۲۰۱۵ فروری

فہرست مضامین

مدیر کے نام

عبدالرشید عراقی ، سوہدرہ، گوجرانوالہ | ۲۰۱۵ فروری | مدیر کے نام

اسلام کا نظامِ قضا: مطالعات، ڈاکٹر ابراہیم سواتی۔ شائع کردہ: قرآنک عریبک فائونڈیشن،  بی-۵۵۲، کانونٹری روڈ، برمنگھم، برطانیہ۔ صفحات: ۸۳۰۔ قیمت: ۹۹ئ۱۲ پونڈ۔

قرآن کریم نے انبیا علیہم السلام کی بعثت کا ایک مقصد یہ بتایا ہے کہ وہ معاشرے میں عدل قائم کریں (الحدید ۵۷:۲۱)، اور سورئہ رحمن میں تو یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ تمام کائنات ایک میزانِ عدل پر قائم ہے (۵۵:۲)۔ اس طرح اور متعدد مقامات پر عدل و انصاف کی تلقین کی گئی ہے۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر سواتی کی زیرتبصرہ کتاب اسلام کے نظامِ عدل کے اہم موضوع پر بڑی جامع تصنیف ہے۔ یہ علمی اور تحقیقی کتاب جو حقیقتاً ایک دائرۃ المعارف کا مقام رکھتی ہے، ان کی  تمام زندگی کی کاوش کا ماحصل ہے۔

ڈاکٹر سواتی نے ۱۹۷۲ء میں، لندن یونی ورسٹی میںاس موضوع پر اپنا تحقیقی مطالعہ پیش کیا تھا اور اس کے بعد وہ مختلف یونی ورسٹیوں میں اپنی ملازمت کے دوران اس موضوع پر تحقیق کرتے رہے اور اپنے ذاتی کتب خانے میں قیمتی اور نادر ذخیرہ بھی جمع کرتے رہے۔ اس کے نتیجے میں انھوں نے ۸۰۰ سے زائد صفحات کی ضخیم کتاب میں اسلام کے نظامِ قضا کے تمام اہم اور امتیازی پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔

کتاب کا آغاز مصنف نے عہدِ جاہلیت کے نظامِ قضا سے کیا ہے اور اس امر کی عقدہ کشائی کی ہے کہ اس دور کو دورِ جاہلیت کیوں کہا جاتا ہے اور اس ضمن میں جاہلی عصبیت و حمیت اور دیگر بُرائیوں کی وضاحت کی ہے۔ دوسرے ابواب میں قرآن کے حوالے سے اس نظام پر جو تنقید کی ہے اس کا ذکر ہے۔

کتاب کے دوسرے حصے میں انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصد، توحید کا اعلان اور عدل و انصاف کے نظام کا قیام زیربحث آیا ہے۔ اس ضمن میں حضرت دائود ؑ اور حضرت سلیمان ؑ کے دو مقدموں کا تذکرہ ہے۔

اس کے بعد کے ابواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاے راشدین کے عدالتی نظام کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اور پھر ادب القاضی کے حوالے سے عدالتی قوانین پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے اور پھر اس ضمن میں پولیس، قیدخانوں اور محکمہ الحسبہ کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

کتاب کو دو حصوں اور ۱۱؍ ابواب میں ترتیب دیا گیا ہے اور تین کتابیات کی فہرست تقریباً ۳۰۰ صفحات پر مشتمل ہے جس میں ۱۸۰۰ سے زائد کتابیں شامل ہیں جو اساتذہ اور طلبا کے لیے بڑی مفید معلومات کا خزانہ ہے۔ اصل کتاب انگریزی میں ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی تھی جس کی علمی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی تھی۔ اب اسے ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی نے جو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں لیکچرار ہیں بامحاورہ اور سلیس اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کی سلاست اور روانی سے اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ ترجمہ ہے۔ کتاب اعلیٰ معیار پر اچھی کتابت اور طباعت کے ساتھ شائع کی گئی ہے۔ اُمید ہے صاحب ِ علم حضرات اور طلبا اس جامع اور مستند علمی کتاب سے استفادہ کریں گے اور برعظیم کے کتب خانوں میں یہ جگہ پائے گی۔(عبدالرشید صدیقی)


بارِشناسائی،کرامت اللہ غوری۔ ناشر: اٹلانٹس پبلی کیشنز ۳۶-اے ایسٹرن سٹوڈیوز کمپاونڈ،بی- ۱۶ سائٹ،کراچی۔صفحات:۲۱۳۔قیمت:۴۸۰روپے۔

عرب کے مشہور شاعر متنبی جس کی مدح کرتا اُسے آسمان پر اٹھاکر ماورائی مخلوق بنالیتا، اسی طرح جب کسی کی ہجوکرتا تو اسے انسانیت کے دائرے سے نکال کر اسفل السافلین بنا کردَم لیتا۔ یہی حال ہمارے اکثر قلم کاروں کا ہے ۔وہ جب بھی کسی شخصیت پر قلم اُٹھاتے ہیں تو دونوں انتہاؤں میں سے ایک پر ہوتے ہیں۔حکمرانوں،سیاست دانوں اور با اثر شخصیات کے خاکوں اور سوانح میں بالخصوص اپنے پسندیدہ اور ناپسندیدہ رنگ اہتمام سے بھرے جاتے ہیں۔ عام آدمی تک صحیح معلومات نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ یا تو رہزن کو رہبر سمجھنے لگتا ہے یا پھر ’سب چورہیں ‘ کہتے ہوئے قومی واجتماعی معاملات سے دامن جھٹک کر الگ ہوجاتا ہے۔بارِ شناسائی اس معاملے میں ایک مختلف اور منفرد کتاب ہے۔کتاب کے مصنف کرامت اللہ غوری وزارت خارجہ کے بیوروکریٹ اورایک طویل عرصے تک مختلف ممالک میں پاکستان کے سفارت کار رہے ہیں۔خوش گوار حیرت کی بات یہ ہے کہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ مصنف کا قلم قبیلے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔

وہ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ان کی تازہ تصنیف بارِشناسائی دراصل ان کی اُن یاداشتوں کا مجموعہ ہے جو ہمارے حکمرانوں: وزراے اعظم،صدور،کابینہ کے اراکین،کمیٹیوں کے سربراہان اوردیگر اہم شخصیات سے متعلق ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نوازشریف اور بے نظیر تک کے حکمرانوں،نوابزادہ نصراللہ خان ،مولانا فضل الرحمٰن،حکیم محمد سعید،فیض احمد فیض اور ڈاکٹرعبدالسلام جیسی شخصیات کے تذکرے اس کتاب کا حصہ ہیں۔دل آویزاسلوب،بے لاگ تبصرے اورشخصیات کے نفسیاتی تجزیے اس کتاب کی نمایاں خصوصیات ہیں۔مصنف نے پیش لفظ میں لکھاہے: ’’میں نے توصرف وہ خاکے مرتّب کیے ہیں جو میرے مشاہدے کی آنکھ سے گزرکرمیرے ذہن کے کینوس پراپنے تاثرات چھوڑگئے ہیں۔میں نے صرف وہی لکھا ہے جو میں نے دیکھا اور محسوس کیا‘‘۔(ص ۲۶)

مصنف نے ضیاء الحق کے کردارکے دونوں پہلو بیان کرنے کے بعد ان کی عجزوانکسار، کھرے پن اور نرم خوئی کی کھل کر تعریف کی ہے، لکھتے ہیں:’’ وہ بلاشبہہ ایک انتہائی متنازع شخصیت تھے اور رہیں گے لیکن ایک حقیقت جس کا میں آج بھی بلا خوف تردید اعادہ اور توارد کر سکتا ہوں    یہ ہے کہ میں نے ۳۵برس کی سفارتی اور سرکاری ملازمت کی تمام مدت میں ضیاء الحق سے زیادہ  نرم خواور حلیم انسان نہیں دیکھا۔ کوئی بھی دیانت دار مؤرخ ان کے خلق اور اخلاق کے ضمن میں میرے بیان کی تردیدنہیں کرسکے گا‘‘۔ (ص۷۲)

ذوالفقار علی بھٹو کے غرور و تکبر ،سخت گیری اور درشت مزاجی کے واقعات بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ: ’’بھٹوصاحب کا سب سے بڑا مسئلہ یہی تھا کہ وہ اپنے مزاج اور اپنی اَنا پرست نفسیات سے اپنی موروثی وڈیرہ ذہنیت کو کبھی جدا نہیں کرسکے۔‘‘ (ص۲۸)

مصنف نے بے نظیر کی ذہانت ،فطانت اور معاملہ فہمی کے ساتھ ساتھ وزیروں مشیروں کے انتخاب میں ان کی قوتِ فیصلہ اور اصابتِ راے کی ناکامی، نواز شریف کے حُسنِ سلوک اور کھانے پینے کے حد سے بڑھے ہوئے شوق،محمد خان جونیجو کی سادہ لوحی اور برتری کے گھمنڈ میں مبتلا پرویزمشرف کی آمریت کے واقعات تفصیل سے بیان کیے ہیں۔علاوہ ازیں اس کتا ب میں مال و دولت کے پجاری،پروٹوکول کے بھوکے،شہرت کے طلب گار،سیاحت اور شاپنگ کے شوقین نااہل اور کارِسرکار سے بے نیاز وزیروں اور مشیروں کے چہروں سے بھی نقاب کشائی کی گئی ہے۔

دیکھا جائے تو زیر نظر کتاب میں کوئی بھی بات ایسی نہیں جو ہمیں پہلے سے معلوم نہ ہو لیکن اس کے باوجود اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ہر قسم کے تعصب سے بالا تر ایک معتبرچشم دید گواہ کی شہادت ہے۔آخر میں مصنف نے وطن عزیز کے زبوں حالی کی درست تشخیص کرتے ہوئے ہماری سیاست اور سیاسی کلچرمیں جاگیرداروں اور وڈیروں کے تسلط کو پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طبقہ جسے صرف اور صرف اپنے مفاد سے محبت ہے اور اپنی غرض ہی ان کو عزیز ہے، ملک چاہے جائے بھاڑ میں، جونک کی طرح ہمارے سیاسی نظام سے چمٹاہواہے اور اس کا خون چُوس رہاہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ ہمارے ہاں روزافزوں جہالت اور تعلیم کی کمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمار معدودے چندممالک میں ہوتا ہے جہاں ان پڑھ لوگوں کی شرح ہر سال بڑھ رہی ہے۔ جس تیزی سے ہماری آبادی میں اضافہ ہورہاہے، ملک میں تعلیم وتدریس کی سہولتیں اس رفتارکاساتھ نہیں دے رہی ہیں۔ (ص۱۸۱)

وہ لکھتے ہیں کہ: ’’ملک کی سیاست اور سیاسی عمل پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ہرفوجی آمر نے جاگیرداروں اور وڈیروں کوشریک اقتدارکیاتھا، اس لیے کہ اقتدارکے بھوکے یہ جاگیرداراپنی قیمت لگوانے میں کسی اخلاقی ضابطے یااصول کے اسیرنہیں ہوتے۔ جو ان کی مانگ پوری کردے اور انھیں لوٹ مارکرنے کے لیے اپنی سرپرستی فراہم کردے، وہ اس کے ساتھ شریک بھی ہوجاتے ہیں اور اس کے ہاتھ بھی مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہوجاتے ہیں‘‘۔ (ص۱۸۲)

مزید لکھتے ہیں کہ: ’’عوامی انقلاب کی فتح کے بعد ماؤنے سب سے پہلا کام یہ کیاکہ جاگیرداروں اور زمین داروں کا قلع قمع کردیا۔ اسی طرح امام خمینی نے بھی ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعدان شاہ پرستوں اور استحصال پسندوں کو تہہ تیغ کردیاجنھوں نے ایران کے غریب عوام کا جینا دوبھرکررکھاتھا‘‘۔ وہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل جاگیرداری اور وڈیرہ شاہی کے خاتمے میں سمجھتے ہیں۔اس بات کو اگر اس کتاب کا حاصل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ خالصتاًپاکستان سے متعلق اور پاکستانیوں کے لیے لکھی ہوئی اس کتاب کا پہلا ایڈیشن پاکستان کے بجاے بھارت(دہلی) سے شائع ہوا تھا۔(حمیداللّٰہ خٹک)


الایام (علمی و تحقیقی جریدہ، جولائی تا دسمبر ۲۰۱۴ئ)، مدیرہ: ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر۔ ناشر: مجلس براے تحقیق اسلامی تاریخ و ثقافت، فلیٹ نمبر۱۵-اے، گلشنِ امین ٹاور، گلستانِ جوہر، بلاک ۱۵، کراچی۔ صفحات: ۳۱۴۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔

ایچ ای سی سے منظورشدہ جریدے الایام کا تازہ شمارہ تحقیقی وتنقیدی مقالوں، مفصل اور مختصر تبصروں اوررفتگان کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ الطاف حسین حالی کے صدسالہ یومِ ولادت کی مناسبت سے چار اُردو مضمون اور ایک انگریزی مقالہ شامل ہے۔ ایچ ای سی کے رسالوں میں اب بھرتی کی چیزیں بھی چھپنے لگی ہیں۔ الایام نے اس کا خیال رکھا ہے، چنانچہ زیرنظر مضامین و مقالات سارے ہی عمدہ اور معیاری ہیں۔

عمومی خیال کے مطابق مسدس حالی مسلم قوم کی داستانِ زوال و انحطاط اور اس پر ایک پُرتاثیر مرثیہ ہے۔ پروفیسر منیرواسطی نے بشدّت اس کی تردید کی ہے۔ انھوں نے متعدد معروف ناقدینِ ادب کے حوالے دیتے ہوئے اصرار کیا ہے کہ مسدس زوال و انحطاط کی داستان نہیں، تجدید واحیا اور نشاتِ ثانیہ کا راستہ ہے، غیرملکی غلبہ اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہ طویل نظم مسلم تشخص پر زور دیتی ہے اور اس سے قدرتی طور پر ایک علیحدہ مسلمان ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

خالد ندیم نے ’شبلی و حالی: تعلقات کا ازسرِنو جائزہ‘ میں بہ دلائل تردید کی ہے کہ شبلی اور حالی کے درمیان کسی طرح کی ’معاصرانہ چشمک‘ تھی۔ ’’ثابت ہوجاتا ے کہ دونوں بزرگوں کے درمیان احترام کا رشتہ زندگی بھر قائم رہا‘‘۔ (ص ۲۱۱)

’بیاد رفتگان‘ میں مارچ ۲۰۱۴ء کے بعد سے ۲۳؍اکتوبر ۲۰۱۴ء تک (کے درمیان دنیاے فانی سے کوچ کرنے والی ۱۴ شخصیات کا مختصر تعارف شامل ہے۔ ہمارے علم کے مطابق اس عرصے میں فوت ہونے والی دو شخصیات محمد قطب (م: ۴؍اپریل ۲۰۱۴ء ، جدہ) اور ڈاکٹر ذوالفقار علی ملک (۸؍اگست ۲۰۱۴ئ، لاہور) کا تذکرہ رہ گیا۔ شاہد حنائی کا تفصیلی مکتوب عبرت ناک ہے اور سبق آموز بھی۔ہمارا خیال ہے علمی مقالات میں آیاتِ قرآنی اور متونِ حدیث پر اِعراب کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر سہیل شفیق نے ۲۱نئی کتابوں اور رسائل کا تعارف کرایا ہے۔ انھیں مختصر تبصرہ کہہ سکتے ہیں۔’انجامِ گلستان‘ کے عنوان سے مدیرہ نے ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل کے حوالے سے نہایت دردمندانہ اداریہ لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں جہاں ظلم ہو رہا ہے اس کے خلاف احتجاج کرنا اور آواز اُٹھانا ضروری ہے ورنہ خاموشی کا مفہوم یہ ہے کہ ہم ظالم کی حمایت کر رہے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)

اُونٹ (تخلیق کے اسرار سے جدید طبی فوائد تک)، ڈاکٹرسیّدصلاح الدین قادری۔ ناشر:  فضلی بک، سپرمارکیٹ، نزد ریڈیو پاکستان ، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۳۲۶۲۹۷۲۴-۰۲۱۔صفحات: ۲۸۸۔ قیمت: درج نہیں۔

 ’’تو کیا یہ اُونٹوں کو نہیں دیکھتے کیسے بنائے گئے؟ (الغاشیہ: ۸۸:۱۷)۔ اس آیت قرآنی نے مصنف کو اس علمی، تحقیقی کتاب لکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ ۱۲؍ابواب کی اس کتاب میں اُونٹ سے متعلق تمام ہی پہلو زیرمطالعہ آگئے ہیں۔

’قرآن کریم میں اُونٹ کا تذکرہ ‘ پہلا باب ہے۔ وہ ۲۰ آیات بیان کی گئی ہیں جن میں ۱۳مختلف الفاظ آئے ہیں جو اُونٹ کے لیے بیان ہوئے ہیں۔اُونٹ کو نہ صرف اللہ کی نشانی کے  طور پر بیان کیا گیا ہے بلکہ انسان سے اس پر غور کرنے کا سوال بھی کیا گیا ہے۔ باب کے آخیر میں اُردو اور انگریزی کتب اور مضامین کے حوالے ہیں۔ اس طرح کے حوالے ہر باب کے آخیر میں ہیں۔ بارھویں باب میں تو عربی زبان کے ۱۰۸ الفاظ بیان ہوئے جو مختلف خصوصیات کے حامل اُونٹوں کے لیے مستعمل ہیں۔

’اُونٹ ریگستان کا جہاز‘ کے حوالے سے سب ہی واقف ہیں۔ اس کتاب میں اُونٹ کی مزید افادیت تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ اس کے خون میں مخصوص قسم کی ضد اجسام ہیں جن کو نیٹوباڈیز کہا جاتا ہے۔ مصنف تحریر کرتے ہیں یہ اپنی ساخت اور فعالیت میں حیرت انگیز ہیں، اس لیے دنیابھر کی نگاہیں ان پر مرکوز ہوگئی ہیں اور انھوں نے دنیابھر کے ادویہ ساز اداروں کی فوری توجہ حاصل کرلی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ جلد ہی اُونٹ کی ضداجسام کی ادویات عام فروخت کے لیے دستیاب ہوں گی اور سرطان، ایڈز اور کئی لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کرلی جائے گی۔ اُونٹ کا دودھ ، فضلہ، گوشت اپنی کیمیاوی ساخت میں مختلف ہے اور طبی طور پر استعمال ہوتا رہا ہے اور جدیدتحقیقات کی روشنی میں بعض مہلک امراض میں اب بھی استعمال ہوتا ہے۔

اس حوالے سے مصنف کا یہ جملہ بہت اہم اور دل چسپ ہے کہ لاعلاج بیماریوں کے متوقع علاج کے حوالے سے اُونٹ کے لیے نیا لقب ’ادویاتی باربردار‘ استعمال کیا جا رہا ہے۔پاکستان کے تمام اہم کتب خانوں کے لیے یہ کتاب ایک وقیع اضافہ ہے۔(پروفیسر شہزادالحسن چشتی)


حقیقی ذکرِ الٰہی کیا ہے، ڈاکٹر امیرفیاض پیرخیل۔ ناشر: شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز، جی ٹی روڈ مینگورہ، سوات۔فون: ۷۲۹۴۴۸-۰۹۴۶۔صفحات: ۶۱۶۔ قیمت: ۶۵۰ روپے۔

مصنف کے مطابق اللہ کی نعمتوں پر شکر کرنا اور پوری زندگی اللہ کے احکامات کے مطابق گزارنا حقیقی ذکرِ الٰہی ہے۔ یہ ضخیم کتاب اسی کا سیرحاصل بیان ہے۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس کی نوعیت کتاب سے زیادہ ایک طویل تقریر کی ہے جس میں کوئی ابواب نہیں ہیں بلکہ تقریباً ۴۵۰عنوانات کے تحت ایک مسلسل بیان ہے۔ جو موضوع بھی آتا ہے خواہ وہ نماز ہو، آخرت ہو یا دنیا ہو یا کوئی اور، اس کے بارے میں قرآن کی آیات، احادیث، و اقعات، ’حکایات‘ اشعار اور کوئی بھی عمل پر اُبھارنے والی بات بیان کی گئی ہے۔ معروف علما کی مختلف کتابوں سے اقتباسات نقل کیے گئے ہیں اور اشعار بھی۔ بعض حکایات سے کوئی ایسا پیغام ملتا ہے جو قابلِ عمل نہیں، مثلاً ایک بزرگ کے بارے میں آیا کہ وہ لقمے چبانے کے بجاے ستُو گھول کر ۴۰سال تک اس لیے پیتے رہے کہ چبانے سے جو وقت بچتا تھا اس میں وہ ۷۰تسبیحات کرسکتے تھے۔ ڈاکٹر امیرفیاض پیرخیل نے اپنے نام سے اس کے آگے نوٹ دیا ہے کہ یہ ہمارے آپ کے لیے نہیں ہے۔

عبادت کا مفہوم اور نماز کے بیان میں سیّدمودودی کی خطبات سے مسلسل ۳۲صفحات نقل کیے گئے ہیں (ص ۲۲۱ تا ۲۵۳)۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ کتاب موجودہ زمانے کی کتاب معلوم ہوتی ہے۔ مسلمانوں پر پاکستان میں اور پوری اُمت مسلمہ پر جو وقت گزر رہا ہے اس کا حوالہ حسب ِ موقع دیا گیا ہے ۔ پوری کتاب میں جگہ جگہ خطاب بھائیو اور بہنو کر کے کیا گیا ہے۔ نظر آتا ہے کہ مصنف کو اپنے پڑھنے والوں کی بڑی فکر ہے اور وہ انھیں حقیقی ذکرِ الٰہی کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اوّل تا آخر پڑھنے کا حوصلہ نہ کریں تو جہاں سے بھی جتنے صفحے چاہے پڑھ لیں تو علم میں ہی نہیں ایمان میں بھی اضافہ ہوگا اور یقینا کچھ عمل کی اور زندگی کو صحیح راستے پر گزارنے کی توفیق ملے گی۔ پوری کتاب کو ایک بہت اچھی، جامع اور ہر پہلو کا احاطہ کرنے والی تذکیر کہا جاسکتا ہے۔(مسلم سجاد)


جماعت اسلامی اور تحریکِ پاکستان( چند حقائق)، تحقیق و تصنیف: محمود عالم صدیقی۔ شعبہ تصنیف و تالیف، جماعت اسلامی ، کراچی۔ ملنے کا پتا: دفتر جماعت اسلامی، ۵۰۳-قائدین کالونی، قائدین روڈ، نزد اسلامیہ کالج، کراچی- فون: ۳۴۹۱۵۳۶۱-۰۲۱۔ صفحات: ۴۰۔ قیمت: ۲۵ روپے۔

جماعت اسلامی کے حوالے سے یہ بات پھیلا دی گئی ہے کہ جماعت قیامِ پاکستان کی مخالف تھی۔ اس بات کا حقائق سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔ اب محمودعالم صدیقی صاحب نے اس مختصر کتاب میں پانچ عنوانات کے تحت سب حقائق یک جا کرکے بیان کردیے ہیں۔ تقسیم سے قبل، تحریکِ پاکستان کے دوران، فسادات کے موقعے پر اور پاکستان کے حوالے سے جماعت اسلامی کے کردار کے بارے میں ضروری مستند تفصیلات بیان کردی گئی ہیں۔ اگر کوئی حقائق جاننا چاہتا ہو تو وہ سچائی تک  پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی بدنیتی سے حقائق جھٹلائے تو اس کا کوئی علاج نہیں۔ سیّدمنورحسن کے مطابق: مصنف سب باتیں چھان پھٹک کر سامنے لائے ہیں۔ یہ ایک اہم دستاویز ہے جو نوجوان نسل کو تحریک کی سچائی سے آگاہ کرے گی۔ مجموعی طور پر یہ کتاب جماعت اسلامی کے لٹریچر میں ایک گراں قدر اضافہ ہے‘‘(ص۴۰)۔(مسلم سجاد)


اُمت مسلمہ کے متفقہ دینی مسائل، تالیف: مولانا عبیداللہ عبیدحفظہ اللہ۔ ناشر: مکتبہ نعمانیہ، اُردوبازار،گوجرانوالہ۔ فون:۷۴۷۵۰۷۲-۰۳۲۱۔ صفحات:۱۷۴۔ قیمت: درج نہیں۔

قبل ازیں بھی بعض اہلِ علم کی اس جیسی کوششیں ظہور میں آتی رہی ہیں مگر وہ عربی میں تھیں۔ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ یہ سلیس اُردو زبان میں لکھی گئی ہے، نیز یہ براہِ راست عوام کی ضرورت اور ذہنی سطح کے عین مطابق ہے۔ کتاب میں مسائل کو معروف دینی موضوعاتی ترتیب سے بیان کیا گیا ہے۔ عقائد کے بعد عبادات اور پھر معاملات کا ذکرہے۔ کُل ۱۳۸۹ مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ کتاب میں مولانا عبدالمالک اور دیگر علما کی تقریظات سے کتاب کے مندرجات کا درجۂ استناد بڑھ گیا ہے۔ کتاب معاشرے کی اہم ضرورت کو پورا کرتی ہے۔

دینی مسائل کے بارے میں عام تاثر ہے کہ ان میں بہت اختلافات ہیں۔ اختلاف اگر حدود کے اندر ہو، قرآن اور اجماعِ اُمت کے خلاف نہ ہو تو اس وسعت سے عمل کر نے والوں کو سہولت فراہم ہوتی ہے، تاہم بیش تر اور بنیادی مسائل متفقہ ہیں۔ یہی واضح کرنے کے لیے یہ کتاب مرتب کی گئی ہے۔(عبدالحق ہاشمی)


غزہ پر کیا گزری؟ میربابر مشتاق۔ ناشر: عثمان پبلی کیشنز، اے-۸، بلاک بی-۱۳، ریلوے ہائوسنگ اسکیم، گلشن اقبال ، کراچی۔ فون: ۴۸۷۴۰۷۴-۰۳۶۴۔ صفحات: ۱۱۲۔ قیمت: ۲۱۰ روپے۔

جولائی اور اگست ۲۰۱۴ء کے مہینوں میں اہلِ غزہ پر قیامت گزری۔ غزہ پر کیا گزری؟ دراصل اسی قیامت کاتذکرہ ہے۔ پانچ ابواب پر مشتمل یہ مختصرسی کتاب جہاں فلسطینیوں کی جدوجہد سے روشناس کرانے کا ذریعہ ہے وہیں اسرائیلی جبر اور اس کے سرپرستوں کا پردہ چاک کرتی ہے اور اُمت مسلمہ کی بے چارگی، بے بسی اور بے حسی کا نوحہ بھی ہے۔ فلسطین کی تاریخ ، محلِ وقوع حضرت عمرؓ کے زمانے میں فتح، صہیونیت کی ابتدا اور اقدامات، برطانوی رویہ، حماس کی تاسیس اور موجودہ صورت، حماس کی لیڈرشپ کا تعارف، مراحل، طریق کار، جدوجہد اور تازہ اسرائیلی واردات پر تفصیل سے روشنی ڈالتی ہے۔ تصاویر کتاب کی افادیت اور کشش میں اضافہ کرتی ہیں۔(عمران ظہور غازی)


تعارف کتب

o رسولؐ اللہ کا نظامِ حکومت اور پاکستان میں اس کا نفاذ ، سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی-۷۵۹۵۰۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰-۰۲۱۔ صفحات:۲۴۔ قیمت: درج نہیں۔ [تحریکِ نظامِ مصطفیؐ کے بعد جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں ریڈیو پاکستان کے نمایندے جناب ناصرقریشی اور جناب عبدالوحید خان نے مولانا مودودیؒ سے رسولِ کریمؐ کے نظامِ حکومت اور پاکستان میں اس کے نفاذ کے بارے میں ایک طویل تاریخی انٹرویو ۷ اور ۸؍اپریل ۱۹۷۸ء کو لیا تھا، جسے بعد میں مولانامودودی کی نظرثانی کے بعد شائع بھی کیا گیا۔ اسلامک ریسرچ اکیڈمی نے اسے ذیلی عنوانات کے ساتھ دوبارہ شائع کیا ہے۔ اسلامی نظامِ حکومت کے تصور، موجودہ دور میں اس کے نفاذ اور اس بارے میں غلط فہمیوں کے حوالے سے ایک مختصر اور جامع تحریر ہے۔ تاہم پروف کی اغلاط توجہ چاہتی ہیں۔]

o اللہ میرے دل کے اندر ، ملک احمد سرور، ناشر: مکتبہ تعمیر انسانیت ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون:۷۲۳۷۵۰۰-۰۳۳۳۔صفحات:۵۵۲۔ قیمت: ۷۹۵ روپے۔[زیادہ دل چسپی سے پڑھی جانے والی کتابوں میں آج کل ایسی کتابیں زیادہ مقبول ہیں جو قبولِ اسلام کی تفصیل بتاتی ہیں۔ اسی قبیل کی ایک وقیع اور  خوب صورت کتاب بیدار ڈائجسٹ اور خطیب کے مدیر اور نام وَر صحافی ملک احمد سرور صاحب نے مرتب کی ہے جو سرورق کے مطابق: ’’ممتاز غیرمسلم شخصیات کے قبولِ اسلام کی داستانوں‘‘ پر مشتمل ہے۔ جن میں ہندو بھی ہیں، عیسائی بھی، اور لامذہب اور یہودی بھی۔ مرتب نے، جہاں ممکن ہوا، نومسلم کا شخصی تعارف بھی دے دیا ہے۔ بعض خود نوشتیں بھی ہیں، کچھ انٹرویو ہیں اور چند داستانیں مضامین کی شکل میں ہیں۔ ڈاکٹر خالد علوی صاحب نے اس پر مفصل دیباچہ سپردِقلم کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں: ’’یہ ایک شان دار مرقع ہے۔ کفر کی یلغار کے ان بے رحم موسموں میں یہ کتاب اعتماد کی ایک کرن ہے‘‘۔]

o علامہ اقبال کا خطبۂ صدارت ، اسلم عزیز درّانی۔ ناشر: بیکن بکس ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۵۶+۴۸۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [علامہ اقبال کے تاریخ ساز خطبہ الٰہ آباد ۱۹۳۰ء کا انگرزی متن اور اُردو ترجمہ اور اس پر ۱۵ حواشی و تعلیقات۔ خطبے کا تعارف اُردو اور انگریزی دونوں حصوں میں شامل ہے۔   بیکن بکس نے اسے دوسری بار بہتر معیارِطباعت پر شائع کیا ہے۔]

o اشاریہ جہانِ حمد ، مرتب: ڈاکٹر محمد سہیل شفیق۔ ناشر: جہانِ حمد پبلی کیشنز، حمدونعت ریسرچ سنٹر، نوشین سینٹر، سیکنڈفلور، کمرہ نمبر۱۹،اُردو بازار، کراچی۔ صفحات:۳۵۲۔ قیمت: درج نہیں۔[یہ ایک موضوعاتی رسالے جہانِ حمد کے ۱۹شماروں (جون ۱۹۹۸ء تا ۲۰۱۱ء )کا زیرنظر اشاریہ ہے۔ اس میں رسالے کے متعدد  خاص نمبروں (نعت نمبر، مناجات نمبر، قرآن نمبر یا بہزاد لکھنوی نمبر، صبا اکبر آبادی، علامہ اقبال، امام احمد رضا نمبر وغیرہ) کے مضامین و مقالات، تبصرئہ کتب اور حمدومناجات کے حوالے سے الگ الگ گوشوں میں دیے گئے ہیں۔ مقالات و مضامین کا اشاریہ عنوانات کے لحاظ سے بھی مرتب کیا گیا ہے۔ اگر آپ یہ معلوم کرنا چاہیں کہ کسی خاص شاعر کی کوئی حمد یا نعت جہان حمد میں کب چھپی ہے یا چھپی بھی ہے یا نہیں، تو اس اشاریے سے فی الفور جواب مل جائے گا۔ حمدیہ اور نعتیہ رباعیات، حمدیہ و نعتیہ اشعار، قطعات، منظومات اور حمدومناجات کے عنوانات کے تحت الگ الگ مصنف وار اشاریے مرتب کیے گئے ہیں جو ہمارے خیال میں یک جا ہونے چاہیے۔ ’پیغامات و تاثرات‘ کا اشاریہ بھی بہ اعتبار مصنفین شامل ہے۔ خطوط اور انٹرویو کا اشاریہ الگ ہے، اسی طرح نذرانہ ہاے عقیدت کا الگ۔]