جنوری ۲۰۱۹

فہرست مضامین

وراثت کے بارے!

سیّدابو الاعلیٰ مودودی | جنوری ۲۰۱۹ | ۶۰ سال پہلے

قریب ترین رشتہ داروں کے حق [وراثت] ادا ہوچکنے کے بعد، یا ان کی غیرموجودگی میں حقِ میراث ان قریب تر جدی رشتہ داروں کو پہنچے گا، جو ایک آدمی کے فطرتاً پشتی بان اور حامی و ناصر ہوتے ہیں۔ یہی معنی ہیں ’عصبات‘ کے ، یعنی آدمی کے وہ اہلِ خاندان جو اس کے لیے تعصب کرنے والے ہوں۔ اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو پھر یہ حق ’ذوی الارحام‘ (رحمی رشتہ داروں،مثلاً: ماموں، نانا، بھانجے اور بیٹی یا پوتی کی اولاد) کو دیا جائے گا۔ یہاں بھی نہ تو قائم مقامی کا اصول کام کرتا ہے اور نہ یہ اصول کہ جو محتاج اور قابلِ رحم ہو اس کو میراث دی جائے، بلکہ قرآن کے بتائے ہوئے چاراصول اس معاملے میں کارفرما ہیں: 

  • ایک یہ کہ قریب ترین کے بعد حصہ قریب تر کو پہنچے گا اور قریب تر کی موجودگی میں بعید تر حصہ نہ پائے گا (مِـمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْاَقْرَبُوْنَ)
  • دوسرے یہ کہ ’غیر ذوی الفروض‘ کو وارث قرار دینے میں یہ دیکھا جائے گا کہ میت کے لیے نفع کے لحاظ سے قریب تر ، یعنی اس کی حمایت و نصرت میں فطرتاً زیادہ سرگرم کون ہوسکتے ہیں (اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ  نَفْعًا)۔
  • تیسرے یہ کہ عورتوں کی بہ نسبت مرد فطرتاً عصبہ ہونے کے زیادہ اہل ہوتے ہیں۔ اسی لیے قرآن ماں اور باپ میں سے عصبہ باپ کو قرار دیتا ہے اور اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’فرض حصے ادا کرنے کے بعد مابقی ترکہ قریب ترین مرد کو دو‘۔ لیکن بعض حالات میں عورت بھی عصبہ ہوسکتی ہے، مثلاً یہ کہ میت کی وارث بیٹیاں ہی ہوں اور کوئی مرد عصبہ موجود نہ ہو، تو بیٹیوں کا حصہ فرض ادا کرنے کے بعد مابقی میت کی بہن کو دیا جائے گا، کیوںکہ وہ اس کی پشتی بان ہوتی ہے۔
  •  چوتھا اصول قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے کہ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ   (رحمی رشتہ داراجنبیوں کی بہ نسبت ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں)۔ اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَلْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ  لَہٗ  (جس کا کوئی اور وارث نہ ہو اس کا وارث اس کا ماموں ہے)۔

یہ ہیں تقسیمِ میراث کے اسلامی اصول، جن کو سمجھنے میں کوئی ایسا شخص غلطی نہیں کرسکتا، جس نے کبھی قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہو اور اس کے مضمرات پر غور کیا ہو۔ (’یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۴، جنوری ۱۹۵۹ء، ص۳۴-۳۵)