جولائی ۲۰۱۹

فہرست مضامین

بھارتی اسلاموفوبیا کی جڑیں اور مظاہر

ظہور احمد نیازی | جولائی ۲۰۱۹ | اخبار اُمت

گذشتہ چند عشروں میں بھارت کے کسی وزیراعظم کو وہ مقبولیت اور کامیابی نہیں ملی، جو نریندر مودی کے حصے میں آئی ہے۔ لوک سبھا کی ۵۴۲ نشستوں کے انتخابات میں بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) اور اس کے اتحادیوں نے ۳۵۳ نشستیں حاصل کرلیں، جب کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو صرف ۹۰ نشستیں ملیں۔
بی جے پی کی اتنی بھرپور کامیابی کی وجوہ کیا ہیں؟ یہ نتائج بھارت میں کن تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں؟ بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل کیا نظر آرہا ہے؟ پڑوسیوں کو اب بھارت سے کس سلوک کی توقع رکھنی چاہیے؟علاقے میں امن کو کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں؟ عالمی جریدے ٹائم نے گذشتہ ماہ اپنے سرورق مضمون میں نریندر مودی کو Divider in Chief قرار دیا۔ بھارت کی بڑی منڈی کی قوت نے وہ کرشمہ دکھایا کہ پھر اسی مؤقر رسالے نے اگلے شمارے کے اداریے میں مودی کو ’بھارت کومتحدکرنے والا‘ وزیراعظم قرار دے دیا۔ گویا ’ہندو بنیا جیت گیا، امریکی بنیا ہار گیا‘۔
 لوک سبھا میں بی جے پی کو دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے مزید صرف ۹؍ارکان کی حمایت درکار ہے۔اسے حاصل کرنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہوسکتی۔ ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں اسے پہلے سے دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ریاستوں میں بھی وہ ۵۰ فی صد نشستیں رکھتی ہے اور مزید کی حمایت حاصل کرسکتی ہے۔ گویا آئین میں ترمیم کے تمام لوازمات تقریباً پورے ہیں۔ 
سوال یہ ہے کہ کن مقاصد کی تکمیل کے لیے بی جے پی کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے؟ ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کے لیے پہلے ہم امریکا کی یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا، برکلے کی رپورٹ کا جائزہ لے لیں، جو مرحلہ وار بھارتی انتخابات شروع ہونے سے صرف گیارہ روز قبل جاری ہوئی۔ اس پس منظر میں بھارت کے مستقبل کے عزائم کو سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ رپورٹ مذکورہ یونی ورسٹی کے Centre for Race & Gender's Islamophobia Research & Documentation Project نے تیار کی ہے۔ اس کا عنوان ہے: ’بھارت میں اسلافوبیا: بدسلوکی کی بھڑکتی آگ‘۔ مصنّفین میں ڈاکٹر حاتم بازیان، پاؤلاٹومسن اور رونڈا اٹاوی شامل ہیں۔ ڈاکٹر حاتم نے یونی ورسٹی کی جانب سے ۲۰۱۹ء کے سالانہ افطار ڈنر کے موقعے پر اپنی کلیدی تقریرمیں رپورٹ کے چیدہ چیدہ حصے بیان کیے۔

بھارتی اسلاموفوبیا

اوکسفرڈ ڈکشنری کے مطابق: ’’اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے طور پر ایک راے قائم کر کے اس کی بنیاد پر اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرنے، خصوصاً ان کی سیاسی قوت کو ناپسند کرنے کو اسلاموفوبیا کہا جاتا ہے‘‘۔ بھارت میں اسلاموفوبیا روزِ اوّل سے موجودتھا۔ بی جے پی کے جھنڈے تلے انتہاپسندوں کی حکومت میں گذشتہ عشرے میں اس فتنے نے معاشرے کے بہت بڑے حصے کو اپنے جال میں پھنسا لیا۔ مسلمانوں،عیسائیوں، سکھوں، نچلی ذات کے شودروں اور دلتوں پر حملوں میں تیزرفتاری سے اضافہ ہوگیا۔اقلیتوں پر عرصۂ حیات مسلسل تنگ کیا جانے لگا۔
بھارتی اسلاموفوبیا کے واقعات کو آج تک مغرب میں تحقیق کا موضوع نہیں بنایا گیا تھا۔ حال ہی میں یہ پہلی رپورٹ ہے، جو ایک امریکی یونی ورسٹی نے تیار کی ہے۔ یہ رپورٹ واشگاف الفاظ میں بتاتی ہے کہ عوام کی حفاظت کے ذمہ دار سرکاری اداروں اور کارندوں کے ذریعے بی جے پی کی حکومت نے کس طرح مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا ہے؟ بے سہارا طبقوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے لیے مغرب کے انتہاپسند دائیں بازو کے گروپ اسلاموفوبیا کا ہوّا کھڑا کر کے جو حملے کرتے ہیں، ان کے طریقۂ واردات سے امریکا اور یورپ کے مبصرین خوب آگاہ ہیں، مگر دانستہ طور پر خاموش تماشائی۔ کس طرح ایک طبقےکو ملک و ملّت اور دین و دھرم کا دشمن اور خود کو جنتا کا محافظ قرار دے کر زیادہ ووٹ حاصل کیے جاتے ہیں؟ جمہوریت کے نام پر فسطائیت قائم کی جاتی ہے، اسے کوئی خطرناک بات تصور ہی نہیں کیا گیا۔
زیربحث رپورٹ کے مطابق حکمران بی جے پی کے لیڈر نفرت کے پرچارک اور فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث رہے۔ جن سیاسی رہنمائوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے پر مقدمے درج ہیں، ان میں سب سے زیادہ تعداد بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی ہے۔ ۲۰۱۹ء کے الیکشن کے لیے ٹکٹ بھی انھیں دیے گئے جو نفرت پھیلانے میں سب سے آگے تھے۔ یوں اسلاموفوبیا کا مرض تیزی سے پھیلتا چلا گیا۔ سیاست اور نفرت کا کیا جوڑ ہے؟ اس کے بارے میں رپورٹ کہتی ہے کہ: ’معاشرے کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے والوں کی کامیابی کا امکان چار گنا بڑھ گیا، ان کا تعلق چاہے کسی جماعت سے ہو۔ ان کے لیے یہ بڑا نفع بخش سودا ہے‘۔

اسلاموفوبیا کے چند نمونے

اس رپورٹ میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے رہنمائوں کی تقریروں کے چند نمونے درج کیے ہیں:

  • وزیراعظم مودی کہتے ہیں: ’کانگریس کے رہنما جو زبان بول رہے ہیں وہ جمہوریت میں قابلِ قبول نہیں، توہین آمیز ہے۔ یہ مغلوں کی ذہنیت کی عکاس ہے‘۔lممبرپارلیمنٹ سبرامینم سوامی دھمکاتے ہیں: ’مسلمانوں کو بھارت میں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے یہ حلف اُٹھانا پڑے گا کہ ان کے آباواجداد ہندو تھے‘۔ lممبر پارلیمنٹ سریندر سنگھ حملہ آور ہوتے ہیں: ’صرف چند مسلمان ہی محب وطن ہیں۔ بھارت جب ہندو ریاست بن جائے گا تو صرف انھی مسلمانوں کو یہاں رہنے کی اجازت ہوگی جو ہمارے طور طریقے اپنا لیںگے۔ جن پر ہمارے کلچر کارنگ نہیں چڑھے گا، وہ کسی اور ملک میں جاکر سیاسی پناہ لے لیں‘۔ l مرکزی وزیر گری راج سنگھ یہ کہہ کر ہندوئوں کو ڈراتے ہیں: ملک کی، خصوصاً مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی ہمارے سماجی ڈھانچے ، معاشرتی ہم آہنگی اور ملک کی ترقی کے لیے خطرہ ہے‘۔ lایک اور قانون ساز سنجے پٹیل ہندوئوں کو سمجھاتے ہیں: ’یہ انتخابات سڑکوں، پانی اور اس جیسے دوسرے مسائل کے لیے نہیں ہورہے۔  یہ مسلمان بمقابلہ ہندو، بابری مسجد بمقابلہ رام مندر کا معاملہ ہے‘۔ lبی جے پی کے چوٹی کے رہنما اور یوپی کے چیف منسٹر یوگی ادتیاناتھ کے نشتر دل میں گہرائی تک اُترنے والے ہیں۔ کہتے ہیں: ’ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح مسلمانوں کے بھارت میں داخلے پر پابندی لگا دیں گے‘۔ ان کی دیگر دھمکیاں جو رپورٹ کا تو نہیں، اخبارات کی زینت بنی ہیں: ’یوگا ہماری مذہبی عبادت ہے، جو اسے نہیں مانتا وہ ملک چھوڑ دے‘۔’تمام مساجد اور گرجاگھروں کو مسمار کر دیں گے، یا مسجدوں میں سور پا لیں گے‘ وغیرہ۔

ظلم و جور کے نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا ہے!

بھارتی حکومتی عمائدین کے اس نوعیت کے بیانات نہ صرف اسلاموفوبیا کے مظاہر ہیں، بلکہ ان سے یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ پہلے سے چاروں اطراف سے خطرات میں گھری ہوئی مسلم آبادی کے خلاف ظلم و جور کے نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت اور سرکاری اداروں کے اقدامات سے مسلمان ہراساں تو ہیں ہی ، انھیں مزید حملوں، مجرمانہ کارروائیوں، قیدوبند، ریاستی تشدد، ملک بدری، حتیٰ کہ موت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ اس طرح کی رپورٹوں میں عموماً گذشتہ واقعات کا تذکرہ کیاجاتا ہے اور مستقبل پر اظہارِ خیال میں بہت احتیاط برتی جاتی ہے، خصوصاً جب معاملہ ایسے ملک کا ہو، جو نہ صرف مغربی ملکوں بلکہ اسرائیل کا بھی چہیتا ہو۔ لیکن اس رپورٹ کے مصنّفین کو ڈھکے چھپے الفاظ میں سہی، آنے والے خطرات کا ذکر کرنا پڑا ہے۔
۲ کروڑ دیوتائوں کو ماننے والے ہندوئوں کی سرشت میں خوف رچا بسا ہوتا ہے۔ مظاہرِ فطرت میں سے اس نے ہراس چیز کو دیوتا بنا لیا، جس سے اسے خوف محسوس ہوا یا کسی فائدے کی توقع ہوئی۔ ہزار سالہ غلامی نے اس ذہنیت کو مہمیز لگادی۔ وہ نہیں چاہتا کہ بھارت میں ایک بھی مسلمان موجود رہے۔ چنانچہ رپورٹ میں’گھر واپسی‘ مہم کا جائزہ لیا گیا ہے۔

’گھر واپسی مہم‘

مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کی مہم کا نام ’گھر واپسی‘ رکھا گیا ہے۔ ’آر ایس ایس‘ اپنی اس مہم کا فلسفہ بتاتی ہے کہ: ’یہ مذہب کی تبدیلی نہیں بلکہ اصل کی طرف لوٹنا ہے۔ آج بھارت میں جو شہری ہندو نہیں، ان کے آباواجداد کو جبراً ہندومت چھوڑ کر اسلام یا دوسرے ’غیرملکی‘ مذاہب قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ ایشور نے ہندستان کو دیوتائوں کے لیے منتخب کیا تھا۔ ہمالہ میں برہما، وشنو، شیواترے، گویا یہاں دیوتائوں اور دیویوں کا راج تھا۔ پھر کرشنا مہاراج اور دوسرے اوتار بھیجے گئے۔ 
یہ سرزمین صرف ہندوئوں کے لیے ہے۔ مقامی آبادی میں سے راجپوت، جاٹ جیسی قومیں ہندومت میں واپس آجائیں تو انھیں تو قبول کرلیا جائے گا۔ لیکن جو غیرملکی افغانستان سے لے کر عرب تک کے علاقوں سے آئے ہوں، چاہے وہ ہاشمی ہوں یا پٹھان اور وہ ہندو بننے کوبھی تیار ہوں، تب بھی انھیں قبول نہیں کیا جائے گا، کیوںکہ انھوں نے اس دھرتی کو ناپاک کیا ہے۔ وہ ملیچھ ہیں۔ ہم انھیں شہریت کا حق نہیں دیں گے بلکہ اس سرزمین پر کوئی سیکولر قانون نہیں چلے گا۔ صرف ہندو قوانین نافذ ہوں گے۔ ہندو، سکھ، عیسائی، جین، مسلمان ایک قوم نہیں۔ یہ ’دوقومی نظریہ‘ تھا، جو آرایس ایس کی طرف سے ۱۹۲۵ء میں اس کے قیام کے وقت پیش کیا گیا تھا۔ صرف دو سال بعد ۱۹۲۷ء میں ناگ پور میں جب گھنیش یاترا نکالی گئی، تو مسلمانوں پر حملے شروع ہوگئے۔ آرایس ایس نے جن سنگھ اور مہاسبھا کے ساتھ مل کر طے کیا کہ اب ہندو پُرامن نہیں رہے گا، جتھے بنائے گا، جنگی تربیت لے گا۔ چنانچہ ابتدائی طور پر ۱۲ مراکز قائم کیے گئے۔ 
بھارت کی آزادی کے بعد جب کانگریس نے سیکولر آئین بنانا چاہا تو آر ایس ایس نے اس سے انکار کر دیا اور سیکولر آئین سازی کے جرم میں گاندھی کو قتل کر دیا گیا۔ آر ایس ایس بھارت کے ترنگا جھنڈے کو بھی نہیں مانتی۔ وہ کہتی ہے: اس میں دوسری قوموں کو نمایندگی دی گئی ہے۔ ہم اس کی جگہ زرد رنگ کا جھنڈا، قومی جھنڈابنائیں گے۔ ان کا اصرار ہے کہ ملک کو انڈیا نہیں، ہر زبان میں ہندستان ہی کہا جائے۔ ۱۹۷۳ء کے آر ایس ایس کے رہنما ہندوئوں کی ذہن سازی کرتے رہے۔ 
آر ایس ایس کی ایک شریک کار تنظیم وشوا ہندو پریشد(VHP) کے رہنما کا کہنا ہے کہ ایک دور میں ساری دنیا ہندو تھی۔ ۷؍ ارب لوگ ہندو تھے۔ آج صرف ایک ارب ہی رہ گئے ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں فیصلہ کیا گیا کہ اب انتخابات میں حصہ لینے کا مرحلہ آگیا ہے۔ بجرنگ دل کے ساتھ مل کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بناکر ۱۹۸۴ء کے انتخابات میں قسمت آزمائی کی گئی، لیکن وہ صرف دو نشستیں ہی حاصل کرسکے۔ بہت سوچ بچار کے بعد امرناتھ یاترا کو ساتھ ملا کر ایودھیامیں رام مندر کی تعمیر کی مہم شروع کی گئی۔ یہ وار اس حد تک تو کامیاب رہا کہ بی جے پی کو ۸۳ نشستیں مل گئیں مگر وہ حکومت نہ بنا سکی، البتہ آیندہ پانچ سال کی محنت کے بعد اسے حکومت مل گئی۔ واجپائی وزیراعظم بن گئے اور ۱۲سال تک رہے۔ 
آر ایس ایس کو جب یقین ہوگیا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کی مہم کے ذریعے ہندوئوں میں نفرت کے شعلے اتنے بلند کرچکی ہے کہ اب اپنے ایجنڈے کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکے گی، تو انھوں نے مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن، گجرات کے سکّہ بند قاتل وزیراعلیٰ نریندر مودی کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے اپنا اُمیدوار بنالیا۔
۲۰۱۴ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ’گھر واپسی تحریک‘ کا آغاز کر دیا گیا تھا، لیکن اس میں تیزی ۲۰۱۷ء میں دیکھنے میں آئی۔ زیربحث رپورٹ کے مصنّفین کا کہنا ہے کہ وہ اس کی جامع تفصیلات جمع نہیں کرسکے ہیں۔ ’دھرم جاگرن سمیتی‘ (بیداریِ مذہب کونسل) نے ہزاروں مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہندو بنانے کے لیے بیرونِ ملک اور اندرونِ ملک بڑے پیمانے پر فنڈز اکٹھے کرنے شروع کیے۔ آر ایس ایس اور وی ایچ پی کے تعاون سے یہ کونسل بنائی گئی۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس تنظیم نے ہندو سازی کا کام تیز کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ۲۰۲۱ء تک پورے ملک میں ہندوئوں کے سوا کوئی نہیں بچے گا۔ ان اعلانات سے مسلمانوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا۔ وہ ہندوئوں کی آبادی سے نکل کر ان پس ماندہ علاقوں میں منتقل ہونے لگے، جہاں پہلے سے مسلمان اکٹھے رہ رہے تھے۔ ۲۰۱۴ء میں ’وشوا ہندو پریشد‘ نے اعلان کیا کہ وہ اڑیسہ، گجرات، ستیش گڑھ، جھاڑکھنڈ اور آسام میں ۳۴ہزار افراد کو ہندو بنا چکی ہے اور ۴۹ہزار افراد کو ہندومت چھوڑ کر دوسرے مذہب میں جانے سے روک چکی ہے۔ ان کی طرف سے جو کتابچے شائع کیے گئے ہیں، ان میں بتایا گیا ہے کہ ایک مسلمان کو ہندو بنانے پر ۵لاکھ روپے اور ایک عیسائی کو ہندو بنانے پر ۲ لاکھ روپے خرچ ہوتا ہے۔ ۲۰۱۶ء میں بھی اس طرح کی رپورٹیں سامنے آئی تھیں کہ لوگوں کو زبردستی ہندو بنایا جارہا ہے۔

تبدیلیِ مذہب کی چند مثالیں

  1.  ستمبر ۲۰۱۴ء میں مدھیہ پردیش کے علاقے شیوپوری میں بجرنگ دل اور وی ایچ پی نے مقامی حکام پر دبائو ڈالا کہ ان ۹ دلتوں کی درخواستیں مسترد کر دی جائیں جو اسلام قبول کرنا چاہتے تھے۔
  2. دسمبر ۲۰۱۴ء میں آر ایس ایس سے منسلک گروپوں نے ۲۰۰ مسلمانوں کو ہندو بنانے کا اعلان کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔ انھیں تو یہ کہا گیا تھا کہ ہم آپ کا شناختی کارڈ بنوانے میں مدد کر رہے ہیں۔
  3. فروری ۲۰۱۶ء میں ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنوں پر اچانک بڑے بڑے بینرز آویزاں کیے گئے کہ: ’’جو عیسائی ہندو نہیں بنتا، وہ ۲۰۲۱ء تک ملک چھوڑ دے یا پھر قتل ہونے کے لیے تیار رہے‘‘۔
  4. اپریل ۲۰۱۷ء میں مہاراج گنج، یوپی میں ایک ہندو گروپ نے ایک گرجے کا گھیرائو کرکے پولیس طلب کرلی اور دعویٰ کیا کہ اندر لوگوں کا مذہب تبدیل کرا کے عیسائی بنایا جارہا ہے۔ پولیس جب گرجے کے اندر گئی تو پتا چلا کہ امریکا اور یوکراین سے آئے ہوئے عیسائی سیاح اپنی عبادت (سروس) میں مشغول ہیں۔

میڈیا پر کنٹرول

مودی حکومت کی زیادتیوں کو بے نقاب کرنے اور اسے تنقید سے بچانے کے لیے میڈیا کے تمام شعبوں کو سخت قسم کے دبائو،دھونس اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔اس میں کچھ اسی نوعیت کے جابرانہ ہتھکنڈے برتے جارہے ہیں جو ۵۴-۱۹۵۰ء کے دور میں سینیٹر میکارتھی کی نگرانی میں امریکی حکومت نے مبینہ طور پر کمیونسٹوں کے خلاف اُٹھائے تھے۔ تب جن لوگوں کو بلیک لسٹ کیا گیا اور نوکریوں سے نکالا گیا، ان میں بہت سوں کا تو کمیونسٹ پارٹی سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ چنانچہ صحافیوں کا گلا گھونٹنے کے لیے حکومتیں جو بھی سخت اقدامات کرتی ہیں، انھیں اب دنیا بھر میں ’میکارتھی ازم‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے ’وار روم‘ میں ایسے تمام صحافیوں اور دانش وروں کی نشان دہی کی جاتی ہے، جو اخبارات و جرائد، ریڈیو یا ٹی وی یاسوشل میڈیا پر مودی سرکار پر تنقید کرتے ہیں۔ پھر ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے کہ کس کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے؟
The Reporters without Borders World Press Freedom Index کا تحقیقات کے بعد کہنا ہے کہ: ’ان میڈیا ہائوسز اور صحافیوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مہم شروع کی جاتی ہے۔ انھیں قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں‘۔ بھارت کے پہلے پرائیویٹ نیوز چینل NDTV کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ: ’مودی کی پالیسیوں پرذرا سی تنقید کے جواب میں فیڈرل پولیس، ادارے کے خلاف ’فراڈ‘ کے الزام میں تحقیقات کر رہی ہے‘۔ ایک اور ادارے ’The Wire‘ کے سدارتھ راجن کا کہنا ہے کہ: ’جو صحافی وزرا کی دوستی کا حقِ نمک ادا نہیں کرتے انھیں وہ Prostitute  (طوائف)کے وزن پر اپنی وضع کردہ اصطلاح میں Presstitute کہتے ہیں، کچھ اور صحافیوں کا کہنا تھا کہ: ’اگر وہ مودی یا اس کے اداروں کے بارے میں معمولی سی بھی لب کشائی کرلیں تو انھیں سنگین دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ذرا سی تنقید کی اشاعت پر تین سینئر ایڈیٹروں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ جو رپورٹر سرکاری لائن سے ہٹ جائیں، انھیں بغاوت کے الزام میں قیدوبند کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘۔
ایک خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب اور اس کے خاندان کو گینگ ریپ کی دھمکی دی گئی۔ اس کی جان کو اتنا خطرہ لاحق ہوا کہ اقوامِ متحدہ کو مداخلت کرنا پڑی۔ اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے ۲۰۱۶ء میں Gujrat Files: Anatomy of a Cover Up کے نام سے ایک کتاب میں ۲۰۰۲ء میں گجرات کے مسلم کش فسادات میں مودی حکومت کے ملوث ہونے کا پردہ چاک کیا تھا۔ پھر گذشتہ سال اس نے ایک نوجوان، دانش کا انٹرویو شائع کیا۔ مودی حکومت کے دوسرے سال ۲۰۱۵ء میں ایک ہندو جتھے نے محمد اخلاق اور اس کے بیٹے دانش پر یہ کہتے ہوئے حملہ کر دیا تھا کہ: ’تم نے اپنے ریفریجٹر میں گائے کا گوشت رکھا ہوا ہے‘۔ شدید زد و کوب کے نتیجے میں محمداخلاق تو موقع پر ہی شہید ہوگیا، جب کہ دانش کے سر پر اتنے وار کیے گئے کہ دماغ کے دو آپریشنوں کے بعد اسے ہوش آیا۔ وہ ان دنوں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز کے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا۔ دانش نے اس انٹرویو میں بھارتی رہنمائوںسے سوال کیا کہ: ’’کیا تم بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے لیے سب مسلمانوں کو قتل کر دو گے؟ یا انھیں ملک بدر کروگے؟ مجھے بتائو تم مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے کس حد تک جانا چاہتے ہو؟ دانش نے اس وقت خدشہ ظاہر کیا تھا کہ: ’’اگر بی جے پی جیت گئی تو کوئی بہت بڑا حادثہ رونما ہوگا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس کی نوعیت کیا ہوگی؟ لیکن مجھے لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ جائے گا اور ہم اسے جوڑ نہ سکیں گے‘‘۔ دانش کا یہ خوف اب بھارت کا ہرمسلمان اپنے دل میں محسوس کررہا ہے۔ مسلمان ہونے کے ’جرم‘ میں ان پر انتہاپسند ہندوئوں کے حملے بڑھتے جارہے ہیں۔
۲۰۱۹ء کے بھارتی انتخابات کے پہلے ہی روز بی جے پی کی طرف سے یہ ٹویٹ کیا گیا کہ ہم شہریوں کے قومی رجسٹر سے بودھوں، سکھوں اور ہندوئوں کے سوا ہر ایک ’گھس بیٹھیے‘ [مراد ہے مسلمان اور عیسائی] کا نام خارج کردیں گے۔اشارہ واضح ہے بی جے پی مذکورہ تین قوموں کے سوا سب کو شہریت اور حق راے دہی سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شا جو اَب وزیرداخلہ بن گئے ہیں، وہ بار بار کہتے رہے ہیں: ’’ہم ان ’دیمکوں‘ (termites) کو اُٹھا کر     خلیج بنگال میں پھینک دیں گے‘‘۔ مولانا سیّد حسین احمد مدنی مرحوم و مغفور آج حیات ہوتے تو اپنی اس راے سے رجوع کرلیتے کہ: ’قومیں وطن سے بنتی ہیں اور ہندو مسلم ایک قوم ہیں‘۔
مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت ،غصے اور انتقام کی یہ آگ،فیس بک ، وٹس ایپ، ٹویٹر اور سوشل میڈیا کے تمام دیگر ذرائع پر اتنی تیزی اور شدت سے پھیلائی جارہی ہے کہ اس کی تپش ہرمسلمان اپنے دل میں محسوس کر رہا ہے۔

صحافیوں پر حملے

’اسلاموفوبیا رپورٹ‘ کے مطابق ۲۰۱۷ء میں مودی سرکار پر تنقید کے جرم میں چار صحافیوں کو قتل کر دیا گیا اور ۲۰۱۸ء میں اس رپورٹ کی تیاری تک مزید چار صحافی ہلاک کر دیے گئے۔ انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق: ایک خاتون صحافی گوری لینکش کے قتل کا فیصلہ ایک سال پہلے کیا گیا۔ زیرزمین دہشت گرد تنظیموں کے ایک کارکن پرشورام کو بالآخر حکم دیا گیا کہ ’ہندو دھرم کی خاطر‘ گوری کو ٹھکانے لگا دو۔ نام نہاد تحقیقات کے بعد قاتل پرشورام کو بری کر دیا گیا۔ 
’کمیٹی براے تحفظ صحافی‘ (CPJ)کے مطابق: ’’مودی کی حکومت آنے کے بعد ۱۲صحافی قتل کیے جاچکے ہیں۔ آزادیِ صحافت کی عالمی رینکنگ میں بھارت کا نمبر ۱۳۶ ہے۔ اس حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ میں جسے ’آپریشن ۱۳۶‘ کا نام دیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ دو درجن میڈیا ہائوسز کو مودی حکومت نے ’ہندوتوا‘ کے پرچار کے لیے بھاری رقوم دیں۔ دو کے سوا تمام میڈیا ہائوسز نے یہ پیسے پکڑ لیے اور ۲۰۱۹ء کے انتخابات کے لیے ووٹروں کو بی جے پی کی طرف راغب کرنا شروع کر دیا‘‘۔ مال کی محبت میں ان کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی کہ انھیں یہ نظر نہیں آیا کہ وہ معاشرے کو تقسیم کرکے تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ: ’’بہت سے میڈیا ہائوسز سیاست دانوں کی ملکیت میں اور ان کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہ کثرت انڈین میڈیا ہائوسز کے نیوز اور بورڈ روموں میں ہندوتوا کا نظریہ نمایاں ہے‘‘۔

اندرونِ ملک، ملک بدری

رفتہ رفتہ یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ’مسلمانوں کے لیے کوئی محلہ ،کوئی علاقہ اور کوئی سفر محفوظ نہیں رہا ہے‘۔ اسلاموفوبیا رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں: ’مسلمان بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں‘۔ جب پارٹی ٹکٹ کا معیار یہ ہو کہ: ’اُمیدوار نے کتنے مسلمان قتل کیے ہیں؟ تو پھر پراگیا ٹھاکرجیسے لوگ لیڈر بنتے ہیں کہ جس نے صرف ایک حملے میں ۱۰مسلمان شہید کر دیے تھے اور مودی نے اسے اپنا چہیتا اُمیدوار بنا لیا۔ اس پر ایسے قتلِ عمد اور کئی قاتلانہ حملوں کا الزام ہے، لیکن کہیں کسی نے کوئی تحقیقات نہیں کیں۔ ۲۳جون ۲۰۱۷ء کو ایک ۱۶سالہ نوجوان جنید خان عید کی خریداری کے لیے ہریانہ کے ضلع پلوال میں اپنے گائوں سے اپنے بھائی کے ساتھ دہلی آیا۔ ان کے دودوست بھی ہمراہ تھے۔ جب وہ واپس جارہے تھے تو ایک جتھے نے ٹرین میں ان پر حملہ کر دیا اور جنید کو مار مار کر ہلاک کر دیا۔ پولیس نے چھے نوجوان گرفتار کرلیے۔ بڑے مجرم نریش کمار کے سوا باقی سارے حملہ آوروں کو رہا کر دیا گیا‘۔
رپورٹ میں متعدد واقعات کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ: ’مسلمانوں پر حملوں کی بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں۔ اس فضا کے نتیجے میں مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔ اگر کوئی مسلمان، ہندو اکثریت کے محلے میں رہتا تھا تو اس کا گھر حملے کا نشانہ بننے لگا۔ شہروں، قصبوںاور محلوں میں آبادیاں مذہب کے حوالے سے بٹنے لگیں۔ حکومت نے اس رجحان کی روک تھام کرنے کے بجاے مزید ہوا دی، جو اسلاموفوبیا کا واضح ثبوت ہے۔ جس زمین کی ذرا سی بھی اچھی قیمت نظر آئی، اسے مسلمانوں سے خالی کرانے کے لیے پورے محلے اُجاڑ دیے گئے اور مسجدیں گرا دیں۔
اترپردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، بہار، راجستھان، مغربی بنگال، جھاڑکھنڈ، تلنگانہ اور آسام میں سب سے زیادہ ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ ۱۷-۲۰۱۵ء کے دوران ان ۱۰ریاستوں میں سیاسی اور مذہبی تعصب کی بناپر مسلمانوں پر ۱۹۷۲ حملے ریکارڈ کیے گئے۔    ان حملوں میں جانی و مالی نقصان مسلمانوں کا ہوتا رہا اور اُلٹا الزام بھی ان پر دھر دیا جاتا کہ انھوں نے ہندوئوں پر حملے کیے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کرنے کی پالیسی میں ۲۰۱۷ء سے تیزی دیکھنے میں آئی۔ ان کی رہایشی، تجارتی یا زرعی اراضی پر دعوے دائر کردیے گئے۔ مسلمانوں کی جاسوسی شروع کر دی گئی۔ ان کے محلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔
 تحقیقاتی رپورٹ میں ۲۰۱۷ء کے بعد کے حملوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ: ’مودی حکومت میں مسلمان ٹوٹی پھوٹی، بدحال اور گندی آبادیوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ان پر آگے بڑھنے کے دروازے بند کیے جاتے ہیں۔ ہرلمحے انھیں اپنی سلامتی کی فکردامن گیر رہتی ہے‘۔

روہنگیا کے مسلم پناہ گزین

میانمار (برما) میں قتل و غارت گری اور شہریت سے محروم کیے جانے کے بعد جو مسلمان کسی نہ کسی طرح بھارت آگئے، انھیں یہاں بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ انھیں نفرتوں، امتیازی سلوک اور حملوں کی وجہ سے صبح و شام اپنی سلامتی کے خطرات کا سامنا ہے۔ آبادیوں سے باہر جنگلوں اور میدانوں میں بنائے گئے اپنے کیمپوں کی انھیں ۲۴گھنٹے نگرانی کرنی پڑتی ہے۔ بار بار ان کے کیمپ اُجاڑے جاتے ہیں۔ سرکاری طور پر ان کی نگرانی کی جاتی ہے کہ وہ کہیں شہروں میں منتقل نہ ہوجائیں۔ انھیں مسلسل ملک بدری کا سامنا ہے، جو ان کی ہلاکت کا باعث بن رہا ہے۔ انتہاپسند ہندو اور میڈیا ، روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ بناکر پیش کررہے ہیں۔ انھیں ’پناہ گزین‘ کے بجاے ’غیرملکی‘ اور ’غیرقانونی‘ کہا جاتا ہے۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادتیاناتھ جو بھارت کو مسلمانوں سے خالی کرانے کی مہم کے سرخیل ہیں اور روہنگیا مسلمانوں کو بھارتی کلچر اور قوم کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

عدم تحفظ کا احساس

رپورٹ سے ذرا ہٹ کر یہاں بھارت کی ایک مسلم خاتون صحافی رعنا ایوب اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ:’میرا بھائی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا ہے۔ ممبئی کے اَپرمڈل کلاس علاقے میں اسے اپنا اپارٹمنٹ، جو اسے مارکیٹ کے نرخ سے زیادہ قیمت پر دیا گیا تھا، اس لیے چھوڑنا پڑا کہ مسلمان ہونے کے ناتے اس کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا جارہا تھا۔ وہ اسی شہر میں پلابڑھا مگرنفرت کا سامنا کرتے ہوئے اسے بے در ہونا پڑا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ یہاں تجارت اور صنعت سے وابستہ کتنے ہی مسلمان یہ رونا رو چکے ہیں‘۔ ۱۹۹۳ء کےمسلم کش فسادات میں رعنا کے خاندان کو نقل مکانی کرکے مسلم اکثریتی علاقے میں منتقل ہونا پڑا۔ یہ مالی طور پر مستحکم مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ دوسرے ملکوں میں منتقل ہونے یا کم از کم اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے انھیں بیرونِ ملک یونی ورسٹیوں میں بھیجنے کی سبیلیں سوچ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں اس اَپرمڈل کلاس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ذرا سوچیے کہ مسلمانوں کی اکثریت آسودہ حال نہیں ہے، اور وہ اس انسانیت کُش فضا میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے پر مجبور ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ ۲۳کروڑ لگایا جاتا ہے۔ رعنا اپنے مضمو ن میں یہ تعداد۱۹کروڑ بتاتی ہیں۔ اگر یہ تعداد بھی تسلیم کرلی جائے تو مسلمان کُل آبادی کا ۱۴ فی صد ہیں۔
۲۰۰۲ء کے مسلم کُش فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو بے دردی سے ہلاک کیا گیا۔ ریلیف کیمپوں کے دورے کے بعد رعنا لکھتی ہیں کہ: ’’میں نے ان عورتوں کی بے بسی دیکھی جن کی آبروریزی کی گئی تھی۔ ان معصوم بچوں سے ملی جن کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی گئی تھی، جن کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے نیزوں، برچھوں اور تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور حملہ آور ’جے جے کار‘ کر رہے تھے۔ نریندر مودی اس وقت گجرات کا وزیراعلیٰ تھا۔ اب وہ پورے ملک کا وزیراعظم ہے۔ کیا گجرات کی تاریخ پورے ملک میں دُہرائی جائے گی؟‘‘

گاؤ رکھشاکے نام پر حملے

۲۰۱۴ء میں مودی سرکار کے آتے ہی ’گائوماتا کی رکھشا‘ [تحفظ]کے نام پر بھی مسلمانوں پر حملوں میں تیزی آگئی۔ ایک طرف تو بھارت گائے کے گوشت کا دنیا میں سب سے بڑا برآمد کرنے والا ملک ہے۔ بیف کی برآمدات میں ۲۰ فی صد حصہ بھارت کا ہے۔ اس مد میں وہ سالانہ ۴؍ارب ڈالر کماتا ہے۔ برازیل ، آسٹریلیا اور امریکا کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔ اس کے تمام تاجر ہندو ہیں، مگر دوسری جانب اسی گائے کے نام پر مسلمانوں کے گلے کاٹے جارہے ہیں۔ گائے کا پیشاب اور اس کی پوجا کرنے والے ہندو یہ بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیںکہ کوئی مسلمان گائے کو چھو بھی لے۔ حد تو یہ ہے کہ ڈنڈوں، سریوں اور چاقوئوں سے لیس ہندو دستے  اس مسلمان پر  پل پڑتے ہیں کہ جسے وہ گائے کے قریب بھی دیکھ لیں اور پولیس خاموشی سے تماشا دیکھتی رہتی ہے۔ متعدد ریاستوں میں اندرونِ ملک استعمال کے لیے گائے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ 
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس قانون سازی کے بعد مسلمانوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔  وٹس ایپ پر ہندو ان حملوں کی کتنی ہی وڈیو اَپ لوڈ کرچکے ہیں کہ جب انھوں نے مسلمانوں کو مار مار کر معذور کر دیا۔ مودی حکومت میں حملہ آوروں کو مسلمانوں کے ’شکار‘ کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ حملہ آوروں کو گرفتار نہیں کیا جاتا یا پھر فوراً چھوڑ دیا جاتا ہے اور مقدمہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ کتنے ہی حملہ آوروں کو بی جے پی کے رہنمائوں نے انعامات سے نوازا۔ جن مسلمانوں نے گائے پالی ہوئی تھی وہ ا ن سے چھین کر گئوشالوں کو دے دی گئیں۔ وہاں سے انھیں ہندو لے گئے ہیں۔ یوں مسلمانوں کا مال مفت میں ہندو ہتھیارہے ہیں۔
اپریل ۲۰۱۷ء میں ایک ۵۵سالہ مسلمان ڈیری فارمر پہلوخان پر، جو اپنی نابینا ماں، بیوی اور بچوں کا واحد کفیل تھا۔ ایک ہندو جتھے نے اس پر، اس وقت حملہ کردیا جب وہ اپنے مویشی ٹرک میں لے جارہا تھا۔ پھر حملے کی مکمل وڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ بھی کی گئی۔ سارے مویشی چھین لیے۔ پہلوخان زخموں کے تالاب نہ لاکر دو دن میں چل بسا۔ اپنی موت سے قبل اس نے پولیس کو تمام چھے حملہ آوروں کے نام بتا دیے۔ پولیس نے آج تک کوئی کارروائی نہیں کی، بلکہ  حملہ آوروں کے نام کیس سے خارج کردیے۔ 
پولیس ریکارڈ دیکھ کر مذکورہ رپورٹ تیار کرنے والوں کو پتا چلا کہ حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کے بجاے پولیس اُلٹا مسلمانوں کا ’گوشت خور‘ اور ’گائے کے سمگلر‘ کے نام سے اندراج کرتی ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق: پولیس حملوں کا نشانہ بننے والوں کو ہی مجرم بنا کر پیش کرتی ہے۔ بی جے پی کے ایک لیڈر ونے کتیار، حملہ آوروں کے دفاع میں کہتے ہیں کہ: ’’مسلمان گائے کو ہاتھ لگائے گا تو ہندو تو مشتعل ہوگا۔ بہت سے مسلمانوں نے گائے پالی ہوئی ہیں۔ وہ ان کو کاٹ کر کھا جاتے ہیں‘‘۔ ہندو لیڈروں کا یہ طرزِعمل انتہاپسندوں کو مزید حملوں کی شہ دیتا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ پکڑے نہیں جائیں گے اور اگر پکڑ بھی لیے گئے تو چھوٹ جائیں گے۔

بھارتی مسلمانوں کا مستقبل

بی جے پی کی تمام پالیسیاں آر ایس ایس تشکیل دیتی ہے۔ آر ایس ایس اپنی ۸۴سالہ جدوجہد کا پھل اب کھانے کو تیار ہے۔ کیا وہ آئین کو تبدیل کرکے بھارت کو مکمل ہندو ریاست بنالے گی؟ کیا وہ ۲۳کروڑ مسلمانوں کی شہریت ختم کرکے انھیں ملک بدر کرنے میں کامیاب ہوجائے گی؟ میانمار میں اس کا پہلے ہی تجربہ کیاجاچکا ہے۔ روہنگیا مسلمان بے وطن ہوکر کشتیوں میں ملک ملک پھر رہے ہیں اور کوئی ملک انھیں پناہ دینے کو تیار نہیں۔ صرف معمولی سی تعداد کچھ ملکوں میں داخل ہوسکی ہے اور وہاں بھی، ترکی کے سوا، بے سہارا پڑے ہیں۔ اگر بھارت مکمل ہندو ریاست بن گیا تو اس میں بھارتی مسلمانوں کے لیے آزمایش کا ایک سخت دور شروع ہوگا، جس کے بارے میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم پیش گوئی کرچکے ہیں کہ: ’ایک دور میں مسلمان ہونا ہاتھ پر انگارہ رکھنے سے زیادہ مشکل ہوگا‘۔

پڑوسیوں کے لیے خطرات

اسلاموفوبیا پورٹ سے ہٹ کر یہاں پڑوسیوں کو درپیش خطرات کا ذکر بھی ضروری ہے۔ بھارت اپنے قیام کے بعد سے ہی علاقے میں بالادستی کے لیے کوشاں رہا ہے۔ مغرب اور اسرائیل کی شہ کے بعد اس کے عزائم مزید بلند ہوگئے ہیں۔ مودی حکومت نے منتخب ہوتے ہی ۶جون ۲۰۱۹ء کو اسلحے کی خریداری کے لیے سب سے پہلا آرڈر اسرائیل کو دیا۔ ۳۰۰ کروڑ روپے میں وہ ۱۰۰’سپائس ۲۰۰۰ بم‘ خرید رہا ہے۔ بھارت میں انھیں ’بالاکوٹ بم‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہاں حملے کے لیے یہی بم استعمال کیے گئے تھے۔ ان بموں میں ۸۰کلوگرام بارود اور ۹۰۰کلوگرام کا خول (casing) ہوتا ہے۔ یہ بم عمارتوں کی چھتوں کو توڑتے ہوئے اندر جاکر پھٹتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ انسان ہلاک ہوسکیں۔ بھارت یہ بم کس لیے حاصل کر رہا ہے؟ ملک کے اندر تو وہ انھیں استعمال نہیں کرسکتا۔ کیا ان کا ہدف پاکستان کی کمانڈ اینڈ کنٹرول پوسٹیں ہیں؟ پاکستان کی سول اور فوجی قیادت کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اسرائیل سے اسے یہ بم ۲۰۱۹ء کے آخر تک مل جائیں گے۔ پاک فضائیہ سے زک اُٹھانے کے بعد بھارت نے فرانس سے درخواست کی ہے کہ اسے رافیل طیارے طے شدہ مدت سے پہلے دے دیے جائیں۔ 
بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں پاکستان پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے اور یہ فضا خود بھارتی حکومت قائم رکھے گی، تاکہ اس نفرت سے سیاسی فائدہ اُٹھائے۔ اس ماحول میں ضروری ہے کہ پاکستان بدلتے ہوئے منظرنامے پرنظر رکھے۔