارتِ عظمیٰ کا قلم دان سنبھالا۔ یہی انتخابات کا بھی زمانہ تھا۔ نئی حکومت کی تشکیل کے لیے انتخابات ہوئے مگر ان کو انتخابات کہنا بھی مذاق ہے۔ پانچ چھے فی صد کی شرح جن انتخابات میں رہی ہو اُس کے نتیجے میں کیسی حکومت تشکیل پائے گی اور اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔ خود اس حکومت کی طاقت اور اختیار کا عالم کیا ہوگا، اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ بہرحال ان انتخابات میں عوام کی لاتعلقی اور عدم دل چسپی کااظہار بہت واضح رہا ، حتیٰ کہ نومنتخب ارکانِ اسمبلی کو بھی اسمبلی کے اجلاس اور تشکیل حکومت کے عمل سے خاص دل چسپی دکھائی نہیں دی۔ ۲۰۰کے ایوان میں ۹۳،۹۴ ممبران اسمبلی تشکیل حکومت کے لیے منعقدہ اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزارتِ عظمیٰ کے اُمیدوار احمد معیتیق کو حاضر افراد میں سے ۸۳ کا ووٹ ملا۔ احمد معیتیق ارکانِ اسمبلی میں سب سے کم عمر ممبر تھے۔ ان کی کابینہ کی تشکیل کے چند ہی گھنٹے بعد ان کے گھر کا بھی محاصرہ کرلیا گیا اور فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص مارا گیا اور کچھ زخمی ہوئے۔ معیتیق محفوظ رہے۔ ادھر عبوری وزیراعظم عبداللہ الثنی نے چارج دینے سے انکار کر دیا اور دونوں افراد کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی شروع ہوگئی۔ معیتیق نوعمر اور نوتجربہ کار ہونے کے باعث انتہائی کمزور وزیراعظم تھے۔ غالباً فوج نے بھی عبداللہ الثنی کی حمایت کی جس کی بناپر وہ وزارتِ عظمیٰ چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بالآخر عدالت ِ عظمیٰ کو مداخلت کرنا پڑی اور عدالت نے عبداللہ الثنی کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مصالحتی کونسل کی تشکیل کا اعلان کیا جس کا مقصد حالات کو درست کرنا تھا۔ ستمبر میں عبداللہ الثنی کو بھی کابینہ کی تشکیل کا ہدف دیا گیا تو اس کے لیے پارلیمان کا اجلاس ہوا مگر وزارتوں پر ارکانِ اسمبلی کے اختلافات کے باعث اجلاس برخاست کردیا گیا۔ ارکانِ اسمبلی کا مطالبہ تھا کہ بحرانی حالات کے پیش نظر کابینہ کو مختصر سے مختصر رکھا جائے مگر وزیراعظم کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔
۲۲ستمبر کی شام کو طبرق شہر میں ہونے والے اجلاس میں عبداللہ الثنی کی حکومت کو اعتماد کا ووٹ مل گیا ۔ نوتشکیل شدہ حکومت کو اجلاس میں حاضر ۱۱۲؍ارکانِ اسمبلی میں سے ۱۱۰ نے ووٹ دیا۔ وزارتِ دفاع سمیت ۱۰ وزرا پر مشتمل کابینہ وجود میں آئی۔ وزارتِ دفاع کا قلم دان وزیراعظم الثنی نے اپنے پاس رکھا ہے اور تین ارکان بھی وزیراعظم کے مشیران کی حیثیت سے اُن کے ساتھ ہوں گے۔ وزیرخارجہ محمد الدایری ہیں اور وزارتِ داخلہ عمر السکنی کے حوالے کی گئی ہے۔
دوسری طرف المؤتمر الوطن (عبوری کونسل) نے بھی عمرالحاسی کی صدارت میں ’نگران حکومت‘ تشکیل دے رکھی ہے۔ الثنی اور الحاشی کے درمیان اس وقت نزاع موجود ہے۔ عبوری کونسل کے اجلاس طرابلس میں اور منتخب اسمبلی کے طبرق میں ہو رہے ہیں۔ الثنی کے طرف داروں کا کہنا ہے کہ عبوری کونسل اپنی میعاد پوری کرچکی ہے، جب کہ عبوری کونسل کا بیان ہے کہ نومنتخب ارکان کی اسمبلی نے جون میں اجلاس منعقد کر کے دستوری اعلان کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس بناپر انتقالِ اقتدار کا عمل اس اعلان کے مطابق انجام نہیں پاسکتا۔ عدالت نے اس دستوری نزاع پر اکتوبر کے شروع میں فیصلہ دینے کا کہا ہے۔
قذافی حکومت کے خاتمے (۲۰۱۱ء) سے لے کر اب تک لیبیا سیاسی اعتبار سے دو گروپوں میں تقسیم ہے، اور نیا ایوان بھی اسی چیز کی نمایندگی کرتا ہے جو جون کے انتخابات کے بعد بنا۔ الثنی کی حکومت لبرل گروپ کی نمایندہ ہے، جب کہ دوسرا گروپ اسلام پسندوں پر مشتمل ہے۔ انقلاب کے بعد سے اب تک عبوری اور منتخب حکومت میں سے کسی کے لیے بھی ممکن نہیں ہوسکا کہ وہ عملاً حکومت کرسکیں۔ زیدان حکومت کی بے بسی کے بعد اب عبداللہ الثنی کی بے چارگی کا عالم یہ ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوسکا۔ اُنھیں یہ اجلاس طبرق شہر میں بلانا پڑا۔ نومنتخب حکومت پر لبرل افراد کا غلبہ ہے اور دارالحکومت اسلام پسندوں کے قبضے میں ہے۔ایوانِ حکومت طرابلس پر صدرمملکت عمرالحاسی اور اس کے حامیوں کا تسلط ہے۔
۲۰۱۱ء میں قذافی حکومت کے خاتمے پر قائم ہونے والی عبوری حکومت اور پھر منتخب حکومتوں میں سے ہر حکومت اس قدر کمزور رہی کہ نہ ایوانِ حکومت مسلح تنظیموں کے حملوں سے محفوظ رہا نہ وزیراعظم کو تحفظ حاصل رہا۔ دومنتخب وزیراعظم علی زیدان اور احمد معیتیق کے ساتھ پیش آنے والے واقعات ، ان حکومتوں کی طاقت اور اختیار کی نشان دہی کرتے ہیں۔ اسلحہ ملک کے اندر جس قدر عام ہوچکا ہے اور مسلح تنظیمیں جس بڑی تعداد میں تشکیل پاچکی ہیں، اُن کی موجودگی میں ایسی کمزور حکومتوں اور نام نہاد انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ملک کے اہم اور مرکزی ہوائی اڈے ان مسلح تنظیموں کے قبضے میں ہیں۔ دارالحکومت طرابلس پر ان کا تسلط ہے۔ اس وقت تین بڑے گروہ باہمی اور داخلی جنگ میں مصروف ہیں اور چوتھا مناسب وقت کے انتظار میں ہے۔ ان میں اسلام پسندوں کا گروہ ۲۰ سے زائد مسلح دستوں اور ملیشیائوں پر مشتمل ہے۔ ملکی اور غیرملکی تنظیمات کے قائدین ان گروپوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ القاعدہ اور اخوان پر ان کی قیادت کا الزام ہے۔ دارالحکومت کے مشرق میں واقع مصراتہ شہر ان کی قوت کا مرکز ہے۔ دارالحکومت پر بھی ان کا گہرا رسوخ قائم ہے۔ یہ اسلامی گروپ سابق بَری فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کی افواج سے بھی جنگ آزما ہیں۔ اسلام پسندوں کا یہ اتحاد طرابلس میں ’دروع‘ کے نام سے اور بن غازی و درنہ شہروں میں ’انصارالشریعہ‘ کے ناموں سے مسلح سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
دوسرا اتحاد لبرل طاقتوں کا ہے۔ اس گروپ کا حکومت سے بھی رابطہ ہے اور یہ قعقاع اور الصواعق دستوں کے ناموں سے دارالحکومت طرابلس کے جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں مصروف ہے۔ النصر دستہ بھی اسی اتحاد کا حصہ ہے۔
تیسرا مجموعہ ’الجیش الوطنی‘ ہے جس کی قیادت جنرل حفترکر رہا ہے۔ اس کا مرکز بن غازی کا جنوب مشرق ہے۔ یہ فضائیہ سے بھی کام لیتا ہے اور زمینی حملوں سے بھی ’متشدد اسلام پسندوں‘ کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہے۔ اس گروپ کا ظہور اسی سال عین اس وقت ہوا جب مصری افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے مصر کی منتخب حکومت کو ختم کرنے کے ٹھیک ایک سال بعد نام نہاد صدارتی انتخابات کا ڈراما رچایا۔لیبیا کے سیاسی منظرنامے پر اچانک لیبیا کا سابق فوجی سربراہ خلیفہ حفتر نمودار ہوا اور اس نے اعلان کیا کہ ہم لیبیا کو متشدد اسلام پسند قوتوں اور اخوان المسلمون سے پاک کردیں گے۔حفترنے ملکی افواج کے ہزاروں سپاہیوں اور افسروں کو یک جا کیا اور رضاکاروں کو بھی ساتھ ملا لیا لیکن وہ اپنے مزعومہ مقاصد میں ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا اور کامیاب ہونا ممکن بھی نہیں ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ سارا ڈراما مصری جنرل سیسی کو سہارا دینے کے لیے رچایا گیا تھا۔
چوتھا گروپ قبائلی طاقتوں کا ہے۔ یہ ورفلہ اور مقارحہ وغیرہ قبائل پر مشتمل ہے۔ یہ نہ اسلامی طاقتوں کے ہم نوا ہے اور نہ حکومت کے حمایتی۔ یہ آغاز ہی سے غیر جانب دار چلے آرہے ہیں۔ البتہ وہ اپنے خلاف ہونے والی مسلح کارروائیوں سے بہت نقصان اُٹھا چکے ہیں۔ دراصل یہ قبائل قذافی حکومت نواز تھے۔
اس وقت مسلح جدوجہد اور کارروائیوں میں مصروف اثرانگیز طاقتیں دروع، الصواعق و القعقاع، انصارالشریعۃ، دستہ ۱۷فروری، دستہ راف اللہ سحاتی، الجیش الوطنی اور قبائلی ملیشیا ہیں۔ الجزیرہ اور العرب کے تجزیہ نگار یاسرالزعاترہ کے مطابق لیبیا ایسا ملک ہے جہاں ہتھیار ڈالنے کی روایت کم ہے بلکہ ایسی جماعتیں موجود ہیں جو آسانی سے اپنے سر کسی جلاد کو پیش نہیں کرسکتیں۔ وہ آخری سانس تک لڑیں گے۔ رہی بات انتشار اور تشدد کی تو اس کا سب اقرار کرتے ہیں۔ لیکن مسلح کارروائیوں کے بعد متوقع کیفیت یہی ہونا تھی کہ تیل کی دولت سے مالا مال ملک کے بڑے قبائل اور خاندان خلیفہ حفتر کے ہم نوا بن جائیں اور وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کریں جو وہ بیلٹ بکس کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتے۔ مختصر یہ کہ کسی بھی طاقت کو منظر سے ہٹاکر جمہوریت کا عمل جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ ملکی قوتوں کے مقابلے میں امریکا سے آنے والے خلیفہ حفتر کے پیش نظر کوئی بڑی سیاسی قوت تشکیل دینا نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ بیرونی منصوبے ہیں جن کی تشکیل اور تکمیل کا فریضہ حفتر جیسے لوگ انجام دیتے ہیں۔ بیرونی قوتوں نے عرب بہار کو سبوتاژ کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر صرف اس لیے خرچ کیے ہیں کہ یہ انقلاب کی چنگاری ان تک نہ پہنچ جائے۔
خلیفہ حفتر نے اعلان کیا تھا کہ لیبیا کو اسلام پسندوں خصوصاً اخوان المسلمون سے پاک کردیںگے۔ اس پر اخوان المسلمون لیبیا کے مراقب عام بشیرالکبتی نے کہا کہ ہم لیبیا قوم کا حصہ ہیں اور حفتر ایسی جماعت کے بارے میں بات کر رہے ہیں خود جس کے اپنے اُوپر تشدد اور دہشت گردی روا رکھی گئی۔ اخوان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسی کارروائیوں میں ملوث ہو۔ لیبیا کے بحران کا حل ہمارے نزدیک تمام قوتوں کا مذاکرات اور مکالمے کی میز پر بیٹھنے میں مضمر ہے۔ جس قدر جلدی ہوسکے مذاکرات کا عمل شروع ہو۔ عبداللہ الثنی کی حکومت نے بھی اپنے ایک بیان میں یہی مطالبہ کیا کہ تمام قوتیں گفتگو کی میز پر آجائیں اور سیاسی مسائل کو اسلحے کی زبان سے حل کرنا چھوڑدیں۔ قانون اور عدالت کی طرف رجوع کریں۔
اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور ۱۳ممالک نے ۲۲ستمبر کو ایک اجلاس میں مطالبہ کیا کہ لیبیا کے اندر قتل و خونریزی کا سلسلہ بند کیا جائے اور کسی بھی غیرملکی مداخلت کی کوشش نہ کی جائے۔ اجلاس میں شریک ۱۳ممالک میں الجزائر، مصر، قطر، سعودی عرب،تیونس، امارات، ترکی، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہسپانیہ، برطانیہ اور امریکا ہیں۔اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے اعلامیے میں تمام جماعتوں اور طاقتوں کو تعمیری فکر کے ساتھ پُرامن سیاسی مذاکرات میں شرکت کے لیے کہا گیا۔ کسی بھی ایسے عمل سے باز رہنے کی تاکید کی گئی جس سے خطرے کی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہو۔ عالمی اور علاقائی سطح پر مسئلے کے حل کے لیے کاوشوں کو سراہا گیا۔ الجزائر ملک کے اندر جاری نزاع کے دونوں فریقوں کو گفتگو کی ضرورت پر زور دے گا اور اقوام متحدہ کا مشن ابتدائی بات چیت کو ستمبر کے آخر تک ممکن بنانے کی کوشش کرے گا۔
لیبیا کی اندرونی صورتِ حال کو معمول پر لانے کی غرض سے لیبیا میں موجود اقوامِ متحدہ کے مشن نے اپنی ویب سائٹ پر ۲۹ستمبر کو ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا: ان مذاکرات کی بنیاد ان اُمور پر ہوگی کہ منتخب اداروں کی قانونی حیثیت کو مانا جائے، دستوری اعلان کا احترام کیا جائے، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کا لحاظ رکھا جائے اور دہشت گردی کو پوری قوت سے رد کیا جائے۔ نومنتخب اسمبلی حکومت سے متعلقہ اُمور پر اتفاق راے پیدا کرے، اہم اُمور پر کوئی فیصلہ کرنے کے لیے اسمبلی ارکان کی دوتہائی اکثریت کی راے لی جائے۔ عبوری کونسل اور منتخب اسمبلی کے درمیان انتقالِ اقتدار کے عمل کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے تاریخ، مقام اور اقتدار کے انتقال کا طریق کار طے کیا جائے۔
اقوام متحدہ نے اہلِ لیبیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی اگست میں پاس کی گئی قرارداد پر عمل کو یقینی بنائیں اور فوری اور مستقل جنگ بندی پر عمل کریں۔ اس بیان میں مسلح جماعتوں کے بڑے شہروں اور ہوائی اڈوں اور عام کارخانوں وغیرہ سے انخلا کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔ خدمت ِ انسانیت کی کاوشوں کا آغاز ممکن بنایا جائے گا۔کاش! اقوامِ متحدہ کے اس خیرخواہانہ بیان پر عمل ہوجائے اور لیبیا کے طول و عرض میں پھیلی مایوسی بدامنی اور خوف و ہراس کے سایے چھٹ جائیں۔
الشرق الاوسط کے مطابق لیبیا میں شروع ہونے والے انتفاضے کو پونے تین سال ہونے کو ہیں۔ اس انتفاضے کو نتیجہ خیز بنانے میں ’ناٹو‘ کا کردار کلیدی رہا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو مظاہرین کے لیے قذافی حکومت کا خاتمہ ممکن نہ ہوسکتا۔ لیکن ناٹو نے اس وقت اس عمل میں حصہ کیوں لیا؟ اس لیے کہ یہ آگ پورے خطے میں نہ پھیل جائے، مگر اب ناٹو خاموش تماشائی ہے۔ پہلے کی طرح اب بھی ضروری ہے کہ ناٹو ملک کے اندر امن و امان اور مستحکم حکومت کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔
میں نے ایسے ماحول میں پرورش پائی ہے جہاں اُٹھنے بیٹھنے کے آداب سے لے کر زندگی کے بڑے مسائل تک ہربات میں شریعت کی پابندی ہوتی رہی ہے اور میں اب کالج میں تعلیم پارہا ہوں۔ ماحول کی اس اچانک تبدیلی سے میں عجیب کش مکش میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ بعض غیراسلامی حرکات مجھ سے سرزد ہوگئی ہیں۔ جب کبھی ایسی کوئی حرکت ہوئی، ضمیر نے ملامت کی اور اللہ سے عفو کا طالب ہوا، مگر پھر بُرے اثرات ڈالنے والوں کے اصرار اور شیطانی غلبے سے اسی حرکت کا مرتکب ہوگیا۔ اس طرح بار بار توبہ کرکے اسے توڑچکا ہوں۔ اب اگرچہ اپنی حد تک میں نے اپنی اصلاح کرلی ہے اور بظاہر توقع نہیں کہ میں پھر اس گناہ میں مبتلا ہوں گا، لیکن یہ خیال بار بار ستاتا ہے کہ کیا میرے وہ گناہ معاف ہوجائیں گے جو میں نے توبہ توڑ توڑ کر کیے ہیں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ توبہ توڑنے کا کفارہ کیا ہے؟ اور یہ کہ توبہ شکنی کا علاج کیا ہے؟
گناہ کا علاج توبہ و اصلاح ہے۔ توبہ کر کے آدمی خواہ کتنی ہی بار توڑ دے، اسے پھر توبہ کرنی چاہیے اور نئے سرے سے اصلاح کی کوشش شروع کردینی چاہیے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی کسی پہاڑی راستے پر چلتے ہوئے بار بار پھسل جائے۔ ظاہر ہے کہ اس کے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے کی صورت یہی ہے کہ وہ خواہ کتنی ہی بار پھسلے، ہر بار اسے گر کر پھر اُٹھنے اور چڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔جو شخص پھسل کر نہ اُٹھے اور ہمت ہار کر وہیں پڑارہ جائے جہاں وہ گرگیا ہے وہ کبھی منزلِ مقصود پر نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح اخلاقی بلندی پر چڑھنے والا بھی اگر ہرلغزش پر سنبھل جائے اور راہِ راست پر ثابت قدم رہنے کی کوشش جاری رکھے، تو اللہ تعالیٰ اس کی لغزشوں پر گرفت نہ فرمائے گا اور اس کو فائز المرام ہونے سے محروم نہ رکھے گا۔ البتہ گناہ کر کے جو لوگ گناہ گاری کے مقام پر پڑے ہی رہ جائیں وہ ضرور بُرا انجام دیکھیں گے۔
آپ کے قلب میں اپنی لغزشوں پر ندامت و شرمساری کا احساس تو ضرور رہنا چاہیے، اور عمربھر اپنے رب سے معافی بھی ضرور مانگتے رہنا چاہیے، لیکن یہ شرمساری کبھی آپ کو اپنے رب کی رحمت سے مایوس نہ کرنے پائے۔ کیونکہ اس طرح کی مایوسی اللہ تعالیٰ سے بدگمانی ہے، اور اس میں یہ بھی خطرہ ہے کہ جب آدمی کو سزا سے بچنے کی اُمیدنہ رہے گی تو شیطان اسے دھوکا دے کر بآسانی گناہوں کے چکر میں پھانس دے گا۔
توبہ کو مضبوط بنانے اور توبہ شکنی سے بچنے کے لیے ایک کارگر نسخہ یہ ہے کہ آدمی نفل نماز، نفل روزے اور صدقات نافلہ سے مدد لے۔ یہ چیزیں گناہوں کا کفارہ بھی بنتی ہیں، اللہ کی رحمت کو انسان کی طرف متوجہ بھی کرتی ہیں، اور انسان کے نفس کو اتنا طاقت ور بھی بنادیتی ہیں کہ وہ بُرے میلانات کا زیادہ اچھی طرح مقابلہ کرسکتا ہے۔
اگر توبہ کے ساتھ آدمی نے قسم بھی کھائی ہو اور پھر اسے توڑ دیا ہو تو اس کا کفارہ واجب ہے، یعنی ۱۰ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا کپڑے پہنانا، اور اس کی استطاعت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنا۔ (ایضاً، ص ۳۰۲-۳۰۴)
اگر کوئی شخص اپنے سرکاری یا نجی ادارۂ معاش میں وقت کی پابندی نہ کرتا ہو، مقررہ وقت شروع ہوجانے کے بعد تاخیر سے آتا ہو اور وقت ختم ہونے سے قبل ہی چلاجاتا ہو۔ کئی کئی روز حاضر ہی نہ ہوتا ہو اور پھر جب آتا ہو تو گذشتہ دنوں کی بھی حاضری لگا دیتا ہو۔ دفتری اوقات ذاتی کاموں پر صرف کرتا ہو۔ بسااوقات شہر سے باہر بغیر رخصت لیے جاتا ہو اور بعد میں ان ایام کی حاضری بھی لگادیتا ہو اور ان اوقات یا ایام میں کام نہ کرکے بھی مشاہرہ لیتا ہو تو کیا وہ خیانت کا مرتکب نہیں ہوتا؟
ایک آدمی سرکاری یا نجی ادارے میں ملازم ہو تو جو وقت کام کے لیے مقرر ہے وہ پورا وقت اس کام کے لیے دینا ضروری ہے اور مشاہرے کے لیے جو ضابطہ ہے اس کے مطابق مشاہرہ وصول کرنا ضروری ہے۔ اگر وقت کی کمی سے ضابطے کے مطابق مشاہرہ کٹتا ہو تو مشاہرہ کٹوا کر باقی رقم بطور مشاہرہ لی جائے۔ اسی طرح جس دن غیرحاضری ہو اس دن کی حاضری لگانا بھی خیانت اور جھوٹ ہے، اور جھوٹ کے بارے میں ہر ایک کو معلوم ہے کہ گناہِ کبیرہ ہے۔ اسی طرح ملازمت کے اوقات میں نجی کام کرنا بھی جائز نہیں ہے بلکہ خیانت اور جھوٹ ہے ۔ غرضیکہ آدمی صرف وہ کام کرسکتا ہے جس کا ادارے کو پتا چلے تو ادارے کے نزدیک وہ کام جائز اور معیوب اور قابلِ اعتراض نہ ہو۔
مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر معارف القرآن میں فرماتے ہیں: ’’ایمان والوں کا ’پانچواں وصف‘ امانت کا حق ادا کرنا۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِھِمْ وَعَھْدِھِمْ رٰعُوْنَo (المعارج ۷۰:۳۲)۔ لفظ امانت کے لغوی معنی ہر اس چیز کو شامل ہیں جس کی ذمہ داری کسی شخص نے اُٹھائی ہو اور اس پر اعتماد و بھروسا کیا گیا ہو۔ اس کی قسمیں چونکہ بے شمار ہیں اسی لیے باوجود مصدر ہونے کے اس کو بصیغہ جمع لایا گیا ہے تاکہ امانت کی سب قسموں کو شامل ہوجائے خواہ وہ حقوق اللہ سے متعلق ہوں یا حقوق العباد سے۔ حقوق اللہ سے متعلق امانات تمام شرعی فرائض و واجبات کا ادا کرنا اور تمام محرمات و مکروہات سے پرہیز کرنا ہے، اور حقوق العباد سے متعلق امانات میں مالی امانت کا داخل ہونا تو معروف ہے کہ کسی شخص کے پاس اپنا کوئی مال امانت کے طور پر رکھ دیا ہو، یہ اس کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت اس کے واپس کرنے تک اس کی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ کسی نے کوئی راز کی بات کسی سے کہی وہ بھی اس کی امانت ہے۔ بغیر اذنِ شرعی کے کسی کا راز ظاہر کرنا امانت میں خیانت ہے۔
مزدور ملازم کو جو کام سپرد کیا گیا اس کے لیے جتنا وقت خرچ کرنا باہم طے ہوگیا اس کو اسی کام میں لگانا امانت ہے۔ کام کی چوری یا وقت کی چوری خیانت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امانت کی حفاظت اور اس کا حق ادا کرنا بڑا جامع لفظ ہے۔ سب مذکورہ تفصیلات اس میں داخل ہیں‘‘ (سورئہ مومنون، آیت ۸)۔
کوئی شخص وہ کچھ کرتا ہو جو آپ نے لکھا ہے، وہ امانت کی شرائط پر پورا نہیں اُترتا۔ البتہ اگر ادارہ جس میں یہ صاحب کام کرتے ہوں اس کی اپنی مِلک ہو تو پھر اسے اختیار ہے کہ ادارے سے مشاہرہ لے یا نہ لے ، تھوڑا لے یا زیادہ لے۔ ادارے کے نگران یا مالک نے جو اپنے لیے طے کیا ہو اس پر عمل درآمد کرسکتا ہے۔ اگر ادارہ سرکاری ہے یا نجی یا کسی دوسرے کا، تو پھر ضروری ہوگا کہ ضابطے کے مطابق عمل شروع کرے، اور سابقہ طرزِعمل سے توبہ کرے اور ادارے سے جو ناجائز مفاد اُٹھایا ہو اسے ادارے کو واپس کرے۔ (مولانا عبدالمالک)
ایک شخص ہر سال حج کرنے کا عادی ہے اور اس سے اس کا مقصد چیزیں خریدنا اور انھیں منافع پر بیچنا ہوتا ہے۔ کیا اس کا حج مقبول ہے؟
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو حج کی اجازت دیتے ہوئے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ: وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ o لِّیَشْھَدُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ (الحج ۲۲:۲۷-۲۸) ’’اور لوگوں کو حج کے لیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمھارے پاس ہر دُوردراز مقام سے پیدل اُونٹوں پر سوار آجائیں تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں ان کے لیے رکھے گئے ہیں‘‘۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکُمْ ط (البقرہ ۲:۱۹۸) ’’اور اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جائو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں‘‘۔
حج کرنے والا مختلف قسم کے دینی و دنیاوی منافع کا مشاہدہ کرتا ہے اور حج کے موسم میں تجارت اور حلال کمائی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔اس آیت کے سبب نزول کے متعلق امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے حضرت ابن عباسؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ’’لوگ حج کے پہلے دنوں میں عرفہ اور میدانِ عرفہ کے قریب ذی المجاز کے مقام پر خریدوفروخت کرتے تھے درآں حالیکہ وہ احرام میں ہوتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لہٰذا حج کے موسم میں حلال کمانے میں کوئی مضائقہ نہیں، یعنی اس سے نہ حج فاسد ہوتا اور نہ اس کا ثواب ہی ضائع ہوتا ہے۔
لہٰذا جو لوگ حج کرنے کے ساتھ ساتھ تجارتی لین دین بھی کرتے ہیں ان کے حج درست ہیں اورفاسد نہیں ہوتے۔ ان پر دوبارہ حج کرنا لازم نہیں آتا ہے، ان کا فریضہ بھی ادا ہوجاتا ہے۔ جہاں تک ثواب کا تعلق ہے تو بظاہر تو یہی ہے کہ اللہ انھیں اس سے محروم نہیں کرے گا لیکن اس کے باوجود اس حدیث کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ: ’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہرشخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی‘‘۔ چنانچہ اگرسفر حج کے لیے تھا اور وہاں پہنچ کر تجارت بھی کرلی تو حج کا ثواب زیادہ ہوگا، اور اگر سفر تجارت کے لیے تھا اور وہاں پہنچ کر حج بھی کرلیا تو حج کا ثواب کم ہوگا۔ جب ایک نیک کام میں نیتیں زیادہ ہوجائیں تو ممکن ہے کہ ثواب اس نیت سے وابستہ ہو جو سب سے زیادہ قوی ہو۔ باقی ہر چیز سے پہلے اور بعد سارے اختیارات اللہ کے پاس ہیں۔ وہ پاک ہے، سینوں کے راز تک جاننے والا ہے۔(شیخ سعد الدسوقی، ترجمہ: حاجی محمد)
شرارِ بولہبی ازل سے چراغِ مصطفوی سے ستیزہ کار رہا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ مستشرقین نے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوئوں پر طرح طرح کے اعتراضات کیے۔ محبانِ رسولؐ نے ہر دور میں ایسے دریدہ دہنوں کو دندان شکن جواب دیا۔اللہ غریق رحمت کرے سرسیّداحمد خاں، سیّد امیرعلی اور مولانا مودودی و دیگر رحمہم اللہ کو، جنھوں نے منطقی انداز سے اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا اور اسلام اور رسولؐ مخالفوں کے اعتراضات کے جوابات دیے۔
زیرنظر کتاب میں فلسفہ و منطق اور علم الکلام کے ذریعے پروفیسر محمد اکرام طاہر نے حیاتِ رسولؐ پر مستشرقین کے اعتراضات کا تجزیہ کر کے ان کے جوابات دیے ہیں، مثلاً: اس اعتراض کا کہ اسلام میں عورت کو مرد کی نسبت آدھا حصہ کیوں ملتا ہے؟ جواب دیتے ہوئے مصنف نے کہا کہ وہ آدھا باپ کے گھر سے لے جاتی ہے۔ پھر خاوند کی جایداد میں بھی اس کا آٹھواں حصہ ہے۔ چنانچہ بعض صورتوں میں وہ مرد سے زیادہ حصہ وصول کرتی ہے۔
مستشرقین اسلام کے نظامِ زکوٰۃ و عشر، جزیہ، خمس، فَے، قرضِ حسنہ اور سود کی ممانعت پر اعتراضات کرتے ہیں۔ ان کے جوابات دیتے ہوئے عربوں کی معاشی حالت، قبل از اسلام اور بعد از اسلام کا تجزیہ و موازنہ کر کے بتایا گیا ہے کہ اسلام کا معاشی نظام دنیا کا بہترین نظام ہے۔
مصنف نے رسولؐ اللہ کی قانونی، ریاستی اور سیاسی اصلاحات او ر انصاف کی بلاتفریق فراہمی اور تعزیراتِ اسلام جیسے موضوعات پر مدلل گفتگو کر کے ثابت کیا ہے کہ عالمِ انسانیت کے لیے اسلام ہی واحد راہِ عمل اور راہِ نجات ہے۔ اسی طرح اسلام میں عورت کے مقام و مرتبے کا دوسرے معاشروں سے تقابل کر کے بتایا ہے۔ اسلام نے عورت کی جو عزت افزائی کی ہے اس کی مثال ماقبل اسلام یا بعد کسی معاشرے میں نہیں ملتی۔
بعض مستشرقین معتدل مزاج دکھائی دیتے ہیں جیسے: منٹگمری ڈبلیوواٹ، مائیکل ایچ ہارٹ اور برناڈلیوس وغیرہ مگر ان کے ہاں بھی کچھ مغالطے ہیں۔ ان کے مغالطوں کا جائزہ لے کر مناسب جوابات دیے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر کتاب اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرتی نظر آتی ہے اور حیاتِ رسولؐ پر اُٹھائے جانے والے اعتراضات کے مدلل اور منطقی جوابات دیتی ہے۔(قاسم محمود احمد)
زیرتبصرہ کتاب مصنف کے سیرت النبیؐ پر لکھے گئے ۱۳ مقالات کا ایک انتخاب ہے۔ ان ۱۳ مقالات سیرتِ النبیؐ کے متعدد پہلوئوں پر تحقیقی انداز میں اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔ یہ مقالات رسولِ اکرمؐ کی گھریلو زندگی، آپؐ کے زہد و قناعت، آپؐ کے تبسم، مناسکِ حج میں آپؐ کی اصلاحات، حلف الفضول میں آپؐ کی شرکت، صلح حدیبیہ، عصرِحاضر کے محروم و مظلوم طبقات کے مسائل میں آپؐ کا اسوئہ حسنہ، سیرت نگاری میں معجزات کا مقام اور سیرت نگاری کی تاریخ پر نہایت جامعیت کے ساتھ تاریخی ریکارڈ کھنگالا گیا ہے اور ان عنوانات پر قرآن و حدیث اور تاریخ و سیر کی کتب کے حوالوں سے حقیقت تک رسائی کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک مقالہ ابن نفیس کے الرسالۃ الکاملیۃ فی السیرۃ النبویۃ کے تعارف و تجزیے پر مشتمل ہے۔ آخری چودھویں باب میں سیرت النبیؐ پر لکھی گئی ۱۱ ؍مطبوعات پر تحقیقی و تنقیدی تبصرے سپردِ قلم کیے گئے ہیں۔
یہ کتاب حدیث اور تاریخ کے گہرے مطالعے کے نتیجے میں سیرت النبیؐ کے بعض گوشوں کو واضح کرتی ہے۔ مصنف نے کتب ِ سیرت کے قدیم و جدید ذخیرے کو تحقیقی اور تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ کر کے مفید، قابلِ عمل اور عصرِحاضر کے مسائل کی تحلیل کے لائق حاصل مطالعہ پیش کیا ہے ۔ (ظفرحجازی)
چراغ حسن حسرت بڑے پائے کے صحافی، ادیب اور شاعر تھے۔ ان کی عمر کوچۂ صحافت میں بسر ہوئی۔ انھوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے شخصیات پر سادہ زبان اور آسان اسلوب میں بہت سی کتابیں بھی لکھیں، کہانیاں بھی تحریر کی ہیں۔
زیرنظر کتاب کا موضوع سیرت النبیؐ اور سیرتِ خلفاے راشدینؓ ہے۔ ابتدا میں سرزمینِ عرب کے جغرافیے، موسم، فضا اور عربوں کے مزاج، زبان اور شعرگوئی کا بیان ہے۔ پھر ضمنی عنوانات (ہمارے نبیؐ، بچپن، جوانی، بی بی خدیجہؓ، ایک جھگڑے کا فیصلہ، نبوت وغیرہ) کے تحت آپؐ کے مختصر حالات، قریش کی مخالفت، مسلمانوں پر ظلم و ستم، ہجرت اور غزوات کا ذکر کرتے ہوئے اس تذکرے کو آں حضوؐر کی وفات پر مکمل کیا ہے۔چاروں خلفاے راشدین اور ان کے عہدِخلافت کے نمایاں واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔ حالات و واقعات نئے نہیں ہیں لیکن چراغ حسن حسرت کے اسلوب کی تازگی اور شگفتگی کی وجہ سے قاری کتاب کو دل چسپی کے ساتھ پڑھتا چلا جاتا ہے۔
ناشر نے مصنف کے نام کے ساتھ ’مولانا‘ کا سابقہ لگایا ہے، حالانکہ کلین شیوڈ حسرت، مولانا تھے نہ اپنی تصانیف پر یہ لفظ لکھتے تھے، نہ خود کو مولانا سمجھتے تھے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
تاریخِ پاکستان کے بڑے سانحات پر رپورٹیں تیار ہوئیں اور کتابیں بھی لکھی گئیں۔ اسی ضمن میں محترمہ بے نظیربھٹو کے قتل پر ایک کتابGetting Away wtih Murder شائع ہوئی ہے۔ ہیرالڈومیونوز جو اقوام متحدہ میں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ انکوائری کمیشن کے سربراہ ہیں، وہ اس کے مصنف ہیں۔ موصوف جنوری ۲۰۱۰ء میں اقوام متحدہ کی طرف سے بے نظیر قتل کیس کے تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ مقررہوئے۔ انھوں نے کتاب کے پیش لفظ میں لکھا: ’’یہ کتاب سال بھر طویل انکوائری کے دوران ملنے والے پس پردہ شواہدوتجربات پر مبنی ہے۔ یہ کتاب بے نظیربھٹوکے قتل اور ان کے متعلق میرا ذاتی نقطۂ نظر ہے اور اقوام متحدہ یا تفتیشی کمیشن کے دیگر ارکان کے خیالات کا لازمی طور پر عکاس نہیں‘‘۔
آٹھ ابواب، مابعدتحقیق، حاصل بحث اور آخر میںحوالوں پر مشتمل کتاب میں بے نظیر کے عروج کی کہانی بھی ہے اور پاکستان میں سیاسی قتل کی تاریخ بھی۔ ’لبرل‘ اور ’اسلامسٹوں‘ کی کش مکش بھی ہے اور پاک امریکاتعلقات، وفا وبے وفائی کے قصے بھی۔ مشرف اور پاکستانی طالبان کے تذکرے بھی ہیں،آئی ایس آئی، سی آئی اے تعلقات کے اُتار چڑھائو بھی۔ اس کتاب میںجہاں تفتیش اورتحقیق کا دعویٰ پایا جاتاہے وہاں تاریخ سے بے خبری ، اسلام سے تعصب نمایاں ہے۔
’عدم استحکام کی ابتدائی تاریخ‘ کے عنوان سے لیاقت علی خان سے بے نظیر بھٹو کی موت تک کی کہانی بیان کرتے ہوئے زمانی لحاظ سے انتہائی فاصلے پرواقع واقعات کو بڑی مہارت کے ساتھ جوڑا گیاہے: ’’۲۹سالہ افغانی سید اکبر نامی قاتل خوست کے افغانستان کے سردارکا بیٹا تھا۔ اکبر ایبٹ آبادمیں رہتا تھا۔ وہی شہرجہاں کئی عشرے بعد اسامہ بن لادن کے خلاف حتمی کارروائی ہوئی‘‘۔ ’’جس پارک میں وزیراعظم لیاقت علی خان کا قتل ہوا‘ … وہی جگہ جہاں پر ۶۰ برس بعد بے نظیربھٹوکو قتل کیاگیا۔جس ڈاکٹر نے لیاقت علی خان کا معائنہ کیاتھا، آج اُن کے بیٹے ڈاکٹرمصدق نے ۶۰برس بعد اپنے باپ کی طرح بے نظیربھٹوکی زندگی بحال کرنے کی کوشش کی‘‘۔’’ ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ اس شہرمیں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو قتل کیاگیاتھا اور یہیں پر ذوالفقارعلی بھٹوکی بیٹی بے نظیر کو قتل ہوناتھا‘‘۔(ص۳۴)
حیرت ہوتی ہے کہ ایک بین الاقوامی ادارے سے وابستہ تحقیق و تفتیش کے علم بردارمصنف نے بعض باتیں بڑی’آسانی‘ سے بغیر تحقیق کے بلکہ تعصب کی بنیاد پر لکھ دیں، مثلاً ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’مودودی، بانیِ پاکستان محمدعلی جناح کو کافر سمجھتا تھا اور اس نے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر کو بھی کافر قراردیا‘‘ (ص۳۷)۔ تاریخ کی تھوڑی سی واقفیت رکھنے والاکوئی بھی شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا تھا کہ مولانا مودودی نے کبھی کسی شخص کو کافر قراردیاہو۔ قائداعظم تو دُور کی بات ہے وہ توان لوگوں کے معاملے کو بھی اللہ پر چھوڑ دیتے تھے جنھوں نے خود مولانا مودودی پر کُفر کے فتوے لگائے تھے۔ اسی طرح ذوالفقار علی بھٹو کو بھی مولانا مودودی نے کبھی کافر قرار نہیں دیا۔ اسی طرح ریمنڈ ڈیوس کے بلاوجہ تذکرے میںبھی مصنف نے لکھا ہے کہ’’ریمنڈ ڈیوس نے ڈاکا زنی کی کوشش کرنے والے دوآدمیوں کو مار ڈالا‘‘(ص ۱۴۸) جو خلافِ واقع ہے۔
پانچویں باب’پاکستانی معاملات میں امریکی سنجیدگی‘ کے زیر عنوان کچھ ایسے حقائق سامنے آئے ہیں جن کے مطالعے سے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جائیں گے۔ مثلاً جنرل ایوب خان نے ستمبر۱۹۵۳ء میں واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک اعلیٰ افسرسے کہا:’’ اگر آپ چاہیں توہماری فوج آپ کی فوج بن سکتی ہے‘‘ ۔بے نظیر کے پہلے دوراقتدار کے بارے میں مصنف رقم طراز ہیں کہ ’’بے نظیر امریکی مشیروں میں گھِر گئیں‘‘(ص ۷۱)۔ پھر: ’’۱۹۹۵ء کے اوائل میں رمزی یوسف کی گرفتاری اور امریکا کے حوالے کرنے کی وجہ سے بے نظیر بھٹوکواپریل ۱۹۹۵ء کے اپنے دورۂ واشنگٹن کے دوران ایک مرتبہ پھر میڈیا اور سیاسی اشرافیہ کی جانب سے پذیرائی ملی۔ اسی طرح جون ۱۹۹۷ء میں نواز شریف نے ایمل کاسی کو پکڑنے کے پاک امریکا مشترکہ آپریشن کی اجازت دی اور: ’’حوالگی کے قواعدوضوابط پورے کیے بغیر کاسی کو امریکا بھیجوادیاگیا‘‘ (ص۷۴)۔بے نظیربھٹو کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ وہ پاکستان آمدسے پہلے ۱۵؍اگست ۲۰۰۷ء کونیویارک کونسل براے فارن ریلیشنز کے ایک غیرمعمولی اجلاس میں شریک ہوئیں۔ بے نظیر نے اس اجلاس میں پاکستان جانے اور عسکریت پسندوں اور انتہاپسند قوتوں سے دودوہاتھ کرنے کا عزم ظاہرکیا۔ مصنف لکھتاہے: ’’مشرف نہیں چاہتاتھا کہ بے نظیر انتخابات سے پہلے پاکستان آجائیں، لیکن وہ انتخابی مہم کے لیے اپنی آمدضروری سمجھ رہی تھیں‘‘۔
۲۷دسمبر۲۰۰۷ء کو بے نظیر بھٹو لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے بعد پارک سے باہرایک حملے میںجان کی بازی ہارگئیں۔ پیپلزپارٹی نے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کا فیصلہ کیا۔ جنوری ۲۰۰۸ء کے اوائل میں آصف علی زرداری نے واشنگٹن پوسٹ میں لکھا: ’’میں اقوام متحدہ سے درخواست کرتاہوں کہ میری بیوی کے قتل کے بارے میں حقائق معلوم کرنے کی غرض سے مفصل تفتیش شروع کریں‘‘۔ جب وہ ۶ستمبرکو صدربنے تویہ مطالبہ ایک ریاست کی طرف سے سرکاری درخواست بن گئی۔ لیکن اقوام متحدہ کے کمیشن کو ایسے شواہد نہ مل سکے جنھیں وہ دوٹوک طور پرقتل سے منسلک کرسکتے‘‘(ص۱۲۷)۔آخر میں مصنف نے لکھا ہے کہ’’شایدہمیں قطعی طور پر کبھی معلوم نہیں ہوسکے گا کہ بے نظیربھٹو کوکس نے قتل کیا؟ قتل کی منصوبہ سازی کے پیچھے کون تھا؟‘‘ (حمیداللّٰہ خٹک)
اسلامی افکار کا ترجمان علمی و ادبی اور تحقیقی مجلہ ماہنامہ تعمیرافکار ۱۴برس سے باقاعدگی سے شائع ہورہا ہے۔ اس عرصے میں اس نے بعض علما (پروفیسر سید محمد سلیم ، علامہ محمد طاسین، مولانا سید زوار حسین شاہ، مفتی غلام قادر، مولانا محمد اسماعیل آزاد) اور بعض موضوعات (سیرت النبیؐ، قرآن حکیم مطالعہ سیرت اور عصرحاضر) پر خاص اشاعتیں پیش کی ہیں۔ علمی رجحان کا حامل، یہ ایک صاف ستھرا دینی رسالہ ہے۔ ادارے نے ۱۳برس میں شائع ہونے والے ۱۳۳ شماروں کا ایک جامع اشاریہ تیار کیا ہے۔ پہلا حصہ بہ لحاظ مصنفین و مقالہ نگار ، دوسرا حصہ بہ لحاظ مضامین و عنوانات، تیسرا حصہ بہ لحاظ موضوعات، چوتھا حصہ رسالے میں مطبوعہ حمدونعت و منقبت اور پانچواں حصہ تبصرۂ کتب کے حوالوں پر مشتمل ہے۔ تبصرۂ کتب کے بھی دو حصے ہیں بہ لحاظِ مؤلف کتاب اور بہ لحاظ عنوانِ کتاب۔
اشاریہ عمدگی سے مرتب کیا گیا ہے اور تحقیق کرنے والے اساتذہ اور طلبہ کے لیے افادیت کا حامل ہے، البتہ بہت سے دوسرے اشاریوں کی طرح ایک خامی اس میں بھی موجود ہے۔ ہرحوالے کے ساتھ شمارے کے ماہ و سال کی نشان دہی تو کی گئی ہے اور صفحہ نمبر بھی درج ہے، یہ مضمون کے آغاز کا صفحہ نمبر ہے، مگر پتا نہیں چلتا کہ مضمون ختم کس صفحے پر ہوتا ہے ۔ (رفیع الدین ہاشمی)
کتاب میں مصنف نے اپنے ۲۴مقالات میں مختلف موضوعات پر تنقیدی اور تحقیقی نقطۂ نظر سے اپنی منفرد آرا پیش کی ہیں۔ زیرنظر کتاب میں ’اعضا کی پیوند کاری‘ ،’کیا عصرِحاضر میں خلافت راشدہ کا قیام ممکن ہے؟‘، ’سیاسی، مذہبی اور روحانی ملوکیتیں‘، ’اظہار راے کی آزادی کا قرآنی تصور‘ ، ’رویت ہلال میں سائنسی علوم کا کردار‘، ’خُلع میں قاضی کا اختیار‘، ’ہمسایے کے حقوق‘، ’اتحادِ اُمت کی راہ میں رکاوٹیں‘ اور بعض دوسرے عنوانات کے تحت فکرانگیز بحث کی ہے۔ ان کے خیال میں خلفاے راشدین کے عہد کے بعد عمر بن عبدالعزیز نے ملوکیت کے ماحول میں جب خلافت علی منہاج نبوت قائم کر کے دکھا دی تو بعد کے اَدوار میں اس کا قیام کیوں کر ناممکن ہے۔ اسی طرح ان کے خیال میں آج فلکیات کے سائنسی مشاہدات کے یقینی نتائج کو علماے کرام کے عینی مشاہدے سے ملاکر فیصلہ کن راے قائم کرنے میں کیا ہرج ہے۔
فاضل مصنف نے جن عنوانات پر اپنی راے ظاہر کی ہے، ان سے مختلف راے رکھنے والے مکاتب ِ فکر بھی موجود ہیں۔ فاضل محقق نے اپنی آرا کو پیش کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ یہ سطور لکھی جارہی تھیں کہ خبر ملی، انھیں ۱۸ستمبر کو کراچی میں بعض لوگوں نے شہید کردیا۔ پروفیسر شکیل صاحب، جامعہ کراچی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ تھے۔(ظفرحجازی)
اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی گزارنے اور رہنمائی کے لیے قرآنِ پاک عطا کیا۔ یہ انسانیت کی فلاح اور ہمیشگی والیِ زندگی کی رہنمائی کے لیے اُترا ہے۔ اگر یہ ہرعمر کے لوگوں کے لیے ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ معاشرے کی بنیادی اکائی ’گھر‘ اور اس کے ایک اہم عنصر ’بچوں‘ سے قرآن مخاطب نہ ہو۔
سیّد نظرزیدیؒ نے اس کاوش میں بچوں کے لیے جابجا پھیلے ہوئے انمول موتیوں کو سمیٹ کر عام فہم انداز میں وہ تمام بنیادی باتوں کو یک جا کر دیا ہے جو آج کل کی زبان میں کردار سازی میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ اسلوبِ بیان ایسا ہے کہ اگر بچہ خود مطالعہ کرکے مستفید ہونا چاہے تو ہوسکتا ہے۔ انداز عام فہم، جگہ جگہ عام مثالوں اور حکایات سے بات کو واضح کرنا اور پھر ہر موضوع کے آخر میں سوالات (مشق) کہ اہم باتیں ذہن نشین ہوسکیں۔ گویا فی زمانہ اخلاقی اقدار، دینی تعلیم، عادات و اَطوار، معاملات اور کردار سازی کے جتنے عنوانات ممکن ہوسکتے ہیں، سب لے لیے گئے ہیں۔ اس سے قبل نظرزیدی مرحوم کی یہ کتاب قرآن کی باتیں کے نام سے دو حصوں میں شائع ہوئی تھی۔ اب اسے نئے نام کے ساتھ یک جا شائع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خوب صورت اور مفید پیش کش پر مصنف اور ناشر کو اجر عطافرمائے۔(علیم پراچہ)
عالمی ترجمان القرآن دینی، تحریکی، تربیتی اور عالمی و ملّی اُمور و مسائل پر بہترین آگاہی فراہم کرتا ہے۔ ستمبر ۲۰۱۴ء کا ترجمان اس ضرورت کو بہ احسن پوری کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ’اشارات‘ میں ڈاکٹر انیس احمد نے روداری اور برداشت کے تحت اہم اُمور کی طرف توجہ دلائی ہے جو موجودہ سیاسی بحران کے تناظر میں قابلِ غور ہیں۔ ’فہم قرآن‘ کے تحت ’اہلِ خانہ کے ساتھ جنت میں! ‘ایک ایسے موضوع پر قلم اُٹھایا گیا ہے جس کی طرف توجہ کم جاتی ہے۔ تزکیہ و تربیت میں ’حج کا پیغام‘ خرم مرادؒ کی تحریر شاید کسی خاص روحانی کیفیت کا ثمر ہے کہ حج کے پیغام کے جملہ اُمورکو تربیتی رنگ میں ایسے بیان کیا ہے کہ پڑھنے والا اثر لیے بغیر نہیں رہتا۔ اسے ستمبر کے ترجمان کا حاصل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ’آزمایشیں‘ استقامت و عزیمت کے تصور کو نکھارتی اور تحریکی و دینی زندگی کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ زندگی نو، دہلی کے مدیر ڈاکٹر محمد رفعت کی تحریر نے اسلامی تحریک کی جدوجہد اور درپیش چیلنج کا جس خوبی اور جامعیت کے ساتھ تجزیہ کیا اور رہنمائی فراہم کی ہے، تحریک کے ہر کارکن اور قیادت کو اس کا مطالعہ ضرور کرناچاہیے۔ بنگلہ دیش میں ظلم کی سیاہ رات بظاہر طویل ہوتی جارہی ہے۔ سلیم منصور خالد وقتاً فوقتاً آگاہی دیتے رہتے ہیں۔ اس پر جامع تجزیے کی ضرورت ہے۔
’’رواداری، برداشت اور معاشرتی اصلاح‘‘ (ستمبر ۲۰۱۴ء) میں اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے اہم نکات زیربحث آئے ہیں۔ باہمی تعلقات، اصلاحِ نفس و اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے یہ تحریر ایک آئینہ ہے۔ معاشرتی خرابیوں کا آغاز ایک فرد کی خرابی سے ہوتا ہے۔ اگر فرد کی اصلاح پر عدم توجہی برتی جائے تو یہ مرض بتدریج معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، جس کے نتیجے میں پورا معاشرہ انتشار و بدامنی کا شکار ہوجاتا ہے۔اصلاحِ احوال کے لیے قرآن وسنت کی تعلیمات کو اپنانے، عام کرنے اور نظامِ عدل کے قیام کی ضرورت ہے۔
سمیہ رمضان کی تحریر ’’قرآن پر عمل__ ایک منفرد تجربہ‘‘ (اگست ۲۰۱۴ء) بے حد پسند آئی۔ اس لادینی دور میں، جب کہ اسلام کے بارے میں پاکستان میں بعض حلقے یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ دین اسلام معاملات و مسائل کا عملی حل پیش نہیں کرتا، یاہم مسائل کا عملی حل دین میں ڈھونڈنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ایسی تحریروں کی اشد ضرورت ہے۔
.....آدمی کو باربار اپنی پوزیشن کے بارے میں دھوکا ہوتا ہے۔ وہ بار بار اس غلط فہمی کا شکار ہوتا رہا ہے کہ اس کائنات میں وہی وہ مختار ہے، اس سے اُوپر کوئی اور نہیں۔اس کی یہی وہ غلط فہمی ہے جس کا ازالہ کرنے کے لیے اور اس کی یہی وہ عظمت ہے جس کا پردہ چاک کرنے کے لیے کائنات کی اصل فرماں رواطاقت ہوائوں اور گھٹائوں، بجلیوں اور پانیوں، طوفانوں اور زلزلوں کی پولیس اور فوج کو حرکت میں لاتی رہتی ہے اور حادثات کے کوڑوں کی ضرب لگا کر تادیب کرتی ہے۔ یہی ہوا جس پر زندگی کا دارومدار ہے جب حکمِ الٰہی کے تحت بپھر جاتی ہے تو بستیوں کی بستیاں تلپٹ ہوجاتی ہیں۔ یہی گھٹائیں جن کو دعائیں کرکر کے بلایا جاتا ہے جب غضب ِ خداوندی کی بجلیاں چمکاتی اور قہر کے اولے برساتی ٹوٹ پڑتی ہیں تو نباتات اور حیوانات اور انسانوں پر قیامت گزر جاتی ہے۔ یہی دریا اور ندی نالے جن کے پانیوں سے کھیتیاں سیراب ہوتی ہیں جب اُوپر سے اشارہ پاکر منہ میں جھاگ لائے اُمڈتے ہیں تو پانی سروں سے گزر جاتا ہے۔
مادّہ پرست غیرمعمولی طبعی حادثات کی توجیہ کرے گا تو کہے گا کہ آتش فشاں پہاڑ کی تہ میں لاوا بھرا پڑا تھا، وہ اُمڈ پڑااور بھونچال آگیا۔ مون سون ہوائوں نے پانی کی زیادہ مقدار بادلوں کی شکل میں کندھوں پر لاد کر کسی علاقے میں آ انڈیلی اور تباہی آگئی۔ پہاڑوں کی برف زیادہ مقدار میں پگھل بہی اور سیلاب آگیا۔ بارش نہ ہوئی اور قحط کی مصیبت آوارد ہوئی.... مادّہ پرستی میں گھِری ہوئی عقلِ انسانی حوادث کے پسِ پردہ کام کرنے والے عذابِ الٰہی کے قانون کو نہیں پاسکتی۔ یہ حقیقت اس کی نگاہ سے ہمیشہ اوجھل رہتی ہے کہ انسانی معاشروں کے لیے کوئی اخلاقی ضابطہ بھی ہے جو خیروشر کے تمام طبعی و معاشرتی مظاہر کے پیچھے برسرِعمل ہے۔ بھوک، بیماری، قحط، معاشی بے اطمینانی، تفرقہ ، غلامی، جنگ، زلزلے، بجلیاں، سیلاب ، طوفان،اولے اور نہ جانے کیسے کیسے مہیب عساکر اُس گورنمنٹ کے اشاروں پر حرکت کرتے ہیں جو کائنات اور عالمِ انسانی پر اپنا تسلط رکھتی ہے۔ یہ عساکر کبھی سرکشوں کی تادیب و تنبیہہ کے لیے دھاوا بولتے ہیں، کبھی باغی اور مفسد سلطنتوں اور قوموں کو قطعی طور پر ملیامیٹ کرنے کے لیے ٹوٹ پڑتے ہیں، اور کبھی ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک قوم میں خشیت، لینت، احساسِ عجز، دردمندی، رِقّت اور رجوع الی الحق کے جذبات کو پیدا کرکے قبولِ ہدایت کی موزوں ذہنی فضا کی تخلیق فرماتا ہے۔ (’اشارات‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۴۳، عدد۱، محرم ۱۳۷۴ھ ، اکتوبر ۱۹۵۴ء، ص۵-۶)