۲۰۱۵ فروری

فہرست مضامین

کلام نبویؐ کی کرنیں

مولانا عبدالمالک | ۲۰۱۵ فروری | فہم حدیث

حضرت ازرق بن قیسؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم اہواز میں نہر کے کنارے پر تھے، نہر خشک ہوگئی تھی حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ گھوڑے پر سوار ہوکر پہنچے۔ گھوڑے سے اُترے، نماز پڑھنے لگے اور گھوڑے کو کھلا چھوڑ دیا۔ گھوڑا کھڑا رہنے کے بجاے چل پڑا۔ حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ نے نماز چھوڑ دی اور گھوڑے کے پیچھے چل پڑے۔ گھوڑے کو پکڑ لیا، پھر آئے اور اپنی نماز ادا کی۔ ہمارے اندر ایک آدمی تھا جو خوارج کی راے رکھتا تھا۔ کہنے لگا: اس بزرگ کو دیکھیں کہ اس نے گھوڑے کی خاطر نماز چھوڑ دی! حضرت ابوبرزہؓ نماز سے فارغ ہوکر آئے تو فرمانے لگے: جب سے میں رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہوا ہوں اب تک کسی نے مجھے نہیں جھڑکا۔پھر فرمایا: میرا گھر بہت دُور ہے۔ اگر میں نمازپڑھتا رہتا اور گھوڑے کو پکڑنے کے لیے نہ جاتا تو میں اپنے گھر رات تک نہ پہنچ سکتا۔ پھر فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور مَیں نے اُمت کے لیے آپ کی آسانیاں دیکھی ہیں۔(بخاری، کتاب الادب)

حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو عملی جامہ پہنایا ،آپؐ سے جو سبق سیکھا اس پر عمل کیا اور اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ خوارج ایک متشدد گروہ تھا۔ چند عبادات میں انتہاپسندی ان کا طرزِعمل تھا۔ لمبی لمبی نمازیں، مسلسل روزے، ظاہری وضع قطع اور لباس میں عبادت گزاری اور ریاکاری، لیکن اسلامی آداب سے عاری۔ بزرگوں کا ادب ان کے ہاں کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ صحابہ کرامؓ کی گستاخی بھی ان کا شیوہ تھا۔ بجاے اس کے کہ حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ جو جلیل القدر صحابی تھے ان سے سیکھتے اور انھی کی طرح زندگی گزارتے، اُلٹا ان پر طعن و تشنیع شروع کردی۔

گھوڑے کی خاطر نماز چھوڑ دینا اور گھوڑے کو پکڑ کر نماز ادا کرنا اپنے آپ کو ایک بڑی مصیبت سے بچانا تھا لیکن خارجی نے اس کی حکمت کو نہ سمجھا۔ جولوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی سیرت سے سیکھنے کے بجاے اپنی خواہشات کے مطابق عبادت اور زُہد اختیار کرتے ہیں وہ لاحاصل سعی کرتے ہیں۔انھیں ایسی عبادات اور زہد سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ وہ بلاوجہ اپنے آپ کو تنگی اور مشکل میں ڈالتے ہیں۔ موجودہ دور میں بھی خوارج کی طرح کے فتنے کھڑے ہوئے ہیں جن کے سبب اُمت مشکل میں گرفتار ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فتنہ پردازوں کو ہدایت دے۔

m

حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دو آدمیوں کو دیکھا جو میرے پاس آئے (اور مجھے مختلف گناہوں کے سبب عذاب میں گرفتار لوگ دکھلائے، ان میں وہ آدمی بھی تھا جس کی باچھیں چیری پھاڑی جارہی تھیں اور ان کو گدی تک چیرا اور پھاڑا جا رہا تھا)۔ ان دونوں آنے والوں (فرشتوں ) نے مجھے بتایا یہ جس کی باچھیں چیری جارہی تھیں، وہ آدمی ہے جو کذّاب ہے، بہت بڑا جھوٹا آدمی ہے۔ لوگ اس سے جھوٹ سنتے ہیں اور دنیا کے کونے کونے میں پہنچاتے ہیں۔ اس آدمی کے ساتھ قیامت تک عذاب کا یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ (بخاری،کتاب الادب)

پہلے زمانے میں بھی کذّاب ہوتے تھے اور ان کے ذریعے بھی دنیا کے گوشے گوشے میں جھوٹ پہنچتا تھا لیکن اس وقت جھوٹ کے پہنچنے اور پھیلنے میں کافی وقت لگتا تھا۔ آج کا دور تو ذرائع ابلاغ کا ایسا دور ہے جس میں بیک وقت دنیا کے گوشے گوشے میں سچ بھی پہنچتا ہے اور جھوٹ بھی۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا، انٹرنیٹ اور فیس بُک کے ذریعے دنیا جھوٹ پر کھڑی ہے۔ دن رات جھوٹ کا راج ہے۔ جھوٹ سنایا بھی جاتا ہے اور اس پر عمل بھی کیا جاتا ہے۔ جھوٹ گھڑ کر بے گناہوں کو اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ دنیا ظلم سے بھر گئی ہے۔ عدل و انصاف کا نام و نشان مٹ رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دو فرشتوں نے کذّاب اور اس کی سزا کا جو مشاہدہ کروایا ہے اس کا بڑا مصداق آج کا دور ہے۔ یہ آپؐ کا مشاہدہ بھی ہے اور اس میں پیشنگوئی کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ سچے لوگوں، دین کے علَم برداروں کوچاہیے کہ وہ جھوٹ کا مقابلہ کریں ، دین اور سچ کو بھی دنیا کے کونے کونے تک پہنچائیں تاکہ ظلم کا  قلع قمع ہو اور ظالموں کو پیچھے دھکیلا جاسکے۔

m

حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے (ایک قلعے کو محاصرہ کیے ہوئے تھے جو فتح نہیں ہورہاتھا)، آپؐ نے فرمایا: ان شاء اللہ ہم کل واپس چلے جائیں گے۔ صحابہؓ نے یہ سنا تو بعض نے کہا: ہم اس وقت کیسے جائیں گے جب تک قلعہ کو فتح نہ کرلیں ( جذبۂ جہاد کے غلبے کے سبب انھوں نے یہ الفاظ کہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منشا کی خلاف ورزی مقصود نہ تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں راحت پہنچانے کے لیے ایسا فرما رہے ہیں)۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کا یہ ذوق و شوق دیکھا تو فرمایا: اچھا! صبح واپس جانے کے بجاے لڑائی کے لیے نکلو۔ صحابہؓ اگلے دن لڑائی کے لیے نکلے اور سخت ترین لڑائی لڑی اور انھیں بہت زیادہ زخم لگے۔ اس کے بعد پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل ہم لڑنے کے بجاے واپس جائیں گے ان شاء اللہ۔ اس وقت صحابہ کرامؓ خاموش رہے، تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔(بخاری، کتاب الادب)

فتح مکہ اور غزوئہ حنین کے بعد کفار کی قوت ٹوٹ گئی تھی۔ اب مکمل فتح قریب تھی لیکن طائف میں جو لوگ قلعہ بند تھے، اسلام اور مسلمانوں کے مقابلے میں جان کی بازی لگانے پر تلے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ کا محاصرہ کیا لیکن فتح نہ ہوسکا۔ آپؐ نے اس خیال سے کہ یہ قلعہ بند لوگ بالآخر اپنے آپ کو لڑائی کے بغیر اسلام کے حوالے کردیں گے،اس لیے وقتی طور پر لڑائی بند کرانے کا فیصلہ فرمایا اور صحابہؓ سے فرمایا کہ کل ہم واپس چلے جائیں گے۔

صحابہ کرامؓ کی نظر میں اتنی دُوربینی نہ تھی جتنی دُوربینی اللہ تعالیٰ کے نبیؐ کو عطا ہوئی تھی۔ وہ لڑنا چاہتے تھے اور لڑ کر فتح کرکے جانا چاہتے تھے۔ اگلے دن جو نتیجہ سامنے آیا اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک راے ان کی سمجھ میں آگئی۔ چنانچہ لڑائی ملتوی کرنے پر راضی ہوگئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس موقعے پر ہنس پڑے کہ وہ جذبہ جو انتہا کو پہنچا ہوا تھا آج کے زخم اس کو اعتدال پر لے آئے ہیں۔ بعض اوقات انسان زخم کھانے کے بعد ہی سمجھتا ہے۔ لڑائی ملتوی ہوگئی لیکن بعد میں قلعے والے خود ہی مسلمان ہوکر آپؐ کے پاس آگئے اور یوں عرب کی سرزمین کلیتاً اسلام کے لیے مسخر ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست بھی صحابہ کرامؓ کے مشاہدے میں آگئی اور جووہ چاہتے تھے وہ سب اللہ تعالیٰ نے انھیں لڑائی کے بغیر عطافرمادیا۔

m

حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض حلال چیزیں واضح ہیں اور بعض حرام چیزیں واضح ہیں اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں۔   پس جس نے اس گناہ کو چھوڑا جس کا گناہ ہونا مشتبہ ہے تو وہ اس گناہ کو زیادہ ترک کرنے والا ہوگا جس کا گناہ ہونا اس پر واضح ہے۔ اور جس نے مشتبہ گناہ کے ارتکاب پر جرأت کی، قریب ہے کہ     وہ واضح گناہ کا ارتکاب کرے۔گناہ اللہ تعالیٰ کی ممنوع کردہ چراگاہیں ہیں اور جو شخص ممنوعہ چراگاہوں کے قریب چرے گا، قریب ہے کہ ان چراگاہوں کے اندر داخل ہوجائے۔(بخاری، کتاب البیوع)

گناہ سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ گناہ کے قریب بھی نہ جائے اور جو چیزیں ممنوع ہیں ان سے     دُور رہے، مثلاً زنا ممنوع اور حرام ہے تو اس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ غیرمحرم عورتوں کے قریب بھی نہ جائے، ان کو نہ دیکھے، ان کے گھر میں بلااذن اور پردہ کرائے بغیر داخل نہ ہو۔ عورتوں اور مردوں کا باہمی میل جول اور رُو در رُو گفتگو نہ ہو۔ بے تکلفی اور کسی رکاوٹ کے بغیر آمدورفت اور نشست و برخاست گناہ میں گرفتار کرنے کا ذریعہ ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرد ایک عورت کے ساتھ تنہائی میں نہیں بیٹھے گا مگر ان کا تیسرا شیطان ہوگا۔ اسی وجہ سے قرآن و سنت میں پردے کے احکام آئے ہیں اور بغیر اجازت گھروں میں داخلہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ عورت کو بن سنور کر بے پردہ کھلے عام پھرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔  آج کل مغربی تہذیب کا دور دورہ ہے، فحاشی اور عریانی عام ہے۔ ریڈیو، ٹی وی، انٹرنیٹ اور فیس بُک پر عورت بے پردہ سامنے آتی ہے اور لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کرتی پھرتی ہے۔ یہ معاشرہ اسلام کی   ضد ہے۔ اسلام شرم و حیا اور عفت و عصمت کا دین ہے۔ آج مسلمان ممالک مغرب کو متاثر کرنے اور ان میں اسلام کی عفت و عصمت اور شرم و حیا پر مبنی تہذیب کو فروغ دینے کے بجاے مغربی تہذیب کے دلدادہ ہوگئے ہیں اور اپنے ملکوں کو مغربی تہذیب کے رنگ میں رنگنے پر فخر کرتے ہیں۔ اللہ ہدایت عطا فرمائے۔آمین!