اگست ۲۰۱۶

فہرست مضامین

کشمیر کی تحریک ِ آزادی کا موجودہ مرحلہ اور ہماری ذمہ داری

پروفیسر خورشید احمد | اگست ۲۰۱۶ | اشارات

۸جولائی۲۰۱۶ء کشمیر کی تحریکِ آزادی کی تاریخ میں ایک روشن سنگ ِ میل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ ۲۱سالہ مجاہد بُرہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت نے اس تحریک کوایک نئے اور فیصلہ کن دور میں داخل کردیا ہے۔ ہماری نگاہ میں یہ ایک تاریخی موڑ ہے جسے اچھی طرح سمجھنا اور حالات کے گہرے ادراک اور مستقبل کے حقیقت پسند انہ امکانات کی روشنی میں صحیح، جامع اور مؤثر پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔ بُرہان وانی شہید کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے لیکن وقت کی اصل ضرورت حالات کے دھارے کو سمجھنے اور اس عظیم تحریک کی حفاظت ، اس کی ترقی اور اسے حقیقی کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان پر توجہ مرکوز کرنے کی ہے۔ شہدا کی قربانیوں کو صحیح خراج تحسین اس تحریک کوآگے بڑھانے اور کامیابی سے ہم کنار کرنے کی سعی و جہد میں ہے اور اس کی فکر پاکستانی قوم، اس کی سیاسی اور عسکری قیادت اور پوری اُمت مسلمہ اور حق پرست انسانوں اور آزادی کے پرستاروں کو کرنی چاہیے۔

کشمیر کے سلسلے میں جولائی کا مہینہ ہر دواعتبار سے تو گذشتہ ۸۵برس سے اہم تھا، یعنی ۱۳جولائی ۱۹۳۱ء کو ڈوگرہ راج کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کا آغاز ہوا، جسے برعظیم کے مسلمانوں کی مکمل تائید حاصل تھی۔ ۱۹جولائی ۱۹۴۷ء کو جموں و کشمیر مسلم کانفرنس (جسے ۱۹۴۷ء کے کشمیر کے انتخابات میں مسلمانوں کی ۱۶ نشستیں حاصل کر کے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی ترجمانی کا مقام حاصل ہوگیا تھا) کی الحاقِ پاکستان کی قرارداد کے ذریعے جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی سیاسی منزل کا تعین ہوگیا۔

جولائی ۱۹۳۱ء سے جولائی ۲۰۱۶ء تک تحریکِ آزادی مختلف اَدوار میں بڑے بڑے نشیب و فراز سے اسے گزرتی رہی ہے لیکن ۸جولائی کو مجاہد بُرہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت ، بھارتی حکومت کی اندھی قوت کے ذریعے تحریکِ آزادی کو کچلنے کی کوشش اور اس پر کشمیری  مسلمانوں کے شدید ردعمل نے عوامی تحریک اور جذبات کو قوت کے ذریعے ختم کرنے کی پالیسی کے دیوالیہ پن کو ایک بار پھر دو اور دو چار کی طرح واضح کر دیا ہے۔

ان سطور کے ضبط ِ تحریر میں لانے تک ۶۰سے زیادہ افراد شہید ہوچکے ہیں۔ ساڑھے تین ہزار زخمی ہیں، کرفیو کا سلسلہ صرف ایک دن کے خونی استثنا کے ساتھ جاری ہے۔ کاروبارِ زندگی مفلوج ہے، اخبارات اور معلومات کے تمام معروف ذرائع کا بشمول ٹیلی فون اور انٹرنیٹ گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود عوامی جذبات کا ریلا پوری طرح رواں دواں ہے اور سرکاری دہشت گردی کے باوجود آزادی کا نعرہ اس طرح بام و دَر میں گونج رہا ہے جس طرح نوجوان مجاہدین کی شہادت کے بعد رُونما ہواتھا۔ بھارت کے ذرائع ابلاغ، دانش ور، پالیسی پر اثرانداز ہونے والے ادارے اور عالمی قوتیں جس بے حسی اور بے دردی سے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو نظرانداز کررہے تھے، ان میں بھی ایک ارتعاش پیدا ہوا ہے اور جو منقار زیر پر تھے، وہ بھی اب یہ سوچنے اور آہستہ آہستہ بڑبڑانے پر مجبور ہورہے ہیں کہ یہ سب کیا ہے اور اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اب تک جن پالیسیوں پر عمل کیا گیا ہے، کیا ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

بُرہان وانی کی شھادت اور زمینی حقائق

مجاہد بُرہان وانی کی شہادت کی جگہ خاص و عام کے لیے زیارت کا مقام بن گئی ہے اور الجزیرہ ٹیلی وژن کا نمایندہ شہادت کے پانچ دن کے بعد جاے شہادت یعنی کاوپور کے علاقے میں واقع چھوٹے سے گائوں ’بمدور‘ اور بُرہان کی جاے پیدایش اور مقامِ تدفین ترال پہنچا۔ اس نے اپنے اور کشمیر کے عوام کے جو تاثرات الجزیرہ کے ۱۵جولائی کے پروگرام میں نشر کیے ہیں، وہ زمینی حقائق کو سمجھنے میں مددگار ہیں۔ رپورٹ الجزیرہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے اور خاصی طویل ہے۔ ہم صرف چند اقتباسات دے رہے ہیں:

بمدور( اننت ناگ) بھارتی مقبوضہ کشمیر___ کالے کوّوں کی آواز کے سوا جو ٹین کی ہر چھت سے آرہی ہے،یہاں مکمل خاموشی ہے۔ یہ بدھ کی صبح ہے، اور تھوڑی دیر کے لیے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں کوئی نہیں رہتا۔ دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں، درجنوں کوّے ہیں اور خاموشی ہے۔ یہ کاوپور کے علاقے میں ہے جس کے لفظی معنی کوّوں کے مسکن کے ہیں جو ’بمدور‘ گائوں کے نزدیک واقع ہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے بہت سے مکانات ہیں۔ جھاڑیاں، چشمے اور وسیع و عریض دھان کے کھیت ہیں۔ اس بغاوت کا گذشتہ جمعے کو یہاں سے آغاز ہوا جس نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

ایک تنگ راستے پر جو مرکزی سڑک سے مکانات کی طرف جاتا ہے پتھروں، لاٹھیوں اور رسیوں کے چوکور رقبے میں کوّے اور کالے اور ہرے جھنڈوں کے درمیان اس جگہ کا نشان ہے جہاں ۲۲سالہ لڑکے بُرہان وانی کو قتل کیا گیا۔ یہ زیارت کی ایک جگہ بن گئی ہے۔ پچھلے ہفتے تک کوئی کبھی یہاں نہیں آیا تھا۔ اس گائوں میں کبھی کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ۲۴سالہ انجینیرنگ کے طالب علم شوکت احمد نے کہا: ’’گذشتہ پانچ دنوں سے روزانہ یہاں ایک ہزار سے بھی زیادہ لوگ آتے ہیں کہ بُرہان کو یہاں قتل کیا گیا تھا‘‘۔

اس رپورٹ میں بُرہان کے خنجربکف مجاہد بننے، دوسروں کو بیدار کرنے اور پھر شہادت کے بعد آخری سفر کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے:

۲۰۱۰ء میں وانی نے جب وہ ۱۵سال کا لڑکا تھا، بندوق اُٹھائی۔ لیکن دوسرے لڑنے والوں کی طرح اس نے اپنا دوسرا نام یا لقب نہ رکھا اور اپنی شناخت کو نہ چھپایا۔ اس کے بجاے اس نے اپنی تصاویر اور وِڈیو فیس بک جیسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں اور یہ کرتے ہوئے اس نے کشمیریوں کی نئی نسل کو اپیل کی۔ اس طرح عوام کے تصور میں مسلح مزاحمت عود کرآئی۔ وانی ہرگھر کا جانا پہچانا نام بن گیا۔ ہفتے کی صبح تقریباً ۲لاکھ افراد نے ترال میں اس کی نمازِ جنازہ ادا کی۔ جب اسے دفن کیا گیا تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک بغاوت برپا ہوچکی تھی۔

دوسری رپورٹوں میں مزید تفصیل ہے کہ ترال میں مسلسل ۴۰بار نمازِ جنازہ ہوئی اور نمازیوں کا اندازہ ۶لاکھ بتایا گیا ہے۔ اس طرح سری نگر کی جامع مسجد میں غائبانہ نمازِ جنازہ میں  تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔ کشمیر کی وادی کا کوئی قابلِ ذکر مقام ایسا نہیں جہاں نمازِ جنازہ نہ ہوئی ہو۔ بیرونی ممالک میں بھی یہی کیفیت تھی۔

الجزیرہ کا نامہ نگار پورے علاقے میں گھوم پھر کر، ان ہسپتالوں کے چکّر لگاکر جہاں زخمی زیرعلاج ہیں، ان حالات کا خلاصہ بیان کرتا ہے جن سے کشمیر کے مسلمان مرد وزن، بوڑھے اور بچے دوچار ہیں اور ان کے ساتھ ان جذبات، احساسات اور عزائم کا بھی کھل کر ذکر کرتا ہے جو اس وقت ان کے سینوں میں موجزن ہیں اور جو تحریک کے موجودہ اور آنے والے مرحلوں کو سمجھنے اور ان کو صحیح رُخ پر آگے بڑھانے کے لیے سامنے رکھنا ضروری ہیں۔

ایک ۷۹سالہ بزرگ خاتون نے ہسپتال میں اپنی آپ بیتی یوں بیان کی:

وہ کہتی ہے کہ مقامی پولیس افسروں نے اسے گوریوان کے قریب اس کے مکان پر اسے زد و کوب کیا جب وہ اس کے سب سے چھوٹے بیٹے کی تلاش میں جو کہ ایک جاناپہچانا احتجاج کرنے والا ہے، آئے تھے۔ اس کی سیدھی ٹانگ سوجی ہوئی ہے اور ٹخنے سے گھٹنے تک زخمی ہے۔ اس کی دوسری ٹانگ پر ۱۳ٹانکے لگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے مجھے مارا اور یہ بھی نہ دیکھا کہ میں ایک بیمار اور بوڑھی عورت ہوں۔ وہ گھٹی گھٹی آواز میں کہتی ہے کہ ان میں سے ایک نے مجھے فرش پر لٹا دیا اور میرے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ اس کا پوتا محمدآصف بتاتا ہے کہ پولیس والوں نے قیمہ بنانے والے لکڑی کے ڈنڈے سے جو قریب ہی پڑا تھا، اسے مارا۔ انھوں نے گھر میں موجود تمام عورتوں کو مارا۔ ایک دوسرا ۱۵سالہ پوتا بتاتا ہے کہ انھوں نے میری ۱۲سالہ بہن کو برہنہ کر دیا۔ میں خواہش ہی کرسکتا ہوں کہ کاش! میں گھر میں نہ ہوتا۔ تین راتوں سے میں سو نہیں پایا۔ میری عریاں بہن کا تصور مجھے پریشان کرتا رہتا ہے، یہ مجھ کو سونے نہیں دیتا۔ پچھلے تین دن سے میں نے صرف یہ سوچا ہے کہ ان پولیس والوں کو جنھوں نے میری بہن کو عریاں کیا، قتل کردوں۔

اس طرح کے جانے پہچانے احتجاج کرنے والوں کو پولیس جب گرفتار کرتی ہے تو بغاوت اُٹھتی نظر آتی ہے۔ عمر جیسے سیکڑوں نوجوان احتجاج میں شریک ہوجاتے ہیں۔

ہم یہ حقائق دل سخت کر کے اور بڑی شرمساری کے جذبات کے ساتھ شائع کر رہے ہیں لیکن یہ دنیا کو پہلی مرتبہ معلوم ہو رہا ہے کہ کشمیری مسلمان ۸۵سال سے کس عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اُفق پر روشنی کی لکیر وہ بے خوفی اور حالات کے مقابلے کا نیا عزم ہے جو اَب نوجوانوں کے سینے میں موجزن اور آنکھوں سے عیاں ہے۔ نامہ نگار لکھتا ہے:

ہسپتال سے باہر میں زبیر سے ملا جو کہ فری میڈیکل کیمپ کا ایک رضاکار تھا۔ اس دفعہ کے احتجاج میں پہلے سے فرق کے بارے میں گفتگو کے دوران وہ بے خیالی میں چھروں والی گن سے بنے ہوئے سوراخوں کو کھجانے کے لیے اپنی نیلی ٹی شرٹ اُٹھاتا ہے جو بھارتی فورسز احتجاج کرنے والوں کو روکنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس دفعہ لوگوں کے کوئی بھی مطالبات نہیں ہیں، کوئی بھی نہیں۔ وہ قانون میں کوئی بہتری نہیں چاہتے، نہ کسی مقدمے کی تفتیش چاہتے ہیں، کچھ بھی نہیں۔ یہ بُرہان کی موت کے غم کا اظہار تھا یا اس کی زندگی کی تقریب تھی،یا اس سے بھی زیادہ تھا۔    وہ کہتا ہے کہ ’’یہ وقت ہے کہ ہم نے لفظ آزادی کو ایک بار پھر دُہرایا‘‘۔  ۱؎

بھارتی اور مغربی میڈیا نے کشمیر کے حالات کے باب میں مجرمانہ بلیک آئوٹ کی روش اختیار کر رکھی تھی۔ غالباً یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چند بھارتی اخبارات اور تھوڑے بہت مغربی میڈیا پر کچھ چیزیں آنا شروع ہوئی ہیں۔ کشمیر کے اندر ظلم و استبداد پر خاموشی اور سپردگی (surrender) کے مقابلے میں مزاحمت اور بے خوفی کے ساتھ جوابی جدوجہد کا عزم نمایاں ہے اور اس میں نوجوانوں کا کردار سب سے اہم اور نمایاں ہے جو اس وقت آبادی کا ۶۰ فی صد ہیں۔ ایک طرف بھارتی حکمرانی اور بھارت نواز مقامی حکومتوں اور عناصر سے بے زاری اور نفرت اور دوسری طرف قوت کے خوف کی جگہ بے خوفی اور حالات سے ٹکر لینے کا عزم جسے جدید سیاسی اصطلاح میں انتفاضہ (popular uprising) اور بندوق کے مقابلے میں پتھر (Stone vs Gun) سے جواب کے عنوان سے بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں تحریکِ آزادی اب داخل ہوچکی ہے اور اس جوہری تبدیلی کی روشنی میں حالات کے ازسرِنو جائزہ لینے اور نئے حالات کے مطابق کشمیر میں، پاکستان میں، بھارت میں، عالمِ اسلام میں، اور عالمی محاذوں پر نئی پالیسی اور اقدامات کی فکر، وقت کی سب سے بڑی ضرورت بن گئی ہے۔

بہارتی کشمیر پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ

آگے بڑھنے سے پہلے ہم ضروری سمجھتے ہیں زمینی صورتِ حال میں جو تبدیلی آئی ہے اور اس کا جو تھوڑا بہت ادراک اب تمام ہی حلقوں میں ماسواے بھارت کی مودی سرکار اور پاکستان کے کچھ لبرل دانش وروں، اینکر پرسنز اور سیمفا جیسے اداروں سے وابستہ صحافیوں کے ہو رہا ہے، اس پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ ہم نمونے کے طور پر چند مثالیں کر رہے ہیں جو دیگ کے چند چاولوں کے مانند حالات کو سمجھنے میں مددگار ہوسکتے ہیں۔

کلدیپ نائر بھارت کا ایک نام وَر صحافی ہے، سفارت کی ذمہ داریاں بھی ادا کرچکا ہے۔ بھارت کے مفادات کی حفاظت میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن بھارتی حکومت کی کشمیر پالیسی پر    دل گرفتہ ہے اور بھارت کے مفاد میں اسے غلط سمجھتا ہے اور فوری تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ اس کے چند حالیہ مضامین میں اس فکرمندی کو صاف دیکھا جاسکتاہے۔ ۹؍اگست ۲۰۱۵ء کے Syndicated Article میں جو پاکستان ٹوڈے میں بھی شائع ہوا ہے، وہ بڑے دُکھ کے ساتھ اعتراف کرتا ہے کہ:

پانچ سال سے کم عرصے میں کشمیر اتنا زیادہ بدل چکا ہے کہ پہچانا نہیں جاتا۔ گذشتہ مرتبہ جب میں سری نگر آیا تھا تو وادی کا بھارت دشمن ہونا نظر آتا ہے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ پاکستان کے حمایتی ہوگئے ہیں، اگرچہ اندرونِ سری نگر کچھ سبز پرچم نظر آتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ علیحدگی جو پہلے بھی نظر آتی تھی، وہ اب غصے میں بدل گئی ہے۔

کشمیریوں کا احتجاج  جو کم یا زیادہ پُرامن ہے، اپنے انداز اور آہنگ میں اسلامی ہے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ یہ اظہار کا ایک ذریعہ ہے، نہ کہ اصل بات۔ اصل بات یہ ہے کہ کشمیری اپنا ملک چاہتے ہیں۔ بھارت میں بہت سے لوگ یہ شبہہ کرتے ہیں کہ ایک خودمختار کشمیر صرف ایک واہمہ ہے۔ کشمیریوں کا اصل ارادہ پاکستان میں شامل ہونے کا ہے مگر میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ آزادی کا تصور ایک خواب کی طرح ہے اور اس نے کشمیریوں کو اپنے ساتھ بہا لیا ہے، اس لیے کشمیریوں کی اصل خواہش کے بارے میں کچھ شبہہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے جب میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ خودمختار کشمیر کا مطالبہ اگر ماناگیا تو بھارت میں بھی مسلمانوں پر بڑا کڑا وقت آئے گا تو میں ان کے غصے سے بھرے چہرے دیکھ سکتا تھا۔ ہندو یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر کشمیری مسلمان ۷۰سال تک بھارت کے ساتھ رہنے کے باوجود آزادی چاہتے ہیں تو ۱۶کروڑ مسلمانوں کی وفاداری کی کیا ضمانت ہے؟

اس کے بعد کلدیپ نائر نے ذاتی اور انسانی سطح پر مسلمانوں اور ہندوئوں میں بُعد کا بھی ذکر بڑے چشم کشا انداز میں کیا ہے:

جس بات نے مجھے سب سے زیادہ مایوس کیا، وہ کشمیر میں درمیانی صورتِ حال (grey area) کا غائب ہوجانا ہے جو کچھ برس پہلے نظر آتی تھی۔ موقف اتنے سخت ہوگئے ہیں کہ مسلمانوں اور ہندوئوں میں معاشرتی روابط ختم ہوگئے ہیں۔ میں ذاتی مثال افسوس کے ساتھ دے رہا ہوں۔

پھر وہ لکھتا ہے: سیف ملک اور سیّدشاہ جیسے قائدین جن سے اس کے برسوں سے ذاتی اور گہرے تعلقات تھے، ان تک نے اس سے ملنے کی ضرورت محسوس نہ کی جس کا اسے بے پناہ افسوس ہے اور جو دونوں کمیونٹیز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کی علامت ہے جو بالآخرعلیحدگی پر منتج ہوئی ہے۔ کلدیپ نائر اس سماجی تبدیلی پر بھی اپنی شدید پریشانی کا اظہار کرتا ہے۔

سیاسی حل کی ضرورت پر زور

کلدیپ نائر مئی ۲۰۱۶ء میں کشمیر پھر جاتا ہے۔ مجاہد بُرہانی کی شہادت سے صرف ایک دو مہینے پہلے، اپنے ۱۳مئی ۲۰۱۶ء کے مضمون میں جو بھارتی اخبار The Daily........ میں شائع ہوا ہے وہ ایک طرف عسکریت میں کمی کا اعتراف کرتا ہے تو دوسری طرف پوری آبادی کے اضطراب،   بے چینی اور بے زاری کے احساس کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔ بھارت سے آزادی کو تو وہ  ناقابلِ تصور سمجھتا ہے۔ البتہ بھارت کے اندر خودمختاری اور مسئلے کے عسکری کے مقابلے میں سیاسی حل کے لیے حکومت کو پوری قوت سے متوجہ کرتا ہے۔ ریاست میں جو لاوا پک رہا ہے، اس کا اسے پورا احساس ہے اور ۸جولائی کے بعد جو دیکھنا نہیں چاہتے تھے، وہ بھی دیکھنے پر مجبور ہوگئے ہیں:

کشمیر اس مفہوم میں معمول کے مطابق ہے کہ وہاں پتھر پھینکنے کے واقعات نہیں ہورہے۔ عسکریت بھی آخری دموں پر ہے لیکن وادی میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ اگر ایک دفعہ بھی آپ وہاں جائیں تو آپ اس کا ذائقہ چکھ لیں گے۔ اس کی کوئی ایک وجہ بتانا مشکل ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔ سب سے زیادہ پورے بھارت پر چھایا ہوا یہ احساس ہے کہ یہ بھارت کی طرف سے سب کچھ ہے ۔اگر کشمیر کو صرف  تین اُمور میں اختیار دے دیا جائے، یعنی: دفاع، اُمورخارجہ اور مواصلات۔ شکایت صحیح لگتی ہے اس لیے کہ ایک ریاست خودمختاری کرسکتی ہے جتنی وہ چاہے، لیکن وفاق دیگر اختیارات غصب نہیں کرسکتا۔ نئی دہلی نے ٹھیک یہی بات کی ہے۔ یہی بات وزیراعظم جواہر لال نہرو اور شیخ عبداللہ کے راستے میں آئی جو بڑے گہرے دوست تھے۔ شیخ عبداللہ نے ۱۲سال قید میں گزارے۔ نہرو کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ ایسا ہی شدید مسئلے میں آج بھی نئی دہلی اور کشمیرگرفتار ہیں۔ ایک وزیراعلیٰ مرکز سے اچھے تعلقات کس طرح رکھے اور وادی کو ایک آزاد تشخص بھی دے؟ ریاست کی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ ایک مستقل مسئلہ ہے۔

وہ جو کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھتے ہیں دستور کی دفعہ ۳۷۰ کو جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے، ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک طرف دستور سے انحراف کر رہے ہیں اور دوسری طرف کشمیریوں کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ یہ سب سے بڑی وجہ ہے کہ بھارت سے الحاق پر سنجیدہ سوالات اُٹھ رہے ہیں ۔ ماضی میں خودمختار کشمیر کا نعرہ جو بہت کم لوگوں کی توجہ حاصل کرتا تھا، اب بہت زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کرتا ہے اور یہ تعجب کی بات نہیں کہ ہر روز ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے بعد کلدیپ نائر اُردو کے بارے میں مرکزی حکومت کے رویے اور کشمیری عوام کے اضطراب اور بے زاری کا ذکر کرتا ہے جو کلچرل سطح پر کشمیر اور بھارت کو دُور لے جانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس لیے کہ اس کے الفاظ میں:

کشمیری شدت سے محسوس کرتے ہیں اور مرکزی حکومت اُردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کررہی ہے، وہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس صورتِ حال کی فوراً تلافی کی جائے۔

اس کے بعد وہ اس دل چسپ سوال سے تعرض کرتا ہے کہ عوام خود عسکریت کے خلاف کیوں نہیں اُٹھتے؟ اس کا جواب سننے کے لائق ہے:

مگر وہ جو خود عسکریت پسندوں کو باہر نکالنے کے لیے بندوقیں اور دوسرا اسلحہ نہیں     اُٹھا رہے، اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ ان سے خوف زدہ ہیں اور دوسری وجہ ایک عام احساس ہے کہ عسکریت پسند ان کو ایک شناخت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس لیے وادی کے اندر اگر عسکریت کو مزاحمت نہیں مل رہی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علیحدگی کا ایک حصہ ہے۔

کلدیپ نائر متنبہ کرتا ہے کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالنا ازبس ضروری ہے اور اس کی نگاہ میں ۱۹۵۳ء کے معاہدے کی بنیاد پر آج بھی کشمیریوں کو ساتھ رکھا جاسکتاہے بشرطیکہ مرکزی حکومت دیانت داری کے ساتھ، کشمیر میں عوام کو اعتماد میں لے کر، سیاسی حقوق کی بحالی، معاشی امداد اور مواقع کی فراہمی ، بھارت کی منڈیوں کو کشمیر کے لیے کھولنے، کشمیر کی شناخت کے احترام، فوری طور پر تین اُمور___ یعنی اُمورِ خارجہ، مالیات اور کمیونی کیشنز کے سوا تمام اختیارات ریاست کو دے۔ ان تمام قوانین کو منسوخ کردے جو ان اُمور کے علاوہ مرکز نے بنا کر ریاست میں نافذ کیے ہیں اور فوج اور فوجی کارروائیوں کو جو تحفظ اور اختیارات The Armed Forces میں حاصل ہے اور  جس کے سہارے ۲۵سال سے مرکزی حکومت قوت کا استعمال کر رہی ہے ، جو اسے ختم کیا جائے۔ اگر یہ نہ کیا گیا تو حالات مزید بگڑنے کا خطرہ ہے۔

اصل مسئلے کا ادراک

کلدیپ نائر نے اصل زمینی حالات کو ٹھیک سے بھانپ لیا ہے مگر جو حل وہ تجویز کر رہا ہے وہ نہ ۱۹۵۳ء میں کسی کام آیا، بلکہ شیخ عبداللہ کو ۱۲سال جیل کی ہوا کھانا پڑی اور نہ آج یہ کوئی حقیقی حل ہے بلکہ نہ ۱۹۵۳ء میں اس سے کشمیری عوام کو مطمئن کیا گیا اور نہ آج کیا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ  حق خودارادیت (right of self-determination) کا ہے جس کی اصل یہ ہے کہ ڈوگرہ راج اور بھارتی راج دونوں سامراجی اقتدار (occupation) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بھارت نے دھوکے، چالاکی، عسکری یلغار اور قوت کے بے محابا استعمال سے استبداد اور غلبے کا ہرحربہ استعمال کرتے ہوئے ۱۹۴۷ء سے ریاست جموں و کشمیر کے ۶۰ فی صد رقبے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس قبضے سے آزادی اور نجات اصل مسئلہ ہے۔

دوسرا پہلو بھی کچھ کم اہم نہیں اور اس کا تعلق ریاست اور اس کی عظیم اکثریت کی نظریاتی، دینی، اخلاقی، تہذیبی اور سماجی شناخت کا ہے اور اس کا بھی تقاضا ہے کہ ریاست کے لوگوں کو مکمل آزادی ہو، تاکہ وہ اپنی مرضی سے اپنا نظامِ زندگی وضع کریں اور سیاسی غلامی کی وجہ سے جو دینی، نظریاتی، اخلاقی، تہذیبی اور لسانی بگاڑ پیدا ہو رہا ہے، اس سے بھی نجات پائیں اور اپنی اصل شناخت کے مطابق اپنی زندگی اور اپنا مستقبل تعمیر کرسکیں۔ صوبائی خودمختاری، ۱۹۵۳ء کا معاہدہ اور دستورہند کی دفعہ ۳۷۰ کو بھی ان دونوں بنیادی ایشوز کا جواب نہیں اور ۶۹برسوں پر پھیلی ہوئی ناکام اور خون آشام تاریخ کو جزوی اور نمایشی معمولی تبدیلیوں  کے ذریعے کشمیری عوام کے لیے قابلِ قبول نہیں بنایا جاسکتا ۔۸جولائی۲۰۱۶ء اس سیاسی حکمت عملی کے خلاف اعلانِ جہاد ہے اور آزادی اور اسلامی شناخت کی مکمل بحالی کے راستے کو روکنے کی جو کوشش بھی ہوگی خواہ وہ دولت اور قوت کے کیسے ہی بے محابا استعمال سے عبارت ہو ، تحریکِ آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی۔ اور اگر سیاسی، جمہوری اور عوامی راستوں کو بند کیا جائے گا تو پھر فطرت کا تقاضا اور تاریخ کا تجربہ ہے کہ لوہے کو کاٹنے کے لیے لوہا میدان میں آکر رہتا ہے۔

یہی وہ چیز ہے جس کی طرف شیخ عبداللہ کے صاحب زادے فاروق عبداللہ نے جنوری ۲۰۱۶ء میں ایک مضمون لکھ کر توجہ دلائی ہے وہ ایک مدت تک جموں و کشمیر کے وزیراعظم رہ چکے ہیں اور انھیں ۱۹۹۰ء میں اس وقت کان پکڑ کر نکال دیا گیا تھا جب ۱۹۸۷ء کے دھاندلی کے انتخابات کے نتیجے میں ریاست گیر عوامی تحریک نے سیلابی کیفیت اختیار کرلی تھی اور جمہوری راستوں کو بند کرنے کے نتیجے میں عسکری تحریک اُبھری اور ایوانِ اقتدار کو متزلزل کرنے کا ذریعہ بنی۔ انھی فاروق عبداللہ صاحب نے کشمیر کے اخبارات میں اُردو میں ایک مضمون لکھا ہے جسے پڑھ کر کلدیپ نائر صاحب نے سرپکڑ لیا ہے اور خون کے آنسو بہا رہے ہیں۔ کلدیپ نائر اپنے ایک مضمون ’پاکستان، ہندستان اور کشمیر‘ میں جو پاکستان ٹوڈے میں ۷فروری ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے، لکھتے ہیں:

سری نگر کے ایک معروف اُردو رسالے میں ایک مضمون میں فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اس کے مرحوم باپ شیخ عبداللہ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ کشمیر کے نوجوان اپنے حقوق کے لیے بندوق اُٹھا رہے ہیں۔

کلدیپ نائر صاحب نے سارا مضمون فاروق عبداللہ کو جھاڑ پلانے کے لیے وقف کر دیا ہے، اسے شیخ عبداللہ سے بے وفائی قرار دیا ہے۔ کشمیر کے ’صوفی اسلام‘ کے تصور سے بغاوت کہا ہے۔ شیخ عبداللہ کے سیکولرزم اور عالم گیریت کی شان میں قصیدے پڑھے ہیں اور اسے مشورہ دیا ہے کہ اسے عسکریت کے حق میں ایسی بات نہیں کہنی چاہیے تھی بلکہ دستورِہند کی دفعہ۳۷۰ کے اندر خودمختاری پر سارا زور صرف کرنا چاہیے تھا۔ اس کا کہنا ہے:

وہ لوگ جو ہروقت یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس غلط فہمی سے دوچار ہیں کہ ریاست کشمیر کو دستور کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت خودمختاری حاصل ہے جس کے تحت صرف تین اُمور: دفاع، خارجہ اور مواصلات، جب کہ دستور کی دوسری دفعات جو حکومت کو اختیار دیتی ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر پر ان کا اطلاق ریاست کی دستور ساز اسمبلی کی مرضی سے ہوگا۔

فاروق عبداللہ  نے قدوقامت کم کرنے کے لیے اسے کشمیر تک محدود کرنے کی کوشش کی۔ وہ نئی دہلی کو ریاست میں ایسے حالات پیدا کرنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرتا رہا کہ کشمیری اپنے حق کے لیے بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوگئے اس لیے کہ نئی دہلی اپنا وعدہ پورا  کرنے میں ناکام رہی کہ مرکز کے پاس صرف تین اُمور ہوں گے: دفاع، اُمورِخارجہ اور مواصلات، جب کہ باقی ریاست کے اختیار میں ہوں گے۔

کلدیپ نائر اور دوسرے بھارتی دانش وروں کا سیاسی حل کا تصور کشمیری عوام کے لیے ناقابلِ قبول ہے اور آج بے وقت کی راگنی ہے۔ لیکن ہمارے لیے اصل اہم پہلو اس بحث کا یہ ہے کہ کلدیپ نائر جیسے لوگ بھی کھل کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے۔ بھارتی دستور کے مطابق، جس پر کوئی عمل نہیں کر رہا اور جسے ۱۹۵۳ء ہی سے عملاً معطل کیا ہوا ہے، کشمیر پر بھارت کی حاکمیت (sovereignty)مکمل اور غیرمنقسم (absolute) نہیںبلکہ مشروط (conditional) ہے اور باقی تمام صوبوں سے مختلف ہے۔ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر بھارت نے ان شرائط کو توڑ دیا ہے تو وہ معاہدہ بھی پارہ پارہ ہوچکا ہے جس کے سہارے بھارت نے کشمیر پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی نوٹ کیے جانے کے لائق ہے کہ فاروق عبداللہ صاحب بھی آج دبے لفظوں میں وہی بات کہنے کی کوشش کررہے ہیں جو حُریت کانفرنس اور حزب المجاہدین کہہ رہی ہیں یعنی___ بھارت کا قبضہ غیرقانونی ہے اور اس کے خلاف عوامی جدوجہد نہ صرف عوام کا حق بلکہ غلامی سے نجات کا واحد ذریعہ ہے اور مزاحمت کی اس تحریک کو اگر کچلنے کے لیے ریاستی قوت کا استعمال کیا جائے تو اس قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے عوامی عسکریت بھی تحریکِ آزادی (Liberation War) کا حق ہے۔

فاروق عبداللہ کے صاحبزادے عمر عبداللہ نے جو خود بھی وزیراعظم رہ چکے ہیں، مجاہد  بُرہان مظفر وانی کی شہادت پر جو الفاظ کہے ہیں وہ بھی نہ صرف تحریکِ مزاحمت اور تحریکِ آزادی کی صداقت اور افادیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے بلکہ بھارت کی حکومتی دہشت گردی کی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف بھی ہے۔

میرے الفاظ سن لو، بُرہان مظفر وانی کی قبر کے اندر سے جہادی بھرتی کرنے کی صلاحیت، اس کی سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کرنے کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہوگی۔

کسے توقع تھی کہ شیخ عبداللہ کے صاحب زادے اور ان کے پوتے ایک دن یہ بات کہیں گے  ع

ہاے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا!

بھارت کی معروف دانش ور ارون دھتی راے تو ایک مدت سے یہ بات کہہ رہی ہے کہ کشمیر میں بھارت کی حیثیت ایک قابض حکمران (occupying forces) کی ہے اور جو جدوجہد ریاست میں ہورہی ہے وہ ایک قانونی اور جائز (legitimate) تحریکِ آزادی ہے اور جو اس کی تائید نہ کرے، وہ اخلاقی طور پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا ہے۔ ۲۰۱۱ء میں ارون دھتی راے کی ایک کتاب Kashmir: A Case for Freedom شائع ہوچکی ہے جس میں اس نے ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کے قبضے کو غیرقانونی اور غیراخلاقی قرار دیا ہے ۔ بُرہان وانی کی شہادت کے بعد اس کا مضمون بھارت کے رسالے Outlook کی ۲۳جولائی ۲۰۱۶ء کی اشاعت  میں شائع ہوا ہے۔ ہم اس کے چند اقتباسات نذرِ قارئین کرنا چاہتے ہیں:

کشمیر کے عوام نے ایک دفعہ پھر واضح کر دیا ہے سال بہ سال، عشرہ بہ عشرہ، قبربہ قبر واضح کر دیا ہے کہ جو وہ چاہتے ہیں وہ آزادی ہے (عوام کا مطلب ان لوگوں سے نہیں ہے جو فوجی سنگینوں کے سایے میں کیے گئے انتخابات جیت گئے ہیں، اس کے معنی وہ لیڈر نہیں ہیں جنھیں اپنے گھروں میں چھپنا ہوتا ہے اور اس طرح کے حالات میں باہر آنے کی جرأت نہیں کرتے)۔

جب ہم مذمت کرتے ہیں، جیساکہ ہمیں کرنا چاہیے، سیکورٹی فورسز کی غیرمسلح احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کی، ایمبولینسوں اور ہسپتالوں پر پولیس کے حملوں کی، اور چھرے والی بندوق سے نوعمروں کو نابینا بنانے کی، تو ہمیں دماغ میں یہ بات رکھنی چاہیے کہ حقیقی بحث کشمیر کی وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہی کی ہے۔

یہ خلاف ورزی جو بہت قبیح ہے، یہ ناگزیر اور لازمی نتیجہ ہے: عوام کی جدوجہدِ آزادی کو فوج کے ذریعے دبانے کا۔ کشمیری، قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے نہیں لڑ رہے ہیں، اور نہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے لڑرہے ہیں، وہ آزادی کے لیے لڑرہے ہیں۔ اس کے لیے وہ گولیوں کا مقابلہ پتھروں سے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے لیے وہ بڑی تعداد میں مرنے کے لیے تیار ہیں اور کرفیو وغیرہ کی کھلی خلاف ورزی کرنے کے لیے بھی تیار ہیں جو خواہ انھیں موت کی طرف لے جائے، یا دنیا کے سب سے زیادہ فوجی علاقے میں ہرطرح کی قیدوبند کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس کے لیے وہ ہتھیار اُٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ موت تک سے لڑنے کے لیے بھی تیار ہیں یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ نوجوان ہی مریں گے۔ انھوں نے یہ بات نہایت باقاعدگی سے ثابت کی ہے۔ اس کا وہ مستقل مزاجی سے مظاہرہ کررہے ہیں۔

یہ پیش گوئی کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ بھارتی حکومت کو مستقل امن عامہ کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ایک چھوٹا سا گروہ پیدا کر رہا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خطرناک بڑھتا ہوا بحران ہے جس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ ایک ایسے علاقے میں جو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ہے۔ صرف اس وجہ سے ہی اسے پوری دنیا کا مسئلہ ہونا چاہیے۔

اگر ہم بحران کو واقعی حل کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم قتل کرنے اور مارنے کے نہ ختم ہونے والے چکر کو واقعی ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم خون بہنے کو روکنا چاہتے ہیں، تو پہلا قدم یہ ہوگا کہ ہم دیانت داری کی طرف قدم بڑھائیں۔ہمیں ایک دیانت دارانہ گفت و شنید کرنا ہوگی۔ ہمارا نقطۂ نظر کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو، ایک دوسرے کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں،اس گفتگو کا موضوع آزادی کو ہونا ہے۔ کشمیریوں کے لیے آزادی کے لیے ٹھیک ٹھیک مسئلہ کیا ہے؟ اس پر بحث کیوں نہیں ہوسکتی؟ نقشے کب سے اتنے مقدس ہوگئے ہیں؟ کیا کچھ لوگوں کے حق خودارادیت کا کسی بھی قیمت پر انکار کیا جاسکتا ہے؟ کیا بھارت کے عوام اس کے لیے تیار ہیں کہ ہزاروں آدمیوں کے خون کا بوجھ اپنے ضمیر پرلیں؟کس اخلاقی حیثیت سے ہم بات کرتے ہیں جو ہمارے ساتھ ہورہی ہیں؟ کیا بھارت میں کشمیر پر اتفاق راے حقیقی ہے یا خودساختہ ہے؟ کیا یہ وزن رکھتا ہے ؟ اصل تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ کشمیری کیا چاہتے ہیں اور کس طرح ایک پُرامن، جمہوری اور معلوم نظریے تک پہنچا جائے۔

موجودہ مزاحمت کا سبق

یہ آوازیں بدلتے ہوئے حالات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور اس اُمید کو قوی تر کر رہی ہیں کہ استبداد کے نظام کے خلاف جدوجہد میں اعوان و انصار ایسے مقامات سے بھی مل سکتے ہیں جہاں سے گمان بھی نہیں تھا۔ حالات کو بدلنا اور بدلتے ہوئے حالات سے فائدہ اُٹھانا ہی صحیح سیاسی حکمت عملی ہوسکتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہم بھارت کے مؤقر جریدے اکانومک اینڈ پولیٹیکل ویکلی کے ادارتی نوٹ (۱۶ جون ۲۰۱۶ئ) کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں جس کے بغور تجزیے کی ضرورت ہے۔ دو باتیں ایسی ہیں جن پر مذکورہ جریدے نے غور کرنے کی خصوصی دعوت دی ہے: ایک یہ کہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے مقامی (indigenous) ہونے کا اعتراف اور پورے معاملے کو پاکستان کی ’ریشہ دوانی‘ قرار دینے کی بھارتی پالیسی پر تحفظات کا اظہار۔ یہ چیز دوسرے ادارتی نوٹس اور مضامین میں بھی اب آرہی ہے۔ دوسری چیز یہ کہ ’آزادی‘ کے مطالبے کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ سیاسی حل اس ایشو کا سامنا کیے بغیر ممکن نہیں اور لازماً فیصلہ وہی غالب آسکے گا جسے کشمیری عوام کی تائید حاصل ہوگی۔ جمہوری حل (Democratic Solution) کے معنی محض سیاسی اصلاحات نہیں بلکہ پورے مستقبل کے نظام کے بارے میں کشمیری عوام کی راے کو معلوم کرنا اس کے لیے ضروری ہوگی۔ یہ غالباً پہلی مرتبہ ہے کہ مؤقر قومی جریدے میں اس حوالے سے ریفرنڈم کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ یہ بہت ہی اہم  آغاز ہوسکتا ہے۔

 مسئلۂ کشمیر کا کوئی فوجی حل نھیں ھوسکتا

جموں و کشمیر میں مسلح مزاحمت ۹۰-۱۹۸۹ء میں شروع ہوئی جب پُرامن سیاسی حل کی ۴۰سالہ کوششیں ناکام ہوگئیں۔ ۸-۲۰۰۷ء تک عسکریت ذیلی سطح پر آئی تھی اور عوامی سطح پر چھا گئی تھی۔ مسلح عسکریت کا انکار کا مطلب یہ لیا گیا کہ یہ تحریک کی شکست ہے نہ کہ عوامی احتجاج کی ایک شکل جسے احتجاجی دہشت گردی کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد آنے والے انتخابات میں ووٹوں سے آنے کے مطلب کی یہ تعبیر کی گئی ہے کہ لوگوں نے بھارت کی تائید کردی ہے اور آزادی یا تحریک ِ آزادی کو marginalise کردیا گیا ہے۔معاشی بہتری کا مطلب یہ لیا گیا کہ جو کچھ بھی ظلم کیا گیا ہے یہ اسی کی تلافی کردے گا۔ ماضی قریب میں غیرریاستی عوام کو زمین کی منتقلی کا مسئلہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی مسائل کو کتنا پیش نظر رکھا گیا ہے۔

ہم نے ۹۲-۱۹۸۹ء ، ۱۰-۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۳ء میں خونی کریک ڈائون کا مشاہدہ کیا ہے جب بڑی تعداد میں لوگ غیرمسلح باہر آئے اور ان کی ننگی طاقت سے مقابلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اموات واقع ہوئیں، مگر اس دفعہ واضح طور پر کچھ مختلف ہے۔ ۲۰۰۸ء میں ایک قابلِ لحاظ غیرمسلح احتجاج کی طرف بندوقوں سے منتقلی تھی۔ آج یہ چیزیں واضح طور پر مسلح عسکریت کی طرف پیچھے پلٹ آئی ہے۔ بغاوت کا مقابلہ کرنے کے لیے خوف اہمیت رکھتا ہے۔ اگر عسکریت پسندوں کے جنازے لوگوں کے بڑے ہجوم کے لیے کشش رکھیں اور وہ وہاں بڑی تعداد میں جمع ہوں جہاں مقابلہ ہو رہا ہو، تو یہ عوام کی طرف سے اس بات کی علامت ہے کہ وہ بے خوف ہوگئے ہیں۔ یونائیٹڈ پراگرس الائنس کی حکومت ۱۰-۲۰۰۸ء میں تحریک کو روکنے میں ناکام ہوگئی،  اس لیے کہ اس کے پاس پیش کرنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا۔ خودمختاری کی پیش کش اب زیادہ متعلق نہ تھی کیونکہ نئی دہلی نے اس کی بنیاد ختم کرنے کے لیے ۶۹سال تک کام کیا تھا۔ جموں و کشمیر میں ریاست کی شہریت کا مسئلہ، شمال مشرق اور وسطی ہند کے نزدیک کے پہاڑی علاقوں کی طرح تھا، اسے زمین اور حکومتی ملازمتوں سے ……… جموں و کشمیر کے حالیہ وزیرخزانہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیے مرکز کی پالیسی طاقت کے اظہار پر مبنی ہے۔ اس لیے جب ہم کو بتایا جاتا ہے کہ تاریخ کو ۱۹۵۳ء سے پہلے کی طرف لوٹایا نہیں جاسکتا تو یہ اس بات کا اظہار ہے کہ حکومت ہند کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں۔

یہ وہ سیاق و سباق ہے جس میں آج کی مسلح مزاحمت ہوئی ہے۔ بُرہان وانی اور اس کے کمانڈر عسکریت کے نئے مرحلے کی نمایندگی کرتے ہیں۔ وجوہات، تحریکات اور ہتھیار اُٹھانے کی تحریک ان حالات کے نتیجے میں ہے جس کا سامنا بھارتی قبضے میں علاقوں میں ہے یہ وہ نسل ہے جو فوجی جارحیت میں پَل کر جوان ہوئی ہے۔ جس نے ۲۰۱۳ء کی غیرمسلح بغاوت کو کچلتے ہوئے دیکھا ہے اور پھر یہ عسکریت کی طرف بتدریج گئی ہے۔ بُرہان وانی جب قتل کیا گیا تو۲۲سال کا تھا۔ وہ حزب المجاہدین میں ۱۶سال کی عمر میں شامل ہوا تھا۔ا س نے سوشل میڈیا میں جس طرح سے تصاویر اور پیغام کو پھیلایا، اس نے اس کو مقبول بنا دیا۔ اس کا ایک آخری بیان امرناتھ کے زائرین سے خطاب پر مبنی تھا۔ جب بارڈر سیکورٹی فورس نے زائرین پر ایک یقینی حملے کے خدشے کا اظہار کیا تھا۔ بُرہان وانی نے ان کو خوش آمدید کہا اور انھیں یقین دہانی کروائی کہ وہ بغیر کسی اندیشے اور خوف کے آئیں۔ اس کی ہلاکت کے بعد جو کریک ڈائون ہوا، اس نے غم زدہ عوام کو مزید مشتعل کر دیا۔ اب تک ۳۶؍افراد ہلاک ہوچکے ہیں، ۱۵۳۸ زخمی ہوچکے ہیں۔ جن میں سے ایک ہزار سے زیادہ چھروں سے زخمی ہوئے ہیں۔ قابلِ اعتبار ثبوت موجود ہیں کہ قانون نافذ کرنے والوں نے ہسپتال اور ایمبولینس پر حملے کیے۔ اس سے پہلے بھی یہ واقعہ ہوچکا تھا اور مہلک ہتھیار استعمال نہ کرنے کی یقین دہانیاں اب سنگین مذاق بن گیا ہے۔ ۱۱ہزار نئے فوجی بھیجنا اور ۶لاکھ جو پہلے سے موجود ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا۔

وہ اسکالر جو حکمت عملی کے مسائل پر لکھتے ہیں وہ زور دے کر کہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ مقامی لوگ فوجیوں کے سوشل ورک کی تحسین تو کرسکتے ہیں لیکن وہ فوجیوں کو ایک قابض فوج کا حصہ سمجھتے ہیں، اور آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ امن و امان کی صورت قابو میں آسکتی ہے لیکن اگر ہم بھارت سے آزادی کے عوامی مطالبے سے انکار کریں تو یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔ بندوق کی نوک پر اختیارات کے نفاذ کو لوگوں کو ان کی غلامی پر مرضی سے اُلجھاکر (کنفیوز کرکے) یا لوگوں کا ووٹ دینے کے لیے آنے کو تائید سمجھنے کا مطلب بھارت سے علیحدگی کے جذبے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت کمزور وکٹ پر ہے، ہندوئوں کے پھیلائو سے مسلمانوں کے ساتھ ادارتی امتیازی سلوک کی انڈین سیکولرزم کی رفتار تیز کردی ہے۔ پاکستان اور اسلامسٹوں کے پروپیگنڈے کو بُرا بھلا کہنے، اور عسکریوں کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں لگتا کیوں کہ سب کچھ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہورہا ہے۔………………

……………

اتنے طویل عرصے تک تو یہ دہلی کی بہت بڑی نااہلی کا ثبوت ہے۔

ایک آدمی یہ یقین کرنا پسند کرے گا کہ اسٹیبلشمنٹ کے سمجھ دار عناصر حالات کی سنگینی سے آگہی حاصل کریں گے۔ ایک حل جس سے ہم بچتے رہے ہیں ایک جمہوری حل ہے کہ ہم جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کا ایک ریفرنڈم کے ذریعے متعین کریں، جس کا وعدہ فوجی تنازعے کو بڑھنے سے روک سکتا ہے…

ہم نے بھارتی دانش وروں اور اخبارات کے خیالات اپنے قارئین اور ملک کے پالیسی ساز اداروں اور افراد کے غوروفکر کے لیے پیش کیے ہیں کہ ان میں مسئلے کے حل کی تلاش کی ایک کوشش دیکھی جاسکتی ہے۔ خود انھیں بنیاد بنا کر افہام و تفہیم کی نئی کوششیں بروے کار لائی جاسکتی ہیں۔ جگہ کی قلت کے باعث ہم دوسری ایسی کوششوں کو پیش کرنے سے قاصر ہیں لیکن ۸جولائی کے واقعہ کے بعد ہمارے علم و مطالعہ میں دو درجن سے زیادہ جریدوں، اخبارات اور معروف اہلِ قلم کی طرف سے کھلے طور پر یا کچھ ملفوف انداز میں جو باتیں اب کہی جارہی ہیں وہ یہ ہیں:

۱- جموں وکشمیر کا مسئلہ حل طلب ہے۔ اسے ایک طے شدہ یا حل شدہ معاملہ قرار دینا صحیح نہیں ہے۔

۲- مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ فوجی حل کی دو ہی صورتیں ہیں یا ریاستی قوت سے تحریکِ آزادی کو کچل دیا جائے جس کے بہت ہی خون آشام نتائج کم از کم ۱۹۹۰ء سے دیکھے جارہے ہیں۔    اس زمانے میں تحریک کو نشیب و فراز سے سابقہ پیش آیا ہے لیکن ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی ہلاکت، اس سے زیادہ افراد کے زخمی یا معذور کردیے جانے، ہزاروں کی تعداد میں اغوا، گرفتاریاں، گم شدگیاں، جمہوری آزادیوں پر قدغنیں، عصمت دری کو جنگی حربے کے طور پر استعمال کرنے کے علی الرغم تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکا۔ صرف وادیِ کشمیر میں ۶لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی اور معاون operational forces کے استعمال اوران افواج کی کارروائیوں کو ہرقسم کی بازپُرس اور جواب دہی سے روکنے کے باوجود ۲۶سال میں تحریکِ مزاحمت کو نہ صرف ختم نہیں کیا جاسکا بلکہ کیفیت یہ ہے  ع

اتنا ہی پھر اُبھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے

فوجی حل کی دوسری صورت بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی قوت کے استعمال کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کا حل ہے جس کی کوششیں بھی تین سے چار بار ہوچکی ہیں۔ اس کے کچھ نہ کچھ نتائج ضرور نکلے ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور اب دونوں کے ایٹمی طاقت ہونے کے ناتے     یہ راستہ اور بھی خطرناک اور ناقابلِ تصور ہوگیا ہے۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے جو جمہوری اور معتبر ہو۔ یہ راستہ آزادانہ استصواب راے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ یہ ایک تاریخی موقع ہوگا، جس کی طرف پیش رفت ہونی چاہیے۔

۳- کشمیر کی تحریکِ آزادی کے کشمیری کیرکٹر (indigenous character مقامی ہونے) کا بھی اب برملا اعتراف کیا جارہا ہے۔ حزب المجاہدین پہلے دن سے خالص کشمیری تنظیم تھی۔ آل پارٹیز حُریت کانفرنس کی بھی یہی حیثیت ہے جو سیاسی محاذ پر سب سے آگے ہے۔ واجپائی، من موہن سنگھ اور پرویز مشرف جو بیچ کا راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے، وہ بُری طرح ناکام ہوئی اور ۲۰۰۸ء کے امرناتھ ٹرسٹ کو زمین دینے کے معاملے کے خلاف تحریک سے لے کر ۸جولائی تک کے سانحے تک تحریکِ آزادیِ کشمیر کے عسکری پہلوئوں میں کمی اور عوامی جمہوری حمایت اور شرکت کی وسعت نے زمینی صورتِ حال کو تبدیل کر دیا ہے اور ۸جولائی کے واقعے کے بعد کی صورتِ حال نے تحریک کی اصل قوت اور سیاسی اعتبار سے اس کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا لوہا منوا لیا ہے۔ یہ وہ جوہری فرق ہے جو تحریک کے موجودہ مرحلے کو ماضی کے تمام مراحل سے ممیز کررہا ہے۔ اس کا اعتراف بھی پہلی بار اس طرح بھارت میں اور ایک حد تک عالمی میڈیا اور تحقیقی اداروں اور   تھنک ٹینکس کی نگارشات میں ہو رہا ہے۔ امریکا کے مؤقر جریدے فارن پالیسی کے ایک مقالہ نگارنے مئی ۲۰۱۶ء میں ایک مقالہ INDIA IS LOSING KASHMIR اس کی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے جو جولائی کے واقعے سے دو ماہ پہلے کی بات ہے۔

نیویارک ٹائمز نے بھی ۲۱جولائی ۲۰۱۶ء کی اشاعت میں ادارتی طور پر کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتِ حال اور تحریک کے مقامی ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں دسیوں مضامین بھارت کے اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جن میں کسی نہ کسی شکل میں اس زمینی حقیقت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ مسئلے کے حل کی تلاش میں اس تبدیلی کا ایک اہم کردار ہوسکتا ہے۔

۴- چوتھی چیز جو اَب بالعموم صرف دبے الفاظ میں لیکن کہیں کہیں نسبتاً کھل کر تسلیم کی جارہی ہے، یہ ہے جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے، اسے صرف پاکستان کی کارستانی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پرویز مشرف کے دور سے تحریکِ آزادی میں پاکستان کا کردار نمایاں طور پر کم ہوا ہے۔ خصوصیت سے جہادی سرگرمیوں کی مدد تو تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ ۲۰۰۳ء کے بعد جس طرح بارڈر پر اسرائیلی حکمت عملی کے تحت باڑیں اور الیکٹرانک وائرز لگائے گئے ہیں، ان کے نتیجے میں افرادی قوت کا آرپار جانا یا اسلحے کے باب میں مدد تقریباً ناممکن ہوگئے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم پاکستان کی حکومتی پالیسی کے باب میں کنفیوژن، کمزوری اور تنکوں کا سہارا___ اس نے تو پاکستان کے اصولی اور عملی ہردو کرداروں کو بُری طرح مجروح کیا ہے۔ پاکستان سے جو اُمیدیں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بجاطور پر تھیں، ان پر اوس پڑگئی ہے۔ گو پاکستان سے ان کی محبت آج بھی قائم ہے، ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، پاکستانی جھنڈا آج بھی ان کو مرغوب و محبوب ہے۔ بُرہان مظفر وانی کا جسد ِ خاکی پاکستان ہی کے پرچم میں قبر میں اُتارا گیا ہے، مقبوضہ کشمیر میں گھڑیاں پاکستان کے وقت کے مطابق ہی نظامِ اوقات کی صورت گری کرتی ہیں۔ عید اہلِ کشمیر بھارت کے ساتھ نہیں پاکستان کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے، اور ہم بحیثیت قوم اس پر نادم ہیں اور پاکستانی عوام کے جذبات کا خون کر کے پاکستانی حکمرانوں نے اور خصوصیت سے پرویز مشرف کے دور میں ۲۰۰۲ء کے بعد سے جو پالیسیاں اختیار کی گئیں، وہ اصولی اور اسلامی اعتبار سے غلط اور سیاسی اور علاقائی سلامتی و استحکام کے اعتبار سے تباہ کن رہیں جن کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ۱۴سال کے اس کنفیوژن، کمزوری اور بے وفائی کے دو ضمنی نتائج ایسے ضرور نکلے جن میں اللہ تعالیٰ نے شر میں سے خیر کے نکلنے کا معجزہ سب کو دکھاد یا۔ ایک یہ کہ بھارت کا یہ ہتھیار کند ہوگیا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ پاکستان کا کیا دھرا ہے اور آئی ایس آئی اور پاکستان کی جہادی تنظیمیں تحریکِ مزاحمت کی ریڑھ کی ہڈی اور اصل سہارا ہیں۔ دوسرے یہ کہ جو دُکھ بھی اہلِ کشمیر کو پاکستان کی قیادت کی اس کمزوری اور بے وفائی سے پہنچا، انھوں نے اپنا سارا بھروسا اللہ پر اور خود اپنے زورِبازو پر کیا اور اس طرح یہ تحریک تقریباً صد فی صد مقامی تحریک بن گئی اور سب سے زیادہ وہاں کے نوجوانوں نے اس کی باگ ڈور سنبھال کر اسے نئی زندگی، نئی ٹکنالوجی اور نئی سیاسی حکمت عملی سے شادکام کیا۔

اللہ پر بھروسا ان کا سب سے بڑا سہارا بن گیا۔ پاکستان یاترا، ٹریننگ کے لیے باہر جانے کا تصور، باہر سے اسلحہ حاصل کرنے پر بھروسا، عسکری پہلو پر ساری توجہ اور سیاسی، عوامی اور خدمتی میدانوں پر توجہ کی کمی، ان سب اُمور پر ازسرِنو غور کیا جانے لگا۔ نئی حکمت عملی بنائی گئی۔ خودانحصاری کو طریق واردات قرار دیا گیا۔ اسلامی اخلاقی تعلیمات پر بھی زیادہ سختی سے عمل کی فکر کی گئی اور اسلام کے نام پر جو غلط طریقے دنیا کے مختلف مقامات پر اختیار کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے اسلامی جہاد اور دہشت گردی میں جو جوہری اور ہمہ جہتی فرق ہے وہ متاثر اور مجروح ہوا ہے، اس کی تلافی کی فکر کی گئی۔ یہ بڑی بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں ہیں جو اس دور میں نمایاں طور پر کی گئیں اور کی جاتی ہوئی نظر آنے لگیں۔ بُرہان وانی اس عسکریت کی علامت بن گیا جو اَخلاق کی پابند، فساد سے پاک اور صلاح کا ذریعہ ہے۔ بلاشبہہ حزب المجاہدین کا ۱۹۷۱ء کی مشرقی پاکستان کی البدر کی طرح پہلے دن سے یہی مقصد اور ہدف رہا ہے اور ان کی سرگرمیاں اس عہد پر مبنی تھیں کہ وہ   آلۂ ظلم نہیں بنیں گے اور جہاد کے اسلامی آداب و احکام کی مکمل پاس داری کریں گے۔ الحمدللہ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے اس موجودہ دور میں یہ پہلو بہت نمایاں ہے اور اس کا گہرا تعلق اس تصور سے بھی ہے کہ جموں و کشمیر کی تحریکِ آزادی صرف بھارت کی استعماری قوت کی غلامی سے آزادی کی جدوجہد ہونے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کی اصل شناخت___ اسلام اور اسلامی تہذیب و تمدن کی حفاظت، ترویج اور ترقی کے لیے ہے۔ یہ صرف سیاسی مقصد کے لیے ایک تحریک نہیں بلکہ سیاسی تحریک کے اصل مقاصد نظریاتی، دینی ، تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور اخلاقی ہیں۔ تحریک کے اس رنگ اور مزاج کا آئینہ وہ انٹرویو ہے جو بُرہان اور خالد کے والد مظفراحمد وانی نے خالد کی شہادت کے بعد اور بُرہان کی شہادت سے پہلے ہندستان ٹائمز کے نامہ نگار ہریندر بویجا کو اکتوبر ۲۰۱۵ء میں دیا:

سوال: ایک پڑھا لکھا کشمیری نوجوان شدت پسندی کی آواز کیسے بن گیا؟

جواب: ہندستان سے آزادی، یہ نوجوانوں کا ہی نہیں بلکہ ہم سب کا مقصد ہے۔ آپ کو معلوم ہے کشمیر کے حالات کیسے ہیں، ٹرک ڈرائیور یہاں سے جاتا ہے، مار دیا جاتا ہے، کیوں کہ مسلمان ہے۔ ہم حلال جانور ذبح کرتے ہیں فساد ہوجاتے ہیں۔ پھر سوال کیا: آپ کو پتا ہے ہندستان کی فوج کو ہرانا بہت مشکل ہے لیکن اس نے کیا جذبۂ ایمانی سے بھرپور جواب دیا: بہت مشکل ہے، بہت مشکل ہے، لیکن ہمارا اللہ پر یقین ہے، ہمیں یقین ہے کہ جو اس تحریک میں ہندستان کے ظلم و ستم سے مرتا ہے وہ مرتا نہیں بلکہ اپنے اللہ کے پاس جاتا ہے۔ دوسری دنیا میں ٹرانسفر ہوجاتا ہے۔ سوال کیا گیا کہ آپ کو تکلیف ہوگی کہ آپ کا بیٹا گولی سے مرے گا۔ جواب دینے والے باپ کی ہمت اور ایمان دیکھیے، کہا: ہاں تھوڑی تکلیف تو ہوتی ہے لیکن پھر یاد آتا ہے۔ پہلے خدا پھر بیٹا، پہلے محمدصلی اللہ علیہ وسلم، پھر بیٹا، پہلے قرآن ، پھر بیٹا، پہلے بیٹا نہیں ہے۔ اس کے بعد پوچھا: بُرہان آج ایک رول ماڈل بن چکا ہے۔ اس کی ویڈیو سامنے آئی ہیں۔ وہ جو کہتا ہے لوگ اس کے پیچھے چلتے ہیں۔ جواب دیا: آج ۹۰ فی صد لوگ اُسے دعائیں دیتے ہیں کہ بُرہان زندہ رہے تاکہ ہماری جدوجہد آگے بڑھے۔ آج اسے مجاہد بنے ہوئے پانچ سال ہوگئے، یہ دوہزار دن بنتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم وہ کھاتا کہاں سے ہے، پہنتا کہاں سے ہے، آخر لوگ اس کی مدد کرتے ہیں نا۔ آخری سوال کیا: آپ اس کے لیے دعا کرتے ہیں؟ کہا: میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اسے کامل ایمان عطا کرے۔

سوال: یہ کشمیری پاکستان سے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ اپنی آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کیوں نہیں کرتے؟

جواب: اللہ کے لیے جان دینے والوں کو بخوبی علم ہے کہ دنیا میں ۲۰۰ سے زیادہ ملکوں میں سے صرف ایک ملک ایسا ہے جو رنگ، نسل، زبان اور علاقے کی بنیاد پر نہیں بلکہ کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا ہے۔ کشمیر کے لیے مرو یا دنیا کے کسی اور ملک کے لیے اس کا مقصد دنیاوی، علاقائی اور قومی جدوجہد میں مر کر امر ہونا ہوگا۔ لیکن پاکستان کے لیے مرنا اللہ کے لیے مرنا ہے، شہادت کی موت ہے۔

مجاہد بُرہان وانی کی شہادت سے صرف ایک ماہ پہلے جون ۲۰۱۶ء میں آنے والی ویڈیو اسلامی جہاد کے تصور اور اس سے وفاداری کی منہ بولتی تصویر ہے، اخلاقیات کی علَم بردار تھی۔ اس نے کہا: مجاہدین امرناتھ یاترا پر حملہ نہیں کریں گے۔ ہندو پنڈت جموں میں آکر رہ سکتے ہیں لیکن ان کے لیے اسرائیل کی طرح علیحدہ بستیاں مت بنائو۔ اس نے کہا: ہم صرف اور صرف یونیفارم والوں پر حملے کریں گے کہ ان سے ہی ہماری لڑائی ہے۔۱؎

۱-  یہ انٹرویو روزنامہ دنیا میں برادرم اوریا مقبول جان کے کالم مورخہ ۱۱جولائی ۲۰۱۶ء سے لیا گیا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ یہ انٹرویو آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔

لندن کے روزنامہ دی گارڈین میں اس کے نمایندے جان بون کا کالم ۱۱جولائی کو شائع ہوا ہے۔ اس میں بُرہان وانی کی شہادت اور ان کے والد کے تصورات کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:

کشمیر میں تشدد کا حالیہ رائونڈ جس کے بارے میں بھارت اور پاکستان دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں جمعہ کو اس وقت شروع ہوا جب ایک بُرہان وانی مقبول کمانڈر جو کشمیر کی سب سے مقبول عسکری تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تھا، جنگلات میں، دیہات میں، سری نگر میں ہلاک ہوگیا تھا۔

وانی ایک نئی نسل کا حصہ ہے جو ویب کی شوقین سائٹس پر مبنی ہے جو اپنے مطالبات اور کشمیر کی آزادی کو قبول کرنے کے لیے سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے ہفتے کے روز اس کے جنازے میں شرکت کی۔

آزادی کے حامیوں نے سڑکوں پر آکر ردعمل کا اظہار کیا۔ بند دکانوں پر نعرے پینٹ کیے ہیں۔وانی نے اپنی تازہ ترین وڈیو میں پولیس افسروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی قبضے کی حمایت ترک کردیں اور آزادی کی جنگ میں شریک ہوجائیں۔ ایک سینیر پولیس افسر نے حالیہ برسوں میں وانی کی ہلاکت کو militants کے خلاف سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے جب کہ دوسروں نے تصدیق کی کہ اس کی موت تشددپسند علیحدگی پسندوں کے لیے اپیل میں اضافہ کرے گی۔

جموں و کشمیر کے ساتھ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے ٹویٹ کیا کہ وانی کی قبر میں صلاحیت اس سے زیادہ عسکریت پیدا کرنے کی صلاحیت ہے جتنی اس نے سوشل میڈیا سے پیدا کی۔ اس کے والد مظفروانی کے بقول: وانی ۱۵سال کی عمر میں حزب المجاہدین میں شریک ہوا۔ جب سیکورٹی فورسز نے اس پر حملہ کیا اور اس کی توہین کی۔ اس کے والد نے ANP کو ۲۰۱۴ء میں بتایا کہ اگر وہ اپنی عزت اور عوام کے لیے مرتا ہے تو وہ شہید ہوگا۔ (دی گارڈین،………)

جہاد اور مجاہد کے بارے میں ایسی رپورٹ ایک مؤقر انگریزی روزنامے میں دہشت گردی کے خلاف نائن الیون کے بعد کی جنگ اور اسلامی دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے اس ماحول میں ایک بڑی نادر شے ہے___ اور یہ بھی ۸جولائی کے ثمرات میں سے ایک ہے۔

روزنامہ دی ایکسپریس ٹربیون (۲۵ جولائی ۲۰۱۶ئ) میں مرکزی حکومت کے ایک سابق سیکرٹری جناب طارق محمود نے بُرہان وانی پر The Robin Hood of Kashmir کے عنوان سے دل چسپ مضمون لکھا ہے۔اس سے ایک اقتباس اس لیے پیش خدمت ہے کہ انگریزی اخبارات کے اس انبوہ میں جس میں ہر دہشت گرد گردن زدنی قرار دیا جاتا ہے اور اچھے عسکری (Good Militant)اور بُرے عسکری (Bad Militant) کے تصور کو ٹکسال سے باہر کر دیا گیا ہے بلکہ سیاسی اور نظریاتی جرم بنادیاگیا ہے۔ ایک مجاہد کی جو تصویرآئی ہے وہ ہوا کا ایک تازہ جھونکا ہی تصور کی جاسکتی ہے:

بُرہان مظفروانی ایک ملیشیا کمانڈر تھا جو کچھ مختلف تھا۔وہ ایک کمانڈر تھا جس نے اپنے ساتھیوں کو خودکش جیکٹ پہن کر عوامی مقامات پر دھماکا کرکے بے گناہ انسانوں کو ہلاک کرنے کی ہدایت نہیں کی تھی۔ وہ ایک ایسا کمانڈر تھا جو کمین گاہوں میں چھپتا پھرتا نہ تھا بلکہ لوگوں کے دلوں میں رہتا تھا۔ وہ ان لوگوں کو ہدف بنانے کا کہتا تھا جنھوں نے کشمیریوں کی واضح توہین کی ہو، ذہنی و نفسیاتی ٹارچر کیا ہو۔ وہ ایسا کمانڈر تھا جو نوجوانوں سے اپیل کرتا کہ امرناتھ یاترا میں ہندو یاتریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ اس کے پاس کوئی وقت نہیں تھا کہ وہ لائن آف کنٹرول کے پار عناصر سے مدد لیتا۔ بلاشبہہ وہ کشمیریوں میں ظالم ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کا تسلسل ہے جو ۱۹۳۱ء میں شروع ہوئی تھی۔

تحریکِ آزادی کے نئے دور کا یہ ایک بڑا خوش گوار پہلو ہے کہ تحریکِ آزادی اور  دہشت گردی کے جس فرق کو نائن الیون کے بعد ختم کر دیا گیا تھا اس کا احساس ایک بار پھر بیدار ہونے لگا ہے۔ ہرہتھیار اُٹھانے والا لازماً دہشت گرد نہیں۔ گولی معصوم انسانوں کا خون بہانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور مجبور اور کمزور انسانوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے لیے بھی۔ تلوار دوسروں کو غلام بنانے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے اور انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے بھی۔ قوت کا استعمال خیر اور صلاح کے قیام اور انصاف اور عدل کے فروغ کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور ظلم اور کفر کے فروغ کے لیے بھی۔ دونوں کا فرق مقصد، آداب و ضوابط ، کردار اور کارکردگی بالآخر عملی نتائج کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے     ؎

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

۵- ۸ جولائی کے بعد جو تحریریں سامنے آرہی ہیں ان میں ایک اور بڑے بنیادی اصولی مسئلے کی بازیافت کے بھی اشارے مل رہے ہیں۔ تاریخ میں ’مبنی برحق جنگ ‘ (just war) اور  ’مبنی برظلم جنگ‘ (unjust war) میں ہمیشہ فرق کیا گیا ہے اور ایک یعنی ’جسٹ وَار‘ کو خارجہ سیاست کا ایک ہتھیار اور خیر اور فلاح کے حصول کا ایک ذریعہ تصور کیا گیا ہے اور صرف زر، زمین اور قوت حاصل کرنے اور دوسروں کو ان کے حقوق کے محروم کرنے کے لیے تلوار کے استعمال کو قابلِ مذمت قرار دیا گیا ہے۔ اس بنیاد پر جدید بین الاقوامی قانون میں سامراجی اقتدار اور غلبہ ظلم کی ایک شکل قرار دیا گیا اور سامراج کے خلاف جنگ ِ آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد خواہ وہ سیاسی ہو یا وہ عسکری جنگ کی شکل اختیار کرے، میں فرق کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے جنگ ِ آزادی (war of liberation) کو دہشت گردی تسلیم نہیں کیا گیا۔ امریکا کی برطانوی سامراج کے خلاف جنگ کو ’جنگ ِ آزادی‘ کا نام دیا گیا اور جارج واشنگٹن کو خواہ تاجِ برطانیہ کے نمایندے غدار اور دہشت گرد قرار دیتے رہے ہوں لیکن دنیا نے اور بین الاقوامی قانون نے اسے آزادی کا ہیرو قرار دیا۔ موجودہ اقوامِ متحدہ کے ۱۹۲؍ارکان ممالک میں تقریباً ۱۵۰ ایسے ہیں جو سیاسی اور عسکری جنگ کے نتیجے میں آزادی حاصل کرسکے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی دہشت گردی کی تعریف پر آج تک متفق نہیں ہوسکی کہ عظیم اکثریت کی نگاہ میں جنگ ِ آزادی دہشت گردی نہیں۔ اور اس امر پر اقوامِ متحدہ کے تمام ہی ادارے متفق ہیں۔(دیکھیے: کرسٹوفر کوئے، Liberation Struggle in International Law، ٹمپل یونی ورسٹی پریس، فلاڈلفیا، ۱۹۹۱ئ)

اس پس منظر میں ۸جولائی کے بعد کم از کم میری نظر سے پہلی بار ایک مشہور بھارتی صحافی آکار پٹیل کی یہ تحریر آئی ہے کہ بھارت میں ریاست جموں و کشمیر میں مزاحمت کی تحریک اور ملک کے دوسرے حصوں خصوصیت سے وسط ہند کی آرمی واسی بیلٹ جس کی سرحدیں جھارکھنڈ ، اڑیسہ اور چاٹس گڑھ تک پہنچتی ہیں اور تیسری شمال مشرق قبائلی بیلٹ میں برپا بغاوت کی تحریکوں میں فرق کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے موقف کے ثبوت میں جو نقشہ وہ کشمیر اور اس میں برپا تحریک ِ آزادی کا کھینچتا ہے  اس میں یہ پیغام بہ صراحت موجود ہے کہ کشمیر کی جدوجہد کو محض دہشت گردی کہنا قرین انصاف نہیں۔("Misapplying the term terrorism in India"،دی ایکسپریس ٹربیون، ۱۶ جولائی ۲۰۱۶ئ)

۶- ایک اور پہلو جو تحریک ِ آزادی کے موجودہ مرحلے کے سلسلے میں سامنے آرہا ہے اس کا تعلق نوجوانوں کے کردار سے ہے۔ ویسے تو تاریخ کی ہربڑی تحریک کے روحِ رواں جوان ہی رہے ہیں لیکن دورِ جدید کی آزادی کی تحریکات میں قیادت بالعموم پختہ عمر کے لوگوں کی رہی ہے۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی کے موجودہ مرحلے میں جوانوں کے کلیدی کردار نے اس تحریک میں نئی جان ڈال دی ہے۔ پرانی قیادت آج بھی محترم ہے اور عزت اور رہنمائی کے اعلیٰ مقام پر متمکن ہے۔ لیکن اب ایک فطری انداز میں نئی قیادتیں اُبھر رہی ہیں اور یہ ایک نعمت ہے۔

تحریک ِ آزادیِ کشمیر کے یہ چھے پہلو ہیں جو ہماری نگاہ میں ۸جولائی کے بعد نئی اہمیت کے ساتھ سامنے آئے ہیں اور آیندہ کی پالیسی سازی کے باب میں ان سب کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

آیندہ گزارشات سے پہلے میں تحریکِ آزادیِ کشمیر کے پورے تاریخی ، نظریاتی، سیاسی اور عسکری پس منظر کی روشنی میں جو سب سے اہم بات کہنا چاہتا ہوں اور جو میرے اپنے۷۰سالہ مطالعہ اور غوروفکر کا حاصل ہے وہ یہ ہے کہ ۸جولائی جہاں تحریک کے تسلسل کی علامت ہے وہیں وہ تحریک کو ایک ایسے فیصلہ کن تاریخی موڑ تک لے آیا ہے جہاں صحیح حکمت عملی اور اس پر عمل کرنے کے لیے ایک مؤثر ، قرارواقعی ، حقیقت پسندانہ اور جامع پالیسی تحریک کو اپنی منزل سے بہت قریب کرسکتی ہے۔ ہماری نگاہ میں اس حکمت عملی اور پالیسی کو ان حقائق کی روشنی میں مرتب کرنا وقت کی اصل ضرورت ہے:

(الف) مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا ۶۹سالہ قبضہ اپنے اصل مقاصد کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ فوجی قوت اور سرکاری استبداد کے ہرممکن حربے کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام کو محکومی کو قبول کرنے یا اس پر خاموش ہوجانے میں حکمران قوت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں لیکن بھارت کے حکمران اور بااثر طبقے اس صورتِ حال کو سمجھنے کے باوجود ابھی اسے تسلیم نہیں کر رہے لیکن اسے تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارئہ کار نہیں۔

(ب) حالات کو اس مقام تک لانے میں سب سے اہم کردار جموں و کشمیر کے عوام اور تحریکِ آزادی کی قیادت کا ہے۔ یہ تحریک بنیادی طور پر سیاسی ہے اور بالآخر اس کا حل بھی سیاسی ہی ہوگا لیکن اقتدار کی ظالمانہ اور استبداد پر مبنی پالیسی کے نتیجے میں عسکریت نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اصل چیز ان کے درمیان صحیح توازن اور سیاسی پہلو کا غلبہ ہے۔ جہاں عسکریت کا ایک اہم مثبت کچھ حالات میں فیصلہ کن حد تک اہم کردار ہے، وہیں عسکریت پسندی اصل فیصلہ کن عامل نہیں۔ اس کا کردار یا معاونت کا ہے یا سدجارحیت کا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر عسکریت کا چہرہ اور کردار مثبت اور اخلاقی برتری کا ہوگا (جس کا سمبل آج بُرہان وانی ہے) تو وہ مفید اور فیصلہ کن ہوگا اور اگر فساد، عدم تواز ن اور نتائج اور اثرات سے بے نیاز ہوکر انتقام اور غصہ کا ہوگا تو عسکریت اپنا اخلاقی وزن کھو دیتی ہے۔ جدید اور قدیم تاریخ اس کی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ خود کشمیر کی تحریک کی تاریخ میں خصوصیت سے ۱۹۹۰ کے عشرے کے وسط میں اسے دیکھا جاسکتا ہے۔ ۸جولائی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے عسکریت کے معتبر چہرے کو ایک بار پھر اس جدوجہد میں نمایاں کر دیا ہے اور تحریک ِ آزادی کی اخلاقی اور سیاسی برتری کو اس حد تک واضح کردیا ہے کہ جو اپنوں کے لیے قوت اور نئے جذبے کا ذریعہ اور مخالفین کے لیے نہ صرف سوالیہ نشان بلکہ کڑوی گولی بنتا جارہا ہے۔ یہ وہ نازک لمحہ ہے جب اس توازن کی حفاظت اور سیاسی جدوجہد کی اوّلیت اور مرکزیت کا سختی سے اہتمام تحریک کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔

ان بنیادی حقائق کی روشنی میں اور تحریک کو ان میں نظر آنے والے مقاصد اور حقائق کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جس وژن، جس حکمت عملی اور جس پالیسی اور جس نوعیت کے اقدام کی ضرورت ہے___ آیندہ سطور میں ان کی نشان دہی کی جارہی ہے۔

کشمیر پالیسی کی اصل بنیادیں

اب ہم بہت ہی اختصار کے ساتھ سب سے پہلے ان اُمور کو واضح کرنا چاہتے ہیں جو پاکستان کی کشمیر پالیسی کی اصل بنیاد ہیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں حکومت، قوم اور اس کی سیاسی، دینی اور عسکری قیادت اور ان تمام عناصر کو کرنے چاہییں جو سیاسی پالیسیوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔

کشمیر پر قومی اجماع جن اُمور پر ہے اور قائم رہ سکتا ہے ، وہ یہ ہیں:

                ۱-            جموں و کشمیر کی ریاست ایک وحدت ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ ایک وحدت کے طور پر کیا جانا ہے۔

                ۲-            ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے، اس کے ۶۰ فی صد علاقے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے، نام نہاد الحاق ایک ڈھونگ اور دھوکا ہے، جسے کوئی دستوری، قانونی، سیاسی اور اخلاقی جواز حاصل نہیں۔

                ۳-            ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اس کے عوام کو اپنی آزاد مرضی سے کرنا ہے جسے معلوم کرنے کے لیے بین الاقوامی انتظام میں استصواب راے کرایا جائے گا۔

                ۴-            کشمیر کا مسئلہ نہ زمین کا تنازعہ ہے، نہ سرحد کی صف بندی کا معاملہ ہے، اور نہ محض پاکستان اور بھارت میں ایک تنازعہ ہے بلکہ اس کے تین فریق ہیں: پاکستان، بھارت اور جموں و کشمیر کے عوام___ جنھیں آخری فیصلہ کرنا ہے۔

                ۵-            کشمیر بھارت کے لیے غاصبانہ ہوسِ ملک گیری کا معاملہ ہے اور پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیوں کہ اس کا تعلق ان بنیادوں سے ہے جن پر پاکستان قائم ہوا اور تقسیم ہند عمل میں آئی۔ اس کے ساتھ اس کا تعلق ریاست کے مسلمانوں (جن کو عظیم اکثریت حاصل ہے) کے مستقبل اور پاکستان کے اسٹرے ٹیجک مفادات، نیز معاشی اور تہذیبی وجود سے بھی ہے۔

ان پانچ اُمور پر قومی اجماع تھا اور ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کا اصولی موقف یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوامِ متحدہ کی ۱۳؍اکتوبر ۱۹۴۸ئ، ۵ جنوری ۱۹۴۹ء اور سلامتی کونسل کی دوسری قرارداوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔

بدقسمتی سے جنرل پرویز مشرف نے ۲۰۰۳ء میں اس پالیسی سے انحراف کا راستہ اختیار کیا۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو بائی پاس کرنے کی بات کی اور پھر ایک چار نکاتی فارمولے کا ڈھونگ رچایا جواللہ کی اعلیٰ تر تدبیر کے طفیل بھارت اور پاکستان دونوں کی اندرونی سیاسی صورتحال کے باعث زمین بوس ہوگیا۔ البتہ فکری انتشار، پالیسی کے باب میں کنفیوژن، اور سب سے بڑھ کر عملاً جموں و کشمیر کی تحریک ِ آزادی کے لیے شدید نقصان کا باعث ہوا۔ جیساکہ ہم نے پہلے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے تلافی کے دوسرے سامان پیداکیے لیکن ایک مدت تک تحریک ٹھٹھری ٹھٹھری رہی اور اس کی ترقی کی رفتار بُری طرح متاثر ہوئی۔ نیز پاکستان سے جو توقعات کشمیری عوام کو ہیں، انھیں بھی بڑا دھچکا لگا۔ افسوس کا مقام ہے، پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جو حکومتیں بنیں انھوں نے بھی پالیسی کو اصل اجماعی پوزیشن کے مطابق ازسرِنو تشکیل دینے اور پوری قوت سے متحرک کرنے کے باب میں کوئی اہم قدم نہیں اُٹھایا۔ کشمیر کمیٹی بھی کوئی مفید اور مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی۔ نوازشریف صاحب نے عوامی اور خود اپنی جماعت کے کچھ اہم لوگوں کے دبائو میں چندبیانات کی حد تک اصولی موقف کا اعادہ کیا لیکن عملاً کوئی اقدام نہیں اُٹھایا بلکہ اپنی ذاتی ترجیحات کے زیراثر بھارت سے خوش گوار تعلقات، اعتماد سازی کے لیے اقدامات کے سلسلے میں نئی دل چسپی اور بھارت سے تجارت کے ناکام تجربات کو ایک بار پھر دُہرانے کا راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی اور ہرقدم پر ٹھوکر کھائی۔ اس پس منظر میں۸جولائی پاکستان اور اس کی موجودہ قیادت کو ایک تاریخی موقع فراہم کر رہا ہے اور ہم ملک کی پوری قیادت سے پوری درمندی اور دل سوزی سے استدعا کرتے ہیں کہ اس تاریخی موقعے سے پورا پورا فائدہ اُٹھائیں۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کی قرارداد ایک اچھا ابتدائی اقدام ہے لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ ہم ایک طرف اس قومی موقف پر سختی سے ڈٹ جائیں جس کا آغاز علامہ اقبال کی رہنمائی میں ۱۳جولائی ۱۹۳۱ء کو شروع ہونے والی تحریکِ آزادیِ کشمیر کے موقعے پر ہوا، جسے تحریکِ پاکستان کے دوران نکھار اور تقویت ملی اور جس پر قیامِ پاکستان کے بعد پاکستانی قوم قائم ہے۔

علامہ اقبالؒ نے تقسیم ہند سے ۱۵سال قبل کشمیر اور پاکستان کے رشتے کو یوں واضح کیا تھا:

کشمیر کا مسئلہ تمام مسلمانانِ ہندستان کی سیاسی حیات اور موت کا مسئلہ ہے۔ اہلِ کشمیر سے ناروا سلوک، ان کی جائز اور دیرینہ شکایات سے بے اعتنائی اور ان کے سیاسی حقوق کا تسلیم نہ کرنا، مسلمانانِ ہند کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار ہے۔ حق بات بھی یہی ہے کہ اہلِ خطہ کشمیر ملّت ِ اسلامیہ کا جزولاینفک ہے۔ ان کی تقدیر کو اپنی تقدیر نہ سمجھنا تمام ملّت کو تباہی و بربادی کے حوالے کر دینا ہے۔ اگر مسلمانوں کو ہندستان میں ایک مضبوط و مستحکم قوم بننا ہے تو دو نکات کو ہر وقت ذہن میں رکھنا ہوگا۔ اوّل یہ کہ شمال مغربی سرحدی صوبے کو مستثنیٰ کرتے ہوئے حدود ہند کے اندر جغرافیائی اعتبار سے کشمیر ہی وہ خطہ ہے جو مذہب اور کلچر کی حیثیت سے خالصتاً اسلامی ہے۔ دوسری بات جسے مسلمانانِ ہند کبھی نظرانداز نہیں کرسکتے، یہ ہے کہ ان کی پوری قوم میں سب سے بڑھ کر اگر صناعی و ہنرمندی اور تجارت کو بخوبی پھیلانا……… نمایاں طور پر کسی طبقے میں موجود ہیں تو وہ اس خطے کا گروہ ہے۔ بہرحال وہ قوم اسلامی ہند کے جسم کا بہترین حصہ ہیں۔ اگر وہ حصہ درد و مصیبت میں مبتلا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ باقی افراد ملّت فراغت کی نیند سو جائیں۔ (بحوالہ کشمیری مسلمانوں کی جدوجہد آزادی، ص ۴۷۱)

قائداعظمؒ نے ۱۹۴۴ء میں مسلم اسٹوڈنٹس یونین کے سپاس نامے کے جواب میں کشمیر کے بارے میں فرمایا تھا:

مسلمان جغرافیائی حدود کے قائل نہیں ہیں۔ اس لیے اسلامی برادری کے نام پر ہندستان کے مسلمان آپ کی مدد کے لیے کمربستہ ہیں۔ اگر آپ پر ظلم ہوا یا آپ سے بدسلوکی کی گئی تو ہم بیکار تماشائی کی صورت میں نہیں رہ سکتے۔ ایسی صورت میں برطانوی ہند کے مسلمان آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوجائیں گے کیونکہ بحیثیت مسلمان ہم آپ کی مدد کے پابند ہیں۔

آج ہمارے حکمران’جہاد‘ کے لفظ سے خائف اور اس پر شرمندہ ہی نہیں ہیں بلکہ اپنی آزادی کی جنگ لڑنے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو ’دہشت گرد‘ تک قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دیکھیے جب اپنے کشمیری بھائیوں کی مدد کے لیے قبائلی مسلمان، وہی قبائلی مسلمان جن پر آج امریکا کی خوش نودی کے حصول یااس کے حکم کے تحت پاکستانی فوج کو بم باری اور آگ اور خون کی ہولی کھیلنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ان قبائلی مسلمانوں نے کشمیر کے جہاد میں شرکت کی اور اس پر جب بھارتی گورنر جنرل نے ان کے خلاف اقدام کا مطالبہ کیا تو قائداعظم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کیا فرمایا:

ہم اس کی ذمہ داری لینے پر تیار نہیں اور نہ ہم قبائلیوں پر دبائو ڈال سکتے ہیں کہ وہ کشمیر کو خالی کردیں۔ مسلمانانِ کشمیر نے ڈوگرہ آمریت سے تنگ آکر ہری سنگھ کی گورنمنٹ کو فتح کرنے کے لیے جہاد شروع کر رکھا ہے اور قبائلیوں نے مجاہدین کا ہم مذہب ہونے کی مناسبت سے ان کی امداد کی ہے۔ لہٰذا ہم اس معاملے میں کسی قسم کا دخل دینے کو تیار نہیں ہیں۔ کیونکہ مجاہدین کی یہ جنگ ِ آزادی ہے اور کوئی آزادی پسند ملک آزادی کی خاطر لڑنے والوں کے مخالفین کے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتا۔ اس لیے جن قبائلیوں کو برطانوی حکومت نہ دبا سکی، ہم انھیں کیسے روک سکتے ہیں۔ وہ ایک نصب العین کے لیے نبردآزما ہیں۔ (۳ نوبر ۱۹۴۷ء کو قائداعظم اور مائونٹ بیٹن کے مابین ایک کانفرنس کی رُوداد ملاحظہ ہو، رشحاتِ قائد ، مرتبہ: نجمہ منصور، العبد پبلی کیشنز، سرگودھا، ۱۹۹۲ئ، ص ۱۶۷-۱۶۸)

اس موقع پر قائداعظم نے مائونٹ بیٹن سے بڑی صفائی سے یہ بھی کہا تھا:

عوام نے متعدد بار راجا سے اپیل کی کہ وہ پاکستان میں شامل ہوجائیں لیکن راجا پر اس مسئلے کا اُلٹا اثر ہوا، اور اس نے عوام کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوششیں کیں۔ اس پر عوام نے بھی طاقت کا جواب طاقت سے دینا شروع کر دیا۔ جب راجا ان کی چوٹ برداشت نہ کرسکا تو اپنا اقتدار ختم ہوتے دیکھ کر اسے ہندستان میں شامل ہونے کی سوجھی۔ دراصل کشمیر ہندستان میں شامل نہیں ہوا، بلکہ ہری سنگھ شامل ہوا ہے۔ جب ہندستان میں ہری سنگھ کی شمولیت کے خلاف کشمیری عوام ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہوگئے تو ان سے یہ راے طلب کرنے کی تجویز کہ وہ ہندستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں، نہ صرف فریب بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔

کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر قائداعظم نے مائونٹ بیٹن سے یہ بھی کہا: کشمیر جہاں اقتصادی اور معاشی لحاظ سے پاکستان کا ایک جز ہے، وہاں سیاسی اعتبار سے بھی اس کا پاکستان میں شامل ہونا ضروری ہے۔ (رشحاتِ قائد، مذکورہ بالا)

کشمیر کے بارے میں قائداعظم کی پالیسی کیا تھی؟ اس کا اظہار انھی کے الفاظ میں ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے کیا ہے:

کشمیر سیاسی اور فوجی حیثیت سے پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کوئی خوددار ملک اور قوم اسے برداشت نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شہ رگ دشمن کی تلوار کے آگے کردے۔ کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ ایک ایسا حصہ ہے جسے پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیر کا مسئلہ نہایت نازک مسئلہ ہے لیکن اس حقیقت کو کوئی انصاف پسند قوم اور ملک نظرانداز نہیں کرسکتا کہ کشمیر تمدنی، ثقافتی، مذہبی، جغرافیائی، معاشرتی اور سیاسی طور پر پاکستان کا ایک حصہ ہے اور جب بھی اور جس زاویے سے بھی نقشے پر نظر ڈالی جائے یہ حقیقت بھی اتنی ہی واضح ہوتی چلی جائے گی۔(قائداعظم کے آخری ایام)

آج اس امر کی ضرورت ہے کہ اقبال اور قائداعظم کے ارشادات کی روشنی میں اور ان تمام زمینی اور تاریخی حقائق اور پاکستان او ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے حقیقی جذبات، عزائم اور تمنائوں کے مطابق پاکستان اپنی کشمیر پالیسی مرتب کرے اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری اقدام کرے جن پر پوری تندہی اور شفافیت کے ساتھ ہرسطح پر عمل کیا جائے۔ پارلیمنٹ اور قوم کو اعتماد میں رکھا جائے، احتساب کا نظام متحرک اور مؤثر ہو اور پاکستانی قوم اور مسلمانانِ جموں و کشمیر ایک دوسرے کے لیے تقویت کا ذریعہ بن کر مشترکہ مفادات اور مقاصد کے لیے اس تحریک کو اپنے منطقی انجام تک لے جائیں جس کی آبیاری ہمارے نوجوان اپنے خون سے کر رہے ہیں۔

مجوزہ کشمیر پالیسی

پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہو؟

اصولی بات تو ایک جملے میں ادا کی جاسکتی ہے: پاکستان کی کشمیر پالیسی کا مقصد پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے عزائم، حقیقی مفادات اور پورے علاقے کے لیے ترقی، استحکام، سلامتی اور خوش حالی کا حصول ہونا چاہیے۔

اس سلسلے میں جو بنیادی حقائق سامنے رکھنا ضروری ہیں وہ یہ ہیں:

۱- مسئلہ کشمیر ، ریاست جموں و کشمیر کے سوا کروڑ سے زائدمسلمانوں کے ایمان، عزت، آزادی اور سیاسی اور تہذیبی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ یہ تقسیم ملک کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں۔ اس لیے ہماری سیاسی ترجیحات میں اسے اولیت دینا چاہیے۔

۲- مسلمانانِ جموں و کشمیر نے اپنی بیش بہا قربانیوںکے ذریعے اس مسئلے کو زندہ رکھا ہے اور اس وقت اسے اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں ہندستان اور دنیا کے دوسرے ممالک یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اس مسئلے کو حل کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ، اس مسئلے کے فریق پاکستان، ہندستان اور اقوامِ متحدہ بھی ہیں۔ پاکستان کا فرض ہے کہ ایک فریق کی حیثیت سے مسئلے کو لے کر اُٹھے اور ہرمیدان میں اس کے حل کے لیے سرگرم ہو… تحریکِ آزادی کی مدد کے ذریعے بھی اور عالمی راے کو منظم اور مسخر کر کے بھی۔

۳- پاکستان اس موقف کے بارے میں ذرہ برابر بھی کمزوری نہ دکھائے کہ مسئلۂ کشمیر کے حل کا صرف ایک طریقہ ہے وہ ہے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے۔ اس استصواب راے میں بھی صرف دو ہی راستے ہیں: یعنی ہندستان یا پاکستان سے الحاق۔ کسی تیسرے آپشن کا دروازہ کھولنا خودکشی کے مترادف ہے، پاکستان کے لیے بھی اور مسلمانانِ جموں و کشمیر کے لیے بھی۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے موقف کو پوری جرأت اور دانش مندی سے پیش کرے۔ پاکستان یہ بات بھی واضح کردے کہ الحاق کے فیصلے کے بعد، پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر میں تعلقات کی نوعیت، نظم و نسق اور انتظام و انصرام کا نقشہ، اور خود اختیاری کی شکل و نوعیت کیا ہو۔ یہ تمام اُمور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق طے ہوں۔ پاکستان کے دستور کی دفعہ ۲۵۷ بہت واضح ہے جو ریاست کے عوام کی راے کو حرفِ آخر تسلیم کرتا ہے۔

۴- پاکستان کا فرض ہے کہ مجاہدین کشمیر کی بھرپور مدد کرے اور اس کے اعلان میں شرمندگی نہ محسوس کرے۔ پاکستان نے کشمیر کی خاطر گذشتہ ۶۹سال میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ آج جب کشمیر کے نوجوان کشمیر اور پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں ہم ان کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔     وہ ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ان کی مدد کریں۔ ان کی ہرضرورت کو پورا کریں، اور ہندستان نے ان پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے ہیں، ہم صحیح معنی میں ان کے پشتی بان بن جائیں۔

۵- پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ، اس جدوجہد میں آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام کی بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی حکومتوں کی طرح، آزاد کشمیر کی حکومت بھی اپنے اصلی مشن کو بھول چکی ہے۔ وہ محض آزاد علاقے کی حکومت نہیں، بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزاد حکومت ہے، اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد اس کا اوّلین مقصد ہے۔ اسی لیے اسے بیس کیمپ کا لقب دیا گیا تھا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ گروہی سیاست سے بالا ہوکر، آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام تحریک میں بھرپور حصہ لیں اور اپنی ترجیحات کو یکسر بدل کر تحریکِ آزادی کو اس کے منطقی اور فطری نتیجے تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہوجائیں۔

۶- حکومت ِ پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگرچہ یہ مقصد محض سیاسی اور سفارتی جدوجہد سے حاصل نہیں ہوسکتا، مگر سیاسی اور سفارتی مہم بہت اہم ہے اور اب تک اس کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے جاسکے ہیں۔ محض چند وفود باہر بھیجنے سے کام نہیں ہوگا۔ اس کے لیے بڑے ہمہ گیر، منظم اور مؤثر کام کی ضرورت ہے، جس کے تحت پوری دنیا میں ہر علاقے کے حالات کے مطابق تحریکِ کشمیر کے تعارف اور اس کے لیے تائید کے حصول کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ ہماری وزارتِ خارجہ بالعموم اس مقصد میں ناکام رہی ہے۔

اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ کشمیر کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے وزارت کی تنظیم نو ہو، اور کشمیر ڈیسک سب سے اہم ڈیسک ہو۔ ہر اس ملک میں جہاں ہمارا سفارت خانہ ہے کشمیرسیل قائم کیا جائے، علم اور صلاحیت رکھنے والے افراد کو جو کشمیر کے لیے صحیح جذبہ رکھتے ہوں، اس کام پر لگایا جائے، اور اس طرح عالمی سطح پر ایک مؤثر تحریک چلائی جائے۔

۷- پوری پاکستانی قوم کو حالات سے آگاہ رکھنا اور جذبۂ جہاد سے سرشار کرنا بھی اس پالیسی کا اہم جزو ہونا چاہیے۔ جب تک پوری قوم کو اس تحریک کے لیے متحرک نہیں کیا جائے گا، کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہراسکول، کالج اور یونی ورسٹی میں، ہرشہر، قصبہ اور دیہات میں، ہرمسجد اور مدرسے میں، ہرکارخانہ اور بازار میں، جہادِ کشمیر سے لوگوں کو متعارف کرایا جائے اور اس میں شرکت کے لیے مال سے، جان سے، ہر صورت میں آمادہ کیا جائے۔ قوم میں بڑا جذبہ ہے لیکن اسے آج تک صحیح انداز میں متحرک و منظم نہیں کیا گیا۔

۸- حکومت پاکستان کو اپنے بجٹ کو بھی ان ترجیحات کی روشنی میں ازسرِنو مرتب کرنا ہوگا۔ جہادِکشمیر کی ضروریات کو اوّلیت دینا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ ایٹمی طاقت کی مناسب ترقی، فوج کو چوکس رکھنا اور قوم کے نوجوانوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ جب کشمیر میں حالات ہندستان کی گرفت سے بالکل نکلنے لگیں گے تو وہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرے گا۔ کشمیر پالیسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم جنگ کے لیے تیار رہیں۔ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو قوم جنگ سے خائف رہی ہے وہ اپنی آزادی سے بھی محروم ہوگئی ہے اور جو قوم جنگ کے لیے تیار رہی ہے، وہی اپنے ایمان، عزت و آزادی کو محفوظ رکھ سکی ہے ۔

 سابق امریکی صدر نکسن نے بہت صحیح کہا تھا کہ ’’ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قوت کے استعمال سے دستبرداری، دراصل دشمن کو اپنے خلاف قوت کے استعمال کی دعوت دینے کے مترادف ہے‘‘۔ نکسن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ’’صرف تیار ہی نہ رہو، مخالف کو یہ پیغام بھی دے دو کہ تم ہرقوت کے استعمال کے لیے تیار ہو۔ یہ وہ چیز ہے جو دشمن کو تم پر دست درازی سے روکے گی‘‘۔ اسی بات کو ہنری کسنجر نے ایک دوسرے انداز میں کہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’اگر امن کے معنی محض جنگ سے بچنا لے لیے جائیں، اور یہ چیز ایک قوم یا بہت سی اقوام کے مجموعے کا بنیادی مقصد بن جائے، تو سمجھ لو عالمی سیاسی نظام کا سب سے زیادہ بے رحم اور سنگ دل ملک کے رحم و کرم پر ہوگا‘‘۔ اس لیے جنگ سے بچنے کا بھی سب سے مؤثر راستہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔

۹- ہندستان پر مؤثر دبائو ڈالنے کے لیے چار ہی اہم طریقے ہیں اور ان چاروں کو مؤثر انداز میں اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعے استعمال ہونا چاہیے:

o تحریکِ آزادی کشمیر کی  بھرپور اور مؤثر مدد، تاکہ مقبوضہ کشمیر میں قابض قوت پر اتنا دبائو پڑے اور اسے قبضے کی اتنی گراں قیمت ادا کرنی پڑے کہ وہ پُرامن حل کے لیے تیار ہوجائے۔

o عالمی راے عامہ کو منظم کرنا، اور اس کا دبائو اتنا بڑھانا کہ ہندستان اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب راے کے لیے مجبور ہو۔ اگر فرانس کو الجزائر چھوڑنا پڑا، اگر اقوامِ متحدہ کو نمیبیا میں استصواب راے کروانا پڑا، اور اگر جنوبی افریقہ ۳۰۰سالہ نسلی امتیاز کے نظام کو ختم کرنے پر مجبور ہوا، تو ہندستان کو بھی کشمیر میں استصواب راے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ گذشتہ ۲۰برسوں میں جنوبی سوڈان، مشرقی تیمور اور شمالی آئرلینڈ میں ریفرنڈم ہوئے ہیں۔ اوّل الذکر دونوں آزاد مملکت کے طور پر وجود میں آچکی ہیں۔ شمالی آئرلینڈ نے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا اور ’گڈفرائیڈے‘ معاہدے کے تحت مل کر تمام عناصر حکومت چلا رہے ہیں جسے ۱۵سال ہوچکے ہیں۔ کینیڈا میں کیوبک کے علاقے میں اور برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم ہوا۔ گو دونوں جگہ اس کے نتیجے میں نئی ریاستیں قائم نہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ انگلستان نے ابھی دو ماہ پہلے یورپی یونین سے نکلنے کے بارے میں ریفرنڈم کرایا اور یورپ سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا جس پر اگلے دو سال میں عمل ہونا ہے۔ اگر دنیا میں ان تمام ممالک میں بین الاقوامی قانون کے تحت ریفرنڈم ہوسکتے ہیں تو کشمیر کے باب میں اقوامِ متحدہ میں ۲۰ سے زیادہ قراردادوں کی موجودگی میں اور بھارت کے حکمرانوں کے اپنے عہدوپیمان کے مطابق اور سب سے بڑھ کر وہاں کی عوام کی راے کو احترام میںریفرنڈم کیوں نہیں ہوسکتا؟

o ہندستان اور اس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی عالمی مہم: پاکستان خود اس کا آغاز تمام تجارتی تعلقات منقطع کر کے کرے۔ تمام مسلمان ممالک کو اس کی ترغیب دی جائے کہ اوآئی سی کی اپریل۱۹۹۳ء کی قرارداد کے مطابق ہندستان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس وقت صرف مشرقِ وسطیٰ میں ہندستان کی کُل برآمدات کا تقریباً ۵۰ فی صد جا رہا ہے۔ اگر ایک مؤثر عوامی اور سرکاری تحریک چلائی جائے تو یہ معاشی دبائو بھی ہندستان کو مجبور کرے گا کہ کشمیر میں استصواب راے کرائے۔ پھر عالمی پلیٹ فارم پر بھی معاشی پابندیوں کا مطالبہ کیا جائے۔ سیکورٹی کونسل میں،  جنرل اسمبلی میں، دنیا کی مختلف پارلیمانوں میں یہ قراردادیں منظور کرائی جائیں۔ عوامی بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ سرکاری پابندیوں کی تحریک بھی چلائی جائے۔فلسطین کے مسئلے کے باب میں دنیا میں اس وقت اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ آغاز میں یہ کام ناممکن محسوس ہوتا تھا مگر چندبرسوں کی کوشش سے تحریک نے اب تقویت حاصل کرلی ہے اور اسرائیل اس پر آتش زیرپا ہے۔ ہندستان کے سلسلے میں بھی ایسی ہی تحریک کی ضرورت ہے۔اگر اس واضح ہدف کے لیے کام کیا جائے تو جلد فضا تبدیل ہوسکتی ہے۔

o قوم کو جہاد کے لیے تیار کرنا، فوج کا چوکس رہنا اور ایٹمی صلاحیت کا صحیح درجے میں موجود ہونا بہت ضروری ہے۔ایک طرف یہ چیز بیرونی جارحیت کے لیے مؤثر مانع ثابت ہوگی، اور دوسری طرف ہم کو وہ استطاعت حاصل رہے گی کہ اگر دشمن کوئی دست درازی کرتا ہے تو اس کا مؤثر جواب دیا جاسکے۔ ایٹمی طاقت کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے محدود جنگ کے امکانات کی نوعیت بدل گئی ہے اور مکمل جنگ سے اجتناب ممکن ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس دفاعی اسٹرے ٹیجی میں ایٹمی طاقت کا مؤثر کردار ہے۔

۱۰- مندرجہ بالا خطوط پر مرتب کردہ کشمیر پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے نفاذ کے لیے بھی ایک مؤثر مشینری وجود میں لائی جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ پالیسی اور اس کی تنفیذی مشینری قومی بنیادوں پر استوار کی جائے۔ تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ اس سلسلے میں مثبت کردار ادا کریں۔ پارلیمنٹ کو اس بارے میں مناسب ابتدائی اقدامات کرنے چاہییں۔ میڈیا کا کردار بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کام کے لیے ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔

جس طرح کشمیر کے نوجوانوں نے چند برسوں میں وہاں کی فضا تبدیل کردی ہے ،اسی طرح اگر پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام اپنے فرض کی ادایگی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں تو حالات بہت کم وقت میں بدل سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف تحریکِ آزادیِ کشمیر اور بالآخر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی شکل میں ہی نہیں ہوگا، بلکہ قوم کو نئی زندگی اور نیا جذبہ ملے گا، اور اس نئی زندگی اور نئے جذبے کو پاکستان کو ایک حقیقی اور مضبوط اسلامی، فلاحی مملکت بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ یہی تحریکِ پاکستان کا اصل مقصد تھا اور یہی تحریکِ کشمیر کی بھی قوتِ محرکہ ہے۔