اپریل ۲۰۱۸

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| اپریل ۲۰۱۸ | رسائل و مسائل

اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کی شناخت

سوال :

  1. کیا اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون وضع کرسکتی ہے کہ جس سے کسی غیرمسلم کو بالواسطہ یا بلاواسطہ بطورِ مسلم تصور اور شناخت کیا جائے؟
  2. کیا اسلامی ریاست میں غیرمسلم شہریوں کو اس امر کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بطورِ مسلم ظاہر یا پیش کریں؟
  3. اگرکوئی غیرمسلم، اپنے آپ کو مسلم کے لبادے میں چھپائے تو اس کا یہ فعل کس تعریف میں آئے گا؟
  4. اگر درج بالا سوالات کا جواب اثبات میں ہے تو ریاست کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
  5. کیا اسلامی ریاست کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں مکمل طور پر آگاہ ہو، اور اس حوالے سے ایک مؤثر اور جامع طریق کار وضع کرے؟
  6. کیا کسی شہری کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں معلوم کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے ضمن میں آتا ہے؟

جواب :

اسلامی ریاست کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے لیے انسانی حقوق کی ضمانت دے اور رنگ، نسل، علاقہ یا مذہب کی بنیاد پر ان کے درمیان کوئی تفریق روا نہ رکھے۔ چنانچہ اس کی حدود میں رہنے والے غیرمسلم بھی اپنے تمام بنیادی انسانی حقو ق سے بہرہ ور ہوتے ہوئے اطمینان و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں گے اور انھیں اپنی شناخت کو چھپانے کی ضرورت نہ ہوگی کہ اپنا نام، لباس یا ظاہری ہیئت مسلمانوں جیسی کرکے فائدے حاصل کرنے کی کوشش کریں، بلکہ اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ اسلامی ریاست غیرمسلموں کو مسلمانوں کی شکل و شباہت اختیار کرنے سے روکے گی، تاکہ وہ بعض ان پابندیوں سے آزاد رہ سکیں جو مسلمانوں پر عائد ہوتی ہیں اور جن کی خلاف ورزی کی صورت میں مسلمان تنبیہہ اور سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔

اس بنیادی اور اصولی بات کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات یہ ہیں:

  1. اسلامی ریاست کوئی ایسا قانون وضع کرسکتی ہے، جس میں اس بات سے روکا گیا ہو کہ کسی غیرمسلم کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلم تصور اور شناخت کیا جائے اور اس کی شناخت مسلمان کی ہو۔
  2. اسلامی ریاست میں غیرمسلم شہریوں کو اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے آپ کو بہ طور مسلم ظاہر یا پیش کریں۔
  3. اگر کوئی غیرمسلم اپنے آپ کو مسلم کے لبادے میں چھپائے، تو اس کا یہ فعل ریاست کے ساتھ دھوکا دہی کی تعریف میں آئے گا۔
  4. اگر اسلامی ریاست میں غیرمسلم یہ رویہ اختیار کرتا ہے تو ریاست اس کی تنبیہہ و تعزیر کے لیے قانون وضع کرسکتی ہے۔
  5. اسلامی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں مکمل طور سے آگاہ ہو اور اس کے لیے مؤثر اور جامع ضابطۂ کار وضع کرے۔
  6. کسی شہری کے مذہب اور مذہبی عقائد کے بارے میں معلوم کرنا اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے، البتہ مذہب کی بنیاد پر اسے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنا غلط ہے۔

اس موضوع پر فقہی اور قانونی تفصیلات کے لیے کتب ِ فقہ کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ہماری کتاب غیرمسلموں سے تعلقات اور ان کے حقوق میں ذمیوں سے متعلق بحث میں اس طرف بنیادی اشارے کیے گئے ہیں۔ (مولانا  سیّد جلال الدین عمری، نئی دہلی)

سوالات کے جوابات علی الترتیب درج ذیل ہیں:

  1. حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسا قانون وضع کرے جو غیرمسلم کو بلاواسطہ یا بالواسطہ، بطورِ مسلم پیش کرنے سے روکے۔ قرآنِ پاک اور احادیث نبویؐ اس قانون کی اساس پر واضح طور پر دلالت کرتے ہیں۔
  2.  اسلامی ریاست میں غیرمسلم شہریوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنے آپ کو بطورِ مسلم ظاہر کریں، کیوں کہ یہ دھوکا ہے اور اسلام دھوکا دہی کی اجازت کسی بھی صورت میں نہیں دیتا۔
  3. اگر غیرمسلم اپنے آپ کو مسلم کے لبادے میں چھپائیں، تو یہ فعل ریاست کے ساتھ دھوکا دہی کے دائرے میں آئے گا اور اس پر انھیں تعزیری سزا دی جائے گی، جو عدالت کی صواب دید پر ہوگی۔ چاہیے یہ کہ عدالتوں کی سہولت کے لیے قانون بنا دیا جائے جس میں تعزیری سزا ’بدنی‘ اور قید متعین کردی جائے۔
  4. ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں محکمۂ پولیس کو چوکس رکھے اور مجرموں کو گرفت میں لانے کے لیے اقدامات تجویز کرے۔
  5. اس سلسلے میں حکومت مؤثر قانونی تدابیر اختیار کرے، جس سے وہ تمام شہریوں کے مذہب سے آگاہی حاصل کرتی رہے۔
  6. کسی شہری کے مذہب کے بارے میں معلوم کرنا بنیادی حقوق کاتقاضا ہے، اس لیے کہ بعض حقوق کا تعین مذہب کی بنیاد پر ہوگا، واللہ اعلم! (مولانا عبدالمالک،لاہور)

مشکل حالات میں زکوٰۃ و صدقات کا دینی تعلیم پر خرچ

سوال :

یورپ کے جس ملک میں ، مَیں رہ رہی ہوں وہاں مسلمانوں کو ریاستی، سماجی اور حکومتی سطح پر بہت مشکل حالات کا سامنا ہے۔ خصوصاً مسلمان خواتین اور طالبات کو بڑی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔مسلمانوں کی نئی نسل میں طالبات اور نوجوان لڑکیوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے وہاں باقاعدہ رجسٹرڈ ادارہ قائم کیا گیا ہے، لیکن مالی وسائل کی فراہمی کے لیے سخت دشواری درپیش ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جملہ احتیاطوں کے ساتھ ہم زکوٰۃ و صدقات کو مذکورہ دینی تعلیم و تربیت کے ادارے کے لیے جمع اور خرچ کرسکتے ہیں؟

جواب :

آپ نے یورپ کے جس ملک میں درپیش تکلیف دہ حالات کے بارے میں دریافت کیا ہے اس کا حال معلوم کرکے سخت دُکھ ہوا۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو ایمان اور استقامت کی دولت عطا فرمائے۔

عرض یہ ہے کہ آپ کے اُس ملک کے مخصوص حالات میں ، وہاں مسلم بچیوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت پرعام عطیات اور صدقات نافلہ خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ تاہم، زکوٰۃ کا الگ سے حساب رکھا جائے، تاکہ اس سے وہی بچے استفادہ کرسکیں، جو معاشی اعتبار سے کم زور اور زکوٰۃ کے مستحق ہوں۔(مولانا عبدالمالک)

کھانے کا ایک ادب

سوال :

ایک حدیث کامفہوم یہ ہے کہ پیٹ کے تین حصّےکیے جائیں: ایک کھانے کے لیے، دوسرا پینے کے لیے، تیسرا خالی رکھاجائے۔ آج کل ڈاکٹر حضرات کھانا کھانے کے ساتھ پانی پینے کو مضر گردانتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں، جب کہ  اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ملتاہے کہ کھانا کھانے کے بعد پانی کے لیے جگہ خالی رکھی جائے۔ بہ راہ کرم وضاحت فرمادیں؟

جواب :

حضرت مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

مَامَلأَ آدَمِیٌّ وِعَاءً شَرّاً مِّنْ بَطْنٍ، بِحَسبِ ابْنِ آدَمَ اُکَیْلاَتٌ یَقُمْنَ صُلْبَہ‘، فَاِنْ کَانَ لَا مُحَالَۃَ فَثُلُثٌ لِطَعَامِہ وَثُلُثٌ لِشَرَابِہ وَثُلُثٌ لِنَفْسِہ (ترمذی: ۲۳۸۰، ابن ماجۃ:۳۳۴۹، صحیح ابن حبان:۵۲۱۳)کسی آدمی نے پیٹ سے برابرتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کے لیے اپنی پیٹھ سیدھی رکھنے کے لیے چند لقمے کافی ہیں۔ اگر وہ لازماً زیادہ کھانا ہی چاہے تو (پیٹ کے تین حصے کرلے) ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس کے لیے۔

علامہ البانی ؒ نے اس حدیث کی تخریج اپنی کتاب ارواء الغلیل  میں کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔

اس حدیثِ نبویؐ میں بڑی حکمت کی بات بتائی گئی ہے۔ اس میں شکم پُری سے روکا گیاہے۔ سروے رپورٹوں سے معلوم ہوتاہے کہ آج کل پیٹ کی جتنی بیماریاں پائی جاتی ہیں ان میں سے زیادہ تر بسیار خوری کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ دعوتوں اور تقریبات کو جانے دیجیے، لوگ روزمرہ کے معمولات میں کھانے کااس قدر اہتمام کرتے ہیں کہ معلوم ہوتاہے، وہ کھانے ہی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ اس حدیث سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ آدمی کھانے کے لیے زندہ نہ رہے، بلکہ زندہ رہنے کے لیے کھانا کھائے۔

کھانا کھانے کے دوران یا اس سے فارغ ہوتے ہی فوراً پانی پینا طبی اعتبار سے درست نہیں ہے۔ معدہ سے ایسے افرازات (secretions)خارج ہوتے ہیں جو ہضمِ غذا میں معاون ہوتے ہیں۔ کھانا معدے میںپہنچتاہے تو وہ افرازات اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کھانا درست طریقے سے جلد ہضم ہوتاہے۔ کھانے کے دوران یا اس کے فوراً بعد پانی پی لینے سے ان افرازات کی تاثیر کم یا ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے بہتر یہ ہے کہ کھانے سے فراغت کے نصف گھنٹے کے بعد پانی پیاجائے۔

مذکورہ بالاحدیث میں کھانے کے بعد فوراً پانی پینے کا حکم نہیں دیاگیاہے، بلکہ اس میں صرف یہ بات کہی گئی ہے کہ آدمی اپنے پیٹ کو کھانے سے مکمل نہ بھرلے، بلکہ کچھ گنجایش پانی کے لیے بھی رکھے۔ اب اگر کوئی شخص کھانے سے فارغ ہونے کے کچھ دیر بعد پانی پیے تو اس سے حدیث کی مخالفت نہ ہوگی، بلکہ طبّی اعتبار سے یہ بہتر ہوگا۔(مولانا رضی الاسلام  ندوی)

قرآن، اسلامی ریاست اور مولانا مودودیؒ

سوال :

مولانا مودودی ؒ نے اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ  [یوسف۱۲:۶۷]اور دوسری آیات سے حاکمیت الٰہیہ کا جو سیاسی نظریہ پیش کیا ہے، یہ درست نہیں ۔ وہ تمام آیات جن سے مولانا مودودی استدلال کرتے ہیں ان سے تکوینی نظام مراد ہے ۔ اسلام دوسرے مذاہب کی طرح ایک مذہب ہے اور یہ ہر شخص کی نجی زندگی کو کنٹرول کرتا ہے اگر کوئی اس مذہب کو تسلیم کرے ۔

جواب :

مولانا مودوی ؒ کی کتاب قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں  نے عالمِ اسلام میں جو فکری انقلاب برپا کیا ہے، اس پر اب عالم اسلام کے علما اور مفکرین کا اجماع ہو گیا ہے۔اسلام کی اس تعبیر سے اہل مغرب بہت پریشان ہیں ۔ وہ عالم اسلام کے بعض فکری منحرفین سے ایسی کتابیں اور مقالات لکھواتے ہیں، کہ جن سے مولانا مودودی کی جانب سے تشریح کردہ اسلامی سیاسی نظریے اور اسلامی جمہوری انقلاب کے نظریے اور اسلامی جہاد کے نظریے کی نفی ہوجائے۔ 

یہاں پر سب سے پہلی بات یہ ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہ نظریہ کوئی مولانا مودودی کا ذاتی حیثیت میں وضع کردہ نظریہ نہیں ہے کہ جس میں انھوں نے چند آیات کی صرف لغوی تشریح کردی ہو۔ مذکورہ کتاب میں قرآنی آیات کی تشریح کی پشت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل سیرت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور خلافت راشدہ کے قیام کی تمام عملیات کھڑی ہیں اور قرآن و سنت کی واضح تصریحات بھی اس کے لیے شاہد عادل ہیں ۔ مولانا نے جن آیات سے استدلال کیا ہے، ان کے علاوہ انھوں نے اپنی کتاب سیرت سرور عالمؐ میں بھی استدلال کیا ہے اور قرآن کی   بے شمار تعبیرات اور سنت کی لا تعداد تصریحات سے بھی دلائل و نظائر کو پیش کیا ہے ۔ ان میں سے اہم تصریحات یہ ہیں:

  1. مثلاً اگر آپ سورۂ قصص آیت ۵ کامطالعہ کریں: وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَىِٕمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِيْنَ۝۵ۙ (القصص ۲۸:۵)’’اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اور انھیں پیشوا بنا دیں اور ان ہی کو وارث بنائیں‘‘۔اگر مذہب کے اندر امامت کا کوئی دخل نہیں ہے تو اللہ نے یہ حکم کیوں دیا؟ لہٰذا، یہ کہنا کہ جب لوگ ایمان قبول کریں گے تو خود بخود اسلامی نظام قائم ہو جائے گا محض تکلف ہے۔اللہ تعالیٰ صراحت سے فرماتا ہے کہ ہمارا ارادہ اور حکم یہ تھا کہ غریب عوام کی امامت قائم ہواور پیغمبروں نے اس پر عمل کیا۔
  2. اسی طرح سورئہ مائدہ آیات ۴۴ تا ۵۰ کا بغور مطالعہ کریں ۔ تمام اولوالعزم پیغمبروںؑ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ نظام عدل قائم کریں اور اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کریں۔ پھر سخت تنبیہ کی گئی کہ اگر تم عدل نہیں کرو گے تو تم ظالم ہو گے ، فاسق ہوگے اور کافر ہو گے۔ اس سے تکوینی احکام مراد نہیں کہ تم بارشیں بر سائو اور زلزلے برپا کرو ۔ ان آیات کے آخر میں مسلمانوں کو بھی عدل کا حکم دیا گیا ہے ۔ مزید یہ کہ کیا قرآن میں حضرت دائود علیہ السلام کے نظام عدل اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے عدل اور حکومت کے قصے آخر ویسے ہی تو بیان نہیں کیے گئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس اعتبار سے تمام انبیاؑ دعوت اور کام کے اعتبار سے ’سیاسی لوگ‘ تھے اور احادیث میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کَانَتْ بَنُوْ اِسْرَائِیْلَ تَسُوْسُہُمُ الْاَنْبِیَاءُ  (البخاری، کتاب احادیث الانبیاء، باب ما ذکر فی بنی اسرائیل، حدیث: ۳۲۸۶) بنی اسرائیل کے سیاسی امام بھی انبیاء تھے)۔ تعجب ہوتاہے کہ ان منحرفین کو کس طرح یہ غیرعقلی شبہہ لاحق ہو گیا ۔ کیا انھوں نے سیرتِ رسولؐ اور سیرت انبیا علیہم السلام نہیں پڑھیں؟

  3. اس میں شک نہیں کہ اسلام کا مرکز مسجد ہے اور اس نے مسجد کی تعمیر اور اللہ کی عبادت کا حکم دیا ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ اسلام کا مرکز مسجد ہے، لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ اسلام مسجد تک محدود ہے بلکہ اسلام نے تو پوری زمین کو مسجد بنایا ہے اور واضح طور پر فرمایا ہے کہ مسجد جہاد کا سنٹر ہوگا اور فرمایا کہ مسجد کی خدمت کرنے کا ثواب تو ہے، لیکن یہ خدمت بہرحال اقامت ِ دین کے لیے زندگی بھر کی ہمہ پہلو جدوجہد سے بڑا درجہ نہیں رکھتی ۔ تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ اسلامی جہاد اور انقلاب کی راہ میں اگر تجارت اور مالی سر گرمیاں حائل ہوں یا تمھاری قومیت حائل ہو تو پھر اپنے انجام کا انتظار کرو۔ اسی لیے مولانا مودودی نے سب سے پہلے نظریۂ جہاد پر قلم اٹھا یا اوریہ بتایا کہ جہاد اسلامی انقلاب کا اصل ستون ہے ۔اس میں نکتے کی بات یہ ہے کہ مولانا نے اُمت مسلمہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ جہاد سے بھی پہلے اسلامی حکومت کا قیام ضروری ہے کیونکہ جہاد اسلامی حکومت کا کام ہے ۔ اگر کچھ لوگ اسلام سے حکومت کا باب نکال کر کچھ اور منہاج بنانا چاہتے ہیں تو وہ قرآن کریم کے ایک بڑے حصے کو منسوخ کر رہے ہیں اور سنت اور سیرتِ رسولؐ  اور سیرتِ صحابہؓ سے صریح انکار کرتے ہیں۔

  4. اسی طرح سورۂ انبیاء کی آیات ۱۰ تا ۱۷ پر غوروفکر کی دعوت دے رہا ہوں۔ ان کا خلاصہ (مفہوم) یہ ہے کہ ہم نے ایک کتاب اتاری جس میں تمھارے لیے نصیحت ہے۔ ہم نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق اور ان میں انسانوں کی تخلیق اور ان کا عروج و زوال محض کائناتی اور تکوینی کھیل تماشا کے لیے نہیں بنایا بلکہ یہاں حق و باطل کی ایک کش مکش ہے ۔ ہم حق کو باطل پر ایک بم کی طرح پھینکتے جو باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور جس سے ظالم اقوام کو پیس کر رکھ دیا جاتا ہے۔ وہ اس لیے کہ وہ ظالم ہوتی ہیں اور ہم نے ان کے نظام کی جگہ ایک عادلانہ نظام قائم کرنا ہوتا ہے ۔ یہ آیات خالص اقوام کے عروج و زوال اور عادلانہ نظام کے بارے میں ہیں ۔ سائنسی اعتبار سے تو یہ کائنات پہلے سے عادلانہ اصولوں پر چلتی ہے ۔ کوئی ستارہ دوسرے پر ظلم نہیں کرتا ۔ سورج چاند کو نہیں پکڑ سکتا۔ یوں تکوینی اعتبار سے کائنات پوری ہم آہنگی سے چلتی ہے۔

  5. پورے قرآن کریم اور سنت رسولؐ میں تذکیر و تبشیر کے ساتھ جرائم اور ان کی سزائوں کا ذکر بھی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر قرآن و سنت میں جرم و سزا کا تصور نہیں اور کوئی حکومت نہیں ہے تو پھر اسلام نے سزائیں کیوں مقرر کیں ہیں ؟ میں نے مصرکے فقیہ ڈاکٹر عبد العزیز عامر کی ایک کتاب مولانا مودودی کی ہدایت پر ترجمہ کی تھی ۔ اس کے حصہ اول پر مولانا مودودی ؒ نے خود نظرثانی کی۔ یہ کتاب اسلام کا قانونِ جرم و سزا  کے نام سے شائع ہوئی ہے ۔جو لوگ اسلامی نظام کے مختلف پہلوؤں ، سول کوڈ،کریمینل کوڈ اور معاشی نظام، مثلاً حرمت سود کا انکار کرتے ہیں، ان کے لیے آسان طریقہ تو یہ ہے کہ وہ سرے سے اسلام سے وابستگی کا انکار کر دیں، اللہ ہمیں ہدایت دے کیوںکہ ہم بدیہیات کا انکار کرتے ہیں۔

  6. سورۃ الفرقان کی آخری آیات ۶۳ تا ۷۷  میں عباد الرحمٰن، یعنی نبی آخر الزماںؐ اور  صحابۂ کرامؓ کا جو پروگرام دیا گیا ہے کہ یہ لوگ کن خصوصیات کا معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے ۔ ان آیات کے آخر میں ان کی یہ دعا نقل فرمائی ہے: وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًاکہ(ہمیں ایسی متقی سوسائٹی کا امام بنا) ۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر معاشرہ متقی نہ ہو اور وہ اصلاح نہ چاہتا ہو تو صرف حکمران ڈنڈے کے زور سے کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ قیامت میں ایسے پیغمبر بھی آئیں گے، جن کے ساتھ ایک ایک امتی ہو گا۔ اس آیت میں امامت و خلافت کے قیام کی صراحت ہے اور یہ نص صریح ہے ۔

مولانا مودودیؒ کا ساتھ چھوڑنے اور جماعت اسلامی سے نکلنے والے بعض حضرات ابہام پیدا کرتے آئے ہیں اور اس اعتبار سے موجودہ لبرل حضرات اور امام بخاری کے دور کے جھَمِیَّہ ایک ہی فکر رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی معاشرے سے مفادات تو لیتے ہیں، مگر معاشرے سے قطع تعلق نہیں کرسکتے ۔ اللہ ان کو ہدایت عطا فرمائے، آمین۔(مولانا سیّد   معروف    شاہ     شیرازی)

پیشاب کرتے وقت احتیاط نہ کرنے پر عذاب

سوال :

ایک حدیث میرے مطالعہ میں آئی ہے ، جس میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے۔ آپؐ نے فرمایا : ان دونوں پر عذاب ہورہاہے ۔ ان میں سے ایک چغلی کرتا تھا اوردوسرا پیشاب کرتے وقت احتیاط نہیں کرتا تھا ۔ پھر آپؐ نے ایک درخت سے ایک ٹہنی توڑی اور اس کے دو ٹکڑے کرکے دونوں قبروں پر لگادیے اورفرمایا کہ جب تک یہ ٹہنیاں ہری رہیں گی ، امید ہے کہ ان دونوں پر عذاب میں تخفیف ہوجائےگی۔

حدیث سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ دونوں عذاب پانے والے کون تھے؟ یہ مومن تھے یا کافر؟ اور یہ کس زمانے کا واقعہ ہے اورکہاں کا ہے؟ اگروہ کافر تھے تو صرف انہی دونوں کا موں پر عذاب کیوں؟ وہ تو ایمان ہی سے محروم تھے اور اس سے بڑی سزا اور عذاب کے مستحق تھے۔ اگر مومن تھے تو بھی صرف انہی اعمال پر عذاب کا ذکر کیوں؟ انہوںنے ممکن ہے ، دوسرےگناہ بھی کیے ہوں، پھر حدیث میں ان پر سزا کا ذکرکیوں نہیں ہے؟ امید ہے ، میرے ان اشکالات کو دور فرمائیں گے۔

جواب :

  آپ نے جوحدیث نقل کی ہے اس میں ان دو اشخاص کے نام مذکور نہیں ہیں جن پر عذاب ہورہا تھا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہری ٹہنی لگادینے سے ان کے عذاب میں تخفیف ہوگئی۔ بہترہے  کہ ان کے بارے میں تفصیل جاننے کی کوشش نہ کی جائےکہ وہ صحابہ کرام تھے یا منافق تھے؟ یا کافر تھے؟ حدیث میں جوابہام ہے اسے باقی رکھا جائے اورجو بات کہی گئی ہے اس پرتوجہ دی جائے کہ ان کاموں ( چغلی اور پیشاب کرنے میں عدم احتیاط) سے بچا جائے جن کا ذکر حدیث میں کیا گیا ہے۔

 یہ حدیث بخاری(۲۱۶) ، مسلم(۱۱۱) ، ترمذی(۷۰)، ابوداؤد(۲۰)، نسائی(۳۱)، ابن ماجہ (۳۷۴)، دارمی (۷۳۹) اورمسند احمد0 (۱۹۸۰) وغیرہ میں آئی ہے ۔ شارح بخاری علامہ ابن حجرؒ نے اس کی شرح میں لکھا ہے : ’’ ان دونوں اشخاص کے نام حدیث میں مذکور نہیں ہیں ۔ ظاہر ہے کہ راویوں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے ۔ انہوںنے اچھا ہی کیا ، اس لیے کسی معاملے میں کسی شخص کی مذمت کا پہلو نکلتا ہوتو اس کا نام جاننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے‘‘۔ ابن حجرؒ نے متعدد اقوال نقل کیے ہیں ۔ بعض ان دونوں کوکافر بتاتے ہیں ، بعض مسلمان۔ اس سلسلے  میں انہوںنے متعدد روایات کا حوالہ دیا ہے ۔ تفصیل کے لیے رجوع کیجئے فتح الباری  شرح صحیح البخاری، دار المعرفۃ بیروت، ۱/۳۲۰۔۳۲۱۔