اگست ۲۰۱۶

فہرست مضامین

ترکی میں بغاوت: حقائق و اثرات

عبدالغفار عزیز | اگست ۲۰۱۶ | اخبار اُمت

۱۵ جولائی ۲۰۱۶ء کا دن ترک تاریخ میں ایک عظیم الشان دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس دن ترک فوج کے ایک عنصر نے ترکی کی جمہوری اور دستوری حکومت کے خلاف انقلاب کی ناکام کوشش کی۔ طیب اردوان کے خلاف بغاوت کی ناکامی میں، ان ترک عوام کی کوششوں اور دعائوں کا دخل تھا جو اپنے صدر کی اپیل پر سڑکوں پر نکل آئے۔ ترکی میں مقیم ہی نہیں، دنیا کے کئی ممالک میں ستم رسیدہ عوام صدر طیب اردوان کی حفاظت و کامیابی کے لیے دُعاگو تھے۔ لاکھوں شامی مہاجرین، اہل غزہ و فلسطین، اراکان (برما) و صومالیہ کے مصیبت زدگان،   مصر اور بنگلہ دیش میں ظلم کے شکار بے گناہ... غرض جہاں جہاں صدر اردوان کے خلاف بغاوت کی خبریں پہنچیں، لاکھوں نہیں کروڑوں عوام نے ان کی سلامتی اور باغیوں کی شکست کی دُعا کی ۔

بغاوت کی اطلاع ملتے ہی خود صدر اردوان کا پہلا ردعمل بھی دیکھ لیجیے۔ وہ اس وقت ترکی کے جنوبی شہر مرمریس کے ایک ہوٹل میں اہل خانہ کے ہمراہ مقیم تھے۔ انھوں نے اگلے روز وہاں ایک اہم عوامی منصوبے کا افتتاح کرنا تھا۔ ان کے داماد نے انھیں جب بغاوت کی اطلاع دی تو چند بنیادی اور ابتدائی سوالات کرنے کے بعد وہ اُٹھے، وضو تازہ کیا، دور رکعت نماز ادا کی اور بغاوت کا راستہ روکنے کے عمل کا آغازکردیا۔ سرکاری ٹی وی پر قابض باغیوں کی طرف سے ملک میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان پڑھا جاچکا تھا۔ اس اعلان میں کہا گیا تھا کہ ترک مسلح افواج ریاست کا اہم اساسی جزو ہیں۔ یہ ملک قائد عظیم اتاترک کی امانت ہے۔ ہم ملک میں سیکولر نظام ریاست اور جمہوریت لانے کے لیے اور دنیا میں ترکی کی ساکھ بحال کرنے کے لیے ... ایمرجنسی، مارشل لا اور کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ صدر اردوان نے ایک پرائیویٹ ترک چینل کو سکایپ کے ذریعے ۱۲سیکنڈ پر مشتمل پیغام میں فوجی بغاوت مسترد کرتے ہوئے عوام کو مزاحمت کرنے کا کہا اور اپنے صدارتی جہاز کے بجاے ایک چھوٹے پرائیویٹ جہاز میں استنبول کے لیے روانہ ہوگئے۔ خدانخواستہ مزید ۱۵ منٹ کی تاخیر ہوجاتی تو اس ہوٹل پر باغی کمانڈوز کی بم باری کا شکار ہوجاتے۔

استنبول ایئرپورٹ پہنچے تو فضا میں باغیوں کے دو ایف-۱۶ طیارے اُڑ رہے تھے۔ پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو عام پرائیویٹ جہاز کی لینڈنگ کے لیے ہی اجازت چاہی (یہ ساری گفتگو نشر ہوچکی ہے)۔ اسی اثنا میں ایئرپورٹ پر قبضہ کرنے کے لیے آنے والے باغیوں کو عوام اور  اسپیشل پولیس فورس کے دستوں نے بے دست و پا کر دیا تھا۔ وہاں پہنچ کر ترک سی این این کو موبائل فون ہی سے فیس ٹائم کے ذریعے انٹرویو دیا___ چہرے پر کامل اعتماد، مختصر جملوں پر مشتمل پُرعزم پیغام! تمام تر خطرات کے باوجود اپنے لیڈر کو اپنے درمیان دیکھ کر ملک کے طول و عرض میں عوام والہانہ طور پر سڑکوں پر نکل آئے۔ ترک فوج کے سربراہ کے بقول ’’صدر اردوان کو استنبول ایئرپورٹ پر اپنے عوام کے ساتھ دیکھ کر باغیوں کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے‘‘۔ باغیوں نے درجنوں شہری ٹینکوں کے نیچے کچل دیے، ہیلی کاپٹروں اور اونچی عمارتوں پر تعینات باغیوں نے فائرنگ سے مزید کئی درجن شہید کردیے۔ بغاوت کا حکم نہ ماننے والے کئی فوجیوں کو ان کے افسروں نے گولیاں مار کر شہید کردیا لیکن عوام کے عزم و حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔

سڑکوں پر آنے والے ترک عوام فوجی انقلاب کا مطلب سمجھتے تھے۔ وہ طیب حکومت کی برکتوں کا بھی مشاہدہ کررہے ہیں۔ اس لیے جان پر کھیلتے ہوئے گولوں، گولیوں اور ٹینکوں کے سامنے ڈٹ گئے۔ ایک شہری نے کہا کہ میرے مرحوم دادا ہمیشہ خلافت عثمانی کے خاتمے پر آنسو بہایا کرتے تھے۔ میرے والد عدنان مندریس کی شہادت پر اکثر رویا کرتے تھے۔ میں نہیں چاہتا کہ میں اور آیندہ نسلیں طیب اردوان کو یاد کرکرکے آنسو بہاتے رہیں۔

فوجی بغاوت ناکام بنانے والے ترک عوام کو کمال اتاترک کے پہلے فوجی انقلاب کے بعد عوام سے ان کی شناخت چھین لینے سمیت تمام مظالم یاد تھے۔اس کی طرف سے قرآن و اذان پر لگائی گئی پابندی بھی یاد تھی اور پردے و مشرقی لباس کی ممانعت بھی یاد تھی۔ انھیں اتاترک کا یہ خطاب بھی یاد تھا کہ ’’ہمارے وضع کردہ نظام کا ان اصولوں سے کیا موازنہ جو اُن کتابوں میں پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوئی ہیں۔ ہم نے اپنے اصول براہِ راست زندگی سے اخذ کیے ہیں، کسی آسمانی یا غیب پر مبنی تعلیمات سے نہیں‘‘ ۔پارلیمنٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا: ’’ہم اب بیسویں صدی میں رہتے ہیں۔ ہم دستور سازی کے لیے کسی ایسی کتاب کے پیچھے نہیں چل سکتے جو تین و زیتون کی باتیں کررہی ہو‘‘۔ اتاترک اور اس کا وضع کردہ دستور اب بھی ترکی میں بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن اس کے بارے میں ترک عوام کی ایک بڑی اکثریت جو جذبات رکھتی ہے وہ بھی سب پر عیاں ہیں۔ محترم قاضی حسین احمد صاحب سنایا کرتے تھے کہ انھیں حرم میں ایک ترک باباجی ملے، تعارف کے بعد جیب سے ایک ترک نوٹ نکال کر اور اتاترک کی تصویر دکھا کر پوچھنے لگے کہ معلوم ہے یہ کون ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، یہ اتاترک (باباے ترک) ہے۔ باباجی نے پوری شدت سے آخ تھو کرکے نوٹ پر تھوکتے ہوئے کہا :اتاترک نہیں اتاکفر ... اتاکفر!

ترکوں کو ۱۹۶۰ء میں عدنان مندریس کے خلاف فوجی انقلاب بھی یاد ہے۔ عدنان اور ان کے ساتھیوں کو قرآن و اذان کی بحالی کی سزا پھانسی کی صورت میں دی گئی۔ ۱۹۷۱ء اور پھر ۱۹۸۰ء میں بھی یہی فوجی باغی منتخب حکومتیں گرانے میں کامیاب ہوئے۔ ۱۹۸۰ء میں کنعان ایورین نے بھی اپنے پیش رو جرنیلوں کی طرح عوام پر ظلم کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ انقلاب سے پہلے دوسال دہشت گردی کی مختلف کارروائیاں کروائی گئیں جن میں ۵ ہزار سے زیادہ شہری جاں بحق ہوگئے۔ انقلاب کے بعد ساڑھے چھے لاکھ شہری گرفتار کرلیے گئے۔ ۲ لاکھ ۳۰ہزار افراد پر مقدمات چلائے گئے۔ ۵۱۷شہریوں کو پھانسی کی سزا دی گئی۔ ۲۹۹ قیدی دوران حراست تشدد کے نتیجے میں شہید ہوگئے۔ ۱۵ لاکھ افراد کے وارنٹ جاری ہوئے، ۳۰ ہزار سے زائد گرفتاری سے بچنے کے لیے بیرون ملک چلے گئے۔ ۴ ہزار سے زائد اساتذہ اور پروفیسر برطرف کردیے گئے... ان اعداد و شمار کی مزید تفصیل باقی ہے لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ فوج نے ہر شہری کو یہ پیغام دیا کہ وہ کمال اتاترک سے ورثے میں ملنے والے سیکولرازم کی حفاظت کے نام پر کسی بھی وقت کچھ بھی کرسکتی ہے۔

صدر مملکت کے منصب پر براجمان رہنے کے بعد کنعان ایورین تو رخصت ہوگئے، لیکن فوج نے بعد میں بھی باقاعدہ انقلاب کے بغیر کئی منتخب حکومتوں کو چلتا کیا۔ منتخب وزیر اعظم پروفیسر ڈاکٹر نجم الدین اربکان کی حکومت ختم کردینے کے علاوہ ان کی جماعت بھی غیر قانونی قرار دے دی۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں ایک یہ الزام بھی تھا کہ ’’انھوں نے وزیراعظم ہاؤس میں  دعوتِ افطار کا انعقاد کیا جس میں کئی علما داڑھیوں اور ٹوپیوں سمیت شریک ہوئے اور اتاترک کی روح تڑپ اُٹھی‘‘۔ استنبول کے کامیاب ترین میئر رجب طیب اردوان کو اس جرم کی پاداش میں ۱۰ ماہ کے لیے جیل بھیج کر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی کہ انھوں نے ایک معروف ترک شاعر کی نظم کے چند اشعار ایک جلسۂ عام میں پڑھے تھے کہ یہ مسجدیں ہمارے معسکر ہیں، اس کے گنبد ہماری ڈھالیں اور اس کے مینار ہمارے نیزے ہیں۔

خدا کی قدرت ملاحظہ ہو کہ ۱۸ سال بعد اللہ نے ان اشعار کو حقیقت بنا دیا۔ حالیہ بغاوت کے دوران میں ترکی کی ۸۵ ہزار مساجد سے سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے آدھی رات کے وقت اذانیں شروع ہوگئیں ... عوام سے میدان میں آنے کی اپیل بھی کی جانے لگی... مسنون دُعائیں بلند ہونے لگیں اور ٹینکوں کے سامنے سینہ تانے شہری ایک ہی سرمدی نغمہ گانے لگے یا اللہ ...  بسم اللہ ...  اللہ اکبر! خلافت عثمانی کی سطوت کے دوران عثمانی لشکر بھی یہی تکبیر بلند کیا کرتے تھے۔ اسرائیلی روزنامے ھآرٹز کے کالم نگار انشیل پیبر نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’’اس میں شک نہیں کہ انقلاب کی ناکامی میں مساجد کا کردار بہت نمایاں تھا۔ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ آخری فوجی انقلاب کے بعد سے اب تک ترکی کتنا بدل چکا ہے‘‘۔ اللہ کے گھروں اور اللہ کے بندوں کے مابین یہ تعلق گہرا ہوجانے پر ان کے بہت سے مخالفین کا دکھ مزید گہرا ہوگیاہے۔ آج عالم یہ ہے کہ بغاوت کی ناکام کوشش کو دو ہفتے سے زائد گزر گئے، لیکن ترک شہری اب بھی ہزاروں کی تعداد میں رات سڑکوں پر گزارتے ہیں۔ اس دوران میں آیات جہاد و شہادت کی تلاوت ہوتی ہے، پُرعزم تقاریر ہوتی ہیں اور سب شہری اپنے عزائم و ارادوں میں مزید یکسو ہوجاتے ہیں۔

بغاوت کے اس شر سے ایک خیر یہ بھی برآمد ہوا کہ ترکی کی تمام سیاسی پارٹیاں بتدریج یک جا اور یک آواز ہوگئیں۔ مارشل لا کے اعلان، ریاست کے مختلف اہم دفاتر پر قبضے میں ناکامی، صدر اردوان کے پیغام اور عوام کے سڑکوں پر نکل آنے کے ساتھ ساتھ یہ تمام پارٹیاں بھی فوجی بغاوت کے خلاف یکسو اور مضبوط تر ہوتی گئیں۔ ان سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو یہ کریڈٹ بہرحال ملتا ہے کہ انھوں نے عین اس وقت کہ جب ایک طرف باغی فوجی پارلیمنٹ پر راکٹ برسا رہے تھے اور دوسری طرف حکومت نے اسی روز پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا اعلان کردیا، تو انھوں نے اس میں شرکت کا اعلان کیا اور پھر متفق علیہ قرارداد پاس کرتے ہوئے بغاوت کو مسترد کردیا۔ ۲۴ جولائی کو انقرہ میں سب سیاسی جماعتوں کا بغاوت مخالف مشترک شان دار مظاہرہ ہوا اور ۲۵ جولائی کو تینوں اپوزیشن پارٹیوں کے سربراہ صدر اردوان سے ملاقات کے لیے قصر صدارت گئے۔ تمام تر نظریاتی، سیاسی اور ذاتی اختلافات کے باوجود ان تمام رہنماؤں کا اکٹھے بیٹھنا یقینا ملک و قوم کے لیے باعث خیر و برکت ہوگا۔

حالیہ فوجی بغاوت کو سیاسی رہنماؤں نے ہی نہیں، عسکری قیادت کی واضح اکثریت نے بھی مسترد کردیا۔ سب سے اہم اور سب سے بنیادی انکار تو خود چیف آف آرمی سٹاف جنرل خلوصی آکار کا تھا۔ باغی فوجی جب ان کے پاس اسلحہ تانے پہنچے اور اعلان انقلاب پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا تو انھوں نے انکار کرتے ہوئے انھیں اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ باغیوں نے پہلے تو لالچ دیے اور کہا کہ آپ ملک کے دوسرے کنعان ایورین بنا دیے جائیں گے۔ وہ پھر بھی نہ مانے تو ان کا گلا گھونٹتے ہوئے دستخط کروانا چاہے، اس پر بھی نہ مانے تو انھیں گرفتار کرلیا گیا۔ غالب فوجی قیادت کے انکار کے باوجود بھی بغاوت کرنے والوں کی تعداد کم نہ تھی۔ سیکڑوں اعلیٰ فوجی افسر اور ان کی کمانڈ میں کام کرنے والے ہزاروں افراد اس میں عملاً شریک ہوگئے تھے۔ اگرچہ عام افراد کو بغاوت کا علم نہیں تھا اور انھیں مختلف غلط بیانیاں کرکے میدان میں لایا گیا تھا۔ صدر اردوان کو گرفتار کرنے کے لیے جانے والے خصوصی کمانڈو دستے کے اکثر افراد کو صرف یہ بتایا گیا تھا کہ ’’ایک خطرناک دہشت گرد کو گرفتار کرنے جارہے ہیں اور اس کارروائی میں جان بھی جاسکتی ہے‘‘۔

کئی فوجی جرنیلوں نے اپنے قصور کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کے واضح اعترافات سے یہ بحث بھی اپنے عروج پر جا پہنچی کہ بغاوت کے پیچھے کارفرما اصل قوت کون سی ہے؟ ان میں سے ایک اہم اعتراف ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف جنرل لفنت تورکان کا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ۱۹۸۹ء سے فتح اللہ گولن کی تحریک سے وابستہ ہے اور اس بغاوت کا فیصلہ ہماری اعلیٰ قیادت ہی نے کیا تھا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل خلوصی نے اٹارنی جنرل کے سامنے اپنے بیان حلفی میں بتایا ہے کہ ’’بریگیڈیئر محمد ڈچلی ان کے پاس آئے اور انقلاب کی خبر دیتے ہوئے اس کا ساتھ دینے کا مطالبہ کیا۔ میں نے انھیں اس کے نتائج و عواقب سے خبردار کرتے ہوئے اس سے باز رکھنا چاہا  لیکن وہ نہ مانے۔ چیف نے یہ بھی بتایا کہ انھیں اقنجی ایئربیس پر لے جایا گیا تو ایئربیس کے سربراہ ہاکان (خاقان) افریم نے انھیں ساتھ دینے کی کوشش کرتے ہوئے امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن سے فون پر بات کروانے کی بھی پیش کش کی لیکن میں نے انکار کردیا‘‘۔

۱۹۹۸ء سے امریکی ریاست پنسلوینیا میں مقیم جناب فتح اللہ گولن، ان کی جماعت ہزمت (خدمت)، ان کے ادارے رومی فاؤنڈیشن اور دنیا بھر میں پھیلے ان کے عالی شان تعلیمی اداروں کے بارے میں حسن ظن رکھنے والے ایک دور نویس کے لیے یہ ممکن نہیں کہ بغاوت میں ان کے ملوث ہونے یا نہ ہونے پر کوئی حتمی راے دے، لیکن بعض حقائق انتہائی اہم ہیں۔

انتہائی ذمہ دار ترک احباب کے بقول اس امر میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ فتح اللہ گولن ایک طویل عرصے سے اہم ملکی اداروں میں اپنا براہِ راست نفوذ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ ترکی کے ایک سفر کے دوران ہم نے بھی سنا کہ فتح اللہ گولن نے رکوع و سجود کے بغیر نماز پڑھنے کا فتویٰ دے دیا ہے۔ ہم نے ان کے قریبی ساتھیوں سے استفسار کیا تو انھوں نے بتایا کہ چوں کہ سیکولر ترک فوج میںکسی نمازی کو بھرتی ہونے اور ترقی دینے سے پہلے اس کی پیشانی، ٹخنوں اور گھٹنوں پر نماز کے اثرات و نشان چیک کیے جاتے ہیں، اس لیے یہ فتویٰ دیا گیا ہے کہ باقاعدہ رکوع و سجود کے بغیر اشاروں سے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ یہی نفوذ حاصل کرنے کے لیے انھوں نے بظاہر خود کو سیاست سے بالکل الگ رکھا ہے۔ ان کے پیروکاروں میں بارہا یہ سننے کا موقع ملتا ہے کہ أعوذ باللّٰہ من السیاسۃ  لیکن عملاً نہ صرف ترکی بلکہ بیرون ترکی بھی سیاست دانوں، صحافیوں اور متمول افراد سے ان کا خصوصی رابطہ رہتا ہے۔ نیوز ایجنسی، اخبارات اور ٹی وی چینلوں سمیت پوری ابلاغیاتی دنیا ہے۔ فعال بنک اور یوتھ ہاسٹلوں کا بڑا جال ہے۔ فتح اللہ گولن صاحب اگرچہ معروف ترک مصلح بدیع الزمان سعید نورسی کا تسلسل سمجھے جاتے ہیں لیکن عملاً نورسی تحریک کا ان سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔ نورسی تحریک کی وارث وہ دیگر چار تنظیمیں ہیں جو اپنے اندرونی اختلافات کے باعث تقسیم ہوگئیں لیکن ان کی تمام تر سرگرمیاں مرحوم نورسی کے لٹریچر اور افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کے گرد گھومتی ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک رینڈ( RAND) نے عالم اسلام کے بارے میں اپنی جو معروف سفارشات شائع کیں، اور ان میں اسلامی تحریکات پر ’سیاسی اسلام‘ کا لیبل لگا کر ان کے مقابلے میں ’صوفی اسلام‘ کی پشتیبانی کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ ان میں بھی فتح اللہ گولن کے بارے میں کہا گیا کہ : ’’یہ ترک دینی رہنما ماڈریٹ صوفی اسلام کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ وہ بحیثیت ریاست نفاذِاسلام کے بجاے، دین کو افراد کی نجی زندگی کا مسئلہ قرار دیتے ہیں جو ریاست و حکومت میں بہت محدود مداخلت کرتا ہے۔ ان کے بقول شریعت اسلامی کا نفاذ ریاست کا کام نہیں، یہ ایک شخصی مسئلہ ہے۔ کسی مخصوص دین کے قوانین تمام شہریوں پر لاگو نہیںکیے جاسکتے‘‘۔ گذشتہ ۱۰ سال سے محصور اہلِ غزہ پر ہونے والے مظالم اُجاگر کرنے اور محصورین کے لیے غذائی سامان اور ادویات لے جانے کے لیے جب ایک ترک امدادی تنظیم عوامی اور صحافتی نمایندوں کو شریکِ سفر کرتے ہوئے فریڈم فلوٹیلا لے کر گئی اور صہیونی فوج نے حملہ کرکے نوترک شہری شہید کردیے تو اس وقت بھی فتح اللہ گولن کا یہ موقف بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث بنا کہ: ’’اسرائیل ہمارا دوست ملک ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر اس کی سرحد میں داخلے کی کوشش کرنا ہی نہیں چاہیے تھی۔ ان ترک شہریوں کے قتل کی ذمہ دار ترک حکومت ہے‘‘۔

ان حقائق کے ساتھ ساتھ یہ تلخ حقیقت بھی اہم ہے کہ صدر اردوان گذشتہ کئی سال سے انھیں ترکی میں ایک متوازی ریاست کی حیثیت اختیار کرجانے کا الزام دے رہے ہیں۔ اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ فتح اللہ گولن تحریک کے زیر اہتمام مختلف امتحانات بالخصوص ملٹری اکیڈیمی کے امتحانات کی تیاری اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے بھی کئی ادارے قائم کیے گئے۔     ذرا ایک بار پھر ڈپٹی چیف آف سٹاف کے اعترافات ملاحظہ فرمائیے۔ جنرل تورکان کہتے ہیں کہ  وہ ’’۱۹۸۹ء میں فوج سے وابستہ ہونے کے لیے امتحان کی تیار کررہے تھے۔ میرے اس ارادے اور خواہش کا فتح اللہ گولن کی تحریک کے ساتھیوں کو بھی علم تھا۔ اگرچہ مجھے امتحان میں کامیابی کا یقین تھا، لیکن امتحان سے ایک رات پہلے فوج سے منسلک سردار اور موسیٰ نام کے دو افراد آئے اور مجھے چند سوالات پر مشتمل پرچہ دیتے ہوئے کہاکہ ان کی تیاری کرلو صبح امتحان میں آئیں گے۔ پھر ایسا ہی ہوا اور میں بآسانی اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوگیا۔ اس کے بعد اس تحریک کے ذمہ داران سے مسلسل رابطہ رہا‘‘۔

ملٹری اکیڈیمیوں کے امتحان میں شامل ہونے والے افراد میں روابط بڑھاتے ہوئے انھیں پہلے سے سوالات فراہم کرنے کے پورے نظام کے بارے میں عسکری ذرائع کی یہ رپورٹ چشم کشا ہے کہ تقریباً چھے سال قبل یہ پورا نظام بے نقاب ہوا۔ اس کے بعد فوج اور بیوروکریسی ہی کے نہیں، عمومی تعلیمی نظام اور انٹری ٹیسٹ کے نظام میں بھی جوہری تبدیلیاں کردی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق امتحان سے قبل مخصوص لوگوں کو سوالات فراہم کرتے ہوئے انھیں اپنے ساتھ ملانے کاپورا نظام ختم ہوا تو عجیب صورت حال سامنے آئی۔ ۲۰۱۰ء  ملٹری اکیڈمی کے امتحان میں ریاضیات میں اعلیٰ نمبروں سے پاس ہونے والوں کی تعداد ۱۲۱۴ تھی۔ یہ چور راستہ بند کیا گیا تو ۲۰۱۴ء میں ریاضیات میں پاس ہونے والے صرف دو، ۲۰۱۵ء میں صفر، اور ۲۰۱۶ء میں صرف چار تھے۔ ترک اُمور پر نگاہ رکھنے والے احباب کو اس امتحانی نظام میںتبدیلی کے بعد گولن تحریک کا احتجاج یقینا یاد ہوگا۔

حالیہ ترک ناکام بغاوت کے بعد فتح اللہ گولن صاحب کی شخصیت و افکار کے بارے میں جو بہت سی نئی معلومات سامنے آئیں، ان میں ایک حیرت انگیز بات ان کا اپنے مریدوں کے سامنے خطاب بھی ہے۔ ترک زبان میں اس خطاب کی ویڈیو عربی ترجمے کے ساتھ ترکی سے موصول ہوئی ہے۔ نسبتاً عہد جوانی کے اس خطاب میں وہ انکشاف فرماتے ہیں کہ خواب میں نہیں،عالم کشف میں انھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور انھوںنے ترکی کی نگہبانی میرے سپرد کردی ہے۔ اس انکشاف سے پہلے کینیڈا میں مقیم ایک پاکستانی حضرت صاحب کے جاگتی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب اور آں حضور کے لیے (نعوذ باللہ) ٹکٹ اور پاکستانی ویزا فراہم کرنے جیسے ناقابلِ برداشت دعوے نہ سنے ہوتے، تو شاید ان کے اس دعوے پر زیادہ حیرت نہ ہوتی۔

ناکام بغاوت کے بعد ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریوں پر اردوان کے مخالفین ہی میں نہیں ان کے خیرخواہوں میں بھی ایک فطری تشویش پیدا ہوئی ہے۔ اس بارے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ ملے، نہ چھوٹی موٹی غلطی ہی پر کڑی سزا۔ اگرچہ بے گناہی ثابت ہونے پر اب تک ۱۲۰۰فوجی رہا کیے جانے سے اس تشویش میں قدرے کمی آئی ہے۔ وزیراعظم یلدریم نے بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی شہری کو بھی اس کے قانونی دفاع اور حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ خود صدر اردوان کا یہ بیان بھی بہت اہم ہے کہ متوازی ریاست ختم کرنے کا مطلب گولن تحریک کا خاتمہ نہیں۔ ان کا یہ کہنا بھی انتہائی اہم ہے کہ: ’’بغاوت کے پیچھے اصل ہاتھ فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک سے کہیں بڑا ہے‘‘۔ ظاہر ہے کہ انقلاب کی خبر آتے ہی تمام امریکی، یورپی، اسرائیلی،روسی اور کئی عرب حکمرانوں اور ذرائع ابلاغ کا لہلہا اُٹھنا بلا سبب تو نہیں ہوسکتا۔ ترک اخبارات نے ۲۴جولائی کو انتہائی باخبر سیکورٹی ذرائع سے ایک تفصیلی خبر شائع کی ہے، جس کے مطابق اس بغاوت کی اصل کمانڈ افغانستان میں ناٹوافواج کے امریکی سربراہ جنرل جان کیمبل  کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے گذشتہ عرصے میں ترکی کے متعدد دورے بھی کیے اور اس کے ماتحت افسروں نے نائیجیریا کے UBA بنک سے ۲؍ارب ڈالر ترکی منتقل کیے۔ رپورٹ میں ان افسران کے فتح اللہ گولن اور ان کی تنظیم سے روابط پر بھی تفصیل موجود ہے۔اس رپورٹ کی اشاعت کے اگلے روز افغانستان میں متعین دو ترک فوجی جرنل بھی براستہ دبئی فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار ہوچکے ہیں۔

آغاز بغاوت کے فوراً بعد انقرہ میں امریکی سفارتخانے نے اپنا جو بیان جاری کیا تھا اس پر اس بغاوت کو ترک انتفاضہ (Turkish Uprising)کا نام دیا گیا۔ ناکامی کے بعد یہ بیان  سفارت خانے کی ویب سائٹ سے حذف کردیا گیا، لیکن اس کی تصاویر اور تلخ اثرات کبھی حذف نہیں ہوسکتے۔ وزیر خارجہ جان کیری نے بھی بغاوت کچلے جانے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے  فرمایا کہ Turkey Coup does not apear to be brilliantly planned or executed۔ گویا آں جناب کو فوجی انقلاب کے منصوبے اور اس پر عمل ناقص رہنے کا غم ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بریڈ شرمین (Brad Sherman)کا ارشاد تھا: ’’اُمید ہے ترکی میں فوجی اقتدار وہاں حقیقی جمہوریت لائے گا‘‘۔ نہتے عوام نے باغیوں کے ارادے خاک میں ملا دیے تو پوری دنیا میں ان خوشی سے بغلیں بجانے والوں پر اوس پڑگئی۔ مشرق وسطیٰ کی مزید تقسیم کے نقشے پھیلانے والے معروف امریکی دانش ور فوکس نیوز پر بلبلا اُٹھے: ’’ترکی میں اسلامسٹس کے بڑھتے اقدام روکنے کی آخری اُمید بھی دم توڑ گئی‘‘۔ لاس اینجلس ٹائمز نے اپنے اداریے کی دھمکی آمیز سرخی جمائی: ’’ترکی میں جمہوریت بچ نکلی لیکن آخر کب تک؟‘‘۔

دوبارہ بغاوت کا خیال بھی دل میں لانے والوں میں اگر ادنیٰ سی عقل بھی ہے، تو انھیں اب کبھی یہ حماقت نہیں کرنی چاہیے۔ صدر اردوان فرشتہ نہیں انسان ہیں۔ انسان غلطیاں کرتا ہے اور کبھی پہاڑ جتنی غلطی بھی کرسکتا ہے۔ لیکن بندوق اور خوں ریزی یقینا مزید خوں ریزی ہی کا سبب بنے گی۔ ملک میں استحکام کے بجاے خوں ریزی اور تباہی کا راستہ اختیار کرنے والوں کی سفاکی کا اندازہ اسی بات سے لگالیں کہ گذشتہ ایک سال کے دوران ترکی میں ۱۵ بڑی خوں ریز کارروائیاں کی گئیں۔ آخری بڑی کارروائی رمضان کے آخری عشرے کی طاق رات میں استنبول ایئرپورٹ پر کی گئی جس میں ۴۲بے گناہ شہری جاں بحق ہوگئے۔ حکومت نے اپنی ترجیحات درست طور پر طے کی ہیں۔ ان کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ تعلیم کے لیے وقف ہے۔ تعلیمی بجٹ دفاعی بجٹ سے دگنا ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ کسی قوم کا اصل دفاع تعلیم ہی سے ممکن ہے۔ حالیہ بغاوت کے دوران گولیوں کی بارش اور ٹینکوں کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ترک قوم نے حقیقی جہاد کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔