جون ۲۰۱۴

فہرست مضامین

عمرانی علوم

پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد | جون ۲۰۱۴ | عمرانی علوم

 حقیقت ِ حال اور مستقبل

عالمی سطح پر گذشتہ نصف صدی سے عمرانی علوم (سوشل سائنسز) کی جانب تدریسی اور تحقیقی میدانوں میں انحطاط کا رحجان محسوس کیا جا رہا ہے۔ بظاہر اس کا سبب طلبہ اور حکومتوں کا ٹیکنالوجیکل مضامین میں دل چسپی لینا اور جامعات میں انجینیرنگ، کمپیوٹر سائنس، بیالوجیکل اور فزیکل سائنسز میں داخلوں اور سہولیات پر زیادہ توجہ دینا نظر آتا ہے۔ اس رحجان کا اثر عمرانی علوم کے شعبوں میں داخلوں میں کمی اور اطلاقی علوم میں داخلوں میں کثرت کے ساتھ طلبہ اور طالبات کے تناسب میں بھی نظر آتا ہے۔ عموماً میڈیکل کالجوں اور ڈینٹل کالجوں میں طالبات کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ یہ تناسب اکثر ۶۰،۷۰ فی صد طالبات اور تقریباً ۳۰، ۴۰ فی صد طلبہ کی تعداد کی شکل میں کم از کم اسلام آباد کی جامعات میں بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔

بالعموم عمرانی علوم کو طلبہ اور والدین وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے یہ مستحق ہیں۔ ان علوم میں تاریخ، سیاسیات، عمرانیات، نفسیات اور اسلامی علوم وغیرہ سب ہی شامل ہیں۔ وہ طلبہ جو  اطلاقی علوم (Applied Sciences) میںداخلے نہ حاصل کر سکیں عموماً عمرانی علوم میں داخلہ لے کر  عمرانیات، نفسیات، معاشیات، سیاسیات یا اداراتی علوم میں ایم اے کرنے کے بعد عام طور پر تدریس سے وابستہ ہو جاتے ہیں اور ڈگری کالجوں میں اپنے مضمون کو جیسا کہ انھوں نے اپنے اساتذہ سے پڑھا تھا، پڑھا کر ایک پُرسکون زندگی گزارنے پر قناعت کرتے ہیں۔ عمرانی علوم پڑھانے والے اساتذہ میں سے بہت کم افراد ایسے ہیں جو ان علوم کے فکری اور نظریاتی ارتقا سے واقفیت اور اس پورے عمل پر گہری نگاہ رکھتے ہوں۔ اکثر اساتذہ کا ہدف کورس کی کتاب میں درج اصطلاحات و مضامین کی کچھ وضاحت اور ان میں پیش کیے گئے تصورات کو طلبہ تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔ بہت کم اساتذہ ایسے پائے جاتے ہیں جو کورس کی مقررہ کتابوں کے علاوہ تحقیقی مضامین اور تازہ طبع ہونے والی کتب سے استفادہ کرتے ہوں یا طلبہ کو ان کی طرف متوجہ کرتے ہوں۔ نتیجتاً عمرانی علوم علمی حیثیت سے جس مقام پر کھڑے ہوں انھیں وہیں پر رہنے دیا جاتا ہے، جب کہ فزکس، کیمسٹری اور دیگر سائنسز کے بارے میں جدید تحقیقات، کم از کم ایم ایس اور ایم فِل کی سطح پر ضرور علم میں لائی جاتی ہیں۔ جدید علمی تحقیقات سے کما حقہ واقفیت اور ان کے تجزیہ و تحلیل کے بعد ہی ان علوم میں آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ گذشتہ ۱۰ برسوں میں ایچ ای سی (ہائر ایجوکیشن کمیشن) نے جامعات کی زمرہ بندی اور اساتذہ کی ترقی کے حوالے سے جو علمی پیمانے بنا کر نافذ کیے ہیں     اس کے نتیجے میں کم از کم عالمی جرائد میں پاکستانی اساتذہ کے مضامین کی اشاعت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، اور امید کی جاسکتی ہے کہ نہ صرف تعداد کے لحاظ سے بلکہ اپنے اعلیٰ معیار کی بنا پر    ان مضامین سے نئی ایجادات میں بہت مدد ملے گی۔ اس خوش آیند پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے  اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ یہ جائزہ لیا جائے کہ جو عمرانی علوم اور اطلاقی علوم ہماری جامعات میں پڑھائے جا رہے ہیں وہ کس حد تک قومی تعلیمی مقاصد و اہداف پر پورے اُترتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں چند گزارشات اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں:

مغربی عمرانی علوم کی فکری اساس

تاریخی طور پر عمرانی علوم یا Social Sciences اور Behavioral Sciences کی اصطلاحات متبادل طور پر استعمال کی جاتی رہی ہیں۔ انھیں Human Sciences بھی کہا جاتا ہے جو شاید زیادہ جامع اصطلاح کہی جا سکتی ہے۔ اصطلاح کی افضلیت سے قطع نظر اگر دیکھا جائے تو گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے پاکستان میں جو عمرانی علوم پڑھائے جا رہے ہیں یہ انگریز کے دورِ غلامی سے آج تک ایک تسلسل کی شکل میں یورپی جامعات میں اب سے ڈیڑھ سو سال قبل پڑھائے جانے والے مضامین کا ایک چربہ ہیں، حتیٰ کہ نصابی کتب بھی جوں کی توں ہیں۔ گذشتہ ۵۰برسوں میں یورپ اور امریکا میں ان علوم میں جو اضافے اور تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں ہماری جامعات  ان سے بڑی حد تک بے خبر انھی کتب اور تصورات کو ہمارے طلبہ کو پڑھا رہی ہیں جو انگریز کے دورِغلامی میں ہم پر لادینی نظامِ تعلیم میں نافذ کی گئی تھیں۔

جنوب مشرقی ایشیا کی بعض جامعات میں عمرانی علوم کے اِس پہلو پر علمی مکالمہ جاری ہے۔ پاکستان کے تناظر میں عمرانی علوم کے فکری اور نظریاتی پہلو پر تنقیدی نگاہ ڈالنا بہت ضروری ہے۔

عمرانی علوم کسی بھی معاشرے میں پائے جانے والے انسانوں کے باہمی تعلقات اور معاشی، سیاسی، قانونی، ثقافتی، تعلیمی اور عائلی تعلقات سے بحث کرتے ہیں۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ یہ انسانی طرزِ عمل (behavior) کا جائزہ لیتے ہیں اور نہ صرف اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس کے بارے میں تبدیلی اور ممکنہ ردعمل سے بھی مطلع کرتے ہیں۔ چنانچہ علمِ معاشیات نہ صرف انسان کے معاشی ذرائع پیداوار، تقسیم وسائل بلکہ دولت اور وسائل کے پیداواری عمل میں لگائے جانے اور حصولِ منفعت کے حوالے سے اندازے قائم کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور انسان کے معاشی طرزِ عمل کی سمت کا تعین کرنے میں موجودہ معلومات کی بنیاد پر مستقبل کے نقشے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ایسے ہی علمِ عمرانیات (سماجیات) کسی بھی معاشرے میں پائے جانے والے بنیادی ادارہ، خاندان اور اس سے متعلقہ قانونی، اخلاقی اور دیگر پہلوئوں سے آگاہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ انسان کس طرح معاشرے سے متاثر ہوتا ہے، معاشرہ کیسے وجود میں آتا ہے اور اس کے ترقی کرنے یا زوال کے اسباب کیا ہوتے ہیں۔ قانون اور تعلیم کا کردار معاشرے میں کیا ہے اور اخلاقی اقدار کیسے وجود میں آتی ہیں۔

جہاں تک سوشل سائنسز یا عمرانی علوم کے طریقِ تحقیق کا تعلق ہے اس کا ماخذ بھی یورپ میں استعمال کیے جانے والے تجربی طریقے (Empirical Methods) ہیں۔ چنانچہ معاشیات ہو یا عمرانیات جو پیمانے ترقی(Progress, Development) کو ناپنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، ان کی فکری بنیاد یورپی تصورِ حیات (World View) ہی فراہم کرتا ہے۔ اگر سماجی ترقی کا اندازہ کرنا ہو تو یورپی تصورِ حیات میں جو معیارِ زندگی (Quality of Life)، گھر کی مکانیت اور اس میں سہولیات کا ہونا، سڑکوں، بجلی اور ذاتی سواری کا ہونا، اوسط عمر، خاندان میں افراد کی تعداد، غرض وہ بہت سے پہلو جنھیں تجربی طور پر اعدادو شمار میں لایا جا سکتا ہے وہی ترقی، کامیابی اور ڈویلپمنٹ کے اشاریے (Indicators) قرار دیے جاتے ہیں۔

اس وضاحت سے جو بات کھل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اور عالمِ اسلام میں جو عمرانی علوم، عمرانیات یا معاشیات پڑھائے جاتے ہیں اور جس کی بنیاد پر کسی ملک یا معاشرے کو  ترقی یافتہ، کسی کو پس ماندہ اور کسی کو زیرِ ترقی کہا جاتا ہے ، ان سب کو ناپنے کے پیمانے ان ممالک کے اپنے حالات، تصورِ حیات، معاشرتی روایات، اقدارِ حیات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ ان کا مقصد و ماخذ مغربی تصورِ حیات اور تہذیب و تمدن ہیں۔

بعض حضرات اس تاثر کا اظہار کرتے ہیں کہ عمرانی علوم کا تعلق نہ کسی خاص مذہب سے ہے نہ کسی خاص ثقافت سے، یہ تو معاشرے میں پائے جانے والے حقائق کا عکس ہوتے ہیں۔ حقیقت واقعہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ تصورِ معاشرہ کا مفہوم آسان زبان میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معاشرے میں جو انسان پایا جاتا ہے اس کا تصورِ حیات، تصورِ کامیابی، تصورِ فلاح اور تصورِکائنات اور تصورِ الٰہ یا رب کیا ہے؟ کوئی بھی معاشرہ اُس تصورِ حیات کا عکس ہوتا ہے جو اس میں پائے جانے والے انسان اختیار کرتے ہیں۔ مغربی علومِ عمرانی فرد، معاشرے اور ریاست کے بارے میں اور بالخصوص الٰہ، رب اور کائنات کے بارے میں جو تصور رکھتے ہیں وہی ان کے معاشرے کو تشخص فراہم کرتا ہے، چنانچہ مغرب میں عمرانی علوم کو جن بنیادوں پر اٹھایا گیا ہے ان میں انسان ہی کائنات کا مرکز قرار پاتا ہے۔ انسانی خوشی، تسکینِ خواہش اور رضامندی ہر معاشرتی عمل کی بنیاد تسلیم کی جاتی ہے۔

فلسفیانہ اصطلاحات میں مغربی تہذیب و ثقافت کی بنیاد Individualism (انفرادیت پسندی)، Hedonism (حصولِ لذت)، Materialism (مادہ پرستی) اور Relativist Ethics (اضافی اخلاقیات) پر قائم ہے۔ چنانچہ ایک فرد طے کرتا ہے کہ وہ اپنی ذاتی تسکین کے لیے کتنی دولت کمائے اور اپنی نجی زندگی میں کن چیزوں کو جائز اور کن کو ناجائز قرار دے۔ گویا خاندانی تعلق ہو یا کاروباری، ملازمت ہو یا کاشت کاری، دوستی ہو یا دشمنی، وراثت کا معاملہ ہو یا سیاسی اقتدار، ہرانسانی فیصلے کی بنیاد انسان کا اپنا ذاتی مفاد، دولت، لذت یا تسکین فیصلہ کن مقام کی حامل اقدار ہیں اور انسان کو کسی بیرونی غیرجانب دار، مفادات سے بالاتر ہستی کی ہدایت کی ضرورت نہیں۔

مغربی سوشل سائنسز کے تمام شعبے اس بنیادی تصورِ حیات و کائنات کو اپنی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ عمرانیات کا پہلا کُلیہ ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے کیوں کہ وہ انسانوں کے ساتھ گروہ کی شکل میں مل جل کر رہتا ہے۔ یہاں جو بات بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ایک لادینی افادیت پرست (Utilitarian) تصور کو اسلام کے عالمی اخلاقی تصور سے ممتاز کرتی ہے وہ  مغربی علوم عمرانی میں انسان کا بنیادی طور پر حیوان ہونا ہے، جب کہ اسلامی تصورِ حیات اللہ تعالیٰ کو  خالق و حاکمِ کائنات اور انسان کو اس کا خلیفہ قرار دیتا ہے اور انسان کا وجود محض حیوانی نہیں بلکہ حیوانی پہلو کے ساتھ اس کی اصل شناخت اس کا روحانی، ملکوتی اور اخلاقی وجود ہے جو اسے استخلاف کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا اہل بناتا ہے اور دنیا کے سارے وسائل کے صحیح تصرف کو اس کی جولان گاہ بنا دیتا ہے۔

مغربی سوشل سائنسز کی آغوش میں تربیت پانے والا ذہن آغاز سے ہی اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ انسانی نفسیات کی بنیاد اس کی انا، لذت، قوت اور قبضہ کرنے کی جبلّت (Instinct) ہے اس لیے وہ ہمیشہ ان محرکات کی بنا پر کام کرے گا۔ یہ وہی اصول ہیں جو، بصد معذرت، چوہوں پر تجربات کرکے حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر انسانوں پر لاگو کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ روایتی نفسیات کا دائرہ انسان کو دو پائوں پر چلنے والے بڑے چوہے میں تبدیل کر دیتا ہے جو پنیر (cheese) کی خوشبو پر بھول بھلیوں سے تیزی سے گزرتا ہوا آخر جا کر پنیر کو کتر لیتا ہے۔

سگمنڈ فرائڈ اور دیگر ماہرین نفسیات انسان کی زندگی کے تقریباً تین چوتھائی اعمال اور فیصلوں کو اس کے لاشعور اور تحت الشعور کا کارنامہ سمجھتے ہیں، جب کہ اسلام انسانی زندگی کے تمام کاموں کو شعوری اور ارادی عمل (نیت، ارادہ) سے وابستہ قرار دیتا ہے۔ اس طرح تصورِ انسان اور تصورِ حیات کا بنیادی فرق عمرانی علوم کے ہر ہر شعبے میں نمایاں نظر آتا ہے۔ مسلم دانشور کا اصل مسئلہ اس کی وہ فکری اور ذہنی مرعوبیت ہے جس کی بنا پر وہ لادینی مغربی عمرانی علوم کا اتنا عادی ہو چکا ہے کہ اب وہ ان کے فکری سانچوں سے نکلنا بھی چاہے تو بآسانی نہیں نکل سکتا۔ وہ گندے تالاب کی مچھلی کی طرح اپنے اردگرد کے بُرے ماحول میں فرحت محسوس کرتا ہے کیوں کہ اسے ابھی تک تازہ اور صحت مند پانی میں تیرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔

نصف صدی قبل الجزائری مفکر مالک بن نبی نے اس صورتِ حال کو محض ایک لفظ میں یوں بیان کیا تھا کہ Colonizibility یعنی محکومانہ ذہنیت سیاسی اور تہذیبی محکومیت سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ اسی بات کو FANON نے Neo-Colonialism کی اصطلاح سے واضح کرنا چاہا۔ دراصل ہمارے علومِ عمرانی مغربی لادینی (Secular) جمہوریت، انفرادیت پسندی (Individualism)، مادیت (Materialism) اور لذتیت (Hedonism) کے ارکان اربعہ پر ایمان بالغیب لاتے ہوئے ان مفروضوں کو انسانی فکر اور معاشرے کی تخلیق و ارتقا کی بنیاد سمجھتے ہیں اور ہر وہ فکر جو ان مفروضوں سے ٹکراتی ہے اسے قدامت اور روایت پرستی قرار دے دیتے ہیں۔ ہمارے دانش ور بھی انھی تصورات کی تشہیر کرتے ہیں اور کبھی اس دامِ خیال سے باہر نکل کر ان تصورات پر تنقیدی نظر نہیں ڈالتے۔

کسی ملک و قوم کی ترقی کا انحصار اس کے تصورِ حیات کی عظمت پر ہوتا ہے اور اس تصورِ حیات کا عکس علوم میں نظر آتا ہے۔ ہمارے سماجی علوم کی تشکیلِ جدید ہماری اپنی اخلاقی اقدار پر کرنے کے لیے ہمیں مغربی فکر کی اندھی تقلید سے نکل کر اسلام کی آفاقی اقدار کی بنیاد پر تصورِ علم اور اصنافِ علم کو نئے سرے سے مدون کرنا ہو گا تاکہ ہر شعبۂ علم سے وابستہ محقق کائنات اور خالق کائنات کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح اور ایک اخلاقی معاشرے، اخلاقی معیشت، اخلاقی سیاست اور اخلاقی ثقافت کی تعمیر کرسکے۔

مغربی معاشرہ ہو یا معیشت و سیاست و اخلاق، ہر ہر شعبے میں جو ترقی ایک نگاہِ ظاہر بین کو نظر آتی ہے اس کی اصل یہی چار اصول ہیں جن کا تذکرہ اوپر کیا گیا۔ معاشرے کے قیام کا آغاز خاندان کی اکائی سے ہوتا ہے۔ مغربی عمرانیات اور سماجیات میں خاندان کی تعریف اور اس پر ایمان بالغیب لانے کے نتیجے میں خود ہمارے معاشرے میں اکیسویں صدی میں خاندان کی تعریف یہی کی جاتی ہے کہ شوہر بیوی اور ان کے حد سے حد دو بچے۔ اسی بنیادی اکائی کی بنیاد پر ایک خاندان کی معاشرتی اور معاشی ضروریات کا تعین کرتے ہوئے ایک فرد اپنے مستقبل کا نقشہ ذہن میں بناتا ہے، یعنی اگر وہ چاہتا ہے کہ اپنا مکان خود تعمیر کرے تو اس میں اس کا ماسٹر بیڈ روم ہو گا اور ان’دوبچوں‘ کے لیے ایک کمرہ تاکہ بالغ ہونے کے بعد وہ خود اپنی فکر کریں اور جو کمرہ ان کے استعمال میں تھا وہ یہ معمر ماں باپ کسی اور مصرف میں لا سکیں۔ اس مکان میں دادا دادی یا نانا نانی یا بچوں کی پھوپھی یا خالہ یا کسی بھی عزیز کے لیے تصوراتی طور پر کوئی جاے رہایش نہیں پائی جاتی۔ اس تصور کی بنیاد پر گھروں اور شہروں کی منصوبہ بندی ( Town Planning) کی جاتی ہے اور اس کی روشنی میں پانی کی فراہمی، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر قرب و جوار میں کسی باغ کا بنایا جانا متوقع تعداد کے لحاظ سے بچوں کے اسکول، ہسپتال یا بازار کا تعین کیا جاتا ہے۔

گویا بنیادی مفروضہ اگر یہ ہو کہ ایک ’خوش حال‘ گھرانہ صرف وہ ہے جہاں حد سے حد ایک یا دو بچے پائے جائیں تو یہ انفرادی بلکہ اجتماعی فیصلہ جن محرکات پر مبنی ہوتا ہے وہ بقیہ تین ارکان، یعنی لذتیت، مادیت اور دنیویت (غیرمذہبی سوچ) ایک فرد کو اپنے فیصلوں میں خودمختار سمجھتے ہوئے اخلاق کو انفرادی پسند کا تابع بنا دیتے ہیں، اور وہ حد سے حد دو بچوں والے ’خوش حال گھرانے‘ کے خودساختہ تصور میں گم رہتا ہے۔ اگر صرف سماجیات اور معاشرے کے نقطۂ نظر سے اس مثال پر غور  کیا جائے تو محض دو نسلوں میں اس ’خوش حال‘ گھرانے میں پیدا ہونے والے  یہ دو بچے اگر لڑکے تھے تو جب یہ بڑے ہوتے ہیں تو بذات خود بہن کے وجود سے آگاہ نہیں ہوتے اور ان کی اولاد ساری عمر کسی پھوپھی کا تصور نہیں کر سکتی۔

اگر یہ پیدا ہونے والے بچے دو لڑکیاں ہیں تو یہ خود بھائی کے وجود سے غیرآگاہ اور ان کی اولاد کسی ماموں سے مکمل طور پر ناآشنا رہتی ہے۔ اگر ان دو میں سے ایک لڑکا ہو ایک لڑکی ہو تو لڑکے کی اولاد چچا یا تایا کے رشتہ سے ناآشنا اور لڑکی کی اولاد خالہ کے تصور سے لا علم رہتی ہے۔    یہ لاعلمی محض نظری نہیں کہی جا سکتی یہ اسلامی شریعت میں ’قطع رحمی‘ کی تعریف میں آ سکتی ہے۔     یہ رشتوں کا توڑنا اور دفن کر دینا جو تہذیب و ثقافت پیدا کرے گا وہ محض فرد کے گرد گھومے گی۔ اس میں اجتماعیت نہیں پائی جائے گی اور جب اجتماعیت نہیں ہو گی تو معاشرت اور معاشرے کی بنیادی اکائی ہی ختم ہو جائے گی۔ گویا مغربی لادینی عمرانیات اور سماجیات کا یہ بظاہر ’معصوم‘ نعرہ کہ خاندان کا مطلب کیا ہے اورجسے___ بلا تخصیص تمام معاشرتی علوم کی کتب میں، پاکستان ہو یا دیگر مسلم ممالک ___ بچوں کو پڑھایا جاتا ہے، اور جس عمرانیات میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی ایک شخص یونی ورسٹی میں استاد بنتا ہے وہ اسی تصورِ خاندان اور معاشرے کی بنیاد پر تمام تحقیق اور ملک کی معیشت، سیاست اور دفاع کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

اس لیے یہ سمجھنا کہ عمرانی علوم محض تفریح طبع کے لیے ہوتے ہیں اور اطلاقی علوم ہی ترقی کی طرف لے جاتے ہیں، ایک لاعلمی پر مبنی تصور ہے، اور جیسا کہ ہم نے ایک روز مرہ کی مثال سامنے رکھ کر یہ بات واضح کی ہے کہ کس طرح مغربی لادینی اور انفرادیت پسند تصورِ خاندان ایک تہذیب کُش فکر ہونے کی بنا پر انسانی ثقافت کو تباہی و بربادی کی طرف لے جاتا ہے۔ اگر انسانی معاشرے سے معاشرتی اقدار کو خارج کر دیا جائے اور خاندان جو رشتوں سے وابستہ ہوتا ہے ان رشتوں ہی کو انسانی یاد داشت سے نکال دیا جائے تو تہذیب کس بنیاد پر آگے بڑھے گی؟ آج مسلم دنیا میں مغربی لادینی علوم عمرانی کے بنیادی تصورات پر اندھا ایمان لانے کے نتیجے میں جو خاندانی انتشار، اضمحلال اور زوال پیدا ہو رہا ہے اس کے اسباب بڑے واضح ہیں لیکن ان کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے ماہرین تعلیم اور منصوبہ بندی کو اپنے ذہن کو مغربی استعماری (Colonial) فکر کے جال سے نکالنا ہو گا۔ مغربی عینک سے ہر فکر کا مطالعہ کرنے کی عادت کو ترک کرنا ہو گا اور ایک علمی ماہیت قلبی (Epistemic Paradigm Shift) سے گزرنا ہو گا۔ گویا بنیادی اصطلاحات جن پر علوم عمران کو قائم کیا گیا ہے خود ان فکری بنیادوں کی جگہ متبادل فکری بنیاد پر علوم عمرانی کی تشکیلِ جدید کرنا ہو گی۔

اس تشکیلِ جدید کو اسلام کے تصورِ رب اور اس کے عالم گیر اخلاقی اصولوں پر قائم کرنا ہو گا تاکہ نئے علوم عمرانی ہرہر شعبے میں توحید، عدل، امانت و خلافت اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بنیادی الہامی اصولوں کی روشنی میں معاشیات، سیاسیات، عمرانیات، نفسیات، تاریخ ، ادب،  تہذیب و ثقافت، غرض ہرہرشعبۂ علم میں اُس علم کے مقاصد، مناہج و اہداف اور ان کے حصول کے اخلاقی طریقوںپر عمل کرسکیں۔

اگریہ کام نہیں کیا گیا تو مغربی لادینی علوم عمرانی بشمول تصورِ جمہوریت، ہمیں غیر محسوس طور پر غلامی میں گرفتار رکھے گا اور ہم گندے پانی کی مچھلی کی طرح اپنے ماحول کے پاک صاف، ترقی یافتہ اور معیارِ زندگی میں مسلسل اضافے کے خام تصورات میں محو خواب رہیں گے۔

ترقی کی بنیاد جب تک ایک ملت کی تہذیبی اقدار، تصورِ حیات اور تصور ِ فلاح نہیں ہو گا، اگر وہ کوئی مادی ترقی کر بھی لے، اس کے ہا ں سڑکیں اور پل تعمیر ہو جائیں ، بڑے بڑے بازار  بن جائیں، سات ستاروں والے ہوٹل تعمیر ہو جائیں، جب بھی وہ ملت مفلسی کا شکار رہے گی۔    یہ مفلسی فکر میں بھی ہو گی، رشتوں کے احترام میں بھی ہو گی اور انسانیت کے احترام میں بھی۔     یہ بات کسی تعارف کی محتاج نہیں کہ اگر ایک ملت انسانیت میں مفلسی کا شکار ہو تو پھر اس کی ٹکنالوجی میں ترقی اس کو تباہی سے نہیں بچا سکتی۔

ماضی کی اقوام جن کا تذکرہ قرآن کریم میں پایا جاتا ہے، جو پہاڑوں کو تراش کر محلات بناتے تھے، جو اہرامِ مصر جیسے حیران کن تعمیراتی کارنامے بغیر کسی ’مغربی ٹکنالوجی‘ کے انجام دے  سکتے تھے، ان سب اقوام نے جب الہامی ہدایت و اقدار کو چھوڑ کر یہ دعویٰ کیا کہ وہ خود مقامِ ربوبیت پر فائز ہیں یا دوسرے الفاظ میں وہ یک قطبی طاقت ہیں جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا، (اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی)، تو پھر ان کی تمام مادی قوت انھیں تباہی سے نہیں بچا سکی۔ آج ان کی ترقی کے قصے تاریخ کے صفحات میں دفن ہیں۔ روم و ایران اور یونان دیو مالائوں سے زیادہ اہم مقام نہیں رکھتے۔

مسلم ماہرین علوم عمرانی کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ کس طرح مغربی لادینی تصورِ علم سے اپنے آپ کو آزاد کریں اور علومِ عمرانی کی تشکیل وحی الٰہی، توحید، عدل، امانت، خلافت، عالم گیر اسلامی اخلاقی تعلیمات، یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد پر رکھ کر ایک نئی روایت ِعلم کی تدوین توحید کی بنیاد پر کریں جو انسانیت کے لیے رحمت و ترقی کا زینہ بن سکے۔

توحید کی بنیاد پر علوم ِعمرانی اور اخلاقی علوم کی تدوین جدید کے لیے ضروری ہو گا کہ ان کی اساس قرآنِ کریم کے فراہم کردہ تصورِ علم یا Epistimology پر ہو، یعنی وحی الٰہی اور ہدایت ربانی سے جو علم حاصل ہو وہ علم کی اعلیٰ ترین اور حقیقی شکل قرار پائے اور تجرباتی، حسّی یا جبلّی ذرائع علم اس کے تابع ہوں۔ قرآن کریم ہر صفحے پر انسان کو مشاہدہ، تجربہ اور تجزیہ و تحلیل کی دعوت دیتا ہے اور انسانی معاشرے کی تعمیر عدل، معروف اور حقوق کی بنیاد پر کرتا ہے۔ اس بنا پر وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے مطلق علم اور حواس خمسہ اور انسانی عقل کے ذریعے تخلیقِ علم میں کوئی تضاد نہیں پایا جاتا۔ انسانی عقل اور وحی الٰہی کے باہمی تعامل سے اطلاقی علم وجود میں آتے ہیں۔ ایسے ہی وحی کی بنیاد پر وجود میں آنے والے علومِ عمرانی میں حاکمیت الٰہی اور حقوق العباد کو مرکزی مقام ملتا ہے۔ اس طرح جو علم پیدا ہوتا ہے وہ نہ صرف انسانی فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے بلکہ وہ انسانیت کے وسیع تر مفاد، قیامِ امن اور قیامِ عدل کے عمل کو آسان بنا دیتا ہے۔ آج بلا کسی تاخیر کے اس تخلیقی عمل کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف مسلمان بلکہ تمام انسانیت عادلانہ معاشرے اور سیاسی استحکام کی برکتوں سے فیض یاب ہو سکے۔ (بہ شکریہ: ــمغرب اور اسلام، شمارہ نمبر ۴۰، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد )