جون ۲۰۱۴

فہرست مضامین

ابلاغِ دعوت

اِرشاد الرحمن | جون ۲۰۱۴ | اسوہ حسنہ

اسوۂ رسولؐ کی روشنی میں

نبوت و رسالت انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم ترین احسان ہے۔ یہی وہ واحد محفوظ اور قطعی ذریعۂ ہدایت ہے جس کی بنا پر انبیاے کرام دو ٹوک انداز میں بتاتے رہے کہ ایک اللہ کی عبادت ہی انسانیت کا مقصد اور راہ نجات ہے۔ تمام انبیاے کرام کی دعوت ایک رہی۔ خاتم النبیین حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا گیا: مَا یُقَالُ لَکَ اِِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ (حم السجدہ ۴۱:۴۳) ’’اے نبیؐ! تم کو جو کچھ کہا جا رہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جا چکی ہو۔‘‘

نزولِ قرآنِ مجید کے ابتدائی دور میں توحید، آخرت اور حضرت محمدؐ کی نبوت و رسالت کے دلائل پر خصوصی ارتکاز رہا۔ نبوت محمدیؐ پر لوگوں نے جس جس نوعیت کے اعتراضات وارد کیے ان کا جواب بھرپور اور قطعی اندازمیںدیا گیا۔ معترضین نے نزولِ قرآن کو جنات و جنون کا اثر اور شعر و شاعری کا نتیجہ کہا اور حضرت محمدؐ کا خود ساختہ کلام قرار دیا (نعوذباللہ)۔ کلامِ الٰہی قرآنِ مجید نے ان تمام باتوں کو ایسی شدت اور قطعیت کے ساتھ مسترد کیا کہ انبیا اور رسل کی صداقت پر اس سے بڑی کوئی شہادت نہیں ہو سکتی۔ ایسی آیات میں جہاں نبی کریم ؐ کی نبوت و رسالت کو برحق قرار دیا گیا وہاں نبوت کے ابلاغ کی ذمہ داری کی ادایگی میں آپؐ کی عصمت و عفت اور امانت و دیانت کو بھی پورے زور سے بیان کیا گیا۔یہ مضمون سورۂ شوریٰ (۴۲:۲۴) اورسورۂ حاقہ(۶۹:۳۸ -۵۲) میں بیان ہوا ہے۔

 نزولِ قرآن کی غرض یہ بیان کی گئی کہ نبی کریمؐ انسانوں کو تاریکی اور ظلمت سے نکال کر روشنی میں لائیں گے۔ فرمایا: ہُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖٓ اٰیٰتٍ م بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِِلَی النُّوْرِ ط وَاِِنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَرَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ o (الحدید۵۷:۹) ’’وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے‘‘۔

نبی کریمؐ کو یہ حکم بھی ملا کہ اس وحی شدہ قرآن کو مضبوطی سے اختیار کرنا اور اس کے تقاضوں کو کماحقہ پورا کرنا آپؐ کی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کی جواب دہی بھی ایک روزآپؐ  کو اور آپؐ  کی قوم کو کرنا ہو گی۔ فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْٓ اُوْحِیَ اِِلَـیْکَ ج اِِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمo وَاِِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ ج وَسَوْفَ تُسْئَلُوْنَo (الزخرف۴۳: ۴۳-۴۴) ’’تم بہرحال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعے سے تمھارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناتم سیدھے راستے پر ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمھارے لیے اور تمھاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہو گی۔‘‘

وحی پر قائم رہنے اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے احکام کے ساتھ ہی اس کے ابلاغ کا حکم بھی پوری تاکید کے ساتھ دیا گیا: یٰـٓـاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط (المائدہ۵:۶۷) ’’اے پیغمبرؐ ،جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا‘‘۔

ابلاغ کا حکم اور اس کی نبویؐ تعمیل:

دوسری وحی میں سورۃ المدثر کی ابتدائی ۷آیات نازل ہوئیں۔ ان میں رسول کریم ؐکو تبلیغ دین کا حکم دیا گیا۔ یہ حکم بہت مختصر مگر نہایت   جامع الفاظ میں تھا۔ فرمایا: یٰٓاََیُّہَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَاَنْذِرْ o وَرَبَّکَ فَکَبِّرْo (المدثر ۷۴:۱-۳)’’اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اُٹھو اور خبردار کرو، اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو‘‘۔ رسول کریمؐ نے ابلاغِ وحی کے اس حکم کی تعمیل میں جدوجہد کا آغاز فرمایا تو پھر اس راہ کی مشکلات کو دیکھانہ ذاتی ضروریات کا خیال رکھا۔انسانوں کو راہِ راست پر لانے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ پیغمبرانہ زندگی کے ۲۳ برس میں سے پہلے تین برس خفیہ اور پس پردہ دعوتی جدوجہد میں گزرے۔ چوتھے سال سے نبوت کے دسویں سال تک مکہ میں کھلی اور علانیہ دعوت و تبلیغ کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ دسویں سالِ نبوت سے تیرھویں سالِ نبوت، یعنی ہجرتِ مدینہ تک مکہ سے باہر دعوت کے اِبلاغ اور پھیلائو کے لیے کاوش جاری رہی۔ پھر ہجرت سے وصالِ نبویؐ تک پورے ۱۰ سال بین الاقوامی سطح پر دعوت دین کا سلسلہ جاری رہا جس میں بیش تر عرصہ جہادی سرگرمیوں پر مبنی جدوجہد میں گزرا۔

علانیہ دعوت کا حکم اور قوم کا ردّعمل:

تین سال تک تبلیغ کا کام خفیہ اور انفرادی رہا۔ اس کے بعد آپ کو مکلف بنایا گیا کہ قوم کو کھلم کھلا دین کی دعوت دیں۔ ان کے باطل سے ٹکرائیں اور ان کے بتوں کی حقیقت واشگاف کریں۔ اظہارِ دعوت کا پہلا حکم وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ کے الفاظ میں دیا گیا۔ اس پر عمل کے لیے آپؐ نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش کے ایک ایک قبیلے کا نام لے کر آواز لگائی اور جب تمام لوگ جمع ہو گئے تو دعوت پیش کی۔ یہی وہ موقع ہے جب ابولہب نے آپؐ  کو بدزبانی کا نشانہ بنایا۔

اس کے بعد قریش فوراً رسولؐ اللہ کی راہ روکنے کے لیے کمربستہ ہو گئے۔ آپؐ پر تشدد بھی روا رکھا جانے لگا۔ علانیہ دعوت کے بعد حج کا موسم قریش کے لیے اپنے اندر خطرناکی لیے ہوئے تھا۔ لہٰذا انھوں نے حجاج کو اس دعوت سے دور رکھنے کے لیے مشاورت کی اور آپؐ  کے خلاف متفقہ راے یہ قائم کی گئی کہ آپؐ  کو(معاذاللہ) مجنون قرار دیا جائے۔ اس نام سے آپؐ  کو براہِ راست بھی پکارا گیا اور زائرین کعبہ کو بھی یہی فریب دینے کی کوشش کی گئی۔ ہنسی، ٹھٹھا، تحقیر، استہزا اور تکذیب کے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ گالیوں تک کا آپؐ  کو نشانہ بنایا گیا۔ آپؐ  کی تعلیمات کو    مسخ کرنا، شکوک و شبہات پیدا کرنا، جھوٹا پروپیگنڈا کرنا، تعلیمات سے لے کر شخصیت تک کو واہیات قسم کے اعتراضات کا نشانہ بنانا قریش کا معمول تھا۔ ان اوچھی حرکات کے ساتھ ساتھ سودے بازی کی کوشش بھی جاری رہی۔ جب یہ حربہ بھی کارگر نہ ہوا تو ظلم و جور کا باب کھل گیا۔

اس مقصد کے لیے قریش جمع ہوئے اور ۲۵ سردارانِ قریش نے باہمی مشورے اور غور و خوض کے بعد رسولؐ اللہ اور آپؐ  کے صحابہؓ کو ظلم و ستم سے دوچار کرنے کی قرارداد منظور کی۔ پھر اس قرارداد کو روبہ عمل لانے کا عزمِ صمیم کیا گیا۔ بالآخر قریش نے ایک لمبے صبر کے بعد آپؐ  کو تشدد سے دوچار کرنا شروع کر دیا۔ ابولہب بازاروں اور اجتماعات میں آپؐ  کے پیچھے پیچھے لگا رہتا اور نہ صرف آپؐ  کی تکذیب کرتا بلکہ آپؐ  کو پتھر بھی مارتا جس سے آپؐ  کی ایڑیاں خون آلود ہو جاتیں۔ آپ ؐکو گھر کے اندر بھی اطمینان سے نہ رہنے دیا گیا۔ آپؐ  کے گھر میں گندگی پھینکی گئی۔ آپؐ  کے اوپر اُونٹ کی اوجھڑی ڈالی گئی۔ آپؐ  پر براہِ راست طعن کیا گیا۔ آپؐ  کو خانہ کعبہ میں نماز کی ادایگی سے روکا گیا اور اس حرم کے اندر آپؐ  پر تشدد کیا گیا جہاں انسان تو کجا، حیوانوں اور جانوروں کو ایذا دینا بھی گناہ ہے۔ ہر چیز کو وہاں ’امان‘ حاصل ہوتی ہے۔

تشدد اور عقوبت کی اس خوف ناک کیفیت میں بھی رسول کریمؐ نے حرم شریف میں قریش کے ایک بہت بڑے مجمعے میں سورۂ نجم کی تلاوت فرمائی اور دعوتِ دین کی ذمہ داری کو ہر حال میں ادا کرنے کا درس پیش فرمایا۔ جب قریش نے جسمانی تعذیب و تشدد اور زبانی پروپیگنڈے اور حربوں کو آزما لیا اور دیکھا کہ یہ دعوت رُکنے کے بجاے پھیل رہی ہے، تو انھوں نے اس بات کا عہدو پیمان کیا کہ بنی ہاشم کا مکمل مقاطعہ کر دیا جائے۔ پھر شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کی محصوری کے یہ تین سال اس کیفیت میں گزرے کہ محصورین کو بنیادی انسانی ضروریاتِ زندگی حاصل کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ تین سال کے بعد قادرِ مطلق نے انھی قریش کے ذریعے یہ قرارداد بھی پاس کرائی کہ اس مقاطعے کی دستاویز کو چاک کر دیا جائے۔

اس روح فرسا عہد سے جب محصورین کو نجات ملی تو رسولِ کریم ؐ نے حسب معمول اپنی دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔ اس موقعے پر قریش کا وفد ایک بار پھر حضرت ابوطالب کے پاس آیا اور رسولؐ اللہ کو اس کام سے روکنے کا ان سے مطالبہ کیا۔ آپؐ  نے قریش سے کہا کہ میں تم سے صرف ایک بات کہتا ہوں، مان لو گے تو عرب و عجم تمھاری ملکیت ہوں گے۔ قریش نے سوچا کہ صرف ایک بات اور وہ بھی اس قدر مفید! اسے کیسے مسترد کریں؟ آخر کار ابوجہل نے کہا: بتائو وہ بات کیا ہے، ایسی ایک بات کیا، دس باتیں بھی کرو تو ہم ماننے کو تیار ہیں۔ آپؐ  نے فرمایا: لاالٰہ الا اللہ کہو اور اللہ کے سوا جو کچھ پوجتے ہو اسے چھوڑ دو۔اس پر قریش نے ایک بار پھر عہد کیا کہ ہم اپنے آبا و اجداد کے دین پر قائم رہیں گے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور اس شخص کے درمیان فیصلہ کردے۔ سورۂ صٓ(۳۸:۱تا ۷) میں اسی واقعے کی طرف اشارہ ہے۔

 اگر کوئی شخص اس تشدد کی انتہا اور جنگ کی شدت کا تصورکرنا چاہے، جو قریش نے اس تن تنہا رسولؐ کے خلاف برپا کر رکھی تھی تو اس کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ وہ ابو لہب، جو رسولؐ اللہ کا بدترین دشمن تھا، ایک دن اس کا ضمیر بھی اس تشدد کو دیکھ کر یہ اعلان کرنے پر مجبور ہو گیا کہ وہ محمد ؐکو پناہ دے گا اور آپؐ  کے دشمنوں سے آپؐ  کی حفاظت کرے گا!! لیکن رسولؐ اللہ اسے اس کی پناہ واپس لوٹا دیتے ہیں اور خود تنہا کھڑے قربانی پیش کرتے جاتے ہیں۔

رسولؐ اللہ نے مکہ سے باہر نکل کر طائف میں ’ثقیف‘ کی طرف رُخ کیا اور انھیں اللہ کی طرف بلایا تو علاقے کے اشراف نے آپؐ  کو گھیرے میں لے لیا، اور یہ توآپؐ  کے مکی حریفوں سے بھی زیادہ کمینے ثابت ہوئے۔ اِنھوں نے اپنے احمقوں اور اوباشوں کو اُکسایا، حتیٰ کہ مہمان کی عزت اور پناہ طلب کرنے والے کو پناہ دینے کی مقدس ترین عربی خصلت کو بھی بالاے طاق رکھ دیا۔ انھوں نے ان اوباشوں کو آپؐ  کے پیچھے لگا دیا اور وہ آپؐ  کو پتھر مارنے لگے…

رسولؐ اللہ کے سفر طائف کا وہ منظر ہر داعی دین کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے جب آپؐ  ایک باغ میں داخل ہو کر اس کی دیوار کی اوٹ لے کر ان احمقوں اور اوباشوں سے محفوظ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپؐ  کا دایاں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا ہوا ہے اور آپؐ  دعا فرما رہے ہیں، اور بایاں ہاتھ چہرے پر رکھ کر پتھروں سے بچائو کے لیے ڈھال بنائے ہوئے ہیں۔

دعوت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی وابستگی:

دعوت کے ساتھ رسولؐ اللہ کا یہ کیسا تعلق اور وابستگی تھی کہ جہاںبھی جاتے تن تنہا دعوت پیش کرتے تو شدائد آپؐ  کا استقبال کرتے۔ ان حالات میں دنیاوی اسباب میں سے کوئی چیز ایسی نہیںتھی جو آپؐ  کی ہمت کو سہارا دیتی اور آپؐ  کی ڈھارس بندھاتی لیکن آپؐ  پھر بھی بھرپور عزم کے ساتھ ان حالات کا سامنا کرتے رہے۔ رسولؐ اللہ جب طائف سے مکہ کی طرف واپس لوٹے تو مایوسی اور شکست خوردگی کا احساس نہیں تھا، ناکامی کا خیال نہیںتھا بلکہ پُرامیدی کی ایک گہری کیفیت تھی جس نے آپؐ  کو ڈھانپ رکھا تھااور  اللہ کی راہ میں قربان ہو جانے کا ایک بھرپور جذبہ تھا جوآپؐ  کے اندر موجزن تھا!

آپؐ  ایک ایک قبیلے کے پاس جا کر دعوت پیش کرتے۔ ایک روز قبیلہ کندہ کے پاس جاتے ہیں، ایک روز قبیلہ بنی حنیفہ کے پاس اور اگلے روز قبیلہ بنی عامر کے پاس تشریف لے جاتے ہیں۔ اس طرح یکے بعد دیگرے ہر قبیلے کے پاس پہنچتے ہیں اور ان کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ قبائل کے پاس جب آپؐ  تشریف لے جاتے تو ابولہب آپؐ  کے پیچھے پیچھے یہ کہتا جاتا کہ اس کی بات نہ ماننا! یہ تمھیں گمراہی کی طرف بلا رہا ہے!

نبوت کے گیارھویں سال موسم حج میں دعوتِ اسلامی کی رفتارِ کار میں ایک عجیب تبدیلی آئی۔ مکہ میں کھلی تبلیغ کی تو جارہی تھی مگر وہ آسان اور خطرے سے خالی نہ تھی۔ اسی لیے رسولؐ اللہ حجاج کو رات کی تاریکی میں ملتے اور انھیں اسلام پیش کرتے۔ ایک رات آپؐ  حضرت ابوبکرؓکے ہمراہ باہر نکلے۔ بنو ذہل و بنو شیبان کو دعوت دی، مگر انھوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ پھر یثرب کی چھے سعادت مند روحوں سے ملاقات ہو گئی۔ یہ خزرج کے جوان تھے ۔ آپؐ  نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ حضور نبی کریمؐ کی شبانہ مساعی کا ثمر تھیں۔ آپؐ  نے رات کی تاریکی میں مکہ سے دور باہر جا کر رؤساے یثرب کو اسلام پیش کیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ بیعت عمل میں آئی۔ یہی واقعہ ہجرت مدینہ کی تمہید ثابت ہوا اور آپؐ  بالآخر مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔

انسانیت کی نجات کا بے مثال جذبہ:

حضرت جابرؓ سے روایت ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ میری اور تمھاری مثال اس آگ جلانے والے جیسی ہے جو آگ جلائے تو پتنگے اور حشرات آکر اس میں گرنے لگیں اور وہ آدمی ان کو آگ سے بچانے میں کوشاں ہو۔   میں (بھی) تمھیں کپڑوں (دامن) سے پکڑ پکڑ کر آگ سے دور کھینچتا ہوں لیکن تم دامن چھڑا چھڑا کر  میرے ہاتھ سے نکلے جاتے ہو۔‘‘ (احمد، مسلم)

انسانیت کو دائرہ ایمان میں لے آنے اور جہنم سے بچانے کے لیے نبی کریمؐ کی خواہش اس حد تک غیر معمولی تھی کہ اس فکرمندی سے آپ ؐ کی صحت پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر ہو گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٰٓی ٰاثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا (الکہف ۱۸:۶) ’’ اچھا، تو اے نبی ؐ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو، اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔‘‘ اس کے بعد آپؐ  کو ان ہدایات سے نوازا گیا جن میں یہ وضاحت تھی کہ نبی اور رسول کی ذمہ داری دعوت حق کا ابلاغ (انذارو تبشیر)ہے۔ اس دعوت کو کون مانتا اور کون نہیں مانتا اور کیوں نہیں مانتا؟ نبی اور رسول سے اس بات کی جواب دہی نہیں ہو گی اور نہ نبی اور رسول کے دائرۂ اختیار میں ہے کہ وہ جس کے ایمان لے آنے کی خواہش اور آرزو کرے وہ ایمان لے آئے اور ہدایت یافتہ ہو جائے۔ نبی کی ذمہ داری صرف اور صرف، دعوت حق کی تبلیغ، تذکیر، اور انذار و تبشیر کی ہے۔چنانچہ نبی کریم ؐ کی اس فکر مندی کے پیش نظرآپ ؐ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا :

 اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج (القصص ۲۸:۵۶) اے نبیؐ!تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔

وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَo(یوسف ۱۲:۱۰۳) تم خواہ کتنا ہی چاہو ان میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں۔

بلکہ صاف صاف فرما دیا کہ:

 وَ مَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ج وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍo(الانعام ۶: ۱۰۷) تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ وار ہو۔

دوسری جگہ فرمایا: فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُo (الرعد ۱۳:۴۰)’’بہرحال تمھارا کام صرف پیغام دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے‘‘۔ فَذَکِّرْ اِِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ o لَسْتَ عَلَیْہِمْ بِمُصَیْطِرٍo(الغاشیۃ ۸۸:۲۱:۲۲) ’’اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جائو ! تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو، کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو‘‘۔ اِِنَّـآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ج فَمَنِ اہْتَدٰی فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ ضَلَّ فَاِِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا ج وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِوَکِیْلٍo (الزمر ۳۹:۴۱) ’’(اے نبیؐ) ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے۔ اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہو گا، تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو‘‘۔

اس مضمون کی متعدد آیات اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ نبی کریمؐ ابلاغ دعوت کے معاملے میں بے حد فکر مند رہتے تھے۔ آپؐ  کی شب و روز کی مصروفیات میں ابلاغِ حق کی ذمہ داری کو  کمال درجے میں ادا کرنے کی جدوجہد سامنے آتی ہے۔ مکی زندگی میں خفیہ اور علانیہ دعوت الی اللہ کی انجام دہی، قومی اور قبائلی سطح کی خصوصی تقریبات میں رہنمائوں، سرداروں اور دانشوروں سے خطاب، مکہ کے اندر اور حدود مکہ سے باہر آپؐ  نے اپنے مشن کی تکمیل اور حکم الٰہی کی تعمیل کے لیے حیرت انگیز جدوجہد فرمائی۔

انسانیت کی سلامتی پر نظر:

مکی عہد میں مسلمانوں اور خود رسول کریمؐ کو سخت عقوبتوں اورایذائوں سے مسلسل دو چار رکھا گیا لیکن دعوتِ دین کا کام رسولؐ اللہ نے برابر جاری رکھا۔ آخری تنبیہ کے طور پر جب قریش کے وفد نے آپؐ کے چچا ابو طالب سے دو ٹوک بات کر دی تو آپؐ  نے جواب میں جو الفاظ ادا فرمائے وہ اس ذمہ داری کی ادایگی کے لیے آپ ؐ کی عزیمت و استقامت کی بے نظیر دلیل ہیں۔ طائف کا سفر آپؐ  کی ظاہری بے سروسامانی مگر حق کی دعوت کو  قریہ قریہ پہنچانے کے لیے آپؐ کی تڑپ کی نشان دہی کرتا ہے۔آپؐ  کے سفر طائف کی روداد دین کے ہرداعی اور تحریک کے ہر کارکن کے لیے ایک عظیم درس ہے۔ آپ ؐکی جدوجہد کا مکی عہد جب اختتام کو پہنچا تو یہ محض ۱۳ برس کی مدت کا خاتمہ نہیں تھا بلکہ یہ ظلم وجور اور تعذیب و تشدد کی المناک تاریخ کا ایک موڑ تھا۔ اس تاریخ کی المناکی اس قدر شدید تھی کہ حاملین دعوت کو داعی اعظمؐ نے اذن ہجرت دے دیا۔

ہجرت کے بعد مدنی دور نبوت بھی معمول کی انسانی زندگی سے نا آشنا ہی رہا۔ قریش کی دیرینہ رقابت، نفرت اور عداوت نے حاملین ایمان کا تعاقب یہاں بھی نہ چھوڑا اورنبی کریمؐ اور آپؐ  کے رفقا کو کش مکش اور تصادم میں مسلسل الجھائے رکھا۔ براہِ راست یا بالواسطہ اس تصادم کی تمام تر تاریخ میں آپؐ  نے اپنی توجہ اور جدوجہد کا پورا ارتکاز دعوت پر رکھا۔ حتی الامکان تصادم سے گریز کیا۔ حالت جنگ میںبھی دشمن کے اظہارِ ایمان کو قانونی طورپر قابل قبول قرار دیا۔ آپ ؐ نے دشمن کے ساتھ ایسے معاہدے بھی کیے جو بظاہر اہل ایمان کے لیے شکست دکھائی دیتے تھے۔ دشمن کے ساتھ مکالمے، مذاکرات اور معاہدات میں ہمیشہ نرم گوشہ رہے اور یہ کسی کمزوری کی بنا پر نہیں  بلکہ انسانیت کو فتنہ و فساد سے بچانے اور اللہ کے دین کی طرف لانے کی غرض سے کیا۔ اپنے  اصحاب و رفقا اور اہل ایمان و اسلام کی تعلیم و تربیت میں بھی ہمیشہ سختی اور شدت سے گریز کیا اور نرمی، ملائمت اورامید و رجا کے پہلو کو پیش نظر رکھا۔ تعلیم و تبلیغ اور انذاروتبشیر سے ہی کام لیا اور   دل ودماغ کی طاقتوں کی بیداری کے ذریعے فرد اور معاشرے کو بدلنے کی سعی فرمائی۔ آنِ واحد میں تبدیلی لے آنے کے بجاے رفتہ رفتہ اور تدریج کے ساتھ اصلاح احوال کا کارنامہ انجام دیا۔ مشکل سے مشکل اور سخت سے سخت حالات اور ماحول میں بھی ناامیدی اور مایوسی کو قریب نہ آنے دیا۔ فتح مکہ کے موقعے پر ایسے تمام دیرینہ دشمنان اسلام کو بھی معاف فرما دیاجن کی گردن اڑانے کا حکم جاری فرمایا جاچکا تھا اور یہ سب ان لوگوں کے اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے ہوا۔ مملکتوں کے سربراہان کو مکتوبات اور نمایندوں کے ذریعے اسلام کی دعوت پیش کی۔ کسی قبیلے، قوم اور ملک کے خلاف جنگی اقدام کرنے سے پہلے اس کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرنے کی حجت تمام فرمائی۔ مخاطب دشمن نے اسلام قبول کر لیا تو اس کو خندہ روئی سے گلے لگایا اور اگر انکار کیا تو تباہ و برباد، نیست و نابود اور تہس نہس کر ڈالنے کی ذہنیت اور حکمت عملی کے تحت اس سے جنگ نہیں کی، بلکہ  عین حالت جنگ میں بھی دشمن کے قبولِ اسلام کا داعیہ دل میں موجود رہا اور ہر ممکن طریقے سے انسانیت کو بچانے کی خواہش دامن گیر رہی۔

ابلاغِ دعوت کی مسلح و غیر مسلح کش مکش میں ہمیشہ انسانیت کی سلامتی اور اسے اللہ کی بندگی میں لے آنے کا داعیہ غالب رہا۔ دعوتِ دین پیش کرنے کے لیے ہر خفیہ و علانیہ سرگرمی کو حسب موقع جاری رکھا۔ طائف کا سفر سرزمین مکہ کے بنجر ہونے کی طرف اشارہ تھا مگر اہل طائف نے بھی مکہ سے اپنی ذہنی قربت کا ثبوت دیا اور جس بدترین سلوک سے آپؐ  سفر طائف میں دوچار ہوئے، اس پر رب رحیم و کریم نے بھی غضب ناکی کا اظہار فرمایا۔ پہاڑوں کے فرشتے نے اسی موقعے پر عرض کیا تھا کہ آپؐ  چاہیں تو میں انھیں دو پہاڑوں کے درمیان کچل دوں! اس پر نبیؐ نے فرمایا:  نہیں، مجھے امید ہے کہ اللہ عزوجل ان کی پشت سے ایسی نسل پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرے گی اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھیرائے گی(بخاری) ۔ اس موقعے پر رسولؐ اللہ نے جو دعا فرمائی وہ دعاے مستضعفین (کمزوروں کی دعا) کے نام سے مشہور ہے۔ اس دعا کا ایک ایک لفظ انسانی ناتوانی کا اظہار ہے مگر رب سے امید اور اس سے عافیت طلبی کا بے نظیر شاہکار ہے۔ اس دعا کے اندر مایوسی و ناامیدی اور منکرین دعوت کی ہلاکت و بربادی کی دعا کا قطعاً اظہار نہیں ہے۔

’’اُٹھو اور خبردار کرو‘‘

کا حق ادا کردیا: دعوتِ نبویؐ کا آغاز دوسری وحی کے ان الفاظ سے ہواتھا: یٰٓـاََیُّہَا الْمُدَّثِّرُo قُمْ فَاَنْذِرْo(المدثر ۷۴:۱،۲)’’ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے، اٹھو اور خبردار کرو‘‘___ دعوت الی اللہ کی ذمہ داری کے لیے اٹھنے کا یہ حکم ملا تو پھر رسول اللہ میدان عمل میں تن تنہا کھڑے ہو گئے۔ انسانیت پر ڈالا جانے والا بوجھ زمین و آسمان اور دشت و جبل نے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا اور خوف و دہشت کے مارے سہم گئے تھے۔ اس بوجھ کو انسان نے اٹھالیا اور وہ اس کے انجام سے لاعلم تھا لیکن انسانیت کے محسن انبیاے کرام نے اس بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھانے کی ذمہ داری کا حق ادا کر کے انسانیت کے اس شرف و اعزاز کو نقش دوام بنادیا۔ ہادی عالم جناب محمد رسولؐ اللہ نے تو اس ذمہ داری کے حق کی ادایگی کا لازوال اور بے نظیر کارنامہ انجام دیا۔ آپؐ  نے قُمْ فَاَنْذِرْ(اٹھو اور خبردار کرو) کا حکم سنا اور پھر مسلسل اور پیہم معرکہ آرائی میں ۲۰ سے زائد برس گزار دیے اور اس دوران آپؐ  کو کوئی ایک معاملہ دوسرے معاملے سے غافل نہ کرسکا۔

سیرت رسول ؐ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ رسولؐ اللہ نے زندگی بھر دعوت الی اللہ کا حق ادا کرنے کی سعی فرمائی اور اپنے آخری اور عالم گیر خطاب خطبہ حجۃ الوداع میں حاضرین سے یہ شہادت لی کہ ’’تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے، تو تم کیا کہو گے؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ  نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرما دیا۔ یہ سن کر آپؐ  نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا : اے اللہ گواہ رہ، اے اللہ گواہ رہ، اے اللہ گواہ رہ! (ابن ہشام)

آج کے داعی کی ضرورت:

دعوتِ الی اللہ کا حق ادا کرنے کے لیے ہر دور کے داعی کو اسی بصیرت، ہمت، صبر، استقامت اور عزم و عزیمت کی ضرورت رہی ہے اور عہد حاضر کے کارکنانِ دعوت کو بھی آج اسی چیز کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ سیرت رسولؐ کے ایک ایک ورق میں ملتا ہے۔ اُمت مسلمہ ’خیراُمت‘ ہونے کی بنا پر اس دعوت کے ابلاغ کی پابند ہے۔ دعوت اپنے اثرات اور نتائج سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ سیرت کی روشنی سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ داعی اور کارکن اثرات و نتائج کو اللہ کا اختیار سمجھ کر اپنی ذمہ داری ادا کیے جاتا ہے۔ وہ صرف اس بات کا پابند ہے کہ دعوت کہاں تک پہنچائی اور اس کا حق کس حد تک ادا کیا۔ اس سے آگے اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔

آج دین کی دعوت کو اُسی سوز جگر کے ساتھ انسانیت تک پہنچانے کی ضرورت ہے جو دعوت کے نبویؐ طریق کار میں نظر آتا ہے۔ ایک داعی کی جدوجہد کا اصل مقصد اللہ کے دین کو انسانوں تک پہنچانا ہے۔ دعوتی حلقوں کو اس بات کا پوری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ دین کی دعوت کا ابلاغ کس حد تک ہو سکا۔ اصل، صحیح اور خالص دین سے معاشرے کی بہت بڑی تعداد ناواقف ہے۔ آبا و اجداد سے چلی آنے والی رسوم و روایات آج بھی قوم کی اکثریت کا دین ہے۔ کہیں جہالت اس کا سبب ہے اور کہیں دین کا ناقص اور غیر صحیح تصور و فہم اس کا باعث ہے۔ معاشرے کو بڑی تبدیلی کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑے پیمانے پر اسے اصل دین سے آشنا کرنے کے لیے ابلاغ دین کا حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ نبی اکرم ؐکا دین تعبیرات و تشریحات کے انباروں تلے گم ہے۔ محمد رسولؐ اللہ کی شریعت کا مصدرِ اول قرآنِ مجید ابھی تک مجموعی طور پر مسلم معاشرے کی سنجیدہ توجہ کا منتظر ہے۔ دعوتی حلقوں میں قرآنِ مجید کے براہِ راست فہم کو اپنی مساعی کا محور بنانے کی ضرورت ہے۔ قرآنِ مجید کا راست فہم داعی کے لیے راستے کی بے شمار مشکلات کا حل پیش کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر حکمت سے لبریز کوئی کتاب نہیں اور راستے کا اس سے بہتر کوئی رہنما نہیں۔ یہ کتاب داعی اعظم حضرت محمدؐکو ۲۳ برس تک مسلسل دین کا پیغام بھی بتاتی رہی اور ابلاغِ دین کا طریق کار بھی واضح کرتی رہی۔ سیرت النبیؐ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہی دین ہے اور یہی طریق دین، یہی دعوت ہے اور یہی اسلوبِ دعوت!! اس سے بے نیاز ہو کر کوئی شخص داعی نہیں بن سکتا اور اس سے ہٹ کر کوئی راستہ منزل پر نہیں پہنچا سکتا۔

بہت کم لوگوں نے براہِ راست سیرت النبیؐ کا مطالعہ اس طرز پر کیا ہو گا کہ نبی کریمؐ کو  دعوتِ دین کی جدوجہد کے دوران کیسے مراحل پیش آئے اور آپؐ  کا ردّعمل اور حکمت عملی ان مراحل میں کیا رہی۔ صیامِ رمضان، مناسک حج اور مسائل عیدین کی طرح قرآن و سیرت ایسا موضوع نہیں ہے جس کی یاد سال کے بعد تازہ ہوتی ہو، بلکہ یہ مسلمان کی زندگی کا دائمی نصاب اور مستقل موضوعِ درس ہے۔ اسے سالانہ بنیادوں پر بڑے سے بڑے پروگراموں، تقریبات اور جلسے جلوس کی صورت میں منعقد کر کے نہ اس کا حق ادا کیا جا سکتا ہے اور نہ یہ طریقۂ یاد رسولؐ اللہ کے شایانِ شان ہے۔ ہردینی کارکن کو خود سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا اُس نے زندگی میں ایک بار مکمل قرآنِ حکیم کا مطالعہ شعوری طور پر اس سے ہدایت پانے کی غرض سے کیا ہے؟ کیا اس نے نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی کا رہنما بنانے کے لیے سیرت النبیؐ کا مطالعہ کیا ہے؟