جون ۲۰۲۱

فہرست مضامین

ویمن اسٹڈیز یا صنفی تعصب کے مراکز ؟

وحید مراد | جون ۲۰۲۱ | مغربی تہذیب

’ فیمی نزم‘ کی دوسری لہر (second wave) کو متاثر کرنے والی مشہور فرانسیسی لیڈر  سیمون دی بووار نے کہا تھا کہ ‘ایک عورت پیدا نہیں ہوتی بلکہ سماجی و معاشرتی تشکیل سے اسےعورت بنا دیا جاتا ہے‘۔ دی بووار کے اس جملےسے یہ تصور ابھرا کہ ’جینڈر اسٹڈیز‘ میں صنف کی اصطلاح کو ’’مردو زن کی معاشرتی اور ثقافتی تشکیل‘‘ کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس مکمل مرد یا عورت کے تصور کے لیے جس کی بنیاد فطری اور حیاتیاتی جنس پر ہے۔ صنف کے اس نئے تصور کی ترویج وتبلیغ کے لیے ۲۰ویں صدی کے ساٹھ اور ستّر کے عشروں میں حقوقِ نسواں کی تحریک اورفیمنسٹ اسکالروں نے مروجہ تاریخی تصورات میں تبدیلی کا پروگرام بنایا۔ ان کے خیال میں مردو زن کی خصوصیات کے بارے میں صدیوں سے رائج تصورات کو ہدف تنقید بنا کر ان پر سوال اٹھانا اور از سر نو جائزہ لیاجانا ضروری تھا۔ بعد ازاں جب حقوقِ نسواں کے ساتھ ساتھ ہم جنس زدگان اور لزبئین کے حقوق کی بات شروع ہوئی تو فیمنسٹ اسکالروں نے سوچا کہ ’اصناف کا نظریہ‘ کالج اور یونی ورسٹی کےنصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ اس غرض سے جینڈر اسٹڈیز اور ویمن اسٹڈیز کےشعبہ جات قائم کیے گئے اور کئی کورسز متعارف کرائے گئے۔

  • امریکا میں ویمن اورجینڈر اسٹڈیز کے پہلے منظور شدہ نصاب کا آغاز ۱۹۶۹ء میں کارنیل یونی ورسٹی (Cornell University) سے ہوا تھا اور ۱۹۸۰ء کےعشرے میں اسے پورے امریکا میں ترقی اور نشوونما دی گئی۔ پہلا آفیشل پی ایچ ڈی پروگرام ۱۹۹۰ء میں ایموری یون ورسٹی، اٹلانٹا نے شروع کیا تھا اور آج امریکا میں سات سو سے زیادہ اداروں میں اور عالمی سطح پر چالیس سے زیادہ ممالک میں ویمن اسٹڈیز کے کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ یہ کورسز اور شعبہ جات زیادہ تر ’یو ایس ایڈ‘ اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں اور وزارتِ ہائے تعلیم کے تعاون سے چلتے ہیں۔

’ فیمی نزم‘ کے جن مفروضات، تصورات و نظریات کا مطالعہ ان کورسز میں کرایا جاتا ہے، ان میں فیمنسٹ تھیوری، سٹینڈ پوائنٹ تھیوری (standpoint theory)، کثیر الثقافتی (multiculturalism)، معاشرتی انصاف (social justice)، بائیو پالیٹیکس (bio-politics)، عبوری حدود سے بلند فیمی نزم (transnational feminism)، چہار رُخی (intersectionality ) مادیت وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اصناف کے درمیان طاقت، شناخت، نسل، جنسی رجحان، سماجی و معاشی طبقات، قومیت، عدم مساوات، معاشرتی اصول اور معذوری کے تعلقات کو مطالعے کا موضوع بنائے جانے کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے۔ ان شعبہ جات کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ’’یہاں صنف کی معاشرتی و ثقافتی تشکیل کا جائزہ لیتے ہوئے، استحقاق، مراعات اور ظلم و جبر کےنظام کا مطالعہ کیا جاتا ہے‘‘۔

 جینڈر اسٹڈیز مغرب کے نقادوں کی نظر میں

انسانی سماجی زندگی اور صنفین کے درمیان جبر اور ظلم کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے، لیکن ان  اسباب و محرکات کا تعین ایک بہت پیچیدہ اور غیرہموار عمل ہے۔  ویمن اسٹڈیز اور جینڈراسٹڈیز کے مضامین میں طالب علموں کو صرف یہ سکھانا کہ ’’دنیا کو ظلم کی عینک سے کس طرح دیکھنا چاہیے؟‘‘  یہ صرف خطرناک ہی نہیں بلکہ خود ایک ظالمانہ فعل ہے۔ اس سے زیادہ ظلم کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی کہ پروفیسر صاحبان ہر سبق کا مطلب صرف یہ بتا رہے ہوں کہ ’’آپ بحیثیت عورت ایک مظلوم (Victim) ہیں‘‘۔

ٹونی ارکسنن اپنے ایک مضمون بعنوان: ’میں نے ویمن اسٹڈیز کلاس میں کیا سیکھا؟‘ میں لکھتی ہیں کہ فیمنسٹ ماہرین جو موقف اور استدلال تخلیق کر رہے ہیں، وہ سیاسی پروپیگنڈے سے مشابہت رکھتا ہے اور یہ کسی صنف کو بھی بااختیار بنانے میں ناکام ثابت ہوگا۔ پدرسری نظام کی تھیوری میں بتایا جاتا ہے کہ خواتین پر مردوں کا ادارہ جاتی کنٹرول اور حکومت ہے اور اس کے نتیجے میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہر قسم کا ظلم و جبر روا رکھا جاتا ہے۔ لیکن فیمنسٹ اسکالروں کے اپنے حلقوں کے بہت سے لوگ مثلاً کیٹ ملٹ ظلم اور جبر کو صرف صنفی امتیازات کے ساتھ ہی وابستہ نہیں سمجھتی۔ کمبرلی کرینشا نے بھی اس تصور کو چیلنج کیا کہ ’’جبر اور ظلم کا واحد محور صنفی امتیاز ہوتا ہے‘‘۔ اس نے صنفی امتیا ز کے بجائے ظلم و ستم کا محور’نسل پرستی‘ کو قرار دیا۔ ویمن اسٹڈیز میں یہ بات ہرگز نہیں بتائی جاتی کہ ظلم و جبر، تاریخ میں ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ فیمنسٹ ماہرین، ظلم کی تلاش کا کام سائنسی مطالعے کے طور پر نہیں کرنا چاہتے کہ یہ جہاں کہیں نظر آئے اس کی نشان دہی کی جائے بلکہ وہ ہر قسم کے ظلم کو صرف ایک خاص جگہ پر دکھانا چاہتے ہیں۔

  • الزبتھ سگران ایک مشہور مصنفہ ہیں۔ وہ یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصے تک وہیں ویمن اسٹڈیز شعبے میں تدریس کے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ وہ اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ ’’ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس کھولتے وقت بتایاگیا تھا کہ ’’ان کا مقصد طالب علموں کو اس بات کے لیے تیار کرنا ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی میں پیش آنے والے جنسی مسائل پر مشتعل ہونے یا جذباتی اظہارکرنےکے بجائے علم اور مہارت کی بنیاد پر کیسے نبٹیں‘‘۔[۱]

یہ دعو یٰ کیا گیاتھا کہ ’’ہم ان تمام امور پرطالب علموں کو کھل کر اظہار خیال کا موقع فراہم کریں گے، جو ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہو کر پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں، مثلاً رضامندی اور جبر کا تعلق، عصمت دری، مانع حمل و اسقاطِ حمل کے ذرائع وغیرہ‘‘۔

  •  یہ شعبہ جات قائم کرتے وقت یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ’’یہاں طالب علموں کو ایسے مواقع فراہم کیے جائیں گے کہ وہ جنسی امور میں اپنے ہم جماعتوں کے سامنے بحث و مباحثہ کے بعد ایک دوسرے کی عزّت کرنا سیکھیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی کلاس روم کے اندر حقیقی زندگی کے مسائل پر بحث کرنا ایک دھماکے سے کم نہیں۔ جنسی سیاست، صنفی تعصب و حقارت کے نظریات، جنسی نوعیت کی ثقافتی تعبیر کے بارے میں تجریدی نظریات پر بات کرنا تو بہت آسان ہے، لیکن ایک استاد کی حیثیت سے اس جنسی انقلاب پر بات کرنا، جو نوجوانوں کی زندگی میں عملی طور پر اثر پذیر ہوچکا ہے، بہت مشکل ہے۔ ایسا ارادہ کرتے وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہم بحیثیت استاد اپنی ذمہ داری سے انحراف کر رہے ہیں‘‘۔

’’ دوسری بات یہ ہےکہ یونی ورسٹی انتظامیہ اور قوانین ایک استاد کو اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ کلاس روم میں ذاتی جنسی تجربات اور تعلقات کو موضوع بحث بنائے کیونکہ یہ بحث جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزمات کا دروازہ کھولتی ہے۔ جنسی ہراسانی کی تعریف میں اس زبانی طرزِ عمل کو بھی شامل کر لیا گیا ہے، جو کسی فرد کے لیے ناگواری اور ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ جنسی ہراسانی کی یہ تعریف اتنی وسیع ہے کہ جنسی نوعیت کے کسی ذاتی موضوع پر بحث کو ناممکن بنادیتی ہے۔

 جب طالب علموں کے درمیان جنسی خیالات کو علمی طورپر چیلنج کرنے، انھیں وسعت نظری سکھانے کی بات آتی ہے،تو ویمن اسٹڈیز کے اساتذہ کی سخت حوصلہ شکنی کا سامان کیا جاتا ہے۔ اس لیے اساتذہ اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ نظریاتی بحث میں وقت گزاریں اور کسی عملی پہلو سے پرہیز کریں۔ جب طالب علموں نے صنفی سیاست، فیمنسٹ تحریک سے سیکھنی ہے، جنسی تعلقات ومعاملات میں معاشرے کے غالب رویوں سے متاثر ہونا ہے اور ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ میں اس پر کوئی بات نہیں کرنی، تو ان شعبہ جات کا کیا مقصد باقی رہ جاتا ہے؟

  •  کرسٹینا میری سمرز ’معاصر فیمی نزم‘ کی معروف نقاد ہیں۔ وہ Who Stole Feminism میں لکھتی ہیں کہ ’’ماڈرن فیمی نزم معاشرے کے تمام افراد کے حقوق کی بات کرنے کے بجائے صرف جنس اور صنف کے چشمے لگا کر دیکھتا ہے اور اس نے معاشرے کو اصناف کی لڑائی کے ایک اکھاڑے میں تبدیل کر دیا ہے۔ مرد اور عورت کی تفریق اس لیے ابھاری گئی کہ فیمی نزم کے جھنڈے تلے  انھیں ’پدر سری‘ کے انجانے دشمن کے خلاف مہم میں استعمال کیا جا سکے۔ اس وقت امریکا میں فیمی نزم پر خواتین کے ایک خاص گروہ کا غلبہ ہے، جو عوام کو ہر وقت یہ باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ امریکی خواتین آزاد مخلوق نہیں بلکہ پدرسری نظام کے تحت مردوں کے جبر اور ظلم کا شکار ہیں‘‘۔ امریکی معاشرے میں اس دعوے کی کوئی حقیقت اور بنیاد نظر نہیں آتی۔
  •  کرسٹینامیری سمرز کے خیال میں ’’یہی وہ لوگ ہیں،جنھوں نے حقوقِ نسواں کی تحریک کو چوری کیا اور خواتین کی فلاح و بہبود کے کام کے بجائے خواتین کو مرد دشمنی پر لگا دیا۔ اس حکمت عملی کے تحت معاشرے کے تمام مظلوم طبقات کے حقوق کی بات ختم کر دی گئی اور کچھ مخصوص لوگوں نے ذاتی مفادات کے ایجنڈے پر کام کرتے ہوئے تعلیم، صنعت اور حکومتی شعبوں میں مراعات حاصل کرلیں۔ بہت سے فیمنسٹ اسکالرز نے سرکاری اور نجی ذرائع سے مالی امداد حاصل کرنے اور تحقیقی مراکز، ویمن اسٹڈی اکیڈیمز، انتظامی امور وغیرہ میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کا اعتراف بھی کیا ہے‘‘۔
  • سمرز، ویمن اسٹڈیز اورجینڈر اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’ویمن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کے پروفیسر صاحبان، مردوں کے خلاف جتنا زیادہ غصہ نکالتےاور جتنی زیادہ اونچی آواز میں رونا روتے ہیں، معاشرے میں خواتین کو اتنی ہی زیادہ مراعات حاصل ہوتی چلی جارہی ہیں‘‘۔ ان مطالعاتی محکموں میں، غلط اعداد و شمار پیش کرنے والے نسائی ماہرین اپنا لبرل ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے آگ بھڑکانے والے ایسے پیغام جاری کر رہے ہیں کہ ’’عورتیں وینس سیارے کی مخلوق نہیں کہ حدت برداشت کر یں، جہنم میں جانے کے اصل حق دار تو مرد ہیں‘‘۔

ویمن اسٹڈیز شعبہ جات صنفی تعصب پھیلا رہے ہیں

  •  کمیل اینا پالیہ معاصر ’فیمی نزم‘ پر اتنی سخت تنقید کرتی ہیں کہ فیمنسٹ حلقے انھیں اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتاب Provocations میں ویمن اسٹڈیز اور پالیٹکس پر تنقید کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ‘ویمن اسٹڈیز کے مضامین ایسے گروہ کی سیاست رومانوی، جذباتی اور زبانی جمع خرچ پر مبنی ہیں اور ہر روز تبدیل ہونے والے رجحانات کے ساتھ فیشن کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ یہ خواتین کا ایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ ہے، جو اپنے ضمیر پر مراعات کے بوجھ کو تو محسوس کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا احساس ندامت و شرمندگی، محروم طبقات کو گلے لگانے کے بجائے ان کا مقابلہ کرکےتشفی پاتاہے۔

 ویمن اسٹڈیز کی تعلیم کا ارتکاز صرف ’سیکس ازم‘ اور صنفی تعصب پر ہے۔ ’فیمی نزم‘ میں کام کرنے والی ’’خواتین نہ عام خواتین کی نمایندگی کرتی ہیں اور نہ قومی اور عالمی جذبات و احساسات کی۔ اکیڈیمک فیمنسٹ ماہرین یہ سوچتی ہیں کہ ان کے معصوم اورکتابی کیڑے نما شوہر ہی دنیا بھر میں پائی جانی والی مردانگی کا مثالی نمونہ ہیں۔ جینڈر اسٹڈیز کے ڈیپارٹمنٹ میں خدمات پیش کرنے والے لوگ منظم اجارہ داری (Cartel) پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ یونی ورسٹیوں میں خواتین فیکلٹی ممبرز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے۔ زیادہ تر یونی ورسٹیوں میں مستند اساتذہ کا وجود ہی نہیں۔ چند چیئرز پر جو ماہرین تعلیم براجمان ہیں، ان کے زیر نگرانی کیمپس ’نرسری اسکول‘ کا سماں پیش کرتے ہیں۔ یہاں کے طالب علموں کی مثال انکوبیٹر سے پیدا ہونے والے بطخ کے بچوں کی سی ہے، جو ویکیوم کلینر کو بھی دیکھ کر اپنی ماں تصور کرنے لگتے ہیں‘‘۔

 کمیل پالیہ کا دعویٰ ہے کہ ویمن اسٹڈیز میں پڑھانے والوں کی اکثریت اناڑی، لکیر کے فقیر، خوشامدی، یوٹوپیائی، رونے رلانے ،شکوے شکایتیں کرنے اورخفیہ ایجنسی کے کارندوں کی طرح ہوتی ہے۔ اعتدال پسند اور معقول فیمنسٹ اسکالر اس پاپولر فیمی نزم سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، اور وہ اس فاشزم کے سامنے خاموشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ویمن اسٹڈیز سےفیض یاب ہونے والے،اکثر ایک دلدل میں پھنسنے والے افراد ہی بن کر رہ جاتے ہیں۔ اکیڈیمک فیمنسٹ ماہرین سے مراد ڈھیٹ، خاموش اور ہاں میں ہاں ملانےوالے مردوں اور بڑبڑانے والی عورتوں کا عجیب و غریب گٹھ جوڑ ہے۔ جب اس گروہ کو ویمن اسٹڈیز کے لیے نصاب کی ضرورت پیش آئی تو راتوں رات انھوں نے اختلافات، تعصبات اور الزامات کی توپیں ایجاد کر لیں۔ معاصر خواتین اہلِ قلم کے ناموں کو زبردستی اس حلقے کے ساتھ نتھی کیا گیا اور یونی ورسٹی کی اچھی طالبات کو زبردستی، بہلا پھسلا کر اس میں شامل کیا گیا۔

 مشرقی یورپ میں جینڈر اسٹڈیز شعبہ جات پر تالے

  •  امریکا اور یورپ کے کئی نقاد، ویمن اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹوں پر برسوں سے تنقید کر رہے تھے۔ لیکن ان شعبہ جات کی حقیقت عام لوگوں پر اس وقت عیاں ہوئی، جب اکتوبر۲۰۱۸ء میں ہنگری کی حکومت کی جانب سے جینڈر اسٹڈیز پروگراموں کی منظوری واپس لے کر ان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہنگری کے وزیر اعظم کے ایک نائب زالٹ سیمجین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ویمن اسٹڈیز اور جینڈر اسٹڈیز کی تعلیم کا کوئی مصرف نہیں کیونکہ یہ ایک نظریہ، آئیڈیالوجی اور بے بنیاد مفروضات ہیں کوئی سائنسی علم نہیں۔ لیبر مارکیٹ میں اس کی طلب صفر کے برابر ہے۔ اس لیے یونی ورسٹیوں میں اسے بطور مضمون پڑھانے کا کوئی مقصد نہیں‘‘۔

’’ان شعبہ جات کے گریجویٹس کو کوئی جاب دینے کو تیار نہیں۔ اس لیے ان پر وقت اور پیسے کا ضیاع ہے۔ طالب علموں کے داخلے نہ ہونے کے برابر ہیں اور خواہ مخواہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ ان شعبہ جات پر ضائع ہورہا ہے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہنگری کی حکومت اس بات کی قائل ہے کہ’’ مغربی یورپ میں مذہبی اور روایتی معاشرہ زوال پذیر ہے۔ وہاں اب خاندان، کنبہ، وطن اور قوم جیسی بنیادی اقدار کو برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ اور اس سارے عمل میں فیمنسٹ تحریک کی صنفی مساوات اور جنسی انحراف نے تمام معمولات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مغربی یورپ کے نوآبادیاتی ذہن رکھنے والے ممالک چاہتے ہیں کہ مشرقی یورپ میں بھی وہی صورتِ حال پیدا ہو‘‘۔

اس سے قبل ۲۰۱۵ء میں فیڈز پارٹی (Fidesz Party) کے بانی رہنما لیزلا کوویر (Laszlo Kover) نے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ’’ہم، صنف کا جنون اور پاگل پن نہیں پالنا چاہتے۔ ہم اپنے ملک ہنگری کو مردوں سے نفرت کرنے والی خواتین کی آماج گاہ نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ایسے مرد نہیں چاہتے جو اپنی مردانگی سے دست بردار ہو کر پوری زندگی عورتوں کے خوف کے سائے میں رہتے ہوئے، ان کی ہاں میں ہاں ملاتے رہیں۔ ہم ایسے والدین نہیں چاہتے، جو خاندان اور بچوں کو اپنی نفسانی و جنسی خواہشات اور عیاشی کی تکمیل کے راستے میں رکاوٹ سمجھیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم کی بیٹیاں اس بات کو سمجھیں کہ انسان کی ذات اس وقت مکمل ہوتی ہے، جب اس کی شادی ہو، اس کا گھر بسے، اس کے بچے، پوتے، پوتیاں ہوں، وہ اپنی زندگی خاندان کے ساتھ ہنسی خوشی گزارے اور یہ سلسلہ اسی طرح آگے رواں دواں رہے‘‘۔

  •  ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے میڈیا کو بتایا کہ ’’حکومت اور ہنگری کے عوام کا موقف ہے کہ تمام انسان، مرد یا عورت کے طور پر پیدا ہوتے ہیں اور ان کی جنس وہی ہوتی ہے جو قدرت کی طرف سے انھیں فطری طور پر عطا ہوتی ہے۔ ہم حیاتیاتی جنس کے علاوہ سماجی طور پر تشکیل پانے والی کسی صنف کے قائل نہیں ہیں اور نہ ہمیں اس پر بات کرنا قابلِ قبول ہے‘‘۔ چنانچہ حکومت نے ہنگری کی د وبڑی یونی ورسٹیوں میں چلنے والے جینڈر اسٹڈیز کے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے مختص فنڈز منسوخ کر دیئے۔ اس پابندی کے خلاف مقامی اور عالمی فیمنسٹ لابی نےشور مچاتے ہوئے اسے جمہوریت اور لبرل ازم پر حملہ قرار دیا۔ جینڈر اسٹڈیز کے ان پروگرامز میں بیس سے بھی کم طالب علم تھے، لیکن فیمنسٹ لابی نے دیگر شعبہ جات کے طالب علموں کو پکڑ دھکڑ کر اپنے احتجاج میں شریک کیا اور حکومت کے خلاف نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فحش گالیاں دیں۔ فیمنسٹ لابی کی ایما پر یورپی یونین نے بھی ہنگری کے وزیر اعظم کو سزا دینے کے حق میں ووٹ ڈالا۔

اسی طرح جون ۲۰۲۰ء میں رومانیہ میں بھی ایک قانون کے ذریعے تعلیمی اداروں کو صنفی شناخت پر مبنی نظریات اور رائے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی، جس کے تحت صنفی تصور کو حیاتیاتی جنسی تصور سے الگ مانا جاتا ہے۔ رومانیہ اور ہنگری کے ان اقدامات کے خلاف انسانی حقوق کے گروپوں نے بہت واویلا کیا کہ ان ممالک کے یہ اقدامات انھیں قرون وسطیٰ میں پہنچا دیں گے۔

اٹلی میں جب صنفی امتیاز کے حوالے سے اسکولوں میں ایک سوال نامہ پُر کرانے کی تجویز پیش ہوئی تو کئی سیاسی جماعتوں نے اسے صنفی تعصب قرار دیتے ہوئے اس کی کھلی مذمت کی، اور ایک اخبار Daily La Verita نے اسے صنفی پاگل پن کا نظریہ قرار دیا۔ اس کے بعد اٹلی کے وزیرتعلیم کو یہ سوالنامہ واپس لینا پڑا۔ اگست ۲۰۱۸ میں بلغاریہ میں اسکولوں میں صنفی مساوات کے بارے میں یونیسکو کے ایک پروجیکٹ پر وزارت تعلیم نے پابندی عائد کر دی۔

  •  مشرقی یورپ کے تمام ممالک میں جینڈر اسٹڈیزکے تحت چلنے والے پروگراموں کی مخالفت پر مضبوط آواز پائی جاتی ہے، لیکن ہر ملک میں اس کی نوعیت ذرا سی مختلف ہے۔ مشرقی جرمنی میں جینڈر اسٹڈیز کو ایک آئیڈیالوجی سمجھا جاتا ہے۔ ایسٹونیا کی کئی ویب سائٹس صنفی نظریے کو اشتراکیت اور مارکسیت سے تقابل اور تماثل کرتے ہوئے مضامین شائع کرتی ہیں۔

یورپ کے وہ ممالک جہاں انگریزی زبان نہیں بولی جاتی، وہ صنف،جینڈر کی اصطلاحات کو مغربی یورپ کی تخلیق کردہ سازش تصور کرتے ہوئے اس سےنفرت کرتے ہیں، کیونکہ ان کی اپنی زبانوں میں یہ اجنبی تصورات موجود نہیں۔ پولینڈ میں ان اصطلاحات کو غیر ملکی اور درآمد شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ وارسا یونی ورسٹی کے پروفیسر اگنسز کگراف کا کہنا ہے کہ ’’یہ لفظ غیر ملکی ہے اور اس کا مقصد مقامی ثقافت میں زہر گھولنا ہے‘‘۔ ۲۰۰۰ء کے عشرے سے ویٹی کن صنفی نظریہ کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے اور اس خیال کو رد کرتا ہے کہ اصناف کی تشکیل معاشرتی عوامل اور قوتیں کرتی ہیں۔ ۲۰۱۶ء میں پوپ فرانسس نے اس نظریے کو نوآبادیاتی نظام کا حیلہ قرار دیا۔ پولینڈمیں ایک پارٹی کے رہنما کینزنسکی نے صنفی نظریے کو خاندان اور بچوں پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔

  •  ویمن اسٹڈیز میں پڑھائی جانے والی فیمنسٹ آئیڈیالوجی کا سائنس اور علم سے کوئی واسطہ نہیں۔پیسا یونی ورسٹی کے پروفیسر اور جوہری سائنس دان الیسنڈرو اسٹرومیا نے ۲۸ ستمبر ۲۰۱۸ء کو ایک خطبے میں کہا کہ فیمی نزم کے عقائد کے پرچار کے لیے جو ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں ان میں بتایا جاتا ہے کہ مرد صنفی تعصب و سیکس ازم کا شکار ہیں اور وہ عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہیں، اور عورتوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ نشانہ ہیں حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔

پروفیسر اسٹرومیا نے مزید کہا کہ ’’فزکس اور دیگر سائنسز میں مردوں کا کام زیادہ ہے۔ آج تک فزکس میں خواتین نے صرف تین نوبل انعام جیتےہیں اور مردوں نے ۲۰۷‘‘۔[۲]

 اس بیان کے فوری بعد انھیں نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ ان کے خلاف ۱۶۰۰ سائنس دانوں نے ایک پٹیشن میں لکھا کہ ’’پروفیسر اسٹرومیا کے دلائل فیمنسٹ اخلاقیات کے تحت قابلِ مذمت ہیں اور سفید فام خواتین سائنس دانوں کی صلاحیتوں پر سوال اٹھانے کا عمل شرمناک فعل ہے‘‘۔ پروفیسر اسٹرومیا نے تو صرف اعداد و شمار اور حوالہ جات سے متعلق کہا کہ ’’فزکس میں خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا اور صنف سے قطع نظر میرٹ پر فیصلے ہوتے ہیں‘‘۔ لیکن ان کے خلاف فیمنسٹ لابیز کی طرف سے جو رد عمل ظاہر کیا گیا وہ سراسر تعصب، ، ناانصافی، جنسی فاشزم، سائنس دشمنی اور ا س امتیازی عقیدے پر مبنی تھا کہ ’’ہر شعبے میں میرٹ کو مد نظر رکھے بغیر لازمی طور پر ۵۰ فی صد خواتین کوشامل کیا جانا چاہیے اور اس عمل کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبا دینا چاہیے‘‘۔

  •  ایک امریکی اسکالر مارگریٹالیون کا کہنا ہے کہ ’’آج کے مغرب میں فیمنسٹ آئیڈیالوجی نے تعلیمی اور علمی آزادی کو مجروح کر دیاہے۔ پچاس، ساٹھ سال قبل اعلیٰ تعلیم کی درس گاہیں ایک کھلی ثقافت کا منظر پیش کرتی تھیں، جہاں طلبہ اور پروفیسر بہت سے مختلف معاشرتی اور سیاسی نقطۂ نظر،  آرا ،اقدار اور نظریات پر بحث مباحثہ کرتے تھے۔ لیکن اب یونی ورسٹیاں ایک بند ثقافت میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کچھ خاص نظریات، عقائد اور اقدار کو اپنا لیا گیا ہے اور دیگر کو خارج کر دیا گیا ہے اور جب بھی کوئی متبادل نظریات، دلائل، شواہد کی بات کرتا ہے تو اس کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے‘‘۔
  •  جو چیز ’علوم‘ کو ’سائنسی‘ بناتی ہے، وہ صرف یہ نہیں کہ یہ علوم متعلقہ ثبوت اکٹھا کرتے ہیں بلکہ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ صرف مفروضے کی حمایت کرنے والے ثبوتوں پر غور نہیں کیا جاتا بلکہ ہر قسم کے ثبوتوں پر غور کیا جاتا ہے۔ جب ثبوت کسی مفروضے کے خلاف جاتے ہیں تو مفروضے کو یا تو ان مخالف شواہد کا جواب دینا پڑتا ہے، ورنہ وہ مفروضہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔
  •  لیکن سائنسی علوم کے برعکس فیمنسٹ ریسرچ کی ابتدا اس مفروضے اور دعوے سے ہوتی ہے کہ’’ عورتیں جسمانی طور پر مردوں کے برابر مضبوط ہوتی ہیں، لیکن مرد کا شکار ہوتی ہیں‘‘، اور تمام فیمنسٹ تحقیق کار ہمیشہ یہی وضاحت کرتی ہیں، اور ہمیشہ ہر متبادل کومسترد کر دیا جاتا ہے۔  فیمی نزم میں جس قسم کی حکمت عملی استعمال کی جاتی ہے، وہ اس مفروضے سے شروع ہوتی ہے کہ کچھ سچائیاں پہلے سے طے شدہ اورعیاں ہیں۔ پھر ایسی مثالیں تلاش کی جاتی ہیں یا وضع کی جاتی ہیں، جو ان مفروضوں کی سچائیوں کی شکل میں تفہیم کر سکیں۔ یہ خود اثباتی کی حکمت عملی ہوتی ہے، جو تصدیق کے تعصب کو ادارہ جاتی جہت دیتی ہے۔ یہ ذاتی آراء پر مبنی ایک ایسی حکمت عملی ہوتی ہے، جس میں ثبوت کی ہر منتخب شکل مفروضوں کی تصدیق کرتی ہے۔اس حکمت عملی کو استعمال کرنے والا’فیمی نزم‘ سائنس تو کیا کسی عام علم کے درجے پر بھی پورا نہیں اترتا۔

 فیمنسٹ ماہرین، فیمی نزم کو ’سائنس‘ ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے حیلے آزما رہےہیں اور بلند بانگ دعوے کررہے ہیں لیکن فیمی نزم نہ سائنس ہے اور نہ سوشل سائنس سے اس کا کوئی واسطہ ہے۔ یہ تعصب پر مبنی عقائد کا ایک نظام ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ ایک آئیڈیالوجی تو کہہ سکتے ہیں، لیکن اس کا شمار علوم میں نہیں ہوتا کیونکہ علم میں تحقیق، مشاہدات اور ثبوتوں سے پہلے دعوے نہیں کیے جاتے۔ علم کےحصول میں سوال اس طرح اٹھائے جاتے ہیں کہ ان کے جوابات تلاش کیے جاسکیں، بجائے اس کے کہ پہلے سے موجود جوابات کو سوالوں کے ساتھ فٹ کیا جائے۔ علم میں مفروضوں کو ثبوتوں کے ذریعے پرکھا جاتا ہے اور اگر یہ ثبوتوں کے مطابق پورے اتریں تو انھیں عارضی طور پر قبول کیا جاتا ہے ورنہ مسترد کر دیا جاتا ہے۔

لیکن فیمنسٹ آئیڈیالوجی تو چند اقدار کےساتھ ایک مذہب اور عقیدے کی طرح چمٹی ہوئی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ جس قدر (Value)کی وہ حمایت کرتے ہیں وہ زیادہ اہم ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر قدر کی بھی ایک قیمت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر کبھی آزادی اور مساوات میں مطابقت نہ ہو اور دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہوجائیں تو پھر ایک کے بڑھنے کا مطلب دوسرے کی کمی ہوگی اور پھر دونوں میں سے ایک کا انتخاب دوسرے کی قیمت پر کرنا پڑے گا۔ ایک کو اپنانے کے لیے دوسرے کی قربانی دینی پڑے گی۔ اسی صورتِ حال میں اپنی پسند کی قدر پر ضد کرنے والوں کا سائنس سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا، انھیں فیمنسٹ عقائد کے متعصب بریگیڈ ہی کہا جائے گا۔

 _______________

حواشی

۱-    پاکستان بھی ’ترقی کی اس دوڑ‘ میں پیچھے نہیں ہے:l  ۹ یونی ورسٹیاں بی ایس ’جینڈر اسٹڈیز‘ کرا رہی ہیں ، جن میں شامل ہیں: اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور، بہاء الدین زکریا یونی ورسٹی ملتان، پنجاب یونی ورسٹی لاہور، فاطمہ جناح یونی ورسٹی لاہور، فاطمہ جناح یونی ورسٹی راولپنڈی، یونی ورسٹی آف پشاور، ویمن یونی ورسٹی صوابی، یونی ورسٹی آف سندھ، شاہ عبداللطیف یونی ورسٹی خیرپورl دو یونی ورسٹیوں میں بی ایس ’لبرل اسٹڈیز‘ کا شعبہ ہے، جن میں بیکن ہاؤس یونی ورسٹی، لاہور اور یونی ورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹکنالوجی، لاہور شامل ہیں۔ lکراچی یونی ورسٹی ’ویمن اسٹڈیز‘ کے عنوان سے ، علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی ’جینڈر اینڈ ویمن اسٹڈیز‘ اور لاہور کالج فار ویمن یونی ورسٹی’جینڈر اینڈ ڈویلپمنٹ‘ میں داخلہ دیتی ہے۔ (بشکریہ Eduvision :ادارہ)

۲-    مغرب میں عورت کے ’خلاف تعصب‘ نہیں بیان کیا جاتا اور ’شانہ بشانہ‘ کا درس دیا جاتا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق حسب ذیل چار خواتین نے فزکس کے ’نوبیل پرائز‘ لیے: lپولینڈ/فرانس کی میری سلومیا کیوری (م: ۱۹۳۴ء) نے ۱۹۰۳ء میں، lامریکا کی ماریہ جیوپرٹ مایر (م: ۱۹۷۲ء) نے ۱۹۶۳ء میں lکینیڈا کی رونا تھیواسٹریکلنڈ (پ:۱۹۵۹ء) نے ۲۰۱۸ء میں lامریکا کی اینڈریا میاگز (پ: ۱۹۶۵ء) نے ۲۰۲۰ء میں۔ ادارہ