جون ۲۰۱۶

فہرست مضامین

مدیر کےنام

| جون ۲۰۱۶ | مدیر کےنام

عبدالرب خاں ، اسلام آباد

پانامہ لیکس پر مئی کے ’اشارات‘ پر مفتی منیب الرحمن کے تبصرے سے قارئین کو محروم نہیں رہنا چاہیے۔ وہ لکھتے ہیں:’’اس پورے عرصے میں مجھے اس موضوع پر صرف پروفیسر خورشیداحمد کی جامع تحریر، تجزیہ اور تجاویز پڑھنے کو ملیں۔ انھوں نے پورے نظام کی اصلاح کی بات کی ہے اور یہ بھی تجویز دی ہے کہ دائرہ سب پر محیط کیا جائے۔ ہماری صحافت بھی کم و بیش دو کیمپوں میں منقسم ہے اور سب اپنے اپنے کیمپ میں مورچہ زن ہیںاور فریق مخالف پر زبانی اور تحریری بم باری کر رہے ہیں۔ اس سے بظاہر کسی مثبت نتیجے کی توقع عبث ہے، سواے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کچھ فیصلے مقدر ہوچکے ہوں تو انھیں کوئی ٹال نہیں سکتا‘‘۔(روزنامہ دنیا لاہور، جسارت، ۲۰مئی۲۰۱۶ئ)


عدی محمد ، ابوظہبی

محترم پروفیسر خورشیداحمد کے ’اشارات‘نے پانامہ لیکس اور آف شور کمپنیوں کی حقیقت سے پردہ اُٹھا دیا ہے۔ آف شور کمپنی کس بلا کا نام ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟ اگر کسی کو سمجھنا ہو تو ان ’اشارات‘ (مئی ۲۰۱۶ئ) کا لفظ بہ لفظ مطالعہ کرے۔ انھوں نے نہ صرف مرض کی تشخیص کی ہے بلکہ اس کا علاج بھی بتایا ہے۔ یہ تحریر سرمایہ دارانہ نظام پر ضربِ کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر صاحب کے زورِ قلم کو اسی طرح توانا رکھے، آمین!


اسماء معظم ، کراچی

’ایم کیو ایم: سیاسی و معاشی دہشت گردی اور بھارتی کردار‘(اپریل ۲۰۱۶ئ) کے مطالعے سے ایم کیو ایم کی حقیقت کا علم ہوا۔برسوں سے خواہش تھی کہ ایم کیو ایم کی ۴۰سالہ کارکردگی کو عوام کے سامنے لایا جائے، بالخصوص اُن کے سامنے جو آنکھیں بند کر کے اندھی تقلید کر رہے ہیں۔


ہمایوں اختر ،ملتان

’لبرل ازم اور سماجی فساد‘ (مئی ۲۰۱۶ئ) قدسیہ ممتاز کی شروع سے آخر تک بہت زورآور تحریر ہے۔   ان کے آخری فقرے نے تو شورش کاشمیری کے طرزِ تحریر کو زندہ کر دیا۔ خدا مزید ترقی و سعادت نصیب فرمائے۔