جولائی ۲۰۱۹

فہرست مضامین

بھارتی حکومتی صف بندی اور کشمیر

افتخار گیلانی | جولائی ۲۰۱۹ | اخبار اُمت

قتل و غارت اور دہشت گردی کے الزامات میں ملوث پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو جب حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھوپال سے انتخابی میدان میں اتارا، تو ایک ساتھی نے ازراہِ مذاق جملہ اُچھالا کہ: ’’بھارت کے لیے ایک نیا وزیر داخلہ تیار ہو رہا ہے‘‘۔ درحقیقت وہ ایسے بھارت کی منظر کشی کر رہے تھے، جس میں اتر پردیش کے حالیہ وزیر اعلیٰ اجے سنگھ بشٹ (یعنی یوگی آدتیہ ناتھ) کو مستقبل میں بھارت کا وزیر اعظم اور پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو وزارت داخلہ سنبھالے دیکھ رہے تھے۔  اسی طرح یاد آرہا ہے کہ محض چند برس قبل ہم نیوز روم میں ازراہِ تفنن امیت شا(موجودہ بی جے پی صدر، جو ان دنوں جیل میں تھے)کے وزیر داخلہ بننے کی پیش گوئی کرتے اور اسے ہنسی میں اُڑاتے تھے۔ کسے معلوم تھا کہ ۲۰۱۹ء میں یہ مذاق بالکل حقیقت کا رُوپ دھار لے گا۔ 
اپنی دوسری مدت میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد وزیر اعظم مودی نے وزارتِ داخلہ کا اہم قلم دان اپنے دست راست امیت شا کے سپرد کرکے پیغام دیا ، کہ نہ صرف و ہ حکومت میں دوسرے اہم ترین فرد ہیں، بلکہ ان کے جانشین بھی ہیں۔ اگرچہ بظاہر پارٹی کے سینیر لیڈر راج ناتھ سنگھ کی نمبر دو پوزیشن سرکار ی طور پر برقرار رہے گی، مگر وزارت دفاع ان کو منتقل کرنے کا مطلب یہی لیا جا رہا ہے کہ ان کی پوزیشن کمزور کر دی گئی ہے۔
کابینہ کے ۲۶؍اراکین میں سے ۲۱؍ارکان اُونچی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں، جن کی بھارت میں مجموعی آبادی ۱۵ فی صد سے بھی کم ہے۔سینیر وزیروں میں ۱۳ برہمن ہیں،تین نچلی ذاتوں سے  اور ایک سکھ ہے۔ بطور مسلم وزیر بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی کو شامل کیا گیا ہے، جنھوں نے برسوں پہلے ایک بار رام پور سے انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ حکمران اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) میں بہار سے ’لوک جن شکتی پارٹی‘ کی ٹکٹ پر واحد مسلمان محبوب علی قیصر دوسر ی بار منتخب ہوکر ایوان میں آتو گئے ہیں، لیکن حیر ت کا مقام ہے کہ ان کو وزارت کے قابل نہیں سمجھا گیا۔    بی جے پی کے ایک لیڈر نے اس کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ: ’’مودی جی تو ان کو وزیر بنانا چاہتے تھے ، مگر ان کی پارٹی نے پارٹی صدر رام ولاس پاسوان کو وزیر بنانے کی سفارش کی ہے۔ چونکہ سبھی اتحادیوں کو صرف ایک ہی وزارت دی گئی ہے، اس لیے لوک جن شکتی پارٹی سے دو ارکان کو وزارت میں شامل کرنے سے توازن بگڑ سکتا تھا‘‘۔ اس ضمن میں رام ولاس پاسوان کی ذہنیت پر افسوس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ کو وزیر بنانے کے بجاے، وہ خود ہی وزارت کے دعوے دار بن گئے۔ حالانکہ رام پاسوان، پچھلے ۲۰برسوں کے دوران چاہے کانگریس کی حکومت تھی یا بی جے پی کی، مسلسل وزارت میں شامل رہے۔ 
بھارت میں وزارت داخلہ کا قلم دان انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے وزراے اعظم اکثر اس عہدے پر یاتو اپنے انتہائی قریبی یا نہایت کمزور افراد کا تعین کرتے آئے ہیں، جو ان کے لیے خطرے کا باعث نہ بن سکیں۔ بی جے پی کی پچھلی حکومت میں راج ناتھ سنگھ اوروزارت عظمیٰ کے دفتر کے درمیان کشمیر کی صورت حال سے نمٹنے کے معاملے پر کئی دفعہ اختلافات سامنے آئے۔ جون۲۰۱۸ء کو جب راج ناتھ سنگھ، جموں و کشمیر کی حلیف وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ہاتھ مضبوط کرنے پر زور دے رہے تھے، تو دوسری طرف امیت شا کی رہایش گاہ کے باہر پارٹی جنرل سیکرٹری رام مادھو صحافیوں کو بتا رہے تھے کہ: ’میری پارٹی نے محبوبہ مفتی حکومت سے حمایت واپس لے کر گورنر راج لاگو کرنے کی سفارش کی ہے‘۔ بتایا جاتا ہے کہ راج ناتھ سنگھ کو یہ معلومات ٹی وی چینل سے موصول ہورہی تھیں۔ نجی گفتگو میں کئی بار انھوں نے اشار ے دیے کہ کشمیر اور شمال مشرقی صوبوں کے لیے پالیسی ترتیب دیتے ہوئے ان کی راے کو اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا اور ایک ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کو انھوں نے کشمیر میں بیک چینل کھولنے کی ترغیب دی تھی، مگر اس کوشش کو بُر ی طرح سبوتاژ کیا گیا۔ سنہا سے وزیر اعظم نے ملنے سے انکار کرتے ہوئے ان کو قومی سلامتی مشیر  اجیت دوول سے ملنے کے لیے کہا، جس نے شکایت کی کہ: ’سنہا کے مشن سے حریت پسندوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں‘۔ مذکورہ جج کے خلاف کشمیر واپسی پر ہی مرکزی تفتیشی بیورو نے ایک کیس کی فائل کھول کر اس کو جیل میں پہنچادیا۔ 
مودی اور امیت شا کی رفاقت کا رشتہ ۳۰سال پرانا ہے۔ ۲۰۰۱ء میں مودی کے گجرا ت کے وزیر اعلیٰ بننے کی راہ کو آسان کرنے کے لیے ’شا‘ نے پارٹی میں ان کے مخالفوں، یعنی ہرین پانڈیا اور کیشو بائی پاٹل کو ٹھکانے لگانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہرین پانڈیا کو تو قتل کیا گیا۔ گجرات میں  ’شا‘ کو وزارتِ داخلہ کا قلم دان دیا گیا تھا اور ان کا دورِ وزارت کئی جعلی پولیس مقابلوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے۔ قومی تفتیشی بیورو نے تو ان کو سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کوثر کے قتل کیس میں ایک کلیدی ملزم ٹھیرایا تھا۔ اس کے علاوہ ۱۹سالہ عشرت جہاں کے اغوا اور بعد میں قتل کے الزام میں بھی ان کے خلاف تفتیش جاری تھی۔ ۲۰۱۳ء میں ان کی ایک ریکارڈنگ میڈیا میں آئی تھی ، جس میں وہ ایک دوشیزہ کا فون ٹیپ کرنے اور اس کی نگرانی کرنے کی ہدایت دے رہے تھے۔ یاد رہے کہ   وہ دوشیزہ ان کے باس کو پسند آگئی تھی۔۲۰۱۴ء کے عام انتخابات میں مودی نے ’شا‘ کو سب سے اہم صوبہ اتر پردیش کا انچارج بنایا تھا، جہاں موصوف نے بی جے پی کوسب سے زیادہ سیٹیں دلا کر پارٹی کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کر دی تھی۔ اس کامیابی کے بعد ان کو پارٹی کا صدر بنایا گیا۔
 بطور وزیر داخلہ کشمیر کی صورت حال تو امیت شا کے لیے چیلنج ہوگی، مگر کشمیریوں کے لیے بھی ان سے نمٹنا ایک بڑے امتحان سے کم نہیں ہوگا۔ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ جس طرح ۱۹۷۳ء کے شملہ سمجھوتے میں بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے اس مسئلے کی بین الا قوامی نوعیت کو بھارت اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ معاملے میں تبدیل کرواکے تاریخ میں اپنا نام درج کروایا تھا، اسی طرح اب نریندر مودی بھی اپنا نام امرکروانے کے لیے کشمیر کو پوری طرح بھارت میں ضم کروانا چاہتے ہیں۔
کشمیرکی بین الاقوامی حیثیت کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ امیت شا ایک اور پلان پر بھی کام کررہے ہیں۔ اس پلان کا کوڈ نام ’مشن ۴۴‘ ہے اور اس کے تحت کشمیر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ہندو اکثریتی خطے جموں اور بودھ اکثریتی ضلع لیہہ کی تمام نشستوں پر بی جے پی کے اُمیدواروں کو کامیاب بنانا ہے۔ اس کے علاوہ وادیِ کشمیر کی ایسی نشستوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے جہاں حریت کانفرنس کی بائیکاٹ کال کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے۔ ان نشستوں پر جموں اور دہلی میں مقیم کشمیری پنڈتوںکے ووٹوں کی زیادہ سے زیادہ رجسٹریشن کرواکر ان کے پوسٹل بیلٹوں کے ذریعے ان علاقوں میں بھی بی جے پی کے امیدواروں کی کامیابی یقینی بنائی جائے۔ امیت شا کی حکمت عملی کا مقصد ریاست میں مسلمان ووٹوںکو بے اثرکرناہے۔ کشمیر اسمبلی کی ۸۷منتخب نشستیں ہیں جن میں سے ۳۷جموں، ۴۶ وادیِ کشمیر اور۴ لداخ خطے سے ہیں۔ بی جے پی جموں،کٹھوعہ، یعنی خالص ہندو پٹی کی سبھی نشستوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس طرح بی جے پی متنازعہ خطے کی اسمبلی میں بڑی پارٹی کے طورپر ابھر سکتی ہے اور بعد میں ہم خیال ارکان اورکانگریس کے ہندوارکان کی مدد سے بھارتی آئین کی دفعہ ۳۷۰کو ختم یا اس میں ترمیم کروائی جاسکتی ہے۔۱۹۵۴ء اور۱۹۶۰ء میںکشمیر اسمبلی نے اس شق میں ترمیم کی سفارش کی تھی، جس کے بعد بھارتی صدر نے ایک حکم نامے کے ذریعے بھارتی سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور دوسرے اداروں کا دائرہ کشمیر تک بڑھادیاتھا اور ریاست کے صدراور وزیر اعظم کے عہدوںکے نام تبدیل کرکے انھیں دوسرے بھارتی صوبوں کے مساوی بنادیا تھا۔ 
جموں وکشمیر کے انتخابی نقشے پر اگر ایک نگاہ ڈالی جائے ، توجموں ریجن کی ۳۷نشستوں میں ۱۸ حلقے ہندو اکثریتی علاقوںمیں ہیں۔ یہ سیٹیں اکثر کانگریس کے پاس ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ اسی ریجن میں نو ایسی سیٹیں ہیں جہاں ہندو مسلم تناسب تقریباً یکساں ہے۔ یہاں پرامیت شا وہی فارمولا اپنانے کے لیے کوشاں ہے ،جو اس نے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ریاست اترپردیش اور بہار کی مسلم اکثریتی سیٹوں میں اپنایا کہ مسلم ووٹوں کو تقسیم کرکے ان کو بے اثر بنایا جائے، جب کہ ہندوووٹروں کو خوف میں مبتلا کر کے ان کو پارٹی کے پیچھے یک جا کیا جائے۔دوسری طرف لداخ کے بودھ اکثریتی لیہہ ضلع کی دو اسمبلی نشستوں پر بھی بی جے پی آس لگائے ہوئے ہے، تاکہ آیندہ اسمبلی میںزیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرکے وادیِ کشمیر اور مسلم اکثریت کے سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرکے مسئلہ کشمیر کو ایک نئی جہت دے۔ 
حالیہ الیکشن سے قبل جب بھارت بھر میں مودی لہر شروع ہوئی تو ریاست کے سیاسی پنڈتوں اور بھارت نواز لیڈروں کے ساتھ ساتھ مزاحمتی قیادت نے بھی پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی طرح یہ کہنا شروع کیا تھاکہ:’ کشمیر کے بارے میں اگر کوئی روایت سے ہٹ کر اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو وہ بی جے پی ہی ہے‘۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اس سے قبل بھی کشمیر کے سلسلے میں  اٹل بہاری واجپائی کی سرکارہی نے بولڈ فیصلے لینے کی جرأت کی تھی۔ ’لاہور اعلامیہ‘، ’اسلام آباد ڈیکلریشن‘ اور انسانیت کے دائرے میں بات کرنے کا اعلان اور اس کے بعدمزاحمتی کیمپ سے  لے کر پاکستان تک کے ساتھ بات چیت کی شروعات بی جے پی نے ہی کی تھی۔ تاہم، جو لوگ   اِس اُمید کے ساتھ جی رہے ہیں کہ ’انسانیت کے دائرے ‘میں بات ہوگی، انھیں جان لینا چاہیے کہ اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان اور کشمیر کی زمینی صورت حال ۱۹۹۹ء اور ۲۰۰۴ء کے مقابلے میں خاصی مختلف ہے۔ایسے حالات میں کشمیر کے مسئلے کے حل میں کسی پیش رفت کی اُمید رکھنا بے معنی ہے ۔ 
امیت شا کے وزار ت داخلہ کا قلم دان سنبھالنے کے بعد تو کشمیر کی شناخت اور تشخص ہی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ کشمیر کی مختلف الخیال پارٹیوں کو فی الحال اس کے بچائو کے لیے قابل عمل اور فوری اقدامات کرنے میں کوئی تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ بد قسمتی سے ایسا نظر آ رہا ہے کہ کشمیرکی  سیاسی جماعتیں نہ صرف اپنی اصل قومی وعوامی ذمہ داریوں سے دامن چھڑا کر بھاگ رہی ہیں،بلکہ ان میں سے بعض لوگ تو نریندرمودی کا نام سن کر ہی گویا مرعوب ہو جاتے ہیں۔
بات واضح ہے کہ قوم کے وسیع تر مفا دمیں سوچنے کے بجاے اقتدار کی شدید ہوس اور اقتدار کے لیے رسہ کشی نے کشمیر کی سب سے بڑی قوم پرست پارٹی ’نیشنل کانفرنس‘ کو نہ صرف بزدل بنایا ہے بلکہ اس کی نفسیاتی صورت حال کی بھاری قیمت سادہ لوح کشمیریوں کو چکانی پڑ رہی ہے۔ فی الحال اس جماعت کا محور اقتدار کی نیلم پری سے ربط وتعلق رکھنے کے لیے کس سے رشتہ جوڑا جائے اور کس سے ناتا توڑا جائے کا سوال اہم ہے۔ اگر واقعی اس جماعت میں کشمیریوں کے حوالے سے ذرہ بھر بھی ہمدردی ہے تواسے دیگر کشمیر ی جماعتوں کے ساتھ گفت و شنید کے دروازے کھول کر آگے کے تمام خطرات کی پیش بینی کر کے، ریاست میں بی جے پی کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنا ہوگا۔ 
اٹانومی (خودمختاری) اور سیلف رول ___ کے ایجنڈوں کے خواب دیکھنا دُور کی بات ہے، فی الحال جس تیز رفتار ی سے مودی سرکار کشمیریوں کے تشخص اور انفرادیت کو پامال کرنے کے حوالے سے جنگ آزمائی کے راستے پر چل نکلی ہے، اس کا توڑ کرنے میں نیشنل کانفرنس، پیپلزڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر جماعتوں کو باہمی تعاون کرنے میں ہر گز ہچکچانا نہیں چاہیے۔ کشمیریوں کے وکیل اور غم خوار، پاکستان کی داخلی صورت حال بھی نئی دہلی سرکار کے عزائم کا ٹمپر یچر بڑھارہی ہے۔ ایسے میں صاف لگتا ہے کہ کشمیر کے سلسلے میں ہندو انتہا پسند وں کے دیرینہ خوابوں کے پورا ہونے کے لیے شاید راستہ ہموار کیا جارہا ہے۔
مودی کی کابینہ میں ایک اور اہم وزیر سبرامنیم جے شنکر ہیں، جن کو وزیر خارجہ بنایا گیا ہے۔ بھارتی محکمہ خارجہ میں امریکی ڈیسک کے سربراہ کے طور پر وہ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ (کانگریس) کے چہیتے افسر تھے۔ آخر کیوں نہ ہوتے، انھوں نے ’بھارت-امریکا جوہری معاہدہ‘ کو حتمی شکل دینے اور اس کو امریکی کانگریس سے منظوری دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ۲۰۱۳ء میں   من موہن سنگھ نے ان کا نام خارجہ سیکرٹری کے لیے تجویز کیا، مگر کانگریس پارٹی نے سخت مخالفت کی جس پر سجاتا سنگھ کو خارجہ سیکرٹری بنایا گیا۔ تاہم، جنوری ۲۰۱۵ءکو امریکی صدر بارک اوباما کے بھارتی دورے کے بعد نریندر مودی نے سجاتا سنگھ کو معزول کرکے جے شنکر کو سیکرٹری خارجہ بنایا دیا، تب جے شنکر امریکا میں بھارت کے سفیر تھے اور اوباما کے دورے کے سلسلے میں نئی دہلی آئے ہوئے تھے۔
 اس طرح غیر رسمی طور پر یا اکھڑ پن سے خارجہ سیکرٹری کو معزول کرنے کا بھارت میں یہ دوسرا واقعہ تھا۔ اس سے قبل۱۹۸۷ء میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ہی اپنے سیکرٹری خارجہ اے پی وینکٹ شورن کو معزول کیاتھا۔ اس کی کہانی کچھ یوں ہے ۔ نئی دہلی میں مقیم پاکستانی صحافی عبدالوحید حسینی نے پریس کانفرنس کے دوران راجیوگاندھی سے ان کے پاکستان کے دورے کے بارے میں سوال کیا۔ راجیو نے کہا کہ: ’’میرا پاکستان کے دورے کا کوئی پروگرام نہیں ہے‘‘۔ مگر حسینی نے دوسرا سوال داغا کہ: ’’سر،آپ کے خارجہ سیکرٹری تو صحافیوں کو بتار ہے ہیں کہ وزیر اعظم کا دورہ پائپ لائن میں ہے؟‘‘راجیو نے جواب دیا کہ: ’’خارجہ سیکرٹری اب اپنے عہدے پر نہیں ہیں۔ جلد ہی نئے فارن سیکرٹری کا تعین کیا جا رہا ہے‘‘۔ وینکٹے شوارن نے جو پریس کانفرنس ہال میں ہی بیٹھے تھے، چپکے سے اپنا استعفا تحریرکرکے وزیراعظم کو ہال میں ہی تھمادیا۔ 
جے شنکر کو خارجہ سیکرٹری کے عہدے پر فائز کرنے کی کانگریسی لیڈروں نے اس لیے مخالفت کی تھی کہ ان کے مطابق ایک امریکا نواز افسر کو اس اہم عہدے پر فائز کرانے سے بھارت کی غیر جانب دارانہ تصویر متاثر ہوگی۔ وکی لیکس فائلز نے جے شنکر کی امریکا کے ساتھ قربت کو طشت از بام کردیا تھا۔ بتایا گیا کہ جے شنکر کی تعیناتی سے ہمسایہ ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ ۲۰۰۴ء سے۲۰۰۷ء تک جے شنکر دفترخارجہ میں امریکی ڈیسک کے انچارج تھے۔ ان کا نام بار بار امریکی سفارتی کیبلز میں آیا ہے۔
۱۹دسمبر۲۰۰۵ء کو ایک کیبل میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ جے شنکر نے ان کو خارجہ سیکرٹری شیام سرن کے دورۂ امریکا کے ایجنڈے کے بارے میں معلومات دی ہیں۔ امریکی عہدے داروں کے ساتھ ملاقاتوں میں بھارتی موقف سے واقفیت خارجہ سیکرٹری کے واشنگٹن پہنچنے سے قبل ہی امریکی انتظامیہ کو مل چکی تھی، مگر سب سے زیادہ ہوش ربا معلومات بیجنگ میں امریکی سفارت خانے نے واشنگٹن بھیجی۔ اس میں بتایا گیا کہ چین میں بھارت کے سفیر جے شنکر نے چین کے ہمسایہ ممالک کے تئیں جارحارنہ رویے کو لگام دینے کے لیے امریکا کی معاونت کرنے کی   پیش کش کی ہے۔ گویا ایک طرح سے وہ نئی دہلی میں حکومت کی رضامندی کے بغیر امریکا کے   ایک معاون کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ایک اور کیبل میں اپریل۲۰۰۵ء میں رابرٹ بلیک لکھتے ہیں کہ گوانتانامو بے کے معاملے پر بھارت ، جنوبی ایشیائی ممالک کاسا تھ نہیں دے گا، جنھوں نے اقوام متحدہ میں ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا مشترکہ فیصلہ کیا تھا۔ اس کےعلاوہ جے شنکر نے ایک نان پیپر امریکی انتظامیہ کو تھما دیا تھا ، جس میں تھائی لینڈ کے ایک سیٹلائٹ کی اطلاع تھی، جو بھارتی راکٹ کے ذریعے مدار میں جانے والا تھا۔ 
جے شنکر بھارت کے مشہور اسٹرے ٹیجک امور کے ماہر آنجہانی آر سبرامنیم کے صاحبزادے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۷۷ءمیں دفترخارجہ میں ملازمت شروع کی۔ معروف دفاعی تجزیہ کار بھارت کرناڈ کے مطابق جے شنکر کی کابینہ میں شمولیت سے بھارت کا امریکی پٹھو ہونے کا آخری پردہ بھی چاک ہو گیا ہے۔ ان کی تعیناتی بھارت کی اسٹرے ٹیجک آٹونامی کے حوالے سے خاصی اہم ہے۔ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد ہی جے شنکر نے کارپوریٹ گروپ ٹاٹا کے بیرون ملک مفادات کے ڈویژن کے سرابراہ کا عہدہ سنبھالا۔ اس حوالے سے بھارتی فضائیہ کے لیے ایف-۱۶طیاروں کی خریداری کے لیے امریکی فرم لاک ہیڈ مارٹن کے لیے وکالت کا کام کر رہے تھے۔ لاک ہیڈ مارٹن کو کنٹریکٹ ملنے سے ٹاٹا کو ان کی دیکھ بھال ،پرزے سپلائی کرنے، اور بھارت میں ان طیاروں کو تیار کرنے کا کام مل جاتا۔ 
بتایا جاتا ہے کہ ۱۹۸۰ء میں واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے میں تعیناتی کے دوران ہی امریکی انتظامیہ نے ان پر نظر کرم کی بارش کر کے ان کی ایک دوست کے رُوپ میںشناخت کی تھی، اور بعد میں ان کے کیریر کو آگے بڑھانے میں بلاواسط طور پر خاصی مدد کی۔ امریکا میں   بطور بھارتی سفیر ، انھوں نے مقامی بھارتی نژاد افراد کو جمع کرکے نئے وزیر اعظم مودی کا استقبال کرکے ان کا دل جیت لیا۔ ان کے دور میں بھارت نے امریکا کے ساتھ دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے، جن میں امریکی افواج کو خطے میں رسل و رسائل کی سہولتیں فراہم کرنا اور فوجی اطلاعات کا تبادلہ شامل ہیں۔ ان معاہدوں کے مسودات بھارتی دفترخارجہ کے بجاے واشنگٹن سے ہی تیار ہوکر آئے تھے۔ 
تجزیہ کاروں کے مطابق جے شنکر کی تعیناتی کا ایک اور مقصد قومی سلامتی مشیر اجیت دوول کو قابو میں رکھنا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کی کمان ان کے ہاتھوں میں ہوتے ہوئے وہ مودی کے رفقا میں خاصے طاقت ور ہوگئے تھے۔گذشتہ حکومت میں دوول، قومی سلامتی کے مشیر تھے اور اب وزیر ہیں۔ 
جے شنکر کے لیے سب سے بڑا امتحان ایران سے تیل، چاہ بہار بندرگاہ، اور روس سے ایس-۴۰۰  میزائل شیلڈخریداری کے سلسلے میں امریکا سے مراعات حاصل کروانا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت کو ایران سے تیل کی خریداری کے متعلق خبردار کیا ہے۔ جس پر بھارت ایرا ن کے تیل کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے، مگر چاہ بہار بندر گاہ اور میزائل شیلڈ کے سلسلے میں امریکی معاونت کا خواست گار ہے۔