۲۰۱۵ مارچ

فہرست مضامین

دین کا حقیقی مقصد: نظامِ عدل کا قیام

پروفیسر علی اصغر سلیمی | ۲۰۱۵ مارچ | دعوت و تحریک

تحریکِ اسلامی کی جدوجہد کا مقصد اس ملک میں ’نظام کی تبدیلی‘ ہے، تاکہملک میں قا ئم ظلم، ناانصافی اور حق تلفی پر مبنی یہ نظام ختم ہو اور اس کی جگہ عدل و انصاف اور ادایگی حقوق پر مبنی نظام قائم کیا جاسکے ۔اس عظیم مقصد کے لیے کام کرنا دنیا و آخرت میں اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے ۔

نظام کی تبدیلی: ایک دینی تقاضا

اس نیک اور عظیم مقصد کی اہمیت کے بارے میں اہل وطن کی اکثریت بے خبر یا بڑی حد تک غافل ہے، بلکہ بھاری اکثریت تو اسے محض ایک سیاسی اور دنیاوی کام سمجھنے کی غلط فہمی میں بھی مبتلا ہے۔اسے اس بات کا کچھ احساس نہیں ہے کہ ظالمانہ نظام کی تبدیلی کا دین سے کس قدر گہرا تعلق ہے۔ نظام عدل کے قیام کو ایک غیر مذہبی فعل اور سیاسی کام قرار دینے کا  ایک سبب یہ ہے کہ لوگ اس حقیقت سے واقف ہی نہیں کہ کرپٹ اور بد دیانت قیادت کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے معاشرہ کن مصائب و آلام میں گھرا رہتا ہے۔

کسی ملک کے رہنے والے لوگوں کی حالت کا  انحصاراس بات پر ہوتا ہے کہ اس ملک کے اقتدار پر کس قسم کے لوگ فائز ہیں ۔ اگر ملک کی قیادت صحیح ہاتھوں میں ہو تو ملک کے حالات بہتر ہوں گے لیکن اگر ملک کی قیادت پر نا اہل ،بد دیانت  اور بد عنوان لوگ مسلط ہوں تو ملک کے حالات بھی دگر گوں، پریشان کن اور تکلیف دہ صورت حال کا منظر پیش کریں گے۔ وطن عزیز کی زبوں حالی، اس کی معیشت کی بربادی ،اس کا سیاسی انتشار اور اس میں موجود معاشرتی اُونچ نیچ   اس ملک کے ان چند خا ندانوں کی وجہ سے ہے جو برسوں سے اس ملک کی قیادت پر قابض ہیں۔    یہ قیادت ان خاندانوں میں مادی اشیا کی طرح نسل در نسل وراثت کے طور پر منتقل ہوتی چلی آرہی ہے۔ مفت میں ہاتھ آنے کی وجہ سے قیادت پر فائز یہ طبقہ نا اہل ، بد دیانت ،بد عنوان ،سخت دل ، مفاد پرست اور اپنی ذات اور اپنے طبقے کے مفادات سے اُوپر اٹھ کر دیکھنے کی صلا حیت سے محروم ہو چکا ہے ۔ کیونکہ بغیر محنت کے حاصل ہونے کی وجہ سے ورثا اس نعمت کی قدر نہیں کر پاتے اور وہ سست، نااہل اور مفاد پرست ہو تے چلے جاتے ہیں۔واضح رہے کہ قیا دت وراثت کے طور پر منتقل ہونے والی چیز نہیں بلکہ اہلیت اور صلاحیت کی بنا پر حاصل کی جانے والی شے ہے ۔

 موروثی قیادتیں کارکردگی کی بنا پر قیادت پر فائز رہنے کے بجاے دولت،طاقت،تعصبات، دھاندلی اور دیگر غیر قانونی اور غیر اخلاقی سہاروں کوقیادت پر قابض رہنے کا ذریعہ بناتی ہیں۔ وہ اقتدار کو عوام کی فلاح  اور سربلندی کے لیے استعمال کرنے کے بجاے اپنی دولت اور طاقت میں اضافے کے لیے استعما ل کرتی ہیں۔ اقتدار کے پجاری اور دولت کی ہوس میں مبتلا اس طبقے کے ہاتھوں جو نظام قائم ہوتا ہے وہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجاے اس طبقے کے مفادات کو تحفظ دینے کا ذریعہ بن جا تا ہے۔ اس طرح اس طبقے کے ہاتھوں معاشرہ فساد ،معیشت ظلم اور سیاست دھوکا بن کر رہ جاتی ہے۔ظلم کے اس بازار میں عوام کے حقیقی خیر خواہوں کو اپنی پہچان کرانے اور عوام کو اپنی خیر خواہی کا یقین دلانے کے لیے بھی بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔برسوں سے حکمران طبقوں کی غلامی یا چاکری کے عادی ہونے کی بنا پر یا مسلسل دھوکے پہ دھوکا کھانے کی بناپر یااپنے جمود اور روایت پرستی کی عادت کی بنا پر عوام اپنے حقیقی خیر خواہوں سے بھی بد گمان ہی رہتے ہیں۔ اس بدگمانی کو پیدا کرنے اور بڑھاوا دینے میں بد عنوان قیادتوں کا حصہ کچھ کم نہیں ہوتا، بلکہ وہ اہل ، باصلاحیت اور دیانت دار افراد اور گروہوں کو اپنے اثرو رسوخ اور دولت و طاقت کی بنا پر قیادت کے مناصب اور فیصلوں کے مراکز سے دُور کھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، تاکہ ان کی بددیانتی اور نااہلی کا پول نہ کھل جائے۔اس طرح نیک، شریف،دیانت دار اور باصلاحیت لوگ قیادت واختیار سے محروم کرکے بے اثر بنا دیے جاتے ہیں اور معاملات چلانے میں ان کا کردار ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔

پاکستان کے حالات اس منظر کی گواہی پیش کر رہے ہیں۔ یہاں جو طبقہ قیادت پر مسلط ہے وہ مفاد پرست، عوام دشمن،قانون شکن اور خود غرض واقع ہوا ہے ۔اس منظر کو اگر کوئی بدلنا چاہے اور خواہش رکھے کہ ملک میں عدل ،انصاف ،اخلاق اور اصولوں کی بالادستی قائم اورنیکی و شرافت اور دیانت وامانت کا دوردورہ ہو جائے، تو اس کے لیے خدا پرستی کی تلقین ،نیکیوں کا وعظ اور حُسن اخلاق کی ترغیب کافی ہو گی اور نہ فقط دُعاؤں سے یہ مرحلہ سر ہو گا۔ اس کے لیے قیادت کی تبدیلی جیسے سخت مشقت طلب مرحلے سے گزرنا ہو گا۔خواہ یہ تبدیلی اس طبقے کے ذہن کی تبدیلی ہو یا قیادت کے منصب سے اسے اُکھاڑ پھینکنے کا عمل۔

نبی اکرمؐ نے ۱۳سالہ مکی زندگی میں قریشی سرداروں کے ذہن بدلنے کی کوشش کی مگر مردناداں پر کلامِ نرم ونازک بے اثر ثابت ہوا۔ مفت میں ہاتھ آ ئے ہوے مفادات اور مراعات کو ترک کرنے پر آخر کون آسانی سے آمادہ ہو تا ہے ۔ قریشی سرداروں نے اللہ کے آخری رسولؐ کے وعظ و تلقین پر نہ صرف کان نہیں دھرا بلکہ اس عظیم الشان  دعوت کی دشمنی میں وہ خم ٹھونک کر میدان میں آ گئے اور آپؐ اور آپؐکے ساتھیوں کا جینا حرام کر دیا، حتیٰ کہ انھیں مکہ سے نکال کر دم لیا۔   مکی دور کی جدوجہد قریشی سرداروں کو راہِ راست پر تو نہ لاسکی مگر ان کی نوجوان نسل اور عوام میں سے دعوت اصلاحِ نظام کو ایسے مخلص، پختہ کار ، جوان ہمت اور پُرجوش نوجوان مردوخواتین ضرور میسر آگئے جو آگے چل کر قریشی سرداروں کا زور توڑنے اوران کا غرور خاک میں ملا کر دعوت اسلام کے پھیلنے کی راہیں کھولنے کا باعث بن گئے۔اسلامی دعوت کا مدنی دور اللہ سے پھری ہوئی عوام دشمن قیادت کو اکھاڑ پھینکنے کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلے میں رسولِؐ خدا نے مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست قائم کی۔ اپنی ساری طاقت کو اس ریاست میں جمع کیا ۔پھر اس طاقت کے ذریعے ان پر مسلط ہونے والے سرداروں سے انھیں نجات دلائی۔

پاکستان چونکہ اسلامی ریاست ہے اوراس میں نظام بدلنے یا قیادت تبدیل کرنے کے لیے پر امن مواقع میسرہیں، اس لیے یہا ںزیادہ سے زیادہ عوام کو اپنا ہم نوا بنا کر تبدیلی لانے کا طریقہ زیادہ موزوں ہے مگر یہ طریقہ بھی آسان نہیں ہے۔یہ راستہ دراصل اللہ کی تعلیمات سے  منہ موڑ کر ،اس سے کیے ہوئے عہد بندگی کو توڑکر بندوں کے رب بن جانے والوں سے بندوں کو آزاد کرانے اور ان کے غصب شدہ حقوق انھیں لوٹانے کا راستہ ہے، جسے ، نظام پر قابض اور عوام کے مالک بن کر ان پر تصرف کرنے کے عادی طبقات ،آسانی سے کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ لیکن ہم چونکہ یہ کام اللہ رب العالمین کا حکم بجا لانے کے لیے کر رہے ہیں، اس لیے اس راستے میں ہمیں اللہ کی تائید اور مدد بھی حاصل ہوگی، اور رسولِؐ اکرم کا اسوۂ حسنہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔  صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؓکی پُرمشقت زندگیاں ہمارے جذ بوں کو توانا کرنے کا ذریعہ ہیں۔ لہٰذا یہ مشکل کا م بھی ہمیں پوری تندہی ،ذوق و شوق ،اخلاص ومحبت اور صبر و استقامت سے انجام دینا ہوگا اگرچہ کیسی ہی مشکلات ہماری منزل کھوٹی کرنے کے لیے اس راہ میں حائل ہوں۔اس کے لیے ہمیں پہلے مرحلے میں عوام وخواص میں سے یکساں سوچ اور فکر رکھنے والے افراد کو اکٹھاکرنا ہے۔  پھر معاشرے کے زیادہ سے زیادہ خدا ترس ، دیانت دار اور باصلاحیت افراد کو ایک پلیٹ فارم پر  جمع کرکے انھیں ایک تنظیم میں پرو کر ایک منظم قوت میں ڈھالنا ہے تاکہ اس قوت کو کام میں لا کر    اس ظالمانہ نظام کو تبدیل کیا جا سکے۔اور اس نظام کی باگ ڈور ان ہاتھوں سے لے لی جائے جو برسوں سے اس ظالمانہ نظام کو مسلط رکھ کر عوام کا خون چوس رہے ہیں اور ان کی جگہ عوام دوست، انصاف پرور اور قانون کی حکمرانی کا نظام قائم کرنے والی قیادت کو لایا جائے۔

یہاں یہ بات واضح کر نا بھی ضروری ہے کہ ظالمانہ ،فاسقانہ اور انسانیت کش نظا م تبدیل کرکے ،محروم و مظلوم اور کمزور بنا کر رکھے گئے بے بس انسانوں کو آزادی دلانا ،انھیں ان کے حقوق لوٹانا ،ان کے لیے ترقی کی راہیں کھولنا ،انھیں آسانیاں فراہم کرنا اور ان کی عزت نفس بحال کرکے انھیں بندۂ رب کے منصب جلیل تک پہنچانا،اللہ کے پسندیدہ کاموں میں سے ہے ۔ یہ محض دنیاوی سرگرمی نہیں بلکہ عین دینی تقاضا ہے۔یہ صدقۂ جاریہ ہے۔ اس کام کے نتیجے میں پسے ہوئے عوام آسودہ اور اس کا ذریعہ بننے والے لوگ انعامات خداوندی سے نوازے جائیں گے۔لہٰذا اس کام کو دنیاوی فلاح یا خدمت انسانیت یا بگڑے ہوئے نظام کی اصلاح کا کام سمجھ کر ہی نہیں بلکہ اسے خالص دینی فریضہ سمجھ کرہی انجام دیا جانا چاہیے۔

قیادت کی اھمیت

انسانی زندگی میں قیادت کی اہمیت سے ہر باشعور شخص آگاہ وباخبر ہے ۔قوم کے قائد کی مثال در اصل گا ڑی کی ڈرائیو نگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص کے مانند ہوتی ہے ۔ جس طرح گاڑی ہمیشہ اسی سمت میں چلتی ہے جس سمت ڈرائیور اسے لے جانا چاہتا ہے اور گاڑی میں بیٹھنے والے لوگ اسی سمت میں جانے پر مجبور ہوتے ہیں جس طرف ڈرائیور گاڑی کو لے کر جاتا ہے۔ اسی طرح انسانی تمدن ،معاشرہ اور نظام کی گاڑی بھی اسی سمت سفر کر تی ہے جس سمت میں قیادت اسے لے کر جانا چاہتی ہے ۔کیونکہ زمین کے سارے وسائل ،اقتدار کی جملہ طاقت ،افکار و نظریات بنانے اور ڈھالنے کے تمام ذرائع ،افراد کی کردار سازی سے لے کر اجتماعی نظام کی تشکیل اور اخلاقی قدروں کے تعین تک کے سارے اختیارات قیادت پر فائز طبقے کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔چنانچہ قیادت پر فائز طبقے کی راہنمائی اور حکمرانی میں رہتے ہوے بحیثیت مجمو عی نظام اور معاشرہ اسی سمت چلے گا جس سمت میں قیادت اسے چلانا چاہے گی ۔معاشرے کی قیادت اگر خدا پرست اور انسان دوست لوگوں کے ہا تھ میں ہو گی تو وہ زندگی کے سارے نظام کو خدا پرستی اور انسان پروری کے اصولوں پر چلائے گی ۔ایسا نظام اپنے اندر کے بُرے لوگوں کو بھی اچھا بنا لیتا ہے۔ اس نظام میں اچھائیاں پروان چڑھتی ہیں اوربرائیا ں دب جاتی ہیں ۔لیکن اگر قیادت پر بدعنوان ،مفاد پرست اور نااہل لوگ قابض ہو جائیں تو وہ معاشرے کو ظلم ،نا انصافی اور حق تلفی کے عذاب سے دوچار کر دیتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں خیالات و نظریات ، علوم و آداب ،سیاست و معیشت ،تہذیب و معاشرت، اخلاق ومعاملات اور نظام قانون وانصاف، سب کے سب بگڑ جاتے ہیں ۔ایسی بد یانت قیادت کے تحت برائیاں پروان چڑھتی اور بھلائیوں کو سماج میں جگہ بنانے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ایسے نظام میں زمین ظلم و جبر اور بد امنی و فساد سے بھر جاتی ہے۔ وہاں برائیوں کو اپنانا آسان اورنیکیوں کو اپنانا اور پھیلانا تو دُور کی بات ہے ان پر قائم رہنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

اس صورت حال کی مثال عوام کے ہجوم کی حرکت سے دی جاسکتی ہے ۔جس طرح اگر ہجوم ایک سمت میں چل رہا ہو تو کسی بھی فرد کے لیے اس طرف چلنا آسان اور اس کی مخا لف سمت میں چلنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی نظام پر بد دیانت ،نا اہل اور مفاد پرست عناصرقابض ہو کر اسے ایسا انسان دشمن بنا دیتے ہیں کہ اس میں خیر،بھلائی ،انصا ف ،قانون اور حق کو اختیار کرنا مشکل اور خوشامد ،سفارش،رشوت،حق تلفی ،دھاندلی،بھتہ خوری اور بدمعاشی جیسی انسانیت کش خامیوں کو اختیار کرنا بڑا آسان ہوتا ہے ۔ وطن عزیز پاکستان کی موجودہ صورت حال اس مثال کی عملی تصویر ہے۔ وطن عزیز پر قابض اشرافیہ کے پیش نظر ملک کو مستحکم کرنے کے لیے قوم کے ہر ہر فرد کی نشوو نما کے بجاے اپنے طبقے کی نشوونما اور اس کے مفاد کا تحفظ ہے۔ اشرافیہ کے مفاد اور عوام کے مفاد میں تضاد ہے ۔ حکمران طبقے کی بلندی عوام کی پستی میں مضمر ہے اور عوام کی بلندی کے نتیجے میں حکمران اشرافیہ کو اپنی مراعات سے دستبردار ہو کر نیچے آنا پڑتا ہے ۔ اس ملک میں مراعات یافتہ طبقے نے  ملکی وسائل پر قبضہ کرکے اس کے حقیقی وارثوں، یعنی عام آدمی کو ان سے محروم کرکے اسے اپنی غلا می میں جکڑا ہوا ہے ۔وہ عوام سے اپنی خدمت لیتے، ان کے حقوق دباتے اور ان کی محنتوں کا استحصا ل کرتے ہیں۔

قیامِ پاکستان کے ابتدائی سالوں میں یہاں قانون کی حکمرانی کا بھرم قائم تھا اور حکمرانوں کی سطح پر معاشی بد عنوانی نہ ہونے کے برابر تھی ۔چنانچہ معاشی پسماندگی کے باوجود ملک میں امن و امان قائم تھا اور عوام کو بھی ذہنی آسودگی میسر تھی ۔مگر پھر حکمران طبقے نے ایسا اندھیر مچایا کہ عا م آدمی غلامی اور بد حالی کی زنجیروں میں جکڑتا چلا گیا اور طبقۂ خواص طاقت ور اور مضبوط ترہوتا رہا ۔اشرافیہ کے ہاتھوں قائم اس استحصالی نظام میں نوکریاں بکنے لگیں، تھانے نیلام ہونے لگے ،ملکی سودوں میں کمیشن اور کک بیکس کا دور دورہ ہو گیا۔دفتروں میں رشوت کا بازار گرم اور عوام کی تذلیل عام ہو گئی۔ ایک دور تھا کہ رشوت خور عوام کی نگاہوں سے چھپتا پھرتا تھا ،اب حکمرانوں کی بد عنوانیوں نے ایسی فضا بدلی کہ حرام ذرائع سے دولت جمع کرنے والے معز زین  میں شمار ہونے لگے ، اور رزق حلا ل پر اکتفا اور اصرار کرنے والوں کے لیے با عزت گزارا کر نا بھی مشکل بنا دیا گیا ۔اس طبقے نے اداروں کو کمزور کیا اور قانون کی حفاظت کرنے اور اسے بلاامتیازہر کمزور و طاقت ورپر نافذ کرنے والے اداروں کوقانون توڑنے اور کمزوروں کو دبا کر رکھنے کے کام پرلگا دیا۔

عوام دشمنی اور انسان کشی کا یہ گھناؤنا کام کسی بیرونی دشمن نے نہیں کیا بلکہ راہنمائی کے منصب پر فائز حکمرانی کے مزے لینے والے طبقۂ اشرافیہ نے ہر دور میں خیر خواہ کا رُوپ دھار کر، ہمدردی کا چغا پہن کر،ترقی کے خواب دکھا کراور میرٹ کے وعدے سجا کر یہ سیاہ کارنامہ انجام دیا۔حکمرانوں کی کرپشن اور بددیانتیوں اور قانون شکنیوں نے انصاف ،قانون ، میرٹ حقوق اور اخلاق کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لیا کہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز ہی مشکل ہو گئی ۔بد عنوانی کے ساتھ چلنا آسان اور اس کی مزاحمت مشکل ہوگئی۔یہ منظر بد عنوانی کے مرکز اور اس کے پھیلنے کے اسباب کو کھول کر رکھ دیتا ہے اور اس سے عربی کے اس مقو لے کے مفہوم کی بھی وضاحت ہو جاتی ہے کہ الناس علی دین ملوکھم ،یعنی عوام اپنے حکمرانوں کی بنائی ہوئی راہوں پر ہی چلتے ہیں۔  اس معاملے میں حتمی اور سچی بات حدیث میں بیان ہوئی ہے جس میں قوموں کے عروج و زوال کا ذمہ دار ان کے امرا اور علما کو قرار دیا گیا ہے، کیو نکہ قوموں کی قیادت انھی دو طبقات کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔طبقۂ امرا، یعنی سرمایہ دار، جاگیردار اور حکمران قوم کے مالی وسائل،مادی طاقت اور افرادی قوت پر تصرف رکھتے ہیں،جب کہ علما قوم کی ذہنی صلاحیتوں کی آبیاری کر تے اور اسے   ان راہوں پر چلاتے ہیں جن کو وہ  اپنے خیال میں ،اپنی قوم کے لیے صحیح سمجھتے ہیں۔

نظام عدل کا قیام 

دین اسلام کے دو حصے ہیں: ایک عقیدہ اور دوسرا عمل۔ عمل کے پھر دو حصے ہیں: ایک انفرادی عمل اور دوسرا اجتماعی عمل۔ عقیدہ جب انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اپنے قالب میں ڈھال دیتا ہے تو نظام بن جاتاہے ۔کسی بھی نظریے کی افادیت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ عمل کی شکل اختیار کرکے سامنے آتا ہے ۔اعلیٰ سے اعلیٰ نظریہ اگر عمل کے رُوپ میں نہیں ڈھلتا تو محض سنہری باتیں، پُرکشش وعظ ،دل نشیں ارشادات اور نورانی ملفوظات بن کر رہ جاتا ہے۔ کتابوں میں ایسی باتیں اقوالِ زریں کے طور پر درج ہوتی ہیں جن کو پڑھ کر لوگ دلی سکون اور ذہنی مسرت و شادمانی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اچھی باتیں اقوال زریں ہی رہتی ہیں جب تک وہ عملی شکل میں ڈھل کر زندگی کا حصہ اور معاشرے کے جز کی شکل اختیار نہ کر لیں۔

 دین اسلام محض نظریہ نہیں ہے کہ اعلیٰ اصولوں اور بہترین تصورات کے طور پر اس کے مختلف اجزا کے فضائل بیان کیے جاتے رہیں، بلکہ ایسی آفاقی تعلیمات پر مبنی دین ہے جو عملی شکل میں ڈھل کر ایک نظام بناتا ہے اور اس کی ساری خوبیاں اس نظام کے ذریعے ہی ظاہرہوتی ہیں۔ دورِملوکیت نے دین اسلام کے بارے میں یہ غلط فہمی پیدا کی اور دور غلامی نے اس کو پختہ کیا کہ اسلامی عقیدہ اختیار کرنے اور عبادات بجا لانے کے بعد اسلام کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام کی برکات ظاہر ہی نہیں ہو سکتیں جب تک سیاسی سطح پر انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے آزادی نہ ملے،جب تک معاشی میدان میں وسائل کا رخ عوام کی طرف نہ ہوجائے اور جب تک معاشرتی سطح پر تمام انسان حقوق، اختیارات اور مقام ومرتبے کے اعتبار سے ایک ہی جگہ پر کھڑے نظر نہ آئیں ۔گویاجب تک اسلامی تعلیمات کی کار فرمائی معاشرے کے تمام شعبوں میں نظر نہیں آتی، یا دوسرے لفظوں میں اسلامی نظام قائم نہیں ہوجاتا، تب تک اسلام کی برکات سے مسلمان بھی محروم رہیں گے اور دنیا بھی۔ دنیا اور مسلمانوں کی محرومی کا سبب کوئی اور نہیں مسلمانوں میں پایا جانے والا یہ غلط تصور ہے کہ عقیدے اور عبادات کی ادایگی کے بعد اسلام پرعمل کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں۔

اسلام نے نظم جماعت کو ضروری اور اطاعت امیر کو لازم ٹھیرایا، کس لیے؟ اس لیے کہ اجتماعی نظام اسلام کے مطابق قائم کیا جائے اور قائم رکھا جائے ۔اسلام میں کسی پر عقیدہ زبردستی مسلط کیا جاسکتا ہے اور نہ طاقت کے زور پر عبادات کی ادایگی کروائی جاسکتی ہے۔ اسلام میں جہاد کے فرض ہونے کی وجہ کیا ہے؟صرف یہ کہ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانا اور اپنی آزادی کی حفاظت کرنا ۔اگرملک میں کچھ لوگ طاقت،دولت یا اپنی ذہانت کے زور پر قیادت پر مسلط ہوجائیں اور اللہ کے حکم کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے، عوام کواپنا غلام بنا لیں۔ان کے حقوق غصب کر لیں، ان کے وسائل پر قابض ہوجائیں اور انھیں نچلے درجے کا شہری بنا کر ان کی توہین کے مرتکب ہوں، تو بندگان خدا اور مردان کار پراپنی اپنی استطا عت اور اپنے اپنے میدانِ کار میں اسلام کے گرائے گئے اس ستون کی حفاظت کے لیے میدان عمل میں آنا لازم ہو جاتا ہے کہ  وہ آگے آئیں اور اسلامی نظام کی حفاظت کے فریضے کی ادایگی کے ذریعے اسلام کا صحیح تعارف دنیا کے سامنے پیش کر کے اللہ کے ہاں سرخرو ٹھیریں۔

وطن عزیز میں جو نظام قائم ہے وہ ظلم کا نظام ہے، جب کہ اسلام سراسر عدل ہے۔ہر انسان پیدایشی طور پر آزاد پیدا ہوا ہے۔ اس کو کسی بھی قسم کی غلامی میں جکڑنا ظلم ہے ۔اس کو اپنی محنت کا پورا معاوضہ ملے، یہ عدل ہے۔ اس کا استحصال ہو، یہ ظلم ہے ۔معاشرے کے ہر فرد کو برابر کا  مقام اور مرتبہ حاصل ہو، یہ عدل ہے ۔معاشرے میں کوئی خان نواب اور وڈیرہ ہو اور کسی کو نچلی ذات کا تصور کیا جائے اور اس کی پہچان افراد و معاشرے کا مقام و مرتبہ متعین کرنے کا ذریعہ ہو، یہ ظلم ہے۔ افرادِمعاشرہ معاشی وسائل میں سے اپنی ضروریات کے مطابق حصہ پائیں، یہ عدل ہے۔ اگر ایک طبقہ وسائل پر قابض اور عوام دو وقت کی روٹی تک سے محروم ہوں، تو یہ ظلم ہے ۔ حق دار کو اس کا حق اس کی دہلیز پر ملے، یہ عدل ہے ۔ اگر حق پانے کے لیے نسلوں انتظار کرنا پڑے، یہ ظلم ہے۔ مجرم کو  بلاامتیازسزا ملے، یہ عدل ہے۔ اگر کمزور سزا پائے اور طاقت ور جرم کرے مگر معزز کہلائے اور    سزا پانے کے تصور ہی سے ماورا ٹھیرے، یہ ظلم ہے۔

ہمارے ملک میں یہ ظالمانہ نظام ملک کی قیادت پر قابض حکمران طبقے نے برسوں سے نافذ کیا ہوا ہے ۔اگرچہ یہ طبقہ با اختیار اور بڑا ہوشیار واقع ہوا ہے مگر اس نے ظلم کا نظام قائم رکھا ہے۔اس ظلم سے چھٹکارے اورنظام عدل کے قیام کے ذریعے آسودہ ،پرامن اور خوش حال معاشرے کا خواب نہ صرف محروم و مظلوم اور پست و پس ماندہ بناکر رکھے گئے عوام کے دل کی آواز ہونا چاہیے بلکہ اس کے قیام کے لیے انھیں میدان عمل میں آنا چاہیے۔مگر عوام میں اس قسم کی سرگرمی اور جوش و خروش نظر نہ آنے کا سبب دراصل اسی ظالم ،فاسق اور غاصب قیادت کا اختیار اور اس کی ہوشیاری ہے۔ وہ ایک طرف تو اپنی طاقت اور اختیار کے ذریعے عوام کو اپنے زیر تسلط رکھتے ہیں اور دوسری طرف اپنی ہوشیاری اور چالاکی کے ذریعے اپنے آپ کو عوام کا ہمدرد اور خیر خواہ بنا کر پیش کرتے اور انھیں ان کی حقیقی خیر خواہ قیادت کے بارے میں بدگمان اور مایوس رکھتے ہیں۔

اس پس منظر میں اسلام کا نظام عدل قائم کرنے والو ں کی ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے ۔ ایک طرف عوام میں ان کے ساتھ ہونے والے ظلم و ناانصافی اور حق تلفی کا شعور پیدا کرنا،اور ان کے اندرحقوق پانے کی امید اور مقام بلند کی آرزو پروان چڑھانا اور پستی اور محرومی کے خاتمے کا یقین پیدا کرنا ہوگا۔دوسری طرف مسلط کرپٹ قیادت کے کرتوت نما یا ں کرکے متبادل حقیقی اور خیر خواہ قیادت کو عوام کے سامنے پیش کرکے انھیں عملاً اس کی تائید کے لیے تیار کرنا کہ فی الواقع یہی قیادت اسلام کا نظام عدل نافذ کرنے کی اہل ہے۔ اسی قیادت کے زیر سایہ انھیں ان کے حقوق مل سکتے ہیں اور یہی قیادت وطن عزیز میں حقیقی اسلامی فلاحی ریاست قائم کرسکتی ہے ۔ اب یہ اسلام کے لیے کام کرنے والوں کا امتحان ہے کہ وہ کس کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں !

 

مضمون نگار، شعبۂ اسلامیات ، بہاء الدین زکریا یونی ورسٹی، ملتان سے وابستہ ہیں