جون ۲۰۲۱

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| جون ۲۰۲۱ | مدیر کے نام

پروفیسر نیاز عرفان ، اسلام آباد

عالمی ترجمان القرآن (مئی ۲۰۲۱ء)کا شمارہ ایک سے بڑھ کر ایک،اعلیٰ پائے کی معلوماتی، علمی اور تحقیقاتی تخلیقات سے مزین ہے۔ بالخصوص پاکستانیات/ تعلیم وتعلّم کے حصے میں شامل دو مضامین پہلا ڈاکٹرحسین احمد پراچہ صاحب اور دوسرا پروفیسر شہزاد اقبال شام صاحب کا تحریر کردہ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ افغان مذاکرات کے بارے سیّدافتخار گیلانی صاحب کامضمون بھی چشم کشا ہے۔

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ صاحب کا مضمون مختصر ہونے کے باوجود مسکت و عالمانہ دلائل لیےہوئے ہے۔ اُنھوں نے بجاطور پر پاکستان کی ’مذہبی اقلیتوں کے کچھ نمایندوں‘ کی طرف سے عدالت ِ عظمیٰ میں رٹ دائر کرنے اور ہم نوائی پر گرفت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مسئلہ دراصل مٹھی بھر مراعات یافتہ اقلیت کا ہے، جو اپنے بچوں کو قومی نصاب نہیں بلکہ غیرملکی نصاب پڑھانا چاہتی ہے تاکہ گذشتہ عشروں کی طرح ان کے بچوں کی امتیازی شان اور پہچان الگ رہے۔ پراچہ صاحب نے غیرمسلم شعرا اور سپریم کورٹ کے غیرمسلم جج کی مثالیں دے کر یکساں قومی نصاب کے مخالفین کے موقف کی غیرمعقولیت کوآشکارا کیا ہے۔

پروفیسر شہزاد اقبال شام صاحب نے اپنے مضمون بعنوان: ’سپریم کورٹ کے ذریعے مسلم کشی‘ میںواحد قومی نصاب کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی طرف سے اَزخود نوٹس اور فیصلے پر جامع، مدلل اور پُرجوش گرفت کی ہے۔ تاہم، اگر وہ اپنے مضمون میں تندوتیز لہجے اور طعن و تشنیع کی جھلک سے اجتناب کرتے تو یہ زیادہ نتیجہ خیز اور پُراثر ہوتا۔ کیونکہ وزنی دلیل خود اپنے آپ کو منواتی ہے۔ بہرحال، پروفیسر شام صاحب نے اپنے مضمون کو جس محنت سےتیار کیاہے وہ قابلِ تحسین ہے۔


نزابت افشاں ، مہورہ (ضلع اٹک)

مئی کا شمارہ ہاتھ میں آتے ہی دل سے آپ کے لیے دُعا نکلی۔ تمام تحریریں قابلِ داد و تحسین ہیں۔ خصوصاً’سپریم کورٹ کے ذریعے مسلم کشی‘(شہزاد اقبال)،’اسلام صرف اسلامیات کے نصاب میں‘ (انصارعباسی) اور ’قومی نصاب پر سیکولر حملہ اور سپریم کورٹ‘ (حسین احمد پراچہ)یہ، مضامین آگاہ کرتے ہیں کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچا جن ہاتھوں میں ہے، وہ نہ اسلام دوست ہیں اور نہ پاکستان دوست۔ میرا تعلق بھی  شعبۂ درس و تدریس سے ہے۔ اس سال پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ لاہور نے ساتویں جماعت کی ’تاریخ‘ کی کتاب میں جو گُل کھلائے ہیں، وہ دیکھ کر انسان ’انگشت بہ دنداں‘  رہ جاتا ہے۔ تقسیم بنگال ۱۹۳۵ء میں بتائی گئی اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کی تاریخ وفات ۱۸۵۸ء بیان کی گئی ہے۔  میں نے اس حوالے سے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو کئی خطوط بھی لکھے مگر ابھی تک کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ’افغان مذاکرات کے اَدوار، المیوں کی تکرار‘ افتخار گیلانی صاحب نے حقائق پر مبنی مضمون لکھا ہے۔ موجودہ بے مقصدیت، سیکولریت اور فحش نگاری کے زمانے میں ترجمان کا دم غنیمت ہے کہ اتنی اچھی تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔


تحسین کوثر ، گجرات

مولانا مودودی کے ’اشارات‘ ایک اعلیٰ درجے کی زندہ تحریر ہے۔ اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ خصوصاً کارکنان اسلامی تحریکوں کو عبادت کا یہ مفہوم سمجھا دے۔ مئی کے شمارے میں تعلیم سے متعلق تمام مضامین مسئلے کی وضاحت میں بہت کامیاب رہے۔ دُنیااخبار میں ایازمیرکی جانب سے شعیب سڈل صاحب کی تعلیمی سفارشات کی حمایت بھی سمجھ میں آئی۔ واللہ! مسند انصاف پر بیٹھے جج حضرات نے بھی بہت سرسری انداز سے مسئلے کو لیا اور پھر اُلجھا دیا۔ اللہ کرے وزیراعظم اس معاملے میں کسی کو شب خون مارنے کی اجازت نہ دیں اور قومی و ملّی شعور رکھنے والے ماہرین تعلیم بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے وزارتِ تعلیم کی رہنمائی کریں۔ سرورق سادہ اور باوقار ہے۔


راجا محمد عاصم ، موہری شریف، کھاریاں

’گیارہ مئی ۱۹۵۳‘ کے حوالے سے بزرگانِ جماعت اسلامی کی یادداشتوں پر مبنی تحریر میں جماعت کے بزرگ رہنما خاص طور پر بانی جماعت اسلامی سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کی استقامت اور بلند حوصلے کو پیش کیا گیا اور جماعت کے اٹل موقف کی بھی تصویر کشی کی گئی ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ذریعے پاکستان جیسے ایک اسلامی ملک کے نصاب تعلیم پر غیرمسلموں کے حملے اور طاغوتی طاقتوں کو خوش کرنے کے چکّر میں جو مجرمانہ تبدیلیاں کی جارہی ہیں، ان کو قوم کے سامنے بڑے مدلل انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ افسوس کہ ہماری اعلیٰ عدالت کے جج صاحبان نے آنکھوں پر پٹی باندھ کر فیصلہ سنایا اور قوم پر ظلم کیا ہے، جس کا مداوا ہونا چاہیے۔


خواجہ منظورالحسن ، کراچی

اپریل ۲۰۲۱ء کے ترجمان القرآن میں ’قرآن کی تصویر ،قرآن کی زبانی‘ آخری عشرہ کی طاق رات میں مطالعہ کیا۔ ماشاء اللہ بہت ہی خوب، لیکن ص ۱۷ پر چار مرتبہھدیٰ لکھا ہوا ہے۔ پھر ص۳۱ پر بھی   ایک مرتبہ قرآنِ مجید کا توقیفی رسم الخط ھُدًی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پڑھنے والا وقف کرکے ھُدٰی پڑھے۔ لیکن ھُدٰی ہی لکھنا بالکل غلط ہے۔ یہ رفعی، نصبی اور جری تینوں حالتوں میں ھُدًی ہی ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مترجمین نے ظن کے معنی ’خیال، گمان، شک‘ کے کیے ہیں، لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ پورے قرآن مجید میں ظنّ یقین ہی کے معنی میں آیا ہے۔ ص۲۸ پر صحیح توقیفی اسم وَتَرٰىہُمْ  (الاعراف۷:۱۹۸) ہے۔