جنوری ۲۰۱۹

فہرست مضامین

ادب کی قوت اور اسلامی تحریک

ڈاکٹر شاہ رشاد عثمانی | جنوری ۲۰۱۹ | دعوت و تحریک

ادب، تحریک اور اسلام کے باہمی تعلق اور تقاضوں پر اظہار خیال سے پہلے ان سوالوں پر غور کرلینا مناسب ہوگا: ادب کیا ہے؟ فرد و معاشرے اور زندگی سے اُس کا کیا تعلق ہے؟ 

  • ادب : ہمارے خیال میں ادب کی کوئی منطقی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ اگر ایک طرف ادب کو وقت اور زمانے کا آئینہ کہا جاسکتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ اسے ہم حُسن ِکلام اور تاثیرِ کلام کے نام سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔ دراصل ادب نام ہے احساسات کو لفظوں میں ڈھالنے کا، جذبات کو مترنم پیکر عطا کرنے کا، تصوّرات کو قابل فہم اشاروں میں تبدیل کرنے کا۔ ادب انسانی زندگی کا حسین ترجمان، اس کے افکار کا پر تو اور اس کے خیالات کا عکس ہوتا ہے۔ادب زندگی سے پیدا ہوتا ہے، زندگی کی ترجمانی کرتا ہے، اور زندگی ہی کے کام آتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ کسی معاشرے کا ادیب اپنے آپ کو معاشرے سے خارج یا لاتعلق رکھ کے ادب پیش کرے، یا یہ کہ جو کچھ وہ پیش کرے وہ دوسروں پر اثر انداز نہ ہو۔ مراد یہ ہے کہ وہ ادب ہی نہیں جو معاشرے اور اس میں رہنے والے فرد اور اس کی زندگی کو اپنے مخصوص رنگ سے متاثر نہ کرے۔
  • ادبی روایت :مغربی لادینی نظریات اور مختلف مادّی افکار کے حوالے سے ادب نے معاشرے کو جس طرح متاثر کیاہے، اس کے نتیجے میں نئے معاشرے کا انسان بحران، انتشار، ناآسودگی، روحانی کرب،اخلاقی انار کی ،جنسی بے راہ روی ، فحاشی وبے حیائی ،قتل وغارت گری ،معاشی استحصال، معاشرتی نابرابری ،منافقت ،فریب اور تہذیبی شکست وریخت سے دوچار ہے۔ آج کے ادب میں مسائل و معاملات کا اظہار بھی ہوا ہے اورمختلف الحادی اداروں کے ذریعے ان کا فروغ بھی۔  چنانچہ نیا ادب چاہے وہ ترقی پسند ہو یا جدید یت کا علَم بردار، لوگ اس کے پھیلائے ہوئے جراثیم سے مسموم ہوتی ہوئی فضاکو اب محسوس کرنے لگے ہیں اور اس سے نجات کی راہ ڈھونڈنے لگے ہیں۔ یہی وہ حالات تھے جنھوں نے ادب میں تحریک اسلامی کا شعور پیدا کیا۔ اسلامی رجحانات کے فروغ اور نشوونما کی منظم کوششیں شروع ہوگئیں ۔

ادب کی طاقت کو دنیا کی تمام تحریکات نے تسلیم کیا ہے اور اپنے نظریات کی اشاعت کے لیے اسے بطوروسیلہ استعمال کیا ہے ۔ ایک ایسی انقلابی تحریک جو زندگی کے ہر پہلو اور ہرادارے کی اصلاح چاہتی ہے،جو تعلیم ،سیاست اور معاشرت کو بدلنا چاہتی ہے ،وہ ادب کے شعبے کو کیسے نظر انداز کرسکتی ہے۔ سیّد اسعد گیلانی [م: ۳؍اپریل ۱۹۹۲ء]نے ایک جگہ بڑی عمدہ بات لکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:
کوئی تحریک بھی ادب کا تعاون حاصل کئے بغیر جڑ نہیں پکڑسکتی اور کسی تحریک کاکوئی پروگرام بھی بروے کار نہیں لایا جاسکتا،جب تک ادب اس پروگرام کو اپنی آغوش میں لے کر دل ودماغ میں اسے بٹھا نہ دے۔یہ دونوں چیزیں لازم وملزوم سی ہیں۔ ایک مسافر ہے تو دوسرا زادِراہ، ایک سپاہی ہے تو دوسرا اس کا اسلحہ، ایک قافلہ ہے تو دوسرا اس کا پیش رو۔
ہر تحریک اپنے دامن میں ایک انقلاب کا تصور رکھتی ہے۔ ہر انقلاب قلب و نظر کے زاویوں سے لے کر زندگی کے تمام مادی و اخلاقی پہلوؤں پر ہمہ گیر اثرات ڈالتا ہے۔ یہ اثرات ادب کے ذریعے غیر محسوس طریقے پر دل کی ایک لرزش سے جسد انسانی میں سرایت کرتے رہتے ہیں۔ دراصل دل ودماغ اور قلب ونظر کی تبدیلی اور تعمیر جدید میں ادب کسی بھی تحریک کا سب سے بڑا ایجنٹ ہوتا ہے، جو چپکے چپکے آنکھوں کے راستے دلوں میں اترتا ہے یا کانوں کے راستے قلوب میں گھر بناتا ہے۔ اس طرح آنے والے انقلاب کے لیے جذبات اور احساسات کے مورچہ بناتا ہے۔یہ ادب ہی ہے جو براہِ راست حملہ کرکے شکار کو پھڑکاتا نہیں، بلکہ اس کے گرد تصورات وتخیلات کی سوندھی سوندھی فضا پیدا کرتا ہے، کہ شکار خود بخود اس خوشبو کو اپنے دل میں جذب کرنے کے لیے اپنے جسم کے تمام بند ڈھیلے چھوڑدیتا ہے ۔ادب کی اسی طاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے نعیم صدیقی [م:۲۵ستمبر ۲۰۰۲ء] نے لکھا :
ادب خیال انگیز اور خیالات افروز قوت ہے۔ وہ معاشرے کی کھیتی میں خیالات کے بیج ڈالتا ہے اور پھر ان کی آبیاری کرتا ہے۔ وہ خیال کے جمود کو توڑتا ہے اور حرکت پیدا کرتا ہے۔ وحی الٰہی کے بعد اگر کوئی دوسرا ذریعہ انسانیت کو خیالات سے مالا مال رکھنے کا ہے تو وہ ادب ہے۔ ادب خیالات کو اُبھارتا ہے!
واقعہ یہ ہے کہ ادب انسانی خیالات ،جذبات اور اقدار کو زندہ رکھنے یا بنانے اور بگاڑنے والی عظیم طاقت ہے۔ دنیا کی تمام تحریکات نے اس طاقت کا خوب خوب ادراک بھی کیا ہے اور بہتر سے بہتر استعمال بھی۔ فرانس کا عوامی انقلاب والٹیر [م:۱۷۷۸ء] اور روسو [م:۱۷۷۸ء]کی تحریروں کونہیں بھول سکتا۔ ان کے قلموں کی روشنائی اس انقلاب کا موج زن خون ہے۔ روس کا اشتراکی انقلاب: مارکس [م:۱۸۸۳ء]، گورکی [م:۱۹۳۶ء]،ٹراٹسکی [م:۱۹۴۰ء]اور دوسرے اہل قلم حضرات کے قلموں کی جنبش پر چلتا ہو ا نظر آتا ہے۔ جرمنی کا نازی انقلاب، اُس تصور سے اُبھرا ہے ، جو نٹشے [م:۱۹۰۰ء]نے اپنی تحریروں میں چھوڑا تھا۔

  • ادب کی اسلامی روایت:  اسی طرح خود انبیائی تاریخ پر اگر آپ ایک نگاہ ڈالیں تو دیکھیں گے کہ انبیا علیہم السلام نے اپنے اپنے دور میں جو تحریکیں چلائیں، ان میں اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے اسالیب ِبیان کو اپنی دعوت کے فروغ کے لیے پورے طور پر استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی پیغمبر ایسا نہ تھا جو ادب کے بارے میں معمولی ذوق کا مالک ہو۔ الہامی کتابوں کے ذخیرے میں بھرپور ادبی قوت موجود ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ کی دعوت کے انجیل میں جو چند در چند ٹکڑے ملتے ہیں، ان کی قدروقیمت دوامی ہے۔ یہی حال زبورکا ہے۔ اگرچہ ان میں تحریف ہوچکی ہے، لیکن آپ دیکھیں گے کہ ان میں ادب کا پورا پورا اہتمام ہے۔ قرآن مجید اس سلسلے میں آخری ربّانی ہدایت ہے، جسے ادبی چیلنج کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔عرب میں اسلام کی انقلابی تحریک جب اُٹھی، جاہلی ادب کے مقابلے میں قرآن کی ادبیت کو بھی استعمال کیا گیا اور جب جاہلی ادب کو قرآنی ادب نے چیلنج کیا تو عرب کے کسی بڑے سے بڑے ادیب کو اس کے مقابلے کی ہمت نہ ہوسکی کہ اس کی عظمت کے سامنے اپنا چراغ جلاسکے ۔

ادب کی طاقت کا پرتو تمام آسمانی کتابوں میں موجود ہے، بلکہ یہ تقاضا کیا گیا ہے کہ اس کےعلَم بردار ادب کی طاقت کو معرکۂ خیروشرمیں استعمال کریں۔ خود مدینہ منّورہ میں جب اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آیا اور بزم رسالت سجائی گئی تو آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ارشاد فرمایا:’’جنھوں نے اللہ اور رسولؐ کی مدد تلواروں سے کی ہے، آخر وہ شعر و ادب سے     اس مقصد ِخاص کی اشاعت کیوں نہیں کرتے؟‘‘ یہ سنتے ہی حضرت حسّان بن ثابت ؓ [م:۶۷۴ء] جو اپنے زمانے کے جلیل القدر شاعر تھے ،اُٹھے اور عرض کیا: ’’میں اس خدمت کے لیے حاضر ہوں‘‘ ۔ 
چنانچہ اس دور میں جب حق و باطل کی قوتیں نبر د آزماتھیں،اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ مخالفین کا سر نیچا کرنے کے لیے فن ہجو گوئی سے بھی کام لیا جائے۔عرب میں یہ صنف بہت زیادہ مقبول اور مؤثر تھی۔ اس وجہ سے مشرکین قریش کی ہجو شعراے اسلام نے لکھی۔ حضرت حسان بن ثابتؓ اس فن میں زیادہ دست گاہ رکھتے تھے۔ رسول اکرم ؐ نے ان کے بارے میںفرمایا کہ: ’’حسان کے اشعار مخالفین اسلام پرتیرسے کہیں زیادہ ضربِ کاری لگاتے ہیں‘‘۔ حضرت حسّان بن ثابت ؓ، کعب بن زہیرؓ [م: ۶۶۲ء] اور نابغتہ الجعدی [م: ۶۷۰ء] وغیرہ نے اپنے شعر و ادب سے اس عہد کی تحریکی ضرورتوں کو خوب خوب پورا کیا ہے۔

  • موثر ادب کی شرائط :مختصر یہ ہے کہ اسلامی تحریک جو دنیا کی دوسری تحریکوں کے مقابلے میں انسانی فطرت سے سب سے زیادہ قریب ہے،وہ کبھی بھی ادب کی خدمت سے محرومی  کی نادانی کا مظاہرہ نہیں کرسکتی۔ چنانچہ تحریک ادب اسلامی کی ضرورت و اہمیت کے سلسلے میں مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ایک تقریر کا حصہ پیش خدمت ہے،جو انھوں نے حلقہ ادب اسلامی لاہور کے اجلاس (۱۱ جولائی ۱۹۵۲ء) میں کی تھی۔ یہ تقریر وابستگانِ تحریک ِ اسلامی کے لیے ایک واضح نشانِ راہ ہے۔ مولانا مرحوم فرماتے ہیں :

اسلامی ادب صرف اس ادب کا نام نہیں جو گندگی سے پاک ہو، غیرنجس ہو اور صاف ستھرا ہو، بلکہ اسلامی ادب وہ ہے جو اسلام کے نظریے پر مبنی ہو۔ جن باتوں کو اسلام حق کہتا ہے، مسلم ادیب انھیں حق سمجھے او دوسروں پر ظاہر کرے اور انھیں منوائے۔ جو باتیں اسلام کے نزدیک باطل ہیں، مسلمان ادیب انھیں جھوٹ سمجھے، ان کے جھوٹ ہونے کا اظہار کرے اور انھیں جھوٹ ثابت کرے۔ اسلام جس نظامِ زندگی کو قائم کرنا چاہتا ہے، مسلم ادیب اس کے لیے ادب کے دائرۂ عمل میں سعی کرے۔
علمی لٹریچر کا مقصد ذہنوں کو تیار کرنا ہوتا ہے لیکن ادب دلوں کو مسخر کرکے انھیں حرکت پر آمادہ کرتا ہے، اس لیے ادب کو مؤثر ہونا چاہیے۔ اگر وہ قلوب کو متاثر نہیں کرتا اور ان میں جوش و ولولہ بھر کر انسانوں کو آمادۂ حرکت نہیں کرتا تو وہ بے روح اور بے جان ادب ہے۔
ادب کو مؤثر بنانے کے لیے سات چیزوں کی ضرورت ہے: 

  • ادب کو مؤثر بنانے والی پہلی چیز یہ ہے کہ ادب میں ابتذال [platitude] نہ ہو۔ مسلم ادیب اپنے آپ کو مبتذل [vulgar] اور پامال راہوں سے بچاتے رہیں۔ مسلم ادیب میں اُپچ ہونی چاہیے، اس کا ذہن نئی راہیں نکال سکتا ہو۔ جو ادیب پٹی ہوئی راہوں پر چلتے ہیں، وہ لوگوں کو بہت جلد تھکا دیتے ہیں۔
  • دوسری چیز یہ ہے کہ ادیب کی زبان عام فہم ہو۔ وہ گنجلک زبان اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے، جن سے ذہن آشنا نہ ہو۔ یہ کمزوری ان ادیبوں میں ہوتی ہے، جو غیر زبان میں پڑھتے اور سوچتے ہیں اور اپنی زبان میں ترجمہ کرتے ہیں۔ لیکن مناسب الفاظ نہ پاکر انھیں گھڑتے ہیں۔ ایسے ادیبوں سے لوگوں کے ذہن مانوس نہیں ہوتے اور وہ ایک اجنبیت سی محسوس کرتے ہیں۔ 
  •    تیسری چیز پختگی فکر ہے۔ مسلم ادیب کو اَدھ کچرے خیال ظاہر نہیں کرنے چاہییں، بلکہ انھیں اپنی فکر خوب اچھی طرح سلجھا لینی چاہیے۔ سلجھی ہوئی فکر، زبان اور اسلوبِ بیان میں کسی قسم کی پیچیدگی پیدا نہیں ہونے دیتی۔
  • چوتھی چیز یہ ہے کہ ادیب کی معلومات وسیع ہوں۔ اس کے بغیر ادیب نہ تو کوئی کام کی بات کہہ سکتا ہے، نہ دوسرے لوگوں پر اثرڈال سکتا ہے۔ اس کا سینہ اتھلے کنوئیں کی طرح ہوتا ہے جس کا ذخیرہ بہت جلد ختم ہوجاتا ہے۔ادیب کی معلومات جس قدر وسیع ہوں گی،اتنی ہی مؤثر بات وہ کہہ سکے گا۔ اس لیے اسلامی ادیبوں کو تاریخ، فلسفے وغیرہ کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔
  • پانچویں ضروری چیز ادیب کی قوتِ استدلال ہے۔ جس طرح علمی مضامین میں استدلال سے کام لینا پڑتا ہے، اسی طرح ایک ادیب اور ایک شاعر کو بھی استدلال کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن ادیب اور شاعر کا اندازِ استدلال منطقی ہونے کے بجاے شیریں اور دل کش ہوتا ہے۔ اس استدلال ہی سے وہ قاری سے اپنی بات منوا لیا کرتا ہے۔ استدلال کے بغیر ادب مؤثر نہیں ہوتا۔
  • چھٹی چیز یہ ہے کہ ادیب میں خلوص ہو۔ جو ادیب مخلص ہوتا ہے، اُس کے الفاظ اُس کے احساسات اور خیالات کے عین مطابق ہوتے ہیں۔اگر وہ اپنے احساسات کے خلاف کہنا بھی چاہے تو اس کی زبان اور قلم اُس کا ساتھ نہیں دیتے۔ مسلم ادیب حقیقی جذبات اور احساسات کے مطابق زبان اور قلم سے کام لیتا ہے جس سے اس میں بے پناہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے۔
  • ساتویں چیز یہ ہے کہ ادیب کی زندگی اس کے خیالات کے مطابق ہو۔ جو لوگ کہتے کچھ اور کرتے کچھ ہیں، میرے نزدیک ان سے زیادہ فضول آدمی کوئی نہیں۔ ایسے لوگوں نے دُنیا میں کوئی کام نہیں کیا۔ سیرت و کردار ہی بیان اور قلم میں زور پیدا کرتا ہے۔ کردار سے خالی گفتار بے اثر چیز ہے۔ کوئی اسلامی ادیب اس ابوالفضولی میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔(سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، تصریحات، ص ۵۹-۶۱)
  • عہد حاضر کے ادبی تقاضے :مولانا مودودی کا یہ فکر انگیز بیان نہ صرف موجودہ حالات میں شعرو ادب کی اہمیت پر دلالت کرتا ہے، بلکہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ اگر ہم اب بھی اس طرف متوجہ نہ ہوں گے تو ابلاغ عامّہ کے جدیدوسائل ریڈیو،ٹیلی وژن اور اخبارات ورسائل پر باطل پرستوں کانہ صرف قبضہ برقرار رہے گا، بلکہ وہ اپنے ڈراموں ،نغموں ،حتیٰ کہ خبروں اور   ان پر تبصروں کے ذریعے اسلام دشمنی، الحادوبے دینی اور عریانی وفحاشی کے فروغ میں کوشاں رہیں گے اور ہم ان کا کوئی توڑ نہ کرسکیں گے۔ لہٰذا، اب بھی موقع ہے کہ ہم اپنے ادبی محاذکی اہمیت سمجھیں اور نہ صرف اُسے اپنا ہر طرح کا تعاون پیش کریں بلکہ ہمارے اہل فکروفن نوجوان اس میدانِ علم و دانش میں قدم رکھیں اور تمام اصنافِ ادب میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے نئی نئی راہیں تلاش کریں۔

تحریک ادب اسلامی سے وابستہ قلم کاروں کو ایک بار پھر اپنے عہد کے ادبی و تحریکی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے برسرِپیکار ہوناہے۔انھیں اُسی خلوص،جذبے اور نیّت سے قلم اُٹھانا ہے، جس نیت سے وہ مسجد میں نماز کے لیے، یا میدان میں جہاد کے لیے داخل ہوتے ہیں، کیوںکہ ان کا ادب عبادت کے لیے وقف ہے۔ 
اسی کے ساتھ دوسری اہم چیز’فن‘ ہے۔ادب میں فن کی کمزوری خلوصِ نیت اور جذبۂ نمود سے بے نیازی کا بدل نہیں بن سکتی۔ ہماری فنّی کو تاہیاں، مقصد و نصب العین کی خدمت کے بجاے اس کا وزن کم کر نے کا موجب ہوسکتی ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کن کن الفاظ کا استعمال کس کس جگہ مفید ہے کہ جس سے ہم اپنا راستہ نکال سکیں ۔الفاظ، ادیب کے لیے آلات کار ہیں۔ ان آلات کا مناسب اور بر محل استعمال ہی ایک سپاہی کو میدان جنگ میں کامران کرتا ہے۔ لہٰذا، موجودہ معاشرے کو رائج الوقت الحادی اور لادینی ادب کے پنجے سے نکال کر اپنے تحت لانے کے لیے ہمیں شدید محنت اور فنّی ریاض کرنا ہوگا۔
اس سلسلے کی تیسری اہم ترین چیز مطالعے کی وسعت ہے۔ موجودہ ادب اور اس کے سرچشمے کو اچھی طرح جانے بغیر ان پرغلبہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ماضی و حال کے تمام ادب، مختلف مادّی افکار ونظریات اور عقائدومذاہب کا تنقیدی وتقابلی مطالعہ ضروری ہے۔ اس سے فن میں گہرائی وگیرائی پیدا ہوتی ہے، ادبی رسوخ بڑھتا ہے، تخلیق کو عمر دوام نصیب ہوتی ہے ۔
چوتھی چیزجو ہمیشہ دل ودماغ میں تازہ رکھنے کی ہے ،وہ یہ کہ ہمیں بہرحال ایک نصب العین کی خدمت کرنی ہے اور ایک مقصد کو فروغ دینا ہے ۔چنانچہ اگر ہماری کوئی ایسی چیز میدانِ ادب میں آئے کہ جو اس نصب العین کو تقویت کے بجاے اس کی تذلیل اور سبکی کا باعث ہو، تو یہ خود اس نصب العین کو نقصان پہنچانے کا باعث ہوگا۔ لہٰذا، یہ کوشش بھی ہونی چاہیے کہ ہمارے ادبی محاذ پر کوئی ایسی چیز نہ آنے پائے جو اجتماعی نصب العین کو نقصان پہنچانے والی ہو ۔
 آخری بات یہ ہے کہ ادب میں الحاد وبے دینی کے غلبے اور فحاشی وبے حیائی کے سیلاب کو روکنے کے لیے منظّم جدّوجہد کا عزم اسلامی فنکاروں اور ادیبوں کا فرض ہے۔ہمارا کام یہ ہے کہ اس محاذ پر اپنی قوتوں کو ترقی دیتے ہوئے منظم کریں۔ جس محاذ پر جاہلیت کے کارندوں نے جاہلی ادب کے پہاڑ کھڑے کر رکھے ہیں، وہاں ہم حقائق کے پیکر تراش کر سامنے لائیں اور اس طرح اپنی اجتماعی کوششوں کے ذریعے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں، جس سے ادبی جاہلیت کا غلبہ ختم ہو، اور انسانی فطرت کے صحیح رجحانات کی حفاظت اور نشوونما ہو۔