اپریل ۲۰۱۸

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| اپریل ۲۰۱۸ | مدیر کے نام

پروفیسر عبدالقدیر سلیم ، کراچی

پروفیسر خورشیداحمد کا تحقیقی مقالہ ’استعماری حکمت عملی اور راہِ انقلاب‘(مارچ ۲۰۱۷ء) ایک منفرد نوعیت کا نثرپارہ ہے: ’ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند‘۔ جس پر صاحب ِ مقالہ کو مبارک باد! میری ابتدائی تعلیم و تربیت استعماری نظام میں ہوئی، لیکن یہ کیسی بدقسمتی کی بات ہے کہ آج اپنے آزاد وطن کے نظام کی نسبت وہ اچھا لگتا ہے اور شوکت تھانوی کا افسانہ ’سودیشی ریل‘ بار بار یاد آتا ہے۔ ریل سے لے کر محکمہ ڈاک تک اور نظام عدل و احتساب سے لے کر تعلیمی نظم و ضبط تک، ہرعمارت کی اینٹیں اُکھڑی پڑی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارا آزاد معاشرہ کیوں بہتر نہ بن سکا؟


ڈاکٹر عبدالرزاق ، جہلم

’استعماری حکمت عملی اور راہِ انقلاب‘ (مارچ ۲۰۱۸ء)میں محترم پروفیسر خورشیداحمد نے برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کی چند جھلکیاں پیش کرکے پاکستانی قوم ، بالخصوص نوجوانوں پر بہت بڑا احسان کیا۔ ڈاکٹر انیس احمد کی تحریر ’جمہوریت، مسلم دنیا اور تحریک ِ اسلامی‘ میں تبدیلیِ نظام کے سلسلے میں جو تجاویز دی گئی ہیں ان کا خاکہ تیار کرنے اور پھر اس میں رنگ بھرنے کا کام تحریک ِ اسلامی ہی کرسکتی ہے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک اسلامی ایک نظامِ تعلیم کا خاکہ تیار کر کے اسے بہتر بنانے کے لیے مشتہر کرے۔ ان دونوں تحریروں کو کتابچے کی صورت میں شائع کرکے عوام الناس بالخصوص تعلیمی اداروں میں پہنچایا جائے تاکہ لوگوں کے سامنے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے چہرے آسکیں۔


یاسر علی ، فیصل آباد  / عبدالقادر، لاہور

صفدر علی چودھری مرحوم پر تعزیتی مضمون پڑھ کر طبیعت اداس بھی ہوئی اور حوصلہ بھی ملا کہ اس عہد میں تحریک ِ اسلامی کیسے کیسے قیمتی انسانوں کی رفاقت میں اقامت ِ دین کی جدوجہد کر رہی ہے۔ پروفیسر خورشید احمد صاحب نے اپنے مقالے میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تحریک ِ آزادی کے لیے ہندوئوں، سکھوں اور کمیونسٹوں تک کی قربانیوں کا اعتراف کرکے وسعت ِ قلبی اور وسعت ِ نظری کا باب کھولا ہے۔


احمد نواز سلطان ، ملتان

ڈاکٹر مصطفےٰ السباعی کا مکالمہ اگرچہ نصف صدی پہلے کا ہے، لیکن اس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ حالات کا دھارا کچھ زیادہ نہیں بدلا۔ مغربی تہذیبی گراوٹ اور مسلمانوں کے ہاں بے عملی کے آثار جوں کے توں ہیں۔ تبدیلی کیسے آئے گی؟ کا جواب ہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ ذمہ داری ادا کریں۔


طاہرہ نوشین  ، کوئٹہ

ہمیشہ کی طرح ترجمان معلومات اور رہنمائی لیے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر محب الحق نے بھارتی فسطائی لہر کو بڑی خوبی سے بے نقاب کیا ہے۔ ادارہ ترجمان کو ہم ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں کہ گذشتہ پورے سال میں مسئلۂ کشمیر پر نہایت قیمتی مضامین بڑے تسلسل سے شائع کیے۔ خصوصاً افتخار گیلانی کی تحریریں بہت معلومات افزا، جامع اور گہری تفصیلات لیے ہوئے ہیں۔


پروفیسر عبدالحق ، اسلام آباد

ملک خدا بخش بُچہ مرحوم کا خطبہ تقسیمِ اسناد (فروری ۲۰۱۸ء) نہایت فکرانگیزاور ایمان افروز ہے۔ یہ تحریر اس قابل ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہوکر ہمارے نوجوانوں کی فکری رہنمائی کے لیے مشعلِ راہ بنے۔اسی طرح ڈاکٹر نازنین سعادت کی تحریر نے طلاق سے پیدا شدہ صورتِ حال پر بھرپور روشنی ڈالی ہے۔


مجیب شاہ خان ، لاہور

 ’آپ بھی کچھ لکھیے!‘(جنوری ۲۰۱۸ء) میں لکھنے والوں کے لیے ہمت افزائی کی گئی ہے، اور اچھے اور معیاری مضامین لکھنے کے لیے مفید مشورے دیے گئے ہیں۔


محمد حسنین اوساوالا ، کراچی

عالمی ترجمان القرآن کا شمارہ بابت جنوری ۲۰۱۸ء کا مطالعہ کیا۔ پورا شمارہ ہی ویسے تو نہایت اہم ہوتا ہے۔ سیّد سعادت اللہ حسینی صاحب کا مضمون ’تصورِ اقامت ِ دین پر چند اعتراضات؟‘ اپنی مثال آپ تھا۔ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کا مضمون ’آ پ بھی کچھ لکھیے!‘ تو ایسا لگتا ہے ان کی دل کی آواز ہے۔ اسلوب سادہ اور دل نشین، پیرایہ پُرکشش۔ایک محقق کی یہ عملی تجاویز بہت کارگر ثابت ہوں گی۔

ایک گزارش یہ ہے کہ ترجمان میں گوشہ مخصوص کرتے ہوئے یا پھر ایک سلسلے کا آغاز کیا جائے جس میں تحریکی ادیبوں کا تعارف اور ان کی تصانیف کا احاطہ ہوجائے، جیسے نعیم صدیقی ، ماہر القادری، آبادشاہ پوری، نصراللہ خاں عزیز اور نسیم حجازی کا لٹریچر تحریکی جذبہ رکھتا ہے۔ ان عظیم اہلِ قلم کے متعلق ہماری نئی نسل نہیں جانتی کہ کس نگری کے باسی تھے؟ غلام رسول مہر بہت قیمتی تاریخی اثاثہ چھوڑ گئے۔ ایسے کئی افراد ہیں جن کو متعارف کرانا ازبس ضروری ہے۔ اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو اس خلا کو پُر کرنے کے لیے دوسرے غیرتحریکی ادیبوں کی طرف رجحان بڑھ جائے گا۔