جولائی ۲۰۱۵

فہرست مضامین

رمضان اور محاسبۂ نفس

حسن البنا شہید /محمد ظہیرالدین بھٹی | جولائی ۲۰۱۵ | تزکیہ و تربیت

یہ ہے مہمان گرامی قدر، جو اَب کوچ کے لیے تقریباً پابہ رکاب ہے۔ اس کے اوقات خیروبرکت سے بھرپور ہیں۔ مسلمانوں نے اس کے گنے چنے دنوں سے خوب استفادہ کیا ہے، مگر اب یہ رُخصت ہونے والا ہے۔ ہر کام کی ایک مدت ہوتی ہے۔ ہروقت سمٹنے والا ہے۔ آپ جس سے چاہیں، محبت کریں، بالآخر ایک دن آپ نے اسے چھوڑ دینا ہے۔ آپ جو چاہیں کریں،   ایک دن آپ کے عمل نے منقطع ہوجانا ہے۔

اب آپ یہ دیکھیے! کیا مسلمانوںنے اپنے مہمانِ مہربان کا خوب خیرمقدم کیا ہے؟

کیا انھوں نے اس کی اچھے طریقے سے مہمان نوازی کی کہ وہ شکرگزار اور احسان مند ہو؟

یا پھر رمضان کی مہمان نوازی کو اپنے لیے بوجھ سمجھا ہے؟ اس کے حق کو فراموش کرکے نظرانداز کیا ہے کہ وہ افسردہ و مغموم ہو؟___ مہمان یا تو میزبان کی تعریف کرتا ہے یا اس کی مذمت!

زمانے کی یادداشتوں پر مشتمل اس ڈائری کے روشن و درخشندہ صفحات، یعنی ماہِ رمضان کے دنوں میں سے بہت ہی کم صفحے خالی رہ گئے ہیں۔ زیادہ تر صفحات تو لپیٹ دیے گئے ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ شر سے آلودہ ہیں یا خیر سے بھرے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا مسلمانوں نے اس کتاب کے صفحات پر نیکیوں کی روشنائی سے کچھ تحریر کیا ہے؟ کیا اسے طاعت و فرماں برداری کے اَنوار سے تابندہ کیا ہے؟ کیا اسے اخلاق کے بیل بوٹوں سے سجایا ہے؟ کیا اسے پاک صاف رکھا ہے؟ کیا اسے اخلاقِ عالیہ سے آراستہ کیا ہے اور اس پر آخر میں استغفار کی مشک لگائی ہے، یا اسے بالکل نظرانداز کردیا ہے اور غفلت کی نذر کر دیا گیا ہے اور یہ صفحات خالی رہ گئے ہیں۔ ایسا تو نہیں کہ اسے نافرمانی اور حکم عدولی کی کثافت سے آلودہ کردیا ہو اور نافرمانی و سرکشی کی تاریکی سے اسے مکدر و افسردہ کیا ہو۔

یہ ہے رمضان، وہ گواہ جو ہمارے یہاں چند دنوں کے لیے مقیم رہا اور اب تقریباً واپس جانے ہی والاہے، کہ جس مہم پر اسے یہاں بھیجا گیا تھا، وہ مہم تقریباً پوری ہوچکی ہے۔ اب یہ اپنی گواہی کا اعلان کرے گا اور جو مشاہدہ کیا ہے، اسے بیان کرے گا۔ اگر نیکی اور خیر دیکھا ہے تو اس کی گواہی دے گا اور اگر بُرائی اور شر دیکھا ہے تو اس کا حال بتائے گا۔ کیا مسلمانوں کے بس میں یہ ہے کہ وہ ایسا کریں کہ اپنے اعمال کو اپنے حق میں حجت بنائیں نہ کہ اپنے خلاف گواہ؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی خاطر جو سواری بھیجی ہے___ زمانے کی سواری___ اس نے ایک مرحلہ طے کرلیا ہے اور اپنی منزلِ مقصود کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے۔ یہ اپنے دامن میں نیکی یا گناہ کو لیے پردوں کے پیچھے چلی جائے گی۔ پھر یہ سواری،  اپنے اپنے سواروں کی ہرچیز سنبھال کر رکھے گی۔ چنانچہ ہر انسان وہ کچھ دیکھ لے گا، جو اس نے آگے بھیجا ہوگا:

یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا ج وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓئٍج  تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَھَا وَ بَیْنَہٗٓ اَمَدًام بَعِیْدًا ط (اٰلِ عمرٰن ۳:۳۰) وہ دن آنے والا ہے جب ہرنفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا، خواہ اس نے بھلائی کی ہو یا بُرائی۔ اس روز آدمی یہ تمنا کر ے گا کہ کاش! ابھی یہ دن اس سے بہت دُور ہوتا۔

یہ ہے عظیم ماہِ رمضان، ماہِ بابرکات، جو تیزی سے جا رہا ہے اور اس کے جانے میں بس چند ہی دن بلکہ لمحے باقی رہ گئے ہیں___ مسلمان ان مبارک اوقات میں کیا کرتے رہے ہیں، یہی سوالات ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔

میرے بھائی! آپ تو ایک عظیم انسان ہیں۔ آپ تو مردانِ کارزار میں سے ہیں۔ باقی رہے غافل انسان، ان کا حال یہ ہے کہ وہ ان محترم و مکرم دنوں کے تقدس کو نہیں جانتے۔ وہ تو ان ایامِ مبارکہ کی کھلم کھلا بے حُرمتی کرتے ہیں اور نہ وہ فرائض اور ذمہ داریوں کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ہاں رمضان اور غیر رمضان برابر ہوتے ہیں۔ اس قماش کے لوگ سارا سال  لغویات میں گزار دیتے ہیں، اپنی مستیوں میں غرق ہوتے ہیں، اور اپنی اس روش پر مطمئن ہوتے ہیں، اور گناہوں سے آلودہ ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ  اپنے مہمان کی بے عزتی کرتے ہیں۔

یہ لوگ اس سواری پر شرور و مفاسد کا بوجھ لاد دیتے ہیں۔ اگر اس طرح کے لوگ نجات کا ارادہ کرلیں، تو حق کی طرف واپسی کا راستہ کھلا ہے، توبہ کا امکان ہے۔ توبہ قبول کرنے والا کریم و سخی ہے۔ رجوع کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ آقا مہربان، کریم اور بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ وہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے، گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔

کیا ہی اچھا ہو، اگر یہ زیادتی کرنے والا، حد سے تجاوز کرنے والا، اپنے گناہوں سے توبہ کرلے، اپنے پروردگار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوجائے۔ اس کی جانب رجوع کرلے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اللہ ایسے مستحق کی خطائوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ اس کے درجات بلند فرمائے گا۔

بے پروا اور غافل انسان سے ماہِ رمضان یوں گزر جاتا ہے، جیسے خوابیدہ قوم کے سروں سے بادل گزر جاتے ہیں۔ نہ وہ ان پر برستے ہیں، نہ انھیں بادلوں کا سایہ نصیب ہوتا ہے، نہ بادلوں کے فوائد و ثمرات سے کوئی فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ ایسا انسان ضیافت کی فضیلت سے محروم    رہ جاتا ہے۔ وہ دستاویز کی توثیق اور گواہ کی مثبت گواہی سے بھی تہی داماں ہی رہتا ہے۔

یہ بدبخت مسلمان سواری کو یونہی چھوڑ دیتا ہے، حالانکہ اس پر خیرو برکت لدا ہوتا ہے۔اس کے لیے اب موزوں یہی ہے کہ وہ رمضان کے باقی ماندہ دنوں کی قدر کرے اور اپنے رُوٹھے ہوئے مہمان کو منا لے۔ باقی کے چند دنوں میں اس کی خوب آئو بھگت اور خاطر تواضع کرے۔ یوں وہ کتابِ زندگی کے صفحات میں اپنے لیے نیکیوں کے اندراجات کو یقینی بنالے۔ وہ گواہ کو راضی کرسکتا ہے کہ اس کے سامنے نیکی کے کارنامے سرانجام دینے لگے اور سواری کو حسب ِ استطاعت بھلائیوں اور ثواب کے کاموں سے بھرلے۔ ہوسکتا ہے کہ اس گنہگار مسلمان کی ان تھوڑے دنوں کی محنت کو اللہ تعالیٰ شرفِ قبولیت سے نوازے، اور اسے بہت بڑا اجر دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

دُوراندیش و دانا شخص تو وہ ہے جسے مہمان کی آمد کا علم ہوا تو اس نے اس کے استقبال کے لیے خوب خوب تیاری کی، پھر مہمان کی بھرپور مہمان نوازی کی، اور اس کے پورے عرصۂ قیام کے دوران میں اس کا خندہ پیشانی سے خیرمقدم کرتا رہا۔

وہ ماہِ رمضان کی ہرگھڑی کا دل کی اَتھاہ گہرائیوں سے خیرمقدم کرتا ہے، اطاعت و فرماں برداری سے اس کی تکریم و توقیر کرتا ہے اورہرگھڑی پروردگار کا شکر بجا لاتا ہے۔ اس کی مہربانیوں پر سجدہ ریز ہوتا ہے۔ اس کی زبان اپنے پالنہار کی تسبیح و تحمید اور حمدوثنا سے معطر رہتی ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اس کی کتابِ زندگی اس کے عمل اور کارکردگی کا ریکارڈ ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ اس کے نامۂ اعمال میں درج ہو رہا ہے، اس کی تدوین ہورہی ہے، اس سے اس کا رُتبہ بڑھے گا،اس کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوگا۔ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو اس کے آقا، اس کے رب کے رُوبرو اس کے حق میں حجت ہوگی۔ رمضان اس کا گواہ ہے، وہ اسے دیکھ رہا ہے، اس پر نگران ہے، لہٰذا وہ اس نگران و گواہ کو صرف وہی دکھائے جس سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو، یعنی نماز، روزہ، تلاوت، قیام، پاک دامنی، عفت، خودداری، پاکیزگی، طہارت، صدقہ، نیکی اور خیر کی جانب لپکنا۔ یہ گواہی اس کے حق میں بُرہان و سند ہوگی، جو قابلِ اعتبار ہوگی، جسے اہمیت دی جائے گی۔

مرد صالح و نیکوکار جب ماہِ رمضان کی سواری کو دیکھتا ہے کہ وہ تیزی سے رواں دواں ہے تو وہ پھر ہرقدم پر بہت سی نیکیاں کمانے کی فکر کرتا ہے۔ یہ شخص یقینا اس لائق ہے کہ جو کچھ اس نے پیش کیا، اس پر مطمئن ہوجائے اور اپنے انجامِ کار اور عاقبت کے بارے میں خوش بخت و سعید ہو اور بے فکر و بے اندیشہ ہو۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ o وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ o (الزلزال۹۹: ۷-۸) پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔

یہ شخص یقینا اس بات کا حق دار ہے کہ اس کی مساعی دوچند ہوکر مشکور ہوں، اس کی بیداری و ہشیاری میں اضافہ ہو۔ اصل میں اعتبار انسان کے انجام و خاتمے کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مستعد و تیار و آمادہ ہوجاتے تھے۔ اپنے اہلِ خانہ کو بیدار کرتے تھے اور خود کمربستہ ہوجاتے تھے۔

برادرِ عزیز! آپ کا شمار کس قسم کے لوگوں میں ہونا چاہیے؟

دیکھو یہ رمضان ہے، جانے کا اعلان کر رہا ہے، کوچ کرنے کی منادی کر رہا ہے۔ یہ تمھارا معلّم تھا جو تمھیں صحیح مردانگی کے بنیادی اصول اِملا کروا رہا تھا۔ عزمِ مصمم اور قوی ارادے کی تربیت کرتا رہا ہے، صبروبرداشت کا عادی بناتا رہا ہے۔ تمھارے لیے راہِ آزادی کے نشانات متعین کرتا رہا ہے، تمھاری نگاہوں پر پڑے ہوئے غفلت کے پردوں کو ہٹاتا رہا ہے، حتیٰ کہ تمھاری نگاہیں اُفق پر جاپہنچیں۔ یہ رمضان تمھیں اللہ تبارک و تعالیٰ کے بارے میں، اس کی کتاب کے بارے میں اور اس کے دین اور اس کی آیتوں کے بارے میں فہم و بصیرت سے نوازتا رہا ہے۔

یاد رکھیے کہ ہر استاذ کا ایک حلقۂ اثر ہوتا ہے، ہرمعلّم کے اپنے شاگردوں پر اثرات ثبت ہوتے ہیں۔ اب بتائو کہ ماہِ رمضان نے تم لوگوں پر کیا کچھ اثرات چھوڑے؟ تم میں کیا کچھ بدلا؟ ذرا اپنا  موازنہ کرو رمضان سے پہلے اور بعد کی حالت سے، اور کوشش کرو اور اپنی روحوں کا جائزہ لو:

  •  کیا آپ لوگوں کا ارادہ قوی ہے اور آپ اس قابل ہوگئے ہیں کہ شرافت و دیانت کے عظیم کارناموں کو سرانجام دینے میں پیش پا افتادہ باتوں سے دامن کش ہوسکیں؟
  • کیا آپ لوگ سختیوں پر صبروبرداشت کرنے کے اہل ہوچکے ہیں؟
  • کیا عظیم مقاصد و اہداف کے حصول کی خاطر قربانی دینے کا جذبہ بیدار ہوچکا ہے؟
  • کیا نگاہوں سے غفلت کے پردے چھٹ چکے ہیں؟ اور آپ کو اس حقیقت کا اِدراک ہوچکا ہے کہ اس دنیا کا مال و متاع اور سازوسامان، سب عزتِ نفس کے مقابلے میں حقیروہیچ ہے؟ عزت و شرافت، حُریت، ضمیر اور سعادتِ روح کے سامنے فروتر ہے؟
  • کیا آپ نے دین کو سمجھا ہے؟ اس کی آیات کا فہم حاصل کیا ہے؟ کیا آپ میں یہ صلاحیت ہے کہ جامد الفاظ کے پردوں کے پیچھے چھپے حقائق و معانی تک رسائی پائیں؟

اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ لوگ خوش بخت ہیں، سعادت مند ہیں، اس ہدایت ِ الٰہیہ پر  سجدئہ شکر بجا لائو___ اور اگر ایسا نہیں ہے ___ تو رمضان کی باقی ماندہ گھڑیوں میں اپنی روحوں کے آئینے کو صیقل کرنے کی کوشش کرو، اپنے نفوس کی میل کچیل دُور کرلو۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے فیض سے اپنی روحوں کو نفع پہنچا لو۔ اس بابرکت مہینے کے پُرسعادت لمحوں کو قید کرلو۔ قید کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان سے بھرپور فائدہ اُٹھائو۔

اگر آپ نے ان ہدایات پر عمل کیا تو ان شاء اللہ آپ کو کامرانی نصیب ہوگی اور اگر منہ موڑ لیا اور لائق توجہ نہ سمجھا، تو پھر خسارے سے کوئی نہیں بچا سکے گا___ یااللہ! گواہ رہنا!!

(مجلہ الاخوان المسلمون، ۱۱ جنوری ۱۹۳۴ئ، بحوالہ افکارِ رمضان، ص ۱۷۷-۱۸۳)