جون ۲۰۲۱

فہرست مضامین

کتاب نما

| جون ۲۰۲۱ | کتاب نما

جب آسمان پھٹ جائےگا، قاری محمد اشرف ہاشمی، مرتب: امجد عباسی۔ ناشر:شرکۃ الامتیاز، رحمٰن مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔فون: ۲۳۴۴۸۲۶-۰۳۲۲۔ صفحات:۱۲۷۔ قیمت:۲۶۰ روپے۔

فاضل مصنف، عالمِ دین، خطیب، مدرّس اور مربی تھے۔ اسّی کے عشرے میں وہ لاہور کے مختلف مکاتب ِ فکر کے حلقوں میں درس قرآن کے لیے بلائے جاتے تھے اور بعض اوقات تبلیغی دوروں پر بیرونِ لاہور جایا کرتے تھے۔ ۱۹۸۳ء میں انھیں ہا نگ کانگ سے دعوت نامہ آیا۔ ۱۹؍اگست کو گھر سے نکلے ہی تھے کہ نامعلوم افراد نے انھیں اغوا کرلیا ___ اور آج تک اُن کا پتا نہیں چل سکا۔

جناب امجد عباسی نے ان کی ریکارڈ شدہ چھے تقاریر کو اس کتاب میں مرتب کیا ہے۔ موضوعات عمومی نوعیت کے ہیں (حقیقت ِ انسان، نماز،اسوئہ دعوت، آخرت، نجات کی راہ) مگر قاری صاحب کا انداز و اسلوب بہت مؤثر کن ہے۔ قرآن و حدیث اور تاریخ علومِ اسلامیہ کا استحضار قابلِ رشک تھا، جن کے حسب ِ موقع حوالے دیتے ہیں۔ ان کی دھیمی پکار، قاری کے درِ دل پر دستک دیتی اور اُسے قائل کرتی ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


اسلام کا سفیر [قائداعظم محمدعلی جناح]، مرتبہ: محمد متین خالد۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز، الحمدمارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فوبن: ۳۷۴۴۳۵۸۴-۰۴۲۔ صفحات: ۸۸۸۔ قیمت: ۲۰۰۰ روپے

بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت نے برطانوی مقبوضہ ہند میں مسلمانوں کی رہنمائی کی، اور اخلاص اور بےپناہ محنت سےدو قومی نظریے کو پاکستان کی شکل دی۔

تحریک ِ پاکستان کے دوران مغرب زدہ اور انگریزوں کے مراعات یافتہ طبقے تحریکِ پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ لیکن جب ۱۹۴۶ء میں قیامِ پاکستان کے امکانات روشن ہوئے تو اس طبقے کے بہت سے افراد نے بڑی تیزی سے مسلم لیگ میں شرکت کا راستہ اپنایا۔ جب پاکستان بن گیا تو اسی طبقے کے پروردہ عناصر نے پاکستان میں لادینیت،اباحیت پسندی اور صوبائی نسل پرستی کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ اس فکر کی نفی کے لیے جب دینی اور مخلص قومی قائدین نے خبردار کیا کہ قیامِ پاکستان کی جدوجہد، قائداعظم نے اسلامی تہذیب اور اسلامی تشخص کے وعدے کے ساتھ کی تھی، تو مذکورہ شرانگیز عناصر نے یہ کہنا شروع کر دیا: ’’محمدعلی جناح کا اسلام سے کیا لینا دینا، وہ تو ایک مغرب زدہ، آزاد خیال اورسیکولر انسان تھے‘‘۔

حقیقت سے ٹکراتے اس طرزِ فکر اور پروپیگنڈے کی نفی کے لیے وقتاً فوقتاً جو معرکہ آرا مضامین شائع ہوتے رہے،اور جن میں قائداعظم کی دینی غیرت و حمیت، اور پاکستان کے اسلامی وژن کو مدلل انداز میں پیش کیا جاتا رہا، زیرنظر کتاب انھی مضامین کے انتخاب پر مشتمل ایک قیمتی دستاویز ہے۔ اس مقصد کے لیے جناب محمد متین خالد نے بڑی محنت سے یہ نثرپارے اور دردِ دل سے لکھے مضامین ایک جگہ پیش کردیے ہیں۔ مقصدیت کے اعتبار سے یہ ایک بہت قیمتی دستاویز ہے، جو اساتذہ، صحافیوں، سیاست دانوں اور علما کو زیرمطالعہ لانی چاہیے۔(س م خ)


مکاتیب ِہم نفساں، مرتب: ڈاکٹر ارشاد محمود صابر۔ ناشر: مکتبہ سرمد، اٹک۔ ملنے کے پتے: کتب خانہ مقبولِ عام، اُردو بازار، اٹک۔ اظہار سنز، ۱۹-اُردو بازار، لاہور۔ صفحات:۴۰۰ روپے۔ قیمت: ۱۰۰۰ روپے۔

غلام محمد نذر صابری پیشے کے اعتبار سے ایک کتاب دار (لائبریرین) تھے، مگر اپنی خداداد صلاحیتوں کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کے ادیب، تحقیق کار، مدوّن، شاعر اور مخطوطہ شناس تھے۔ زیرنظر کتاب اُن کے نام ۳۶ ممتاز اہلِ قلم کے ۱۷۳ منتخب خطوط کا مجموعہ ہے، جنھیں ڈاکٹر ناشاد صاحب نے بڑی محبت اور محنت سے مکتوب الیہوں کے تعارف اور متونِ خطوط پر حواشی و تعلیقات کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ مکتوب نگاروں میں ڈاکٹر سیّدعبداللہ، ڈاکٹر جمیل جالبی، غلام جیلانی برق، حکیم محمد سعید، ڈاکٹر محموداحمد غازی، وحید قریشی وغیرہ شامل ہیں۔

خطوط کے موضوعات متنوع ہیں۔ علمی مسائل پر اور کتابوں کے بارے میں استفسارات، تبصرے اور راہ نمائی___ صابری صاحب کی لیاقت اور قابلیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلسفے کے مسائل اور نظریۂ اضافیت اور زمان و مکان جیسے اَدق موضوعات پر بھی وہ مکتوب الیہوں کو راہ نمائی دیتے ہیں۔

ناشاد صاحب نے مجموعہ، بڑی دیدہ ریزی سے مرتب کیا ہے۔ تدوینِ مکاتیب کے لیے اسے ایک نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)