دسمبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

تکمیل پاکستان کا ایجنڈا

سراج الحق | دسمبر ۲۰۱۴ | اشارات

اس فانی دنیا میں باعزت اور باوقار زندگی گزارنے کا اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ بتایا ہے کہ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔نبی کریم نیکی کا بہترین نمونہ تھے۔ اس لیے ہمیں ان کے اُمتی ہونے کے حیثیت سے ہر لمحے نہ صرف خود نیکی اختیار کرنی ہے بلکہ نیکی کا حکم بھی دینا ہے۔ برائی سے    خود بھی رُکنا ہے اور دوسروں کوبھی روکنا ہے۔ جس کلمہ توحید کی بنیاد پر یہ ملک بنا تھا__ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہَ مُحَمَدٌ رَّسُوْلُ اللّہ اس کا مقصد بھی نیکی عام کرنا اور بدی کی روک تھام کرناہے۔  ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پرفخر ہے۔ آئیے ہم مل کر ان پر دل کی گہرائیوں سے درود و سلام پیش کریں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اُمت ِوسط، یعنی اعتدال والی امت کا درجہ دیا ہے۔ ایک ایسی امت جو انصاف پسند ہو ، جو حق کی نصیحت کرنی والی ہو اور ظلم کے خلاف ایک مضبوط قوت ہو۔ ظلم کو روکنا اور ظلم کو ہونے سے بچانا دونوں اس امت کے فرائض میں شامل ہیں۔

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ  الْمُنْکَرِ تُؤْ مِنُوْنَ بِاللّٰہِ (اٰل عمران ۳:۱۱۰) دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

اس کا تقاضا ہے کہ ہم اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔ ہماری انفرادی زندگی اور اجتماعی زندگی میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ ظاہر اور باطن ایک ہونا چاہیے۔ہمارا گھر اسلام کامرکز اور جنت کا نمونہ ہونا چاہیے۔ جہاں والدین کواحترام ملے۔ بڑوں کو عزت ملے۔ بچوں کو شفقت ملے اور جہاں میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بنیں۔ ایک گھر ہمار ا یہ ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی ہے۔۔ہمیں اس کی عافیت اور بہتری بھی مطلوب ہے۔ ہمیں اس گھر میں بھی اللہ اور اس کے رسول کا حکم نافذ کرنا ہے۔

ہم نے اسی جذبے کے ساتھ اس اجتماع عام کا انعقاد کیا۔ ہم نے تجدید عہد کرنے کے لیے اپنے بھائیو، بہنو ،جوانوںاوربزرگو ں کویہاں مشورے کے لیے بلایا۔ میں نے آج تک وہ جذبہ نہیں دیکھا جو آج میں دیکھ رہاہوں۔تاکہ اس ملک میں انصاف کے قیام اورحق کی گواہی قائم ہوجائے۔ اجتماع عام کاانعقاد ایک غیرمعمولی فیصلہ تھا۔ ہمارے پاس نہ وسائل تھے اور نہ خفیہ قوتوں کی آشیر باد۔ہم نے صرف اللہ کے نام پر سب کو یہاں اکٹھا کیا۔ تحریک پاکستان کے نام پر سب کو اکٹھا کیا۔

اس اجتماع کے انعقاد کے لیے کارکنان جماعت اسلامی، مرد و خواتین سب نے دن رات  اَن تھک محنت کی۔یہاں ہم سب اللہ کی رضا کے لیے آئے ہیں اور ان شاء اللہ آپ یہاں سے محبت ، اخوت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر جا رہے ہیں۔

 قائد اعظم ؒ نے فرمایا تھا کہ تحریک پاکستان اُس وقت شروع ہو گئی تھی جب ہندستان میں پہلا مسلمان داخل ہواتھا۔ تحریک پاکستان برسو ں جا ری تھی مگر قراردادِ پاکستان۱۹۴۰ء میں منظور ہوئی۔ اس قرارداد میں مملکت پاکستان کا واضح نقشہ رکھ دیا گیا اور مرکز اور محور قرآن و سنت کو قرار دیا گیا۔ مغرب زدہ لوگ آج بھی قائد اعظم پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ پاکستان کو سیکولر بنانا چاہتے تھے حالانکہ قائد اعظم، پاکستان کو اسلام اور جمہوریت کا مرکز بنانا چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ ’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اُس اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبر ؐاسلام نے ہمار ے لیے بنایا ہے‘‘۔ انھوں نے یہ بھی فرمایاتھا کہ: ’’مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے جائیںگے ہم میں زیادہ اتحاد پیدا ہوتا جائے گاکیونکہ ہم ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک امت کے پیروکار ہیں‘‘۔

مؤرخ پاکستان ڈاکٹر صفدر محمود نے …… آج میں یہ بات بڑے واضح طو ر پر کہنا چاہتا ہوںکہ تحریک پاکستان میںاس وقت تیزی آئی تھی جب ۱۹۴۵ء میں یہ نعرہ لگا کہ پاکستان کا مطلب کیا  لا اللہ الا اللہ۔ پھر دنیا نے دیکھاکہ دو سال کی قربانیوں کے بعد پاکستان وجود میں آگیا۔ یہ تھی طاقت لا اللہ الا اللہ کی۔ اور آج سب لوگ جان لیں لیںکہ اس ملک کا مستقبل ان الحکم الااللہ ہے یہاں کوئی دوسرا نظام نافذ نہیں ہو سکتا۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ قائد اعظم کی اس مسجد میں کوئی دوسرا اِزم نافذ کر سکتا ہے۔

قائد اعظم ؒ نے تو پاکستان اسلام اور جمہوریت کے لیے بنایا مگر یہاں نہ اسلام کو نافذ ہونے دیا گیا اور نہ جمہوریت کو۔ قائداعظم کی وفات کے بعد اس ملک پر مفاد پرستوں نے قبضہ کر لیا۔ انگریز کے ٹکڑوں پر پلنے والے جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، سول اور ملٹری ڈکٹیٹروں نے بار بار شب خون مارا۔اسلام اور جمہوریت کے خلاف سازشیں کیں۔شہری آزادیاں سلب کیں اور قومی خزانے کو لوٹنا شروع کیا۔ ۱۹۵۴ئمیں غلام محمد نے اقتدار سنبھالا۔ ۱۹۵۶ئمیں پہلا آئین بنا لیکن اس کو چلنے نہیں دیا گیا اور ایوب خانی مارشل لا آگیا۔ ۱۹۶۲ء میں دوسرا آئین بنا اور یحییٰ خان کا مارشل لا آگیا۔ اس عرصے میں اس ملک میں نفرتوں کے بیج بوئے گئے اور سیاسی جماعتوں کو کام نہیں کرنے دیا گیا۔ اخبارات پر پابندی لگائی گئی۔ سیاسی لیڈروں اور صحافیوں کو جیلوں میں ڈالا گیا اور ظلم کی انتہا کر دی گئی۔ ۱۹۷۰ئمیں جب پہلے عام انتخابات ہوئے تو اس کے نتائج کو اسٹیبلشمنٹ اور مفاد پرست جاگیرداروں نے قبول نہیں کیا۔ عوام کے فیصلے کو قبول نہیں کیا گیا۔ اقتدار اکثریتی جماعت کو سپر د نہیں کیا گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا گیا۔

۱۹۷۳میں تیسرا آئین بنا۔ یہ وہ متفقہ آئین تھا جس میں چاروں صوبوں اور ملک کی تمام جماعتوں نے دستخط کیے۔ اس میں مقتدرِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیاگیا۔اس دستور میں قرار داد مقاصد شامل ہے۔ اس آئین میں وفاقی شرعی عدالت ہے۔ اس آئین کے مطابق کوئی قانون قرآن وسنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا ، اس آئین کے مطابق قرآن و سنت کی تعلیمات کو عام کرنا ہے ، عربی زبان کو سکھانااور اس آئین کے مطابق اسلام کے منافی کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس آئین کے مطابق کوئی طالع آزماجمہوریت کو ختم نہیں کر سکتا، میرٹ کو ختم نہیں کر سکتا ،بنیاد ی حقوق کوختم نہیں کرسکتا ، شہری آزادیوں کو ختم نہیں کر سکتا ،اظہار راے کو ختم نہیں کر سکتا عورتوں پر تعلیم کے دروازے بند نہیں کر سکتا ، ریاست کے خلاف بغاوت نہیں کر سکتا اور آزادیِ اظہار کو بھی ختم نہیں کرسکتا۔ اس آئین میں صوبوں کے حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ وسائل کی تقسیم کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں کو فیصلوں کا اختیار دیا گیاہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی کو تسلیم کیا گیاہے۔ شفاف انتخابی نظام اور الیکشن کمیشن کی گارنٹی دی گئی ہے مگر کیا یہاں جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا۔۱۹۹۹ئمیںپرویز مشرف نے ایک مرتبہ آئین کو توڑنے کا گناہ کیا۔ اور پھر دوسری مرتبہ ۲۰۰۷ئمیںبندوق کے زو ر پر آئین کو پامال کیا اور ملک کی عزت کو ایک ٹیلی فون کال پر امریکا کے سپرد کیا۔اپنی بہنو ںاور بھائیوںکوڈالروں کے عوض بیچ ڈالا۔آج بھی ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور کئی پاکستانی امریکا کے جیلوں میں پرویز مشرف کی وجہ سے پڑے ہوئے ہیں۔سیکڑوں پاکستانی لاپتا ہو گئے ہیں۔ بلوچستان کے اندر آپریشن کے ذریعے بلوچوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا پہاڑوں پر چڑھ کر گوریلاجنگ کرنے پر مجبور کر دیا۔ ہندستان کے ساتھ ساز باز کر کے مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈالا اور لاکھوں کشمیری شہدا کے خون سے بے وفائی کی۔ یہاں تک کہ اسرائیل کے ساتھ بھی پینگیں بڑھائی۔ جو قبلہ اول اور مسجد اقصیٰ پر قابض ہے اور وہ ہزاروں فلسطینیوں کا قاتل ہے۔ ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا ، بے حیائی کا سیلاب بہایا گیا اور ملک کے تعلیمی نصاب کو غیر اسلامی بنانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن جب  وہ اپنے اقتدار سے ہٹا تو اس کے جرائم پر پردہ پوشی کرتے ہوئے اسے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔   وی آئی پی بنایا گیا۔ یہ دنیا کا واحدملک ہے کہ جہاں ملک توڑنے والوںکو ، آئین توڑنے والوں کو ، اپنی بہنوںکو بیچنے والوں کو اور اپنی فضائیں دشمنوں کو دینے والوں کو وی آئی پی بنا کر رکھا جاتاہے اور جب وہ مرتے ہیں تو پاکستان کے جھنڈے میں ان کو دفنایا جاتا ہے۔

آئین کی بار بار پامالی سے یہ ملک بھی ٹوٹا ، اس کے ادارے بھی تباہ ہوئے۔ یہ آئین کئی مرتبہ  بے توقیر ہوا۔ اس ملک میں نہ اسلام کو آنے دیا گیا ، نہ جمہوریت کو جڑ پکڑنے دی گئی۔ جس کے پاس دولت تھی یا بندوق، اُس نے اس ملک کے عوام کا ستیاناس کر دیا۔ اس ملک کی بنیادیں ہلادیں۔ اس ملک کے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم کیا۔ اسلامی حقوق، معاشی حقوق اور معاشرتی حقوق سے محروم کیا۔ تعلیم سے محروم کیا۔ صحت سے محروم کیا۔ اچھے ماحول سے محروم کیا۔ خواتین پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ نوجوانوں پر ملازمتوں کے دروازے بند کیے گئے۔ ہسپتال اور سکولوں میں طبقاتی نظام لایا گیا۔ مزدوروں کو حق نہیں دیا گیا ، بچوں سے مشقت کروائی گئی۔ ان کو اپنا غلام سمجھا گیا۔ اس ملک میں کرپٹ اشرافیہ نے آمروں اور مفاد پرستوں کے ساتھ مل کرپاکستان کی بیوروکریسی کو تباہ کیا، پولیس کو تباہ کیا ،ٹیکسوں کے نظام کو تباہ کیا ، کرپشن کو عام کیا ، اقرباء پروری کو عام کیا ، طبقاتی نظام کو دوام بخشااور سارے اداروں کو تباہ و برباد کیا۔ آج ملک کا کوئی بھی ادارہ چوروں اور لٹیروں سے ، ظالموں اور استحصالیوں سے خالی نہیں۔ ہر طرف وی آئی پی کلچر کا راج ہے۔ تھانوں میں ، عدالتوں میں ، ہسپتالوں میں ، سکولوں میں ، دفتروں میں۔ دوسری طرف اس ملک کو اس مٹھی بھر اشرافیہ نے اپنے مفادات کی خاطر تقسیم در تقسیم کیا۔ مذہبی منافرت پھیلائی ، مسلکی جھگڑے پیدا کیے ، فرقہ پرستوں کی حوصلہ افزائی کی اور سیاسی انتشار پیدا کیا۔ کسی کو اقتدار میںلائے اورکسی کو محروم کیا۔ انتخابات ، پارلیمنٹ اورقومی اداروں کو بے وقعت کیا۔ اپنے اقتدار کو دوام پخشنے کے لیے امریکی دہشت گردی کا ساتھ دیا۔ معاشی نظام کو بر باد کر کے غریبوں سے دو وقت کی روٹی چھین لی۔ مہنگائی میں اضافہ کر دیا۔ سی این جی کو نایاب کردیا۔ گیس اور بجلی کے بلوں میں اضافہ کردیا۔ کرایے بڑھ گئے ، فیسیں بڑھ گئیں۔ہر طرف بھوک کے سائیے نظر آرہے ہیں۔ ہر طرف غربت ناچ رہی ہے۔ ہر طرف لاقانونیت ہے ، بھتے ہیں ، کمیشن ہے اور ٹارگٹ کلنگ ہے۔ کیا یہ قائد اعظم ؒ کی خوابوں کی تعبیر ہے ؟ کیا اس کے لیے مسلمانوں نے قربانی دی تھی ؟ کیا اس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا؟   

سوات آپریشن کے دوران لاکھوں لوگوں کو اپنے ملک میں مہاجر بنایا گیا اور کیمپوں میں ان کی تذلیل کی گئی۔ اب فاٹا میں اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کیاجارہا ہے۔ ۹ لاکھ قبائلی پاکستانی اپنے ہی ملک میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ وہ خواتین جو حیا کی وجہ سے ڈاکٹروں کے پاس بھی نہیں جاتی تھیں ان کو کیمپوں میں رہنے پر مجبور کر دیا گیا۔ آج ان کا کوئی والی وارث نہیں۔ آج امریکا کو بتایا جا رہا ہے کہ ہندستان کی کاروائیوں کی وجہ سے پاکستانیوں کے خلاف آپریشن متاثر ہو گیا ہے۔ میں واضح کرنا چاہتاہوں کہ قبائلی پاکستانی ہیں ان کی تذلیل بند کی جائے اور ان کے خلاف آپریشن بند کیا جائے۔ اور ان کو اپنے گھروں کو عزت کے ساتھ جانے دو۔ قبائلیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ازالہ کرواور امریکا کی جنگ سے باہر نکلو۔

اس ملک میں کرپٹ اشرافیہ نے اقتدار میں باریاں لگائی ہوئی ہے۔ ایک اقتدار میںآجاتا ہے تو دوسرے کے مفادات کی حفاظت کرتاہے۔ یہ اقتدار پرستوں کی جائنٹ فیملی ہے جس میں میڈیابھی ان کے قدموں کے اندر بیٹھتا ہے۔ دولت کی ریل پیل میں حق اور سچ سامنے نہیں آتا۔

ایسے میں اس ملک کے اندر ہم امید کی کرن دکھانے کے لیے اجتماع عام کر رہے ہیں تاکہ قائد اعظم کے نامکمل مشن کو اور پاکستان کے نامکمل ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچائیں۔ تحریک پاکستان کا دوبارہ آغاز ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ قائد اعظم کے مشنـ اسلام، جمہوریت اور عوام کی فلاح کوپوراکریں جس ملک کا قیام اسلامی بنیادوں اور اسلامی جذبوں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اسی طرح اس کا تحفظ ، اس کی سلامتی اور آزادی بھی اسلام کے سچے اور عادلانہ نظام کے بغیر ممکن نہیں۔ ہم اس ملک کو اسلامی اورخوش حال پاکستان اس لیے بنانا چاہتے ہیں کہ یہاں پر طبقاتی تقسیم ختم ہو، کرپشن ، ناانصافی ، ظلم و زیادتی ، جہالت اورغربت ختم ہو۔ ہماری تحریک پاکستان کے ذریعے اختیارات اور اقتدار عوام کے حقیقی نمایندوں کو سپرد کرنے کے لیے نچلی سطح تک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم قومی زبان کو ترویج دیں گے اور مقابلہ کا امتحان بھی قومی زبان میں کرائیں گے۔ تحریک پاکستان کی اس تحریک میں ہم صوبائیت اور علاقائی تعصبات کو ختم کریں گے۔ غیر مسلم برادری کے حقوق دوسرے شہریوں کے برابرہوں گے۔ ان کو مذہبی اور معاشی آزادیاں حاصل ہوں گی۔ ہم تحریک پاکستان کی اس تحریک میں عوام کے سیاسی شعور میں اضافہ کر کے آمریت کی ہر شکل کو بے نقاب کریں گے۔ ہم دھاندلی سے بننی والی حکومتوںکو بے نقاب کریں گے۔ ہم سیاستدانوں کی خریدوفروخت کی گھنائونی سازشوںکو طشت ازبام کریں گے۔ ہم عوام کو ظاہری اور باطنی حکومتوں کا فرق سمجھائیں گے۔ اس لیے میں پاکستان کے ہر مرد اور عورت کو ،ہر پاکستانی کو ، ہر نوجوان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ تحریک پاکستان کی اس نئی جدوجہد کا حصہ بنے پاکستان کو ایک جدید ریاست بنانے کے لیے ، اسلامی ریاست بنانے کے لیے اور خوش حال پاکستان بنانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔

 میں ہر پاکستانی سے اپیل کرتا ہوں کہ اسلامی پاکستان اور خوشحال پاکستان کی خاطر تحریک پاکستان کا پیغام گھر گھر تک پہنچائیں۔یہ ہماری تقدیر کا سوال ہے ،یہ ہمارے مستقبل کا سوال ہے۔ میں پاکستان کے عوام کو کہتا ہوں، اور سب سے کہتا ہوںکہ ہم نے جو عوامی ایجنڈا آپ کو دیا ہے۔ یہ قومی ایجنڈا ہے ، یہ پاکستان کو بچانے کا ایجنڈا ہے۔ ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ تحریکِ پاکستان کو راستہ دے دو تاکہ یہ ملک ترقی کر جائے۔ہماری جدوجہد سیاسی ہے۔ قائد اعظم نے پاکستان لشکر کشی کے ذریعے سے حاصل نہیںکیا تھا نہ گوریلا جنگ کے ذریعے سے بلکہ پاکستان عوامی اور جمہوری جدوجہدکے بعد حاصل کیا گیا تھا اور ہم بھی عوامی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے سے قائد اعظم کے وژن کے مطابق پُرامن ذرائع سے پاکستان کو حقیقی اسلامی ، جمہوری ، سیاسی اور پروگریسو ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یاد رکھو کہ تمھاری جاگیریں اور تمھارا پیسہ اور تمھاری طاقت صدانہیں رہے گی۔ نا م صرف  اللہ کا  رہے گا ، اسی اللہ تعالیٰ کا حکم چلے گا۔ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ (انعام۶ :۵۷)

نائن الیون کے بعد امریکا نے ہمارے ملک پر ایک علانیہ جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ پرویز مشرف ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہو گیاتھا۔ عالمی ایٹمی قوت ہونے کے باوجود امریکا اور نیٹو فورسز نے افغانستان پر قبضہ کرنے کے لیے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے۔ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئیں۔ جوان قتل ہو گئے۔ اس پر بس نہیں کیا بلکہ امریکا نے پاکستان میں ایک خفیہ جنگ مسلط کی۔ جن کی وجہ سے داخلی انتشار میں مزید اضافہ ہوا۔ ۵۵ہزار پاکستانی شہید ہوگئے مگر امریکا اب بھی قلعہ بند ہو کر افغانستان پر قابض ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہم افغانستان کے عوام کے ساتھ ہیں اور ان کی آزادی ، سلامتی اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ افغان اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کر کے اپنی آزادی کو امریکا سے واپس لیں گے۔

 تحریک پاکستان کے آغازِ نو پر میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ جماعت اسلامی دنیا کے کسی ملک کے خلاف نہیں۔ ہم سب کی آزادی اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔ ہم امریکا کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ امریکی حکمرانوں کی ظالمانہ پالیسی کے خلاف ہیں جو وہ مسلمانوں اور مسلمان ممالک کے خلاف اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ہم یورپ و امریکا سے اچھے تعلقات برابری کی بنیاد پر چاہتے ہیں۔ ہم بین المذاہب مکالمہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم تمام مذاہب کااحترام کرتے ہیںاور ہر قسم کے عالمی تعصب کے مخالف ہیں۔

ہم امریکا اور یورپ سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف عالمی جنگ کو ختم کریں۔ اگر تم دنیا میں امن لانا چاہتے ہو اور لڑنا چاہتے ہو تو غربت ،جہالت اور ناخواندگی کے خلا ف لڑو۔

 جماعت اسلامی پاکستان تمام اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو اولیت دیتی ہے۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، قطر ، کویت اور دوسرے عرب ممالک میںلاکھوں پاکستانی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جویہاں زرمبادلہ بھیجتے ہیں ہم ان کا احترام اور ان کے احسان مند ہیں۔ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات کے بارے میں ہماری رائے ہے کہ اس کو بات چیت اور نیک جذبوں سے حل کیا جائے۔ اخوان المسلمین اور حماس کے بارے میں بعض دوست ممالک کو غلط فہمی ہو گئی ہے۔ ہم اپیل کرتے ہیںکہ مسلم امت کی خاطر اپنے بھائیوں اور اپنی طاقت کو تقسیم نہ کریں اور متحد ہوجائیں۔ ہم اسرائیل کی فلسطین اور فلسطینی بچوں ، عورتوں اوربوڑھوں پر اور سکولوں اور ہسپتالوں پر بمباری کی مذمت کرتے ہیں اور قبلہ اول کی آزادی تک فلسطینی عوام کی حمایت کرتے رہیں گے۔

ہم ہمسایہ ممالک ، چین ایران ، افغانستان کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں۔ ہم ہندستان کے ساتھ بھی اچھے اور دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں مگر تعلقات، کشمیر کی قیمت پر نہیں ہو ں گے۔ پیاز اور ٹماٹر ڈپلومیسی یا کرکٹ ڈپلومیسی سے بہتر نہیں ہوں گے۔ جنوب مشرق ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ذریعے حل کیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر  میں بچوں ، جوانوں اور بوڑھوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ کشمیریوں کی نسل کشی بند کی جائے۔ مَیں کشمیر کے مسلمانوں کو پیغام دیناچاہتا ہوںکہ آپ کی جدوجہد زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں بلکہ اسلامی پاکستان کی تکمیل کی جدوجہد ہے۔ آپ کا جذبہ جہاد اور شوق شہادت اور طویل جدوجہد پر پاکستان کے عوام آپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںاور امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جب سری نگر اسلامی پاکستان کا گرمائی دارالخلافہ بنے گا۔

جماعت اسلامی نے ہمیشہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی۔ ۱۹۷۱ء میں جب مشرقی پاکستان پر ہندستان نے حملہ کیا اور جماعت اسلامی کے رضا کاروں نے ہندستان کی تربیت یافتہ فورس کے خلاف مادروطن کی حفاظت کی۔ ہزاروں نوجوان بھارتی فوج اور ان کی تربیت یافتہ مکتی باہنی کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔ فوج نے ہتھیار ڈال دیئے مگر ایک طرف ہمارے ملک میں بعض لوگوں نے مادر وطن کی حفاظت پر جماعت اسلامی کو طعنے دئیے تو دوسری طرف بنگلہ دیش بننے کے بعد جماعت اسلامی کے کارکنوں کو آزادی دشمن اور پاکستان دوست قرار دیا اور آج ۴۴سال گزرنے کے باوجود جماعت اسلامی کے بزرگ رہنمائوںکو جھوٹے مقدمات میں سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ہم حسینہ واجد کے انتقام کی مذمت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی حکومت سے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی حمایت اگر جرم ہے تو پھر کل کیوں اس مادرِ وطن کے لیے قربانی دینے کے لیے کوئی تیار ہو گا۔

 یہ بنگلہ دیش کا داخلی معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمی معاملہ ہے۔ عالمی معاہدوں کا تقدس ہوتا ہے  ایک طرف حکومت مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر اور دوسری طرف بنگلہ دیش کے ساتھ عالمی معاہدوں پر عمل درآمد نہیں کروا سکی۔ کیا بنگلہ دیش کو اس لیے تسلیم کیا تھا کہ وہ عالمی معاہدوں سے روگردانی کر ے اور ظلم اور فاشزم کا ثبوت دے۔

ملکی بحران کا اصل سبب

سوال یہ ہے کہ نظام کیسے تبدیل ہوگا؟

مولانا مودودی ؒ نے فرمایا تھا کہ پُرامن آئینی جدوجہد کرو، ذہنوں کو تبدیل کرو، انسان کو اندر سے تبدیل کرو، پھر عوام کو منظم کرو اور قیادت مہیا کرو۔ منتشر معاشرے کو ایک کرنا، عوام کو روشنی دینا، عوام کو منزل دینا یہ قیادت کا کام ہے۔ ہم زیرزمین سازشوں، گوریلا جنگ یا ڈنڈے کے زور پر یقین نہیںرکھتے۔ دلوں کی دنیا کو تبدیل کریں تو معاشرہ تبدیل ہوگا۔ اگر آپ اس ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو دلوں کو فتح کرنا ہوگا۔ خیالات اور خواہشوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔ اچھا اخلاق اور کردار ہماری قوت ہیں۔

مَیں کارکنانِ جماعت سے اپیل کرتا ہوں کہ سورج کی طرح کرنیں بکھیرو، چاند اور تاروں کی طرح جگمگانا سیکھو، گلاب کے پھول بنو اور کردار کی خوشبو تقسیم کرو۔ ان شاء اللہ خلقِ خدا تمھارے گرد جمع ہوجائے گی۔معاشرے کے خدمت گار بنو۔ یتیموں، مسکینوں، بیوائوں اور بوڑھوں کا سہارا بنو۔ مظلوموں کی آواز بنو اور ان کی دُعا بنو۔ خالق کو راضی کرنا ہے تو مخلوقِ خدا کی خدمت کرو۔

ہم جانتے ہیں کرپٹ اشرافیہ نے صرف پاکستان کو منزل سے ڈی ریل ہی نہیں کیا بلکہ انھوں نے بیوروکریسی کو بھی کرپٹ کیا، پولیس کا نظام بھی تباہ کیا۔ ٹیکس کا نظام عوام کو نچوڑنے کا اور اِن کی تجوریاں بھرنے کا ذریعہ ہے۔ انھوں نے اس ملک میں کرپشن، اقرباپروری اور طبقاتی نظام کو دوام دیا۔ ریلوے غریبوں کی سواری ہے، اس کو تباہ کیا۔ کرپشن کی وجہ سے ہی پی آئی اے کو مفلوج کیا۔ پارلیمنٹ پر عوام کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔ مظلوم کو سننے کے لیے کوئی ادارہ نہیں ہے۔ چور اور لٹیروں کو پکڑنے کا کوئی نظام نہیں ہے۔

پاکستان کے آئین میں اللہ کی بادشاہت اور انسانوں کی خلافت کو تسلیم کیا گیا ہے مگر یہاں منافقت کا نظام ہے۔ کرپٹ اشرافیہ کا نظام ہے، جاگیرداروں کا نظام ہے، امریکی وفاداروں کا نظام ہے۔ اللہ کا نظام کہیں نظر نہیں آتا اور نہ خلافت کا نظام نظر آتا ہے۔ آئینِ پاکستان قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، لیکن سارا معاشی نظام سود پر چلتا ہے۔ سود تو اللہ اور رسولؐ کے ساتھ جنگ ہے۔

ہم آئینِ پاکستان کے ساتھ ہیں اس لیے کہ اس آئین نے پاکستان کو جوڑ رکھا ہے۔ اس میں اللہ کی حاکمیت کو اقتدارِاعلیٰ تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر پاکستان کا آئین ختم ہوا تو فساد کی قوتیں دوبارہ ایسا متفقہ دستور نہیں بننے دیں گی۔ وفاقی شرعی عدالت ختم ہوجائے گی۔ پھر صوبوں کو اکٹھا کرنا مشکل ہوگا۔ یہاں سامراجی قوتیں ہمیشہ غیرجمہوری نظام کی حمایت کرتی ہیں تاکہ اس ملک کا تشخص بدل ڈالیں، اور اس ملک کو بھارت کا غلام بنا ڈالیں۔ ان کے لیے ایک ڈکٹیٹر سے سودا کرنا آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں مسئلہ آئین کا نہیں، قیادت کا اور قیادت کی بے عملی کا ہے۔ عوام کو جب موقع ملتا ہے تو انھی لوگوں کو جھولیاں بھربھر کر ووٹ دیتے ہیں جنھیں بعد میں جھولیاں بھرکر بددعائیں دیتے ہیں۔ خود ہی سانپوں کے منہ میں دودھ ڈالتے یں اور جب وہ اژدھا بن کر ڈستے ہیں تو پھر خوب روتے بھی ہیں۔

ان اژدھوں نے آپ کو دبایا ہوا ہے۔ یہی سانپ خزانے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے مقصد پاکستان کو سبوتاژ کیا اور پاکستان کے جغرافیے کو بھی۔ چین اور ملایشیا کو اچھی قیادت ملی تو ترقی کرگئے اور ایشیا کے ٹائیگر بن گئے۔ یہاں استحصالی طبقے نے خود کو امیر اور آپ کو غریب بنایا۔ انھوں نے ہماری صنعت کو تباہ کیا۔ انھوں ہماری زراعت کو تباہ کیا۔ ان کی وجہ سے غریب اور مزدور فاقوں کا شکار ہیں۔ ان کے بچے باہر پڑھتے او رہمارے بچے گندگی کے ڈھیر میں رزق تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ ان کو ووٹ دیتے ہیں اور وہ آپ کو بجلی اور گیس کے ظالمانہ بل بھیجتے ہیں اور     یہ وی وی آئی پی کلچر تو یہودیوں کا ہے۔ کیا اس ملک میں ہم سب برابر نہیں ہیں؟ ہسپتالوں میں،   ہوٹلوں میں، دفاتر میں، ہر جگہ وی آئی پی کلچر ہے۔ محمود اور ایاز کب ایک صف میں نظر آئیں گے۔ جب اسلامی حکومت قائم ہوگی تو تعلیمی اداروں میں طالب علم ، ہسپتالوں میں بیمار، اور عدالتوں میں ہرمظلوم وی آئی پی ہوگا۔ ہم موجودہ وی آئی پی  کلچر کو ختم کریں گے تو لوگ خود کہہ اُٹھیں گے کہ  ع

رہے نہ کوئی عالی جاہ ، لا الٰہ الا اللہ

قومی ایجنڈا

ہمیں قوم کو روشنی کے گرد اکٹھا کرنا ہے، اُمید کی شمع روشن کرنی ہے۔ میں محروموں کو، مظلوموں، مزدوروں اور مجبوروں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جماعت اسلامی عام آدمیوں اور غریب عوام کی اصل جماعت ہے۔ یہاں موروثی اور خاندانی سیاست نہیں ہے۔ یہاں کوئی گدی نشین نہیں ہے۔ آئیے ہم سب مل کر مٹی بھر کر پٹ اشرافیہ کی کرپٹ فیملی کا مقابلہ کریں۔ اسلامی پاکستان کے لیے، جمہوری پاکستان کے لیے، فلاحی پاکستان کے لیے، پروگریسیو پاکستان کے لیے ایک ہوجائیں تاکہ محمود و ایاز ایک صف میں نظر آئیں۔

مَیں عوامی ایجنڈے میں یہاں ہر فرد کو خوش حال دیکھنا چاہتا ہوں۔ فرد خوش حال ہوگا تو قوم خوش حال ہوگی، پھر ریاست بھی خوش حال ہوگی۔ اس کے لیے انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ میں مانتا ہوں کہ یہاں پرانے سیاسی کھلاڑیوں اور سیاسی پنڈت بڑے مضبوط ہیں۔ ان کے پاس وسائل ہیں، امریکا ان کے ساتھ ہے اور میڈیا پر بھی ان ہی کا بول بالا ہے۔

ہمارے پڑوس چین میں غریب کسان جاگیرداروں کے خلاف اکٹھے ہوئے اور انقلاب برپا کر دیا۔ فرانس میں مزدور ساہوکاروں کے خلاف اکٹھے ہوئے اور کامیاب ہوگئے۔ ترکی میں اسلامی تحریک کے کارکنوں نے ۱۸، ۱۸ بار ایک ایک گھر پر دستک دی اور کامیاب ہوگئے۔ ہم تو ۱۸کروڑ ہیں۔ ہمارے ساتھ اللہ ہے، ہاتھوں میں قرآن ہے اور ہمارے ساتھ ایک شان دار ماضی ہے۔ اگر عوام بیدار ہوگئے تو کوئی ہماراراستہ نہیں روک سکتا۔

  •  روزگار کی فراھمی اور بے روزگاروں کے لیے الاؤنس: ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں ، مگر یہ کارآمد نہیں ہیں، اور نہ ان سے روزگار ملتا ہے۔ کیا یہ حکومت کا فرض نہیں ہے کہ وہ ہر بے روزگار نوجوان کو باعزت روزگار دے یا بے روزگاری الائونس۔ ہمارے ہنرمند اور قابل نوجوان روزگار کی تلاش میں باہر کیوں بھاگ رہے ہیں۔ حکومت ان کو بلاسود قرضے کیوں نہیں دیتی۔ نظام ایسا بنایا ہے کہ پھر معاف بھی ہوجاتے ہیں۔

جب اسلامی حکومت قائم ہوگی تو ہر بے روزگار ہنرمند نوجوان کو روزگار دیں گے ، اور روزگار ملنے تک بے روزگاری الائونس دیں گے۔

  • مفت تعلیم اور اُردو ذریعۂ تعلیم:کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ ہمارے پیارے پھول جیسے بچوں کے لیے سکول میں کرسیاں نہیں ہیں، ان کے لیے ٹاٹ اور چٹائیاں نہیں ہیں اور استاد بھی نہیں ہے۔ جب کہ اعلیٰ طبقے کے لیے ’اے لیول‘  ’او لیول‘ ، اوکسفرڈ اور کیمبرج کا نظام ہے۔ کیا غریب آدمی کسی اچھے سکول یا کالج میں پڑھ سکتا ہے؟

ہمارا عزم ہے کہ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو یکساں نظامِ تعلیم کو رواج دیںگے۔ جس سکول میں وزیراعظم کا بیٹا پڑھے گا اسی میں مزدور اور ہاری کا بیٹا بھی پڑھے گا۔ یکساں ماحول ہوگا تو پتا چل جائے گا کہ کون ہیرو ہے اور کون زیرو؟

ہمارے معاشرے میں ۵۱ فی صد خواتین ہیں۔ اس شرح سے ان کے لیے سکول، کالج  اور یونی ورسٹیاں بھی ہونی چاہییں مگر تنگ نظر حکومتوں نے ان کو بھی تعلیم سے محروم رکھا ہے۔ اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر رہ جاتے ہیںیا نکل جاتے ہیں۔

ہم غیرترقیاتی اخراجات کو کم کرکے تعلیم کو مفت اور عام کریںگے۔ میٹرک تک تعلیم لازمی ہوگی۔ تعلیم کا ذریعہ قومی زبان ہونا چاہیے اور قومی اور علاقائی زبانوں کو ان کا قرار واقعی مقام ملنا چاہیے۔ انگریزی اہم ہے لیکن انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنانا اوراس کی بالادستی قائم کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔ انگریزی زبان کی بادشاہت میں کروڑوں نوجوان زندگی کی دوڑ میں پیچھے  رہ جاتے ہیں۔ تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اسلامی پاکستان میں علم کے نور سے منور پاکستان میں تعلیم مرکز اور محور ہوگی۔

  • مفت علاج: ملک کے ہسپتالوں کا کیا حال ہے؟ پرائیویٹ ہسپتال مہنگے، جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات نہیں ہیں، نہ ڈاکٹر ہے نہ دوائیاں، نہ مریضوں کے لیے بستر اور خدمت گار۔ وہاں بھی کرپشن نے اپنا اثر دکھایا ہے۔ اسمبلی ممبران کے ایک دانت پر سرکاری خزانے سے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں،وہ بھی لندن میں۔ دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں میں سردرد کی دوا بھی ملتی۔ غریب یہاں بھی اپنی موت کا انتظار کرتا ہے مگر وہ بھی اپنے وقت پر ہی آتی ہے۔

اسلامی فلاحی حکومت قائم ہوگی تو بڑی بیماریوں کا علاج مفت کریں گے۔

  • پیداوار میں مزدور اور کسان کی شراکت: ملک کے لیے قربانی عام آدمی دیتا ہے، خون پسینہ بہاتا ہے۔ ہماری بلندوبالا عمارتیں غریب بناتا ہے اور ان عمارتوں میں رہتا کوئی اور ہے۔ کھیت ان کی وجہ سے لہلہاتے ہیں مگر ان کی پیداوار کھاتا کوئی اور ہے۔ کارخانوں میں پسینہ بہاتا ہے مگر منافع کوئی اور لے جاتا ہے۔ اسلامی پاکستان میں کارخانوں کے منافعے میں مزدورشریک ہوگا اور جاگیرداروں اور زمین داروں کی پیداوار امیں کسان اور ہاری شریک ہوگا۔
  • غریبوں کے لیے سستی اشیا کی فراھمی: ہمارا عزم ہے کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست ہوگی۔ اس طرح ہر وہ پاکستانی جس کی ماہانہ آمدن ۳۰ہزار سے کم ہو اس کو آٹا، دال، چاول، گھی، چینی اور چائے پر سبسڈی دیں گے۔ عیش اور عشرت کی چیزوں پر ٹیکس لگائیں گے۔ غریب کا پیٹ بھی روٹی چاہتا ہے۔ وہ اپنے بچے کے ہاتھ میں قلم اور کتاب چاہتا ہے۔ عزت کی زندگی اور رہنے کو ایک چھت چاہتا ہے۔
  • عمر رسیدہ لوگوں کے لیے الاؤنس:عمر رسیدہ لوگ آخری عمر میں اپنے آپ کو زمین پر بوجھ سمجھتے ہیں۔ نہ ان کی سوشل لائف ہوتی ہے، نہ بڑھاپے کے اخراجات کا کوئی انتظام اور اس طرح وہ موت کے منتظر ہوتے ہیں۔ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو ان کو ان کی زندگی آسان بنانے کے لیے اولڈ ایج سوشل الائونس دیں گے۔
  • ائمہ مساجد کے لیے تنخواہ: پاکستان میں لاکھوں مساجد ہیں، یہاں آئمہ پانچ وقت قوم کی امامت کرتے ہیں، بچوں کو پڑھاتے ہیں، مساجد کو سنبھالتے ہیں۔ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو پاکستان کے دوسرے محکموں کی طرح ان کے لیے بھی تنخواہیں مقرر کرے گی اور یہی مساجد عبادت کے مراکز تو ہیں ہی، علمی مراکز بھی بنیں گے۔ منبر ومحراب کو قوم کو منظم کرنے کے لیے متحد کرنے کے لیے اور علم کے نور کو عام کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
  • غیرمسلموں کے لیے تحفظ: میں غیرمسلم پاکستانیوں کو بھی یقین دلاتا ہوں کہ اسلامی حکومت میں تمھاری جان و مال اور عز ت و آبرو کو تحفظ حاصل ہوگا۔ آج کی طرح کوئی تمھیں جھوٹے الزام لگاکر آگ کی نذر نہیں کرسکے گا۔ پچھلے ڈیڑھ ہزار سال میں مذہبی اقلیتوں کو سب سے زیادہ تحفظ اگر ملا ہے تو مسلم حکمرانی میں ملا ہے۔ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’جس مسلمان نے کسی غیرمسلم کا حق مارا یا اسے اپنے ظلم کا نشانہ بنایا، قیامت میں اس مسلمان کے خلاف دعویٰ لے کر خود مَیں کھڑاہوں گا‘‘۔

اللہ اللہ! جس غیرمسلم کی طرف سے وکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، کیا ہم اسے تکلیف دے سکتے ہیں۔ ملک کے وسائل پر آپ کا بھی اسی طرح حق ہے جس طرح مسلمانوں کا ہے۔

  • سود کے خلاف اعلانِ جنگ: سود اور سودی کاروبار نے معاشرے میں تصادم پیدا کیا ہے۔ ہم سود کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔ بنک مال داروں کو قرضے دیتے ہیں لیکن جھونپڑی والوں کو، گھر بنانے والوں کو قرضہ نہیں دیتے۔ بچوں کو تعلیم کے لیے قرضہ نہیں دیتے۔۵۱ فی صد عورتوں کو قرضے نہیں دیتے۔ ہم اس سودی نظام کو مُردہ باد کہتے ہیں۔

اسلامی حکومت قائم ہوگی تو بنکوں کے دروازے عام لوگوں کے لیے کھل جائیں گے۔ حکومت اسلام کے معاشی نظام کو اپنائے گی تو عام آدمی ترقی کرے گا۔

ہم حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ وہ سود کے حوالے سے سپریم کورٹ سے اپنی اپیل واپس لے ورنہ ہم عوام سے سودی اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کریں گے۔ سودی نظام کی وجہ سے مہنگائی ہے۔ عالمی بنک کے قرضے بھی امیروں پر خرچ ہوتے ہیں اور ہتھکڑیاں غریبوں کو پہنائی جاتی ہیں۔ ہم زکوٰۃ کا نظام نافذ کریں گے کہ ہر بیوہ اور یتیم کی کفالت کا سامان ہوسکے۔ غریب کے لیے مفت علاج کا انتظام ہوسکے اور جو مظلوم عدالت میں اپنا فیصلہ، اپنا کیس خود نہیں چلا سکتا تو سرکار ان کو یہ سہولت دے گی۔

  • ناجائز جاگیروں کی غربا میں تقسیم: جس ملک میں بھی جاگیرداری نظام ہے، وہاں انسان ترقی نہیں کرسکتا۔ یہاں انگریزوں نے جن غلاموں کو غداری کے عوض بڑی بڑی جاگیریں دی تھیں، ہم ان کو واپس لے کر غریبوں میں تقسیم کریںگے اور قومی خزانے کو جس نے بھی لوٹا ہے اس کا احتساب کریں گے، اس کے ساتھ حساب کتاب کریں گے۔
  • منصفانہ انتخابات اور متناسب نمایندگی: ہم چاہتے ہیں کہ عام انتخابات سے قبل پوری انتخابی نظام کی اوور ہالنگ کی جائے۔ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ہونی چاہیے۔ عوام الیکشن کے نام پر سلیکشن قبول نہیں کریں گے۔ بیلٹ بکس پر ووٹرز کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ خدا کے لیے عوام کے فیصلے عوام کو کرنے دیں۔

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ الیکشن سے پہلے صوبے اور علاقے تقسیم کیے جاتے ہیں۔ یہاں ظاہری حکومت ایک ہے اور باطنی حکومت دوسری اور جب دونوں ایک پیج پر نہیں ہوتے تو عوام بھی مشکل سے دوچار ہوتے ہیں اور باہر کی دنیا بھی حیران ہوتی ہے کہ ظاہر حکومت سے معاہدے کرے یا باطنی سے۔ الیکشن کا راستہ ہی تبدیلی کا راستہ ہے۔ جب پُرامن جدوجہد کے راستے بند ہوجاتے ہیں پھر مسلح جتھے بنتے ہیں۔

عوام کا مطالبہ ہے کہ متناسب نمایندگی کی بنیاد پر الیکشن ہو تاکہ کسی کا ووٹ ضائع نہ ہو۔ موجودہ طریقے میں پارٹی اور لیڈر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں اور دولت مندوں کے ہاتھوں یرغمال ہوتے ہیں۔ متناسب نمایندگی میں لوگ پارٹی کو ووٹ دیں گے، منشور کو ووٹ دیں گے اور میرٹ کی بنیاد پر لوگ آئیں گے۔ پھر ہر کوئی نہیں کہے گا کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔

  • آزاد خارجہ پالیسی: ہم آزادخارجہ پالیسی کے قائل ہیں۔ تمام ممالک سے دوستی کا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں اور خصوصیت سے پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے بھی قائل ہیں۔ ہم دوسروں کے معاملات میں عدم مداخلت کے بھی قائل ہیں لیکن وہ آقا اور ہم غلام کی حیثیت سے ہوں، اس خارجہ پالیسی کو ہم یکسر مسترد کرتے ہیں۔ پاکستان کی آزادی، حاکمیت، خودمختاری اور نظریاتی تشخص اور ملک کے مفادات کا تحفظ ہماری خارجہ پالیسی کا اصل ہدف ہوگا۔

قوم سے اپیل

ہم پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست جہاں حاکمیت اور شریعت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ہوگی اور حکومت عوام کے مخلص بندوں کی۔ اس مقصد کے لیے عوام ہمارا ساتھ دیں۔ ہمارے پاس وژن ہے، ہمارے پاس مخلص ماہرین کارکنان کی ٹیم ہے۔ ہم عوام کے تعاون سے ’اسٹیٹس کو‘ کو شکست دیں گے۔

جماعت اسلامی ہی تبدیلی لاسکتی ہے۔ کرپشن کا سومنات ہم ہی توڑ سکتے ہیں۔ ہم نے ہردور میں قربانی دی ہے۔ پاکستان کی محبت میں جماعت اسلامی کے قائدین کے جنازے جیلوں سے نکل رہے ہیں۔ ہم زلزلوں اور سیلاب کی مصیبت میں عوام کے ساتھ کھڑے تھے۔ ہم نے ہمیشہ فلسطینیوں کا ساتھ دیا    ؎

سر جلائے ہیں مشعلوں کی طرح

یوں بھی لوگوں کی رہبری کی ہے

ہمارا ایجنڈا قوم نے قبول کیاتو ہم آپ کو ایک ایسی حکومت دیں گے جس میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔ ایک ایسی حکومت جس کا وزیراعظم ۱۸کروڑ عوام کی قیادت کرسکے۔ مسجد میں امامت بھی کرسکے اور اقوام متحدہ میں ایک ارب مسلمانوں کی نمایندگی بھی کرسکے۔    مَیں ساری جماعتوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس ملک کی خاطر ہمارے ایجنڈے کو تسلیم کرلیں تاکہ یہ ملک ترقی کرسکے۔ یہ پارٹی کا نہیں، قومی ایجنڈا ہے۔

میرے بھائیو اور دوستو!

۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی کا جو پودا لگایا گیا تھا، وہ اب ایک تناور درخت بن گیا ہے۔ جو قطر ہ تھا وہ اب ایک سمندر بن گیا ہے۔ یہ ذرّہ اب فولادی چٹان بن گیا ہے۔ ہمارے ہاتھوں میں قرآن ہے اور ہمارے رہنما نبی آخرالزمانؐ ہیں۔ ہم حق پر ہیں۔ ہمیں حق کے ساتھ چلنا ہے،    حق کے ساتھ جینا ہے، اور حق کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔