۲۰۱۵ مارچ

فہرست مضامین

جاپان: اسلام اور مولانا مودودی کا مطالعہ

ڈاکٹر معین الدین عقیل | ۲۰۱۵ مارچ | تذکرۂ مودودیؒ

جاپان میں مطالعات ِ اسلامی کی روایت بہت قدیم نہیں۔اس سے قبل کہ جاپانی مصنفین مطالعۂ اسلام میں دل چسپی لیتے، جس کی شہادت بیسویں صدی کے آغاز میں ملتی ہے، ہندستانی انقلابی رہنما مولوی برکت اللہ بھوپالیl نے جب اپنی سیاسی سرگرمیوں کے تسلسل میں وطن کو خیرباد کہا اور ہندستان سے نکل کر مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے بیسویں صدی کے اوائل ۱۹۰۹ء میںکچھ عرصے کے لیے جاپان کو اپنا مسکن بنایا تو وہاں مطالعۂ اسلام کا بھی آغاز کیا۔وہ ۱۹۱۴ء تک ٹوکیو میں مقیم رہ کر زبانیں سکھانے والے وہاں کے سرکاری ادارے، جس نے بعد میں ’ٹوکیو یونی ورسٹی آف فارن اسٹڈیز‘ کی صورت و حیثیت اختیار کی، اُردوکے استاد کی حیثیت سے منسلک ہوئے۔ اپنے انقلابی خیالات کی تشہیر کے لیے انھوں نے۱۹۱۰ء میں انگریزی میں ایک اخبار  Islamic Fraternity  بھی جاری کیا، جو ان کے وہاں قیام (۱۹۱۴ئ) تک نکلتارہا۔

جاپانیوں میںاسلام قبول کرنے کی روایت کا آغاز انیسویں صدی کے آخر سے شروع ہوچکا تھا، جب پہلے پہل ایک جاپانی صحافی شوتارو نودا (۱۸۶۸ئ-۱۹۰۴ئ) نے ترکی کے اپنے دوسالہ قیام کے دوران ۲۱؍ مئی ۱۸۹۱ء کو اسلام قبول کیا، اور عبدالحلیم نام اختیار کیا۔اس کے کچھ ہی دنوں بعدایک اور جاپانی تاجر توراجیرہ یامادا نے بھی وہیں اسلام قبول کیا [۱]۔

خود جاپانیوں میں اسلام کی تفہیم اور مطالعے کا آغازپہلی اور دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران ہواجب جاپانی رہنماؤں میں استعماری طاقتوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی عزائم کو دیکھ کر یہ احساس پیدا ہوا کہ عالمِ اسلام کے ساتھ ایک اتحاد اور ہم آہنگی خود جاپان کے دفاع کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہے۔اس ’اسلام حکمت عملی‘ کا آغاز اولا ً ۱۹۱۰ء سے ہوا جب ’مشرقِ اعظم‘ کے عنوان سے ٹوکیو کے ’ادارۂ ایشیا پارلیمنٹ ‘(بمثل قومی اسمبلی) سے ایک جریدے کی طباعت کا آغاز ہوا، جو    ڈیڑھ سال تک نکلتارہا۔ اس کے مدیر تویاما میتسورو اور اینوکائی سویوشی (اس وقت کے وزیر اعظم) تھے۔

مذکورہ ’اسلام حکمت عملی‘ کا بیرونی سطح پر آغازاسلامی ممالک سے پہلے چین میں ہوا، جہاں ’عظیم ایشیایت‘ کے تصور کے حامیوں نے ’حلقہ ٔ مطالعۂ اسلام ‘قائم کرکے ایسی کوششیں کیں جن کا مقصد چینی مسلمانوں کو چین میں جاپانیوں کی سیاسی مداخلت کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار کرنا اور ان میں جاپانی مفادات کو توسیع دینا تھا۔اس مقصد کے لیے اس حلقے نے۱۹۲۷ء میں رسالہ دین اسلام جاری کیا جو دوسال تک جاری رہا۔ اس کے مدیر کوامورا کیودو تھے۔کہا جاتا ہے کہ د راصل وہ جاپانی جاسوس تھے جو مسلمانوں میں جاپانی مفادات کے لیے سرگرم رہے [۲]۔

اسی ضمن میں ایک جاپانی سیاسی رہنما  شومے  اوکاوا  خاصے سرگرم ہوئے اور انھوں نے اسلام کو اپنے باقاعدہ مطالعے کا موضوع بنایا۔اسلام کا مطالعہ کرنے کے دوران میں، قرآن کا (اوّلین) ترجمہ بھی کردیا۔اس ترجمے کی بنیاد ایک انگریزی ترجمۂ قرآن پر تھی۔ اسی طرح  انھوں نے عالم اسلام  کے نام سے جاپانی زبان میںایک رسالے کا اجرا بھی کیا، جو دوسری جنگ ِ عظیم کے اختتام تک نکلتارہا۔

علمی سطح پر اس عرصے میں پروفیسر رے ایچی گامو نے جاپان میں پہلے پہل اسلام کے مطالعے میں دل چسپی لی۔وہ’ ٹوکیو یونی ورسٹی آف فارن اسٹڈیز‘ سے منسلک تھے اور اُردو زبان کے پروفیسر تھے ۔ انھوں نے جاپان میں اُردو ادب کے مطالعے کو بے حد فروغ دیا ، گلستانِ سعدی اور باغ و بہار کے جاپانی ترجمے کیے۔ پروفیسر گامو نے نہ صرف اُردو ادب کے مطالعے کا    ذوق عام کیا بلکہ اپنے طلبہ میں اسلام کے مطالعے کا شوق بھی پیدا کیا۔ان کے شاگردوں میںپروفیسر کان کگایا، پروفیسر سوزوکی تاکیشی اور پروفیسر کرویا ناگی نام وَر اسکالر تھے۔ سوزوکی صاحب نے اُردو و فارسی زبان و ادب کی تعلیم کو بہت وسعت دی اور شعبۂ اُردو کو مستحکم کیا۔ پروفیسر کان کاگایا اُردو کے علاوہ فارسی اور عربی سے بھی خوب واقف ہیں اور اسلام کے مطالعے میں مصروف رہ کر اسلام کے بارے میں مختلف عنوانات کے تحت متعدد تحقیقی مقالات لکھ چکے ہیں۔کرویا ناگی فارسی سے وابستہ ہیں ، جنھوں نے ایک مجلہ انڈو ایران  جاری کیا اور ایک مبسوط تحقیقی مقالہ ’ہند میں اسلامی فکر کا ارتقا‘ تحریر کیا اور اقبال اور مولانا مودودی کے افکار کے مطالعے پر اس مقالے کو    مرکوز رکھا۔ ان علما کے معاصرین میں ایک اہم نام پروفیسرتوشی ہیکو اِزتسو کا ہے، جنھوں نے قرآن کا ترجمہ جاپانی زبان میں کیا۔ انھوں نے ٹوکیو کی ایک نجی یونی ورسٹی میں مطالعۂ اسلام کا ایک شعبہ قائم کیا اور اس کے تحت اسلام کے مطالعے اور تحقیق و تصنیف کو فروغ دیا۔مطالعۂ اسلام کے ضمن میں ان کا ایک بڑا کارنامہ ایک ایسی نسل کی تیاری ہے جس نے سارے جاپان کی جامعات اور تحقیقی اداروں سے منسلک ہو کر اسلام کی تفہیم و تعلیم اور اس کے مطالعے کو فروغ دیا ہے۔

اسی طرح ایک اور پروفیسر ناکامورا کوجیرو کا ذکر بھی ضروری ہے، جو اِزتسو صاحب کے معاصر ہیں، انھوں نے ٹوکیو یونی ورسٹی سے منسلک رہ کر اسلامیات کی تدریس کے ساتھ ساتھ وہاں شعبہ ٔ اسلامیات قائم کیا اور اس کے تحت ایک ’ادارۂ تحقیقات ِ اسلامی‘ کی بنیاد رکھی جو جاپان میں اپنی نوعیت کا اولین ادارہ تھا۔یہاں ایک عالی شان کتب خانہ بھی قائم ہوا جو جاپان میںعلومِ اسلامی کے مطالعے میں بہت معاون ہے۔ اس ادارے سے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقی مجلہ بھی شائع ہوتاہے جو مطالعۂ اسلامی کے لیے اور عالمِ اسلام کے سیاسی، تہذیبی اور معاشرتی موضوعات کے لیے مختص ہے۔

ان معروف و ممتاز اساتذہ کے زیر اثر اب جہاں نوجوانوں میں مطالعہ اسلامی کو فروغ ملا ہے ،وہیں دیگر متعدد جامعات میں اسلامیات کے شعبے بھی قائم ہوئے ہیں اور اب چند برسوں سے خاص طور پر کیئیو یونی ورسٹی، ٹوکیو؛ واسیدا یونی ورسٹی، ٹوکیو؛ اور کیوتو یونی ورسٹی، کیوتو، مطالعۂ اسلام کے اہم مراکز کی صورت میں نمایاں ہوئے ہیں، جہاں تدریس کے ساتھ ساتھ اسلام اور عالمِ اسلام پر مستقل تحقیقات کا ایک تسلسل قائم ہے اور گاہے گاہے کانفرنسوں اور سیمی ناروں کا سلسلہ بھی رہتا ہے۔ ان کے علاوہ کئی اور جامعات بھی ہیں جہاں اگر اجتماعی نہیں تو انفرادی سطح پر اسلامی تحقیقات کا عمل جاری رہتاہے۔

جاپان کی جملہ جامعات میں کیوتو یونی ورسٹی کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں اسلام اور عالمِ اسلام کے تعلق سے بمقابلہ جاپان کی دوسری جامعات، زیادہ نمایاں علمی و تحقیقی سرگرمیاں جاری ہیں۔  اس کا ایک بڑا سبب یہاں پروفیسر کوسوگی یاسوشی کی موجودگی ہے جو ایک لائق پروفیسرہونے کے ساتھ ساتھ نہایت فعّال و مستعداور سرگرم انسان بھی ہیں۔عربی اور انگریزی پر عبور رکھتے ہیں۔ جامعۂ ازہر سے فارغ التحصیل ہیں اور وہیں دوران قیام مشرف بہ اسلام ہوچکے ہیں۔ ان کی اہلیہ نے بھی اسلام قبول کیاہے۔اس یونی ورسٹی میں شعبۂ اسلامیات کے علاوہ ایک ’گریجویٹ اسکول آف ایشیا، افریقہ ایریا اسٹڈیز‘ بھی سرگرمِ عمل ہے۔ان اداروں کے تحت مطالعات و تحقیقات ِ اسلامی کو یہاں فروغ حاصل ہورہا ہے۔ ان سرگرمیوں میں نوجوانوں کی ٹیم نہایت اہم موضوعات پر تحقیق میں مصروف ہے۔۳؎ 

اسی ٹیم میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں، جن کی تحقیقات کا تعلق جنوبی ایشیا کے موضوعات،  خاص طور پر جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخی، تہذیبی، فکری اور سیاسی زندگی اور ترجیحاً عہدحاضر سے ہوتاہے۔اس ضمن میںیہ قابلِ لحاظ ہے کہ فکر ِ اسلامی کی نسبت سے تحریکِ احیاے اسلامی،    مولانا مودودی اور جماعت اسلامی مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے اس نوعیت کے تحقیقی مطالعات کا ایک تواتر سے موضوع بن رہے ہیں۔اس ضمن میں پروفیسر ہیروشی کاگایا نے دراصل مولانا مودودی اور جماعت ِ اسلامی پرراست مطالعے کا آغاز کیاتھا۔ان کا مقالہ: Documentation regarding Formation of Jama'at-e Islami. (جاپانی) ’اوساکا یونی ورسٹی آف فارن اسٹڈیز‘کے مجلے: Ryou Tatsen-Kanki ni Okeru Seiji jo Shakai ، ۱۹۸۷ء میں شائع ہوا تھا۔ اس حوالے سے اگرچہ پروفیسر کرویاناگی نے ابتدا کی تھی اور علامہ محمداقبال اور مولانا مودودی کے افکار کو اپنے مبسوط مطالعے میں خصوصیت سے شامل کیا تھا، لیکن اب اس کو ایک تسلسل پروفیسر سو یامانے کی توجہ اور کاوشوں سے حاصل ہوا ہے۔ یہ اوساکا یونی ورسٹی سے منسلک ہیں اور بظاہر شعبۂ اُردو میں اُردو زبان و ادب کی تدریس سے وابستہ ہیں لیکن زبان وادب سے بڑھ کر اب ان کی توجہ اور ترجیحات جنوبی ایشیا کی سیاسی و فکری تاریخ اور عصری مسائل و حالات کے مطالعے و تحقیق تک پھیل گئی ہیں۔

پروفیسر کرویا ناگی کے بعد غالباً پروفیسر سویامانے ہی ہیں جنھوں نے جنوبی ایشیا کی تحریکات ِ اسلامی اور خاص طور پر جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کے افکار و خیالات کو نہ صرف خود موضوع بنایا اور متعدد تحقیقی مقالات تحریر کیے، اور اپنے طلبہ میں بھی ان موضوعات کے مطالعے و تحقیق کا ذوق عام کیاہے۔پروفیسر سویامانے نے ایم اے اُردو، پنجاب یونی ورسٹی اورینٹل کالج لاہور سے کیا۔ مجموعی طور پر وہ کئی سال پاکستان، خصوصا ً اسلام آباد اور لاہور میں رہ چکے ہیں۔ اسلام آباد میں ان کا قیام سفارت خانے کی ملازمت کے سلسلے میں تھا۔ اس کے بعد سے ہر سال ایک دو مرتبہ لاہور میں ان کی آمد رہتی ہے۔یہاں کے اکابر ِ علم و ادب،کتب خانوں اورعلمی و تحقیقی اداروں سے ان کا تعلق رہتا ہے ۔

پروفیسر سو یامانے نے اب تک درج ِ ذیل مقالات، بہ اعتبار ِ زمانی، جماعت ِ اسلامی اور مولانا مودودی پر تصنیف کیے ہیں:

                ۱-            Syed Abu al A'la Maududi's Islamic Revivalism and the Establishment of Dar al Islam.     [۴]۔

                ۲-  Maududi's Islamic Revivalist Movement: A Dynamic Study of Indian Muslim Intellectuals of the 20th Century.          جاپانی زبان میں، انگریزی ترجمہ[۵]۔

                ۳-              Legal and Inevitable War in Islam- in Maududi's Al-Jihad fi al Islam.     ۔[۶]۔

                ۴-              Horizons of Islam in South Asia: Iqbal and Maududi. [۷] ۔

اس عرصے میں، پروفیسر سویامانے نے تسلسل سے جماعت اسلامی اور مولانا مودودی کو موضوع بنایا، لیکن ان کے ساتھ ساتھ اس جانب توجہ دینے والوں میں ایک اسکالر ناکاگاوا یاسوشی  بھی ہیں، جن کا مقالہ : Maududi: Islamic National Characteristic Authority  تھا، جو اوساکا یونی ورسٹی کے مجلے: Bulletin of Asia Pacific Studies   شمارہ ۱۱، ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا تھا۔  پروفیسر سویامانے اگرچہ اوساکا یونی ورسٹی سے منسلک ہیں، لیکن ان کا علمی رابطہ جاپان بھر کے اُن اسکالرز سے قائم ہے، جو جنوبی ایشیا اور اسلام کے موضوعات پر مطالعات میں مصروف ہیں یا ایسے موضوعات پرتحقیقی کام کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ان ذاتی مطالعات کے ساتھ ساتھ اسلام اور پاکستان سے متعلقہ موضوعات پر دیگر نوجوانوں کو بھی راغب کیاہے اور  ان کی رہنمائی و معاونت بھی کرتے ہیں۔ اس طرح اب تک ان کی سرپرستی و حوصلہ افزائی کے نتیجے میں  کم از کم دو مبسوط کاوشیں سامنے آچکی ہیں۔ ایک پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ہے جسے کیوتو یونی ورسٹی میں آنسہ سُناگا ایمی کو نے پروفیسر کوسوگی کی نگرانی میں ’گریجویٹ اسکول آف ایشیا، افریقہ ایریا اسٹڈیز‘ میں پیش کرکے سند حاصل کی ہے۔لیکن اس سے قبل اسی طالبہ نے ایک مبسوط مقالہ،  بعنوان: Characteristics of the Quranic Interpretations in the Urdu Language: From Shah Waliullah to Maududi لکھا تھا، جو کیوتو یونی ورسٹی میں پیش کیا تھا، جو G-COE Series، نمبر شمار ۱۲۲ میں شائع ہوا۔ اس مقالے میں مصنفہ نے   جنوبی ایشیا میں تفسیر نویسی کی روایت اور خاص طور پر اُردو میں اس روایت پر ایک تاریخی نظر ڈالتے ہوئے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا قدرے مفصل مطالعہ پیش کیا تھا۔جب کہ یہی موضوع خاصی تفصیل اور دیگر متعلقہ پہلوؤں کے ساتھ اس کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں زیر ِ مطالعہ آیا ہے۔ اس تحقیقی منصوبے کا عنوان تھا: Islamic Revival and Urdu Publication in Pakistan: A Study of Maulana Maududi as a Writer and Thinker.  اس مقالے پر اس ریسرچ اسکالر کو ۲۰۱۳ء میں پی ایچ ڈی کی سند تفویض ہوچکی ہے۔یہ جاپان میں اپنی نوعیت اور ضخامت کا اولین کام ہے، جو مولانا مودودی اور جماعت ِ اسلامی کے بارے میں جاپان میں سامنے آیاہے۔

یہ مقالہ جاپانی زبان میں لکھا گیاہے اور اس کی کُل ضخامت ۲۰۱صفحات ہے۔مقالے کی مصنفہ نے اسلام اورپاکستان کے تعلق سے جاپان و پاکستان میںمنعقد ہونے والے متعدد سیمی ناروں میں شرکت کرکے ان میں اپنے مقالات بھی پیش کیے ہیں۔ مولانا مودودی کے تعلق سے اس نے اپنے مطالعات کے لیے جاپان کے علاوہ لاہور کے کتب خانوں اور ’عقیل کلیکشن‘سے کراچی اور کیوتو میں خاطر خواہ استفادہ کیا اورایک مقالہ اس نے خاص ’عقیل کلیکشن‘ کے بارے میں کیوتو یونی ورسٹی میں منعقدہ سیمی نار ، مورخہ ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۳ء میں پیش کیا، جس کا ذکر اگلی سطور میں دیکھا جاسکتاہے۔

دوسرا اہم کام کتابیاتِ مودودی کی ترتیب ہے، جو ایک نوجوان طالبہ سساؤکی نوریکو نے انجام دی ہے[۸]۔ یہ کتابیات اوساکا یونی ورسٹی کے’ گریجویٹ اسکول آف لینگویج اینڈ کلچر‘ میںایم اے کی تکمیل کی غرض سے مقالے کے ایک حصے کے طور پر مرتب و پیش کی گئی تھی۔مقالے کا موضوع تھا: ’’مولانا مودودی کی تصانیف کے مراحل اور ان مراحل میں مولانا مودودی کے افکار کی تنظیم و تشکیل‘‘۔کتابیات :Urdu Works of Abu al A'la Maududi, An Annotated Bibliography کے عنوان سے ۲۰۱۳ء میں منظر عام پر آئی ہے۔ اسے سو یامانے صاحب کی ہدایت و نگرانی کے تحت مرتب کیا گیاہے۔ اس لیے اس میں موضوع کا شعور اورمحنت و سلیقہ اور ترتیب کا سلیقہ،یہ سب دیدنی ہیں۔ اس کتابیات کا انگریزی متن (ترجمہ)بھی نوریکو نے تیار کیا ہے جو مارچ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا ہے۔اس نے اس کتابیات کی تیاری اولا ً اپنی اوساکا یونی ورسٹی کے’ اسکول آف فارن لینگویجز‘کے کتب خانے سے شروع کی ۔پھر کچھ دن لاہور میں رہ کر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی معاونت سے ادارۂ معارف اسلامی (منصورہ) کے کتب خانے سے استفادہ کیا۔ راقم کے کتب خانے (کراچی) سے بھی اسے خاصی مدد ملی ہے ۔آخر میں ’کیوتو یونی ورسٹی‘ کے ’گریجویٹ اسکول آف ایشیا، افریقہ ایریا اسٹڈیز‘ کے کتب خانے میں راقم کے کتب خانے کے ایک بڑے حصے کی ستمبر۲۰۱۲ء میں منتقلی اور وہاں ’عقیل کلیکشن‘ کے طور پر ترتیب کے بعداس طالبہ کووہاں یکسوئی سے اپنے کام کو حتمی شکل دینے کا موقع ملا۔

کتابیات میں اندراج کی تفصیلات سائنسی انداز سے درج کی گئی ہیں۔ترتیب کے لحاظ سے اسے آٹھ زمروں میں تقسیم کیاگیاہے، جو یہ ہیں:۱- قرآن و حدیث (تعداد ۱۰)؛ ۲-وہ تصانیف جنھیں خود مولانا مودودی نے مرتب کیا یا ان کی نگرانی میں مرتب ہوئیں (تعداد۴۹)؛ ۳-کتابچے (تعداد۱۰۲)؛۴-مجموعہ ہائے مکاتیب (تعداد۱۱)؛۵-تراجم از مولانا مودودی (تعداد۴)؛۶-وہ منتشر تحریریں، جنھیں مجموعوں کی صورت میںکسی دوسرے نے مرتب کیا (تعداد۳۸)؛ ۷-مولانا مودودی کی تصانیف سے ماخوذ اقتباسات پر مشتمل کتابیں(تعداد۷۳)؛۸-وہ مضامین، جو مولانا مودودی نے ۱۹۱۸ء اور ۱۹۳۰ء کے دوران لکھے (تعداد۹)۔ان تمام اندراجات کو انفرادی حیثیت میں متعلقہ تمام تفصیلات کے اہتمام سے کہ جن کے توسط سے کتاب کی کُل اشاعتوں کے بارے میں ساری معلومات حاصل ہوسکیں، اسے مرتب کیاگیاہے۔ بیشتر یہ اہتمام بھی کیاگیاہے کہ کس کس کتاب کے متن میں کیا کیا اضافے یا ترامیم شامل ہوتی رہیں۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹررفیع الدین ہاشمی کی کتابیاتِ مودودی سے بھی بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔[۹]

اپنے مقالے میں اس طالبہ نے جو جائزہ پیش کیا اس کے مطابق مولانا مودودی پر اس گوشے میں مولانا کی اپنی تصانیف کے علاوہ وہ تصانیف شامل ہیں جو مولانا مودودی اور جماعت ِ اسلامی کے بارے میں ہیں اور ساتھ ہی ایسی تصانیف بھی شامل ہیں جن کے موضوعات و مباحث کسی نہ کسی طرح ان دونوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اس جائزے میں ایسی۱۲۶ کتابوں کا حوالہ دیاگیا ہے جو اہم بھی ہیں اور نادر و کمیاب بھی۔ پھر ان میں ایسی کتابیں بھی شامل ہیں جنھیں مولانا مودودی کے مخالفین نے ان کے افکار و نظریات کی تردید یا مخالفت میں تحریر کیا، اور ان میں ایسی کتابیں بھی ہیں جو ان کے دفاع میں لکھی گئیں۔

اس طالبہ کے جائزے کے مطابق مولانا مودودی نے اپنے جریدے ترجمان القرآن میںتقریبا ً ۹۰۰ مضامین تحریر کیے تھے، جن سے ۳۰۰ کتابیں مرتب ہوئیں، جن میں۵۰ کتابیں خود مولانا مودودی کی تصانیف کی شکل میںسامنے آئیں، جب کہ ۱۰۰کتابچے اور۱۱۰ مجموعے ان کے عقیدت مندوں نے مرتب و شائع کیے۔اس طالبہ کے مطابق مولانا مودودی کی کتابیں کم از کم ۵۰زبانوں میں ترجمہ ہوئیں۔ اس جائزے کے مطابق ’عقیل کلیکشن‘میں موجود کئی کتابیں جاپان کے چند کتب خانوں میں موجود ہیں لیکن اس ذخیرے کی وجہ سے اب جاپان میں مولانا مودودی اور جماعت اسلامی کے ساتھ ساتھ عہد ِ جدید کی اسلامی تحریکات اور افکار کے بارے میں تحقیقی مطالعات کرنے والوں کے لیے بھی بہت آسانیاں فراہم ہوگئی ہیں۔ اس طالبہ کا یہ مقالہ پہلے مذکورہ سیمی نار میں پیش ہوا، پھر کیوتو یونی ورسٹی کے اسلامی علاقائی مطالعے کے مرکز کے مجلے: Kyoto Bulletin of Islamic Area Studies کے شمارہ ۷، مارچ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا۔

’عقیل کلیکشن‘ کے سلسلے میں منعقد ہونے والے سیمی ناروں میں مختلف اسکالرز اپنے اپنے دائرۂ موضوعات کے ذیل میں ،جو کچھ ان کو اس ذخیرے سے دستیاب ہورہا ہے اور ان کے متعلقہ مطالعات کے لیے مفید ثابت ہوا ہے۔ مثلاً جنوبی ایشیا کی فکر اسلامی کے تعلق سے شاہ ولی اللہ، علماے دیوبند، جمال الدین افغانی، ابوالکلام آزاد، مولانا مودودی کے بارے میں اس ذخیرے میں موجود اہم کتابوں کا تعارف کرایا گیاجو ان کے مقالات میں زیر ِ گفتگورہے۔اس ضمن میں  سُناگا  ایمی کو  اور سساؤکی نوری کو نے مولانا مودودی سے متعلق گوشے میں محفوظ ذخیرے کا اپنے اپنے زاویے سے تعارف کرایاہے۔

اس نوعیت کے سیمی ناروںکے تسلسل میں ایک اور تعارفی سیمی نار ، منعقدہ  ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۳ء میں، جو دیگر موضوعات اور دیگر اسکالرز کے مقالات پر مشتمل تھا، سُنا گا ایمی کو نے Material on Maodudi in Aqeel Collection کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔اس تعارف میں جہاں مولانا مودودی کے احوال و آثار اور جماعت اسلامی کی تاسیس جیسے موضوعات کا احاطہ کیاگیا، وہیں اس ذخیرے میں موجود مولانا مودودی کی تصانیف اور متعلقات کا ذکرکیا گیاتھا بالخصوص تفہیم القرآن کی خصوصیات، اہمیت اور اس کے اثرات پر بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی۔اس تعارف کے دوران ۳۲ نقشوں اور ۱۲ تصاویر سے مدد لی گئی، جب کہ سات عدد جدولیں، گوشوارے اور ایک بہت جامع اور مفصل کتابیات بھی اس سیمی نار میں پیش کیے جانے والے مقالے کے آخر میں شامل تھی، ان سب کو مصنفہ نے وضاحت کی خاطر اپنی گفتگو اور اس مقالے میں شامل رکھا تھا۔

اس نوعیت اور تسلسل کے حامل مطالعات کا ایک سلسلہ جو جاپان میں شروع ہوا ہے، اور جو ذوق و شوق مطالعات ِ اسلامی کا جاپان کی جامعات میں نظر آرہا ہے، یہ روز افزوں ہے اوراس لیے یقین کیا جاسکتاہے کہ اس میں ہر جہت سے اضافہ ہوتا رہے گا۔

حواشی

  •                برکت اللہ بھوپالی (۷ جولائی ۱۸۵۴ئ، اتوار محلہ، بھوپال- وفات:۲۷ستمبر ۱۹۲۷ئ، سیکرانٹو،       سان فرانسسکو، امریکا) پرائمری سے کالج تک بھوپال میں تعلیم حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے بمبئی اور لندن گئے۔ وہاں مسلم انسٹی ٹیوٹ لیورپول سے وابستہ ہوئے۔ بہ یک وقت مختلف زبانوں کا فہم رکھتے تھے، جن میں عربی، فارسی، ترکی، انگریزی، جرمنی، جاپانی، اُردو شامل ہیں۔ ٹوکیو یونی ورسٹی شعبۂ اُردو میں استاد مقرر ہوئے۔ ’غدرپارٹی‘ کی بنیاد رکھی۔ آزادیِ ہندکے لیے لینن، ہٹلر، غازی پاشا، قیصرولیم دوم وغیرہ سے ملاقاتیں کیں۔ بھوپال میں ان کی یاد میںبرکت اللہ یونی ورسٹی قائم ہے۔ (ادارہ)

۱-            تفصیلات کے لیے:  میساوا نوبوؤ اور گوکور اکچاداغ، The First Japanese Muslim Shotaro Noda ( 1868-1904).، مشمولہ: Annals of Japan Association for Middle East Studies. ، شمارہ ۲۳۔ ۲۰۰۷ئ، ص ص۸۵۔۱۰۹

۲-            تفصیلات کے لیے: میساوا نوبوؤ  Japanese Commercial Museum in Istanbul (1928-1937) ، Annals of Japan Association for Middle East Studies.  ، شمارہ ۲۳، ۲۰۰۷ئ، ص ص ۲۳۷۔۲۳۸؛ ونیز  شویچی کوبایاشی اور نوبوؤ میساوا، Japanese Islam Policy. ، مشمولہ: Gondai Shakai Kankyu. ، مجلّۂ ٹوکیو یونی ورسٹی، شمارہ  ۲، ۲۰۰۸ئِ ۔ ص۹-۲۲

۳-            جاپان میں اسلام پر حالیہ مطالعات کی قدرے تفصیل راقم کی ایک تصنیف مشرقِ تاباں: جاپان میں اسلام، پاکستان اور اُردو زبان و ادب کا مطالعہ۔ پورب اکادمی، اسلام آباد، ۲۰۱۰ء میں دیکھی جاسکتی ہے۔ زیرنظر سطور میں محض اختصار روا رکھا گیاہے۔

۴-            مشمولہ: Bulletin of Asia-Pacific Studies.  ، جلد XI ، ۲۰۰۱ئ، ص ص ۱۶۷- ۲۱۰

۵-            مشمولہ: Ajia Taiheiyo Ronsi  ، جلد II ، ۲۰۰۱ئ،

۶-            مشمولہ:Kansai Arab-Islam Research Journal ،جلد ۳، ۲۰۰۳ئ، ص ۱۵۱-۱۶۵

۷-            مشمولہ: Memoirs of the Research Department of the Toyo Bunko.  ،  جلد ۶۳، ۲۰۱۰ئ، ص ۱۴۳-۱۷۴ (مذکورہ مقالے کا ترجمہ عالمی ترجمان القرآن ’جنوبی ایشیا میں اسلام کا مستقبل‘، علامہ اقبال اور مولانا مودودی کے افکار کے تناظر میں‘ (جون،اگست ۲۰۱۳ئ) میں شائع ہوچکا ہے۔)

۸-            یہ کتاب  NIHU، National Institute of Humanities کے سلسلۂ مطبوعات: Research Series of South Asia and Islam کے تحت ۲۰۱۳ء میںشائع کی گئی ہے اور یہ اس سلسلے کی تیسری کتاب ہے۔

۹-            مشمولہ تذکرۂ مودودی ، جلد سوم ۔ ادارۂ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور، ۱۹۹۸ء

 

مقالہ نگار: سابق صدر شعبہ اُردو، کراچی یونی ورسٹی، کراچی