دسمبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

کتاب نما

| دسمبر ۲۰۱۴ | کتاب نما

بہترین انسان، مؤلف: ظفر اللہ خان۔ ناشر: ایمل مطبوعات، ۱۲-دوسری منزل، مجاہد پلازا، بلیوایریا، اسلام آباد۔ فون: ۵۵۴۸۶۹۰-۰۳۴۲۔ صفحات: ۱۹۰۔ قیمت: ۴۵۰ روپے

مؤلف جو بیرسٹر ہیں، اسلام، قانون اور حقوقِ انسانی پر کئی کتب کے مصنف ہیں، کتاب کی وجۂ تالیف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’پیشِ نظر کتاب میں اسلامی تہذیب کے بنیادی اصولوں اور آداب کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسوئہ رسولؐ کے زندہ جاوید آثار کی رہنمائی میں حُسنِ اخلاق سکھلانے والا یہ مجموعہ مرتب کیا گیا ہے جس میں انسانی زندگی کے بہت سے پہلوئوں سے متعلق اسلامی آداب پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔ (ابتدائیہ)

کتاب میں اختصار کے ساتھ مختلف موضوعات اور ابواب کے تحت احادیث کا انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ انداز ایسا ہے کہ دورانِ مطالعہ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صحبت ِ رسولؐ میں موجود ہو اور براہِ راست آپؐ کی ہدایات سے فیض یاب ہو رہا ہو۔ کچھ عنوانات: ’خندہ پیشانی   حُسنِ اخلاق ہے‘، ’تم آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو‘، ’اللہ سے عزت لینے کا آسان طریقہ‘، ’مزاح سنت ہے‘، ’غیبت بدبودار ہے‘، ’بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے‘، ’ایثار شرف کا ثبوت ہے‘۔ آخری باب: ’دعوت انبیا ؑ کا راستہ ہے‘ اس پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اخلاقی تعلیمات پر نہ صرف خود عمل کرنا ہے بلکہ اسلامی تہذیب و معاشرت کے فروغ کے لیے دوسروں کو دعوت بھی دینا ہے۔ ہرنبی ؑ کی طرح رسولِ کریمؐ کے اسوئہ کا یہ نمایاں ترین پہلو ہے۔

کتاب کی ایک اور خصوصیت اختصار و جامعیت ہے۔ وقت کی کمیابی سے دوچار افراد  بھی مختصر وقت میں اخلاقی تعلیمات اور عملی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ طباعت کا معیار ’بہترین‘ ہے۔(امجدعباسی)


برصغیر میں اسلامی صحافت کی تاریخ اور ارتقا، ڈاکٹر سلیم الرحمن خان ندوی۔ ناشر:اسلامک ریسرچ اکیڈیمی ، کراچی۔ تقسیم کنندہ: اکیڈیمی بک سنٹر، ڈی ۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ صفحات: ۴۱۹۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

انسانی تہذیب و ثقافت میں اظہار و ابلاغ کے متعدد ذرائع رُونما ہوئے۔ پریس کی ایجاد نے اخبارو اطلاعات کی ترسیل کا دائرہ بہت وسیع کردیا۔ یورپ کی استعماری طاقتوں نے اپنے تجارتی اور توسیع پسندانہ عزائم کے تحت جب مسلم ممالک پر قبضہ کیا تو پریس کی طاقت کا استعمال بھی ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہد میں صحافت کے ابتدائی نقوش اُبھرے۔ ۱۷۸۰ء میں ملّی گزٹ سے متحدہ ہندستان میں صحافت کا آغاز ہوا۔ ۱۸۰۰ء میں فورٹ ولیم کالج قائم ہوا جس سے اُردوزبان کو تعلیم یافتہ طبقے میں اعتبار حاصل ہوا۔ ۱۸۳۳ء میں کلکتہ سے آئینہ سکندری کے نام سے فارسی زبان میں اخبار شائع ہوا۔ عیسائی اپنے اخباروں کے ذریعے اسلام پر شدید تنقید کررہے تھے۔ اسلامی صحافت کا وجود معاصر حالات کے ردّعمل کے طور پر ہوا۔ ۱۸۳۳ء سے ۱۸۵۷ء تک مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخباروں کی تعداد ۴۴ تھی۔

زیرنظر کتاب میں برصغیر میں اسلامی صحافت کے آغاز اور ارتقا پر تحقیقی و تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔ ۱۸۵۷ء میں اخبار سراج الاخبار وغیرہ میں مسلمانوں کے کارنامے منظرعام پر لائے جاتے تھے۔جنگ کے بعد انگریز حکومت نے ایک مدت کے لیے مسلمانوں کے تمام اخبار بند کردیے۔ دہلی اُردو اخبار کے ایڈیٹر مولوی محمد باقر کو توپ سے اُڑا دیا گیا۔ انگریزی اخبار مسلمانوں کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔ سرسیداحمدخاں نے جریدہ سائنٹفک سوسائٹی اور تہذیب الاخلاق  کے ذریعے مسلمانوں کو جدید تعلیم و تہذیب کی طرف راغب کیا۔

۱۸۵۸ء سے لے کر ۱۹۰۰ء تک مختلف زبانوں میں متحدہ ہندستان میں ہفت روزوں، ماہناموں، دس روزوں، پندرہ روزوں اور روزناموں کی تعداد ۲۵۱تھی۔ ان اخبارات کے ناموں کے علاوہ ان کے مدیروں کے نام بھی لکھے گئے۔ ۱۹۰۱ء سے ۱۹۴۷ء تک کے اخبارات کو اُردو صحافت کا سنہری دور کہا گیا ہے۔ انگریزی سامراج کے خلاف زوردار آواز حسرت موہانی نے ۱۹۰۳ء میں رسالہ اُردوے معلٰی میں اُٹھائی۔ محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد اور ظفر علی خان کے اخبارات نے مسلمانوں کی دینی، معاشرتی اور سیاسی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ زیرنظر کتاب میں فاضل محقق نے ان اخبارات کے مقاصد، سیاسی وابستگی، مضامین کے عنوان اور مضمون نگاروں کے نام بھی لکھے ہیں۔ مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، محمدعلی جوہر، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی صحافتی زندگی، ان کے اخبار و جرائد کی خصوصیات، سیاسی وابستگی اور     ان کے علمی و ادبی کمالات کے علاوہ صحافت کی تاریخ میں ان کے مرتبہ و مقام کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا ہے۔ مجلہ معارف ،ترجمان القرآن، اسلامک کلچر، الفرقان اور مجلہ بُرہان پر بھی جامع تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ پاک و ہند میں عربی صحافت کا بھی فاضل محقق نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کے مصنف نے ریاض یونی ورسٹی سے ایم اے کے لیے یہ مقالہ عربی زبان میں تحریر کیا تھا جسے مولانا احسن علی خاں ندوی نے اُردو قالب میں ڈھالا ہے۔بعض اندرجات توجہ طلب ہیں: سرسیّد احمد کا سنہ وفات ۱۸۸۹ء نہیں (ص ۴۶) ۱۸۹۸ء صحیح ہے۔ ابوالکلام آزاد نے الہلال دوبارہ ۱۹۲۷ء میں نکالا، اس وقت دوسری جنگ عظیم نہیں بلکہ پہلی جنگ ِ عظیم کی وجہ سے ہندستان پیچیدہ حالات سے گزر رہا تھا(ص ۱۶۲)۔ البلاغ، ۱۹۱۴ء میں نہیں بلکہ ۱۲نومبر ۱۹۱۵ء کو منصہ شہود پر آیا (ص۱۶۲)۔ان کے علاوہ بھی مزید چند مقامات پر تصحیحات کی ضرورت ہے۔(ظفرحجازی)


ترقی اور کامیابی بذریعہ تنظیم وقت ، محمد بشیر جمعہ۔ ناشر: ٹائم مینجمنٹ کلب بالمقابل زینب مارکیٹ، ۲۶۸- آر اے لائنز، عبداللہ ہارون روڈ، صدرکراچی-۷۵۵۳۰۔ فون: ۲۹۸۷۶۳۸-۰۳۲۳ صفحات: ۲۹۲۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

شاہراہِ وقت پر ترقی اور کامیابی کا سفر تبھی طے ہوسکتا ہے جب انسان متوازن زندگی گزارے۔ محمدبشیر جمعہ کی ترتیب دی ہوئی تازہ کتاب ترقی اور کامیابی بذریعہ تنظیم وقت انسانی زندگی کو مؤثر ، منظم، مستعد اور مربوط بنانے کے عمل میں مشوروں پر مشتمل عمدہ رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ کتاب دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترتیب کار نے کتنی محنت، دقّت نظر اور عرق ریزی کے ساتھ یہ لوازمہ فراہم کیا ہے۔ قرآن و سنت، تاریخی واقعات و شخصیات اور جدید تحقیق کی روشنی میں کامیابی کے گُر سامنے لائے گئے ہیں۔ کتاب میں درج بنیادی ساری باتیںکتابی نہیں عملی بھی ہیں، جن کو کام میں لاکر کوئی چاہے تو زندگی کے میدان میں کامیابی سمیٹ سکتا ہے اور آگے بڑھ سکتا ہے۔

۱۵ ابواب پر مشتمل یہ لوازمہ کامیابی کے مفہوم، وقت کی قدروقیمت، فوائد، اقسام اور استعمال بارے تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ وقت بہتر انداز میں کیسے استعمال کیا جائے، اور اس کے ضیاع کو کیسے روکا جائے، اس کے اہم اور کلیدی موضوعات ہیں۔ زندگی کے نصب العین کا تعین، تبدیلی کیوں اور کیسے؟ آگے بڑھنے کا عمل، اخلاقِ فاضلہ کوکیسے پروان چڑھایا جائے؟ بُری عادات اور رویّے کیسے ترک کیے جائیں؟ صلاحیتوں کی آبیاری کیسے ہو؟ ترجیحات کا تعین، منصوبہ سازی، کارکردگی میں بہتری اور سستی اور کاہلی کا مقابلہ کیسے ہو؟ گفتگو، تقریر و تحریر اور مطالعہ کیسے کیا جائے کہ یاد رہے۔ یہ اور اس طرح کے عملی مشوروں پر مشتمل یہ کتاب ایک دل چسپ اور مفید کتاب ہے۔ کتاب میں استعمال کی گئی بعض اصطلاحات اُردو خواں طبقے کے لیے نئی ہوسکتی ہیں اور مشورے اجنبی، لیکن ان پر عمل کرنے والا محروم نہیں رہے گا۔ آخر میں جن کتب ، تراجم اور مضامین سے استفادہ کیا گیا ہے، ان کی فہرست بھی فراہم کردی گئی ہے۔ تمام شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات ان مفید مشوروں سے فیض یاب ہوسکتے ہیں لیکن وہ لوگ جنھوں نے ابھی زندگی کا سفر طے کرنا اور زندگی کے میدان میں کارہاے نمایاں سرانجام دینے ہیں، یہ کتاب ان کے لیے رہنمائی کا عمدہ ذریعہ ہے۔ وہ ایک کامیاب اور متوازن زندگی کے لیے مکمل لائحہ عمل اور پلان ترتیب دے سکتے ہیں۔ بڑے بھی چاہیں تو اس سے نفع پاسکتے ہیں۔

اتنے اہم اور قیمتی مشوروں اور رہنمائی پر مبنی یہ لوازمہ خوب صورت اور معیاری طریقے پر پیش کیا گیا ہے اور قیمت بھی زیادہ نہیں۔(عمران ظہور غازی)


قرآنِ حکیم اور حقیقت ِ کائنات، انجینیر نفیس عالم حنفی بخاری۔ ناشر: نیو امیج پبلی کیشنز، کراچی۔ صفحات: ۲۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔

مصنف انجینیرہیں اور مطالعے کا ذوق اور اسلام کا درد رکھتے ہیں۔ا نھوں نے کائنات کے حوالے سے قرآن حکیم کی جتنی آیات اور احادیث مل سکیں ان کو ان ۱۵ مختلف عنوانات کے تحت   نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ ان کی تشریح بھی لکھی ہے۔ سائنسی تشریحات اور قرآن و حدیث کی تشریحات کا موازنہ بھی کیا ہے۔ کتاب میں جابجا زمین اور آسمان کے نقشے، اللہ تعالیٰ کے عرش کے مختلف حالتوں کے نقشے ،اور زمین ، آسمان اور سیاروں کے ایک دوسرے سے فاصلے کے جدید ریاضی کے مطابق حسابیات بیان کی گئی ہیں۔ غرض کہ کتاب کی تصنیف بڑی عرق ریزی سے کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ یہ سب قرآن اور حدیث کے تصورات کے حدود میں رہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر مفتی منیب الرحمن نے بڑی صائب راے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے دی ہے: یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ فہم قرآنی کی ایک علمی کاوش اور بشری سعی ہے۔ ضروری نہیں کہ قطعی اور حتمی ہو، حقیقی اور قطعی علم صرف اللہ کے پاس ہے ، کیونکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں‘‘۔ (ص ۲۷)

سائنسی اُمور پر اُردو میں لکھنا جب تک عبور حاصل نہ ہو بیان اور جملوں میں بے ربطی پیدا کردیتا ہے۔ بعض آیات کے ترجمے بھی قابلِ غور ہیں۔ مصنف کی یہ پہلی کوشش ہے توقع ہے کہ آیندہ طباعت میں اس طرف توجہ کی جائے گی۔ (شہزادالحسن چشتی)


تعارف کتب

  • ماہنامہ فقہ اسلامی ،(اشاریہ) ، مدیر: پروفیسر ڈاکٹر نوراحمد شاہتاز۔ ناشر: اسلامک فقہ اکیڈمی، پوسٹ بکس نمبر ۱۷۷۷۷، گلشن اقبال، کراچی۔ فون: ۲۳۷۶۹۸۵-۰۳۳۳۔ صفحات: ۱۱۱۔ قیمت: درج نہیں۔[علمی و فقہی مباحث اور عصرِحاضر کے مسائل پر رہنمائی پر مشتمل مجلہ فقہ اسلامی گذشتہ ۱۴برس سے علمی و تحقیقی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اہلِ علم اور محققین کی سہولت کے لیے اشاریہ آج ایک ضرورت کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ زیرنظر اشاریہ فقہ اسلامی کے گذشتہ ۱۴برس (اپریل ۲۰۰۰ء تا دسمبر ۲۰۱۳ء) پر مشتمل ہے۔ مجلے میں اُردو، عربی اور انگریزی میں مضامین یک جا شائع ہوتے ہیں۔ اشاریہ میں مضامین کی ترتیب موضوعاتی اور مصنف وار ہے۔ محمد شاہد حنیف نے اشاریے کو مرتب کیا ہے۔]
  • تربیت اولاد،تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں ، سیّد فضل الرحمن۔ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، اے-۴؍۱۷، ناظم آباد نمبر۴، کراچی۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔[مولانا سیّد زوار حسین اکیڈمی ٹرسٹ کے زیراہتمام ’جواہرسیرت‘ کے تحت دعوتی و علمی موضوعات پر کتب کی اشاعت کا آغاز دعوتی نقطۂ نظر سے کیا گیا ہے۔      ان کتب کے اشاعتی حقوق بھی عام ہیں۔ زیرنظر کتابچہ بچوں کی تربیت سے متعلق ہے۔ قرآن و سنت اور    اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے خطوط اور بنیادی حقوق کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کے تحت اُمِ ایمنؓ، رسولِؐ اکرم کی انا از ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی شائع کیا جاچکا ہے۔ اس سے اسوئہ رسولؐ کا ایک منفرد پہلو سامنے آتا ہے۔ عہدِحاضر میں جہاد کے تصور اوراس کے بارے میں پائے جانے والے شبہات کے ازالے کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کا کتابچہ: رسولؐ اللّٰہ کا نظریۂ جہاد اور جدید ذہن کے شبہات بھی شائع کیا جاچکا ہے۔]