جون ۲۰۱۶

فہرست مضامین

اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو اور آگے بڑھو!

ڈاکٹر عائشہ صدیقہo | جون ۲۰۱۶ | تذکیر

قرآن پاک اور احادیث میں نیکیوں کے حوالے سے تیزی دکھانے،ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے اور سبقت لے جانے کی ترغیب دی گئی ہے،اور اس راہ کو اللہ کی مغفرت اور جنت کی راہ کہا گیا ہے۔

وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ لا (اٰلِ عمرٰن۳:۱۳۳) دوڑ کر چلو اُس راہ پر، جو تمھارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے،جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے۔

سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِلا (الحدید۵۷:۲۱) دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے۔

مندرجہ بالا دونوں آیات میں ایک ہی راہ کا ذکر ہے۔وہ راہ جو اللہ کی مغفرت اور جنت کی طرف جاتی ہے۔اس فرق کے ساتھ کہ پہلی آیت میں سارعوا کا لفظ ہے، یعنی سرعت دکھائو، یادوڑو، اور دوسری آیت میں سابقوا کا لفظ ہے، یعنی سبقت لے جائو ،آگے نکل جائو ، مسابقت کرو یا دوسروں سے مقابلہ کرو۔

یہ راہ جو کہ نیکیوں یا خیرات کی راہ ہے، اس پہ سرعت دکھانے کا ذکر قرآن میں سورۂ آل عمران(۳:۱۴)، سورئہ انبیائ(۲۱:۹)، سورئہ مومنون (۲۳:۶۱) میں بھی کیا گیا ہے۔ اس راہ میں سبقت کا ذکر سورئہ مومنون (۲۳:۶۱) میں بھی ہے اور سورئہ مائدہ (۵:۴۶)، سورئہ احقاف (۴۶:۱۱)، سورئہ فاطر (۳۵:۳۲) اور سورئہ واقعہ (۵۶:۱۰) میں بھی کیا گیا ہے۔

اسی طرح قرآن میں درجہ اور درجات کابھی ذکر ہے:

وَلِکُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا ط(انعام۶:۱۳۲) ہر شخص کا درجہ اس کے عمل کے لحاظ سے ہے۔

اس کے علاوہ سورۂ نسائ(۴:۹۵-۹۶)، سورئہ انعام (۶:۱۳۲)، سورئہ توبہ(۹:۲۰) اورسورئہ انفال (۸:۴) اور سورئہ طور (۵۲:۲۱) میں بھی درجات کا ذکر ہے۔

قرآن میں والدین کے لیے اَلْحَقْنَابِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ کاذکر ہے(الطور۵۲:۲۱)،یعنی اولاد کودرجے کے تفاوت کی صورت میں ان سے ملا دیا جائے گا۔اس آیت سے بھی جنت کے درجات کا علم ہوتا ہے۔

وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا o(الفرقان۲۵:۷۴) اور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔

یہ مومنوں کی دعا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھیں صرف نیکیاں کرنے کی ہی نہیں، بلکہ نیکیوں میں آگے آگے رہنے کی بھی فکر ہوتی ہے۔

فَفِرُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ ط(الذّٰریٰت۵۱:۵۰)یعنی اللہ کی طرف تیز بھاگنے کا ذکر ہے۔

وَ فِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَo (المطففین۸۳:۲۶) جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔

جنت کی نعمتوں کے ذکر کے بعد یہ فقرہ آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت اور اللہ کی رضا/ مغفرت ہی ایسی چیز ہیں ،کہ ان کی رغبت و حصول کے لیے دوسروں سے مقابلہ کیا جائے، اور اسے تنافس کہا گیا۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق:

۱- آپؐ نے فرمایا: رشک کے قابل صرف دو آدمی ہیں: ایک وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور اسے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کر رہا ہو۔ اور دوسرا وہ جسے اللہ نے علم دیا ہو اور وہ اس کو سکھا رہا ہو۔ (بخاری، کتاب العلم)

۲- حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسے زمانے میں ہو کہ تم میں سے کوئی ا ن احکام کا دسواں حصہ بھی چھوڑے گا جو تمھیں دیے گئے ہیں تو وہ ہلاک ہوجائے گا۔ تمھارے بعد ایسا زمانہ آئے گا جو ان احکام کے دسویں حصے پر بھی عمل کرے گا جو اسے دیے گئے ہیں تو نجات پالے گا۔ (ترمذی)

۳- حدیث نبویؐ ہے: جو فسادِ اُمت کے زمانے میں ایک سنت زندہ کرے گا اس کو سوشہیدوں کا ثواب دیا جائے گا۔ (مشکوٰۃ)

اسی طرح ایسی احادیث بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف نیکیوں کی قدروقیمت بھی مختلف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سے گفتگو فرمائی ہے کہ کیا تمھیں ان نیکیوں سے بہتر نیکی بتائوں؟ یا تم یہ چیز کرلو تو یہ اس سے بہتر ہے۔

دوڑنا کیوں ،چلنا کیوں نھیں؟

۱- پہلی بات یہ کہ وقت بہت کم ہے۔

۲-دوسری بات یہ کہ مختصر ہونے کے علاوہ یہ مدت انسان کے لیے نامعلوم ہے۔

۳- تیسری بات یہ کہ اس مختصر اور غیر یقینی مدت میں جو چیز حاصل کرنا ہے ، اس کا حصول اتنا آسان نہیں۔اللہ کی رضا،مغفرت اورجنت آسانی سے نہیں ملتی۔

۴-نیکیوں کے کسی مرحلے پہ پہنچ کے یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ یہ جنت کے حصول کے لیے کافی ہوجائیں گی۔

۵-ایک ایک لمحہ جو گزر رہا ہے،اس کا نتیجہ کروڑوں برس تک ملتا رہے گا۔ہر لمحے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا جائے؟

۶- اللہ رب العالمین نے جو بے حد و حساب نعمتیں دی ہیں،ان کے شکر کا واحد طریقہ  اس راستے پر چلتے رہنا ہے۔ اس راہ پر کتنی ہی تیزی دکھائیں، حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔

۷-رفتار کم ہونے میں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کم ہوتے ہوتے یہ ختم ہی نہ ہو جائے۔

۸-عمل کی رفتار تیزتر کردو تاکہ تمھاری روح کی غذائی ضرورت سخت تر ہو جائے۔

۹-اقامت ِ دین کا کام کرنے والوں کی رفتار، باطل قوتوں کی تیز رفتاری (جذبہ، انفاق، قربانیاں )دیکھ کر مزید تیز ہو جانا چاہیے۔

ھمارا حال

محو ِ خواب ہیں یا مطمئن ہیں کہ ہم اتنے اعمال تو کرلیتے ہیں اور نیکیوں میں اتنے لوگوں سے تو بہتر ہیں،بلکہ اس سے بھی بڑھ کر حقیقت یہ ہے کہ دوڑ، مخالف سمت میں ہوتی ہے۔ اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُرُo (التکاثر۱۰۲:۱) ’’ تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے‘‘۔ معیارِ زندگی بلند کرنے کی ،اونچے عہدوں کی، عیش و عشرت کے سامان،کپڑے اور گاڑیاں جمع کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔

اپنا جائزہ لینے کے لیے یہ دو سوال اپنے سامنے رکھیں:

۱- دنیا میں کسی کو اپنے سے آگے یا کسی کے پاس کوئی چیز زیادہ دیکھ کر حسرت تو نہیں ہوتی؟

۲- آخرت کمانے میں کسی کو اپنے سے آگے دیکھ کر کتنی حسرت ہوتی ہے اور اس کے برابر پہنچنے یا آگے نکلنے کی کتنی فکر ہوتی ہے؟

اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَ ھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَo (الانبیاء ۲۱:۱) قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت، اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔

یہ دوڑکیسے جیتی جائے؟

ایک عام دوڑ سے موازنہ کرکے جنت کی دوڑ میں آگے نکلنے کے کچھ اصول معلوم ہوسکتے ہیں:

۱- دوڑ کے دوران بچوں یا بڑوں کو بھاگتے دیکھیں تو ایک بات جو مشترک نظر آتی ہے ،   وہ یہ کہ سب کی نظریں ہدف پر گڑی ہوتی ہیں۔کتنا ہی وقت گزر جائے، کوئی گر جائے لیکن وہ اُٹھ کر پھر اسی طرف بھاگنا شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ کی رضا اور جنت ہر وقت سامنے رہے تو رفتار تیز رہتی ہے ورنہ آہستہ پڑنا شروع ہو جاتی ہے۔اپنا نصب العین سامنے رکھیں۔ نصب العین کا لفظی مطلب ہی وہ چیز ہے جس پر آنکھیں نصب رہیں،اور جو نظروں سے اوجھل نہ ہو۔

۲- جب آنکھیں نصب رہتی ہیں تو دوڑنے والے کو اردگرد کاہوش نہیں رہتا اور وہ آس پاس کی چیزوں سے بے نیاز ہو کر دوڑتا ہے۔ جنت کے راہی کے لیے بھی ذہنی یکسوئی یاحنیفیت اورنتیجتاً استغراق ضروری ہے۔

۳- اسی نصب العین اور استغراق کا لازمی اثر دوڑنے والے کی دُھن ہوتی ہے۔ جنت کے راہی پہ بھی یہ لازمی ا ثر ،دھن اور تڑپ کی طرح سوار رہنا چاہیے۔اور یہ سوار ہوگی تو اس کی رفتار بھی بڑھتی چلی جائے گی۔

۴-اس یکسوئی اور دھن کے ساتھ دوڑنے والا ،اپنی پوری قوت صرف کرکے بس دوڑتا چلا جاتا ہے۔جنت کا راہی ،اس راہ کے لیے اپنی تمام توانائیاں صرف نہ کرے، تو اس کامطلب ہے کہ اس کی یکسوئی اور دھن میں کہیں کمی ہے۔اور اس کو جیتنے کی تدبیر یہاں سے شروع کرنا چاہیے۔

۵- رفتار کو مہمیز لگانے والی چیزوں سے مدد لینا چاہیے، یعنی اللہ کی یاد، موت کی یاد اور جنت دوزخ (دوڑ کا اختتام)سامنے ہونا۔ نیز ان کو تازہ رکھنے کے لیے مطالعہ،دروس میں شرکت اور نیکوں کی صحبت۔

۶-گناہوں اور برائیوں کا مطلب، اس راہ میں پیچھے ہٹنا یا رکنا ہے۔ان سے بچنا اس  دوڑ کو جیتنے کے لیے ضروری ہے۔یہ راستہ روکنے والی کانٹے دار جھاڑیاں ہیں،جن سے دامن بچانا (تقویٰ)، اس راہ پہ آگے چلتے رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ دو پہلو بھی پیش نظر رہیں:

ا)کبیرہ گناہوں کی سنگینی کا احساس رہے۔ شراب اور خنزیر کی طرح، غیبت اور والدین کی نافرمانی جیسے کبیرہ گناہوں سے بھی، ایسی ہی قباحت کے احساس کے ساتھ بچا جائے۔

ب) صغیرہ گناہوں سے بھی اس جذبے کے ساتھ بچا جائے ،جس سے دنیوی امتحانوں میں چھوٹی غلطیوں سے بچا جاتا ہے۔کیونکہ صغیرہ گناہ میں دلیری اور ڈھٹائی سے وہ کبیرہ بن جاتا ہے۔ ورنہ صغیرہ گناہوں کا ڈھیرجمع ہو کرتو کبیرہ بن ہی جاتاہے۔

۷- کچھ گناہ ایسے ہیں جو حبطِ اعمال کردیتے ہیں، یعنی جو نیکیاں کی ہیں، ان کو بھی ضائع کردیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جنت کی طرف دوڑنے والے نے پیچھے کی طرف دوڑنا شروع کر دیاہے۔ ان سے بچنا چاہیے۔ قرآن میں حبطِ عمل کی وجوہات میں شرک ،کفر، ارتداد، تکذیب، استکبار ،صد عن سبیل اللہ،اللہ کی نازل کردہ تعلیم سے کراہت، رسولؐ کے احترام میں کمی، نیت خالص نہ ہونے یا نیکی کا طریقہ غیر شرعی ہونے کا ذکر ہے۔ ان کے علاوہ حبطِ عمل کی وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ حق و باطل کی کش مکش میں باطل کا ساتھ دیا جائے یا اس سے ہمدردی ہو ، یاایسی کش مکش میں حق کا ساتھ نہ دیا جائے اور اس کے لیے جان ومال و محنت صرف نہ کی جائے۔(احزاب۳۳: ۹، محمد۴۶:۳۲)

۸- دوڑنے والا اگر ٹھوکر کھاکر گر جاتا ہے، تو سنبھل کر جلد از جلد اٹھ کر دوبارہ بھاگنا شروع کردیتا ہے۔ جنت کی دوڑ میں یہی سنبھلنا توبہ ہے۔ غلطی کے بعد جلد از جلد سنبھل کر ،اپنا رخ صحیح کر کے اپنا سفر شروع کر دینا چاہیے۔

۹-بیٹھنا نہیں۔دوسرے کام تو کجا،دوڑنے والا بیچ میں سستانے کے لیے بھی نہیں بیٹھتا۔ کچھوے اور خرگوش کی مشہور کہانی کا سبق یہی ہے کہ جو بیٹھ جاتا ہے، وہ پھر بازی ہار ہی جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک ایک لمحے کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ ہر لمحے کو ضائع ہونے سے بچانا چاہیے۔

حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:اپنی عمر کے اس دن پر رو جو گزر گیا اور اس میں تو نے کوئی نیکی نہیں کی۔

اول تو اپنے اہداف،کاموں اور نظام الاوقات کی منصوبہ بندی ایسی ہونا چاہیے کہ خواہ مخواہ کی فرصت اور فراغت کا اس میں گزر نہ ہو۔اور ناگزیر وجوہات کی بنا پر اگر فراغت میسر ہو تو اسے بھی استعمال کر لینا چاہیے،مثلاً صرف ہاتھ پاوں مشغول ہوں یا استعمال نہ ہو پارہے ہوں (مثلاً سفر کے دوران)تو آنکھوں(مطالعہ،مشاہدہ)، کانوں(سمعی آلات)یا زبان (ذکر، گفتگو)یا دماغ (تفکر)کے استعمال سے نیکیاں کمانا چاہییں۔

۱۰- دوڑنے والا اپنے راستے کو خوب صورت بنانے نہیں بیٹھ جاتا۔جنت کمانے کے لیے بھی دنیا کی گزرگاہ ہونے کی حیثیت یاد رکھیں۔ رسولؐکی بیان کردہ مثال کے مطابق اس کو ایسے ہی برتیں جیسے ایک سرائے۔ آسایش، آرایش اور نمایش کے تین درجوں میں سے کم ترین سے کام چلانے کی کوشش کریں۔دنیا سے محبت سے متعلق آیات و احادیث ذہن میں رکھیں۔

۱۱- اس کے لیے مدد گار یہ نسخہ ہے کہ جن کو یہ سامان میسر ہیں، ان لوگوں یا ان کے سامان پہ زیادہ توجہ ہی نہ دیں:

وَلَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْکَ اِلٰی مَا مَتَّعْنَابِہٖٓ اَزْوَاجًا مِّنْھُمْ (طٰہٰ۲۰:۱۳۱) اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی اس شان و شوکت کو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔

آپ کی آنکھیں نصب العین پر رہیں۔

۱۲۔ راستے کی آرایش سے جو بچ جاتا ہے وہ بھی اپنی آسایش کے لیے ساز وسامان اکٹھا کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔ اللہ تعالیٰ نے بھی منع نہیں کیا ہے۔ لیکن ایک عام دوڑ والا اپنے ساتھ کم سے کم سامان رکھ کر ہلکا پھلکا ہو کر دوڑتاہے۔ اس سے سبق لیتے ہوئے جنت کا راہی بھی اپنے ساتھ صرف ضروری سامان ہی رکھے، یا وہ سامان جس سے دوڑنے میں آسانی ہوجائے۔ جس سامان کی وجہ سے رفتار ہلکی ہوجائے، اسے اتار پھینکنا ہی بہتر ہے۔

۱۳۔رکنا تو کجا، رفتار سُست نہ پڑنے دیں۔اور اس میں یہ امر شامل ہے کہ لایعنی کام نہ کیے جائیں۔کیونکہ دوڑنے والا ان کاموں سے بھی بچتا ہے جو اگرچہ اسے پیچھے کرنے والے تو نہ ہوں، لیکن جن کا فائدہ بھی نہ ہو۔اسی طرح جنت کے مسافر کو بھی لاحاصل کاموں سے بچنا چاہیے،  خواہ وہ گفتگو ہو، یا کہیں آنا جانا ہو ،یا ٹی وی یا کمپیوٹر پہ ہو۔کچھ سننے میں ہو یا دیکھنے میں یا پڑھنے میں۔

مومنوں کی صفات میں سے ایک یہ ہے کہ:

وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَo (المومنون۲۳:۳) وہ لغویات سے پرہیز کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آدمی کے اسلام کی خوبی و کمال میں یہ شامل ہے کہ وہ لایعنی کاموں کو ترک کردے۔(ابن ماجہ، ترمذی)

۱۴-وقت کی کمی،امتحان کی زندگی کے ایک ہی ہونے،اورجزاکے گراں قدر ہونے پر ایمان سے، اس معاملے میں حساسیت بہت زیادہ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے کبھی جائزیا ناگزیر کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے،کم کرنا پڑتا ہے،یا اس کی حد بنانا پڑتی ہے، مثلاً مال کمانے یا جمع کرنے کی حد،نیند کی حد۔ کیونکہ کسی مفید مد میں زیادہ مال لگانا ہو اور آمدنی مقررہ ہو تو دیگر اخراجات کم کرنا پڑتے ہیں۔ وقت مقررہ ۲۴گھنٹے ہیں اور جنت کا سامان زیادہ جمع کرنا ہے تو دیگر مشاغل و مصروفیات کم کرنا پڑیں گی۔

۱۵-نیکی کی قیمت بڑھانے کے لیے اس کی quality یا کیفیت بڑھائیں۔قرآن میں نیکیوں کو گننے کا نہیں،تولنے کا ذکر ہے۔کیفیت ان چیزوں سے بڑھتی ہے: l ایمانی جذبے اور اخلاص سے۔l دل کی پوری رضاورغبت کے ساتھ نیکی کرنے سے۔ l ہر نیکی کے کچھ مخصوص آداب سے۔

انفاق کو لے لیجیے۔ انفاق کی قبولیت والی چیزیں یہ ہیں:ریا نہ ہونا،بدلے کی طلب      نہ ہونا،شکریہ کی طلب نہ ہونا،احسان نہ جتانا،جرمانہ نہ سمجھنا،نہ دے سکیں تو افسوس ہونا اور دینے والوں پر رشک آنا، دینے کے بعد خود پسندی نہ پیدا ہونا۔

انفاق کا اجر بڑھانے والی چیزیں یہ ہیں:اپنی ضرورت کی چیز دینا،اچھی چیز دینا، زیادہ مقدار میں دینا،مال کازیادہ تناسب دینا،آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرف دینا،بدحالی میں بھی دینا، قریبی رشتہ دار کو پہلے دینا، سفید پوش کو دینا،زیادہ اجر والی مد میں دینا،زیادہ اجر والے زمانے، مثلاً رمضان میں دینا، دین کی مغلوبیت کے زمانے میں دین کے لیے دینا،جوانی اور اُمنگوں اور ضروریات والے زمانے میں دینا،خود سے موقع ڈھونڈھ کر دینا۔ اسی وجہ سے غزوہ تبوک کے موقعے پر انفاق کی گئی چند کھجوریں اپنی قدر و قیمت میں مال کے پورے ڈھیر سے بڑھ گئی تھیں اور رسول اکرم ؐ نے انھیں پورے ڈھیر پر بکھیر کے پھیلا دیا تھا۔

اسی طرح نماز کی کیفیات اور آداب کا خیال رکھ کے کوشش کریں کہ ۲۰فی صد، ۳۰فی صد کے بجاے کم از کم ۹۰ فی صد تو فائدہ جمع کریں۔

۱۶- کیفیت کے ساتھ مقدار اور تعداد پر بھی توجہ دیں۔ نماز میں نفل رکعتوں کی تعداد اور قیام و رکوع و سجود کا طول، تلاوتِ قرآن و حفظ کی مقدار اور اس کے لیے دیا گیا وقت،دیگر مطالعے کی مقدار، ذکر و دعا کی مقدار، انفاق، بندوں کی خدمت، دعوت و تبلیغ میں مخاطبین اور دائرہ کار، اقامت ِ دین کے محاذوں کی اورذرائع کی تعداد ___ہر چیز کی مقدار بڑھائیں اور بڑھانے کے طریقے سوچیں۔

یہاں ایک اصطلاح ’احسان‘ یعنی نیکی کو حسن یا خوب صورتی سے کرنے (excellence) کا مفہوم دیکھ لیتے ہیں۔ مندرجہ بالا ،نیکی کی کیفیت اور مقدار دونوں کا حسن اس میں شامل ہے۔

ا)عبادات میں احسان یہ ہے کہ اس تصور کے ساتھ کی جائیں کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں،ورنہ کم از کم اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔(ماخوذ از حدیثِ جبریل ؑ)

ب)حقوق العباد میں احسان یہ ہے کہ جو برا کرے، اس کو معاف کرکے اس کے ساتھ اچھا کیا جائے، یا جس کا حق نہ بنتا ہو ، اس کو بھی دیا جائے۔ یہ احسان کا عمومی مفہوم ہے۔

ج)دنیوی زندگی گزارنے کے لیے جو کام ناگزیر ہیں، انھیں بھی اچھی طرح کیا جائے، مثلاً زراعت۔ (ماخوذ از اسلامی تصوف،محمد غزالی)

د)ساری نیکیوں اور بالخصوص اقامتِ دین کی جدو جہد میں بڑھ کے کام کیا جائے۔  مولانا مودودی نے اسلامی اخلاقیات کے چار مراتب بیان کرتے ہوئے، احسان کوبالائی منزل کہا ہے اور محسن کی صفات یہ بتائی ہیں: صرف وہی خدمات انجام نہیں دیتے جو ان کے سپرد کی گئی ہوں،بلکہ ان کے دل کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے کہ سلطنت کے مفاد کو زیادہ سے زیادہ کس طرح ترقی دی جائے۔اس دھن میں وہ فرض اور مطالبے سے زیادہ کام کرتے ہیں۔ (دعوتِ اسلامی کی اخلاقی بنیادیں)

۱۷-ہر نیکی یا نیکی کے ہر شعبے میں حصہ ڈالیں۔ دین کی سمجھ کے ساتھ نیکیوں کے شعبے بناتے جائیں اور ہر شعبے میں حصہ ڈالیں، مثلاًمراسمِ عبودیت کا شعبہ،حصولِ علم کا شعبہ،بنیادی اخلاقی اصولوں کا شعبہ، حقوق العباد کا شعبہ، تبلیغ و اقا متِ دین کا شعبہ۔ اس نکتے کے ضمن میں یہ یاد رہے کہ نیکیوں میں توازن ایسا ہونا چاہیے کہ ہر نیکی میں متناسب حصہ رہے۔

۱۸-ایک ہوشیار شخص کچھ کرتے ہوئے ایسے طریقے سوچتا جاتا ہے جن سے کم input سے زیادہ output، محدود سرمایے سے زیادہ نفع ،اورمقررہ محنت سے زیادہ رفتار حاصل ہوسکے۔  کچھ طریقے درج ذیل ہیں:

  •  ایک ہی عمل میں اللہ کی رضا کے حصول کی زیادہ نیتیں کرلی جائیں۔ مثلاًدرسِ قرآن میں جاتے ہوئے یہ نیتیں ہوسکتی ہیں___قدموں کے اجر کے ساتھ،فرشتوں کی معیت ،علم کا حصول، ایمان کی تازگی، لوگوں سے رابطہ،پڑوسیوں کا حق،نیکوں کی صحبت،اقامت ِ دین کی طرف ایک قدم۔
  • کم وقت میں زیادہ کام کی کوشش کریں۔ تنظیمِ وقت (Time Management)  کے اصولوں سے فائدہ اٹھائیں: m وقت کی منصوبہ بندی کریں اور وقت کاصحیح اور بھرپور استعمال کریں۔mکام کی رفتار بڑھانے کی کوشش کریں۔mایک وقت میں دو کام کرنے کی کوشش کریں۔mصبح کے برکت والے وقت کو استعمال کریں۔
  • ہر نیکی میں حصے ڈالنے کے ساتھ ساتھ ،زیادہ اجر والی نیکیوں کو ترجیح دی جائے۔   صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی طرح کچھ نیکیوں کے مقابلے میں کچھ دوسری نیکیوں کا اجر زیادہ ہے۔
  •  ذکر میں مسنون کلمات کے اہتمام سے سنت ِ نبویؐ کے اتباع کا اجر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ خصوصاً وہ کلمات جن کو رسول ؐنے خودوزنی بتایا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: دو کلمے زبان سے ادا کرنے انتہائی آسان لیکن ترازو میں بہت وزنی ہیں اور رحمن کو بہت پسند ہیں۔ سُبْحٰنَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ ، اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہیں اور عظمت والے ہیں۔

سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقَہٖ وَرِضٰی نَفْسِہٖ وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمٰتِہٖ (مسلم ، کتاب الذکر والدعاء ، باب التسبیح اول النھار وعند النوم ) ’’اللہ کی تسبیح اور حمد (بیان کرتا ہوں) اس کی مخلوقات کی تعداد جتنی، اتنی کہ جس سے وہ راضی ہوجائے، اتنی کہ جتنا اس کا عرش کا وزن ہے، اتنی کہ جتنی اس کی صفات /کلمات لکھنے کے لیے روشنائی درکار ہے‘‘۔

٭جس وقت عمومی نیکی کا اجر زیادہ ہو،اس وقت زیادہ نیکیاں کرلینا:کسی وقت نیکیوں کا اجر بڑھ جاتا ہے۔اور جب نیکیاں سستی ہوں (یعنی سیلsaleلگی ہو)تو زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹ لینا چاہیے۔جیسے:

ا)رمضان اور اس میں بھی لیلۃ القدر میں، ب)ذوالحج کے ابتدائی عشرے میں،ج)دین کی مغلوبیت کے زمانے میں خصوصاً نیکی پر قائم رہنا ،کہ اس وقت نیکی کی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے۔

ب)آزمایشوں کو پار کرکے اس راہ پہ ثابت قدم رہنے سے نیکی کا اسکور زیادہ بڑھتا ہے۔ دوڑ کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔کسی دوڑ میں مختلف رکاوٹوں کو پار کرنا ہوتا ہے۔جیتنے کا جذبہ ان رکاوٹوں کو عبور کرواتا ہے۔جنت کی دوڑ بھی obstacleraceہے۔انعام کو سامنے رکھنے سے یہ کٹھن راستہ یا آزمایشیں آسان ہوجاتی ہیں۔دوڑ میں اردگرد ہمت بندھانے والے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ یہاں رب العالمین خود ہمت بندھارہاہے کہ بھاگ کے آئو،میں نے تمھارے لیے یہ دل کش جگہ تیار کررکھی ہے۔لیکن اس راہ میں آزمایشیں یقینی ہیں۔

بہت سی نیکیوں سے رخصت کے لیے عذرِ شرعی موجود ہو سکتا ہے اور حرام کے ارتکاب کے لیے اضطرار کا جواز ہوسکتا ہے لیکن عزیمت کا راستہ یہ ہے کہ عذر کے باوجود نیکی کرلی جائے اور اضطرار و مجبوری کے باوجود حرام و ناجائز سے بچاجائے۔

باطل سے مداہنت، مشکلات سے مصالحت اور حالات سے مفاہمت کے مقابلے میں حق کا راستہ اختیار کریں۔

اسی عمل کو آزمایشوں کو انگیز کرنا بھی کہہ سکتے ہیں اور قربانیوں کا راستہ بھی۔ اور صبر و استقامت کے ابواب بھی یہیں کھلتے ہیں۔

حصولِ علم و مطالعہ ___دنیوی لذتوں کو قربان کر کے،

حسنِ اخلاق اور حقوق العباد کی ادایگی ___اپنی انا کو قربان کرکے،

انفاق ___ اپنی خواہشات کو قربان کرکے،

دوسروں کی خدمت ___ اپنا آرام قربان کرکے،

اقامت ِ دین کا کام___ اپنی مصروفیات اور نام نہاد وقار کو قربان کرکے۔

ہ) اسی میں یہ بھی شامل ہے کہ جب عمل کرنے والا دوسرا کوئی بھی نہ ہو یا بہت تھوڑے ہوں، تو اس وقت عمل کا اجر بہت بڑھ جاتا ہے۔ کہیں نماز نہ پڑھی جا رہی ہو، کہیں حجاب اور داڑھی نامانوس ہو ، اقامتِ دین کا کام کرنے والے بہت کم ہوں ، تو آگے بڑھ کر عمل کرنے کا اجر ، ایک بنے بنائے ماحول میں اجر کرنے سے زیادہ ہے۔غربا (اجنبیوں)کے لیے اس خوش خبری کو قبول کیجیے۔

و)اگر اللہ نے نوجوانی میں یہ سمجھ اور توفیق دی ہے ، تواس سنہری زمانے سے زیادہ سے زیادہ جنت کا سامان سمیٹ لیجیے۔کیونکہ نہ ایسی جسمانی طاقت دوبارہ ملنا ہے اور نہ اتنی کم قیمت پر یہ سامان۔ نماز، حصولِ علم،اقامت ِ دین___ان سب کواپنی زندگی کے بہترین حصے جوانی سے اچھا خاصا وقت دیں   ؎

جوانی میں عدم کے واسطے سامان پیدا کر

مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دُور ہوتا ہے

٭جس وقت کسی خاص نیکی کا اجرزیادہ ہو،اس کو ترجیحاً کرنا:کسی خاص وقت میں کسی خاص نیکی کا اجر بڑھ جاتا ہے۔جس وقت جس نیکی کی قدر سب سے زیادہ ہو ،اس کی پہچان پیدا کریں۔مثلاً:

ا)یوم النحر میں،

ب)حق کے محاذ پہ کسی اشد ضرورت کے وقت

لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ ط اُولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَ قٰتَلُوْاط وَ کُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسّنٰیط (الحدید۵۷:۱۰) تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے، وہ کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے ، جنھوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے۔ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے۔ اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔

ج) حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو جہاد کے لیے ایک لشکر میں روانہ فرمایا۔ یہ روانگی جمعہ کے دن تھی چنانچہ لشکر روانہ ہوگیا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے سوچا کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جمعہ کی نمازپڑھ کر اپنے لشکر سے جاملوں گا۔ چنانچہ وہ رُک گئے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز سے فارغ ہوئے اور آپؐ نے انھیں دیکھا تو ارشاد فرمایا: اگر تم زمین کے تمام خزانے خرچ کرڈالو تب بھی اپنے ساتھیوں کی ایک صبح کی فضیلت کو نہیں پاسکتے۔ (ترمذی)

اس حدیث سے اطاعت ِ رسولؐ،اطاعت ِ امیر، اجتماعی کام،معرکہ حق و باطل اور جہاد کی افضلیت معلوم ہوتی ہے۔

۱۹- ہر نیکی کا موقع بار بار نہیں آتا اور ہر موقعے کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔اس لیے موقعے کی تلاش میں رہیں ، موقع شناس بنیں اور کسی موقعے کو ضائع نہ جانے دیں۔جو نیکی کا کام سامنے آجائے ، اسے لپک کر کرلیں۔

oاگر مگر،چونکہ چنانچہ میں کام ترک یا موخر نہ کریں۔ جو کام کرنا ہے یا کرنا چاہیے، وہ کرلیں۔

oیہ نہ سوچیں کہ صرف میرا کام تو نہیں ، یا کوئی دوسرا کر لے گا،بلکہ خود غرضی دکھا کر خود بڑھ کے نیکی کرلیں۔

oیہ بھی نہ سوچیں کہ کوئی دوسرا آپ سے کوئی نیکی کرنے کو کہے گا، یا توجہ دلائے گا یا تربیت و تزکیہ کرے گا تو آپ نیکی کریں گے، بلکہ آپ خود بڑھ کے نیکی کرلیں۔

oدوسروں کو پیچھے دیکھ کر خود بھی پیچھے نہ ہوں۔ آگے بڑھ کر خود بھی نقصان سے بچیں اورپیچھے والوں کے لیے بھی مثال بنیں۔

oموقعے کی تلاش میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ نیکیاں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر کریں اور دونوں ہاتھوں سے دامن بھریں۔ اور اس میں یہ شامل ہے کہ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں۔عام استعمال کی چیز کسی کو دے دینا، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹادینا،کسی کو پانی پلادینا، مسکرانا___وہ نیکیاں ہیں جو قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ان کے علاوہ بھی بہت سی نیکیوں کے مواقع سامنے آتے ہیں، اگر انسان کو دین کی سمجھ ہو اور سمیٹنے کا جذبہ ہو۔

دنیوی امتحانی پرچوں کے معروضی سوالات کی طرح یہ بھی اہم ہیں۔ ایک ایک نمبر اہم بھی ہوتا ہے اور مل کر بڑا بھی ہوجاتا ہے۔

oنیکی کو ٹالنا نہیں اور اول وقت کرلینا:کاموں کو موخر نہ کریں ،یا بعد کے لیے ٹالیں نہیں۔ ایک دفعہ رسولؐ اللہ نماز کے بعد تیزی سے اٹھے اور اپنے حجرے میں چلے گئے۔ جب واپس آئے اور صحابہ کرامؓنے جلدی کا سبب دریافت کیا تو فرمایاکہ ایک سونے کی ڈلی گھر میں بچی رہ گئی تھی۔ (بخاری)۔ انھوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ اسے اللہ کی راہ میں دینے میں ذرا بھی دیر کی جائے۔

حضرت ابو الدحداحؓ نے رسولؐ سے اللہ کو قرض دینے کی آیت سن کر فوراً اپنے باغ اور اس کے اندر کے گھر کی پیش کش کردی۔ اُم الدحداحؓ کو بتایا تو انھوں نے بھی گھر سے نکلنے میں دیر نہیں لگائی۔

اسی طرح حضرت عمیرؓبن حمام نے غزوۂ بدر کے دوران رسولؐ اللہ سے جنت کا ذکر سنا۔پوچھا کہ شہادت پر وہی جنت ملے گی جس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہے؟ہاں سن کر انھوں نے اتنی جلدی دکھائی کہ جوکھجوریں وہ کھا رہے تھے،پھینک دیں اور دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ شہادت ان کا مقدر ہوئی۔

اپنے محاسبے میں یہ شامل کرلینا چاہیے کہ نماز کا وقت شروع ہونے کے کتنے منٹ بعد نماز شروع کی(انفرادی نماز کی صورت میں)۔ مالی عبادات میں بھی جلدی کیجیے۔قرض ادا کرنے میں جلدی اور مزدور کی اُجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دینے کی اہمیت تو حدیث میں ہی خصوصاً آئی ہے۔اپنے ماتحتوں کی تنخواہیں اگلا مہینہ یا مدت شروع ہونے سے پہلے دے دیجیے۔اپنے اوپر لاگو صدقات ، کسی فرد یا ادارے کی مدد کی صورت میں ،اور اقامت ِ دین کے لیے اعانت کی صورت میں،مہینے کے شروع میں ہی الگ اور ادا کردیجیے۔ ضرورت مند کے مانگے بغیر اور اجتماعی نمایندوں کی یاددہانی کے بغیر انفاق ، سبقت ہی ہے۔

اسی طرح اللہ کے بندوں کی مدد اور دل جوئی کا معاملہ ہو یا ان تک دین کی دعوت پہنچانے کا، ہر کام جلد از جلد ہی کرلینا چاہیے۔او رنوجوانی میں نیکیوں میں سبقت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ یہ ذمہ داری والی عمر کا اول دور ہے۔

حضرت ابن عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام آئے تو صبح کا انتظار نہ کر، اور جب صبح ہو تو شام کا انتظار نہ کر۔اور تنگدستی کی حالت میں بیماری کے لیے اور زندگی میں موت کے لیے تیاری کرلے۔ (بخاری)

حضرت عباسؓ کا قول ہے: بھلا کام اسی وقت پورا ہوتا ہے جب اسے جلد از جلد کرلیا جائے۔

۲۰-نیکی کو دوسروں سے پہلے کرلینا:پچھلے نکتے کو بڑھاتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ: اس دوڑ کا یہ بھی تقاضا ہے کہ نیکی اتنی جلدی ہو کہ دوسروں سے پہلے کرلی جائے۔

اس معاملے میں بھی حضرت ابراہیم ؑ کا اسوہ ہمارے سامنے آتا ہے،جنھوں نے کہا تھا    اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَo (انعام۶:۱۶۳)’’میں سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا ہوں‘‘۔

حضرت موسٰیؑ نے بھی کہا تھا: اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ o(اعراف۷:۱۴۳)’’میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں‘‘۔

اسی لیے نماز کی صفوں کے عددکے لحاظ سے بھی اجر بدلتا ہے۔

حضرت ابو ہریرہؓ نبی کریمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے ارشاد فرمایا: اگرتم صف اول کو(یعنی اس کے اجروثواب کو)جان لیتے تو تم قرعہ ڈالتے۔(مسلم)

اسی طرح دینی محافل،دروسِ قرآن کی بھی پہلی صف کا اجر زیادہ کیوں نہ ہو گا۔

قطع رحمی ختم کرنے اور صلہ رحمی اور حقوق العباد کی ادایگی میں پہل کا اجر بھی یقینا زیادہ ہے۔ موقع سامنے آنے پر انفاق ، لوگوں کے کام آنا اور خدمت بھی دوسروں سے پہلے بڑھ کر کرنا چاہیے۔

لفظ سابقون کی تفسیر میں ،نیکی کے ہر دائرے میں حصہ لینے،قربانی دینے اور دوسروں سے آگے نکلنے کو مولانا مودودی نے ایسے یکجا کیا ہے:’’سابقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی اور حق پرستی میں سب پر سبقت لے گئے ہوں، بھلائی کے ہر کام میں سب سے آگے ہوں، خدا اور رسولؐ کی پکار پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے ہوں،جہاد کا معاملہ ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کا، خدمتِ حق کا معاملہ ہو یا تبلیغِ حق کا،غرض دنیا میں بھلائی پھیلانے اور برائی مٹانے کے لیے ایثار و جانفشانی کا جو موقع بھی پیش آئے، اس میں وہی آگے بڑھ کر کام کرنے والے ہوں‘‘۔ (تفہیم القرآن، تفسیر سورۃ الواقعہ،جلدپنجم، ص ۲۷۸)

۲۱۔جنت اور رضاے الٰہی کے حصول کے لیے اپنی زندگی کا ایک مقصد آپ نے متعین کرلیا ہے تو اپنی زندگی کے ہر گوشے میں اسے اتنا ہی مقام دیں جتنا اونچا آپ جنت کا درجہ لینا چاہ رہے ہیں۔ویسے بھی جنت کی قیمت تو قرآن کے الفاظ میں آپ کی پوری جان اور مال ہے (التوبہ۹:۱۱۱)۔اپنا ہر لمحہ اور ہر صلاحیت، ہر پیسہ اور ہر سامان اس راہ پہ دوڑنے کے لیے لگا دیجیے۔

۲۲-اصل چیز یہ کہ آپ یکسو ہو جائیں کہ پوری زندگی سے یہی حاصل کر نا ہے تو خود بخود ہر چیز اسی مقصد کے تحت ڈھلتی جاتی ہے۔ خرچ کرنا،کھانا، سفر،بولنا، آلات کا استعمال___یا قرآنی الفاظ کے مطابق جینا اور مرنا اللہ کے لیے ہو جاتا ہے۔

۲۳- اپنی کوششیں کرکے بھی مطمئن نہ ہوں۔کیونکہ دوڑنے والا کبھی مطمئن نہیں ہوتا کہ اس کی جیت لازمی ہے۔جنت کی راہ میں کوئی مقام یا موڑ ایسا نہیں آتا،جہاں پہنچ کر راہی یہ سمجھ لے کہ منزل آگئی۔

مولانا مودودی کے مطابق کمال ایک لامتناہی چیز ہے۔دامن کے پچھلے دھبے ابھی دھو کر فارغ نہیں ہوئے کہ نگاہ کچھ اور ڈھونڈھ کے سامنے رکھ دیتی ہے کہ اب انھیں دھوئیے۔

جس مقام پر آدمی یہ سمجھ لے کہ منزل آگئی ،وہیں وہ بازی ہار جاتا ہے،اور اس کے زوال کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔

ایک سنگِ میل عبور کرتے ہی اگلے سنگِ میل پر توجہ مرکوز کر دیجیے   ع

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہیں اور اس طرف سفر کرتے رہیں___عبادات میں ، اخلاقی صفات اور ان کے معیار میں، حصولِ علم میں، دعوتی میدانوں میں، مقدار کے لحاظ سے بھی اور کیفیت کے لحاظ سے بھی۔

۲۴-دوڑنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے پیچھے کتنے لوگ رہ گئے ہیں بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ آگے کتنے لوگ ہیں اوریہ بھی کہ وہ کتنا آگے ہیں۔

۲۵-اگر آپ نیکیاں کمانے کے لیے کسی اجتماعیت یا تحریک کا حصہ ہیں ، تو آپ خوش قسمت ہیں۔ یہ بہت سی ان نیکیوں کے دروازے کھولتی ہے جو ایک فرد کے بیرونِ دریا رہنے سے نہیں  کھل سکتے۔اور اجتماعی نیکیوں میں اسے بھی حصہ دار بنا دیتی ہے جن میں اس نے براہِ راست حصہ نہیں لیا۔ اس وجہ سے کہ وہ اس اجتماعیت کا حصہ ہے اور اسے تقویت پہنچاتا ہے۔

اس اجتماعیت میں شامل ہوکر بھی کچھ پیچھے والے ہوتے ہیں اور کچھ آگے والے۔آگے والے بننے کے لیے اس اجتماعیت کو تقویت دیں،اس پر بوجھ نہ بنیں۔oامیر سے خود رابطہ کریں اور کام معلوم کریں۔امیر کی طرف سے رابطے کے انتظار میں نہ رہیں ، اور اطلاع کے بغیر عضوِ معطل نہ بنیں۔oہمہ وقت مستعدو چوکس گھڑسوار مجاہد کی طرح رہیں اور جو کام دیا جائے ، اسے قبول کریں۔ oاجتماعیت کے کاموں میں اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور کام دوسروں پر نہ چھوڑیں۔ oدیگر نیکیوں کی طرح اجتماعیت کے کاموں میں بھی اگرمگر نہ کریں اور فوراً کرلیں۔ oچھوٹے سے چھوٹا کام بھی لگن اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ وقت پر کریں۔oآگے کی صفوں کے کام ملیں تو وہ بھی کرلیں ، اور پچھلی صفوں میں رہ کے کام کرنا ہو، توان کو بھی خوش اسلوبی اور دل جمعی سے انجام دیں۔ oدوسرے لوگوں کو دیکھ کر خود پیچھے نہ ہوں۔ oاس کی نوبت نہ آئے کہ اجتماعیت کا کوئی دوسرا فرد، آپ کو متحرک کرے oکسی بھی اجتماعی کام میں اپنے حصے کا جائزہ لیتے رہیں۔oاجتماعی کاموں میں بھی حتی الامکان رخصت کے بجاے عزیمت کی راہ اختیار کریں۔

اس دوڑ میں آگے رہنے والوں کے لیے جنت کے خصوصی درجات کا ذکر قرآن و حدیث میں ہے:

آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔وہی تو مقرب لوگ ہیں۔نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔مرصع تختوں پر تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ان کی مجلسوں میں ابدی لڑکے چشمہ جاری سے شراب کے لبریز پیالے اور کنڑ اور ساغر لیے دوڑتے پھرتے ہوں گے۔جسے پی کر نہ ان کا سر چکرائے گانہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے کہ جسے چاہیں چُن لیں،اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کاچاہیں استعمال کریں۔اور ان کے لیے خوب صورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی،ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی۔یہ سب کچھ ان اعمال کی جزا کے طور پر انھیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔(الواقعہ ۵۶:۱۵-۲۴)

اللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی اُحِبُّکَ بِقَلْبِی کُلِّہٖ  وَأُرْضِیْکَ بِجُھْدِی کُلِّہٖ

 

(یہ تحریر جس مضمون کی تلخیص ہے، وہ منشورات نے ۴۸صفحات کے کتابچے کی صورت میں اسی عنوان: ’دوڑو اور آگے بڑھو!‘ سے شائع کر دیا ہے۔ قیمت: ۲۰ روپے۔ ۱۲۰۰ روپے سیکڑہ)