۲۰۱۵ فروری

فہرست مضامین

اِِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُo بے شک آپؐ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے

عبدالغفار عزیز | ۲۰۱۵ فروری | مقالۂ خصوصی

فرانسیسی رسالہ ہو یا کوئی اور بدنصیب، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے اللہ کا فیصلہ ازلی و ابدی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: وَ لَقَدِ اسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ قف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِo (الرعد۱۳:۳۲) ’’تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جا چکا ہے ، مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخرِ کار ان کو پکڑلیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی‘‘۔گویا اگر یہ لوگ تائب نہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں کے لیے عذاب و عتاب اب بھی یقینی ہے، بس ذرا سی مہلت ملی ہے جسے وہ اپنی جیت اور غلبہ سمجھ رہے ہیں۔

چارلی ایبڈو نے پہلی بار نہیں، مسلسل گستاخیاں کی ہیں۔ ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ چار کارٹونسٹ اور آٹھ دیگر افراد کے مارے جانے کے باوجود بھی اپنا رویہ بدلنے پر تیار نہیں۔ اصرار و تکرار سے دوبارہ خاکے بنائے اور اعلان کیا ہے کہ وہ یہ گستاخیاں مسلسل جاری رکھے گا۔ ۷جنوری ۲۰۱۵ء کو رسالے کے دفتر پر حملے سے پہلے فرانس میں مقیم متعدد مسلمان تنظیموں نے فرانسیسی عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے کہ رسالے کو اس جسارت سے روکا جائے جس سے ڈیڑھ ارب سے زائد انسانوں کی روح زخمی ہوتی ہے۔ عدالت نے یہ اپیل مسترد کرتے ہوئے، کامل رعونت سے جواب دیا :’’ ہم آزادیِ اظہارِ راے پر قدغن نہیں لگاسکتے، اخبارات آزاد ہیں، جو چاہیں شائع کریں‘‘۔

نام نہاد ترقی یافتہ معاشرے کے دہرے معیار ملاحظہ کیجیے۔ اسی رسالے نے سابق فرانسیسی صدر چارلس ڈی گال (۱۸۹۰ئ-۱۹۷۰ئ)کے انتقال کے بعد اس کا مذاق اڑایا تھا۔ تب اس کا نام ’ہارا کیری‘ ہوا کرتا تھا۔ آزادیِ اظہارِ راے کا دعوے دار پورا ملک اور حکومت اس پر چڑھ دوڑی اور اس پر پابندی لگادی گئی جس نے ایک ’قومی ہیرو‘ ڈیگال کی شان میں گستاخی کی تھی۔ ۱۹۷۰ء میں اس رسالے نے دوبارہ اور نئے نام سے کام شروع کیا۔ پھر ہر کسی کا استہزا اُڑانے لگا۔ لیکن اپنی حرکتوں کے باعث۱۹۸۱ء میں پھر بند ہوگیا اور ۱۹۹۲ء میں اپنے حالیہ نام سے جاری ہوا۔ پھر ایک بار سابق فرانسیسی صدر نیکولاسرکوزی کے بیٹے کا مذاق اُڑاتے ہوئے اس کے یہودی ہونے کا بھی ذکر کردیا۔ آزادیِ اظہارِ راے کی جگالی کرنے والوں نے اسے یہودیت کے خلاف نسلی تعصب قرار دیتے ہوئے اس بار بھی اسے متعلقہ صحافی کو نکال باہر کرنے پر مجبور کردیا۔

معاملہ صرف ایک اخبار، رسالے یا چند توہین آمیز خاکوں کا نہیں، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک عالم گیر مہم کا ہے۔ صدر بش کے اس بیان کہ: ’’ہم ایک صلیبی جنگ شروع کرنے جارہے ہیں‘‘ کے بارے میں یہ کہا گیا تھا کہ نادانستگی میں کہے گئے الفاظ (Slip of Tongue)   تھے، لیکن پیرس کے واقعے کے بعد رسالے اور اس کے مقتولین کے خلاف جو مظاہرہ ہوا اس میں بہت سے شرکا صلیبی جنگوں کے دوران استعمال کیا گیا، صلیبی سپاہیوں کا لباس پہن کر شریک ہوئے۔  اس کے بعد بھی کئی ملکوں میں کئی تنظیموں اور کئی اخباروں کے ذریعے وہی صلیبی جنگوں کے بگل بجاے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں صہیونی اخبارات پیش پیش ہیں۔

ہالینڈ کی ایک سیاسی جماعت کا سربراہ گیراتھ فلڈرز جو خود بھی متعدد گستاخانہ کارروائیوں کا ارتکاب کرچکا ہے، گویا ہوا کہ ’’ہم طویل عرصے سے اسلام کے ساتھ جنگ لڑرہے ہیں‘‘۔ اسی طرح کے بیانات فرانس کے شدت پسند سیاسی رہنماؤں نے دیے۔ جن پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک فرانسیسی دانش ور بوب ڈی رونر لکھتا ہے کہ : ’’طرفین (مسلمان اور مغرب) ایک ایسی جنگ میں کودنے کی تیاریاں کررہے ہیں، کہ جس میں تشدد کا کسی بھی حد تک چلے جانا بعید نہیں، اور میرے خیال میں طرفین کو اس ساری قیامت سے خسارے اور نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا‘‘۔

صہیونی اخبارات اس جلتی پر تیل ڈالنے میں سرفہرست ہیں۔ حکومتی اخبار اسرائیل ٹوڈے میں ڈان مرگلیت لکھتا ہے: ’’یورپ میں روزافزوں اسلامی دہشت گردی کے حقیقی خطرے سے وہاں کی حکومت اور ذرائع ابلاغ غافل ہیں۔ سیاسی اسلام اور دور جدید کے نازی پوری دنیا پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ پوری دنیا کو اپنا غلام بنانا اور انسانوں کی آزادی و عزت کو قدموں تلے روند دینا چاہتے ہیں۔ شدت پسند اسلام، مغربی تہذیب، جمہوریت، مسیحیت اور یہودیت سے تصادم چاہتا ہے‘‘۔

اسرائیلی روزنامہ ھارٹز لکھتا ہے: ’’پیرس حملہ انتہائی اسٹرے ٹیجک کارروائی ہے جس کا ہدف صرف فرانس نہیں، ساری کی ساری آزاد دنیا ہے۔ دنیا کے تمام جمہوری اور صحافتی اداروں کو اس کارروائی سے متاثر ہوئے بغیر، پوری جرأت و عزم کے ساتھ آزادیِ صحافت اور آزادیِ اظہار کے خلاف اس غلیظ کارروائی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا‘‘۔

ایک اور صہیونی ناسم ڈینا اسرائیل ٹوڈے میں لکھتا ہے: ’’اسلام جب سے آیا ہے، ساری دنیا کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ اب یورپ میں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے، یہ لوگ اپنے بچوں کو عیسائی اور یہود دشمنی سکھاتے ہیں۔ بالخصوص جمعے کے روز یہ اپنے عقیدہ و ایمان کی آبیاری کرتے ہوئے، اپنے لوگوں کو غیر مسلموں کے خلاف اُکساتے ہیں، لیکن مغربی ممالک ان کا کوئی علاج کرنے کے بجاے، حقوق انسانی اور جمہوریت جیسے اُصولوں پر مصر ہیں‘‘۔

صہیونی روزنامہ معاریف میں افشائی عبری یورپ کو مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن حملہ کرنے پر اُکساتے ہوئے لکھتا ہے: ’’دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے پیچھے اصل ہاتھ اسلام کا ہے... اس خطرے کا ایک ہی اصل حل ہے اور وہ یہ کہ یورپ میں مقیم مسلمانوں کو ان بیرونی افواج کا ہراول دستہ سمجھا جائے جو یورپ پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں‘‘۔ مزید ارشاد ہوتا ہے: ’’یورپ ابھی تک عالمی جنگوں کے صدمے سے نہیں نکل پایا، اور وہ جنگوں کو ایک انتہائی خوف ناک مصیبت سمجھتا ہے، لیکن اگر اس نے آج جنگوں کی ناگزیریت کو نہ سمجھا تو اسے جلد اس سے بھی زیادہ خوف ناک حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا، اور وہ ہے اس جنگ میں ہزیمت‘‘۔

ان چند مثالوں سے اس اصل خطرناک، نفرت آمیز اور تباہ کن ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جو ان توہین آمیز خاکوں کے پیچھے کارفرما ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ کسی براے نام مسلمان کے لیے بھی، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کیا حیثیت رکھتی ہے۔ وہ شاید سب کچھ برداشت کرلے، لیکن اپنے نبی محترمؐ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا۔ دنیا کو یہ حقیقت بھی بخوبی معلوم ہے کہ جب تک مسلمانوں کے ہاتھ میں قرآن کریم اور دلوں میں حُب رسول صلی اللہ علیہ وسلم باقی ہے، انھیں تباہی اور فنا کے گھاٹ نہیں اتارا جاسکتا۔ یہی وہ آخری حصار ہے جس میں آکر اُمت مسلمہ اپنے ہر اندرونی و بیرونی دشمن کو شکست دے سکتی ہے۔ اس لیے اب انھوں نے اس آخری حصار پر پے درپے حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔ سلمان رُشدی یا تسلیمہ نسرین جیسے بدنصیب و ملعون ہوں، یا ڈنمارک کے اخبارات میں خاکے شائع کرنے والے، امریکی پادری ٹیری جونز کی طرف سے قرآن کریم جلانے کے اعلانات ہوں یا قرآن کریم کو  (نعوذ باللہ) فتنہ قرار دیتے ہوئے فلمیں تیار کرنے کی مکروہ حرکتیں، سب اسی ناپاک سلسلے کی غلیظ کڑیاں ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ خود نام نہاد مسلمانوں کے ذریعے بھی آئے دن مختلف درفنطنیاں چھوڑی جاتی ہیں، تاکہ ان کے ذریعے خود مسلمانوں کے دلوں میں اسلام اور اسلامی تعلیمات کا تقدس ختم ہوتا چلا جائے۔ کبھی مساوات مردوزن کے نام پر، کم لباس خواتین کو مردوں کی صفوں میں اور ان کے شانہ بشانہ کھڑا کرکے، کسی بدنام زمانہ خاتون سے نماز کی امامت کروائی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں، مخصوص خانہ ساز خبروں کی گردان کی جاتی ہے، مثلاً یہ کہ ’’دہشت گرد بے گناہوں کو قتل کرکے جنت میں جانا چاہتے تھے‘‘۔ اور پھر جنت اور قرآن کریم میں بیان کی گئی اس کی نعمتوں اور حوروں ہی کو اپنے زہریلے طنز و مزاح کا محور بنادیا جاتا ہے۔

یہ اور ایسی دیگر حقیر حرکتیں کوئی نئی بات نہیں۔ رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان بعثت ہی سے ان کا آغاز ہوگیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسے ایسے آوازے کسے اور دشنام بازی کی گئی کہ اخلاق و تہذیب کی تمام حدیں مسمار ہوگئیں۔ آپؐ  کے اہل خانہ اور ازواجِ مطہراتؓ کو بھی  سب و شتم اور قذف و اتہام کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام آزمایشوں اور تکلیفوں کے باوجود، اپنے اصل مشن اور نصب العین کوایک لمحے کے لیے بھی نگاہوں سے اوجھل   نہ ہونے دیا۔ خود پروردگار عالم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی فرماتے ہوئے اطلاع دی کہ آپؐ  کے پیغمبرِ برحق ہونے کی ایک نشانی، مخالفین و اعداء کا آپے سے باہر ہوجانا بھی ہے۔    آپؐ سے پہلے بھی جو انبیا مبعوث کیے گئے، انھfیں بھی ان تمام تکالیف کا سامنا کرنا پڑا:

وَ لَقَدِ اسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَـ(الانعام۶:۱۰) ’’اے نبی ؐ ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جاچکا ہے، مگر ان مذاق اُڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلّط ہوکررہی جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے‘‘۔ وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ ْنَ (الحجر۱۵:۱۱)’’ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کے پاس کوئی رسُول آیا ہو اور انھوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑایا ہو‘‘۔ یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ج مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِؤُنَ (یٰسٓ: ۳۶:۳۰) ’’افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا، اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے‘‘۔وَمَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ نَّبِیٍّ اِِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِؤُنَ (الزخرف۴۳:۷) ’’کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ؑان کے ہاں آیا ہو، اور انھوں نے اس کا مذاق نہ اڑایا ہو‘‘۔

تب سوال یہ بنتا تھا اور آج بھی بنتا ہے کہ ان تمام استہزائیہ جسارتوں کا سامنا کیسے کیا جائے؟ اس کا جواب بھی ربِّ کائنات ہی کی طرف سے عطا ہوتا ہے: فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِھَا وَ مِنْ اٰنَآیِٔ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّھَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی (طٰہٰ ۲۰:۱۳۰)’’ پس اے نبیؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے ، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہوجاؤ‘‘۔ دشمن کی زبان سے ملنے والی ایذا رسانیوں کے جواب میں صبر اور تسبیح و تحمید کی بالکل یہی تعلیم سورئہ قٓ کی آیت ۳۹ میں بھی دی گئی۔ ایک موقعے پر یہ بھی ارشاد ہوا کہ اے میرے حبیب آپ اپنے کام میں لگے رہیے، ان مذاق اُڑانے والوں کے مقابلے میں ہم ہی آپ کے لیے کافی ہیں۔ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ o اِنَّا کَفَیْنٰکَ الْمُسْتَھْزِئِ یْنَ o (الحجر۱۵:۹۴-۹۵) ’’پس اے نبی ؐ ، جس چیز کا تمھیں حکم دیا جا رہا ہے اُسے ہانکے پُکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو۔ تمھاری طرف سے ہم اُن مذاق اُڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں‘‘۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام اس دشنام و مذاق پر دل گرفتہ ہوئے تو مزید ارشاد ہوا: وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ o فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَ کُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ o (الحجر۱۵:۹۷-۹۸)  ’’ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پربناتے ہیں اُن سے تمھارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے ۔ (اُس کا علاج یہ ہے) کہ اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ‘‘۔

آپؐ  کے صاحب زادے ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا، تو کم ظرف دشمن نے جڑیں کٹ جانے کا طعنہ دیا۔ رب ذو الجلال نے قیامت تک کے لیے فیصلہ کردیا کہ: اِِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ o (الکوثر۱۰۸:۳) ’’آپ کا مذاق اُڑانے والا ہی جڑ کٹا ہے‘‘۔ آپؐ کے مخالفین اور دشمنانِ دین نبی کا الْاَبْتَر  ہونا اس قدر حتمی اور یقینی تھا کہ اہل ایمان سے پہلے خود دشمنوں کے دلوں نے اس کی گواہی دی۔ آپؐ کی شان میں گستاخیاں کرنے والے کتنے ہی نامور سلاطین اور عالمی نظام ایسے طلوع ہوئے کہ ایک دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا، لیکن پھر یوں غروب ہوئے کہ اپنے گھروں کی دہلیزوں کے لیے بھی اجنبی ہوگئے۔ آج بھی سلمان رُشدی جیسے بدنصیب، گستاخیِ رسولؐ کے صلے میں خواہ درجنوں مغربی ایوارڈ اپنی کلغیوں پر سجائے پھریں، ان کا جڑ کٹا اور ناپید ہونا، خود ان کے اپنے وجود سے زیادہ یقینی ہے۔

اس سوال پر غور کرنے سے پہلے کہ نبی مہربان کی شان میں ہونے والی گستاخیوں کے جواب میں، آج مسلمانوں کی حکمت عملی کیا ہو؟ آئیے ایک کوشش ان کے اسباب جاننے کی کرتے ہیں۔

اس شر و فساد کی سب سے بڑی وجہ تو یقینا شیطان اور اس کے چیلوں کی دین اسلام سے  نفرت و عداوت ہے، جو مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہتی ہے۔ ایک اسرائیلی اخبار میں شائع شدہ سابق الذکر یہ جملہ اسی ازلی عداوت کی کہانی بیان کررہا ہے کہ ’’اسلام جب سے آیا ہے ساری دنیا سے برسرپیکار ہے‘‘۔ اسلام اور اس کی تعلیمات سے یہ شیطانی دشمنی اب اس لیے عروج پر ہے کہ عیسائیت خود یورپ میں سکڑتی جارہی ہے۔ ہزاروں چرچ بے آباد ہوکر فروخت ہوچکے ہیں۔ مذہب سے مغرب کا تعلق براے نام ہوتا چلا جارہا ہے۔ مذہب کو چند رسوم تک محدود کردینے سے پورے مغربی معاشرے کی تاروپودبکھر چکی ہے۔ کئی ممالک باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے شادی کے بندھن اور خاندانی نظام کی بجاے، مردوں کی مردوں سے اور عورتوں کی عورتوں سے شادی کو تحفظ دے رہے ہیں۔ قومِ لوطؑ پر جب عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو رب ذوالجلال نے ان کی فرد جرم سناتے ہوئے فرمایا تھا: وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ o (العنکبوت۲۹: ۲۹)  ’’اب تو تم کھلم کھلا مجالس میں اس فعل مکروہ کا ارتکاب کرنے لگے ہو‘‘۔ آج مغرب میں بھی بڑے بڑے عہدوں پر براجمان انسان نما مخلوق، مجالس میں اس فعل شنیع پر فخر و مباہات کرتی ہے۔ اب تقریباً ہردستاویز میں باپ، شوہر یا بیگم کا نام پوچھنے کے بجاے، ماں اور ساتھی (partner) کا نام پوچھا جاتا ہے۔ اس لیے کہ معاشرے کی ایک بڑی تعداد (بعض ممالک میں ۶۴فی صد) کو اپنے باپ کا نام یا تو معلوم نہیں، یا اس سے کسی طرح کا کوئی تعلق باقی نہیں۔ یورپی شماریات کے ادارے یوروسٹیٹ (Eurostat) کے مطابق فرانس میں شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کا  تناسب ۸ئ۵۲ فی صد اور برطانیہ میں تناسب ۴ئ۴۵ فی صد ہے۔ اس پر کسی بھی طرح کی شرمندگی تو کجا،  اس مادر پدر آزادی پر فخر کیا جاتا ہے اور اسی کے تحفظ کی بات کی جاتی ہے۔

دوسری جانب اسی تعفن زدہ تہذیب میں رہنے کے باوجود، مسلمانوں کی اپنے دین سے وابستگی میںنہ صرف مضبوطی اور پختگی آرہی ہے، بلکہ ان کی تعداد میںمسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ رب کی قدرت اور اِِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ  کی حقانیت ملاحظہ کیجیے کہ جب سے بعض شیطانی ذہنوں نے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں شروع کی ہیں، یورپ میں آپؐ کی سیرت کے مطالعے اور قبول اسلام کے تناسب میں حیرت انگیز اضافہ ہواہے۔

نائن الیون کے بعد یورپ میں اسلامی مراکز کی تعداد تقریباً دگنی ہوگئی ہے۔ گذشتہ ۱۰ برس میں فرانس میں ۱۰ کیتھولک چرچوں کا اضافہ ہوا، جب کہ اسی عرصے میں ۶۰ چرچوں کو تالے لگ گئے۔ دوسری جانب اس عرصے میں صرف فرانس میں مساجد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اسلامی مراکز کی موجودہ تعداد آیندہ ۱۰ برس میں دُگنی ہوجائے گی۔    فرانس کے بڑے بڑے مشاہیر، کھلاڑی اور فنکار دائرۂ اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔ مغرب میں بسنے والے مسلمان اب اپنے آپ کو زیادہ منظم کرتے ہوئے، اپنے سیاسی نفوذ کو بھی زیادہ مؤثر و مفید بنارہے ہیں۔ فرانس میں ایک سروے ہوا تو ۳۹ فی صد فرانسیسی عوام نے اسلام کو ایک معتدل اور دوسروں سے درگزر کرنے والا دین قرار دیا۔ اس وقت فرانس میں مسلمانوں کا تناسب ۵ئ۸فی صد ہے جو ان کے نزدیک بہت خوف ناک تعداد ہے لیکن اس سے بھی خوف ناک امر یہ ہے کہ ان کے اندازوں کے مطابق ۲۰۲۵ء  یعنی آج سے ۱۰سال بعد یہ تناسب ملکی آبادی کا ۲۵ فی صد ہوجائے گا۔ اس پورے پس منظر میں اسلام کا روشن چہرہ مسخ کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کرنے کا سلسلہ تیز تر کیا جارہا ہے۔

یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ان مکروہ سرگرمیاں کرنے والوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ قرآن اور صاحب ِقرآن کی شان میں گستاخیاں، صرف یورپ میں مقیم چند لاکھ نفوس کا مسئلہ نہیں، دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پونے دو اَرب کے قریب مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ ان سفیہانہ اقدامات سے پوری اُمت کی روح مجروح اور دل زخمی ہوتے ہیں۔ امریکا میں بننے والی ایک اخلاق باختہ توہین آمیز فلم کے نتیجے میں، اگر لیبیا میں امریکی سفیر مظاہرین کے غم و غصے کا شکار بنتا ہے، فرانس میں اُڑائے جانے والے ناقابل بیان خاکوں پر چیچنیا تک میں لاکھوں انسان سڑکوں پر سراپا احتجاج بن جاتے ہیں، تو چاہیے تو یہ تھا کہ انسان دوستی کے دعوے دار اہل مغرب ان ناپاک ہاتھوں کوروکتے جو بار بار ان جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لیکن ترقی، تہذیب، قانون کی عمل داری اور انسانی حقوق کے نام نہاد علم بردار نہ صرف چپ سادھے بیٹھے ہیں، بلکہ مجرموں کی پشتیبانی کررہے ہیں۔ وہی مغرب جو خود کو پرندوں اور حیوانات سے محبت کرنے والا ثابت کرتے نہیں تھکتا، جہاں یہودیوں کے اس دعوے، کہ ہولوکاسٹ میں ان کے لاکھوں افراد جلا دیے گئے کے بارے میں کسی شک کا اظہار کرنا بھی نسلی تعصب قرار پاتا ہے،جہاں باقاعدہ قوانین بنادیے گئے ہیںکہ ہولوکاسٹ کے بارے میں یہودیوں کی روایت کردہ کہانی سے متصادم بات کرنے والے کو کڑی سزا دی جائے گی، اسی مغرب میں پونے دو اَرب انسانوں کے ایمان پر آرے چلانا، عین آزادی قراردیا جارہا ہے۔

مغرب کے ان دہرے معیارات کے خلاف اب خود مغرب سے آوازیں اُٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ اپنے پیش رو مسیحی پوپ کے برعکس حالیہ پوپ فرانسس نے بھی آزادی کے اس تصور کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’اگر کوئی میری ماں کو گالی دے گا تو اسے بھی میرے گھونسے کا منتظر رہنا چاہیے‘‘۔ یہاں تو معاملہ کسی ماں کا نہیں، اس سراپا رحمت ہستی کا ہے، جس کے سامنے دنیا کی تمام ماؤں کی محبتیں ہیچ ہیں۔ فن لینڈ کے وزیر خارجہ نے بھی آواز اُٹھائی ہے کہ خواتین کے خلاف کوئی بات کرے تو اسے شوفینزم کہا جاتا ہے، سیاہ فاموں کے خلاف بات کی جائے تو نسلی تعصب کہا جاتا ہے یہودیوں کے خلاف بات کی جائے تو سامیت کی خلاف ورزی کہا جاتا ہے، تو آخر مسلمانوں کے نبی کے بارے میں بات کرنا ہی کیوں آزادی اظہار کہلاتا ہے؟

ترک اخبار زمان میں عثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمید کے بارے میں ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ مضمون نگار نے عہد عثمانی میں فرانس، برطانیہ اور امریکا میں آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازیبا ڈرامے پیش کرنے کی مختلف کوششوں کا احاطہ کیاہے۔ سلطان عبد الحمید نے یہ ڈرامے پیش کیے جانے کی اطلاع ملتے ہی، ان تمام جسارتوں کو ناکام بنایا۔ اس ضمن میں کبھی تو فرانسیسی صدر نکولس ساری کارنٹ (۱۷۹۶ئ-۱۸۳۲ئ) کے نام مؤثر خط کام آیا، کبھی برطانوی وزیرخارجہ رابرٹ سالسبری (۱۸۹۵ئ-۱۹۰۲ئ) کے ساتھ ذاتی روابط کو استعمال کیا گیا، اور کبھی سلطان عبد الحمید نے برطانیہ بہادر کو دوٹوک انداز میں خط ارسال کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس گستاخی کو فوراً روکا جائے، وگرنہ میں خلیفۂ وقت کی حیثیت سے پوری اُمت مسلمہ کو تمھارے خلاف جہاد کاحکم جاری کردوں گا‘‘۔افسوس کہ آج نہ تو عالم اسلام میں کسی ملک کو عثمانی خلافت کی قوت و سطوت حاصل ہے اور نہ کوئی حکمران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر تڑپ کر اُٹھا اور ہر سفارتی، ذاتی اور حکومتی نفوذ استعمال میں لاتے ہوئے، اس فتنے کی سرکوبی کرنے کی کوشش کرکے سرخرو ہوسکا۔

اس پورے معاملے میں ایک اور پہلو بھی انتہائی اہم ہے، اور یہ نکتہ بھی خود بعض مغربی    ذمہ داران کی طرف سے اُٹھایا گیا ہے۔ مختلف اخبارات میں، مختلف ذمہ داران اور باخبر ذرائع نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ فرانسیسی رسالے پر حملہ، غم و اندوہ کا شکار کسی مسلمان نے نہیں کیا، یہ امریکا اور اسرائیل کا مشترک منصوبہ تھا۔ برطانوی اخبار دی انڈی پنڈنٹ فرانس کی ایک سیاسی جماعت کے بانی Jean Marie Le Pen کے حوالے سے لکھتا ہے کہ:’’حملہ امریکی یا اسرائیلی ایجنٹوں کا کام تھا جس کا مقصد اسلام اور مغرب کے درمیان خانہ جنگی کرواناتھا‘‘۔

روسی اخبار پراودا کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ: ’’میرا نہیں خیال کہ فرانسیسی خفیہ ادارے بھی اس میں شریک تھے، لیکن انھوں نے بھی اس واقعے کو ہونے دیا‘‘۔

صدر ریگن کے دور میں نائب وزیر خزانہ اور معروف امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے ڈپٹی ایڈیٹر ڈاکٹر پال کریج نے بھی اپنے ایک مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ ایک جعلی جھنڈے تلے آپریشن تھا، تاکہ فرانس کو امریکا کی مرضی کے مطابق پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے۔

اس طرح کے دیگر بیانات و مضامین میں دعویٰ کیا گیا ہے، کہ فرانس کئی بین الاقوامی مسائل میں امریکی پالیسیوں سے آزاد دکھائی دے رہا تھا، اس لیے اسے سزا دینے کے لیے یہ اقدام کیا گیا۔ اس ضمن میں سوال اُٹھانے والوں نے کئی واقعاتی حقائق پر بھی حیرت کا اظہار کیا۔ مثلاً یہ کہ:

  •  کارٹونسٹ اس سے قبل رسالے کے دفتر آنے کے بجاے بذریعہ ای میل خاکے ارسال کیا کرتے تھے، اس روز باصرار ان چاروں کو ایک ہی وقت دفتر بلایا اور اکٹھے بٹھایا گیا... آخر کیوں؟
  •  اخبار کا مرکزی دفتر ہمیشہ لاک رہتا ہے جسے صرف مخصوص کوڈ ڈائل کرکے ہی کھولا جاسکتا ہے۔ حملہ آوروں کو یہ کوڈ معلوم نہیں تھا، نہ ان چار کارٹونسٹوں کی آمد ہی کوئی معمول تھی کہ  ان کی آمد کا وقت معلوم ہوتا۔ لیکن عین اس وقت جب وہ چاروں کمرے میں پہنچ گئے، مرکزی دفتر پر متعین ایک خاتون ریسپشنسٹ دروازہ کھول کر باہر چلی گئی، دروازہ کھلا رہنے دیا اور ازخود بند ہوجانے والا دروازہ حیرت انگیز طور پر کھلا ہی رہا۔
  •   دونوں حملہ آور سگے بھائی کارروائی کرنے کے بعد کامل سکون سے فرار ہوئے، ان کے سامنے آنے والی پولیس کار نے بھی ان کی چند ہوائی گولیوں کے بعد انھیں کھلا راستہ دے دیا اور پھر بتایا گیا کہ وہ پیرس میں رُوپوش ہوگئے ہیں۔ ہر قدم پر کیمروں سے لیس پیرس میں، دن دہاڑے اس رُوپوش ہوجانے پر کسی نے اعتبار نہ کیا، تو اگلے روز ایک کاروائی میں دونوں کو قتل کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ ایک عمارت میں محصور ہوگئے تھے، تو انھیں زندہ گرفتار کیوں نہ کیا جاسکا تاکہ مزید حقائق سامنے آتے؟
  •   وہ پولیس افسر جو اس پورے واقعے کی تحقیقات پر مامور تھا، اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تحریر کرنے سے بھی پہلے، رات کے پچھلے پہر حیرت انگیز طور پر اپنے دفتر میں مردہ پایا گیا۔ دعویٰ کیا گیا کہ اس نے خودکشی کرلی ہے، یعنی واقعے کے تمام کردار، کارٹونسٹ، ان کے قاتل اور تحقیق کار سب میں سے کوئی بھی دنیا میں نہ رہا۔

یہ سوالات برمحل اور حقیقی ہیں یا قطعی بے جواز و بے بنیاد، وقت ان سوالات کا جواب ضرور دے گا، لیکن اُمت مسلمہ، بالخصوص غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ وہ آیندہ ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کریں۔ پونے دواَرب کے قریب مسلمان، جن میں سے ۵۳ ملین مسلمان صرف براعظم یورپ میں رہتے ہیں (بحوالہ’دی انسٹی ٹیوٹ، جرمنی) ان گستاخیوں کا جواب کیا اور کیسے دیں؟

فرانس کے واقعے نے ایک بات تو یہ ثابت کردی کہ کسی رسالے کو تباہ کردینا یا گستاخوں کو قتل کردینا نہ صرف مؤثر نہیں ثابت ہوا، بلکہ اس کے منفی نتائج سامنے آئے ہیں۔ جس رسالے کی اشاعت ۵۵ سے ۷۰ ہزار تھی، اس ناپاک جسارت کے بعد اس نے دوبارہ خاکے شائع کیے اور اس کی اشاعت ۳۰ لاکھ سے تجاوز کرگئی۔ اس نے سیکڑوں مزید خاکے شائع کرنے اور کئی زبانوں میں رسالہ نکالنے کا اعلان کردیا۔ مغرب کے دہرے معیار کے باعث واقعے میں شریک دو افراد کو   دین اسلام ، قرآن حکیم، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور پوری اُمت مسلمہ کے خلاف دریدہ دہنی کا بہانہ بنالیا گیا۔ بلاتحقیق اور فوراً ہی واقعے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف لاکھوں لوگ جمع کرلیے گئے۔ ۴۰سے زائد سربراہان مملکت بھی پہنچ گئے، جن میں سرفہرست دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور ہزاروں معصوم فلسطینی بچوں کا قاتل صہیونی وزیراعظم نتن یاہو تھا۔ وہ خود کو امن اور سلامتی کا ہیرو قرار دیتے ہوئے اور دوسرے عالمی رہنماؤں کو (حقیقتاً) کہنیاں مارتے ہوئے خود کو سب سے نمایاں کرتا رہا۔ لیکن ان لاکھوں مظاہرین میں سے تمام عالمی سربراہوں اور دنیا کے  کسی شخص نے یہ بتانے کا تکلف نہیں کیا کہ جو ۱۲؍ افراد حملے میں مارے گئے، ان میں احمد مرابط نامی ایک پولیس ملازم اور مصطفی اوراد نامی رسالے کا ایک ملازم بھی شامل تھے۔ اگر دو حملہ آوروں کے باعث پورا دین اور پوری اُمت مطعون کی جاسکتی ہے، تو دو مسلمان مقتولین کی وجہ سے پوری اُمت کے ساتھ اظہار یک جہتی کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ شاید اس لیے کہ ان دو مقتولین میں سے ایک کا نام احمد اور دوسرے کا نام مصطفی ہے، یعنی یہ دونوں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اُمتی اور عاشق تھے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مغرب کے اس دوہرے معیار کو بے نقاب کرتے ہوئے، خود مغرب میں مقیم انصاف پسند اکثریت کے دل و دماغ پر دستک دی جائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی سزا یقینا موت ہے۔ الحمدللہ پاکستان کو توہین رسالت کا قانون بنانے کا اعزاز حاصل ہے (اگرچہ اس پر عمل درآمد کا طریقہء کار، مزید شفاف اور مامون و محفوظ بنانے کی ضرورت ہے) لیکن غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے، ہمارے لیے مکی دور کا وہ اسوۂ حسنہ انتہائی اہم ہے کہ جس میں فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ کی تعلیم دی گئی۔ توہین آمیز خاکے دیکھ کر جس طرح ہر مسلمان کرب محسوس کرتا ہے، اگر وہ اس کرب کے نتیجے میں رسول اکرمؐ کی سیرتِ مطہرہ اور اسلام کا روشن اُجلا چہرہ مؤثر انداز سے دنیا کے سامنے پیش کرنا شروع کردے، اور سب سے پہلے خود اپنے آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا اُمتی اور حقیقی مطیع فرمان بنانے کی سعی کرے، تو ایسا کرنا یقینا کسی بھی جلاؤ گھیراؤ اور مارو یا مرجاؤ سے زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

اگر اُمت مسلمہ مل کر فیصلہ کرلے کہ جو ممالک اور کمپنیاں بھی حبیب کبریاؐ کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوں گی، ان کی مصنوعات کا مؤثر بائیکاٹ کرنا ہے، تو دمڑی کے پجاری مغربی سوداگر، خود ان خاکوں کا راستہ روکنے کے لیے میدان میں آئیں گے، جیسا کہ اس سے پہلے ناروے اور ڈنمارک میں کامیاب تجربہ ہوچکا ہے۔

آج، جب کہ دنیا ایک بستی کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ کسی بھی خطے میں رُوپذیر واقعے کی حرارت پلک جھپکنے میں پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے اور اسے متاثر کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی شخص، گروہ، حکومت یا ملک کو اس بات کی اجازت نہ دی جائے کہ وہ عدل و انصاف کی حدود سے تجاوز کرسکے۔عالمی سطح پر ایسی قانون سازی کی جائے کہ خود آیندہ ایسے فتنوں کا سدباب ہوسکے۔ چاہیے تو یہ تھا عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور اسلامی تنظیم براے تعاون (OIC) اس کام کا بیڑا اُٹھاتیں،لیکن دونوں کی حیثیت اس وقت کسی بے بس و بے کس مریض سے زیادہ نہیں رہ گئی۔ اگر اقوامِ عالم یا مسلم ممالک مخلصانہ سعی کریں، تو اس مریض کو شفا مل سکتی ہے۔

اگر عالم اسلام کا ہر باسی اپنی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالے کہ ان مکروہ واقعات پر وقتی ردعمل اور زبانی جمع خرچ کے بجاے وہ عالمی سطح پر ان کے خلاف قانون سازی کروائے تو خود پوپ اور لاتعداد مغربی دانش وروں اور سیاسی زعماء میں سے ایسے لوگ مل جائیں گے جو تمام انبیاے کرام ؑ اور کتب ِمقدسہ کے احترام کے لیے یک جان ہوکر میدان میں آجائیں۔

حرارت ایمانی یقینا شب بھر میں مسجد تعمیر کرواسکتی ہے، لیکن خود کو مستقل اور حقیقی نمازی بنانا، زیادہ کڑی اور اصل آزمایش ہے۔ وگرنہ کیا اپنے نبی کی حرمت و ناموس اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی حفاظت رب ذو الجلال کے لیے کوئی مشکل کام ہے؟ اہل طائف نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لہولہان کردیا، اور آپ ایک باغیچے کی دیوار سے ٹیک لگاکر اپنے رب سے مناجات کرنے لگے، تو اللہ نے پہاڑوں کے منتظم فرشتے کو آپؐ کی خدمت میں بھیجا۔ ’’اگر آپؐ فرمائیں ، تو میں سب اہل طائف کو ان پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں‘‘؟ فرشتے نے عرض کی۔ آپؐ نے فوراً فرمایا: بَلْ أرجُو أن یُخرِجَ اللّٰہُ مِن أصلابِہِم مَن یَّعبُدُ اللّٰہ وَحدَہُ لا یُشرِکُ بِہ شَیئًا ،’’نہیں، مجھے اُمید ہے کہ اللہ ان کی پشت سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھیرائیں گے‘‘۔ اللہ رب العزت نے رسولِ رحمتؐ کی یہ اُمیدیں پوری کردیں اور اہل طائف سمیت پورا جزیرۂ عرب مشرف بہ اسلام ہوگیا۔

میدان اُحد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک شہید کردیے گئے تو کسی نے تڑپ کر عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! أُدعُ اللّٰہَ عَلَیہِم، ’’یارسولؐ اللہ! ان کے لیے بددُعا کیجیے‘‘۔ آپؐ  نے فوراً ارشاد فرمایا: اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَبْعَثْنِی طَعَّاناً وَلَا لَعَّاناً وَ لٰکِنْ بَعَثَنِی دَاعِیَۃً وَرَحْمَۃً۔ اَللّٰہُمَّ اھْدِ قَوْمِی فَاِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ، ’’اللہ نے مجھے لعن طعن کرنے والا بناکر نہیں بھیجا۔ اللہ نے مجھے داعی اور رحمت بناکر بھیجا ہے۔ اے اللہ! میری قوم کو ہدایت عطا فرما یہ لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘۔

آج مشرق و مغرب میں بسنے والے ہم سب گنہگار اُمتی، اسی دعوت و رحمت کے وارث ہیں۔ ہماری بعض کرتوتوں اور دشمن کی مکارانہ سازشوں کے باعث دنیا میں ہمارا تعارف ایک وحشی، خوں خوار ، جاہل و گنوار اُمت کی حیثیت سے کروایا جارہا ہے۔ ہمیں دوسرے گستاخوں کا منہ نوچنے سے پہلے، خود اپنے منہ پر لگی کالک بھی دھونا ہوگی۔ توہین و گستاخی صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی مردود آپؐ  کے خاکے اُڑانے لگے۔ یہ بھی آپؐ  اور آپؐ  کے لائے ہوئے دین و شریعت کی شان میں گستاخی ہے کہ ہماری زبان پر تو آپؐ   کا نام نامی ہو اور ہمارے اعمال کفار و مشرکین سے بھی بدتر ہوں۔

آج اگر غیر مسلم ممالک کی اکثریت کا جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ وہ اسلامی معاشرت کی بہت سی خوبیوں کو اپناکر، ترقی کی منزلیں طے کررہے ہیں۔ اور یہ بھی ایک بہت بڑی سچائی ہے کہ ان کی ایک غالب اکثریت، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت کو جانتی ہی نہیںہے۔ یقینا کئی مخصوص لابیاں انھیں گمراہ کرنے، اور ان کے سامنے اُمت کا چہرہ مسخ کرکے    پیش کرنے میں مصروف ہیں، لیکن اب بھی ان کی غالب اکثریت اُمت کے بارے میں کسی تعصب کا شکار نہیں ہے۔ آج اگر ہمدردی، محبت اور مثبت انداز سے آپؐ  کے اصل مشن ’دعوت و رحمت‘ کو اپنا لیا جائے تو یقینا پوری انسانیت راہِ نجات اختیار کرلے گی کہ یہی خالق کائنات کا فیصلہ ہے۔ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ، ’’تاکہ وہ (اسلام کو) تمام ادیان پر غالب کردے‘‘۔ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ ،’’ اور اللہ اپنے نور کو مکمل کرکے رہے گا‘‘۔

 آئیے ہم سب اپنا اصل مشن پورا کرنے میں جت جائیں۔ ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و حرمت و ناموس محفوظ ہوجائے۔ اگر ہم سب آج سے اپنی دُعا اور اپنا شعار یہ بنالیں کہ اَللّٰہُمَّ اھْدِ قَوْمَنَا فَاِنَّہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ’’اے اللہ! میری قوم کو ہدایت عطا فرما، یہ لوگ جانتے نہیں ہیں‘‘___ تو کامل یقین رہنا چاہیے کہ آج سے چندبرس بعد دنیا کا نقشہ ہی مختلف ہوگا!

 

کتابچہ دستیاب ہے، قیمت: ۸ روپے۔ سیکڑے پر خصوصی رعایت، منشورات، منصورہ، لاہور