جنوری ۲۰۲۱

فہرست مضامین

اسلام اور مسلمانوں پر متعصبانہ اصطلاحاتی حملہ

وحید مراد | جنوری ۲۰۲۱ | اسلام اور مغرب

عصرحاضرکے پاور اسٹرکچر میں عسکری، معاشی اور علمی طاقت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی طاقت کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ روایتی جنگیں مخصوص اوقات اور مقامات پر لڑی جاتی تھیں، لیکن آج کے دور کی جنگیں ہر وقت اور ہر مقام پر لڑی جا رہی ہیں۔ ان جنگوں میں سائنس و ٹکنالوجی کے علاوہ میڈیا بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ عسکری طاقت جہاں انسانوں کا وجود مٹانے کے لیے استعمال ہورہی ہے وہاں میڈیا کی طاقت کو انسانوں کے اذہان اور اعتقاد کو تبدیل کرنے کے لیے  استعمال کیا جاتا ہے۔ لوگوں کے نظریات اور خیالات تبدیل کرنے کے لیے میڈیا ایک ایسی جنگ مسلط کرتا ہے، جس کی حقیقت کو جاننا بہت مشکل، لیکن بہت ضروری ہے۔

پچھلے چند عشروں میں مغربی میڈیا نے شناخت کے خلاف ایک ایسی جنگ چھیڑی ہے، جس کے متاثرین میں صرف دین اسلام کے پیروکار ہیں۔ اسلام دشمنی میں بڑے پیمانے پر ہیجان اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ، میڈیا ایک ذریعے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ میڈیا پر جرائم اور دہشت گردی کی رپورٹنگ کرتے وقت اسلامی اصطلاحات کو اس طرح استعمال کیا جاتا ہے کہ اسلام کے بارے میں ایک منفی تاثر پیدا ہو۔ ان اصطلاحات کو دینی و مذہبی سیاق و سباق سے ہٹا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ان کے اصل معنی و مفہوم پس منظر میں چلے جائیں اور میڈیا کے ذریعے تخلیق کردہ نئے معنی مقبول ہو جائیں۔ اسی طرح مسلمانوں کے خلاف خوف پھیلانے کے لیے، میڈیا پر جو گمراہ کن بیان بازی اورغلط بیانی کی جاتی ہے اسے عرف عام میں ’اسلاموفوبیا‘ کہتے ہیں۔

  • مغربی میڈیا کا تعصب: میڈیا ہاؤسز کے ذریعے پھیلائے جانے والے 'عمومی تصور اسلام میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ’’اسلام کے تمام ماننے والے ایک ہی طرح کے ہوتے ہیں‘‘۔جس کا اصل مقصد مغرب میں مسلمانوں کو معاشرے سے کاٹ کر الگ کرنا، دیوار سے لگانا اوردنیا بھر کے مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ اسلام کا یہ عمومی تصور مغرب کے اورینٹل ازم یا مستشرقیت کی تخلیق ہے، جو 'غیرمغرب ثقافتوں کو مغرب سے متضاد اور متصادم دکھاتا ہے۔ اس اورینٹل ازم پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں کو اجنبی، عجیب، پس ماندہ اورغیر معقول گروہوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ کسی مسلمان کے جرم میں ملوث پائے جانے پر کیا جاسکتا ہے، جب کہ مسلمانوں کی اکثریت اس کے جرائم سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہو لیکن پھر بھی پوری امت مسلمہ کو زبردستی اس فرد کے جرم سے جوڑا جائے۔

اسلام کے اندر کئی مکاتب فکر، متنوع آبادیاںاور بے شمار ثقافتوں کے حامل افراد و گروہ موجود ہیں،جنھیں بنیادی عقائد اور ایمان کے حوالے سے تو ایک امت مسلمہ کہا جا سکتا ہے، لیکن ہرحوالے سے انھیں ایک عمومی شناخت کے اندر نہیں لایا جا سکتا۔ دنیا کے کسی اصول کے تحت بھی کسی ایک فرد یا افراد کے ایک گروہ کے اعمال کے ذمہ دار دیگر تمام افراد قرار نہیں دیے جاسکتے۔ لیکن اسلام کے تمام پیروکاروں کو ایک عمومی شناخت دیتے ہوئے، میڈیا جب کسی فرد یا چند افراد کے اعمال کا ذمہ دار پوری امت کو ٹھیراتا ہے تو یہ تمام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ملزم کی مذہبی شناخت پر بھی حملہ ہوتاہے۔

مثال کے طور پر نیویارک میں نائن الیون حملے کے چھے ماہ کے اندر مغربی میڈیا میں شائع ہونےوالے تمام مضامین اورخبروں میں حملہ آوروں کی شناخت مسلم کے طور پر بتائی گئی۔ اس عمل سے میڈیا نےاپنے وسائل اور اثر ورسوخ کی وسعت کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے تنوع اور امتیازات کو نظر انداز کرکے چند افراد کے جرم کو پوری امت مسلمہ کے سر پر ڈال دیا گیا۔ اس ’جنرلائزیشن‘ یا ’عمومیت‘ سے دانستہ طور پر متعدد منفی نتائج پیدا کیے گئے، لیکن ان میں سے سب سے اہم منفی نتیجہ ’اسلاموفوبیا‘ ہی ہے۔

 پروفیسر رضا اصلان نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ جب آپ لوگ ڈیڑھ ارب سے زیادہ افراد کے مذہب کی بات کرتےہیں تو ان مسلمانوں کو ایک ہی برش سے رنگتے ہیں جو بہت آسان کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی مذہب نہ پُرامن ہوتا ہے اور نہ پُر تشدد۔ یہ سب تو کسی فرد یا چند افراد کا ذاتی فعل اور رویہ ہوتا ہے، جو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوسکتے ہیں۔ جس طرح کسی عیسائی، یہودی، ہندو یا بدھ مذہب کے ماننے والوں کے کسی فعل کا ذمہ دار ان کا مذہب نہیں، اسی طرح کسی مسلمان کے فعل کا ذمہ دار بھی اس کا مذہب نہیں ہو سکتا۔ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہر نظریہ اور عقیدہ کے ماننے والے کرتے ہیں، تاہم میڈیا مذہبی پس منظر کا ڈھول صرف اس وقت پیٹتا ہے، جب کوئی ملزم یا مجرم مسلمان ہوتا ہے۔ اگر یہی شخص کسی دوسرے مذہب کا ماننے والا ہو تو اس کی مذہبی شناخت نہیں بتائی جاتی اور نہ اس پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ مثلاً دسمبر ۲۰۱۴ء میں امریکا کے سینڈی ہوک اسکول، نیو ٹاؤن میں حملہ آور سفید فام کیتھولک عیسائی تھا اور اس نے ۲۰ بچوں کو قتل کیا تھا لیکن میڈیا نے اس کی مذہبی شناخت اور پس منظر پر کوئی سوال نہیں اٹھایا‘‘۔

 مغربی میڈیا کے تعصب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ اس غلط فہمی کو تو پھیلا تا ہے کہ مسلمان حملہ آور ہیں، جن کا شکار دیگر لوگ ہیں۔ لیکن یہی میڈیا کبھی یہ نہیں بتاتا کہ کسی حملے کے نتیجے میں متاثر ہونے والوں میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ مثلاً جس روزپیرس میں داعش نے تخریبی کارروائی کی، اسی روز بیروت میں بھی ایک بم دھماکے میں ۴۳؍ افراد جاں بحق ہوئے جو تمام مسلمان تھے۔ بیروت کے واقعہ کا تذکرہ تو میڈیا میں کیا گیا لیکن اس کی تشہیر کی وہ سطح نہیں تھی جو پیرس میں ہونے والے المیے کی تھی۔ دوسری بات یہ کہ پیرس کے حملوں میں بار بار یہ بتایا جا رہا تھا کہ ’’حملہ آور، مذہب اسلام کے پیروکار تھے‘‘ لیکن بیروت کے مرنے والوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ بھی اسلام کے ماننے والے تھے۔ میڈیا رپورٹس میں غیر مسلموں کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کے احترام کو نہیں۔ یہ رویہ’ اسلاموفوبیا ‘کے پھیلاؤ میں مدد فراہم کرتا ہے۔

نائن الیون کے بعد فورٹ ہڈ شوٹنگ، متعدد ائیرپورٹس پر دھماکے اور بوسٹن میراتھون بمبنگ، فرانس کے چارلی ہیبڈو حملے وغیرہ جیسے واقعات کو ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ توجہ ملی۔ یہاں مشتبہ افراد کی شناخت مسلمان کے طور پر بتائی گئی ،حالانکہ ملزمان کی مذہبی شناخت اور پس منظر کو اُجاگر کرنا خبر کا تقاضا نہیں تھا۔ اگر مذہبی شناخت کو بیان کرنا خبر کے لیے ضروری ہوتا تو دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گرد ی میں بھی ان کی مذہبی شناخت بتائی جاتی لیکن ایسا ہرگز نہیں کیا جاتا۔

اسی طرح اگر کوئی شخص جان دے کر دہشت گردی کی کارروائی کو روکنے کی کوشش کرے تو اس کی شناخت بھی نہیں بتائی جاتی، جیسے ۶جنوری ۲۰۱۴ءکو پاکستان کے ابراہیم زئی اسکول میں جب ایک خودکش بمبار نے اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی، تو پندرہ سال کے ایک طالب علم اعتزاز حسن بنگش نے دیکھتے ہی اس پر چھلانگ لگا دی۔ اعتزاز حسن کی جان کی قربانی سے سیکڑوں طالب علموں کی جانیں محفوظ رہیں۔ میڈیا کو چاہیے تھا کہ اعتزاز حسن کا مذہبی پس منظر بیان کرتا اور بتاتا کہ اسلام کے ایک پیروکار نے جان دے کر خود کش بمبار کے دھماکے کی وسیع تباہی کو کیسے ناکام بنایا۔ لیکن مغربی میڈیا نے اس کی مذہبی شناخت کا اظہار تو درکنار اس کی قربانی کا اعتراف کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اس سے میڈیا کا تعصب واضح ہوتا ہے کہ وہ صرف ان واقعات کو ہی اُجاگر کرتا ہے ،جو اس کے پروپیگنڈے کی حمایت اور ’اسلاموفوبیا‘ کے لیے دلیل کے طورپر پیش ہو سکتے ہیں۔

اسلام سے وابستہ امور کی میڈیا کوریج، اس صدی کے آغاز سے ہی مقدارو معیار کےلحاظ سے، ڈرامائی انداز میں تبدیل ہو چکی ہے۔ امریکا کے زیر قیادت ’وار آن ٹیرر‘ (دہشت گردی کے خلاف جنگ) کےدوران پوری دنیا میں سب سے زیادہ پھیلایاجانے والا گمراہ کن تصور یہ ہے کہ ’’امت مسلمہ انسانیت کی ایک باغی جماعت ہے۔ مسلمان ہونے کا لازمی مطلب عسکریت پسند یا دہشت گرد ہونا ہے، کیونکہ مذہب اسلام دہشت گردی کی نمایندگی کرتا ہے‘‘۔

مغرب سمیت دنیا بھر میں اس موضوع پر ہونے والی تحقیقات اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسلام سے متعلق خبروں کی اشاعت و تشہیر (coverage) کے دوران استعمال کی جانے والی اسلامی اصطلاحات کی، ابلاغی اداروں کی تعبیر سے اسکالراور مذہبی ماہرین اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے، جب ان اصطلاحات کو ان کے اصل مفہوم کی پروا کیے بغیر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں یہ اصطلاحات اپنے اصل معنی کھو کر میڈیا کی تعبیر کا رُوپ دھار لیتی ہیں، اور لوگ اصل مفہوم پر غور کیے بغیر میڈیا کے تخلیق کردہ مطالب کو درست مان لیتے ہیں۔

  • متعصبانہ اصطلاحات __ ایک تحقیقی جائزہ: ان اصطلاحات کے مطالعے پر ایک تحقیق ملائیشین تحقیق کاروں زین بانی یونس اور اسحاق حسن نے پیش کی ہے۔ انھوں نے عرب میڈیا سے 'اُردن ٹائمز اور 'الجزیرہ اور مغربی میڈیا سے 'بی بی سی اور 'دی گارڈین کا انتخاب کیا۔ ان اداروں کے ۲۰۱۸ءسے لے کر ۲۰۱۹ءتک کے ۳۶۸مضامین جمع کیے گئے، جن میں یہ اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ اس تحقیقی مطالعے کی خاص توجہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں رہی ہے کہ مشرقی و مغربی ذرائع ابلاغ ’دہشت گردی‘ وغیرہ کو اسلام کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے ، اصل سیاق و سباق کو نظر انداز کرتے ہوئے اسلامی اصطلاحات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ ’مشرقی میڈیا‘ کی نسبت مغربی میڈیا میں ’اسلام پسندی‘ اور’جہاد‘ کی اصطلاحات کو منفی سیاق و سباق میں زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ان محققین کا استدلال ہے کہ اسلام سے متعلق اصطلاحات کو منفی معنوں میں بیان کرنے سے مسلمانوں کے بارے میں ایک تعصب اور نفرت ابھارنے کا عمل تقویت پاتا ہے۔ نائن الیون کے بعد میڈیا نے اسلام سے متعلق خبروں پر جن مختلف اصطلاحات کوتخلیق کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ توجہ دی ہے، ان میں ’اسلامی دہشت گردی‘، ’اسلامی جنونیت‘، ’مسلم انتہا پسندی‘ اور ’سیاسی اسلام‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اسلام کو بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے ساتھ منسلک کرنے کے رجحان کے ساتھ جب کسی خبر کی تفصیل میں اس قسم کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں، تو وہ میڈیا کے متن کا ایک حصہ بن جاتی ہیں۔ اور ان کی غلط تعبیر پیش کرنے کے نتیجے میں میڈیا، اسلام کے بارے میں گمراہ کن تصورات اور ایک منفی منظر کشی کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

بہت سی تحقیقات میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ میڈیا میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دی جانے والی خبروں میں جو زبان استعمال کی جاتی ہے، وہ بھی زیادہ تر مسخ شدہ ہوتی ہے۔ یہ تحقیقات زیادہ تر امریکا، برطانیہ اور یورپی میڈیا کے بارے میں کی گئی ہیں۔ سلطان(۲۰۱۶ء) نے ایک تحقیق میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ مغرب میں پایا جانے والا ایسا بے شمار مواد دستیاب ہے جو اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ حقائق کو مسخ شدہ انداز سے پیش کرکے اسلام کی منفی تصویر کشی کی گئی ہے۔ میڈیا نے جو نظریات اور خیالات اسلام سے منسوب کیے ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کاحصہ معلوم ہوتے ہیں۔

سمیع اور مالمیر(۲۰۱۷ء) نے ایک تحقیق میں یہ مطالعہ پیش کیا ہے کہ امریکی میڈیا میں ۲۰۰۱ء سے لے کر ۲۰۱۵ء تک جو نیوز اسٹوریز شائع ہوئیں، ان میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں لکھے گئے ۶ لاکھ ۷۰ہزار الفاظ میں اسلام اور مسلمانوں کو ’بنیاد پرست‘ اور ’عسکریت پسند‘ پیش کرتے ہوئے ان نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا کہ ’اسلام اور مسلمان تشددپسند‘ ہوتے ہیں۔

بیکر، گیبریلاٹوس اور میکنیری (۲۰۱۳ء) نے برطانیہ میں۱۹۹۸ء سے لے کر ۲۰۰۹ء تک شائع ہونے والے ساڑھے چودہ کروڑ الفاظ پر مشتمل مختلف مضامین کا تجزیہ کیا، جن میں  قومی و نسلی شناخت، مختلف ثقافتی و مذہبی امور، کمیونٹیز، گروہوں اور تنازعات کے بارے میں متضاد خیالات و تصورات پر مبنی حوالہ جات تھے۔ مسلم دنیا اور مسلم معاشروں اور مغرب کے درمیان پائے جانے والے امتیازات و اختلافات کو اسلام اور مغرب کے تصادم کے طورپر پیش کیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے بارے میں یہ تصور پیش کیا گیا کہ’’ یہ 'ذرا ذرا سی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں اور بڑے تصادم کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘‘۔ مسلمانوں کی جو شکل پیش کی گئی، اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ’’مسلمان دہشت گردوں کے لیے ہمدردری اور نرم گوشہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ معاشی طورپر پس ماندہ اور قدامت پسند ہیں‘‘۔ ان مضامین میں مسلمانوں کو جس طرح پیش کیا گیا، اسے پڑھنے کے بعد مسلم معاشروں اور مسلمانوں میں یقینی طورپر جذباتی تناؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

سعید(۲۰۰۷ء) نے ایک تحقیق میں استدلال کیا کہ ’’برطانوی میڈیا میں مسلمان شہریوں کو غیر ملکی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے‘‘۔ میڈیا کی اس غلط بیانی کا تعلق ’اسلاموفوبیا‘ سے ہے، جس کی جڑیں ثقافتی اختلافات میں ہیں۔ اس تحقیق نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ’’مغرب میں اگر کوئی غیر مسلم تشدد کرتا ہوا نظر آئے، تو اسے ’گھریلو تشدد‘ قرار دے کر انفرادی مسائل اور پریشانی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جب کہ یہی تشدد اگر کسی مسلمان کے ہاتھ سے وقوع پذیر ہو، تو اسے اسلامی اور عالمی دہشت گردی کے گروپوں سے جوڑا جاتا ہے۔ اس طرح کی متعصبانہ رپورٹنگ سے میڈیا ویورز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور اسلام کے بارے میں گمراہ کن خیالات کی اشاعت کو فروغ ملتا ہے‘‘۔

اسلام سے متعلق سب سے زیادہ استعمال ہونے والی اصطلاحات ’اسلام پسند‘،’قدامت پسند‘، ’جنگ جو‘ ، ’انتہا پسندی‘، ’دہشت گردی‘، ’تشدد‘ اور’عسکریت پسندی‘ ہیں۔ ان میں ’اسلام پسند‘ کی اصطلاح 'دہشت گردی کے مترادف ہے اور ’دہشت گردی‘ کے تناظر میں لکھے گئے تمام مضامین میں اس کو اسی مفہوم میں پیش کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر جون ۲۰۱۸ء کو بی بی سی کی ایک رپورٹ میں اصل خبر کا یہ نتیجہ اخذ کرکے بتایا گیا کہ ’’ سیکورٹی اداروں کی توقع ہے کہ اسلام پسند دہشت گردی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے اور کم از کم دو مزید برسوں تک اس کی شدت کی سطح برقرار رہے گی‘‘ (دہشت گردی کی حکمت عملی، ۲۰۱۸ء،ص۳)۔ اسی طرح روزنامہ دی گارڈین ،لندن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’ایک عالمی انتہا پسند تحریک جو اَب بھی جاری ہے، اس سے دنیا کو خطرات لاحق رہیں گے‘‘ ( برک ۲۰۱۹ء، ص۱)۔ ان رپورٹوں کے متن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ میں ’اسلام پسند‘ کا لفظ 'دہشت گرد کے طورپر استعمال ہوتا ہے۔ ۳جون۲۰۱۸ء کو دی گارڈین نے ایک خبر دی کہ ’’برطانیہ کو اسلام پسندوں کی اسلامی دہشت گردی سے سخت خطرے کا سامنا ہے‘‘ (پریس ایسوسی ایشن، ۲۰۱۸ء، ص۱) یعنی ’’اسلام، امن کے لیے خطرہ ہے‘‘۔

ایک اور مسئلہ ’اللہ اکبر‘ کی اصطلاح کو نامناسب ہدف بنانے کا بھی ہے۔ مسلمانوں کے ہاں یہ مقدس الفاظ ہیں، جب کہ مغربی میڈیا اس اصطلاح کو ایک ایسے نعرے کے طورپر پیش کرتا ہے، جسے دہشت گردی کی کارروائی کرنے والے لوگ اپنے ہدف سے نفرت کے اظہار کےطورپر لگاتے ہیں۔ مقدس الفاظ کو نفرت کے اظہار کے طورپر پیش کرنا ایک شدید غلط فہمی اور گمراہی کا نتیجہ ہے۔ مثلاً الجزیرہ نے ایک چینی سیاسی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’انھوں نے جہادمیں شہادت اور جنت کے حصول کے وقت نفرت انگیز الفاظ اونچی زبان میں دہرائے‘‘ (China Says 2019, p.3)۔

جیکبسن(۲۰۱۲ء) نے ایک تحقیق میں استدلال کیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے صرف باہر سے حملے نہیں کیے جا تے بلکہ مسلمانوں کے معاشروں اور مسلمان ناموں والوں کے ہاتھوں بھی حملے کرائے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کی غرض سے مسلمانوں میں سے ہی کچھ ایسےلوگ تیار کیے گئے ہیں جو مغرب کی ایما پر اپنے آپ کو ’اعتدال پسند‘، ’جدید‘ یا ’لبرل‘ مسلمان کہتے ہیں۔ ان اصطلاحات کے استعمال کا مقصد بالواسطہ طور پر عوام کو یہ باور کرانا ہوتاہے کہ اسلام کا ایک ورژن جدید اور اعتدال پسند ہے اور اس کے علاوہ پورا اسلام ’’انتہاپسند اور دہشت گرد ہے‘‘۔ ان اصطلاحات سے دنیا بھر کے غیر مسلم عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ’’اعتدال پسند مسلمان اچھے، مغرب نواز اور جنگ میں مغرب کا ساتھ دینے والے ہیں،جب کہ دیگر سب مسلمان ہمارے دشمن ہیں اوران سے جنگ کرکے انھیں ختم کرنا جائز اورقانونی عمل ہے‘‘۔

اسلام کو پس ماندہ اور جدید و قدیم تصورات میں منقسم مذہب ثابت کرنے کے لیے مغربی میڈیا، مسلم خواتین کو دو باہم متحارب گروہوں میں پیش کرتا ہے۔ مسلم خواتین کے ایک گروہ کوانتہائی پس ماندہ، مردوں کے ظلم و ستم کا شکار اور دوسرے گروہ کو انتہائی مضبوط، مردوں کی برابری اور مقابلہ کرنے والی ’فیمنسٹ وومنز‘ (خود اختیاریت پسند مسلم خواتین) کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح مغربی میڈیا اسلامی عقائد اور تعلیمات کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے مسلم عورت کی ’مظلومیت‘ کا رونا روتا ہے اور انھیں بغاوت پر اکساتے ہوئے اپنی حمایت اورمدد کا یقین دلاتا ہے۔

مغرب، مسلم خواتین کی سماجی آزادی و خود مختاری کو مذہب سے آزادی کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہوئےاس مقصد کے حصول کے لیے جدید، لبرل مسلم مردصحافیوں، دانش وروں اور سیاست دانوں کو بھی استعمال کرتا ہے۔ اسلامی اقدار پر عمل کرنے والی خواتین کی کردارکشی اور ان سے امتیازی سلوک کرنے کی غرض سے مغربی میڈیا ان کے لیے جو اصطلاحات استعمال کرتا ہے، جن میں مردوں سےپٹنے والیاں، گالیاں کھانے والیاں، پردے والیاں، نفرت کا شکار عورتیں، آزادی سے بے پروا عورتیں، حقوق سے نابلد خواتین اور انتہا پسند مسلم خواتین وغیرہ شامل ہیں۔

محمد جنید غوری (۲۰۱۹ء) نے اپنے تحقیقی پراجیکٹ میں آسٹریلیا کے اخبارات کے ایک سال (۲۰۱۶-۲۰۱۷ء) کے اداریوں کے نمونے جمع کیے۔ اس مطالعےکے بعد ڈاکٹر غوری نے  یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’’آسٹریلیا کے صرف ایک مشہور اخباردی ایج' کے اداریوں میں مسلمانوں کے خلاف سال بھر میں جس نفرت کا اظہار کیا گیا، اتنی نفرت کا اظہارشاید کسی میڈیا نے نہیں کیا ہوگا۔ اس اخبار کے اداریے ' اسلامی ریاست پر ہتھوڑا چلایا جائے، اور دیگر اداریوں میں مسلمانوں اور اسلام سے نفرت کے اظہار کے لیے جو اصطلاحات استعمال کیں وہ یہ ہیں:

 اسلامی شیطانی ریاست، نام نہاد خلافت، جہادی جعلی دعوے، اسلامی ریاست کے جنگجو، جہادی بھرتی، ناقابلِ برداشت جہادی، بنیاد پرست اسلامی طریقے، مذہبی غلامی، نام نہاد مذہبی آدرش، اسلامی خوف، عالمی اسلامی غم و غصہ، غیر منصفانہ متحرک لوگ، عالمی غم و غصے کے امین، مشتبہ اسلامی برادری، خونخوار اسلامی لاشیں، نفرت انگیز اسلامی مبلغین، اسلامی جہادی تارکین وطن، ہولناک اسلامی تبلیغی نفرت، انسانی حقوق کے دشمن، عالمی اسلامی بحران، خود ساختہ مسلم ائمہ، جہادی ملاؤں کا ٹولہ، بنیاد پرست پیغام رساں، مذہبی دعوؤں کے برے اعمال، مجرمانہ اسلامی عقیدے، مسلم ہجوم، فریب خوردہ مسلم، جنونی بوڑھے مسلمان، قرون وسطیٰ کے باسی، بدنظمی کے اسلامی مراکز (مساجد)، موت کے اسلامی گلے، آبائی اسلام پسند گروہ، بھڑک اٹھنے والے مسلم جہادی، اسلامی بھرتی زون، اسلامی شورش پسند، جنونی بندوق بردار، اسلامی جہادی لعنت وغیرہ۔

سان اور سبلی(۲۰۱۸ء) نے اس بات پر تحقیق کی کہ مذہبی تعلیمات کو فلموں میں کس طرح پیش کیا جاتا ہے؟ اس مطالعے سے معلوم ہوا کہ کچھ فلموں میں مذہبی تعلیمات، عبادات، اخلاقی اقدار، بزرگوں اور والدین کے ساتھ حُسن سلوک وغیرہ کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا تاکہ معاشرے کی ان مثبت خطوط پر تربیت کی جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی تحقیق میں برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۶ء تک شائع ہونے والے ۸لاکھ مضامین اور مراسلوں کا مطالعہ بھی کیا گیا، جن میں مذہبی تعلیمات کو معاشرے کے مفاد میں مثبت انداز سے پیش کیا گیا تھا۔ اس تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ’’اگر میڈیا چاہے تو دیگر مذاہب کی طرح اسلام اور مسلمانوں کی متوازن تصویر پیش کرکے اسلامی تعلیمات کو بھی سوسائٹی کے مفاد میں استعمال کر سکتا ہے، لیکن اسلاموفوبیا سے متاثر میڈیا ہاؤسز کی اکثریت ایسا نہیں کرتی‘‘۔

  • میڈیا کا جانب دارانہ رویہ: کچھ تحقیقات میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بہت سے میڈیا ہاؤسز کسی خبر کے ماخذ، ذریعے یا پولیس وغیرہ کا حوالہ دے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس خبر کی پیش کش غیرجانب دارانہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پولیس وغیرہ سے ایسی باتیں منسوب کرکے بقلم خود خبر کےمتن میں شامل کر دی جاتی ہیں جو پولیس نے رپورٹ میں نہیں لکھی ہوتیں۔ اس طرح دیکھنے اور پڑھنےوالوں کو یہ باور کرا کر گمراہ کیا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا تعلق مذہب اسلام سے ہے۔ مثلاً ۲۷؍ اپریل ۲۰۱۹ءکو الجزیرہ میں ایک خبر شائع ہوئی جس کا متن اس طرح پیش کیا گیا کہ ’’ پولیس نے کچھ ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے، ان کا نام ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے سرغنہ کے طور پر لیا جاتا ہے‘‘(Relatives of Suicide, 2019, p.2)۔ اسی طرح ایک اور خبر میں لکھا کہ ’’ پولیس کے مطابق ایک شخص ہجوم میں مارا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ دولت اسلامیہ (داعش) اور لیونٹ گروپ سے متاثر تھا‘‘ (Australia police 2018, p.1)۔ ان خبروں میں ’پولیس کے مطابق‘ اور ’کہا جاتا ہے‘ جیسے الفاظ استعمال کرکے ساری ذمہ داری پولیس پر ڈال دی گئی اور اپنے آپ کو غیر جانب دار بتاتے ہوئے جانب داری کا عمل برتا گیا۔

اسلام سے متعلق اصطلاحات کو غلط رنگ اور منفی معنوں میں پیش کرنے کی زیادہ تر ذمہ داری صحافیوں پر عائد ہوتی ہے۔ پولیس یا کسی اور ادارے پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ خبر کا متن نیوز روم میں تیار ہوتا ہے اور اس کی زبان اور بیان کے ذمہ دار صحافی اور میڈیا ہاوس ہوتے ہیں (اور صحافی اپنے آپ کو ایک مقدس اورسوال و جواب سے بالاتر مخلوق کے طور پر پیش کرکے، دوسروں کا منہ بند کردیتے ہیں )۔ ان اصطلاحات کو غلط رنگ دینے کا فیصلہ صحافیوں، ایڈیٹر اور میڈیا مالکان کا ہوتا ہے۔ خبر کی اشاعت سے قبل کے تشکیلی، تکمیلی، اوراشاعتی عمل میں کئی ذیلی کردار شامل ہوتے ہیں۔ خبروں اور مضامین کے متن لکھے جاتے ہیں، پھر پروف ریڈنگ ہوتی ہے، ان میں اضافہ اور ترامیم ہوتی ہیں اور پھر ایڈیٹر کی منظوری کے بعد ان کی اشاعت ہوتی ہے۔

کئی عشروں سے اسلام کے بارے میں ایک عمومی نفرت و حقارت پھیلانے اور خبروں کی سرخیوں میں اسلام کے لیے ’انتہاپسند‘ اور ’ریڈیکل مذہب‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے سے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ مغرب کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ اگر یہ سوچاسمجھا منصوبہ نہ ہوتا تو ’دہشت گردی‘ اور ’انتہاپسندی‘ جیسی اصطلاحات کو پیش کرتے ہوئے ان کے ساتھ اضافی طور پر اسلام کا اسم صفت لگاکر کیا مقاصد حاصل کرنا پیش نظر ہیں؟

 میڈیا لٹریچر پر کام کرنے والے بہت سے غیر جانب دار محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خبریں محض کسی عنوان پر حقائق پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ عوام کو آگاہ رکھنے کی ایک ایسی خدمت ہے، جس سے عوام کو اچھائی کی طرف راغب کرنے کی تربیت بھی دی جا سکتی ہے۔ لیکن مغرب یا سیکولر مسلم ملکوں اور حلقوں کے ہاتھوں میڈیا نے انفارمیشن کے نام پر ڈس انفارمیشن کا طوق ہمارے گلے میں ڈال رکھاہے۔ جو لوگ معلومات اور تعلیم و تربیت کے لیے صرف میڈیا پر انحصار کرتے ہیں، ان کوآج کے ماحول میں گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ مگریہاںپر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورتِ حال کو جوں کا توں قبول کرلیاجائے یا اس کی بہتری کی کوششیں کی جائیں؟

ماخذ

1.    Jacobbsen, S.  J (2012) "Analysis of Danish Media Setting and Framing of Muslim, Islam and Racism".

2.  Conete, D. (2009) "Women: Strained Stereotypes". Source Link

    . Hussain, Tooba  "The Media’s Portrayal of Islam, An Analysis of Methods and Implications". Source Link

4.  Younes, Zein, Bani (2020) "A Pragmatic Analysis of Islam-related Terminologies in Selected Eastern & Western Mass Media". Source Link

5.  Baker, PGabrielatos (2013) "Sketching Muslims: A Corpus Driven Analysis of Representations around the World".

6.  Saeed, A (2007) "Media, Racism and Islamophobia: The Representation of Islam and Muslims in the Media".

7.  Sultan, K (2016) "Linking Islam with Terrorism: A Review of the Media Framing since 9/11 Global Media Journal

8.  Hassan, F. & Sabli (2018) "Islam as a Way of Life: The Representation of Islamic Teaching in Non-Islamic film". Source Link