جنوری ۲۰۲۱

فہرست مضامین

میں کیسے بھول جاؤں؟

مجیب الرحمٰن شامی | جنوری ۲۰۲۱ | یادداشت

پلٹن میدان کے المیے کا آنکھوں دیکھا حال

یہ ۵۱ برس پہلے، ایک الم ناک دن تھا۔

جناب مجیب الرحمٰن شامی ، مدیر ہفت روزہ زندگی نے ۱۸جنوری ۱۹۷۰ء کو ڈھاکا میں جماعت اسلامی کے اس جلسۂ عام کی رُوداد ۲فروری ۱۹۷۰ء کو شائع کی، جس جلسے پر عوامی لیگ نے منظم حملہ کرکے جماعت کے تین کارکنوںکو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کیا، متعدد کو لاپتا کردیا اورمولانا مودودی کوجلسۂ عام میں تقریر نہیں کرنے دی۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے اخبارات نے اسے ’معمولی واقعے‘ کے طورپر ہی لیا۔سقوطِ مشرقی پاکستان،۱۶دسمبر ۱۹۷۱ء سے ۲۳ماہ پہلے لکھی یہ تحریر، نوشتۂ دیوار تھی، جسے حکمرا ن فوجی گروہ نے پڑھنے کی زحمت نہ کی۔ اس ایک رُوداد میں شیخ مجیب اور عوامی لیگ کا فسطائی اور گھناؤنا چہرہ دیکھا جاسکتا ہے۔(ادارہ)

میں ۱۴جنوری [۱۹۷۰ء]کو ڈھاکا پہلی بار آیا تھا۔  پورے ڈھاکے میں شیخ مجیب الرحمٰن کےعظیم الشان جلسۂ عام کا چرچا تھا۔ہرشخص کی زبان پر تین روز پہلے [۱۱جنوری] منعقد ہونے والے اس اجتماع کا ذکر تھا۔ سیاسی سرگرمیوں سے پابندی ہٹنے کے بعد ڈھاکے میں شیخ صاحب کا یہ پہلا خطاب تھا اور اسے ان کے پالیسی بیان (Policy Statement) کی حیثیت حاصل تھی۔

۱۱جنوری کو شائع ہونے والے ایک عوامی لیگی انگریزی ہفت روزہ نے آٹھ کالمی شہ سرخی لگائی:’’مجیب آج پلٹن میدان میں تقریر کریں گے‘‘۔ دوسری سرخی تھی: ’’قوم رہنمائی کے لیے ان کی طرف دیکھ رہی ہے‘‘۔ متن پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ قوم سے مراد ’بنگالی قوم‘ ہے۔ اس اخبار نے شیخ صاحب کو’ ’بنگال کی مکمل خودمختاری کے تصور کا اصلی مصنّف قرار دیا‘‘۔

پلٹن میدان میں شیخ صاحب نے ’قوم‘ کی رہنمائی یوں فرمائی کہ مغربی پاکستان کانام لیتے وقت بار بار ’آقا‘ کا لفظ استعمال کیا اور ’مغربی پاکستانی آقاؤں‘ کو مشرقی پاکستان کے تمام مصائب کا ذمہ دار قرار دیا۔ ان ’آقاؤں‘ کےضمن میں انھوں نے مولانا مودودی کا نام بھی لیا اور فرمایا کہ ’’اب اسلام کے نام پر ہمارے حقوق کو غصب نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ ساتھ ہی یہ اعلان فرمایا:’’ہم قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نافذ نہیں کریں گے‘‘۔ شیخ صاحب نے [جنوری ۱۹۶۶ء سے شروع ہونے والی ]اپنی ’چھے نکاتی زندگی ‘ میں پہلی بار اسلام کا نام لینے کی ضرورت محسوس کی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مولانا مودودی کے خلاف سامعین کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کی سعی فرمائی تھی۔ اس سے دو واضح نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں:

    ۱-  شیخ صاحب اسلامی قوتوں سے خائف ہیں، اس لیے اسلام کا سہارا لینے پر مجبور ہوئے۔

    ۲-  مولانا مودودی کو اسلام کے نام پر مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافی کا علَم بردار قراردے کر سامعین کو ان کے خلاف بھڑکایا گیا۔

ایک ہفتے بعد مولانا مودودی کو ڈھاکا کے اسی پلٹن میدان میں ہی جلسے سے خطاب کرنا تھا، جس کا اعلان جماعت اسلامی کی طرف سے کیا جاچکا تھا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے، تو اس ’پالیسی بیان‘ میں شیخ صاحب کی طرف سے مولانا مودودی پر حملے کے لیے لوگوں کو رہنمائی مل سکتی تھی، کیونکہ ’’قوم ان کی طرف رہنمائی کے لیے دیکھ رہی تھی‘‘۔


آگے بڑھنے سے پیش تر پلٹن میدان میں جلسے کے لیے عوامی لیگ کی تمام ضلعی شاخوں کو پابند کیا گیا کہ سامعین بھیجے جائیں۔ ۵۰۰ ٹرک ڈھاکے سے آدمی ڈھونے اور ایک سو موٹررکشا جن میں لاؤڈاسپیکر نصب تھے، ڈھاکے کے اندر شیخ مجیب کی تقریر کا اعلان کرنے پر مامور تھے۔  جب شیخ مجیب الرحمٰن تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو اسٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا: ’’بنگوبندو (بنگال کے دوست) بنگو شارورل (بنگال کے شیردل) بانگ لارمانی (بنگال کے موتی) آپ روائے تی ڈانڈی، جانا نیتا (عوام کے مسلّمہ اور متفقہ رہنما) قوم کو پیغام عطا فرمائیں گے‘‘۔

جلسے میں بار بار’تماردیش، اماردیش، بنگلہ دیش‘ اور’جاگو جاگو بنگالی جاگو‘ کے نعرے لگتے رہے ۔ جلسے کے جو پوسٹر چسپاں کیے گئے اور دیواروں پر جو نعرے لکھے گئے ، ان میں سے ایک یہ بھی تھا: ’’اگر تم آزادی چاہتے ہو تو متحد ہوجاؤ‘‘۔

شیخ صاحب نے اپنی تقریر میں صرف ایک یا دو بار پاکستان کا لفظ استعمال کیا۔ باقی سارا عرصہ وہ بنگال اور بنگال کا ورد فرماتے رہے اور یہ بھی ارشاد کیا:’’میرا کام ختم ہوچکا ہے، بنگالی جاگ اُٹھے ہیں‘‘۔ شیخ صاحب نے اپنی تقریر کے دوران فرمایا: ’’سہروردی اور فضل الحق کی طرح میں نے بھی برابری کے اصول کو تسلیم کرکے غلطی کی تھی‘‘۔

جلسہ ختم ہونے کے بعد اس کی حاضری کے بارے میں اخبارات اور ایجنسیوں نے دوڑ لگانا شروع کر دی۔ کسی نے چار لاکھ لکھا، تو کسی نے پانچ لاکھ۔ عوامی لیگ کے ترجمان انگریزی   ہفتہ روزہ نے تو کمال ہی کر دیا اور سامعین کی تعداد سات لاکھ لکھ ماری۔ اس سلسلے میں ایک دل چسپ بات یہ سننے میں آئی کہ جناب صدر ایوب خاں نے مادرِ ملّت فاطمہ جناح کے انتخابات کے بعد یہیں ایک جلسے سے خطاب فرمایا، تو مشرقی پاکستان کے گورنر عبدالمنعم خاں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’’اس کی حاضری پانچ لاکھ تھی‘‘۔ اس کے جواب میں [عوامی لیگ کے حامی] روزنامہ اتفاق نے لکھا تھا کہ ’’پلٹن میدان میں ایک لاکھ سے زائد افراد سما ہی نہیں سکتے۔ یہ پانچ لاکھ کہاں سے آگئے؟‘‘، لیکن مجیب صاحب کے جلسے کے وقت شاید ’اتفاق‘ کو یہ بات یاد نہیں رہی۔


بہرحال، پلٹن میدان کے اس جلسے کے ساتھ ہی یہ خدشات اُٹھنا شروع ہوگئے کہ ’’آنے والا اتوار بخیریت نہیں گزرے گا اور مولانا مودودی بآسانی جلسے سے خطاب نہیں کرسکیں گے‘‘۔ خدشات شدید ہوتے گئے اور ۱۷جنوری آپہنچی۔ مولانا مودودی ا س دن ۲بج کر ۲۰منٹ پر تیج گاؤں، ڈھاکا کے ہوائی اڈے پر اُترنے والے تھے، یہ افواہ زور و شور سے پھیلائی گئی کہ: ’’مولانا مودودی کا جہاز ہوائی اڈے پر اُترنے نہیں دیا جائے گا‘‘۔ ہوائی اڈے پر جماعت کے ہزاروں حامی جمع ہوگئے ۔ یہاں شورش برپا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کی دو ہی وجوہ ہوسکتی تھیں: ہنگامے کا پروگرام ختم کر دیا گیا، یا پھر ہوائی اڈے کے بجائے پلٹن میدان پر ہی مکمل نگہ ِ انتخاب پڑی۔

مولانا مودودی ہوائی اڈے پر پہنچے تو ہزاروں نوجوانوں نے ’شوتب دیرمکتی ددت‘ مولانا مودودیؒ (صدی کا عظیم مصلح) کے نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔ اسی روز شام کو مولانا مودودی نے اسلامی چھاترو شنگھو [اسلامی جمعیت طلبہ] کی صوبائی کانفرنس (یہ ۱۵ جنوری سے ہوٹل ایڈن میں شروع ہوئی تھی اور اس میں مشرقی پاکستان کے مختلف شہروں اور دیہاتوں سے قریباً تین ہزار مندوبین شریک تھے) میں سوالات کے جواب دیے اور واضح طور پر یہ بات کہی کہ ’’جماعت اسلامی، مشرقی پاکستان کے ساتھ ناانصافیوں کی ذمہ دار نہیں کیونکہ وہ کبھی برسرِ اقتدار نہیں آئی‘‘۔


جلسے کی گھڑیاں جوں جوں قریب آرہی تھیں، تشویش میں اضافہ ہورہا تھا۔ عام خیال یہی تھا کہ ’’مولانا مودودی سے بنگالی میں تقریر کرنے کا مطالبہ کرکے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔ ۴جنوری کو نیپ [نیشنل عوامی پارٹی:NAP] کے جلسے میں محمود الحق عثمانی سے خود انھی کے پارٹی کارکنان یہ سلوک کرچکے تھے۔ جماعت اسلامی کے کچھ مقامی رہنماؤں نے یہ تدبیر سوچی کہ مولانا کو چندبنگلہ فقرے لکھ کر دے دیے جائیں، جن میں وہ حاضرین سے اپنے بنگلہ نہ جاننے کی معذرت کرلیں، اس کے بعد شورش پسند اس معاملے میں جذبات کو بھڑکا نہیں سکیں گے۔ مولانا مودودی کے سامنے یہ تجویز رکھی گئی، تو مولانا نے ایسا کرنےسے انکارکردیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ ’’بنگلہ سیکھ کر بولنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اس طرح چند فقرے لکھ کر کہہ دینا محض تصنع ہے اور یہ ’مصنوعی حربہ‘ مجھے گوارا نہیں‘‘۔ اس پر سب لوگ خاموش ہوگئے اور کارکنوں کو چوکس رہنے کی تلقین کردی گئی۔ پروگرام یہ تھا کہ مولانا کی تقریر کے ساتھ ساتھ پروفیسر غلام اعظم اس کا بنگلہ ترجمہ سناتے جائیں گے۔

جماعت کے مقامی رہنماؤں کا خیال تھا کہ عوامی لیگ کی جانب سے متوقع ہنگامہ، جلسے میں نعرے وغیرہ لگانے تک محدود رہے گا۔ اس لیے وہ اسی کا سامنا کرنے کی تیاری میں لگے رہے، لیکن جن حالات سے سابقہ پیش آیا وہ کسی کے گمان تک میں نہیں تھے۔


۱۸ جنوری کا آفتاب طلوع ہوا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے پلٹن میدان کے قریباً درمیان میں واقع چھوٹی سی مسجد کے ساتھ (یہ مسجد مغلیہ دور میں تعمیر کی گئی تھی) اسٹیج سجا دیا۔ تین لاؤڈاسپیکر نصب کیے گئے اورجلسہ گاہ میں جگہ جگہ بانس گاڑ کر ۴۰ہارن ان سے باندھے گئے۔ اسٹیج پر کرسیاں نہیں رکھی گئی تھیں۔ سفید چادر بچھی تھی کہ مشرقی پاکستان کے جلسوں کے اسٹیج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اسٹیج  کے سامنے پریس گیلری تھی۔ اس کے بعد رسّی لگی ہوئی تھی۔ رسّی کے اس پار سامعین کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔ پلٹن میدان کے گرد تین طرف سیمنٹ کی دیوار کھینچی ہوئی ہے۔ ایک طرف اسٹیڈیم ہے اور مسجد بیت المکرم کو جانے کا راستہ۔ اس چاردیواری میں دو باقاعدہ دروازے ہیں اور ایک بے قاعدہ۔ ایک کو اسٹیڈیم والاگیٹ کہتے ہیں اور دوسرے کو ڈی آئی ٹی روڈ کا گیٹ۔ چھوٹی مسجد کے ساتھ ہی ایک بیڈمنٹن کورٹ ہے اور اس سے آگے چل کر دیوار کے پاس دو کلب۔ اسٹیج کی پچھلی طرف جو دیوار ہے، اس کے ساتھ ایک ٹین کی دیوار سے گھرا ہوا میدان ہے۔ اس کی حیثیت میدان اندر میدان کی سی ہے۔ ڈی آئی ٹی روڈ پر گورنر ہاؤس واقع ہے اور پلٹن میدان سے اس کا فاصلہ صرف سو میٹر کا ہے۔ ڈی آئی ٹی روڈ والے گیٹ کے بالکل سامنے ایوب چلڈرن پارک ہے، جس کے اندر ایک تالاب بنا ہوا ہے۔ پلٹن میدان کی عقبی دیوار اور اسٹیڈیم کی مارکیٹ دونوں کے درمیان ایک تنگ سی گلی ہے۔ اس سے گزرکر ڈی آئی ٹی روڈ پر پہنچا جاسکتا ہے۔

جلسہ ٹھیک تین بجے پروفیسر غلام اعظم کی صدارت میں شروع ہوگیا۔ پروفیسر صاحب اسٹیج کے درمیان میں بیٹھے تھے۔ ڈائس کے دونوں کونوں پر مائیک نصب تھا۔ پروگرام یہ تھا کہ ایک مائیک پر مولانا مودودی تقریر کریں گے اور دوسرے پر دورانِ تقریر ہی وقفوں وقفوں سے اس کا بنگلہ زبان میں ترجمہ سنایا جائے گا۔ تین بج کر ۲۰منٹ پر جلسہ گاہ میں تھوڑا سا شور برپا ہوا، اور کچھ لوگوں نے اسٹیڈیم کے قریب ’’بھاگو، بھاگو‘‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ اس طرح کی حرکتیں چونکہ جلسہ خراب کرنے کے لیے عموماً کی جاتی ہیں، اس لیے اس سے کوئی فرق نہ پڑسکا۔ چند منٹ بعد ایک صاحب سرخ کپڑوں میں ملبوس آپہنچے اور مجذوبوں کی سی حرکتیں کرنے لگے۔ انھیں جلسے سے باہر نکال دیا گیا، مگر وہ اسٹیڈیم کی عمارت پر چڑھ گئے (بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دیوانہ بڑا ہوشیار تھا، اور ہنگامے کے دوران یہ مسلسل سگنل دیتا رہا کہ اِدھرسے حملہ کرو یا اُدھر سے)۔

ساڑھے تین بجے کے قریب ایک صاحب نے مجھے کہا: ’’آپ نے دیکھا ہے کہ وہ چاقو لہرا رہے ہیں‘‘۔ اسٹیڈیم والے گیٹ سے اندر کی طرف واقعی چاقوؤں کی چمکتی ہوئی دھاریں نظر آرہی تھیں۔ چند ہی لمحے بعد جماعت کے حامی ایک نوجوان کو اُٹھاکر لایا گیا۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا، اسے مسجد کے پاس لٹادیا گیا۔ اس کے بعد تو زخمیوں کا تانتا بندھ گیا۔ کچھ کارکنوں اور سامعین نے دفاع کے لیے اپنے بینر اُتار کر رکھ دیے اور اس طرح لاٹھیاں بن گئیں، پریس گیلری میںرکھی ہوئی کرسیوں کو توڑ کر ان کے ڈنڈے بنائے گئے اور حملہ آوروں کو روکنے کے لیے اسٹیڈیم کے گیٹ کا رُخ کیا۔ یہاں گھمسان کا معرکہ ہوا، حملہ آور پسپا ہوگئے اور بظاہر سکون ہوگیا۔

اسی دوران نمازِ عصر کا وقت ہوگیا۔ اسٹیج سے اعلان ہوا کہ ’’اب نماز ادا کی جائے گی‘‘۔ تمام کارکن اور دوسرے سامعین نماز کی تیاریوں میں مشغول ہوگئے، صفیں ترتیب دی گئیں اور اللہ کے بندے اس کے حضور میں جھک گئے۔ پلٹن میدان نے ایسا منظر اس سے پہلے شاید کبھی نہ دیکھا ہو۔ نماز کے اسی وقفے کے دوران فائدہ اُٹھا کرحملہ آوروں نے خود کو منظم کیا۔ جناح ایونیو روڈ اور ڈی آئی ٹی روڈ سے شدید پتھراؤ شروع ہوگیا اور ساتھ ہی حملہ آوروں نے اسٹیڈیم کی چھت پر بھی قبضہ کرلیا۔ اسٹیڈیم کی چھت ابھی زیرتکمیل ہے، اس لیے اینٹوں اور روڑوں کے حصول میں وہاں بھی کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ پتھروں کی بارش کے دوران نماز ادا ہوئی۔ اسی دوران حملہ آور دوبارہ اسٹیڈیم کے گیٹ سے اندر گھس آئے اور ڈی آئی ٹی روڈ والے گیٹ پر بھی قبضہ جمالیا۔اسٹیڈیم گیٹ کے پاس پھرمعرکہ پڑا اور حملہ آوروں کو ایک بار پھر پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ وہ جناح ایونیو روڈ سے نکل کر اس سے پیچھے واقع ایک ٹوٹی ہوئی سڑک کی طرف بھاگ گئے۔

ٹھیک پونے پانچ بج رہے تھے کہ پولیس آگئی۔ مگر پولیس کی یہ کھیپ صرف ایک ٹرک اور ایک جیپ پر مشتمل تھی۔ جیپ میں بیٹھے ہوئے افسر نے اُتر کر فریقین کو روکا اور پولیس اسٹیڈیم گیٹ پر کھڑی ہوگئی، جلسے کے منتظمین پولیس کی یقین دہانی پر اعتماد کرتے ہوئے اسٹیج کے پاس لوٹ آئے، اور یہی ان کی غلطی تھی۔ پولیس چند لمحے وہاں کھڑی رہی اور پھر اس نے شرپسندوں کو اندرجانے کا راستہ دے دیا۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیج کے سامنے کی دیوار پھلانگ کرسیکڑوں افراد اندر کود پڑے۔ اب حشر کا سماں تھا۔ پولیس دُور کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی اور چاروں جانب سے یلغار جاری تھی۔ اتنے میں جناح ایونیو روڈ پر دو دھماکے ہوئے، جن سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے دستی بم پھٹ پڑے ہوں۔

پروفیسر غلام اعظم نے اعلان کیا کہ ’’ہم جلوس بنا کر گورنر ہاؤس جائیں گے اور مَیں اس کی قیادت کروں گا‘‘۔پروفیسر صاحب اسٹیج سے اُترنے لگے ، مگر رضاکاروں نے انھیں روک دیا۔ کئی کارکنوں کی آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن پروفیسر غلام اعظم نے پیچھے ہٹنے سے انکارکر دیا۔ وہ ڈی آئی ٹی روڈ کی طرف بڑھے اور ان کے ساتھ ہی جلسہ گاہ میں موجود دوسرےسامعین (جن کی تعداد اب چند ہزار تک سمٹ آئی تھی) ا ن کے پیچھے چلنے لگے۔لیکن ڈی آئی ٹی روڈ پر اتنی شدید سنگ باری ہورہی تھی کہ آگے نہ بڑھا جاسکا۔ یہاں بھی جماعت اسلامی کے بے شمار حامی زخمی ہوئے۔ کارکنوں نے پروفیسر صاحب کواپنے بازوؤں کے حصار میں لیا اور زبردستی مسجد میں لاکر بٹھا دیا۔ چاروں طرف سے جلسہ گاہ کا گھیراؤ ہوچکا تھا۔ جلسے میں شرکت کی غرض سے آنے والوں کے لیے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا اور ڈائس پرکنٹرول ختم ہوچکا تھا۔اسٹیڈیم کے گیٹ سے [عوامی لیگی] حملہ آوروں کی تازہ کھیپ آپہنچی اور انھوں نے آگے بڑھ کر اسٹیج پر قبضہ کرلیا۔

جماعت کے نہتے کارکن اور سامعین اب باہر نکلنے پر مجبور تھے۔ اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ دیوارکے ساتھ ایک آدمی کھڑا ہوجاتا اور دوسرا اس کے کاندھوں پرپاؤں رکھ کر دیوارسے باہر پھلانگ جاتا۔ میں کچھ اخبار نویسوں کے ہمراہ ڈی آئی ٹی روڈ کی طرف جانے والے بے قاعدہ راستے سے باہر نکل آیا تھا اور گورنر ہاؤس کے پاس کھڑا تھا۔ اتنے میں پولیس کا ایک ٹرک ساڑھے پانچ بجے آیا، لیکن چندہی لمحوں بعد واپس ہوگیا۔ دیوارسے جو شخص بھی پھلانگ کرباہر آتا، حملہ آور لاٹھیوں سے اس پر پل پڑتے اور نوکیلے روڑے ان پر برسائے جاتے۔


مولانا مودودی نے سوا چار بجے تقریر کرنی تھی، لیکن وہ جلسہ گاہ پہنچ ہی نہ سکے۔ وہ چار بجے گھر سےروانہ ہوئے ، لیکن راستوں کو بند پایا۔ شرپسندوں نے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔ دو راستوں سے مایوس ہوکر وہ تیسرے راستے کی طرف مڑے ہی تھے کہ جماعت کا ایک کارکن  مل گیا۔ اس نے انھیں بتایا کہ ’’تیسرا راستہ بھی کھلا نہیں، اس لیے آپ گھر میں انتظار کیجیے‘‘۔ مولانا جائے قیام پر پلٹ آئے اور بلاوے کا انتظار کرتے رہے، مگر حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔


ایوب چلڈرن پارک سے پتھراؤ کے لیے حملہ آوروں کو روڑے فراہم ہورہے تھے۔ اس کی دیواروں کے کئی حصے توڑ ڈالے گئے تھے۔ اس کے درمیان میں واقع تالاب کی چار دیواری بھی توڑی جاچکی تھی، سیکڑوں افراد ان اینٹوں کے ٹکڑے بناکر جناح ایونیو روڈ اور ڈی آئی ٹی روڈ پر موجود لوگوں کو سپلائی کر رہے تھے۔ گورنر ہاؤس کے سامنے کھڑے ہوکر میں نے دل دہلا دینے والےمناظر دیکھے۔ ایک لڑکا چیخا: ’’مغربی پاکستان کا مولانا ہمیں اسلام سکھانے آتا ہے‘‘۔ایک اخبار نویس نے کہا کہ ’’میں اس لڑکے کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، یہ ہندو ہے‘‘۔جو شخص سڑک سے گزرتا، اگر وہ خود کو بنگالی کہتا اور ’شیخ مجیب الرحمٰن زندہ باد‘کا نعرہ لگاتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا۔ اگر کوئی ایسا کرنے سے انکار کر دیتا تو اس کی خوب پٹائی کی جاتی۔

ایک ٹوپی پہنے صاحب کو پیٹا جارہا تھا کہ چند لڑکے ادھرآنکلے۔ انھوں نے کہا: ’’یہ تو شیخ مجیب کے ساتھ ہے ، اسے چھوڑ دو‘‘۔ ایک لڑکا بولا: ’’شیخ مجیب کا حامی ہے، تو ٹوپی کیوں پہنتا ہے؟‘‘ یہ صاحب ایک مقامی کالج میں عربی کے لیکچرار اور چھے نکات کے پُرجوش مبلّغ ہیں، مگر ٹوپی انھیں بھی لے ڈوبی۔ میرےسامنے انسان انسانوں کو اور مسلمان مسلمانوں کو پیٹ رہے تھے۔ گورنر ہاؤس خاموش تھا۔ اپنے اردگرد سے بے خبر، بے حس اور پتھر تو ہوتے ہی بے حس ہیں۔ اس میں گورنر ہاؤس کا کیا قصور؟اس افراتفری کے درمیان مجھے روشنی کا ایک ہالا بھی نظر آیا، جو محض کچھ لمحے کے لیے ہی چمکا، لیکن پورے ڈھاکے کو جگمگا گیا۔ یہ ایک صحت مند اور مضبوط نوجوان تھا۔ اس نے ایک آدمی کو آٹھ دس لڑکوں سے پٹتے دیکھا ، تو ان لڑکوں کے سامنے کھڑے ہوکر للکارا: ’’مسلمان کو مسلمان نہیں مارسکتا‘‘۔ لڑکے اس نوجوان کی نظر کے شعلوں کی تاب نہ لاسکے اورچلے گئے۔ چند لمحے بعد یہ روشنی میری آنکھوں سے بھی دُور ہوگئی، جسے آج تک مَیں آنکھوں میں سموئے پھرتا ہوں۔ یہ نوجوان اُمید کی کرن ہے، متحدہ اور مضبوط پاکستان کا ’سمبل‘۔ جب تک ایسے نوجوان زندہ ہیں، پاکستان کیسے کمزورہوسکتا ہے؟


اسٹیج پر قبضہ کرنے والوں نے وہاں ایک مختصر سا جلسہ کیا، جس میں ’’بنگالی قومیت کے خلاف ہر تحریک کو کچل دینے کے عزم کا اعلان کیا گیا‘‘۔ جناح ایونیو روڈ پر موجود بے شمار لوگوں نے اس بات کی شہادت دی کہ اس جلسے سے عوامی لیگ کی حامی اسٹوڈنٹس لیگ کے ایک سابق سیکرٹری سراج الحق نے خطاب کیا تھا۔ انھوں نے جلسے کے بعد جماعت اسلامی کے مختلف بینروں کو اکٹھا کرکے آگ لگا دی، جن میں کلمے کا بینر بھی شامل تھا۔ اس کے بعد اسٹیج پر لہراتا ہوا پاکستانی پرچم بھی نوچ کر نذرِ آتش کر دیا گیا۔ ایک پٹھان جس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تو وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا: ’’اب ہم یہاں نہیں رہے گا، یہ تو قیامت آگیا ہے‘‘۔ بے شمار زخمی اور کئی سامعین مسجد میں محصور تھے، پولیس نے مسجد کے اردگرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔ سات بجے کے قریب ڈپٹی کمشنر صاحب ڈھاکا تشریف لائے۔ انھوں نے سوال کیا: ’’کیا کوئی لیڈر بھی یہاں موجود ہے؟‘‘ پروفیسر غلام اعظم کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ مسجد کے اندر داخل ہوئے اور ان سے چلنے کے لیے کہا، مگر پروفیسر موصوف نے انکار کر دیا اور کہا: جب تک مسجد میں ایک بھی آدمی پناہ لیے ہوئے ہے، میں یہاں سے نہیں جاسکتا۔ اس پر ایک ٹرک کا انتظام کیا گیا۔ اس کے ذریعے پہلے تو زخمی افراد ہسپتال تک پہنچائے گئے اور پھر دوسرے حاضرین۔پروفیسر غلام اعظم سب سے آخر میں باہر نکلے۔


موقعے پر موجود بے شمار افراد نے اس بات کی شہادت دی کہ چھے سات ٹرک آدمیوں سے بھر کر آئے اور گلستان سینما سے تھوڑا ساپیچھے رُکے تھے۔ ان میں سے آدمی اُترے اور جناح ایونیو روڈ اور ڈی آئی ٹی روڈ پر پھیل گئے۔ جناح ایونیو روڈ کے عقب میں واقع نسبتاً سنسان اور ٹوٹی ہوئی سڑک پر موجود دو افراد ہدایات دے رہے تھے ، ان میں سے ایک صاحب کے ہاتھ میں بریف کیس پکڑا ہوا تھا۔ دو نوجوان موٹرسائیکل پرسوار جلسہ گاہ کے باہر چکّر لگاتے ہوئے حملے کے مقامات کا جائزہ لینے میں مصروف تھے۔ ایک کار میںاسٹوڈنٹس لیگ کے صدر جناب طفیل احمد اور سیکرٹری جناب عبدالرب بھی موجود تھے۔ ا س کے علاوہ شیخ مجیب کے ایک فرزند ِ ارجمند کو بھی وہاں دیکھا گیا۔

ان حضرات کی موجودگی کواتفاقی امر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ طفیل احمد صاحب نے ہنگامے کے بعد جو بیان دیا، اس سے ان کے عزائم کی بخوبی نشان دہی ہوجاتی ہے۔ انھوں نے ارشاد فرمایا: ’’ہم امن پسند ہیں، لیکن کسی کو اس بات کی اجاز ت نہیں دے سکتے کہ ہماری چھے نکات اور گیارہ نکات کی عوامی تحریک کو سبوتاژ کرے‘‘ (یہ بیان اخبارات میں شائع ہواہے۔ جس کا صاف مطلب اور پیغام یہ ہے کہ چھے نکات اور گیارہ نکات پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنایا جائے)۔


میں جلسہ گاہ سے اپنے ہوٹل میں پہنچا ہی تھا کہ اطلاع ملی کہ لاہور کے ایک صحافی [مظفربیگ] شدید زخمی ہیں اور پریس کلب میں مجھے بلارہے ہیں۔ ڈھاکے کے ایک نیک دل شہری اپنی کار میں مجھے پریس کلب لے گئے۔ ہم مذکورہ صحافی کو لے کر ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال پہنچے تووہاں کہرام مچا ہوا تھا۔ بے شمارلوگ ہسپتال کے باہر پریشان کھڑے تھے، اور زخمیوں کا تانتا بندھا تھا۔ ڈاکٹروں کے علاوہ طالب علموں کو بھی طلب کرلیا گیا تھا۔ لیکن پھر بھی سٹاف ضرورت کے مطابق نہیں تھا۔ منفورڈ ہسپتال کا بھی یہی عالم تھا۔ یہاں معلوم ہوا کہ پانچ سو سے زائد زخمی افراد آچکے ہیں۔ ہسپتال سے واپسی پر اطلاع ملی کہ ایڈن ہوٹل پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے یہاں مشرقی پاکستان اسلامی چھاترو شنگھو [اسلامی جمعیت طلبہ]کی سالانہ کانفرنس ہورہی تھی۔ یہاں اجتماع کے موقع پر بنائی گئی عارضی رہایش گاہوں کو آگ لگا دی گئی تھی۔ اگلے روز یہاں جمعیت طلبہ عربیہ کا کنونشن ہونے والا تھا، مگر غیریقینی حالات کی وجہ سے اسے منسوخ کردیا گیا۔


۱۸ اور ۱۹ جنوری کی درمیانی رات ایک بجے ایسٹ پاکستان رائفلز کو طلب کرلیا گیا تھا، لیکن پورے شہر پرکنٹرول کرنے میں بڑی دیر ہوچکی تھی، اس لیے قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی چھٹی تھی۔ مشرقی پاکستان میں بھاشانی صاحب کی نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے جنرل سیکرٹری محمدطٰہٰ اورمشرقی پاکستان عوامی لیگ کے پبلسٹی سیکرٹری عبدالمومن اور ڈھاکہ عوامی لیگ کے سیکرٹری غلام مصطفیٰ نے ’’جماعت اسلامی کے فُاشسٹ طرزِعمل ، آمرانہ رویے اور غنڈا گردی‘ کی بھرپور مذمت کی تھی‘‘۔ پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی [صدرنورالامین] اور کونسل مسلم لیگ مشرقی پاکستان [صدرخواجہ خیرالدین] کے رہنماؤں نے بھی اپنے بیانات میں غنڈا گردی کی مذمت کے بیان دیے تھے، لیکن ان بیانات میں غنڈا عناصر کی نشان دہی نہیں تھی۔ اسے ’طلبہ حکام‘ سے خوف کا نتیجہ سمجھا جارہا تھا۔

۱۹جنوری بروز سوموار، صبح سے رکشاؤں میں لاؤڈ اسپیکر نصب کرکے عوامی لیگ کی حامی ’طلبہ مجلس عمل‘ (Students Action Committee) کی طرف سے ’جماعت اسلامی کی غنڈا گردی‘ کے خلاف بارہ بجے دن تک ہڑتال کرنے کی اپیل کی جانے لگی۔ صبح ہوئی تو تمام اخبارات نے جلسے کی عجیب و غریب خبرشائع کی۔ اس میں ہنگامے کی ذمہ داری جماعت اسلامی کے سر ڈال دی گئی اور ہنگامے کو ’جماعت اور سامعین‘ کے تصادم کا نام دیا گیا تھا۔ اس ہنگامے میں کچھ فوٹوگرافروں کو بھی چوٹیں آئیں۔ آزاد، اتفاق، پوربودیش، پیغام، ونیک پاکستان، سنگباد، پاکستان آبزور اور اے پی پی کے عملے نے ’’فوٹوگرافروں کے زخموں کا ذمہ دار جماعت‘‘ کو قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت میں قراردادیں پاس کی تھیں۔ ان قراردادوں کو بھی اخبارات نے بڑی تفصیل سے اورنمایاں طورپر چھاپا تھا۔ تمام قراردادو ں کا متن قریباً ایک جیسا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا، جیسے کسی آدمی نے قرارداد لکھ کر اس کی نقول مختلف دفاتر میں منظوری کے لیے بھیج دی تھیں۔

ایک طرف یہ سب ہو رہا تھا تو دوسری طرف جماعت اسلامی کے حامی بنگلہ روزنامے شنگرام اور ایک مقامی اُردو روزنامے کی فروخت پر عوامی لیگ کی ’طلبہ سرکار‘ نے پابندی لگادی تھی۔ ہاکروں کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انھوں نے ان دو اخباروںکوبیچا تو ان کے تمام اخبارات جلادیے جائیں گے۔ مذکورہ دو اخباروں نے واقعاتی رپورٹنگ کی تھی اورعوامی لیگ کے حامی ’طلبہ حکام‘ کی پریس ایڈوائس تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کی ’’سزا انھیں ملنی ہی چاہیے تھی‘‘۔ عوام کو صحیح واقعات سے بے خبر رکھنے کی ان تمام کوششوں کے باوجود ہڑتال کامیاب نہ ہوسکی اور کاروبار حسب ِ معمول جاری رہا۔ ۲۰جنوری کو پاکستان آبزرور کی سرخی تھی: ’ہڑتال پر کان نہیں دھرے گئے‘۔اس پر ’طلبہ حکومت‘ کو بڑا غصہ آیا اور انھوں نے تین گاڑیوں کو آگ لگا دی، تاکہ دہشت پھیلے اور ہڑتال کامیاب ہوجائے۔


تصادم میں دوسرے افراد کی طرح پریس فوٹوگرافر بھی لپیٹ میں آگئے۔ اس میں جلسے کے منتظمین کا کیا قصور تھا ؟ لیکن کئی اخبارات نے اسے جس طرح اُچھالا، اس سے ان کے عزائم نظرآسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے صحافی مظفربیگ شدید زخمی ہوئے۔ انجمن صحافیانِ مشرقی پاکستان کے صدر جناب شہیداللہ قیصرنے مجھے اس امر کی اطلاع دی ، لیکن ان کے حق میں کسی کے منہ سے کلمۂ خیر نہیں نکلا۔ڈھاکے کے ایک انگریزی ہفت روزہ ینگ پاکستان کےایڈیٹر جناب عزیز الرحمٰن کو شدید چوٹیں آئیں، لیکن ان کا قصوریہ تھا کہ وہ مجیب صاحب کے حامی نہیں ہیں، اس لیے اخباری یونٹوں نے انھیں بھی نظرانداز کر دیا۔ اور تو اورروزنامہ شنگرام کےفوٹوگرافر لاپتا تھے (جب تک میں وہاں رہا، ان کی بازیابی کی کوئی اطلاع نہیں مل سکی)، مگر اس پر بھی کسی اخبارنویس نے تشویش کااظہارنہ کیا۔

انجمن صحافیاں کے اس رویے کی وجہ یہی ہے کہ وہ خود ایک فریق بن چکی ہے۔ اس کے جنرل سیکرٹری جناب رمیش مترا نے ۲۰جنوری کو ایک بیان جاری کیا، جس میں جماعت اسلامی کے جلسے کے منتظمین کی مذمت کےعلاوہ یہ اعلان بھی کیا گیا ہے: ’’گیارہ نکاتی پروگرام کے لیے ہرقیمت پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی‘‘ [یاد رہے عوامی لیگی طلبہ کے ان ’گیارہ نکات‘ میں ’چھے نکات‘ کے علاوہ پانچ مزید نکات شامل تھے]۔

اس ہنگامے اور پیدا ہونے والے حالات تشویش ناک بھی ہیں اور افسوس ناک بھی۔ مشرقی پاکستان کے سنجیدہ حلقوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ دہشت اور خوف وہراس کے یہی لیل و نہار رہے تو انتخابات پُرامن نہیں ہوسکیں گے۔ اگر انتظامیہ امن و امان برقرار رکھنے کا عزمِ مصمم کرے، تو پھر عوام شرپسندوں سے نپٹ سکتے ہیں۔ ہزاروں رکشےاور ریڑھی والے ان ہڑتالوں کو عذابِ الٰہی سمجھتے ہیں۔ تاجر پیشہ حضرات اوردفاتر میں کام کرنے والے سبھی اس صورتِ حال سے بیزار ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی لاپرواہی اور اغماض برتنے کی پالیسی نے اُنھیں کہیں کا نہیں رکھا۔ وہ اگر عوامی لیگی ’طلبہ حکام‘ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں، تو پھر آگ اور لُوٹ ماراُن کا مقدر ہیں۔


سیاسی حلقے اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے، حسب ذیل نکات بیان کرتے ہیں:

    ۱-  حکومت کی فراخ دلی اور نرم رویے کو کمزوری قرار دیا جارہا ہے۔ چند ماہ پیش تر کچھ طلبہ کو مارشل لا ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے پر سزائیں سنائی گئیں، لیکن انھیں گرفتار نہ کیا جاسکا۔ صدر یحییٰ جب ڈھاکے پہنچے، تو عوامی لیگ کے سیکرٹری تاج الدین کی اپیل پر ان طلبہ کو معاف کر دیا گیا۔ جسے وہ اپنی تقریروں میں حکومت کی کمزوری سے تعبیر کرچکے ہیں۔

    ۲-  مشرقی پاکستان کے گورنر [ایڈمرل سیّدمحمد حسن] کا رویہ بھی چند طلبہ گروپوں کے ساتھ بڑا دوستانہ ہے۔ انھوں نے ان طلبہ لیڈروں کو گھر پر بلایا اورانھیں عشائیہ دیا۔ ان کی جناب طفیل احمد سے دوستی کا یہ عالم ہے کہ وہ انھیں خود ٹیلی فون فرماتے ہیں اور ایک انتہائی ذمہ دار افسر کے بقول طفیل صاحب کہتے ہیں:’’آپ ٹیلی فون رکھ دیجیے۔ میں آپ کا نمبر ڈائل کرتا ہوں‘‘۔ ممکن ہے گورنر صاحب یہی سمجھتے ہیں کہ طلبہ سے دوستی بڑھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اس کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

    ۳-  مجیب الرحمٰن خود کو وزیراعظم سمجھتے ہیں، غیرملکی اخبارات بھی ان کی وزارتِ عظمیٰ کا خوب پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق انھوں نے ’شیڈو کابینہ‘  (Shadow Cabinet) بھی ترتیب دے لی ہے۔ اس میں ’اگر تلہ کیس‘ کے کچھ ملزمان کو بھی ’وزیر‘ لیا گیا ہے (جلسے میں ہنگامے سے چند روز پیش تر اس ’کابینہ‘ کا ایک اجلاس بھی ہوا تھا۔ خدا معلوم اس میں ’داخلی اُمور‘ کے بارے میں کیا فیصلے کیے گئے؟) اس فضا میں سول حکام، شیخ صاحب کے حامیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ انھیں خدشہ ہے کہ شیخ صاحب وزیراعظم بننے کے بعد انھیں انتقام کا نشانہ بنائیں گے۔

    ۴-  جو سول حکام ان کے حامی اور پیروکار ہیں، وہ ان کے حامیوں کو کھلی چھوٹ دیے رکھتے ہیں۔

    ۵-  حکومت کو معلومات بہم پہنچانے کے ذرائع بڑے ناقص ہیں۔ ان پر بھی زیادہ تربنگالی قومیت کے حامی چھائے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ فیلڈ میں کام کرکے اطلاعات اکٹھی کرنے والوں میں سے بھی اکثر بنگلہ قومیت پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ لوگ حکومت تک صحیح معلومات پہنچنے نہیں دیتے اور اپنی رپورٹوں کو بھی ’اینگلنگ‘ کی سان پر چڑھا دیتے ہیں۔ صحیح معلومات فراہم نہ ہونے کی وجہ سے صحیح اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے۔

    ۶-  پولیس کی اکثریت ہنگامہ پروروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔ اس لیے وہ پولیس سے نہیں ڈرتے بلکہ اکثر پولیس کی ’نگرانی ‘میں وہ اپنا کام سرانجام دیتے ہیں۔

    ۷-  نئے نئے فتنے جگانے میں ہندو حضرات بھی پیش پیش ہیں۔ کئی ہندو تو ایسے ہیں جنھوں نے اپنے پورے خاندان کو مغربی بنگال بھیج رکھا ہے۔ مگر خود شدید جذبہ ’حب الوطنی‘ کے تحت یہاں رہ رہے ہیں۔ درس گاہوں میں ہندو استاد بڑی تعداد میں ہیں، وہ اپنے طالب علموں کے ذہن سے نظریہ پاکستان کو محو کرانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ ’آزاد بنگال‘ کے مطالبے کا پوسٹر لگاتے ہوئے ایک ہندو طالب علم پکڑا گیا۔ اس نے بتایاکہ وہ یونی ورسٹی کا طالب علم نہ ہونے کے باوجود ڈھاکا یونی ورسٹی کے جگن ناتھ ہال میں رہ رہا ہے۔ اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ میرے کئی اور بھائی بند بھی انھی کارروائیوں میں مشغول ہیں اور یونی ورسٹی کے مختلف ہاسٹلوں میں رہ رہے ہیں۔ پولیس نے اس گرفتاری کی تفتیش اتنی سی کی، کہ اس لڑکے کو بھی رہا کر دیا گیا۔

    ۸-  یونی ورسٹیوں میں اساتذہ طلبہ کو تشدد کی تعلیم دیتے ہیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ ڈھاکا یونی ورسٹی کے شعبہ سیاسیات کےایک استاد نے طلبہ کو تلقین کی کہ ’’آپ ہرسیاسی جماعت کےجلسے میں پہنچیں اور اسے گیارہ نکات کی تائید کرنے کو کہیں۔ اگروہ ایسا نہ کرے تو اسٹیج پرقبضہ کرلیا جائے‘‘۔

اگر مندرجہ بالا نکات پر غور نہ کیا گیا تو پھر حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ قانون کو سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اگراس پر عمل نہ ہو، تو پھراس کی ضرورت کیا ہے؟

پلٹن میدان میں ہنگامے نے جس موڑ کی نشان دہی کی ہے وہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ اگر مشرقی پاکستان میں حالات کی گاڑی موجودہ رُخ پر اور موجودہ ہاتھوں میں چلتی رہی تو کسی وقت کچھ بھی ناقابلِ تصور المیہ رُونما ہوسکتا ہے۔