۲۰۱۵ مارچ

فہرست مضامین

سیاست دانوں پر تنقید غیبت ہے؟

مولانا عبدالمالک | ۲۰۱۵ مارچ | رسائل و مسائل

سوال :  سیاسی لیڈروں کی پالیسی پر جب تنقید کی جاتی ہے تو ان کو بُرا بھلا بھی کہہ دیا جاتا ہے ۔کیا یہ تنقید غیبت شمار ہوتی ہے؟

جواب: سیاسی لیڈروں پر تنقید اسی حد تک رہنی چاہیے جس حد تک تنقید کی ضرورت ہے۔ ان کی بُرائیاں جو واقعی ہوں، ان سے عوام کو بچانے کے لیے، ان بُرائیوں کو پوری تفصیل سے بیان کرنا چاہیے اور کوشش کرنا چاہیے کہ ان بُرائیوں کو ایسے انداز سے بیان کیا جائے کہ عوام سمجھ جائیں اور ایسے لیڈروں کی پیروی اور ساتھ دینے سے اجتناب کریں۔ حقیقت کو واضح کردینا ضروری ہے تاکہ اتمامِ حجت ہوجائے، ورنہ جہاں ان کے لیڈر مجرم ہوں گے وہاں وہ بھی ان کے جرم میں شریک   شمار ہوں گے۔ دنیا میں اس قسم کے لیڈروں کے پیروکار قیامت میں پچھتائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کاش! دنیا میں ایک مرتبہ واپسی کا موقع ملے تاکہ ہم ان سے اعلانِ براء ت کرسکیں۔ (ملاحظہ ہو البقرہ ۲: ۱۶۶، احزاب ۳۳:۶۷-۶۸، الصّٰفات ۳۷:۲۲ - ۴۰)

مفکرِ اسلام مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ سورئہ حجرات، آیت ۱۲ کی تفسیر کے ذیل میں فرماتے ہیں:’’ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ان نظیروں سے استفادہ کرکے فقہا اور محدثین نے یہ قاعدہ اخذ کیا ہے کہ ’’غیبت صرف اس صورت میں جائز ہے، جب کہ ایک صحیح (یعنی شرعاً صحیح) غرض کے لیے اس کی ضرورت ہو اور وہ ضرورت اس کے بغیر پوری نہ ہوسکتی ہو‘‘۔ پھر اسی قاعدے پر     بنا رکھتے ہوئے علما نے غیبت کی حسب ذیل صورتیں جائز قرار دی ہیں:

۱- ظالم کے خلاف مظلوم کی شکایت ہراس شخص کے سامنے جس سے وہ یہ توقع رکھتا ہو کہ  وہ ظلم کورفع کرنے کے لیے کچھ کرسکتا ہے۔

۲- اصلاح کی نیت سے کسی شخص یا گروہ کی بُرائیوں کا ذکر ایسے لوگوں کے سامنے جن سے یہ اُمید ہو کہ وہ ان بُرائیوں کو دُور کرنے کے لیے کچھ کرسکیں گے۔

۳- استفتا کی غرض سے کسی مفتی کے سامنے صورتِ واقعہ بیان کرنا جس میں کسی شخص کے کسی غلط فعل کا ذکر آجائے۔

۴- لوگوں کو کسی شخص یا اشخاص کے شر سے خبردار کرنا تاکہ وہ اس کے نقصان سے بچ سکیں، مثلاً راویوں، گواہوں اور مصنفین کی کمزوریاں بیان کرنا بالاتفاق جائز ہی نہیں واجب ہے کیونکہ اس کے بغیر شریعت کو غلط روایتوں کی اشاعت سے، عدالتوں کو بے انصافی سے اور عوام یا طالبانِ علم کو گمراہیوں سے بچانا ممکن نہیں ہے، یا مثلاً کوئی شخص کسی سے شادی بیاہ کا رشتہ کرنا چاہتا ہو یا کسی کے پڑوس میں مکان لینا چاہتا ہو یا کسی سے شرکت کا معاملہ کرنا چاہتا ہو یا کسی کو اپنی امانت سونپنا چاہتا ہو اور آپ سے مشورہ لے تو آپ کے لیے واجب ہے کہ اس کا عیب و صواب اسے بتا دیں تاکہ نا واقفیت میں وہ دھوکا نہ کھا جائے۔

۵- ایسے لوگوں کے خلاف علی الاعلان آوازبلندکرنا اور اُن کی بُرائیوں پر تنقید کرنا جو  فسق و فجور پھیلا رہے ہوں، یا بدعات اور دیگر بُرائیوں کی اشاعت کر رہے ہوں، یا خلقِ خدا کو  بے دینی اور ظلم و جَور کے فتنوں میں مبتلا کررہے ہوں۔

۶- جو لوگ کسی بُرے لقب سے اس قدر مشہور ہوچکے ہوں کہ وہ اس لقب کے سوا کسی  اور لقب سے پہچانے نہ جاسکتے ہوں، ان کے وہ لقب استعمال کرنا بغرض تعریف نہ کہ بغرضِ تنقیص‘‘۔(تفہیم القرآن،ج ۵،ص ۹۲-۹۳)

اس تشریحی نوٹ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لادین لوگوں اور پارٹیوں کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ان کے نقائص کو واضح کرنا غیبت نہیں ہے۔ البتہ شریعت لادین لوگوں یا کسی بھی گروہ کے نقائص کو واضح کرنے اور ان پر تنقید کرنے کے لیے ایسی زبان استعمال کرنے کی تلقین کرتی ہے جو اخلاقی حدود کے اندر ہو، سب و شتم اور لعن طعن سے پاک ہو۔(مولانا عبدالمالک)


حقوق العباد کی تلافی

س :  حقوق العباد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حقوق اللہ تو خدا چاہے بخش دے لیکن حقوق العباد اگر ادا نہیں کیے گئے تو ان کو متعلقہ شخص ہی سے بخشوانا ہوگا ورنہ بخشے نہیں جائیں گے۔ میری نند میرے پاس رہتی تھی۔ اس کے انتقال کے بعد احساس ہوتا ہے کہ میں نے اس کی مطلوبہ خدمت نہ کی۔ کھانا کپڑے کا خیال رکھا لیکن اب مجھے لگتا ہے کمی رہی اور پشیمانی ہوتی ہے۔ اس کی بخشش اور درجات کی بلندی کی دعا بھی کرتی ہوں۔ تلافی کے لیے کیا کروں؟

ج: حقوق العباد کے بارے میں اصولی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں معاف نہیں کریں گے جب تک کہ حق دار خود معاف نہ کردے یا حق دار کو اس کا حق ادا نہ کردیا جائے۔ بے شک نند کی خدمت، جب کہ وہ خدمت کی محتاج ہو ،ہر اس قرابت دار پر ہے جو اس کی خدمت کرسکے۔ آپ نے اپنی حد تک جو خدمت کی ہے، کھانا اور لباس کی حد تک خیال رکھا ہے اور باقی حاجات میں حق ادا   نہ کرسکنے کا جو احساس ہے، وہ قابلِ قدر ہے۔ اس کی تلافی کی ایک صورت تو یہی ہے جو آپ کر رہی ہیں، یعنی مرحومہ کے لیے دعا۔ دوسری صورت یہ بھی ہے کہ آپ اس کی طرف سے کچھ مال صدقہ کریں۔ نند کے ایسے عزیز جو مدد کے محتاج ہوں ان کی مدد بھی اسی کی مدد شمار ہوگی۔ آپ ایسا کر کے اپنے دل کو مطمئن کرسکتی ہیں۔(مولانا عبدالمالک)


موبائل سے تصویر کی شرعی حیثیت

س :  تصویر کے متعلق وضاحت درکار ہے۔ یہ تو معلوم ہے کہ جہاں کتا اور شوقیہ تصویر رکھی ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔ آج کل موبائل فون سے تصویریں کھینچی جاتی ہیں۔ کمپیوٹر میں محفوظ کی جاتی ہیں۔ اس کی کوئی ضرورت تو نہیں ہوتی سواے یہ کہ انھیں دیکھ کر ان لمحات کو یاد کیا جاتا ہے۔ کیا یہ بھی تصویر کے زمرے میں آتا ہے؟   اس طرح ہم بے معنی کام کر کے رحمت کے فرشتوں کو بھگانے کے مرتکب ہورہے ہوں۔

ج: ’تصویر‘ موبائل اور کمپیوٹر میں اس وقت تک نظر نہیں آتی جب تک موبائل کو اس کے دیکھنے کے لیے آن نہ کیا جائے۔اسی طرح کمپیوٹر میں تصویر مستور ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں تصویر رحمت کے فرشتوں کے گھروں میں داخلے میں رکاوٹ نہیں ہے۔ البتہ موبائل اور کمپیوٹر سے کاغذ پر اُتار کر اسے گھروں کی زیب و زینت بنانا درست نہیں ہے۔کتا گھر کی چوکیداری، شکار اور کھیتوں اور مویشیوں کے لیے رکھنا جائز ہے۔ ان جائز صورتوں میں رحمت کے فرشتے گھر میں داخل ہوسکتے ہیں۔ شوقیہ اور بلاحاجت و ضرورت کتا رکھنا منع ہے اور ایسے کتے رحمت کے فرشتوں کے داخلے میں رکاوٹ ہیں۔(مولانا عبدالمالک)