جنوری ۲۰۱۹

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| جنوری ۲۰۱۹ | مدیر کے نام

ایچ  عبدالرقیب ،انڈین سنٹر فار اسلامک فنانس، نئی دہلی

اشارات: ’مدینہ کی ریاست، حکومت کے لیے رہنمائی‘ (دسمبر۲۰۱۸ء)سے مدنی معاشرے کے   کئی نئے پہلو سامنے آئے ہیں،جس کے لیے پروفیسر خورشید احمد شکریے کے مستحق ہیں۔نبی اکرمؐ کی قیادت میں مدینہ منورہ میں مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہوا تھا۔ اس عظیم الشان اسلامی ریاست کی پانچ اہم مضبوط اور منظم بنیادیں تھیں: مذہبی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اور معاشی۔ معاشی خوش حالی اور مادی ترقی کے لیے مدینہ مارکیٹ کا قیام اور اس کا انتظام وانصرام، سیرتِ نبویؐ کا ایک تاب ناک باب ہے، جو عام طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ اس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مدینہ میں یہودیوں کے بازار میں استحصال اور اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے مسجد نبویؐ کے قریب ہی مارکیٹ قائم کی اور فرمایا: اَلْجَالِبُ اِلٰی سُوْقِنَا کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ  [مستدرک حاکم، کتاب البیوع، حدیث: ۲۱۶۷] ’’جو ہماری مارکیٹ میں خرید و فروخت کرے گا وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے‘‘۔ میری کتاب ہندستان میں اسلامی معاشیات اور مالیات: موانع اور مواقع میں اس موضوع پر ایک تفصیلی مضمون شامل ہے اور اسلامی ریاست کے معاشی استحکام کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔


آئی اے فاروق   ، لاہور

 ’مدینہ کی ریاست‘ کے حوالے سے یہ نکتہ نمایاں کرنا ضروری تھا کہ وہاں سود سے پاک معیشت کا نفاذ ہوا۔


ڈاکٹر طاہر سراج ، ساہیوال

دسمبر کے ’اشارات‘ نہایت مختصر، حددرجہ مؤثر ، بہت جامع اور دل پذیر ہیں۔


راجا محمد عاصم  ، کھاریاں

’۶۰ سال پہلے‘ میں مولانا مودودیؒ کی تحریر’’اگر خدا کا خوف نہ ہوتا…؟‘‘ ایک داعی کے لیے کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے رہنما اصول بیان کرتی ہے۔


 زرتاج حسین ، اسلام آباد

ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے نام نہاد روشن خیالوں اور قادیانیوں کی ’تاریخ سازی‘ اور گمراہی پھیلانے کی کوششوں کو نہایت مدلل انداز سے بے نقاب کیا ہے۔ آج کل پاکستانی ذرائع ابلاغ کی حالت زار دیکھ کر لگتا ہے کہ تاریخ پاکستان کا مقدمہ بھی ترجمان القرآن ہی کو پیش کرنا چاہیے کہ دوسری جگہیں بے جا تعصب کی نذر ہوچکی ہیں۔


حاشر فاروقی، لندن

ڈاکٹر تحسین صاحب کی پُرشکوہ اور شان دار تحریر کی اشاعت پر ادارے اور مصنف کے لیے مبارک باد !


پروفیسر عبدالقادر خاں ، سرگودھا

جناب تحسین فراقی نے بلاشبہہ بہت عمدہ ’عالمِ آشوب‘ لکھا ہے، جو ان کی وسعت ِ مطالعہ، قدرتِ اظہار اور شان دار ابلاغ کی مثال ہے۔ ایسے عالی شان مضامین کی اشاعت پر مبارک باد قبول کیجیے۔


عبدالملک    مجاہد، شکاگو

ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کا مضمون: سبحان اللہ، کیا خوب صورت اُردو ہے اور کیا بلند خیال۔  بہت سادگی سے، زمان و مکان کے پھیلائو اور زیربحث موضوع کو حیرت انگیز طور پر پیش کیا ہے۔ اللہ کرے ترجمان کے قارئین اس خوب صورت اُردو اور شان دار مباحث سے لطف اندوز ہوسکیں۔


ڈاکٹر نواز حسین ، ریاض

علّامہ محمد اسد کا بلاخوف و خطر دوبارہ موت کے منہ میں جاکر دارالاسلام کے مکینوں کو لانے کا واقعہ بڑا ایمان افروز ہے، اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے مظلوم خواتین کی قربانی کا ذکر ہلا دینے والا تازیانہ ہے۔


سلیم منصور خالد 

علّامہ محمد اسد کے حددرجہ قیمتی مضمون کے حوالے سے جب تفصیلات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا ہے کہ اسدصاحب لاہور سے جو تین بسیں لے کر دارالاسلام گئے تھے، ان میں: چودھری نیاز علی خاں صاحب، عبدالجبار غازی صاحب اور دارالاسلام میں محصور خواتین (جن میں مولانا مودودی کی والدہ، اہلیہ اور بچے بھی شامل تھے، انھیں لے کر) پاکستان آئی تھیں، جب کہ مولانا مودودی نے علّامہ اسد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’جب تک ہمارے ہاں پناہ لینے والے تمام لوگ یہاں سے محفوظ جگہ نہیں منتقل ہوجاتے، میں کہیں نہیں جائوں گا‘‘۔ اسی لیے وہ اس قافلے میں نہیں آئے بلکہ بعد میں ۳۰؍اگست ۱۹۴۷ءکو پاکستان پہنچے تھے۔


فہیم احمد  میر، کشمیر 

محمدبشیرجمعہ صاحب کا مضمون: ’عملی زندگی میں تنظیم‘ (نومبر ۲۰۱۸ء)بہت ہی کارآمد ثابت ہوا۔   


ریاض احمد شاہ ، ای میل

 ترجمان القرآن حق کا داعی اور رہنما مجلّہ ہے جو بڑی کامیابی سے لاکھوں دلوں کو حق کا راستہ اور استقامت کا درس دیتا ہے۔ تاہم، اکتوبر۲۰۱۸ء کے شمارے میں ’ہندو آر ایس ایس اور اخوان المسلمون ؟‘ مضمون میں ایک اسلامی تحریک اور ایک فاشسٹ تنظیم کے فرق پر سیرحاصل بحث نہیں ہوسکی۔