اپریل ۲۰۲۰

فہرست مضامین

علّامہ محمد اقبال کے ہاں ذوقِ سحرخیزی

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی | اپریل ۲۰۲۰ | اقبالیات

علّامہ اقبال، مہاراجا سرکشن پرشاد کے نام ۳۱ ؍اکتوبر ۱۹۱۶ء کے خط میں لکھتے ہیں: ’’صبح چار بجے، کبھی تین بجے اٹھتا ہوں، پھر اس کے بعد نہیں سوتا‘ سواے اس کے کہ مصلّے پر کبھی اُونگھ جاؤں‘‘۔(اقبال بنام شاد، ص ۱۸۸)

تقریباً دو سال بعد ‘ ۱۱ جون ۱۹۱۸ء کے خط میں پھر لکھتے ہیں: ’’بندۂ رو سیاہ کبھی کبھی تہجّد کے لیے اٹھتا ہے اور بعض دفعہ تمام رات بیداری میں گزر جاتی ہے۔ سو، خدا کے فضل و کرم سے، تہجّد سے پہلے بھی اور بعد میں بھی، دعا کروں گا کہ اس وقت عبادتِ الٰہی میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے‘‘۔(ایضاً، ص ۲۴۵)

ان بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ علّامہ اقبال اوائلِ عمر ہی سے سحرخیزی کا ایک طبعی ذوق رکھتے تھے اور یورپ کے نسبتاً مختلف اور ناسازگار ماحول میں بھی، ان کا یہ ذوق برقرار رہا:

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آداب سحرخیزی

(بالِ جبریل ، ص ۴۰)

سوال یہ ہے کہ اقبال کے ذوقِ سحر خیزی کی اس تربیت و تشکیل میں کن عناصر کو دخل رہا اور اس کی وجوہ کیا تھیں؟ اس سلسلے میں علّامہ کے اسلوبِ زندگی، ان کی افتادِ طبع اور ان کے ذخیرۂ نظم و نثر کو نگاہ میں رکھنا ضروری ہے۔

اول تو یہی بات کچھ کم اہم نہیں کہ ہمارے ہاں سحر خیزی کو خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسلامی اور مشرقی روایات کے مطابق علی الصّباح جاگنا اور جگانا ایک مبارک اور قابلِ قدر فعل ہے۔ اقبال اس سحرخیز خورشید کو بھی خوش آمدید کہتے ہیں جو نیند کے ماتوں کو جگاتا ہے:

خورشید ، وہ عابدِ سحر خیز

لانے والا پیام ’بر خیز‘

(بانگِ درا ، ص ۱۲۷)

علّامہ، قرآن حکیم کے مفاہیم و معانی پر گہری نظر رکھتے تھے۔ قرآن حکیم میں قیام اللّیل اور عبادتِ شب کی بہت تلقین کی گئی ہے۔ اسے اہلِ تقویٰ اور ’عبادُ الرحمٰن‘ کی نشانی بتایا گیا ہے، فرمایا:

وَالَّذِیْنَ یَبِـیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا (الفرقان۲۸: ۶۴) (رحمٰن کے اصلی بندے) وہ (ہیں جو) اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ وَبِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ (الذاریات۵۱: ۱۸) وہ سحر کے اوقات میں استغفار کیا کرتے تھے۔ o اَلصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْمُنْفِقِیْنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(اٰلِ عمران ۳: ۱۷) یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں، فرماں بردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔

ظاہر ہے یہاں رات کی عبادت سے مراد تہجّد کی نماز ہے۔ اللہ جلّ شانہ، نے براہِ راست رسولِ اکرمؐ کو عبادتِ شب یعنی نمازِ تہجّد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:وَمِنَ الَّیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ ق عَسٰی اَنْ یَّـبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(بنی اسرائیل ۱۷: ۷۹) اور رات کو تہجّد پڑھو۔ یہ تمھارے لیے نفل ہے۔ بعید نہیں کہ تمھیں تمھارا رب مقامِ محمود پر فائز کر دے۔

ایک اور مقام پر آپ ؐکو اس طرح تاکید فرمائی: یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ o قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًا o نِّصْفَہٗ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلًا o اَوْ زِدْ عَلَیْہِ وَرِتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا (المزمل: ۱-۴) اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے! رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو، مگر کم۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، اور قرآن کو خوب ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔

یہاں اگرچہ خطاب براہِ راست نبی اکرمؐ سے ہے لیکن بالواسطہ عبادتِ شب کی تاکید، امّت کو بھی کی گئی ہے کیونکہ نبی کے ہر چھوٹے بڑے عمل میں امّت کو ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔

علّامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد نہایت نیک نفس اور متقی بزرگ تھے۔ پابندِ صوم و صلوٰۃ اور عبادتِ الٰہی کے مشتاق---کچھ تعجب نہیں کہ تہجّد اور قیام اللیل ان کے معمولات میں داخل ہو۔ اقبال کی شخصیت کی تشکیل و تعمیر میں شیخ نور محمد کی روحانیت کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کے لیے شیخ نورمحمد کی حیثیت، ایک مثالی شخصیّت کی تھی۔ عبادتِ شب کے ضمن میں بھی، انھوں نے یقینا اپنے والد سے اثرات قبول کیے ہوں گے۔ یہ فطری امر تھا۔

اصل میں تو یہ سنّتِ نبویؐ کا اِتباع تھا۔ نبی کریمؐ سے شیخ نور محمد اور خود اقبال کی وابستگی و شیفتگی محتاجِ بیان نہیں۔ اقبال نے جب بھی سحرخیزی اور عبادتِ شب کا اہتمام کیا تو قیام اللیل کے وہ تمام فوائد و ثمرات ان کے ذہن میں مستحضر ہوں گے، جن کی نشان دہی نبی کریمؐ نے فرمائی ہے۔ شب بیداری اور نمازِ تہجّد کی تاکید کے سلسلے میں چند احادیثِ نبویؐ ملاحظہ کیجیے:

عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ : عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ فَاِنَّہٗ  دَأْبُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ وَھُوَ  قُرْبَۃٌ  لَکُمْ اِلٰی رَبِّکُمْ وَمُکَفِّرَۃٌ  لِلسَّیِّآتِ وَمَنْھَاۃٌ عَنِ الْاِثْمِ (ترمذی)، حضرت امامہؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: نمازِ تہجّد کا التزام کیا کرو۔ یہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی خصلت ہے اور خدا سے تمھیں قریب کرنے والی اور گناہوں کے برے اثرات مٹانے والی اور معاصی سے روکنے والی چیز ہے۔

عَـنْ  اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ  قَـالَ  قَـالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ : اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ الصَّلٰوۃُ  فِیْ  جَوْفِ اللَّیْلِ (مسلم)، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: فرض نماز کے بعد، سب سے افضل نماز، نصف شب میں پڑھی جانے والی (تہجّد کی) نماز ہے۔

 وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ یَقُوْلُ اِنَّ  فِی اللَّیْلِ لَسَاعَۃً لَایُوَافِـقُھَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ یَسْئَلُ  اللّٰہَ  فِیْھَا خَیْرًا مِنْ اَمْرِ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ  اِلَّا اَعْطَاہُ  اِیَّاہُ  وَذٰلِکَ کُلَّ لَیْلَۃٍ (مسلم)، حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی ؐنے فرمایا: رات میں ایک ساعت ہے۔ اگر اس میں کوئی مسلمان، دین و دنیا کی بھلائی کی دعا مانگے تو اللہ اس کو عطا فرما دیتا ہے اور یہ ساعت ہررات میں ہوتی ہے۔

عَنْ اَبِیْ  سَعِیْد  الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ  اللّٰہِ ثلثۃ یضحکَ اللّٰہُ اِلَیْہِمْ: الرَّجُلْ اِذَا قَامَ  بِاللَّیْلِ یُصَلِّیْ وَالْقَوْمُ اِذَا صَفُّوْا فِی الصَّلٰوۃِ  وَالْقَوْمُ اِذَا صَفُّوْا فِی قِتَالِ الْعَدُوِّ (مسنداحمد)، حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول ؐاللہ نے فرمایا: تین شخص ہیں جنھیں دیکھ کر اللہ خوش ہوتا ہے اور ان سے راضی رہتا ہے: ایک تو وہ شخص جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، دوسرے وہ لوگ جو نماز کے لیے صفوں کو برابر درست کریں اور تیسرے وہ لوگ جو دشمن کے مقابلے پر لڑنے کے لیے صفوں کو ترتیب دیں۔

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ  قَـالَ  قَـالَ  رَسُوْلُ  اللّٰہِ  یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلٰی السَّمَاءِ الدُّنْیَا حِیْنَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْاٰخِرُ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِی  فَاَسْتَجِیْبُ  لَہٗ   مَنْ  یَسْاَلُنِیْ فَاُعْطِیْہِ مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ  فَاَغْفِرُلَہٗ (بخاری، مسلم)، حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ عزوجل روزانہ (رات کے وقت) دنیا کے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطا کروں، کون ہے جو مغفرت چاہے اور میں اسے بخش دوں۔

حضرت سیّد علی ہجویریؒ نے ایک جگہ فرمایا ہے: علم کے ساتھ فکر بھی ضروری ہے۔ کیونکہ فکر اور تدبر کے بغیر نہ تو آدمی کے اندر صحیح فہم بیدار ہوتا ہے اور نہ اس کے بغیر علم، آدمی کی زندگی پر کوئی گہرا اور دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔(کشف المحجوب ،اردو ترجمہ: میاں طفیل محمد، ص ۷۸)

ظاہر ہے کہ غوروفکر کی یہ تاکید، حیات و کائنات کی حقیقت و ماہیت تک پہنچنے کے لیے ہے۔ یہ مسلّم ہے کہ علّامہ اقبال محض شاعر نہ تھے، ایک مفکّر اور فلسفی شاعر تھے۔ تفکّر، ان کی شخصیت کا جز اور سوچ بچار اور غوروفکر ان کی عادتِ ثانیہ تھی۔ اگر ہم کچھ پیچھے چلیں اور اقبال کے ابتدائی دور کی شاعری پر نظر ڈالیں تو ہمیں شاعر کے ہاں حیات و کائنات کے بارے میں اس تفکّرکے بطن سے پھوٹتا ہوا، ایک استفہامیہ لہجہ ملتا ہے۔ پھر اسی ضمن میں ان کے ہاں ایک اضطراب، سکوں ناآشنائی، تنہائی کا الم انگیز احساس، اور ان احساسات کی تسکین کے لیے فطرت کے مناظر و مظاہر کی طرف رجوع اور شہروں اور آبادیوں سے ویرانوں اور صحراؤں کی طرف گریز کا رجحان بھی نمایاں ہے:

شورش سے بھاگتا ہوں، دل ڈھونڈتا ہے میرا

ایسا سکوت جس پر تقریر بھی فدا ہو

مرتا ہوں خامشی پر، یہ آرزو ہے میری

دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو

(بانگِ درا، ص ۴۷)

وہ خموشی شام کی، جس پر تکلّم ہو فدا

وہ درختوں پر تفکّر کا سماں چھایا ہوا

(ایضاً، ص ۲۳)

کشتۂ عُزلت ہوں، آبادی میں گھبراتا ہوں میں

شہر سے سودا کی شدّت میں نکل جاتا ہوں میں

(ایضاً، ص ۷۷)

دن کی نسبت رات زیادہ پرسکون ہوتی ہے اور شب کے خاموش لمحوں میں غوروفکر کے لیے ماحول بہت سازگار ہوتا ہے۔ اس لیے آبادی سے گریز، تنہائی کی تلاش اور خاموشی کو پسند کرنے کا رجحان، بیداریِ شب تک پہنچتا ہے اور شاعر رات کی تنہائیوں میں حیات و کائنات کے متعلق ان سوالات پر غور کرتا ہے جو بہت ابتدا سے اس کے دل و دماغ پر چھائے ہوئے تھے:

سمجھ میں آئی حقیقت نہ، جب ستاروں کی

اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے

(ایضاً، ص ۸۲)

تلاشِ حقیقت کے ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی یہ دعا ہے: اَرِنَا الْاَشْیَاءَ کَمَاہِیَ (اے اللہ)! ہمیں اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اس طرح دیکھیں جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں۔

احادیثِ مذکورہ کی روشنی میں شب بیداری کا ایک محرک اور عبادتِ شب کی غرض و غایت، اقبال کے نزدیک، حیات و کائنات کی حقیقت و ماہیت پر تفکّر اور دنیا و مافیہا کے مسائل پر غور کرنا ہے اور یہ بھی کہ ہم حقیقت آشنا ہو کر صراطِ مستقیم کو پالینے کے لیے حضورِ ایزدی میں دست بہ دُعا ہوں۔

شب کی تنہائیوں میں تفکّر، رجوع الی القرآن اور عبادتِ شب کے نتیجے میں شاعر کے حسّاس دل کو کچھ ایسا سکون و ثبات نصیب ہوا کہ اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہ نکلے۔ یہ تشکّر کے آنسو تھے۔ اس خدا کی بارگاہ میں عقیدت کے آنسو، جس نے شاعر کو طمانیت کی ویسی ہی کیفیت عطا کی تھی، جو صحرا کے ایک مسافر کو اچانک کسی نخلستان میں پہنچنے کے بعد نصیب ہوتی ہے۔ چنانچہ شب کی تنہائیوں میں جاگ جاگ کر آنسو بہانا اور آہ و فغاں کرنا اس کا مستقل شِعار بن گیا۔ یہ شِعار، اقبال کے ہاں ابتدائی دور کی شاعری سے لے کر آخری دور کی شاعری تک، ہر مرحلے اور ہر دور میں ایک مستقل رجحان کی شکل میں موجود ہے:

پچھلے پہر کی کوئل، وہ صبح کی مؤذّن

میں اس کا ہم نوا ہوں، وہ میری ہم نوا ہو

پھولوں کو آئے جس دم، شبنم وضو کرانے

رونا مرا وضو ہو، نالہ مری دعا ہو

(ایضاً، ص ۴۷)

دن کی شورش میں نکلتے ہوئے شرماتے ہیں

عُزلتِ شب میں مرے اشک ٹپک جاتے ہیں

(ایضاً، ص ۱۷۳)

لیکن شب کی تنہائیوں میں بیدار رہ کر آنسو بہانا بجاے خود مقصود نہ تھا۔ جو کچھ مطلوب و مقصود تھا، اس کی طرف علّامہ اقبال نے ایک دو جگہ اس طرح اشارہ کیا ہے:

سکوتِ شام سے تا نغمۂ سحرگاہی

ہزار مرحلہ ہاے فغانِ نیم شبی

(ایضاً، ص ۲۲۳)

کٹی ہے رات تو ہنگامہ گستری میں تری

سحر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی

( ایضاً، ص ۲۰۸)

اقبال کی فغانِ نیم شب اور آہِ سحرگاہی کا رشتہ شب بیداری کی مذہبی روایت سے وابستہ ہے جیساکہ انھوں نے خود واضح کیا ہے: ’سحر قریب ہے، اللہ کا نام لے ساقی‘۔ گویا شب بیداری اور عبادت گزاری کا مقصد یہ تھا کہ اللہ کے حضور عجز و نیاز کے ساتھ دستِ دعا دراز کیا جائے۔

دعا وسیلۂ قربِ الٰہی ہے، جس کے نتیجے میں مومن خدا سے مزید توفیق و عنایت کی دعا مانگتا ہے۔ مناظر و مظاہر فطرت کے مطالعے کا دعا پر منتج ہونا اور اس ذریعے سے قربِ الٰہی کا حصول، ایک فطری اور تدریجی امر ہے۔ اقبال کے نظامِ فکر میں دعا کی خاص اہمیت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

Religion is not satisfied with mere conception; it seeks a more intimate knowledge of and association with the object of its persuit. The agency through which this association is achieved is the act of worship or prayer. (Reconstruction, p 70-71) 

مذہب کے لیے یہ ممکن نہیں کہ صرف تصورات پر قناعت کر لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے مقصود و مطلوب کا زیادہ گہرا علم حاصل کرے اور اس سے قریب تر ہوتا چلا جائے لیکن یہ قرب حاصل ہوگا تو دعا کے ذریعے۔(تشکیلِ جدید ،ص ۱۳۳)

Prayer, then, whether individual or associative, is an expression  of man's inner yearning for a response in the awful silence of the universe. It is a unique process of discovery. (Reconstruction, p 74) 

دعا خواہ انفرادی ہو، خواہ اجتماعی، ضمیرِ انسانی کی اس نہایت درجہ پوشیدہ آرزو کی ترجمان ہے کہ کائنات کے ہولناک سکوت میں وہ اپنی پکار کا کوئی جواب سنے۔ یہ انکشاف و تجسس کا (ایک) عدیم المثال عمل ہے۔(تشکیلِ جدید، ص ۱۳۹)

گویا وہ رجحان، جس نے تلاشِ حقیقت میں آبادی سے ویرانے اور انسان سے فطرت کی طرف گریز کیا تھا، اب فطرت اور ویرانے سے بھی کنارہ کشی کر کے گوشۂ قلب میں سمٹ آیا ہے اور نالۂ نیم شب، گریۂ سحری، فغانِ صبح گاہی اور دعا کے ذریعے قربِ الٰہی حاصل کر کے ان سوالات کا جواب چاہتا ہے، جو عرصۂ دراز سے اس کے قلبی اضطراب کا سبب بنے ہوئے ہیں:

چہ پرسی از طریق جستجویش

فرو آدر مقام ہاے و ہویش

شب و روزے کہ داری بر ابد زن

فغانِ صبح گاہی بر خرد زن

(زبور عجم ، ص ۱۶۴)

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں

خرد کھوئی گئی ہے، چارسو میں

نہ چھوڑ اے دل! فغانِ صبح گاہی

اماں شاید ملے اللہ ہُو میں

(بالِ جبریل ، ص ۸۳)

اقبال کا نظامِ فکر اپنے اندر ایک وحدت رکھتا ہے اور اس کے جملہ تصورات و نظریات باہم دگر مربوط ہو کر اس وحدت کو مکمل کرتے ہیں۔ اس نظام فکر کی اساس اقبال کے نظریۂ خودی پر ہے اور فکرِاقبال کا کوئی معمولی سے معمولی رجحان بھی خودی سے الگ یا علاحدہ نہیں ہے۔ اقبال کا تصوّرِ سحرخیزی بھی علمی، عقلی اور عملی اعتبار سے ان کے نظریۂ خودی سے وابستہ ہے۔

نفسیاتی اور عملی اعتبار سے دیکھا جائے تو شب بیداری، سحرخیزی، عبادتِ شب اور دعا انسانی شخصیت میں بعض ایسے اخلاقی اوصاف کا باعث بنتی ہے جن کا حصول کسی دوسرے ذریعے سے ممکن نہیں۔ اول تو یہ کہ انسان ایک ایسے نازک مرحلے سے گزرتاہے جو ’دوچار سخت مقامات، سے کم نہیں۔ سحرخیزی ایک نہایت سخت اور نفس کو تکلیف دینے والا عمل ہے جسے قرآن پاک میں اَشَدُّ وَطْئًا،  یعنی نفس کو خوب روندنے والا عمل۔(المزمل :۶) قرار دیا گیا ہے۔ نفس کو روندنے کے علاوہ باقاعدگی، مستعدی، فرض شناسی، قوتِ برداشت اور ضبطِ نفس بھی بیداریِ شب کے ثمرات میں شامل ہیں۔ پھر طبّی نقطۂ نظر سے دیکھیے تو مسلم ہے کہ سحرخیز انسان لطیف الطبع اور ذہین ہوتا ہے۔ بیسیوں مفکّرین و فلاسفہ اور ادبا و شعرا کے ہاں سحرخیزی کا اہتمام رہا اور ان کی بہترین قلمی کاوشیں اور تخلیقاتِ ذہنی، اہتمامِ سحرخیزی کا نتیجہ ہیں۔ سحرخیز انسان بالعموم ایسی بہت سی ذہنی بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے جن میں گراں خواب اور نیند میں مدہوش لوگ اکثروبیشتر مبتلا ہو جاتے ہیں۔ گویا شب زندہ دار اور سحرخیز انسان ایک ایسے راستے پر چل رہا ہوتا ہے جو اسے خود شناسی اور عرفان نفس کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اقبال کی اصطلاح میں اسی کا نام خودی ہے۔ ’گریۂ سحرگاہی‘ اولادِ آدم کے لیے حضرت آدم ؑکی میراث ہے۔ جنت سے بوقتِ رخصت فرشتے آدم ؑسے کہتے ہیں:

گراں بہا ہے ترا گریۂ سحر گاہی

اسی سے ہے تیرے نخلِ کہن کی شادابی

(بالِ جبریل، ص ۱۳۱)

یہ ’گریۂ سحر گاہی‘ درحقیقت دعا ہی کا دوسرا نام ہے۔ اقبال اپنے انگریزی خطبات میں ایک جگہ کہتے ہیں:

The act of worship or prayer ending in spirtual illumination --- affects different varieties of consciousness  differently. (Reconstruction, pg 71) 

دعا وہ چیز ہے جس کی انتہا، روحانی تجلّیات پر ہوتی ہے اور جس سے مختلف طبیعتیں مختلف اثرات قبول کرتی ہیں۔(تشکیلِ جدید ، ص ۱۳۳)

___ psychologically speaking, prayer is instinctive in its origion. The act of prayer as aiming at knowledge, resembles reflection. Yet prayer at its highest is much more than abstract reflection. Like reflection, it too is a process of assimilation, but the assimilative process in the case of payer draws itself closely together and thereby acquires a power unknown to pure thought. (Reconstruction, p 71) 

بہ اعتبارِ نفسیات، دعا یا عبادت، ایک جبلّی امر ہے اور پھر جہاں تک حصولِ علم کا تعلق ہے، ہم اسے غوروتفکّر سے مشابہ ٹھہرائیں گے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس کا درجہ غوروتفکّر سے کہیں اونچا ہے مگر پھر غوروفکر کی طرح وہ بھی تحصیل و اکتساب ہی کا ایک عمل ہے جو بہ حالتِ عمل، ایک نقطے پر مرکوز ہو جاتا ہے اور کچھ ایسی طاقت اور قوت حاصل کرلیتا ہے جو فکرِ محض کو حاصل نہیں۔(تشکیلِ جدید ، ص ۱۳۵)

ظاہر ہے کہ اقبال نے جس چیز کو ’کچھ ایسی طاقت‘ اور ’روحانی تجلّیات‘ کہا ہے، وہ خودی کے سوا کچھ اور نہیں، لیکن خودی کا حصول کچھ ایسا آسان نہیں۔ اس منزل تک رسائی کے لیے پہلے انسان کو بے خودی کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جسے قرآنِ پاک نے ’نفس کو روندنے والا‘ قرار دیا ہے۔ شاید یہ حیاتِ انسانی کے ’دوچار بہت سخت مقامات‘ ہی میں سے ایک مقام ہے۔ اقبال کے الفاظ میں ایک ’مشکل مقام‘:

مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیا

تھم، اے رہ رَو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیا

(بالِ جبریل  ، ص ۵۷)

گویا عرفانِ ذات کے لیے نفیِ ذات کا معرکہ سر کرنا ضروری ہے۔ اقبال لکھتے ہیں:

It is a unique process of discovery, whereby the searching ego affirms itself in the very moment of self-negation, and thus discovers its own worth and justification as a dynamic factor in the life of the universe.  (Reconstruction, pg 74) 

یہ [دعا] وہ عدیم المثال عمل ہے جس میں طالبِ حقیقت کے لیے نفیِ ذات ہی کا لمحہ، اثباتِ ذات کا لمحہ بن جاتا ہے اور جس میں وہ اپنی قدروقیمت سے آشنا ہو کر بجا طور پر سمجھتا ہے کہ اس کی حیثیت، کائنات کی زندگی میں، سچ مچ ایک فعّال عنصر کی ہے۔(ایضاً، ص ۱۳۹)

گویا نفی ذات کا پُل صراط عبور کرتے ہی فی الفور انسان اثباتِ ذات کی اس جنت میں داخل ہو جاتا ہے جس کا نام خودی ہے۔ جنت کی ہر شے عبادُالرحمن کے لیے مسخرّاور مطیع ہوگی۔ صاحبِ خودی (سحرخیز) انسان بھی حیات و کائنات کو اپنا مطیع و منقاد پاتا ہے۔ اسے ہر طرح کی قوت و سطوت، شان و شوکت اور عظمت حاصل ہوتی ہے۔ فطرت کے وہ مظاہر و مناظر، جن سے وہ رازِ کائنات پوچھتا پھرتا تھا، اب اسے اپنی گردِ راہ محسوس ہوتے ہیں۔ اس کے نالۂ سحرگاہی اور فغانِ صبح گاہی میں ایک ایسی قوت پیدا ہو جاتی ہے جس سے نہ صرف فرد کی اپنی قسمت، بلکہ قوموں کی اجتماعی تقدیر بھی منقلب ہو سکتی ہے۔ علّامہ اقبال اپنی ہمشیرہ کریم بی بی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

مسلمان کی بہترین تلوار دعا ہے، سو اسی سے کام لینا چاہیے۔ ہر وقت دعا کرتے رہنا چاہیے اور نبی کریمؐ پر درود بھیجنا چاہیے۔ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ اس امّت کی دعا سن لے اور اس کی غریبی پر رحم فرمائے۔(مظلوم اقبال ،شیخ اعجاز احمد، ص ۲۸۱)

اقبال کی شاعری میں ’نالہ بے باک‘ ، ’آہ صبح گاہی‘ ، ’اشک سحرگاہی‘ ، ’گریۂ نیم شب، وغیرہ دعا ہی کے مترادف ہیں۔ علّامہ، دعا کے اندر مضمر باطنی قوت کی غیر معمولی تاثیر سے بہ خوبی واقف ہیں:

نہ ستارے میں ہے، نے گردش افلاک میں ہے

تیری تقدیر، مرے نالۂ بے باک میں ہے

(بالِ جبریل ،ص ۶۵)

تلاش، اس کی فضاؤں میں کر، نصیب اپنا

جہانِ تازہ مری آہِ صبح گاہ میں ہے

( ایضاً، ص ۶۹)

میں نے پایا ہے اسے اشکِ سحرگاہی میں

جس دُرِ ناب سے خالی ہے صدف کی آغوش

(ایضاً، ص ۷۵)

عطّار ہو، رومی ہو، رازی ہو، غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا، بے آہِ سحرگاہی

(ایضاً، ص ۵۶)

تاکِ خویش از گریۂ ہاے نیم شب سیراب دار

کز درونِ او شعاعِ آفتاب آید بروں

(زبورِ عجم ، ص ۹۷)

بروں زیں گنبدِ در بستہ پیدا کردہ ام راہے

کہ از اندیشہ برتر می پرد آہِ سحرگاہے

(ایضاً، ص ۱۰۰)

ز اشکِ صبح گاہی، زندگی را برگ و ساز آور

شود کشتِ تو ویراں تا نہ ریزی دانہ پے در پے

(ایضاً، ص ۱۰۷)

افرادِ ملّت سے اقبال کو یہی شکوہ ہے کہ انھوں نے سحرخیزی کی عادت ترک کی، گریۂ ہاے صبح گاہی کو چھوڑا اور اس طرح خودی سے دست کش ہو کر ذلّت ونُکبت کا شکار ہوگئے۔ یہ شکوہ مختلف مقامات پر مختلف انداز سے سامنے آتا ہے:

کس قدر تم پہ گراں، صبح کی بیداری ہے

ہم سے کب پیار ہے؟ ہاں نیند تمھیں پیاری ہے

(بانگِ درا، ص ۲۰۱)

فغانِ نیم شب شاعر کی بارِ گوش ہوتی ہے

نہ ہو جب چشمِ محفل، آشناے لطفِ بے خوابی

(ایضاً، ص ۲۳۸)

خال خال اس قوم میں، اب تک نظر آتے ہیں وہ

کرتے ہیں اشکِ سحرگاہی سے جو ظالم، وضو

(ارمغانِ حجاز ، مشمولہ : کلیاتِ اقبال، اردو، ص ۱۲/۶۵۴)

بہ خواب رفتہ جوانان و مردہ دل پیراں

نصیبِ سینۂ کس، آہِ صبح گاہے نیست

(پیامِ مشرق ، ص ۱۸۱)

دورِ جدید میں مختلف اور متضاد علمی و سائنسی اور انقلابی نظریات کے درمیان ٹکراؤ اور تہذیبوں کے درمیان کش مکش تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ امّت ِمسلمہ اپنی تاریخ کے دامن میں علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کا ایک عظیم الشان سرمایہ رکھتی ہے۔ اس اعتبار سے عصرِحاضر کے چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے اس پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک اس چیلنج کا جواب صرف اس داخلی اور روحانی قوت اور فقروقناعت پسندی کے ذریعے دیا جا سکتا ہے جو کارزارِ حیات میں مردِ مومن کا اصل سرمایہ اور کش مکش و کشاکش میں کامیابی کے لیے اس کا کارگر ہتھیار ہے۔ روحانی قوت اور فقر کا سرمایہ، ذوقِ سحرخیزی کے ذریعے ہی فراہم ہو سکتا ہے اور یہی تقویمِ خودی کا راز ہے۔

اقبال ،امّتِ مسلمہ کے نوجوانوں کے لیے بطورِ خاص دعاگو ہیں کہ خدا انھیں ذوقِ سحرخیزی کی دولت سے نوازے:

بے اشکِ سحرگاہی، تقویمِ خودی مشکل

یہ لالۂ پیکانی، خوش تر ہے کنارِ جو

(ضرب کلیم ، ص ۱۷۳)

جوانوں کو مری آہِ سحر دے

پھر، ان شاہیں بچوں کو بال و پر  دے

(بالِ جبریل ، ص ۸۶)

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے

مرا عشق، میری نظر بخش دے

مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں

مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں

مرے نالۂ نیم شب کا نیاز

مری خلوت و انجمن کا گداز

(ایضاً، ص ۱۲۴، ۱۲۵)

سوزِ او را از نگاہِ من بگیر

یا ز آہِ صبح گاہِ من بگیر

(جاوید نامہ ، ص ۱۹۹)

ہر درد مند دل کو، رونا مرا رلا دے

بے ہوش جو پڑے ہیں، شاید انھیں جگا دے

(بانگِ درا، ص ۴۸)

بالِ جبریل میں ’اذان‘ کے عنوان سے ایک چھوٹی سی نظم ہے۔ اس میں اقبال نے مسلمانوں کے ذوقِ سحرخیزی کو ازسرِنو تازہ کرنے اور ان پر شب بیداری کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ چاند ستاروں کا ایک مکالمہ ہے۔ انداز نہایت حکیمانہ ہے۔ مسلمانوں کو ان کی غفلت کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ ان کے مقام و مرتبے کی عظمت کا اظہار و اعتراف بھی کیا ہے۔ چاند، انسان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ستاروں سے مخاطب ہے:

واقف ہو اگر لذّتِ بیداریِ شب سے

اونچی ہے ثرّیا سے بھی یہ خاکِ پُراسرار

آغوش میں اس کی وہ تجلّی ہے کہ جس میں

کھو جائیں گے افلاک کے سب ثابت و سیّار

(بالِ جبریل ،ص ۱۴۵)

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، شب بیداری، سحرخیزی اور آہِ صبح گاہی کا منطقی نتیجہ تقویمِ خودی ہے۔ اقبال اپنی بے خوابیوں اور شب بیداریوں کے نتیجے میں ’اس لذتِ آہِ سحرگاہی‘ سے بہرہ ور تھے، جس کا ثمر قیام و استحکامِ خودی ہے، لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر یہ ساری مشق ’مذہب ملّا و جمادات‘ کا حصہ شمار ہو گی جس کا حاصل کچھ بھی نہیں۔ گویا سحرخیزی، شب بیداری اور فغان و فریاد ایک ظاہری عمل ہے، تو استحکام خودی اس کی روح ہے۔ روح کے بغیر ظاہری عمل، ایک مردہ جسم ہے جس سے اقبال تو کیا، کسی بھی ہوش مند شخص کو ذرّہ برابر دل چسپی نہیں ہو سکتی۔ اگر شب بیداری ایک رسم یا دین داری کی نمایش بن کر رہ جائے تو یہ محض ریاکاری ہو گی جس کا حاصل حصول کچھ نہ ہوگا۔ علّامہ اقبال ایسی عبادت اور سحرخیزی کو مردود قرار دیتے ہیں:

یہ ذکرِ نیم شبی، یہ مراقبے، یہ سرور

تری خودی کے نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں

(ضربِ کلیم، ص ۳۴)

کر سکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی

ممکن نہیں تخلیقِ خودی خانقہوں سے

اے پیرِ حرم! تیری مناجاتِ سحر کیا؟

اس شعلۂ نم خوردہ سے ٹوٹے گا شرر کیا!

(ایضاً، ص ۱۷۳)

مست رکھو ذکر و فکرِ صبح گاہی میں اسے

پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے

(ارمغانِ حجاز ، مشمولہ : کلیاتِ اقبال، اردو، ص ۱۵/۶۵۷)

کارگاہِ حیات میں اگر شیطانی اور طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو صرف اس طرح کہ نالہ ہاے سحری سے خودی کو تقویت پہنچائی جائے۔ دنیا کی باطل قوتیں، بشمولِ ابلیس، اسی سحرخیز مسلمان سے خوفزدہ ہیں۔ ابلیس اپنے مشیروں کو یہ فرمان جاری کرتا ہے کہ مسلم شب زندہ دار کو خانقاہی رنگ کے ذکرِ صبح گاہی میں مست و مدہوش رکھو۔ پیرانِ حرم کو بھی خدشہ ہے کہ سحرخیز مردِمومن، ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں:

حریف اپنا سمجھ رہے ہیں خدایانِ خانقاہی

انھیں یہ ڈر ہے کہ میرے نالوں سے شق نہ ہو سنگِ آستانہ

(ایضاً، ص ۴۴/۶۸۶)

مگر علّامہ اقبال کی یہی تلقین ہے کہ:

از خوابِ گراں، خوابِ گراں، خوابِ گراں خیز

از خوابِ گراں خیز

(زبورِ عجم ،ص ۸۱)

علّامہ اقبال عمر بھر جس ’جہانِ تازہ‘ کی تلاش و تشکیل کے لیے آرزومند اور اس کی فکر میں جس طرح غلطاں و پیچاں رہے، اس کی رمز اسی ذوقِ سحرخیزی اور نواہاے سحرگاہی میں پوشیدہ ہے:

نہ ستارے میں ہے، نے گردشِ افلاک میں ہے

تیری تقدیر مرے نالۂ بے باک میں ہے

کیا عجب میری نواہاے سحرگاہی سے

زندہ ہو جائے، وہ آتش کہ تری خاک میں ہے

(بالِ جبریل ، ص ۶۵)