دسمبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

کلام نبویؐ کی کرنیں

مولانا عبدالمالک | دسمبر ۲۰۱۴ | فہم حدیث

حضرت انسؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین سے جہاد کرو اپنے مالوں، اپنی جانوں اور اپنی زبانوں سے۔ (ابوداؤد، نسائی، دارمی )

جہاد دین کی سربلندی اور کفروشرک کی پسپائی کے لیے پوری قوت صرف کر دینے اور تمام وسائل خرچ کردینے کا نام ہے۔ وسائل میں مال بھی ہے، جانیں اور زبان بھی ہے۔ زبان کے ذریعے کفروشرک کو علمی میدان میں شکست دینا ہے۔ علمی میدان میں شکست دیے بغیر حکومت، عدالت، تجارت، سیاست، معاشرت اور معیشت کسی بھی میدان میں شکست دینا ممکن نہیں ہے۔ زبان کے ذریعے جو علمی جہاد ہے، اس میں قلم و قرطاس اور لٹریچر بھی شامل ہے۔ ہفت روزہ، ماہوار اور روزانہ کی سطح پر رسائل و جرائد اور میڈیا میں کفروشرک کو شکست دینا لازم ہے اور یہ بڑا جہاد ہے کہ ہرقسم کے جہاد کی کامیابی اس جہاد میں کامیابی پر موقوف ہے۔ جو لوگ اس میدان میں جہاد کر رہے ہیں ان کے ساتھ ہرقسم کا تعاون کرنا جہاد فی سبیل اللہ میں تعاون کرنا ہے۔ آج کے زمانے میں ہم اس میدان میں پیچھے ہیں۔ کل گذشتہ میں ہم نے اپنے اسلاف کے ذریعے سوشلزم، کمیونزم اور سیکولرزم کو اس میدان میں شکست دی ہے۔ آج سرمایہ دارانہ نظام کی شکست باقی ہے۔ اس کی بھی بنیادیں کھوکھلی ہوچکی ہیں۔ دنیا نے سودی نظام کی ہلاکتیں اور تباہیاں دیکھ لی ہیں۔ اب وہ کسی اور نظام کی متلاشی ہے۔ اسلام کے علَم برداروں کے لیے سنہری موقع ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اسلامی نظام کی برکات دنیا پر واضح کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان ممالک میں انقلابِ اسلامی برپا ہو۔ مسلمانوں کو اس کی برکات ملیں۔ وہ عدل و انصاف اور خوش حالی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کریں۔

٭

عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آنکھیں ایسی ہیں کہ ان کو آگ نہیں چھوئے گی۔ ایک وہ آنکھ جس نے اللہ کی خشیت سے روتے ہوئے رات گزاری اور دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں رات کو پہرہ دیتی رہی۔(ترمذی)

یہ دونوں خوش قسمت اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کرنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے  بیدار رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت آدمی کو ہرقسم کے گناہوں سے بچاتی ہے اور اللہ کی راہ میں رات کو پہرہ دینا اسلام کو غالب کردینے کا ذریعہ ہے، اور اسلام کو غالب کر دینا اللہ تعالیٰ کو انتہائی محبوب ہے۔ اس لیے جو آدمی اللہ تعالیٰ کے محبوب نظام کو غالب کر دینے میں راتوں کو جاگے گا، تکالیف برداشت کرے گا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا۔ جس طرح راتوں کو پہرہ دینا اور تکالیف برداشت کرنا    اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا ذریعہ ہے، اسی طرح کسی بھی شکل میں دن ہو یا رات، سردی ہو یا گرمی جو آدمی اللہ تعالیٰ کے دین کو سربلند کرنے میں مصروفِ عمل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوگا۔ دعوت و تبلیغ،    تعلیم و تربیت اور درس و تدریس ہر ایک کام کی بڑی فضیلت اور درجہ ہے اور احادیث میں اس کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ آدمی جس میدان میں بھی خدمات سرانجام دے سکے وہ اللہ کے ہاں مقام اور مرتبہ حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوجائے گا بشرطیکہ اخلاص و للہیت کے ساتھ اس کام کو کیا ہو، ریا، نمود ونمایش کی غرض نہ ہو۔

٭

حضرت عبداللہ بن حبشیؓ سے روایت ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: لمبا قیام، یعنی نماز میں زیادہ دیر کھڑے رہنا اور قراء ت کرتے رہنا۔ پھر کہا گیا کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: فقیر آدمی کا مشقت اُٹھا کر صدقہ کرنا۔ کہاگیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ان چیزوں سے ہجرت کرنا (یعنی ان چیزوں کو چھوڑ دینا) جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جس نے مشرکوں سے اپنے مال اور جان سے جہاد کیا ۔ پھر پوچھا گیا: کون سا قتل سب سے افضل ہے؟ آپؐ نے فرمایا: جس کا خون گرا دیا گیا اور اس کا عمدہ گھوڑا بھی مار دیا گیا۔ (ابوداؤد)

نماز، صدقہ، ہجرت، جہاد اور شہادت تمام عبادات اپنے اپنے دائرے میں افضل ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کی فضیلت اور نوعیت بیان فرما دی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی راتوں کو اس قدر طویل قیام کیا کہ آپؐ کے قدموں پر وَرم آگیا اور صدقہ کا ایسا نمونہ پیش فرمایا کہ خود پیٹ پر پتھر باندھے اور اپنے صحابہ کرامؓ کو کھانا کھلایا۔ صحابہ کرامؓ نے بھی مہمانوں کو کھانا کھلایا اور خود بھوکے رات گزاری اور اپنے بچوں کو بھی بھوکا رکھا۔ ہجرت اور جہاد میں اپنی جانیں اتنی کھپا دیں کہ اللہ کے دین کو غالب کر دیا۔ ان کا جہاداور شہادتیں تمام جہادوں اور شہادتوں سے بلندتر درجہ پاگئے۔

٭

حضرت ابومالک اشعریؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اللہ کی راہ میں نکلا اور فوت ہوگیا، یا قتل کردیا گیا، یا اس کے گھوڑے اور اُونٹ نے اُسے گرا دیا اور اس کی گردن کو توڑ دیا، یا اسے سانپ نے کاٹ لیا اور وہ فوت ہوگیا، یا وہ اپنے بستر پر لیٹا ہوا اللہ کی مشیت سے فوت ہوگیا، جیسی موت اللہ تعالیٰ نے دینا چاہی د ے دی تو وہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔۔(ابوداؤد)

جو لوگ جہاد کے لیے نکلے، دین کی سربلندی کے کام میں لگ گئے، انھیں جس طرح سے بھی موت آئے ان کی موت شہادت کی موت ہے۔ دعوت و تبلیغ کے لیے، تحریک کے کام کے لیے، کسی پروگرام کی دعوت کے لیے نکلنے والے، جن کو بھی موت آجائے، کسی طرح سے وہ فوت ہوجائیں وہ تمام شہید ہیں کہ انھوں نے اپنی جان اللہ کی راہ میں دے دی۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ جو دین کی کسی بھی طرح کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں کہ ان کی موت شہادت کی موت شمار ہوگی!

٭

حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جہادی مہم پر نکلے تو ایک آدمی ایک غار کے پاس سے گزرا جس میں کچھ پانی اور سبزہ تھا۔ اس نے سوچا کہ یہاں قیام کرلے اور دنیا سے الگ ہوجائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت طلب کی تو رسولؐ اللہ نے فرمایا: مجھے یہودیت اور نصرانیت کے ساتھ نہیں بھیجا گیا بلکہ آسان دینِ حنیف کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمدؐ کی جان ہے! صبح کے وقت تھوڑی دیر کے لیے اللہ کی راہ میں نکلنا اور شام کے وقت تھوڑی دیر کے لیے اللہ کی راہ میں نکلنا دنیاومافیہا سے بہتر ہے۔ اور تم میں سے ایک آدمی کا جہاد فی سبیل اللہ کی صف میں کھڑے ہونا ۶۰سال کی نماز سے افضل ہے۔(مسند احمد)

یہود و نصاریٰ نے دین میں تحریف کرکے یہودیت اور نصرانیت ایجاد کی اور نفس کُشی کو دین قرار دیا۔ غاروں میں بیٹھ جانا، اپنے نفس کو اذیت دینا اور کھانے پینے اور لباس، شادی جیسی راحتوں سے    دُور رہنے کو دین بنا دیا، جس کے نتیجے میں تکلیفیں اُٹھانے کے ساتھ ساتھ گناہوں میں مبتلا ہوگئے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام گمراہیوں کا خاتمہ فرمایا اور انھیں آسان دین دے دیا، جس میں انسان    اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرلے اور اسے ایسی مشقت بھی نہ اُٹھانی پڑے جو بشری تقاضوں سے متصادم ہو۔ اس سے آسان نسخہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ صبح و شام تھوڑا سا وقت اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی میں صرف کیا جائے اور ایک رات جہادی صف میں گزاری جائے، لیکن ثواب۶۰سال کی نماز سے بھی بڑھ جائے۔ اسلامی تحریکات، دعوتِ دین کے اس عظیم کام کو پورے جوش اور ولولے سے لے کر آگے بڑھیں، اپنے درجات بڑھائیں۔ یہودیت اور نصرانیت شکست کھاچکی ہیں لیکن ان کے نام لیوا سیکولر حکمران دنیا میں مسلمانوں سے انتقام لے رہے ہیں۔ ان کے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے، جہاد فی سبیل اللہ کی صفو ں کو مضبوط اور مستحکم کریں اور منظم جدوجہد کے ذریعے ان کے منصوبوں کو ناکام بنادیں۔

٭

حضرت صہیبؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ ہنس پڑے۔ پھر آپؐ  نے فرمایا: تم لوگ پوچھتے نہیں کہ میں کیوں ہنس پڑا؟ صحابہؓ نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! آپؐ  کیوں ہنس پڑے؟ آپؐ  نے فرمایا: میں مومن کی خوش قسمتی کا تصور کر کے ہنس پڑا۔ مومن کو خوشی حاصل ہوتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملتا ہے۔ مومن کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کرتا ہے تو اس پر اسے اجر ملتا ہے۔مومن کی ہر حالت اچھی ہے۔ مومن کے علاوہ کوئی دوسرا ایسا نہیں ہے کہ اس کی ہرحالت اچھی ہو۔ (مسند احمد)

ایمان اصل دولت ہے۔ ایمان جس قدر کامل ہوگا اسی قدر آدمی کی خوش قسمتی میں اضافہ ہوگا۔ لوگ   اپنا بنک بیلنس بڑھانے میں لگے رہتے ہیں اور اس کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔ جو جتنا زیادہ مال دار ہے اپنے آپ کو اتنا ہی خوش قسمت سمجھتا ہے لیکن اصل خوش قسمتی یہ ہے کہ آدمی ایمان کے تقاضوں کو پورا کرے، فرائض کو ادا کرے اور منکرات سے بچے۔ اس کے ساتھ اگر حلال دولت بھی کماتا ہے تو اس پر بھی اجر ہے اور اگر حلال دولت کمانے میں زیادہ کامیابی نہیں ہوتی تب بھی اس کے لیے کوشش پر اجر ہے۔ وہ نیکیاں کما رہا ہے اور اجر پا رہا ہے۔ دن کے ۲۴ گھنٹے اس کی کمائی جاری ہے۔ اس سے بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا میں اطمینان ہو اور آخرت میں جنت الفردوس ٹھکانا ہو۔