مارچ ۲۰۱۸

فہرست مضامین

استعماری حکمت ِ عملی اور راہِ انقلاب

پروفیسر خورشید احمد | مارچ ۲۰۱۸ | مقالہ خصوصی

دِل توڑ گئی ان کا دوصدیوں کی غلامی

دارُو  کوئی سوچ اُن کی پریشاں نظری کا

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت!

دے اُن کو سبق خودشکنی ، خودنِگری کا

ظلم و استبداد اور تخریب و فساد کی داستان بڑی عبرت انگیز ہے۔ تاریکی کے علَم بردار ہمیشہ ’خیروصلاح‘اور’ہمدردی‘ کا لبادہ اُوڑھ کر آتے ہیں۔ ظلم اپنے کریہہ چہرے پر نیکی ہی کا پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ بدی نے نیکی کا پہلا استحصال اس دن کیا تھا، جب شیطان نے آدم ؑ و حواؑ کو خیرخواہی کے پردے میں گمراہ کیا اور ملکیت اور اَبدیت کے نام پر عدمِ اطاعت کے لیے اُکسایا۔ یہ نیکی اور حق کا اعتراف بھی تھا اور شیطنت و گمراہی کےطریقِ کار کا اظہار بھی۔

نیکی پر بدی کی اس دست درازی ہی کا نتیجہ دھوکا اور نفاق ہیں، جو آغازِ تاریخ سے     آج تک ظلم و گمراہی کے بہترین رفیق کار بھی رہے ہیں اور آزمائے ہوئے ہتھیار بھی۔ظلم و استبداد  انھی بیساکھیوں کے سہارے کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی ملک، کسی دور، کسی قوم اور کسی دائرۂ کار کو بھی لے لیجیے، شکلیں بدلی ہوئی ہوسکتی ہیں لیکن ظلم و باطل کے حربے ہمیشہ یہی رہے ہیں اور رہیں گے  ع   

شراب ایک ہے بدلے ہوئے ہیں پیمانے 

1

مغربی سامراج تجارتی سرگرمیوں کا بھیس بدل کر برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوا اور دوسو سال کی پیچ در پیچ ریشہ دوانیوں کے ذریعے پورے ملک پر قابض اور حکمران ہوگیا۔ استعمار نے یہ سارا کھکیڑ اس دعوے کے ساتھ کیا تھا کہ وہ یہاں کے باشندوں کو ’تہذیب کادرس دے‘۔اس مقصد کے لیے Civilising Mission اور White-Man's Burden جیسے پُرکشش نعرے وضع کیے گئے اور نصف دنیاکو اپنا محکوم بنا لیا گیا۔ بُرے کاموں کے لیے اچھے ناموں کا استعمال، مذموم مقاصد کے لیے حسِین اصطلاحات کی تراش خراش، ظلم و استبداد کے لیے لطیف سے لطیف وجۂ جواز، دوسروں کو غلام بناکر انھی کے مفاد کے تحفظ کا ڈھونگ رچانا، سامراجی اور استبدادی قوتوں کا شعار رہا ہے۔

آزادی کے نام پر دوسروں کو آزادی سے محروم کرنا، تہذیب و تمدن کے فروغ کے نام پر تہذیب کی تمام اَقدار کو پامال کرنا، تعلیم کے نام پر علم کی شمعیں گُل کرنا، ترقی کے نام پر سرمایۂ حیات کو لوٹ لینا، امن و آشتی کے نام پر قوموں اور ملکوں کو تاراج کرنا، جمہوریت کے فروغ کی خاطر جمہور کاخون چُوس لینا، مضبوط حکومت کی ضرورت کے نام پر انسانی حقوق کو روند ڈالنا___ یہ ہے سامراجی استبداد کی پوری تاریخ اور اس کے اندازِ کار کا خلاصہ۔ ہرملک میں مغربی سامراج نے یہی کیا، اور برعظیم پاک و ہند کی سرزمین بھی اسی ظلم و فساد، دھوکے اور بے رحمانہ نفاق کی آماج گاہ بنی اور ہر دیکھنے والی آنکھ نے دیکھا کہ:

یہ صحن و روش، یہ لالہ و گُل ، ہونے دو جو ویراں ہوتے ہیں

تعمیر جنوں کے پردے میں، تخریب کے ساماں ہوتے ہیں

استبدادی نفسیات

یہی وہ ذہن ہے جس کی عکاسی مشہور برطانوی ادیب جارج برنارڈشا [م: ۲نومبر ۱۹۵۰ء] نے اپنے مشہور ناول The Man of Destiny  (۱۸۹۶ء) میں ایک مقام پر اس طرح کی ہے:

ہر انگریز پیدایشی طور پر خزانۂ اَبد سے دُنیا کا حاکم اور آقا بننے کی معجزانہ قوت لے کر آتا ہے۔ جب وہ کسی چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو کبھی یہ نہیں کہتا کہ میں اس کو چاہتا ہوں، بلکہ وہ خاموشی سے صبر کرتا اور پورے اطمینان کے ساتھ انتظار کرتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کے دل میں یہ یقین کامل القا ہوتا ہے [یہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ نازل کہاں سے ہوتا ہے؟] کہ: ’یہ اس کی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری ہے، اِن لوگوں کو فتح کرے، جن کے پاس وہ شے ہے‘۔ یہ احساس شدید تر ہوتا ہے اور بالآخر ناقابلِ ضبط ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مفید مطلب اور اخلاقی رویے کے باب میں وہ کبھی کوتاہ دامن نہیں رہتا۔آزادی اور قومی حُریت کے علَم بردار ہونے کی حیثیت سے وہ آدھی دُنیا کو ہڑپ کر جاتا ہے اور اس کا نا م رکھتا ہے ’نئی آبادی‘۔ جب اسے اپنی مانچسٹر کی ملاوٹ زدہ مصنوعات کے لیے ایک نئی منڈی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اس سرزمین کے باسیوں کو صحیفۂ امن کے اسرارورُموز سکھانے کے لیے مشنریوں کو بھیج دیتا ہے۔وہاں کے باشندے مشنری کو قتل کردیتے ہیں۔ نتیجتاً مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے اور عیسائیت کی حفاظت و مدافعت کے لیے فوجیں دوڑ پڑتی ہیں، اُس کی خاطر جنگ ہوتی ہے اور ملک فتح کیا جاتا ہے۔ رہی تجارتی منڈی تو وہ تو عطیۂ خداوندی کی حیثیت سے آپ اس کی جھولی میں آپڑتی ہے۔

پھر مذکورہ بالا ’اعلیٰ مقاصد‘ ہی کے لیے اس تسلط کو برقرار، مستحکم اور مضبوط کیا جاتا ہے۔ ملک کے اصلی باشندوں کی خیرخواہی میں بیرونی راج کو طویل سے طویل تر کیا جاتا ہے۔ آزادی کی تحریکوں کو ’بغاوت‘ کا نام دے کر کچلا جاتا ہے۔ عوام کو سیاسی نابالغی کے نام پر بنیادی حقوق سے محروم کیا جاتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے نام پر ذہنی، فکری اور تمدنی غلامی کی زنجیروں کو مضبوط تر کیا جاتا ہے، اور اگر مجبور ہوکر کچھ مطالبات ماننے پڑتے ہیں تو اس ’مجبوری‘ کو انسانیت پرستی، حُریت پسندی، وسعت ِ قلبی اور بالغ نظری کے خوب صورت ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔کل کا انگریزی استعمار ہو یا فرانسیسی یا روسی اور اطالوی یا پھر آج کا امریکی استعمار___ سب کا کردار، مقاصد اور اندازِ کار ایک ہی جیسا ہے۔

استبداد کا دریا ہمیشہ اسی رُخ پر بہتا ہے!

ظلم اور اُس کے ہتھیار

انسان کی فطرت راستی اور نیکی پر قائم ہے۔ ایک ہی قانون ہے جو فرد کی پوری زندگی میں اور کائنات کے سارے نظام میں جاری و ساری ہے۔ ہر وہ راستہ جو اس فطرت کے مطابق ہے، خیروفلاح کا راستہ ہے۔ اسے اختیار کرنا آسان اور سہل ہے اور اس کے نتائج سب کے لیے نافع اور اطمینان بخش ہیں۔ ظلم، اس فطرت سے انحراف اور اس کے خلاف بغاوت کا نام ہے۔ چونکہ یہ انحراف دل و دماغ اور انسان کی فطری کیفیت اور طبیعت کے خلاف ہے، اس لیے اسے بروے کار لانے کے لیے وہ ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں جو فطرت کو مسخ کریں۔ بنیادی طور پر یہ ذرائع دو قسم کے ہیں: وہ جو دھوکے اور جھوٹ سے عبارت ہیں، اور دوسرے وہ جن کا سرچشمہ جبر اور تشدد ہیں۔

جھوٹ اور دھوکے کے ذرائع سے عقل و ذہن کو غلط راستے پر ڈالا جاتا ہے، قلب و روح کو مسخ کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو اختیار و ارادہ دیا ہے، اس کے ناروا ، غلط اور ناجائز استعمال کی راہ پیدا کی جاتی ہے۔ اگر جھوٹ اور دھوکے کے حربے کامیاب نہ ہوں تو پھر جبروتشدد کے ہتھیاروں سے فطرت کو انحراف پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ترغیب و ترہیب، غلط بیانی، جھوٹ، دھوکا، فریب، ظلم و زیادتی، جبروتشدد اور شقاوت و استبداد ہی وہ ہتھیار ہیں، جو اہلِ باطل نے ہمیشہ ، ہر دور میں، اور ہر مقام پر استعمال کیے ہیں۔ یہی کچھ ماضی میں کیا جاتا رہا، یہی حال میں کیا جارہا ہے، اور یہی مستقبل میں کیا جاتا رہے گا۔ انھی ہتھیاروں کو برطانوی سامراج اور اس کی تہذیبی اور سیاسی ذُریت نے حکومت اور اقتدار کے نشے میں اس برصغیر کے باشندوں کے خلاف استعمال کیا اور یہی ہتھیار آج کی استعماری قوتیں استعمال کر رہی ہیں، خصوصیت سے ’امریکا سب سے پہلے‘ اور ’دہشت گردی‘ کو نیست و نابود کرنے کے نام پر مغربی اقوام اور مسلح افواج کی خونیں کارگزاریاں۔

2

استعمار کے خطرناک کھیل کو سمجھنے کے لیے برطانیہ کی برصغیر پاک و ہند میں سامراجی حکمت عملی کو سمجھنا بہت ضروری اور چشم کشا ہے۔

برطانیہ کے اربابِ اختیار جس طریقے سے اس ملک پر غالب آئے، اس کی داستان بڑی شرم ناک ہے۔ انھیں اس ملک کے باشندوں نے دعوت نہ دی تھی،خود منتخب نہ کیا تھا، بلکہ پسند تک نہ کیا تھا۔ ہاں، البتہ ان سے جو عظیم گناہ سرزد ہوا ،وہ یہ تھا کہ سامراجیوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر چند بدیسیوں کو کچھ حقوق اور تحفظات دے دیے تھے ___ اور یہ حقوق اور تحفظات بھی بڑی حد تک تجارت اور تجارتی اثاثے کی حفاظت سے متعلق تھے، مگر وہ ایسا دروازہ بن گئے، جن سے استعماری قوتیں داخل ہوکر دو صدیوں کے لیے قابض حکمران بن گئیں، اور جس ذہنیت کو انھوں نے پروان چڑھایا وہ استعمار کے سیاسی غلبے کے ختم ہوجانے کے باوجود ذہنی اور تہذیبی غلامی کا سبب بنی ہوئی ہے۔ آج ’گلوبلائزیشن‘ (عالم گیریت) اور ’معاشی امداد‘ کے حسین ناموں سے یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔

عیارانہ چالوں سے آمد

بس یہی وہ چیز تھی، جس نے ہمارے دروازوں کو غیروں کے لیے کھول دیا۔ ان کی تجارتی کوٹھیوں [یعنی سامراجی تجارتی کمپنیوں]کا اثرونفوذ بڑھنا شروع ہوا، اور سیاسی چالوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اہلِ ملک کے ایک طبقے کو دوسرے کے خلاف صف آرا کیا جانے لگا۔ غداروں کو چھانٹ چھانٹ کر بلندمناصب پر بٹھایا گیا۔ مقامی افواج میں بغاوت اور بے وفائی کی سرنگیں لگائی گئیں۔ یہ کھیل تقریباً دو سو سال تک کھیلا گیا اور بالآخر لومڑی کی یہ عیّارانہ چالیں  شیر کو چاروں شانے چِت گرانے میں کامیاب ہوگئیں۔

ظلم اور تشدد

اربابِ ظلم کی ہمیشہ سے یہ روش رہی ہے کہ وہ فوج کے غلط استعمال اور بالواسطہ قسم کے ہتھکنڈوں کے استعمال سے اپنے اقتدار کا تخت بچھاتے ہیں۔ بہادر انسانوں کی طرح میدان میں مقابلہ کرنے کے بجاے محلاتی سازشوں کے ذریعے اپنا تسلط قائم کرتے ہیں۔

اقتدار پر متمکن ہوجانے کے بعد سامراجی حکمرانوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ اپنے اہم ترین مخالف کی کمر توڑنا تھا۔ ظاہر ہے یہ مخالف مسلمان تھا، جو اس ملک پر تقریباً آٹھ سو سال سے حکمران تھا اور جو غلامی کے ساتھ خود کو سازگار بنانے کے لیے کسی قیمت پر تیار نظر نہ آتا تھا۔    رہ رہ کربغاوت اور مہم جوئی کے ذریعے کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اس قسم کی تمام کوششوں کو جبروقوت اور چالاکی اور عیاری کے ذریعے کچلا گیا۔ سیّداحمد شہید[م: ۶مئی ۱۸۳۱ء] کی سربراہی میں ’تحریک ِ مجاہدین‘ ، حاجی شریعت اللہ [م: ۱۸۴۰ء] کی قیادت میں ’فرائضی تحریک‘، ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی، خیبرپختونخوا میں ۱۸۶۳ء میں امبیلا کی سرفروشانہ جنگیں،موپلوں کی بغاوت اور بے شمار مقامی نوعیت کی لہوگرمانے والی لڑائیاں اس جدوجہد کا عنوان ہیں۔ ان سب کو قوت و تشدد کے ساتھ کچل کر مسلمانوں کی کمر توڑ دی گئی۔ آزادی و حُریت کی شاہراہ پر گام زن لاکھوں جاںبازوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ ان کے پورے کے پورے خاندانوں کو تہِ تیغ کیا گیا۔ پورے ملک پر خوف اور دہشت کی ایک فضا قائم کرنے کے بعد، اس زخم خوردہ شیر کے دست و بازو بھی کاٹ دیے، تاکہ اسے مقابلے کے لائق ہی نہ چھوڑا جائے۔

یہ بھی اربابِ ظلم کا دائمی طریقہ ہے کہ وہ فتح و کامیابی اور استحکامِ اقتدار کے بعد شریف انسانوں اور جواں مردوں کی طرح مخالفین کے ساتھ عزت اور احسان کا رویّہ اختیار نہیں کرتے بلکہ اُن کے نام و نشان کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اور جہاں کہیں اختلاف کی بُو بھی سونگھ لیتے ہیں وہاں تشدد کی انتہا کر دیتے ہیں۔

پیٹ کی مار

سامراجی قوتیں صرف اسی پر رضامند نہ ہوئیں بلکہ اپنے اس اہم حریف کو اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں سے بے دخل کرنے اور اُس کی آنے والی نسلوں کو بے حیثیت اور غیرمؤثر کر دینے پر تُل گئیں۔ اُن تمام صنعتوں کو تباہ کیا گیا، جن کے ذریعے قوم کو معاشی استحکام حاصل تھا۔ ماہرین فن اور کاری گروں کے ہاتھ تک کاٹ دیے گئے۔ زرعی نظام کی قلب ِ ماہیت کی گئی اور اپنے اقتدار کو محفوظ کرنے کے لیے زمین داری کا دوامی [یعنی مستقل] نظام قائم کیا۔ اس طرح جاگیر داری نظام کو قائم کیا گیا،جو برطانوی راج کا ستون بن گیا۔

پھر مسلمانوں کو معاشی ، سیاسی، عدالتی، انتظامی، غرض زندگی کے ہرشعبے سے بےدخل کیا گیا۔ ان پر ملازمتوں کے دروازے بند کیے گئے۔ تجارت و صنعت کو تباہ کیا گیا، جو افراد پہلے سے اجتماعی زندگی میں ایک مقام رکھتے تھے، ان کو آہستہ آہستہ مٹا دیا گیا۔ مسلمانوں کے مقابلے میں غیرمسلم اقوام کو شہ دی گئی۔ آخرکار یہ حالت ہوگئی کہ ملک کی سرکاری مشینری میں مسلمانوں کا تناسب۵، ۶ فی صد سے بھی کم رہ گیااور وہاں بھی جو آسامیاں ان کے پاس تھیں، وہ اعلیٰ انتظامی عہدے نہیں تھے بلکہ وہ صرف کلرک، محرر، چپراسی اور خاکروب بن کر رہ گئے۔{ FR 649 }

گویا اس شکست کھائے ہوئے شیر کو صرف پنجرے میں بند ہی نہیں کیا، بلکہ اس کو پیٹ کی مار بھی دی گئی، تاکہ اس کے قویٰ دوبارہ مجتمع ہی نہ ہوسکیں۔ ظالم حکمرانوں کا یہ بھی طریقہ ہے کہ وہ سیاسی لڑائی کے لیے معاشی میدان میں بھی دندناتے ہوئے اُترتے ہیں اور اپنے مخالفین کے لیے  نہ صرف معاش کے دروازے بند کرتے ہیں بلکہ تجارت، صنعت، ملازمت، غرض ہرشعبے سے ان کو چُن چُن کر نکال باہر پھینکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دین سے محبت نکال دو

بات یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس ملک کے اصل مالکوں کے ذہن سے آزادی اور خودمختاری کے احساس ہی کو مٹانے کے لیے تعلیم وتربیت اور پروپیگنڈے اور نشرواشاعت کا ایک ہمہ گیر پروگرام اختیار کیا گیا۔ جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ فرد جو غلامی کو قبول نہیں کر رہا ہے، اسے زیر کرنے کے لیے اس کے ذہن کو غلام بنا لیا جائے، جو اُس کے جسم پر حکمرانی کرتا ہے۔ اس طرح نئی نسلوں کے فکرونظر کو بدل دیا جائے، تاکہ ’باغیوں‘ کی اولاد کو ’غلامی کے اسرار‘ سکھائے جاسکیں اور اُس سرچشمے کو گدلا کر دیا جائے، جس سے زندگی اور غیرت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے تعلیم کے نظام کو بدلا گیا اور اس نئے ’تیزاب‘ میں مسلمان کی ’خودی‘ کو ڈال کر ایسا ملائم بنادیا گیا کہ اسے جدھر چاہیں موڑ لیں۔ یہ تھی وہ تدبیر جس سے ’سونے کا ہمالہ‘ مٹی کا ایک ڈھیر بن گیا۔ اقبال نے اس چال کو ان الفاظ میں فاش کیا ہے:

تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

ہوجائے ملائم تو جدھر چاہے ، اسے پھیر

تاثیر میں اِکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب

سونے کا ہمالہ ہو تو مٹّی کا ہے اک ڈھیر

پھر معاشرت، سماجی طور طریقے، تمدنی ادارے، غرض پوری ثقافت کو بدلنے کی کوشش کی گئی اور دینی برتری،تمدنی روایات اور عسکری روح کی جگہ آدابِ غلامی میں طاق کرنے کی کوشش کی گئی کہ:

محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی

موسیقی و صُورت گری و علمِ نباتات

اصول پرستی کی جگہ موقع پرستی اور عسکریت کی جگہ بزدلی اور ’آرٹ پرستی‘ پیدا کی گئی۔ خارہ شگافی کی جگہ ’فنِ شیشہ گری‘ سکھایا گیا اور پروپیگنڈے اور نشرواشاعت کے سارے دروازے اس مقصد کے لیے استعمال کیے گئے کہ:

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا

رُوحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

غرض غلامی کی نفسیات کو اس کی رگ و پے میں سرایت کر دینے کی ہرممکن کوشش کی گئی:

بہتر ہے کہ شیروں کو سِکھا دیں رمِ آہُو

باقی نہ رہے شیر کی شیری کا فسانہ

کرتے ہیں غلاموں کو غلامی پہ رضامند

تاویلِ مسائل کو بناتے ہیں بہانہ

یعنی یہ شیر، شیر ہی نہ رہے بلکہ اس میں بکری کا ذہن پیدا ہوجائے اور یہ اُسی کی طرح ممیانے لگے۔ ظالم حکمرانوں کی یہ بھی روش ہے کہ وہ اپنے اقتدار کو اپنے خیال میں مستقل اور   دائمی کرنے کے لیے قوم کے ’نفسیاتی قتل‘ کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں سے بہادری، شجاعت، اصول پرستی، عزت نفس، خودداری، حق پسندی، جفاکشی اور جذبۂ جہاد کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے غلط تعلیم اور اخلاق باختہ ثقافت کے ذریعے لذت پرستی، مفاد پرستی، بزدلی اور خوشامد کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ امراض پوری قوم کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں اور سیرت کی وہ بنیادیں ہی ختم ہوجاتی ہیں، جن سے قوم میں وہ افراد پیداہوسکیں جو بلند کردار، وفاشعار، اصولوں کے پرستار اور  حق کے فداکار ہوں اور جو ان کے ظالمانہ اقتدارکے لیے خطرہ ثابت ہوسکیں۔

من پسند تاویلیں

پھر چوں کہ سامراجی حکمران یہ بات اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ مسلمانوں کی قوت کا اصل سرچشمہ ان کا دین اور اس دین سے والہانہ وابستگی ہے، اس لیے ایک طرف ان کو اس سرچشمے سے کاٹنے کی کوشش کی ، تو دوسری طرف یہ انتظام کیا کہ جس سے ایسے لوگ اُبھریں، جو قرآن و سنت کی تعلیمات کو مدافعت پسندوں (Apologists) کی معذرت خواہانہ تاویلات کے پھندے میں جکڑنے کی کوششیں کریں۔ تیسری جانب اسلام کے احکامات کو متجدّدین (Revisionists) کے ہاتھوں مسخ کرکے حکمرانوں کے لیے مفیدمطلب بنادیں، جہاد کو منسوخ بتائیں اور سود کے جواز کا فتویٰ دیں۔ ناچ رنگ، مصوری اور مجسمہ سازی کی گنجایش پیدا کریں اور سب سے بڑھ کر اُمت کی بنیادوں ہی کو منہدم کرڈالیں۔ یہی نہیں بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر ایک ’جعلی نبوت‘ کا بُت تراشیں___ اور جو اس مذہبی ’جعل سازی‘ کی مخالفت کرے اسے تنگ نظر، دقیانوس، مذہبی جنونی اور کٹھ مُلّا قرار دے کر نکّو بنا دیں۔

اس طرح ’دینِ شیری‘ محض ایک ’فلسفۂ روباہی‘ بن کر فرعونی قوت کا مرید ہوجائے:

دینِ شیری میں غلاموں کے امام اور شیوخ

دیکھتے ہیں فقط اک فلسفۂ رُوباہی

ہو اگر قُوّتِ فرعون کی درپردہ مُرید

قوم کے حق میں ہے لعنت وہ کلیم اللّٰہی

اہلِ ظلم کا یہ بھی ایک مخصوص حربہ ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفاد کی خاطر محکوم قوم کے دین تک کو بچوں کا کھیل بنا دیتے ہیں اور سرکاری خزانے اور اثرو رسوخ کو استعمال کرکے احکامِ دین کو مسخ کراتے ہیں، من مانی تاویلات کراتے ہیں، اور اہلِ مذہب میں سے مفاد پرستوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ وہ ان کے ہرغلط اقدام کے لیے دین کی ’سند‘ گھڑ کر پیش کریں۔

موقع پرستوں کی قیادت

ملک کی قیادت میں انتشارپیدا کرنے اور میدان کو اپنے لیے ہموار کرنے کے لیے برطانوی سامراج نے ایک طرف قوم کے جوہرِ قابل کو چُن چُن کر قتل کیا، جلاوطن کیا، یا جیلوں میں ڈال دیا۔ دوسری طرف اہلِ وطن ہی میں سے اُن عناصر کو، جو ذاتی مفاد کی خاطر سب کچھ، حتیٰ کہ اصولِ دین اور قوم کا مفاد تک قربان کرنے کو تیار ہوتے گئے، چھانٹ چھانٹ کر اُوپر لاناشروع کیا۔ زمین داروں اور جاگیرداروں کی کھیپ تیار کی گئی۔ خان بہادروں اور خاں صاحبوں کی ایک فوجِ ظفر موج میدان میں اُتاری گئی۔ وہ جنھوں نے اپنا ’سر‘ برطانوی سامراج کے ہاتھوں فروخت کردیا تھا، ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ مناصب پر لایا گیا، تاکہ اصول کے لیے جان کی بازی لگادینے والوں کی جگہ ملک کی قیادت ایسے بے ضمیر موقع پرستوں کے ہاتھوں میں آجائے:

ترے بلند مناصب کی خیر ہو، یاربّ!

کہ ان کے واسطے تُو نے کیا خودی کو ہلاک

شریکِ حُکم غلاموں کو کر نہیں سکتے

خریدتے ہیں فقط اُن کا جوہر اِدراک!

نااہل موقع پرستوں کو قیادت کے مناصب پر فائز کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ  اپنے گرد خوشامدیوں کا ایک لشکر جمع کرلیتے ہیں۔ وہ گاڑی جو صلاحیت اور تدبیرسے نہیں چلائی جاتی اسے خوشامدی اور حاشیہ نشین کھینچ کھینچ کر آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح قوم کا مزاج بگاڑ کی انتہائی پستیوں کو چھونے لگتا ہے:

کر تُو بھی حکومت کے وزیروں کی خوشامد

دستور نیا ، اور نئے دَور کا آغاز

معلوم نہیں ہے یہ خوشامد کہ حقیقت

کہہ دے کوئی اُلّو کو اگر ’رات کا شہباز!‘

اور یہ سب کچھ اس لیے کہ شیر کی ہر خوبو کو ختم کر کے اُسے لومڑی کے دربار کا دربان بنا دیا جائے۔ یہ بھی ظالم حکمرانوں کی فطرت ہے کہ وہ جوہرِخالص کو تو نشانۂ ستم بناتے ہیں اور مفاد پرستوں اور خوشامدیوں کو اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں۔ انھیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے آلۂ کار بناتے ہیں اور یہ زرپرست و زردار ہر بُرے سے بُرے مقصد کے لیے بھی آلۂ کار بننے میںفخر ہی محسوس کرتے ہیں۔

3

برطانوی سامراج نے اپنے اقتدار کو برصغیر میں قائم کرنے اور مستحکم کرنے کے لیے یہ طریقِ کار اختیار کیا۔ جھوٹ اوردھوکا، ترغیب اور پروپیگنڈے کا ہرحربہ استعمال کیا گیا۔ جب اور جہاں یہ ہتھیار غیرمؤثر ثابت ہوئے، وہاں جبر و تشدد اوراستبداد کے تمام ہتھکنڈے بے دریغ استعمال کیے گئے۔ عیاری اور ظلم کے باوجود جب آزادی اور حقوق کی تحریک نے قوت پکڑی اور وہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے لگی، تو برصغیر کی سیاسی تاریخ کے ابواب، سامراج کی تلوار اور اہلِ وطن کے خون سے لکھے گئے۔

انتظامیہ کے غیرمحدود اختیارات

انگریز سامراج نے سول انتظامیہ کو غیرمعمولی اختیارات سے مسلح کیا اور اس سلسلے میں متعدد قوانین بغاوت (Sedition Laws) منظور کیے، جن کی وجہ سے جلسے اور جلوس ممنوع کیے گئے۔ تقریر و تحریر پر نئی نئی پابندیاں لگائی گئیں، انتظامیہ اور پولیس کو یہ اختیارات دیے گئے کہ وہ شبہے کی بنا پر گرفتاریاں کرسکتے ہیں۔ مجسٹریٹوں کو بغیر مقدمہ چلائے اور بغیر صفائی کا موقع دیے، املاک ضبط کرنے کے اختیارات تفویض کر دیے گئے، اور جب اس پر بھی دل خوش نہ ہوا تو ۱۹۰۸ء کا ’کرمنل ا مینڈمنٹ ایکٹ‘ لایا گیا، جس کے ذریعے جس تنظیم کو چاہیں غیرقانونی قرار دیں اور جب تک چاہیں پابند رکھیں۔ جس شخص کو چاہیں، غیرقانونی سرگرمیوں کے عنوان سے گرفتار کرلیں۔  جن املاک کو چاہیں، حکومت کے قبضے میں لے لیں۔ نیز دفعہ ۱۲۴-الف کا اضافہ کیا گیا جس کی رُو سے عملاًحکومت پر ہر تنقید ’بغاوت‘ (sedition)کے معنی میں داخل کر دی گئی۔

اخبارات کی زباں بند

بہ جبر اخبارات کی زباں بندی اور ان پر دہشت کی فضا مسلط کرنے کے لیے فوج داری قانون کے تحت بیوروکریسی، پولیس اور مجسٹریٹوں کو اخبارات کو بند کرنے ، اخبار نویسوں کو گرفتار کرنے، سیکورٹی طلب کرنے اور املاک ضبط کرنے کے اختیارات دیے گئے۔ جو کسر رہ گئی وہ ۸جون کو Newspaper (Incitement to offences) Act 1908 کے نفاذ نے پوری کر دی۔ جس کی رُو سے مجسٹریٹوں کو مقدمے کی سماعت سے قبل ہی پریس ضبط کرنے کا حق دیا گیا اور جس کے تحت ۱۴سال اور ۲۰سال تک کی قید رکھی گئی۔ پھر فروری ۱۹۱۹ء میں ’رولٹ ایکٹ‘پاس کیا گیا، جس نے صحافت کو اُلٹی چھری سے ذبح کر دیا اورجس کے خلاف بے مثال ملک گیر احتجاج ہوا۔

ان قوانین کو استعمال کر کے ہزاروں افراد پر مقدمے چلائے گئے اور بلاشبہہ لاکھوں افراد کو جیلوں میں ٹھونسا گیا۔ ایک ایک شہر کی جیلوں میں تین تین اور چار چار ہزار آدمی بند کیے گئے۔ گرفتاریاں اس پیمانے پر ہوئیں کہ جیل کی عمارتیں ناکافی ثابت ہوئیں اورخیمے لگا کر اور فوجی کیمپ قائم کر کے آزادی کے سپاہیوں کو محبوس کیا گیا۔

قتل کے کیا کیا سامان؟

اخبارات کو بند کرنے اور ان سے ضمانتیں طلب کرنے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اور بلاشبہہ سامراج نے آخری ۵۰برسوں میں سیکڑوں اخبارات اور رسائل کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا۔ اندازہ اس بات سے کیجیے کہ:

  • صرف ایک سال میں، یعنی ۱۹۳۴ء میں، صرف ایک صوبہ، یعنی بنگال میں دو ہزار ایک سو نظربند (detenus) تھے۔ یعنی وہ جو مقدمہ چلائے بغیر جیل کے باڑے میں بند کردیے گئے تھے۔ جن پر بغاوت اور قانون شکنی (بسلسلہ سول نافرمانی) وغیرہ کے مقدمات چلے تھے، وہ الگ رہے۔ تشدد اور عدم رواداری کی انتہا یہ ہے کہ رابندر ناتھ ٹیگور [۱۸۶۱ء-۱۹۴۱ء] جیسے شخص کو، ایک غیرسیاسی مضمون پر وارننگ دی گئی اور جس رسالے نے اُن کا وہ مضمون شائع کیا تھا، اُس کے خلاف فوج داری بنیاد پر کارروائی کی گئی۔
  • صرف پانچ سال، یعنی ۱۹۳۰ء سے ۱۹۳۵ء تک صرف مرکزی حکومت نے ۵۱۴ اخبارات (رسائل وغیرہ کو چھوڑیئے) سے ضمانتیں طلب کیں، ۳۴۸ کی اشاعت بند ہوئی اور  بطور زرِ ضمانت کے ۲لاکھ ۵۲ ہزار۸سو ۵۲ روپے حکومت نے وصول کیے۔
  • ’کرمنل امینڈمنٹ ایکٹ‘ کا بڑے پیمانے پر استعمال ہوا اور صرف ۱۹۳۲ء میں کئی سو تنظیموں کو اس کے تحت غیرقانونی قرار دیا گیا۔ کانگریس کے ساتھ جن اداروں کو خلافِ قانون قرار دیا گیا اُن کی فہرست کئی صفحات پر پھیلی ہوئی تھی اور ان کی تعداد کئی سو سے تجاوز تھی۔{ FR 847 }

یہ صرف چند برسوں کی داستان ہے۔ اسی پر پورے دورِ استبداد کا اندازہ کرلیجیے:

قیاس کن ز گلستان من بہار مرا

آرڈی ننس کا راج

قانون ساز اداروں میں سامراجی حکمرانوں کو قابلِ اعتماد اکثریت حاصل تھی اور اپنے  من مانے قوانین بلادقّت منظور کراسکتے تھے، لیکن اس کے باوجود پورے ملک پر آرڈی ننسوں کا راج تھا۔ زندگی کے ہر شعبے کو آرڈی ننسوں کے ذریعے جکڑ دیاگیا تھا اور اسمبلیوں کی حیثیت محض ربڑ کی مہر کی ہوگئی تھی۔ سر سیمویل ہور سیکرٹری آف اسٹیٹ براے ہند نے برطانوی پارلیمنٹ میں  کہا کہ: ’’میں اعتراف کرتا ہوں کہ جو آرڈی ننس ہم نے نافذ کیے ہیں، وہ نہایت سخت اور انتہا درجے کے جابرانہ ہیں۔ یہ آرڈی ننس اہلِ ہند کی زندگی کے تقریباً ہرپہلو پر حاوی ہیں‘‘۔

چودھری خلیق الزماں آرڈی ننسوں کے اس حربے کے بارے میں رقم طراز ہیں کہ: ’’گاندھی جی [۱۸۶۹ء-۱۹۴۸ء] کی گرفتاری کے بعد وائسراے نے ایک آرڈی ننس نکال کر، کانگریس کے تمام دفتروں کو ناجائز قرار دے دیا اور انھیں بند کرا دیا۔ سول نافرمانی کرنے والوں کو اب صرف جیل کی سزا ہی نہیں دی جاتی تھی، بلکہ ان کی جایداد بھی ضبط کرلی جاتی… وائسراے کا یہ نیا نسخہ بہت کڑوا تھا‘‘۔

خون کی ہولی

بے رحم ظالموں نے اس ملک میں کیا کچھ کیا، اس کا اندازہ اُن سیکڑوں واقعات سے ہوسکتا ہے، جن میں انسانوں کے خون سے بے رحمی کے ساتھ ہولی کھیلی گئی۔ ایسے ہی واقعات میں سے ایک جلیانوالہ باغ کا واقعہ [۱۳؍اپریل ۱۹۱۹ء]ہے۔

فروری ۱۹۱۹ء میں منظور شدہ ’رولٹ ایکٹ‘ ۱۸مارچ کو نافذکر دیا گیا۔ جس پر ملک بھر میں احتجاج شروع ہوگیا۔ تحریک ِ خلافت اور ستیہ گرہ کی تحریک، دونوں کا اثر پورے ملک میں اپنے شباب پر تھا۔ اُسی دور کے اُبھرتے ہوئے مسلمان لیڈر ڈاکٹر سیف الدین کچلو [۱۵جنوری ۱۸۸۸ء- ۹؍اکتوبر ۱۹۶۳ء] نے امرتسر میں جلسے کا اعلان کیا، لیکن انھیں جلسے کے منعقد ہونے سے پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا۔ احتجاجی جلوس نکلا تو پولیس نے دخل اندازی کرکے بات پتھرائو، لاٹھی چارج  اور گولیوں تک پہنچا دی۔ اہلِ ہند تو خدا جانے کتنے رزقِ خاک بن گئے اور جوابی طور پر پانچ انگریز بھی اس میں کام آئے۔

پھر کیا تھا، شہر کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا اور فوج کرنل ڈائرکی قیادت میں نہتے شہریوں کے خلاف صف آرا ہوگئی۔ جلیانوالہ باغ میں احتجاجی جلسہ ہورہا تھا۔ باغ چاروں طرف سے بند تھا، صرف ایک دروازہ کھلا تھا اور اس سے کرنل ڈائر رائفلوں سے مسلح سپاہیوں کے ساتھ دندناتا ہوا داخل ہوا۔ وارننگ کے نتائج واثرات کا بھی انتظار نہ کیا اور اندھادھند فائرنگ شروع کر دی گئی۔ اُس کے اپنے اعتراف کے مطابق ۱۶۹۹ گولیاں چلائی گئیں اور فائرنگ اس وقت بند کی گئی جب اسلحہ ختم ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ۴۰۰ لاشیں تڑپنے لگیں اور ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ شاید کرنل ڈائر کی ایک بھی گولی خالی نہ گئی۔

بات جلسے تک نہ رہی، پورے شہر کو ظلم و استبداد اور وحشت و درندگی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ لوگوں کا گھروں سے نکلنا دوبھر ہوگیا۔ ایک پوری بارات کو جس میں دولہا بھی شامل تھا، بلاوجہ پکڑ کر کوڑوں سے پٹوا ڈالا گیا۔ ریل گاڑی میں ہندستانی باشندوں کے سفر کی ممانعت کر دی گئی۔ عورتوں کی کھلے منہ بے حُرمتی کی گئی۔ امرتسر میں ایک گلی مقرر کی گئی، جس میں سے ہر شخص کو پیٹ کے بل رینگتے ہوئے گزرنا پڑتا تھا۔جس شخص کو جو گورا نظر آئے، لازم کیا گیا کہ اس کو سلام کرے، ورنہ کوڑے مارے جائیں گے۔ فوج کی طرف سے جو اشتہار لگائے گئے اُن کی حفاظت انھی اہلِ خانہ کے سپرد کی گئی، جن کے گھر کی چہاردیواری پر انھیں آویزاں کیا گیا تھا۔ اشتہار پھٹنے کی صورت میں اہلِ خانہ کے لیے سزا مقرر کی گئی۔ سر فضل حسین [۱۸۷۷ء-۱۹۳۶ء]، خلیفہ شجاع الدین [۱۸۸۷ء-۱۹۵۵ء] اور پیر تاج الدین [۱۸۷۸ء-۱۹۵۴ء] جیسے معززین کے مکانوں پر بھی اس قسم کے اشتہار چسپاں کیے جاتے تھے اور انھیں تمام دن مکان سے باہر کھڑے رہنے کی ذلّت برداشت کرنا پڑتی تھی۔

اس سب پر مستزاد، فوجی عدالتیں تھیں، جنھوں نے پلک جھپکتے ہی۲۹۸ مقدمات کا فیصلہ سنادیا۔ ۵۱ کو سزاے موت، ۴۶ کوعمرقید، دو کو ۱۰سال کی قید، ۶۹ کو سات سال کی، ۱۰ کو پانچ سال کی قیدبامشقت اور ۱۳۰ کو تین برس سزا دی گئی۔ پھر ’عدالت‘ کا جو ڈھونگ رچایا گیا،اس میں یہ جدت بھی کی گئی کہ ملزموں کو وکیل کے ذریعے اپنے دفاع کا حق نہ تھا۔

جباروں کی یہ فطرت رہی ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے بھی انصاف کے دروازے بند کیا کرتے ہیں۔ انصاف سے ان کی ازلی دشمنی ہوتی ہے! اور یہ بھی ایک دل خراش حقیقت ہے کہ بقول چودھری خلیق الزماں، جلیانوالہ باغ، امرتسر پر حملہ آور جنرل ڈائر کی یہ ’فوج‘ ۵۰؍ انگریز سپاہیوں اور ۱۰۰ ہندستانی جوانوں پر مشتمل تھی۔

ظالم ظلم کے لیے بھی مظلوموں ہی کے اپنوں میں سے کچھ کو استعمال کرتے ہیں اور ان کو ایسی ذلّت آمیز مدد کرنے والے مل ہی جاتے ہیں۔ اہلِ ہند کے خون سے یہ ہولی صرف امرتسر میں نہیں، پورے ملک میں کھیلی گئی۔ ہم نے صرف ایک واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔ ورنہ یہی خونیں کہانی، مسجد شہید گنج، مسجد کانپور، قصہ خوانی بازار، موپلوں کی پوری پوری بستیوں اور بیسیوں جگہ دُہرائی گئی۔

ظالمانہ اقتدار کی ’برکتیں‘

پنجاب میں اس خونیں ڈرامے کے علاوہ جو مظالم ہو رہے تھے، ان کے بارے میں  نیشنل کانگریس کی ایک کمیٹی نے مفصل رپورٹ تیار کی تھی، جس کا ایک اقتباس یہاں دیاجاتا ہے:

اوڈوائر { FR 760 } نے قانون تحفظ ہند سے ناجائزفائدہ اُٹھا کر حددرجہ معمولی اور پیش پا افتادہ عُذر تراش کرکے سیکڑوں آدمیوں کو جیل میں بند کر دیا۔ اُردو اخبارات کا گلا گھونٹ دینے میں کوئی کسر باقی نہ رہی اور بیرونِ پنجاب چھپنے والے قومی اخبارات کی پنجاب میں آمد روک دی گئی۔ حد یہ ہے کہ اُردو کے وہ اخبار جو چھپنے سے پہلے حکومت کے ہاتھوں باقاعدہ سنسر کیے جاتے تھے، اُن کی اشاعت بھی بند کردی گئی۔ اب پنجاب میں نہ تقریر کی آزادی باقی تھی اور نہ تحریر کی آزادی کا وجود تھا۔ اس قسم کا سکوتِ مرگ طاری کرکے اور اس طرح لوگوں کے قلم اور زبان پر پہرے بٹھا دینے کے بعد اوڈوائر نے گویا یہ سمجھ لیا تھا کہ پنجاب کے باشندے اس کے زیرسایہ بالکل مطمئن اور خوش حال زندگی بسر کر رہے ہیں۔{ FR 854 }

یہ تھا وہ سلوک جو اس ملک کے باشندوں کے ساتھ سامراجی حکمران کر رہے تھے۔ ظلم کا  یہ خونیں ڈراما پورے ملک میں کھیلا جارہا تھا۔ غم کسی ایک غنچے کا نہیں، رونا پورے گلستان کا تھا۔   ظلم و استبداد کی آکاس بیل پورے چمنِ ہند پر چھا گئی تھی اور اہلِ نظر خون کے آنسو رو رہے تھے۔

4

ظلم و استبداد کی یہ خوں چکاں داستان بڑی دل خراش بھی ہے اور نہایت عبرت انگیزبھی۔ لیکن اس کا ایک پہلو اتنا شرم ناک ہے کہ شیطان بھی اس پر عش عش کر اُٹھا ہوگا۔ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں کہ استبداد اور ظلم تاویلات کے ریشمی لبادے اُوڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ظالم ہمیشہ لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں :جو کچھ ہم کر رہے ہیں، وہ عوام ہی کے فائدے اور بھلائی کی خاطر کر رہے ہیں۔ جو طریقِ حکمرانی انھوں نے اختیار کیا ہے وہ ملک کے حالات اور لوگوں کے مزاج کے بالکل مطابق ہے۔ صرف انھی کا بنایا ہوا نظام حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور جو کوئی ان کے ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے یا ان کے طریقے سے اختلاف کرتا ہے، وہ شرپسند، فسادی، ملک دشمن اور سولی چڑھا دینے کے لائق ہے۔ آزادیوں پر پابندی  بے حد ضروری ہے۔ جمہوریت کے لیے فضا سازگار نہیں ہے، حقوق کی بحث محض مفاد پرستوں کی اُٹھائی ہوئی ہے۔ انتخابات اور عوام کے حق راے دہی کے مطالبے محض سیاسی ڈھکوسلے ہیں۔ نمایندہ اداروں میں عوام کے منتخب اور معتمدعلیہ لوگوں کو لیے جانے کے مطالبے محض خودغرضی پر مبنی ہیں اور سیاسی انتشار پیدا کرنے کے لیے ہیں اور ان سب باتوں کا مقصد حکومت کے وقار اور  حقِ حکمرانی کو مجروح کرنا ہے۔ اصل مسئلہ نہ آزادی سے متعلق ہے اور نہ حقوق، نمایندگی، انتخابات یا جمہوریت سے کچھ تعلق رکھتا ہے۔ اصل ضرورت تو بس مضبوط حکومت اور معاشی ترقی اور خوش حالی کی ہے، اور ساری سیاسی فتنہ انگیزی صرف اس لیے ہے کہ توجہ ان اصل اُمور سے ہٹ کر آزادی اور سیاسی حقوق جیسے لایعنی نعروں پہ لگ جائے اور انتشار رُونما ہو!

ظالم اپنے ظلم کے لیے ایسی ہی تاویلیں تراشتے ہیں، جن کی بنیاد پر ان کا اقتدار استبداد پر قائم ہو۔ اپنی ہر زیادتی کے لیے وہ ایسے ہی جوازپیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہرذلیل سے ذلیل حرکت کو خوش نما بنا کر پیش کرنے ہی کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کی نیتوں پر بے دریغ حملے کرتے ہیں اور آزادی، جمہوریت اور عوامی اصلاح کی ہر تحریک کی مخالفت کرتے ہیں، اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، اس کا راستہ روکتے ہیں، اسے نقصان دہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نظامِ ظلم ہی میں عوام کے لیے ’خیروفلاح‘ کے پہلو نکال نکال کر دکھاتے ہیں۔

یہ ہے وہ ذہن، جس سے سامراجی حکمرانوں نے اس ملک پر ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک حکومت کی، اور جب حالات سے تنگ آکر انھیں اقتدار چھوڑنا پڑا، تب بھی وہ ملک پر احسان رکھ کر رخصت ہوئے۔ آیئے، سامراجیوں، جباروں اور ظالموں کے ذہن کے اس پہلو پر بھی ایک سرسری نگاہ ڈالیں، تاکہ تاریخ برعظیم کا یہ گوشہ بھی ہمارے سامنے آجائے۔

’ظلم نہیں، محض اداے فرض‘

سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ظالم جو کچھ بھی کرتا ہے،وہ یہ باور کرانے پر زور لگاتا ہے کہ  وہ یہ سب کچھ ’احساسِ فرض‘ سے مجبور ہوکر کرتا ہے، جو بالکل صحیح ہوتا ہے۔ اس سے غلطی سرزد نہیں ہوتی۔ وہ پورے اعتماد کے ساتھ سارا کھیل کھیلتا ہے اور اسی میں دوسروں کی فلاح سمجھتا ہے۔ دیکھیے جنرل ڈائر، جلیانوالہ باغ کے خونیں ہنگامے کی تحقیقات کرنے والی ’ہنٹر کمیٹی‘ کے سامنے شہادت دیتے ہوئے کیا کہتا ہے؟

سوال: مسٹر جسٹس رنکن: معاف کیجیے جنرل، اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ آپ کی جلیانوالہ باغ میں کل کارروائی خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کی گئی تھی، تو؟

جواب:جنرل ڈائر: نہیں، بالکل ایسا نہیں تھا۔ مجھے ایک بہت اندوہناک فرض (duty) ادا کرنا تھا۔میرا خیال یہ ہے کہ جوکچھ میں نے کیا وہ ایک رحم دلانہ اقدام (merciful thing) تھا۔ کیوں کہ مَیں سمجھتا تھا کہ مجھ کو گولی چلانی ہے اور سخت گولی چلانی ہے تاکہ میرے بعد کسی اور کو گولی چلانے کی ضرورت نہ پڑے۔یہ بالکل ممکن ہے کہ میں مجمعے کو گولی چلائے بغیر منتشر کردیتا، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ تھوڑی دیر بعد دوبارہ جمع ہوجاتے اور ٹھٹھے لگاتے اور میں بے وقوف بن کر رہ گیا ہوتا۔

واقعی لوگوں کو ہنسنے کا موقع دینے سے بڑا ’جرم‘ اور کیا ہوسکتا ہے؟ جو کام خون کی ایک بوند بھی بہائے بغیر ہوجائے، اس سے بھلا شانِ حکمرانی کا اظہار کہاں ہوسکتا ہے؟ اور پھر کمزور اور    بے وقوف عوام، صاحب ِ اختیار حکمرانوں کا مذاق اُڑائیں، یوں انھیں بے وقوف بنائیں؟ ان کا تو علاج ہی یہ ہے کہ ان کو توپ سے اُڑا دیا جائے، گولیوں کی بوچھاڑ سے بھون ڈالا جائے تاکہ یہ سراُٹھانے کے لائق ہی نہ رہیں، اور یہ ’رحم دلانہ‘ کام احساسِ فرض کے ساتھ انجام دو، کہ خون میں  تڑپتی ہوئی لاشوں کا رقص، نہتے اور پُرامن انسانوں کی ہنسی ٹھٹھے سے زیادہ خوش کن ہوتا ہے۔ جب تک پانی کی جگہ خون نہ بہالیا جائے، ظالم کی پیاس نہیں بجھتی!

’جمہوریت کے لیے ناموزوں‘

پھر سامراجی حکمران اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ملک جمہوریت کے لیے قطعاً ناسازگار ہے۔ عوام میں اتنا شعور نہیں کہ اپنا مفاد خود سمجھ سکیں۔ اس لیے انھیں ’سیاسی مائی باپ‘ کی ضرورت ہے، جو ان ناپختہ ، ناسمجھ، نابالغ اور آسانی سے گمراہ ہوجانے والے عوام کو ان کا ’بھلا‘ سمجھائے اور یہ سمجھیں یہ نہ سمجھیں، مگر حکمران انھی کے ’بھلے ‘کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائیں اور زبردستی ان سے وہ کچھ کرائیں، جسے یہ اپنی نادانی میں بُرا سمجھ رہے ہیں۔ اصل ’خیرخواہ‘ تو وہی ہے، جو نادانوں کی بات کو نظرانداز کرکے وہی کرے، جو اس کے خیال میں ان کے لیے بہترہے۔

یہی ہے وہ راگ جو سامراجی دورِ استبداد کے حکمران برابر الاپتے رہے، ملک اور ملک سے باہر ان کے ہم نوا دانش ور، مفکر، مصلح،معلم اور صحافی سب اس آواز میں آواز ملاتے رہے۔ یہاں صرف چند نمایندہ مثالیں دی جاتی ہیں، ورنہ اس پہلو سے تو اتنا مواد ہے کہ اس سے متعدد کتابیں تیار ہوسکتی ہیں۔

برطانیہ کے مشہور آزاد خیال مدبر جان مورلے [۱۸۳۸ء-۱۹۲۳ء] نے بیان دیا: ’’ہندستان کے لیے جمہوریت قطعاً مفید نہیں، صرف مستقبل قریب ہی میں نہیں بلکہ میں تو صاف دیکھتا ہوں کہ مستقبل بعید میں بھی اس کا کوئی امکان نہیں کہ یہ خطّۂ زمین جمہوریت کے لیے سازگار ہوسکے‘‘۔

برطانیہ کے استعماری اور آمرانہ ذہن کا بہترین ترجمان پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر سر مائیکل اوڈوائر تھا۔ اس کی تمام تقاریر و تحریریں ایک استبدادی ذہن کی آئینہ دار ہیں۔ ہم چند اہم قومی مواقع پر اس کی تقاریر سے بطورِ نمونہ دو چار اقتباس پیش کرتے ہیں، تاکہ ظالم سامراجی حکمرانوں کا ذہن پوری طرح بے نقاب ہوجائے۔ اس سے ان کے استدلال کے طریقے، عوامی تحریکات اور مطالبات پر ان کا ردعمل اور لوگوں کو مطمئن کرنے (یعنی بے وقوف بنانے یا دراصل خود بے وقوف بننے) کے حربے بے نقاب ہوتے ہیں۔

’استحکام‘ نہ کہ ، عوامی نمایندگی

گورنری کے عہدے پر متمکن ہونے کے بعد اوڈوائر نے حالات کا جائزہ لیا، تو آزادی اور جمہوری اختیارات کی تحریک اس کے دل میں کانٹے کی طرح چبھی اور اس نے طے کرلیا کہ    وہ حکومتی استحکام اور عوام کی فلاح کا ایک فلسفہ گھڑ کر تحریک ِ آزادی کے چہرے پر کالک مل کر رہے گا۔ ایسی کسی چیز کوبرداشت کرنا نظامِ ظلم کی فطرت کے خلاف ہے لیکن ظالموں اور فرعونوں میں اتنی اخلاقی جرأت کہاں کہ صاف صاف  اس کا اعتراف کریں۔ اب یہاں دیکھیے انگریز گورنر اوڈوائر کی نکتہ آفرینیاں:

مجھے صوبائی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ میرے پاس بعض لوگوں نے ایسی تجاویز بھیجنا شروع کر دی ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ آیندہ اس صوبے کے نظم و نسق میں کیا کیا اصلاحات ہونی چاہییں۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت ِ خود اختیاری کے حصول کے لیے عوام جو اُمیدیں اور آرزوئیں قائم کیے بیٹھے ہیں، مجھے ان کی پذیرائی کیونکر کرنی چاہیے۔ عدالتی اور انتظامی اُمور کو ایک دوسرے سے الگ کر دینے کی بھی تحریک ہورہی ہے۔ میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ اس قسم کی خیالی اور غیرحقیقی باتیں اپنی جگہ کتنی ہی دل کش اور جاذبِ نظر کیوں نہ ہوں، اَمرِواقعہ یہ ہے کہ حکومت کا اصل مقصد صرف یہ ہے کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کی جائے۔ اگر یہ مختلف تجویزیں [یعنی جمہوری تقاضوں کی تجاویز] بھیجنے والے لوگ مجھے یہ بتاتے کہ حکومت کو اپنے اصل مقصد سے عہدہ برآ ہونے کے لیے کون سے بہتر ذرائع اختیار کرنے چاہییں، تو وہ اپنی قوم اور صوبے پر زیادہ احسان کرتے۔

’تنہا حاکمِ اعلٰی‘

جب اس ’قیمتی نصیحت‘ کا کوئی خاص اثر نہ ہوا اور جمہوری اداروں کا مطالبہ بڑھتا چلا گیا، عوام کی نمایندگی کے لیے ہر طرف سے آوازیں اُٹھنے لگیں اور گورنر سے نمایندہ انتظامی کو نسل کی ضرورت پر شدت سے اصرار کیاجانے لگا، تو اوڈوائر صاحب کو سخت غصہ آیا اور وہ ’استحکام‘ اور ’ترقی‘ کا سہارا لے کر عوام پر یوں برسے:

مجھے یہ تجویز سن کر بے حد تعجب ہوا ہے۔ اس صوبے کے لوگ ابتدا سے لیفٹیننٹ گورنر کو صوبے کا تنہا حاکمِ اعلیٰ اور یہاں کے نظم و نسق کا بلاشرکت غیرے واحد ذمہ دار سمجھنے کے عادی ہیں۔ اس نظام کے تحت پنجاب نے خوب ترقی کی ہے اور مَیں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس ضمن میں پنجاب، ہندستان کے کسی صوبے سے پیچھے نہیں رہا۔ پھر بتایئے کہ انتظامی کونسل کی کیا ضرورت ہے؟ 

گویا کہ فی الحقیقت ایسے ’استحکام‘ اور ایسی ’ترقی‘ کی موجودگی میں نمایندہ کونسلوں ، اور جواب دہ اداروں کے مطالبے کا مقصد بجز ’انتشار‘ پھیلانے کے اور کیا ہوسکتا ہے!

آہ! دیہاتی! سیاست چھوڑ

بات انتظامی کونسل ہی کے مطالبے پر نہ رُکی، بلکہ نمایندہ قانون ساز اسمبلی، آزاد انتخابات اور عوام کے حق راے دہی تک پہنچی۔ اب تو تنہا حاکمِ اعلیٰ اور بلاشرکت غیرے واحد ذمہ دار صاحب کا پارہ ہی چڑھ گیا۔ گویا ہوئے:

آج کل یہ عالم ہے کہ چاروں طرف سے سیاسی تقریروں کا شور سن کر ہمارے کان بہرے ہوئے جارہے ہیں اور سیاسی دستاویزوں اور یادداشتوں کی بھرمار دیکھ دیکھ کر ہماری آنکھیں چندھیائی جارہی ہیں۔ کیا اس شوروشغب میں میرا یہ کہنا مناسب نہیں کہ اس طوفانِ بدتمیزی کو ختم کر کے ہمیں اپنے دل و دماغ کو لایعنی تصورات اور بے مصرف توہمات سے پاک کر دینا چاہیے، اور لمحے بھر کے لیے سوچنا چاہیے کہ آخر اس ساری سیاسی شعبدہ بازی کا ان غریب دیہاتیوں کو کیا فائدہ پہنچے گا، جن کی زندگیاں ہل چلانے، فصلیں بونے اور پھر ان فصلوں کو آفاتِ ارضی و سماوی سے محفوظ رکھنے کے لیے وقف ہوچکی ہیں۔

اللہ اللہ ، دیہاتیوں کی قسمت کہ کون ان کے حقوق، قوم کو یاد دلارہاہے!

کمیشن رپورٹیں دریا برد کردو!

لیکن اسے کیا کہیے کہ ’سیاسی شعبدہ بازوں‘ کے ’لایعنی تصورات‘ برابر مقبول ہوتے گئے اور سیاسی اصلاحات کے لیے حکومت کو کمیٹی پر کمیٹی اور کمیشن پر کمیشن بٹھانے پڑے۔ ’مانٹی گوچیمس فورڈ کمیشن‘  قائم ہوا اور اوڈوائر بھی اس کا معزز رکن تھا۔ تمام حالات کا جائزہ لے کر کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ عوام کو کچھ نہ کچھ حقوق دینے پڑیںگے اور کسی نہ کسی درجے میںعوامی نمایندگی کا اہتمام کرنا ہوگا۔ کمیشن ہزار سرکاری سہی، اور سرکار ہی کے نامزد افراد پر مشتمل سہی، لیکن حقائق سے کہاں تک چشم پوشی کرسکتا ہے؟

مگر واہ رَے ’دیہاتیوں کی فلاح‘ اور ’عوام کے مفاد‘ کا محافظ! کمیشن کچھ بھی کہے گورنر اوڈوائر اپنی بات پر قائم ہے۔اختلافی نوٹ میں اوڈوائر نے نام لے لے کر مسٹر محمدعلی جناح ، ڈاکٹر اینی بیسنٹ [م:۲۰ستمبر ۱۹۳۳ء] اور راجا صاحب محمود آباد [م:۲۳مارچ ۱۹۳۱ء]کوبُرا بھلا کہا۔ اس نے ان لیڈروں کی نیتوں پر حملہ کرکے انھیں خودغرض اور شورش پسند قرار دیا۔ ہوم رول تحریک کی جی بھر کر مذمت کی اور ملک کے تعلیم یافتہ طبقے کو عوام کا بدخواہ ظاہر کیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کو اس نے ایک نہایت غیرنمایندہ جماعت قرار دے کر حکومت کو متنبہ کیا کہ مسلم لیگ نے مسلمان عوام کی نمایندگی کا جو دعویٰ کیا ہے، وہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ اور آخر میں لکھا: 

یہ امر بالکل واضح ہے کہ اصلاحات کا تقاضا ملک کے عوام نے بالکل نہیں کیا۔ حالاںکہ عوام ہی کے مفاد کی نگہداشت حکومت کا فرض اوّلین ہونا چاہیے۔ یہ مطالبہ ہندستان کے باشندوں کی ایک نہایت قلیل تعداد کی طرف سے پیش ہوا ہے، جو محض اپنی ذاتی اغراض کی وجہ سے اقتدار کی خواہاں اور عہدوں کی بھوکی ہے۔ اگر ہمیں اپنے اس عہد کا کچھ پاس ہے، جو ہم نے ہندستان کی بے زبان مخلوق کی حفاظت کے لیے کیا تھا تو بلاشبہہ ہمارا یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم اس بے زبان رعایا کے مفاد کو مقدم درجہ عطا کریں، اور سیاسی لیڈروں کے شوروشغب کی کچھ پروا نہ کریں، خواہ وہ اس شور سے قیامت ہی کیوں نہ برپا کردیں۔ میں یہاں[ایڈمنڈ] برک [م: ۹جولائی ۱۷۹۷ء]کے وہ یادگار الفاظ درج کرنے پر مجبور ہوں کہ: اگر میدان کے کسی گوشے میں جھاڑی کے نیچے نصف درجن ٹڈے جمع ہوکر اپنی ٹیں ٹیں کے مکروہ شور سے آسمان سر پر اُٹھا لیں اور اسی میدان میںشاہِ بلوط کے اُونچے اُونچے سایہ دار درختوں کے نیچے سیکڑوں گائے، بھینسیں اطمینان سے بیٹھی جگالی کر رہی ہوں، تو ہمیں اس غلط فہمی میں ہرگز مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ میدان میںصرف چیخ پکار کرنے والے ٹڈے ہی آباد ہیں۔ اس سارے قضیے میں جو چیز بالکل عیاں اور واضح ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ان مجوزہ اصلاحات کا خاکہ تیار کرنے میں ہمارے سامنے صرف تعلیم یافتہ جماعت کے ایک محدود طبقےکی خوش نودی تھی۔ کیا ہمارا یہ فعل کسی اعتبار سے عقل مندی یا دانائی کی دلیل سمجھا جاسکتا ہے؟تعلیم یافتہ جماعت کا یہ محدود طبقہ، جس کی خوش نودی کو ہم نے ہرحال میں مقدم سمجھ رکھا ہے، یہ دیہات کے عوام کی نمایندگی کا بھی دعوے دار ہے، حالاں کہ یہ دعویٰ قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے۔

میرے اس قول کی صداقت کو آزمانے کے لیے آپ جو معیار چاہیں مقرر کرلیں، اس میں: مذہبی فسادات کی روک تھام کا سوال ہو یا فرقہ وارانہ اختلافات کو مٹانے کا مسئلہ درپیش ہو، فوجی بھرتی کے لیے رنگروٹوں کی فراہمی کا معاملہ ہو یا ملک کے دفاع کا سوال پیش نظر ہو، ہرحال اور ہرصورت میں شہروں کے تعلیم یافتہ سیاسی لیڈر آگے آنے کے بجاے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ملک وقوم کے لیے مفید اور نفع بخش تحریکوں میں شرکت کرنا یہ لوگ گناہ سمجھتے ہیں۔ ہاں، جہاں فتنہ و فسادبرپا کرنے یا شرانگیزی کی آگ بھڑکانے کی گنجایش ہوگی، آپ ان کو ہمیشہ آگے آگے پائیں گے۔

کیا آپ سمجھے کہ یہ ’فتنہ و فساد اور شرانگیزی کی آگ بھڑکانے والے‘ کون ہیں؟ تاجِ برطانیہ کے سرخیل سر مائیکل اوڈوائر، مسلم قائدین کی نیتوں پر حملے کرتے ہیں۔ ظالم حکمرانوں کا خاصا ہے کہ وہ صرف تعمیری اور اصلاحی تحریکوںکی مخالفت ہی نہیں کرتے بلکہ اپنے معزز مخالفین کو بدنیت اور بدقماش بھی کہتے ہیں۔ وہ اپنی آنکھ کے بڑے بڑے شہتیروں کو نظرانداز کردیتے ہیں اور دوسروں کی آنکھ میں کوئی تنکا نہ بھی ہوتو وہاں ان کو شہتیر ہی شہتیر نظر آنے لگتے ہیں اور ظالم حکمرانوں کو چبھتے بھی ہیں۔

اس ڈھٹائی کی انتہا ہـے کوئی

اوڈوائر ہر بے ہودہ سے بے ہودہ اور ظالمانہ سے ظالمانہ قانون کی مدافعت کے لیے سینہ سپر ہوجاتا ہے۔ رولٹ ایکٹ جو انتہائی سفاکانہ قانون تھا، جس کے متعلق سارا ملک چیخ اُٹھا تھا اور جسے وائسراے ہند کو اپنے خصوصی اختیارات سے نافذ کرنا پڑا تھا کہ انگریزوں کے اپنے ادارے (قانون ساز اسمبلی) کے غیرسرکاری ارکان میں سے ایک بھی تائید کے لیے تیار نہ تھا (کم از کم اس وقت اتنی غیرت تو تھی)۔ جس کے استبدادی انداز سے (arbitrarily) نافذ کرنے پر قائداعظم نے مرکزی اسمبلی سے بطورِ احتجاج استعفا دے دیا تھا اور جس کے ظالمانہ ہونے کا احساس خود گورنمنٹ کوبھی اس درجہ تھا کہ ’راج ہٹ‘ میں اسے منظور تو کرلیا، لیکن عالم گیر احتجاج کے پیش نظر اس کی پوری مدتِ عمر جو تین برس تھی، اس میں ایک بھی اقدام نہ کیا۔اس گھنائونے قانون کی مدافعت کے لیے عوام کے ’مفاد کا محافظ‘ سر مائیکل اوڈوائر اس نفرت بھرے ذہن کے ساتھ کلام کرتاہے:

آپ نے گذشتہ ہفتوں کے واقعات [اشارہ ہے ’رولٹ ایکٹ‘ کے خلاف ملک گیر احتجاج اور اس کےبعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کی طرف جس میں جلیانوالہ باغ کا خونیں واقعہ بھی شامل ہے] اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے ہیں کہ ایک ایسے قانون کو، جو لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے لیے وضع کیا گیا تھا اور جس کا تنہا مقصد یہ تھا کہ بدامنی اور بغاوت کے طوفان کا سدباب کیا جائے، کس کس انداز سے توڑ مروڑ کر اور  مسخ شدہ صورت میں عوام کے سامنے پیش کیا جارہا ہے، تاکہ جھوٹ پر مبنی ان ہتھکنڈوں سے لوگوں کو گمراہ کرنے میں آسانی ہو۔ یہ سب کچھ ایک ایسے طبقے کے افراد کر رہے ہیں، جن کی تعداد بے حد قلیل ہے، لیکن شور مچانے اور چیخ پکار کرنے میں بہت ماہر ہیں۔ یہ لوگ اس قانون کو ایک خطرناک ہوّا بناکر عوام کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں، حالاں کہ اس قانون کا مقصد صرف یہ ہے کہ غیرمعمولی حالات میں عوام کے جان و مال کی حفاظت کیوں کر کی جاسکے۔ موجودہ تحریک بے معنی اور غلط ہے۔ تحریک چلانے والوں کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کے خلاف بددلی پھیلائی جائے اور سرکار[برطانیہ] کے نمک خواروں کو ذلیل کیا جائے۔ حکومت کے وفادار باشندوں کا فرض ہے کہ وہ اس شرانگیز تحریک کا مقابلہ کریں۔ آپ کے سیاسی خیالات کچھ بھی ہوں، آپ کا فرض ہے کہ حکومت کے دست و بازو بن کر موجودہ تحریک کو کچلنے میں ہماری مدد کریں۔{ FR 871 }

افسوس اس کا نہیں کہ اوڈوائر نے ایسی لچر،پوچ اور خیانت سے لبریز بات کہی۔ افسوس اس کا ہے کہ اہلِ ملک ہی میں سے اسے استبداد کے ہاتھ مضبوط کرنے والے مل گئے۔

راج ہٹ

جب حالات قابو میں آتے دکھائی نہیں دیتے ہیں تو سامراج کا گلِ سرسبد اور ظلم کا پیکر سرمائیکل اوڈوائر خون کی ندیاں بہانے کے لیے بھی آمادہ ہوجاتا ہے اور اس ’کارِخیر‘ کے لیے بھی اہلِ وطن ہی کی مدد حاصل کرتا ہے۔ اسی طویل تقریر میں آگے جاکر کہتا ہے:

حالات نازک صورت اختیار کرتے جارہے ہیں اور فوری اقدام کے محتاج ہیں۔ اب آپ مزید تامل نہ کیجیے اور فوراً کمرہمت باندھ لیجیے۔ حکومت نے تو گومگو کی پالیسی  ترک کر دی ہے۔ آپ بھی اُٹھ کھڑے ہوں ، حکومت اس مہم میں ہرلمحہ آپ کے لیے پشت پناہ ثابت ہوگی۔ حکومت نے قانون کے نفاذ کا مصمم ارادہ کرلیا ہے، خواہ اس کام میں خون کی ندیاں کیوں نہ بہہ جائیں۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو یاد رکھنا چاہیے کہ اس تمام خون خرابے کی ذمہ داری ہم پر نہیں، بلکہ ان پر عائد ہوگی جو قانون شکنی کی تلقین کررہے ہیں[یعنی جو رولٹ ایکٹ کی مخالفت کی تحریک چلا رہے ہیں]۔

سرمائیکل اوڈوائر ایک فرد نہیں، بلکہ وہ استعمار کی زبان ہے، ظلم کا نمایندہ ہے، نظامِ استبداد کا ترجمان ہے اور اس کا ذہن آمریت کے ذہن کا آئینہ دار ہے۔ اس کی تقاریر میں وہ پوری فکر موجود ہے، جس کی حکمرانی برعظیم پاک و ہند پر رہی ہے اور جو ہمیشہ سے اربابِ ظلم کی ذہنیت رہی ہے۔ ایک ہی طرز پر سوچنے اور کام کرنے سے یہ ذہن اتنا پختہ ہوجاتاہے کہ صرف دوسروں ہی کے سامنے جھوٹ کو سچ، ظلم کو رحم اور استبداد کو استحکام بناکر پیش نہیں کرتا، بلکہ اپنے کو بھی دھوکا دینے لگتاہے اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ: ’’غلام اپنی زنجیروں سے محبت کرنے لگے ہیں اور ان کا قائم کردہ آمرانہ نظام دراصل ایک جمہوری اور نمایندہ نظام ہے اور عام انسانوں کی خواہش کےعین مطابق ہے‘‘۔

لارڈ لیٹن جو بڑے جمہوریت پسند اور برطانوی لبرل پارٹی کے ایک لیڈر تھے۔ وہ ہندستان میں ایک صوبے کے گورنر کے فرائض بھی انجام دے چکےتھے۔ ۱۹۳۵ء کے ’قانونِ ہند‘ کے آنے سے کچھ ہی قبل، اس وقت جب پورے ملک میں سیاسی بیداری کا غلغلہ تھا اور نمایندہ حکومت اور جمہوری اصلاحات کا مطالبہ ہورہا تھا، ہائوس آف لارڈز میں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ فرماتے ہیں:

ہندستان کے سیاست دانوں اور کانگریس کے مقابلے میں حکومت ِ ہند کہیں زیادہ نمایندہ ہے۔ یہ حکومت سرکاری حکام، فوج، پولیس، نوابوں اور مہاراجوں اور ہندوئوں اور مسلمانوں کی فوجی یونٹوں کے نام پر اور ان کی طرف سے گفتگو کرسکتی ہے۔ مَیں جب ہندستان کی راے عامہ کی بات کرتا ہوں تو میری مراد وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کے تعاون پر مجھے بھروسا کرنا ہوتا ہے اور جن کے تعاون پر آیندہ کے وائسراے اور گورنروں کو اعتماد کرنا ہوگا۔

یہ ہے وہ فلسفۂ حاکمیت جو استعماری حکمرانوں نے وضع کیا، ظلم و استبداد اور آمریت کے انتہائی گھنائونے نظام کا نام ’جمہوریت‘ اور ’نمایندہ حکومت‘ رکھا، اور عوام کے نام پر ان کے مفاد کا  نعرہ لگاکر انھی کا گلا گھونٹنے اور ان کو اُلٹی چھری سے ذبح کرنے کی سعی کی۔

5

یہ سامراجی دورِ اقتدار، نفاق، سیاسی دھوکے بازی اور بین الاقوامی غنڈا گردی کی بدترین مثال پیش کرتا ہے۔ اس کے ریکارڈ پر ایک نگاہ ڈالنے سے انسانیت شرم سے پانی پانی ہوجاتی ہے، ضمیر بغاوت کرتا ہے اور روح کانپ اُٹھتی ہے کہ انسان شیطان کا اتنا بڑا حلیف بھی بن سکتا ہے بلکہ اس سے دوچار ہاتھ آگے بھی نکل سکتا ہے۔

اس گھر کو آگ لگ گئی…

اس شرم ناک داستان کا ابھی ایک باب اور بھی ہے، جو انتہائی کریہہ اور گھنائونا ہے اور جس کے ذکر پر آنکھیں شرم سے جھک جاتی اور خون کے آنسو بہاتی ہیں۔ یہ ہے انگریزوں کے ہندستانی وفاداروں کا کردار!

اگر ظالم حکمران ہماری ہڈی پسلی ایک کر دیتے اور ایک ایک فرد کو ذبح کرڈالتے تو انسانیت خواہ اس پر کتنا ہی ماتم کرتی، لیکن اہلِ وطن کے لیے شرم و ندامت کا کوئی موقع نہ ہوتا___ اپنا سر فخر سے بلند کرکے کہہ سکتے کہ: ’’غیروں نے ہمارے اُوپر ظلم کیا اور ہم نے سینہ سپر ہوکر اس کا مقابلہ کیا‘‘۔

باعث ِ افتخار ہیں وہ مظلوم جنھوں نے اپنی جانیں دے دیں لیکن اپنے ضمیر نہیں بیچے۔ لیکن افسوس کہ خاکِ وطن ہی سے کچھ ایسے بے ضمیر بھی نکل آئے، جو ظالموں کا آلۂ کار بنے اور اس وقت جب استعمار اور استبداد کے نمایندے ابناے وطن کا گلا گھونٹ رہے تھے، انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان ظالموں کے ہاتھ مضبوط کریں گے، تاکہ وہ مظلوموں کا گلا اور بھی قوت کے ساتھ گھونٹ سکیں، آہ!

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگِ آدم و ننگِ دیں، ننگِ وطن

ملک کے غدار، سامراج کے وفادار

سامراجیوں کو آخری وقت تک ’میرجعفروں‘ اور ’میرصادقوں‘ کی بِس بھری فصل ملتی رہی اور انھوں نے ملک و ملّت کے ساتھ غداری ہی نہیں کی، بلکہ اپنی اس وفادار ذُریت کو بھی زندگی کے ہرشعبے پر مسلط کرنے اور آگے بڑھانے کی منظم اور مربوط کوشش کی۔ سفاک رومی شہنشاہ نیرو [م:۶۸ء] کا صرف یہ جرم تھا کہ جب روم جل رہا تھا تو وہ بانسری بجا رہا تھا، مگر پاک و ہند کے نیرو صرف بانسری ہی نہیں بجا رہے تھے بلکہ آگ پر تیل بھی چھڑک رہے تھے اور شعلوں کے اُٹھنے اور مظلوموں کے کراہنے اور چیخنے سے جو خوف ناک منظر رُونما ہورہا تھا، اس کے ’حُسن و جمال‘ کی تعریف میں تقریریں بھی کر رہے تھے۔ دل پر جبر کرکے اپنی تاریخ کے اس سیاہ باب سے بھی چند منتشر اوراق یہاں پیش کیے جارہے ہیں، تاکہ اس طبقے کا رُخِ کردار بھی سامنے رہے۔

اگر ملکی غدار انگریزوں کا ساتھ نہ دیتے تو وہ ہندستان کو کبھی فتح نہ کرسکتے تھے۔ ان کو یہاں سے مخبر اور فوجی ہی نہ ملے بلکہ اعلیٰ سرکاری افسر بھی مل گئے، جنھوں نے ملک اور حکومت سے غداری کی اور وطن کے دروازے غیروں کے لیے کھول دیے۔ نواب سراج الدولہ اور فتح علی ٹیپو سلطان [۱۷۵۰ء-۴مئی ۱۷۹۹ء] کو انگریزوں کی قوت نے زیر نہیں کیا، ان کی چالاکی اور عیاری اور اپنوں کی بے وفائی اور غداری نے شکست سے دوچار کیا، اور جب حفاظت و دفاع کی یہ دونوں مضبوط فصیلیں ٹوٹ گئیں تو انگریز پورے ملک پر حکمران ہوگیا   ع

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

انگریز کے پورے دورِ اقتدار میں ’سرکار پرستوں‘ کا ایک طبقہ تھا، جو استعماری حکمرانوں کے آگے پیچھے پھرتا رہا اور زندگی کے ہر شعبے میں ان کے اقتدار کو مستحکم کرنے میں مصروف رہا۔

سامراج کے خلاف خفیہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا، تو اپنوں نے مخبری کی۔ مولانا محمودحسن صاحب [۱۸۵۱ء-۱۹۲۰ء] کی انقلابی سرگرمیوں سے دیوبند ہی کے چند طلبہ نے انگریزی حکومت کو مطلع کیا۔ مولانا عبیداللہ سندھی [۱۸۷۲ء-۱۹۴۴ء]کو جو رقوم مولانا شوکت علی [۱۸۷۳ء- ۱۹۳۸ء] نے افغانستان اور عرب دنیا میں کام کرنے کے لیے بھیجی تھیں، ان کا راز انھی کے ایک بدبخت شاگرد نے فاش کیا۔ آزادی کے حصول کی کم و بیش تمام قومی تحریکوں میں انگریزوں کے جاسوس گھسے ہوئے تھے اور ان سرفروشوں کی سرگرمیوں سے ان کو باخبر رکھتے تھے۔ پھر انگریز کی وفاداری اور اس کے راج کی ’برکات‘ کو بیان کرنے کے لیے سیکڑوں افراد نے اپنی خدمات پیش کر رکھی تھیں اور عوام کو افیون کی یہ گولی کھلائی گئی کہ: ’’مزے سے زندگی گزارو، آزادی اور غلامی کے چکّر میں پڑکر اپنی دُنیا کیوں خراب کرتے ہو؟‘‘

باطل نظام میں حصہ ڈالنے اور معمولی سے معمولی مناصب کے لیے بھاگ دوڑ کرنے اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خدمت اور وفاداری کا یقین دلانے کا کام بھی ایک طبقے نے انجام دیا اور اس طبقے کے لیے: خان صاحب، خان بہادر، راے بہادر، سردار بہادر اور نائٹ ہوڈ کے اعزازات وضع کیے گئے۔ اگر انگریز حاکم، اہلِ ہند کو انتظامیہ میں لینے پر مجبور ہوا تو یہی لوگ اس کے خدمت گزار بن کر سامنے آئے اور انگریز کے نمک خوار کی حیثیت سے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ آزادی اور جمہوریت کی تحریک کو کچلنے، اس کی راہ میں روڑے اٹکانے اور لوگوں کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ ’’انگریز کے راج میں ہرقسم کی آزادی ہے‘‘، اس طبقے نے وہ وہ باتیں گھڑ لیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی شرم سے پانی پانی ہوجاتا ہے، مثال کے طور پر:

  • جب مطالبہ کیا گیا کہ ’ہندستان کی فوج کا کمانڈر ہندستانی کو ہونا چاہیے‘ تو ایک سرصاحب نے ارشاد فرمایا: ’’ہندستان میں کوئی اس کا اہل بھی ہے کہ کمانڈر انچیف ہوسکے‘‘۔ اور  اسی بنیاد پر رام پور کے نواب سر رضا علی خاں{ FR 876 } [۱۹۰۸ء-۱۹۶۶ء] نے ۱۹۳۱ء کے  کُل ہند مسلم لیگ سیشن میں حصولِ آزادی کی قرارداد کی کھل کر مخالفت بھی کی۔
  • خدا بخش [۱۸۴۲ء-۱۹۰۸ء] ، سر امیر علی [۱۸۴۹ء-۱۹۲۸ء] اور سرآغا خان [۱۸۷۷ء- ۱۹۵۷ء]کی حیثیت کے لوگ بھی انگریزی اقتدار اور اس کے فوائد و برکات کے قصیدہ خواں رہے اور زیادہ سے زیادہ جو بات سوچ سکے، وہ انگریزوں کی حکومت میں کچھ مراعات کا حصول تھی۔اس سے زیادہ سوچنا ان کی نگاہ میں بغاوت تھا۔
  • ریاستوں میں جمہوری اداروںکے قیام کا سوال اُٹھایا گیا تو برطانوی مقبوضہ پنجاب کے گورنر سر میلکم ہیلے [۱۸۷۲ء-۱۹۶۹ء] نے اس کا مذاق اُڑایا اور ریاستوں میں مطلق العنان حاکمیت کا دفاع کیا۔ راجوں اور مہاراجوں نے بڑا شور مچایا، کانفرنسیں کیں اور اس رجحان کی مخالفت کی تو اس موقعے پر ایک سر مرزا محمد اسماعیل [۱۸۸۳ء- ۱۹۵۹ء] نے ۲۱جون ۱۹۲۴ء کو ارشاد فرمایا: ’’مجھے ریاستوں میں غیرمعمولی اصلاحات کے مطالبے نے اچنبھے میں ڈال دیا ہے۔ تعجب ہے کہ یہاں جمہوریت کا مطالبہ کیا جارہا ہے، جب کہ پارلیمانی جمہوریت ساری دنیا میں رُوبہ زوال ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ریاست کا ضمیر اس پر مطمئن ہےکہ جو اساسی دستور یہاں رائج ہے، وہ تمام عملی مقاصد کے حصول کے لیے خاطرخواہ حدتک جمہوری ہے‘‘۔
  • اور وہ اعلان تو ابھی تک بہت سے لوگوں کے کانوں میں گونج رہا ہے، جو صوبہ پنجاب کے ایک اور بڑے مشہور ، سر فیروز خان نون [۱۸۹۳ء-۱۹۷۰ء]نے خود اقوامِ متحدہ میں کیا تھا کہ: ’’ہندستان کی آزادی کا سوال مضحکہ خیزہے۔ ہم تو آزاد ہیں، اور دیکھو، مَیں ایک ہندستانی، ہندستان کے نمایندے کی حیثیت سے اس اجلاس میں شرکت کر رہا ہوں‘‘۔

یہ ہے وہ طبقہ، جس کا کردار برعظیم کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ اس نے آزادی کی جنگ کو کمزورکرنے کی ہرممکن کوشش کی۔ اس کی وجہ سے آزادی کی جدوجہد غیر ضروری طور پر طویل اور صبرآزما ہوئی۔ اس کی بنا پر انگریز اپنے اقتدار کو ایک طویل مدت تک کھینچ سکا اور اہلِ وطن پر مظالم و شدائد کے پہاڑ توڑ سکا۔ سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ، جب آخرکار انگریز کا اقتدار ختم ہوتا نظر آیا اور قومی حکومتیں بننے لگیں، تو یہی طبقہ پوری بے شرمی اور عیاری کے ساتھ انھی تحریکوں میں شامل بھی ہوگیا۔ اسے اپنا مسلک بدلنے میں اتنی دیر بھی نہ لگی جتنی کوٹ بدلنے میں لگتی ہے۔ اس نے یہ سب کچھ کیا اور ضمیر کی کوئی چبھن محسوس نہ کی:

یہ مسجد ہے، یہ میخانہ ، تعجب اس پہ آتا ہے

جناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی

اس طبقے کے کردار پر بہترین تبصرہ خود اسی کے ایک ولیِ نعمت مسٹر لائیڈ جارج [۱۸۶۳ء-۱۹۴۵ء] سابق وزیراعظم برطانیہ [۱۹۱۶ء-۱۹۲۲ء] کا یہ جملہ ہے:

Specimens of these changable reptiles who adopt  their hue to their enviroments.

زمین پر رینگنے والے تغیر پذیر جانوروں کی وہ طرفہ مخلوق جو ہرماحول کے مطابق اپنے رنگ بد ل لیتی ہے۔

اقتدار کے سورج کو نئے محور پر گردش کرتے دیکھ کر اس طبقے نے بلاشبہہ اپنا رنگ بدل لیا۔ لیکن کیا اس کے سوچنے کا انداز،گفتگو کا طریقہ اور کام کرنے کے آداب بھی بدل گئے یا وہی پرانا ذہن باقی رہا؟ دورِ سامراج کی تربیت بڑی پختہ تھی اور جو طبقہ برطانیہ کی استعماری مشینری کا کُل پُرزہ تھا اس نے اپنا قبلہ تو ضرور بدلا مگر دل نہ بدلا۔اس میں وہی لات و منات موجود رہے اور اسی سامراجی ذہن نے اظہار کے لیے نئے نئے میدان تلاش کرلیے۔

یہاں پر صرف ایک مثال، پاکستان کے پہلے صدر [مارچ ۱۹۵۶ء-اکتوبر ۱۹۵۸ء] اسکندر مرزا  کی تقریر سے پیش کی جارہی ہے، جس سے اس طبقے کی اصل ذہنی کیفیت کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ یہ ہے اُس شخص کی تقریر کا اقتباس، جو ملکِ عزیز کے اہم ترین منصب ِ صدارت پر فائز رہا۔اکتوبر ۱۹۵۸ء میں جس کو اقتدار سے ہٹائے جانے پر نہ صرف یہ کہ ایک آنکھ بھی نہ روئی اور ایک زبان بھی شکوہ سنج نہ ہوئی، بلکہ پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا۔ اسکندر مرزا ایک فرد نہیں ایک ذہن کے ترجمان تھے بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ آج کل بڑے فخر سے استعمال کی جانے والی ایک اصطلاح میں ’ایک نظریہ‘ تھے۔ ذرا یہ بھی دیکھیے کہ ان کے سوچنے کے انداز اور بولنے کے طریقے میں اور جنرل اوڈوائر کے فکروگفتار میں کتنی یک رنگی اور مماثلت پائی جاتی ہے۔ جناب اسکندر مرزا کا ارشاد (۳۱؍اکتوبر ۱۹۵۴ء) ہے:

اس ملک کے عوام کی عظیم اکثریت جاہل اور اَن پڑھ ہے۔ ان کو سیاست سے کوئی حقیقی دل چسپی نہیں ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کبھی کبھی نہایت احمقانہ رویہ اختیار کرتے ہیں، جیساکہ مشرقی پاکستان کے حالیہ انتخابات [۱۹۵۴ء] میں انھوں نے اختیار کیا۔ اور پھر جیسا ان کے منتخب نمایندوں نے دستور ساز اسمبلی میں اختیار کیا۔ اس ملک کے عوام کی اصل ضرورت مضبوط اور مستحکم حکومت ہے، اسی لیے ابھی ایک مدت تک ان کو پابند اور محدود جمہوریت (Controlled Democracy) دی جانی چاہیے۔ 

دیکھیے، وہی ذہن کس طرح کام کر رہا ہے۔ جنرل اوڈوائر کی تقریر ہٹایئے اور اسکندر مرزا کی تقریر سامنے رکھیے، کوئی فرق آپ محسو س کرتے ہیں؟ ایک ہی ذہن ایک ہی زبان ہے، ایک ہی انداز ہے، ایک ہی قسم کے وعدے ہیں اور ایک ہی طرح استحکام، مضبوط حکومت اور عوام کے مفاد کا رونا ہے   ع

انھی کے مطلب کی کہہ رہا ہوں، زبان میری ہے بات اُن کی

6

سامراج کے وحشیانہ استبداداور وطن کے چند ناخلف فرزندوں کی غداری نے حالات کو اتنا ابتر اور تاریک کر دیا تھا کہ ظلم و استعمار کی اس طویل رات کے ختم ہونے کا امکان نظر نہ آتا تھا۔ لیکن اللہ کی رحمتیں ہوں اُن مجاہدوں اور جان فروشوں پر، جنھوں نے ظلمت کے ان طوفانوں میں حق پرستی اور آزادی و جمہوریت کے چراغ روشن کیے اور اپنے خون سے ان کو تابندہ تر کیا۔ چمگادڑیں تو یہ منصوبہ بناچکی تھیں کہ یہ رات کبھی ختم نہ ہو، لیکن روشنی و نور کے علَم بردار اپنی جانوں پر کھیل کر بھی   فضا کو منور کرنے میں مصروف رہے۔بالآخر مزاحمت کی ہوائیں چلیں جو تاریک بادلوں کو اُڑا کر لے گئیں اور آفتابِ آزادی ضوفشاں ہوا۔

ظلم کے اندھیروں میں روشنی کے مینار

ذرا چشمِ تصوّر سے ماضی کے تاریک دھندلکے میں دیکھیے، کیسے کیسے حسین جگنو چمکتے دکھائی دیتے ہیں اور کیسی کیسی شمعیں فضا کو منور کرنے کے لیے اپنے کو جلاتی نظر آتی ہیں:

  • امپریلزم کے ایجنٹ مکر و سازش کے اسلحے سے مسلح جنوب کی طرف بڑھ رہے ہیں اور سلطان حیدر علی خان [۱۷۲۰ء-۱۷۸۲ء] اور ٹیپو سلطان آہنی دیوار بن کر ان کا راستہ روک لیتے ہیں۔ آزادیِ وطن کی خاطر ہروار اپنے سینے پر برداشت کر لیتے ہیں، حتیٰ کہ یہ کہتے ہوئے آخر کار جان بھی دے دیتے ہیں کہ: ’’شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سوسال کی زندگی سے بہتر ہے‘‘۔
  •  تحریک ِ مجاہدین کے جاں باز ملک کے گوشے گوشے سے کھنچ کر سرحدی صوبہ (موجودہ خیبرپختونخوا) میں جمع ہوتے ہیں اور دینِ حق اور آزادیِ وطن کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کردیتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء کا معرکۂ آزادی گرم ہوتا ہے اور ہزاروں انسان آزادی کی خاطر پروانہ وار فدا ہوجاتے ہیں۔
  • استعمار کے خلاف آزادی کی کھلی اور خفیہ تحریکیں اُبھرتی ہیں اور سیکڑوں نہیں ہزاروں نوجوان اس جدوجہد کی کامیابی کے لیے اپنی زندگیاں تج دیتے ہیں۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب، مولانا محمد جعفر تھانیسری[۱۸۳۸ء-۱۹۰۵ء]، مولانا سیّد حسین احمد مدنی [۱۸۷۹ء-۱۹۵۷ء] اور سیکڑوں جاں باز اس انقلابی کام کے لیے قیمتی قربانیاں دیتے ہیں۔

ایسی چنگاری بھی یارب …

مولانا محمد علی جوہر [۱۸۷۸ء-۴جنوری ۱۹۳۱ء] کی قیادت میں تحریک ِ خلافت اور تحریک ِ عدم تعاون اُٹھتی ہے تو سارے ملک میں ایک تہلکہ مچ جاتا ہے۔ اوکسفرڈ اور کیمبرج   یونی ورسٹیوں کے پڑھے ہوئے نوجوان ڈاڑھیاں رکھ لیتے ہیں۔ پوری قوم انگریزی لباس ترک کر دیتی ہے، سرکاری اسکولوں اور کالجوں کا بائیکاٹ کر دیتی ہے، ملازمتیں چھوڑ دیتی ہے۔ جذبۂ سرفروشی سے سرشار جوانانِ وطن جیلوں کو بھر دیتے ہیں اور اہلِ دولت اس فراخ دلی کے ساتھ ان تحریکوں کی مالی مدد کرتے ہیں کہ تقریباً ۲۰ہزار خاندانوں کی کئی سال تک مالی دست گیری کی جاتی ہے۔ ملک و قوم پر دولت نثار کرنے والوں میں ایسے بھی ہیں جو روپیہ لٹاکر لکھ پتی سے کنگال ہوگئے۔

  • تحریک ِ خلافت کے روحِ رواں محمدعلی جوہر تھے لیکن ان کا کردار کیا ہے؟ مولانا محمدعلی جوہر کے سامنے ایک طرف ایک ریاست کی وزارتِ عظمیٰ کی پیش کش کا خط ہے اور دوسری طرف بھیک مانگ مانگ کر قوم کی خدمت کا سودا ___ دو دن تک خط جیب میں پڑا رہتا ہے اور بالآخر اس خط کو پھاڑ کر اخبار  Comradeنکال لیا جاتا ہے۔
  • مولانا جوہر، ترکی کے خلاف انگریزوں کی جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس جنگ میں مسلمان فوجیوں کی شرکت کو حرام قرار دے رہے ہیں۔ اس حق گوئی پر حکومت گرفتار کرلیتی ہے۔ خالق دینا ہال، کراچی میں بغاوت کا مقدمہ چلتا ہے لیکن قوم کا عزم ملاحظہ ہو کہ مولانا کی ۶جولائی ۱۹۲۱ء والی تقریر ، جس پرستمبر۱۹۲۱ء میں سات سال کی قید سنا دی گئی۔ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۲۱ء کو ملک کے ہر گوشے میں اسی عزم کو دُہرایا جاتا ہے کہ:

گر اِک چراغِ حقیقت کو گل کیا تم نے

تو موجِ دود سے صد آفتاب اُبھریں گے

  •  خلافت اور عدم تعاون کی تحریک میں لاکھوں افراد جیلوں میں جاتے ہیں اور کروڑوں روپے کی املاک ضبط کی جاتی ہیں۔
  •  ترکِ موالات کی تحریک اُٹھتی ہے تو ۲۰ہزار مسلمان بے سروسامانی کے عالم میں ہندستان کو چھوڑ کر افغانستان ہجرت کرتے ہیں۔
  •  ’رولٹ ایکٹ‘ پاس ہوتا ہے تو ملک کے گوشے گوشے سے اس کی مخالفت کا اعلان ہوتا ہے اور لوگ اپنے خون سے اس اعلانِ بغاوت پر دستخط کرتے ہیں۔
  •  ’سائمن کمیشن‘ آتا ہے{ FR 879 } تو سارے ملک میں کالی جھنڈیوں سے اور ’سائمن گوبیک‘ کے نعروں سے اس کا استقبال ہوتا ہے۔

ایک وہ بھی اسپیکر تھے!

سرکار پرستوں میں سے بھی کچھ کا ضمیر جاگتا ہے، ان کو بے چین کردیتا ہے اور وہ اپنے خطابات واپس کردیتے ہیں، عہدے چھوڑ دیتے ہیں اور میدانِ عمل میں نکل آتے ہیں۔ صرف ایک مثال دیکھیے کہ مرکزی اسمبلی کے پہلے غیرسرکاری اسپیکرو ٹھل بھائی پٹیل نے ۱۹۳۰ء میں مستعفی ہوکر وائسراے کو لکھا:

میرے ہم وطن اس وقت موت اور زندگی کی کش مکش میں مبتلا ہیں۔ ملک کے سیکڑوں نام وَر لوگ جیلوں میں قید ہیں۔ ہزاروں اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار بیٹھے ہیں اور لاکھوں ایسے ہیں جو اس زبردست تحریک کی خاطر زندان کی کال کوٹھڑی میں جانے کو بخوشی آمادہ ہیں۔ جہادِ حُریت کی تاریخ کے اس نازک موقعے پر میرا یہ کام نہیں کہ اسمبلی کی کرسیِ صدارت پر بیٹھا رہوں، بلکہ میرا فرض یہ ہے کہ اپنے بھائیوں کے پہلو بہ پہلو آزادیِ وطن کی جنگ میں حصہ لوں۔

بھگت سنگھ [۱۹۰۷ء-۲۳ مارچ ۱۹۳۱ء] اور اس کے ساتھی سنٹرل جیل لاہور میں جس وقت مقدمے کی کارروائی کے دوران خوش الحانی کے ساتھ یہ ترانہ گاتے تھے کہ:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوے قاتل میں ہے

تو اس ترانے سے کمرئہ عدالت ہی نہیں، پوری جیل کی فضا بدل جاتی تھی۔ جوش، تہور اور ایثار و سرفروشی کی چنگاریاں سنٹرل جیل کی دیواروں کو چیر کر نوجوانوں کو آتش بجاں اور شعلۂ بداماں کر دیتی تھیں۔ کونے کونے سے آزادی کے ترانے سنائی دیتے تھے ، کوڑے پڑتے تھے ،   بَید لگتے تھے لیکن زبان سے یہی نغمے ارتعاش پیدا کرتے تھے۔

مَیں جیل اور گولی کے لیے تیار ہوں!

علّامہ محمد اقبال جن کی امن پسندی اور طبیعت کی خاموشی ضرب المثل تھی، وہ بھی ان حالات میں سرفروشی کے جذبے سے اس قدر سرشار تھے کہ قائداعظم کو ایک خط میں لکھتے ہیں: ’’ذاتی طور پر مَیں ایک ایسے مسئلے کی خاطر جس کا تعلق اسلام اور ہندستان سے ہے، جیل جانے کو تیار ہوں۔

علّامہ اقبال دوسال سے صاحب ِ فراش تھے، سرگرم سماجی زندگی معطل تھی اورعملاً ہل جل نہیں سکتے تھے۔ لیکن مسجد شہید گنج کے واقعے پر ان کی طبیعت میں شدید بے چینی اور اشتعال تھا۔  وفات سے تین ماہ قبل ۲۶جنوری ۱۹۳۸ء کو ہائی کورٹ کے فل بنچ نے مسجد شہید گنج کی اپیل خارج کر دی تو مسلمانوں میں سخت ہیجان پیدا ہوگیا۔ اسی شام غلام رسول خاں نے ڈاکٹر محمداقبال کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ: ’’اب کیا کرنا چاہیے تو ڈاکٹرصاحب رو پڑے اور کہنے لگے:

مجھ سے کیا پوچھتے ہو میری چارپائی کو اپنے کندھوں پر اُٹھائو اور اس طرف لے چلو جدھر مسلمان جارہے ہیں۔ اگر گولی چلی تو میں ان کے ساتھ مروں گا۔{

اندھیرا چھٹتا ہـے!

انھی جاں فروشوں کے جہد ِ مسلسل، قربانیوں اور خون سے تحریک ِ آزادی اور تحریک ِ پاکستان کے چراغ روشن ہوئے، اور دُنیا کے نقشے پر ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان وجود میں آیا۔ خلوص اور جذبۂ قربانی کے ان چراغوں کی گرمی نے غلامی اور استبداد کی زنجیروں کو پگھلا دیا۔ ظلم کی تلوار کو حق کے لیے جاں بازی کے اخلاقی ہتھیار نے کاٹ کر رکھ دیا۔

ظلم و استبداد بظاہر کتنے ہی مرعوب کن کیوں نہ ہوں، بہ باطن بہت کمزور ہوتے ہیں اور اہلِ حق جب مقابلے پر ڈٹ جاتے ہیں تو اربابِ ظلم بہت جلد ہمت چھوڑ دیتے ہیں۔ آہنی حصار تارِ عنکبوت ثابت ہوتے ہیں اور بظاہر کمزور اہلِ حق کے خلوص، عزم اور قربانی کے ریلے میں اس طرح بہہ جاتے ہیں، جس طرح سیلاب میں خس و خاشاک۔ یہی فطرت کا قانون ہے، یہی اللہ کی سنت ہے، یہی تاریخ کا سبق ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اللہ کی زمین ظلم و فساد سے بھر جائے:

کَمْ مِّنْ فِئَۃٍ قَلِیْلَۃٍ غَلَبَتْ فِئَۃً کَثِیْرَۃً م بِاِذْنِ اللّٰہِ ط وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ O وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِہٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ O فَھَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ قف وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰہُ اللّٰہُ الْمُلْکَ وَ الْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَآئُ ط وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لا  لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ  O (البقرہ ۲:۲۴۹-۲۵۱) بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنےوالوں کا ساتھی ہے۔ اور جب وہ جالوت اور اُس کے لشکروں کے مقابلے پر نکلے، تو انھوں نے دُعا کی: ’’اے ہمارے ربّ! ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر‘‘۔ آخرکار   اللہ کے اذن سے اُنھوں نے کافروں کو مار بھگایا اور داوٗد نے جالوت کو قتل کر دیا اور اللہ نے اُسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا، اُس کو علم دیا___ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑجاتا، لیکن دُنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے (کہ وہ اس طرح دفعِ فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)۔