جون ۲۰۲۱

فہرست مضامین

سپریم کورٹ کا فیصلہ ، مضمرات اور حل

ڈاکٹر شہزاد اقبال شام | جون ۲۰۲۱ | تعلیم و تربیت

پاکستان سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس [۱۱دسمبر ۲۰۱۳ء- ۵جولائی ۲۰۱۴ء] تصدق حسین جیلانی صاحب نے ۲۰۱۴ء میں اپنے فیصلے کے ذریعے، ۹۶ فی صد مسلمانوں کی راہوں میں جوکانٹے بوئے ہیں وہ آنے والی نسلوں کو اپنی پلکوں سے چننا پڑیں گے۔ مذکورہ فیصلے میں یک طرفہ منظرکشی کی گئی تھی، حقائق سے اس کا معمولی سا تعلق نہیں ہے۔چیف جسٹس جیلانی صاحب اگر اَزخودنوٹس کےتمام فریقوں کو توجہ سے سن لیتے تو آج سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس گلزار احمد صاحب کو وہ مشکلات نہ دیکھناپڑتیں،جو ملک بھرمیں نظرآرہی ہیں۔

  • فیصلے کے اہم نکات :جسٹس جیلانی کے اس فیصلے کے ایک ہی فریق کی استدعا کا مختصر بیان یہ ہے: سائلان میں ہندو، مسیحی اور سکھ کی طرف سے ایک مخصوص این جی او کے نمایندے، صوبائی ایڈووکیٹ جنرل،یا ان کے نمایندے شامل تھے۔ مسلمانوں کے کسی نمایندے کی موجودگی اور موقف کا ذکر فیصلےمیں نہیں ملتا۔ قضیے کا آغاز پشاور میں مسیحی چرچ پر حملےسے ہوا۔ ’جسٹس ہیلپ لائن‘ نامی این جی او نے چیف جسٹس سے اَزخود نوٹس کی اپیل کی، اور انھوں نے یہ نوٹس لیا۔ کچھ ہندو درخواستوں کو بھی شامل کیاگیا کہ ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ دیا جائے۔ روزنامہ ڈان کےاداریے کی بنیاد پر کیلاش کا ذکر ہوا کہ انھیں مذہب بدلنے پر مجبورکیاجارہا ہے۔ ہندوشادیوں کی رجسٹریشن اور اقلیتی شہریوں کے لیے ملازمتوں میںکوٹے کا ذکر بھی آیا۔

چند اُمور تو انتظامیہ کی وضاحت پر نمٹا دیئے گئے۔ اس اَزخود نوٹس میں نہ تو نصابِ تعلیم کا ذکر تھا، اور نہ محکمہ تعلیم کی طرف سے کوئی نمایندہ پیش ہوا۔ تاہم، یہ امر باعث ِتعجب ہے کہ فیصلے میں جسٹس جیلانی اقلیتی آبادیوں یامسلمانوں سے انصاف کرنے کےبجائے این جی او اور ان کے نمایندوں کے رضاکار وکیل کاکردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ لہٰذا لازم ہے کہ فیصلے کے بنیادی نکات کو دیکھا جائے:

  • اقلیتی عبادت گاہوں کا تحفظ: محترم جسٹس جیلانی صاحب اس سلسلے میں اتنا آگے نکل گئے کہ ’تعزیراتِ پاکستان‘ (پی پی سی) کے سیکشن ۲۹۵- بی یا ۲۹۵-سی کو تو رکھیے    ایک طرف، انگریزی عہد کے سیکشن ۲۹۵ پر بھی انھیں اطمینان نہیں تھا۔ جسٹس صاحب فرماتے ہیں: ’’عدالت کو حیرانی ہوئی جب فاضل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ اقلیتی عبادت گاہوں کی بے حُرمتی ’تعزیراتِ پاکستان‘ کے تحت نہ تو بے حُرمتی ہے اور نہ جرم۔جب دفعہ ۲۹۵ کے بارے میں موصوف سے پوچھا گیا تو ان کے پاس یہ کہنے کے سوا کچھ نہ تھا کہ عبادت گاہوں کی بے حُرمتی چاہے غیرمسلموں کی کیوں نہ ہو، جرم ہے‘‘۔ اور آگے چل کر اسی بنیاد پر حکم نامہ ملاحظہ ہو: ’’ایک مخصوص پولیس فورس تشکیل دی جائے، جسے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی پیشہ ورانہ تربیت دی گئی ہو‘‘۔

یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ پولیس فورس قائم کرنا وفاق کی ذمے داری ہے یا صوبوں کی؟ اور سیکشن ۲۹۵ میں کیا خرابی ہے جو بلاتفریق مذہب تمام عبادت گاہوں کو یکساں نظر سے دیکھتا ہے۔ کیا چیف جسٹس جیلانی صاحب کو وہ سیکڑوں مساجد نظر نہیں آئیں، جو اس ’جنگ‘ میں برباد ہوئیں؟ ان کے لیے کیوں نہ ایک الگ فورس بنائی جائے؟ مبینہ طور پر خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ اس کے لیے الگ فورس کیوں نہ بنائی جائے؟ ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج میںذرا سی غفلت ہوجائے تو لواحقین ڈاکٹروں اور نرسنگ اسٹاف کو پیٹنا شروع کردیتے ہیں تو ہسپتالوں میں میڈیکل خدمات انجام دینے والے اس عملے کے تحفظ کے لیے کیوں الگ فورس نہ بنائی جائے؟ یہاں تمام عبادت گاہوں کے لیے عدالت کا اتنا حکم کافی تھا کہ صوبے اس پرگہری نظررکھیں۔ لیکن سماجی اُمور کو نظرانداز کرکے جسٹس جیلانی عدالتی حدود سے نکل کر انتظامی حدود میں داخل ہوگئے۔

  • دلائل بحق اقلییات پر نظر: عدم برداشت، نفرت، معاشرتی تقسیم اور تشدد پر جسٹس جیلانی صاحب نے اخبار ڈان کے اس چھوٹے سے سروے سے نتائج اخذ کیے، جس کے شرکا ۶۰۰ کے لگ بھگ تھے۔ کسی یونی ورسٹی میں بی ایس کا طالب علم بھی متعین اہداف والے ایسے اخباری سروے سے نتائج اخذ کرےتو استاد اس کی رپورٹ، ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ متعین اہداف والے ادارےاور این جی او ذہن سازی کے لیے ایسے سروے کرتے ہیں، جن کی نہ کوئی علمی افادیت ہوتی ہے اور نہ انھیں کسی سنجیدہ فورم پر پیش کیا جاتا ہے۔ ادھر جسٹس جیلانی صاحب ۶۰۰ افرادکے سروے کو ۲۲کروڑ پر نافذ کر گزرے(یاد رہے، ہم رائے عامہ معلوم کرنے کے مسلّمہ اداروں کی خدمات اور سائنٹی فک طریق کار کی نفی نہیں کر رہے)۔
  • آئین ، قانون اور قرارداد کی قوت: حکومتوں کو احکام جاری کرتے وقت جسٹس جیلانی صاحب نے جن دلائل کا سہارا لیا، ان میں سے ایک اقوام متحدہ کی قرارداد مجریہ۱۹۶۶ہے:’’ہرکسی کو فکر،ادراک اور مذہب کی آزادی ہے… اپنے مذہب یا عقیدے کی پیروی کرنے، مشاہدے، عمل اور فروغ دینے اور اس کی تعلیمات عام کرنے کی آزادی ہے‘‘۔ پھر جج صاحب ۱۹۸۱ء کی اقوام متحدہ کی ایک اور قرارداد سے روشنی لیتے ہیں۔ معمولی سا فہم رکھنے والا فرد بھی اتنا کم فہم نہیں ہے کہ وہ آئین، قانون اور قرارداد میں فرق نہ کرسکے۔
  • موجودہ نصاب پر اقلیتی آراء : یہ بات بالکل عیاں ہے کہ نصاب میں موجود اسلامی تعلیمات اقلیتوں کو نہ صرف قبول ہیں بلکہ وہ اس حق میں ہیں کہ نصاب اسی طرح برقرار رہنا چاہیے۔ اس دعوے کی بنیاد اقلیتوں کےنمایندہ ادارے ’پاکستان مائنارٹی کمیشن‘ کے چیئرمین جناب چیلا رام کا وہ بیان ہے، جس میں انھوں نے صاف الفاظ میں ’سڈل کمیشن‘ کی سفارشات مسترد کردیں۔ اقلیتوں کی نمایندگی کرتے ہوئے، سپریم کورٹ میں کھڑے ہوکر انھوں نے کہا کہ ’’موجودہ نصابِ تعلیم بہت مناسب ہے اور ہمیں قبول ہے‘‘۔ 

جناب چیلارام کے بیان کے باوجود میرے دل میں یہ وہم تھا کہ سرکاری ادارے میں موجود اور حکومت سے قریب لوگ شاید کھل کر بات نہیں کرسکتے۔ یہ سوچ کر میں نے مذہبی اقلیتی برادری کے قدآور رہنمائوں سے رابطہ کرکے یہ سوال پوچھا:

وفاقی وزارتِ تعلیم کے نئے متفقہ نصاب کے مضامین اُردو ، مطالعہ پاکستان، تاریخ اور انگریزی میں نعت، حمد، اللہ ،رسولؐ، خلفائے راشدینؓ اور اسلامی تعلیمات پر مبنی نصاب پر کیا آپ کو بحیثیت اقلیتی رہنما کوئی اعتراض ہے ؟

 سوال کے جوابات جو حاصل ہوئے ،وہ من و عن آپ کی نذر ہیں:

۱- جناب ڈاکٹر سونو کھنگھارانی[۱]

ڈاکٹر کھنگھارانی صوبہ سندھ کےمعروف شہرمٹھی (ضلع تھرپارکر) میں مقیم ہیں اور ’پاکستان دلت سالیڈیرٹی نیٹ ورک‘ کے کنوینر ہیں۔ موصوف جنوبی ایشیا کے معروف ادارے ’ایشین دلت رائٹس فورم‘ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے پاکستان سے ممبر ہیں۔آپ ’انٹرنیشنل دلت سالیڈیرٹی نیٹ ورک‘ کے بورڈ میں پاکستان کی نمایندگی کرتے ہوئے اس بورڈ کے ممبر ہیں۔ انھیں پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا سول ایوارڈ ’نشانِ امتیاز‘ بھی مل چکا ہے۔ انھوں نے ہمارے سوال کا جامع جواب دیا (جو آپ ’یوٹیوب‘ پر سن سکتے ہیں)۔ یہاں ان کے جواب کا خلاصہ تین نکات میں پیش کر رہے ہیں، جنھیں دُہرا کرکے اُن سے تصدیق حاصل کی۔ ’سڈل کمیشن‘ کی سفارشات پر بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’’یہ[سفارشات] تعصب پر مبنی ہیں‘‘۔  ان کا جواب ملاحظہ ہو:

       ۱-    پاکستان مسلمانوں نے بنایا تھا، لہٰذا اس کی ۹۷ فی صدآبادی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق اپنا نظامِ تعلیم مرتب کرے۔ ہم غیرمسلموں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ ضرور ہے کہ غیرمسلم اقلیتوں کے لیے نفرت انگیز مواد نہیں ہونا چاہیے۔

       ۲-    تقسیم ہند کے بعد اقلیتوں کو یہ اختیار مل گیا تھا کہ وہ پاکستان میں رہیں یا ہندستان میں، کیونکہ یہ ملک اسلام کے نام پر مسلمانوں نے بنا یاتھا۔ اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے لاکھوں لوگ ہندستان ہجرت کرگئے۔ اب یہاں رہ جانے والے غیرمسلم یہ حقیقت قبول کرکے یہاں مقیم ہیں کہ ہم نے اکثریتی آبادی کے ساتھ رہنا ہے اور اکثریتی آبادی کو ملکی نظام اپنی خواہشات پر ترتیب دینے کا حق حاصل ہے۔ ہمیں اور لاکھوں افراد پر مشتمل ہماری اقلیتی آبادی کو اس نصاب پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

       ۳-    ہم تو ویسے بھی مسلمانوں کی طرح اپنے مُردےدفناتے ہیں۔ اللہ، رسول، ان شاء اللہ، اللہ حافظ اور ایسے متعدد الفاظ ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ اسلام، اسلامی تعلیمات اور تاریخ اسلام کا مطالعہ ہماری اپنی ضرورت ہے۔ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں، اس ملک کا نظام اگر ہماری اولادیں نہیں جانیں گی تو مسلمانوں کو سمجھیں گی کیسے؟ سائیں! اپنے بچوں کو سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں ملازمتوں کے لیے بھیجنے سے پہلے ہم خود انھیں اسلام اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ دوسرے ملک میں انھیں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ اسلامی تعلیمات سےآگاہی خود ہماری اپنی ضرورت ہے۔ موجودہ نصاب سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

۲- جناب گنپت رائے بھیل[۲]

 ڈاکٹرکھنگھارانی ۳۰لاکھ شیڈولڈ کاسٹ آبادی کے سیاسی رہنما اور دانشور ہیں۔ سیاسی رہنما کا زاویۂ نگاہ یقینا عوامی اُمنگوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لیکن اس رہنمائی کو اگر تعلیم و تعلّم کا پیوند لگ جائے تو اس میں بہت وزن پیدا ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ہم نے جس اگلے اقلیتی رہنما سے رابطہ کیا،  وہ جناب گنپت رائے بھیل تھے۔ موصوف اپنے زمانۂ طالب علمی میں میجر خورشیدقائم خانی سے متاثر ہوئے، جنھوں نے فوج سے مستعفی ہوکر اپنی زندگی دلت برادری کے لیے وقف کردی تھی۔ میجر صاحب نے ایک سندھی جریدہ دلت ادب جاری کیا تو گنپت رائے ان کے نائب مدیر رہے۔ ان کی وفا ت کے بعد رائے صاحب  مدیر ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے استاد ہیں اور مٹھی میں پڑھاتے ہیں۔ بھارتی دستور کے آرکیٹکٹ ڈاکٹر امبیدکر کی سوانح عمری ڈاکٹر امبیدکر کی زندگی کی جدوجہد از سعید شاہ غازی الدین کا آپ نے سندھی میں ترجمہ کیا اور ۲۰۱۳ء کے بعد سات برس تک سندھی جریدے سندھ ایکسپریس میں باقاعدگی سے لکھتے رہے۔

نصابِ تعلیم کے حوالے سے انھوں نے تفصیل سے جواب دیا جس میں دیگر اُمور بھی تھے۔ البتہ نصاب کی نسبت سے تو انھوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم ۳۰ لاکھ غیرمسلموں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اُردو، تاریخ، مطالعہ پاکستان، انگریزی کسی بھی مضمون میں اسلام اور اسلامی تاریخ کا نصاب میں ہوناضروری ہے۔ ان کی گفتگو بھی تین نکات کا احاطہ کرتی تھی:

       ۱-    ۹۶/۹۷ فی صد آبادی کے اس مسلمان ملک میں اسلام کسی بھی شکل میں پڑھایا جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

       ۲-    [گنپت صاحب کو شکوہ تھا کہ] شیڈولڈ کاسٹ برادری کے رہنما اور شیڈولڈ کاسٹ فیڈریشن کے صدر جوگندر ناتھ منڈل نے کانگرس کی ہندو قیادت کو چھوڑ کر اپنے ۲۱ساتھیوں اور چارسرکردہ اینگلوانڈین کے ہمراہ آل انڈیا مسلم لیگ کا ساتھ دے کر تحریک پاکستان میں شرکت کی تھی، لیکن تاریخ میں صرف مسلم لیگ کابیانیہ پڑھایا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہمارے ان رہنمائوں کا ذکر بھی نصابی کتب میں کیا جائے کہ انھوں نے مسلم لیگ کا ساتھ دے کر تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا تھا۔

       ۳-    اُردو، انگریزی، تاریخ اور مطالعہ پاکستان کے نصاب میں اگر اللہ، رسول، نعت، حمد، اور تاریخ پاکستان آتے ہیں (جن سے غیرمسلم بچے ویسے بھی مستثنیٰ ہیں کہ وہ یہ چیزیں یاد کریں)تو اعلیٰ مسیحی [اور مشنری] تعلیمی اداروں میں کیا مسلمان بچے مسیحی مناجات اور مسیحی دُعائیہ کلمات میں شریک نہیں ہوتے؟دُور نہیں کراچی کے سینٹ پیٹرسن میں دیکھ لیں، میری بات کی تصدیق ہوجائے گی۔

۳- محترمہ رتنا کماری[۳] ، بیوہ جسٹس رانا بھگوان داس

مذکورہ بالا دونوں غیرمسلم رہنما محروم وسائل اور پسماندہ، لیکن اکثریتی ’دلت‘ طبقےسے تعلق رکھتے ہیں۔ ہندومت کے ذات پات کے نظام میں یہ طبقہ کم ترین کہلاتا ہے۔ پاکستان میں یہ مذہبی اقلیت ہی ہندو اکثریت پر مشتمل ہے۔ اس کا نقطۂ نظر سامنے آنے پر مناسب سمجھاگیا کہ اعلیٰ برہمن اقلیتی ہندو کا نقطۂ نظر بھی سامنے آجائے۔ اعلیٰ ذات کے جس برہمن کا نام ذہن میں آیا، وہ پاکستان سپریم کورٹ کے سابق قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس (م:۲۰۱۵ء)تھے۔ کچھ عرصہ قبل کسی اور حوالے سے ان کی بیوہ سے فون پر میری بات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ وہ اعلیٰ برہمن برادری سے وابستہ ایک گھریلو پردہ دارخاتون ہیں۔ انھوں نے اپنی طرف سے بات کرنے کا اختیار اپنےبھائی جناب سبھاش چندرکو دیا تھا۔

 سبھاش چندر صاحب مکینیکل انجینئر ہیں اور پاک پی ڈبلیو ڈی میں اعلیٰ عہدےپر فائز رہ کر ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ کے زیرمطالعہ مذہبی کتب اُردو، سندھی یا انگریزی میں نہیں بلکہ ہندی رسم الخط میںہی ہیں۔ اس بات سے ان کی فعال مذہبی وابستگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ فون پر ان کے سامنے مذکورہ سوال رکھ کر یہ وضاحت کردی کہ ’’جواب میں جو موقف وہ اختیار کریں گے، اسے بیوہ جسٹس رانا بھگوان داس کا موقف بھی سمجھا جائے گا۔لہٰذا، آپ وہی جواب دیجیے جو محترمہ کے موقف کے قریب تر ہو۔اس وضاحت کے بعد سبھاش صاحب نے دونکاتی جواب دیا:

       ۱-    ماضی میں پورا برصغیر ایک بڑی اور تہذیب یافتہہند  ووحدت تھی۔ یہاں صرف مقامی لوگ تھے اور انتہائی امیراور مہذب تھے۔ ابتدائی طور پر گنوار حملہ آوروں نے برصغیر کی تہذیب کو مسخ کرکے رکھ دیا۔ لیکن بعد میں آنےوالے حملہ آوروہ لوگ تھے، جنھوں نے تاج محل، قلعہ جات، باغات،مساجد وغیرہ بنا کر اس مقامی تہذیب میں مزیدنکھار پیدا کیا۔ یہ حملہ آور اب اس دھرتی کا حصہ بن گئے۔

       ۲-    [اس سوال کے جواب میں کہ ’’بعض لوگ تاریخ، مطالعہ پاکستان، اُردو، انگریزی وغیرہ میں اسلام کے تذکرے کی مخالفت کررہے ہیں…‘‘ انھوں نے پورا سوال سنے بغیر بات سمجھتے ہوئے زور دے کر کہا:]’’نہیں نہیں، یہ غلط بات ہے۔ حمد، نعت اور ایسی دیگر چیزیں ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ البتہ اوور ڈوز نہیں ہونا چاہیے جیسے ’کفار نے یوں کہا، یا ’کفار بُرے ہوتے ہیں‘‘۔

              [ہم نے وضاحت کی کہ ’یہ پرانے نصاب میں تھا، جسے نکال دیا گیا ہے‘۔ اور جب سوال کی مزید وضاحت کرتے ہوئے یہ کہا کہ حمد،نعت وغیرہ یاد کرنے یا امتحان سے غیرمسلم طلبہ مستثنیٰ ہیں تو ان کا جواب تھا:] ’’کیوں مستثنیٰ ہیں؟ حمد، نعت میں کیا خرابی ہے؟جناب یہ مسلم اکثریت کا ملک ہے اور مسلمان جب اپنے بچوں کو یہ پڑھاتے ہیں تو ہمارے بچے بھی پڑھ لیتے ہیں۔ جسٹس رانا بھگوان داس اسلامیات میں ایم اے تھے۔ آج کے ہندستانی بنگال کی ہر دل عزیز وزیراعلیٰ ممتابنیرجی اسلامی تاریخ میں ایم اے ہیں۔ صاحب! ان لوگوں کا مسئلہ کیا ہے؟‘‘

  • سڈل صاحب کی کارکردگی: یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جسٹس جیلانی صاحب کے ۲۰۱۴ء کے فیصلے کی روشنی میں ۲۰۱۶ء میں قائم کردہ ’شعیب سڈل کمیشن‘ نےمعمولی رپورٹ پر تین سال کیوں لگائے؟ سقوطِ مشرقی پاکستان جیسے بڑے سانحے پر حمودالرحمٰن کمیشن نے تو محض دوسال دس ماہ میں رپورٹ پیش کر دی تھی۔ ادھر ہمارے ممدوح اور تعلیمی امور سے نابلد سابق اعلیٰ پولیس افسرنے اتنی مدت لگاکر ایک متنازعہ، غیرحقیقی، ادھوری اور متضاد رپورٹ پیش کی۔
  • بعض کالم نگاروں کا مخمصہ: متفقہ نصاب تعلیم سے اسلام کے اخراج کی وکالت کرنےوالے بیش تر کالم نویس بالعموم وہ لوگ ہیں، جن کی گزربسر غیرملکی این جی اوز کے ’وظائف‘ پر ہے، اور جو زعمِ باطل میں ہر موضوع پر لکھنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ تعلیم اور تعلیمی عمل کے بارے معمولی سی شُدبد نہ رکھنے کے باوجود فیصلہ کن انداز سے قوم پر رائے تھوپ رہے ہیں، اور کالم نویسی کے ذریعے تعلیمی گمراہی پھیلارہے ہیں۔ روزنامہ دُنیا میں سابق سفیر پاکستان جاوید حفیظ صاحب نے اسی طرح بھولپن میں کالم لکھا۔ میرے استفسار پر فرمایا کہ ’’نہ تو میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھا ہے، نہ اس فیصلے سے متعلق حقائق کا علم ہے‘‘۔ حقائق کا علم ہونے پر وہ چپ سے ہو گئے۔ ان کا کہناتھا کہ ’’ایک انگریزی اخبار کی خبر پڑھ کر میں نے کالم لکھا ہے‘‘۔ اس بات سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ نسلوں کو بنانے بگاڑنے کا کام اخبار ات میںکس بے دردی سے کیا جاتا ہے۔

مذہبی اقلیتوں کے جن لوگوں کا ذکر سپریم کورٹ کے ۲۰۱۴ء کے فیصلے میں ہے، ان میں سے بیش تر کسی اقلیتی برادری کے نمایندے نہیں تھے۔ کون نہیں جانتا کہ پرویز مشرف کی ۱۷ویں آئینی ترمیم کے بعد اقلیتی آبادیوں کی حقیقی نمایندگی خواب بن کر رہ گئی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے ساتھ قربت کی بنیاد پر لوگوں کو منتخب کرتی ہیں، اقلیتیں انھیں خود منتخب نہیں کرتیں۔ ان اقلیتوں کی حقیقی نمایندگی کسی اسمبلی میں نہیں ہے۔ یہی حال سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے دیگر لوگوں کا ہے، جو ان کے مذہبی نمایندے تو ہیں لیکن حقیقی زندگی میں اقلیتی آبادیوں کے نمایندے دوسرے  لوگ ہیں۔ کل سپریم کورٹ کو مسلمانوں کی نمایندگی مطلوب ہو تو کیا سپریم کورٹ مفتی عبدالقوی یا مولانا طاہر اشرفی کو اس نمایندگی کے لیے بلانے میں حق بجانب ہوگی؟

قارئین کے سامنے اقلیتی کمیشن کے چیلارام کی رائے آچکی ہے۔ ۳۰لاکھ دلت آبادی کے چوٹی کے دو نمایندوں کی رائے بھی دی جاچکی ہے۔اعلیٰ ذات کے اعلیٰ ہندو عہدے دار کی رائے بھی آپ کے سامنے ہے۔ اسی طرح چیف جسٹس جیلانی نے جو فیصلہ سنایا تھا ، اس کے بارے میں بھی مختصراً آپ پڑھ چکے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مسئلہ چرچ پر حملے سے شروع ہوا، جس میں دیگر اُمور شامل کرلیے گئے۔ فیصلہ یہ ہوا تھا کہ نصاب سے نفرت انگیزمواد نکالا جائے۔ لیکن اب سپریم کورٹ نے فیصلے کا رُخ صوبوں کے متفقہ نصاب ِ تعلیم کی طرف موڑ دیاہے۔ حالانکہ نئے نصاب میں قابلِ اعتراض مواد موجود نہیں ہے بلکہ پانچوں بڑی اقلیتوں کے لیے الگ نصابی کتب ہیں۔ یہ نصاب تو مسلمانوں کے لیے ہے جس سے اقلیتوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

  • آگ سے کھیلنے کے نتائج: ایک اعلیٰ افسر نے انکشاف کیا:موجودہ قضیے میں سپریم کورٹ کا نوٹس ملا تو ہم سٹپٹا کر رہ گئے۔ ہمارے علم میں پہلی دفعہ آیا کہ ۲۰۱۴ء میں کوئی فیصلہ ہوا تھا اور ۲۰۱۶ء میں کوئی یک رکنی کمیشن بنا تھا۔ اس فیصلے کی رُوداد میں تعلیم اور تعلیمی عمل سے متعلق کوئی نمایندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا تھا کہ جو بروقت اور برموقع یہ بتاتا کہ مسئلے کی نوعیت یوں نہیں، یوں ہے۔

اس یک طرفہ فیصلے پر سپریم کورٹ نے عمل درآمد کر نے کا کہا تو صوبائی حکومتیں عمل درآمد کی پابند ہوں گی۔ نصاب سے اسلامی مواد نکال دیا جائے گا۔جسٹس جیلانی کا فیصلہ بھی جسٹس محمدمنیر کے فیصلے کی طرح قومی اور تہذیبی مستقبل پر گہرے اثرات کا حامل ہوگا۔ متحرک سیکولر این جی اوز یہی سمجھیں گی کہ وہ ملک کو سیکولر بنانے کے لیے، سپریم کورٹ کا کندھا استعمال کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ملک کی ۹۶ فی صد اکثریت کی بے چارگی کا احساس وقت کےساتھ گہرا ہوتا چلا جائے گا۔ مقدمے کے نام نہاد مسلمان فریق ایک طرف رہیں گے، مگر مسلمانوں کے غیظ و غضب کارُخ اقلیتوں کی طرف ہوگا ۔ مذہبی ہم آہنگی کے بجائے مذہبی منافرت کا بازار گرم ہوگا اور کسی بھی وقت  سانحہ گوجرہ جیسے اندوہناک اور شرمندگی کا باعث بننے والے واقعات وقوع پذیر ہوسکتے ہیں۔

اس آگ کو بھڑکانے کا سبب مخصوص فکر اور ایجنڈے کی حامل این جی اوز ہی ٹھیریں گی، مگر سزا پوری قوم کو ملے گی۔ جس کی تائید اور طرف داری کوئی سمجھ دار مسلمان ہرگز نہیں کرسکتا۔  دینِ اسلام اور اسلامی تہذیب و معاشرت میں مذہبی اقلیتوں کے وہی شہری حقوق ہیں جو مسلمانوں کے ہیں۔ یہ ہم مسلمانوں کو اسی طرح عزیز ہیں جیسے اپنے دیگر مسلمان بھائی بند۔

سپریم کورٹ کے کرنے کا  کام

جیساکہ بیان کیا جا چکا ہے کہ تعلیم جیسے اہم موضوع پرجسٹس جیلانی صاحب نے وہ فیصلہ دیا، جس میں مسلمانوں کاکوئی ماہرتعلیم یا مذہبی رہنماشریک نہیںتھا۔ اس ضمن میں ہم سمجھتے ہیں کہ درخواست یہ ہے کہ موجودہ محترم چیف جسٹس گلزاراحمد صاحب اس گذشتہ فیصلے پرنظرثانی کےلیے کم از کم دس ججوں پر مشتمل بنچ بنائیں، اور کوئی قابلِ اطمینان بندوبست کریں جو تمام متعلقہ فریقوں کو بلاکر موقف سنے، جن میں ہائرایجوکیشن کمیشن، یونی ورسٹیوں اور جامعات کے وائس چانسلر، اساتذہ تنظیمیں، والدین کی انجمنیں، صوبائی اور وفاقی تعلیمی محکمے اور دیگرمتعلقین شامل ہیں۔ اقلیتوں کے نمایندہ افراد بھی اپنا موقف پیش کریں۔ اس طرح اکثریتی مسلم آبادی اور اقلیتیں، دونوں مطمئن ہوں۔ عدل پر مبنی فیصلہ ہی درست سمت دے سکتا ہے اور دستورِ پاکستان کے الفاظ کی پاس داری کرسکتا ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نصاب میںاسلام کاوجود یاعدم وجود پاکستان میں کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں اور نہ ہے۔ اس امرواقعہ کی تائید اور وضاحت کے لیے اقلیتی نمایندوں کا نقطۂ نظر پڑھ کر آپ پہ واضح ہوجائے گا کہ انھیں نصاب پرکوئی اعتراض نہیں بلکہ اس مہم کی پشت پر مخصوص ایجنڈے کے حامل ادارے اور ان کے افرادِکار ہیں، جو ملک میں افراتفری کے لیے دانستہ اور نادانستہ طور پر کوشاں رہتے ہیں۔ (iqbal.malik888@gmail.com)

  _______________

حواشی

1-  Shahzad Sham  : https://www.youtube.com/watch?v=_uojr8gbXHE

2-  Shahzad Sham  : https://www.youtube.com/watch?v=GK2YKawjBVk

3-   Shahzad Sham  : https://www.youtube.com/watch?v=ja-RSqz2s7g