اگست ۲۰۲۰

فہرست مضامین

کشمیر کی گردشِ تاریخ

غازی سہیل خان | اگست ۲۰۲۰ | مطالعہ کتاب

کشمیر کی تاریخ اور اس سے وابستہ تاریخی المیے پر بہت سی کتب شائع ہوئی ہیں، لیکن بعض کتب اپنی معلومات کی وسعت اور اسلوب کی شُستگی کے باعث پُراثر علمی شان رکھتی ہیں۔ اسی نوعیت کی ایک کتاب Kashmir: A Walk Through History ہے، جس کے مصنف خالدبشیر احمد کا تعلق وادیِ کشمیر سے ہے۔ موصوف تحقیق و تصنیف کے ساتھ اعلیٰ ادبی ذوق رکھتے ہیں۔ آپ کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز کے ممبر بھی رہ چکے ہیں۔ اس سے پہلے تاریخِ کشمیر پر ایک کتاب Kashmir: Exposing the Myth Behind the Narrative لکھ چکے ہیں۔

زیرتعارف کتاب میں انھوں نے کشمیر کی تاریخ کے چند بنیادی واقعات کو تحقیق کے بعد قلم بند کیا ہے۔ غیر ریاستی اور غیرمسلم مؤرخین کے حوالے سے کشمیر پر تاریخی حقائق پیش کیے ہیں۔ خاص طور پر ڈوگروں کے مظالم اور نیشنل کانفرنس کے قائدین کی دغابازیوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

پہلا باب ہے ’لاپتا مسجد‘ (The Missing Mosque)۔ سری نگر شہر کی ’تخت سلیمانی‘ نامی پہاڑی جس کو آج ’شنکر اچاریہ‘ پہاڑی کے نام سے جانا جاتا ہے، اس پر ایک مسجد کے وجود کو تاریخی حوالوں اور دستاویزات سے ثابت کیا ہے۔ ڈوگرہ دور میں مسجد کے وجود کو ختم کرنے اور اس جگہ کو بھگوان شیو کے لیے وقف کرنےجیسی مذموم حرکت پر تحقیقی ثبوت دیے ہیں۔

دوسرا باب ہے ’یاترا کی تاریخ‘ (History of Pilgrimage) بتایا گیا ہے کہ امرناتھ یاترا کو سیاسی مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے؟ امرناتھ گپھا، سری نگر سے ۱۴۵کلومیٹر کی دُوری پر واقع ہے۔ اس گپھا میں پانی کے قطرے ٹپکنے سے برف کا ٹکڑا جم جاتا ہے، جس کو ہندو لوگ’شیولنگم‘ کہتے ہیں۔اس یاترا کو اب مذہبی کے بجائے سیاسی رنگ دے کر زیادہ سے زیادہ یاتریوں کو اس گپھا کے درشن کرائےجاتے ہیں۔ پہلے چندسو افراد پندرہ دنوں کے لیے یاترا پر آتے تھے۔ اب اس یاترا کی مدت دو ماہ تک پہنچا دی گئی ہے۔ پہلے چند ہزار یاتری جاتے تھے اور اب یاتریوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ یہ یاتری دریاے سندھ کے منبعے کو لاہی اور تھجو اسن گلیشیرز کے درمیان واقع امرناتھ گپھا کے درشن کرتے ہیں اور آبی وسائل کے ساتھ ساتھ جنگلات کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں اورپانی آلودہ ہورہا ہے۔ اس یاترا کو سیاسی رنگ کے باوجود کشمیری مسلمانوں نے ان شردھالوؤں کی میزبانی کا بہترین حق ادا کیا ہے۔

تیسرے باب ’جموں میں قتل عام‘ (Jammu Massacres) میں ۱۹۴۷ء کے دل دوز واقعات کا ذکر ہے، جس میں شیخ عبداللہ کی قیادت میں کانگریس نوازنیشنل کانفرنس کی قیادت کی دغابازیوں کی خوب خبر لی ہے۔ تقسیم ہند کے ڈیڑھ ماہ بعد جموں شہر کے مسلمانوں کو یہ کہہ کر گاڑیوں میں لادا گیا کہ آپ کو پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ لیکن ان معصوم اور نہتے مسلمانوں کو راستے میں ہی گولیوں، تلواروں اور برچھیوں سے تہ تیغ کرکے ان کی لاشوں کو دریا بُرد کرنے کے علاوہ نذرِ آتش بھی کر دیا گیا۔ مصنف نے مثال کے طور پر ایک واقعے کا ذکر کیا ہے: [ترجمہ] جموں کے شہر ادھم پور میں ۲۵؍اکتوبر ۱۹۴۷ء عید کے دن مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ سیکڑوں افرادپریڈ گراؤنڈ میں جمع تھے اور اُن کو دو چیزوں میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا گیا: ’’موت یا ہندو مذہب قبول کرنا‘‘۔ پھر ہلّہ بول کر بہت سے نہتے مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس قتل عام میں سے چند زندہ بچ جانے والوں میں وزیرہ بیگم کا کہنا تھا: بچوں کے گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو کھانے کے ساتھ ملا کر پکایا گیا اور یہ کھانا ان زندہ بچ جانے والے مسلمانوں کوکھلایا گیا۔ وزیرہ بیگم کا کہنا ہے کہ میں نے کھانے میں بچوں کی انگلیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اسی طرح سے چودھری عبداللہ خان کی بیٹی رضیہ بیگم کا کو ٹھاکر بلون سنگھ کے ہاتھوں اغوا اور پھر زبردستی شادی رچانے کا دل دوز سانحہ بھی درج ہے۔

چوتھا باب ’خون ریزی کے عینی شاہد‘ (Eye Witnessess to Bloodshed) جموں میں قتل عام کے چشم دید گواہوں میں کرشن دیوسیٹھی، ویدبھیم، پروفیسرعبدالعزیزبٹ، چودھری شبیراحمد سلیری، محمود احمد خان، بلراج پُری، چودھری فتح محمد، خواجہ عبدالرؤف، وزیرہ بیگم، حاجی محمدبشیر، جمال الدین عبدالرشید کنتھ شامل ہیں۔ انھوں نے روح فرسا رُودادیں بیان کی ہیں۔ وزیرہ بیگم نے قتل عام کے بعد جموں میں زندہ بچ جانے والے مسلمانوں کےایک کیمپ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا: [ترجمہ] ’’جب شیخ عبداللہ ، زندہ بچ جانے والے مسلمانوں کے کیمپ میں گئے، تو وہاں موجود مسلمانوں نے اپنے اُوپر مظالم کا تذکرہ کیا۔ جواب میں شیخ عبداللہ نے کہا:’’یہ سب کچھ جموں کے مسلمانوں کے ساتھ ہونا ہی تھا، کیوں کہ انھوں نے مجھے کبھی اپنا لیڈر تسلیم ہی نہیں کیا‘‘۔

پانچویں باب میں ’جناح اور کشمیر‘ (Jinnah and Kashmir) میں قائداعظم کے کشمیر میں مختلف دوروں، خاص طورپر ۱۹۴۴ء کے دورے کا تفصیل سے ذکر ہے۔ مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کے قائداعظم کے لیے الگ الگ جلسے کا تذکرہ ہے۔ بارہ مولا میں مسلم کانفرنس کے منعقدہ جلسے میں تقریر کے دوران نیشنل کانفرنس کے کارکنوں، نے جن کی قیادت مقبول شیروانی کر رہے تھے، قائد اور مسلم کانفرنس کے خلاف نعرے بازی کے واقعے کو بھی صفحۂ قرطاس پہ رقم کیا ہے۔

چھٹے باب میں ’باقاعدہ لکھا ہوا تنازع‘ (A Scripted Controversy) میں اُردو زبان کے خلاف روزِ اوّل سے سازشوں کا احوال لکھا ہے۔ ۱۹۸۲ء میں ایک اسمبلی ممبر مرحوم غلام احمد شنٹو اسمبلی میں اُردو زبان کے حق میں تقریر کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔ مصنف نے ان کو ’شہیدِ اُردو‘ کے لقب سے یاد کیا ہے۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر سے روزِ اوّل سے اُردو زبان و ادب کو نکال دینے کے لیے سازشیں جاری ہیں۔

ساتویں باب ’ ایک صدی کی یادیں‘ (Recolletions of Century) میں محمدصدیق پرے مرحوم نے اپنی سوسالہ زندگی کے چند واقعات بیان کیے ہیں۔

کشمیر میں سیاسی جدوجہد کے حوالے سے چودھری غلام عباس کی عظیم قربانیاں ہیں۔ ان کے تذکرے کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ عینی گواہان اور مؤرخین کے ساتھ کشمیر کی تاریخی جگہوں کی تصاویر نے بھی کتاب کو زینت بخشی ہے۔ کتاب گلشن بُکس سری نگرکشمیر نے شائع کی ہے۔