مارچ ۲۰۱۸

فہرست مضامین

تاریخ سے مسلمان کا رشتہ

| مارچ ۲۰۱۸ | ۶۰ سال پہلے

ایک مسلمان جس تاریخ سے عام طور پر واقف ہے اُس کا انداز بڑا ہی عجیب و غریب ہے۔ سب سے پہلے سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے عظیم المرتبت ساتھیوں کی زندگیاں اور ان کے کارنامے پیش کیے جاتےہیں۔ اس دور کے بارے میں مسلمانوں کے ذہن میں کوئی زیادہ اُلجھن پیدا نہیں ہوتی۔ یہ مقتدر ہستیاں اُمت مسلمہ کی ایک بہت بڑی اکثریت کی نظر میں ایسی ہیں، جن کی عظمت کے نہ صرف مسلمانوں کے دماغ قائل ہیں، بلکہ جن کی محبت سے اُن کے دل بھی معمور ہیں۔ مگر ان بزرگ و برتر شخصیتوں کے دُنیا سے تشریف لے جانے کے بعد ہماری تاریخ کا محور و مرکز وہ حضرات بنتے ہیں، جو بادشاہ تھے یا بادشاہ گر۔ ان حضرات میں بہت تھوڑی تعداد کو چھوڑ کر ایسے لوگ پیدا ہوئے جن کی شمشیر زنی، وجاہت، قوت و اختیار کو تو بلاشبہہ ایک دُنیا مانتی اور تسلیم کرتی ہے مگر مسلمانوں کے دلوں میں اُن کا وہ عزت و احترام نہیں جو ایک قوم کے دل میں اسلاف کا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان مستقل اقدار کا حامل ہے، اُس کا ایک مخصوص اسلوبِ حیات ہے اور اس کا ایک الگ نصب العین ہے۔ وہ زندگی کے سارے واقعات و حوادث کو، اس دُنیا کی چھوٹی بڑی، تمام شخصیتوں کو ، اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو اسی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس بناپر اُس کے لیے یہ چیز قطعاً کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ کوئی شخص بوریا نشین ہے یا بادشاہ۔ اُس کی محبت اور عقیدت کا معیار صرف ایک ہے:’’کوئی شخص کس حد تک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا متبع اور فرماں بردار ہے۔ اور جو شخص جس نسبت سے بھی اس معیارپر پورا اُترتا ہو، اُس کی دنیاوی حیثیت خواہ کچھ ہی ہو، وہ اسی تناسب سے محبت اور احترام کے لائق ہے‘‘۔

یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے بادشاہوں کے بجاے عالموں، درویشوں اور’فقیروں‘ سے محبت کی ہے۔ دربار و ایوان میں رہنے والوں کے بجاے اُن لوگوں کا احترام کیا ہے جو جھونپڑوں اور خانقاہوں میں رہتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مسلمانوں کے لیے یہ چیز سرے سے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی کہ کسی شخص کا دُنیاوی مرتبہ اور مقام کیا ہے۔ اُس کے لیے بس ایک ہی ترازو ہے اور ایک ہی پیمانہ، اور وہ ہے اسلام۔ اور اسی کے مطابق وہ ہرشخص کو تولتا اور اس کے اعمال کو جانچتا ہے۔ (’مطبوعات‘، پروفیسر عبدالحمید صدیقی،ماہنامہ ترجمان القرآن، جلد۴۹، عدد۶، جمادی الاخریٰ ۱۳۷۷ھ، مارچ ۱۹۵۸ء،ص ۵۵-۵۶)

دو مختلف نظاموں میں کچھ چیزیں مشترک ہوتے ہوئے بھی، وہ الگ الگ نظام ہوتے ہیں۔ ان دونوں نظاموں کی تفصیلات کا جائزہ لیتے ہوئے ان میں بیش تر چیزیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہوں، مگر اس کے باوجود ہم انھیں ایک نظام نہیں کہہ سکتے۔ دو مختلف نظاموں کا کسی ایک یا چند اُمور میں ایک دوسرے سے متفق ہو جانا بھی کبھی اُن کے ایک ہونے کی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہی حال اسلام اور مغربی جمہوریت کا ہے۔

اس ضمن میں یہ چیز ذہن نشین رہے کہ کسی نظام کا اصل جوہر طریق نہیں بلکہ وہ اصولی و مقصدی روح ہوتی ہے، جو اُس کے اندر جاری و ساری رہتی ہے اور اسی روح کے متعلق ہم حکم لگاسکتے ہیں۔

ان گزارشات کے بعد اب آپ مغربی جمہوریت اور اسلامی جمہوریت کے فرق پر غور فرمائیں:

  1. مغربی جمہوریت میں حاکمیت جمہور کی ہوتی ہے اور اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مغربی جمہوریت میں کسی چیز کے حق و ناحق کا فیصلہ کرنے کا آخری اختیار اکثریت کو حاصل ہے ، مگر اسلام میں یہ حق صرف باری تعالیٰ کو پہنچتا ہے، جس نے اپنا آخری منشا    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا پر واضح فرما دیا۔ یہ اختلاف کوئی معمولی نہیں بلکہ اس کی بنا پر یہ دونوں نظام بنیادوں سے لے کر کاخ و ایوان تک ایک دوسرے سے مختلف ہوجاتے ہیں۔
  2. اسلامی جمہوریت میں خلافت ایک امانت ہے، جو ہرمسلمان کو سونپی جاتی ہے، اور تمام مسلمان محض انتظامی سہولت کے لیے اُسے ارباب حل و عقد کے سپرد کردیتے ہیں۔ مغربی جمہوریت میں اصحابِ اقتدار صرف اپنی پارٹی [یا منتخب ایوان] کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اسلامی ریاست میں عوام کے نمایندے خدا اور خلق دونوں کے سامنے جواب دہ ہیں۔
  3. یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اسلامی نظام صرف ایک طریق انتخاب تک محدود نہیں ہے بلکہ زندگی کے سارے معاملات میں اپنا ایک مخصوص نقطۂ نظر اور زاویۂ نگاہ پیش کرتا ہے۔ اس کا مطالبہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسولؐ اللہ کو آخری سند مان کر اپنی پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ان کے مطابق ڈھالا جائے___ پاکستان میں ’قراردادِ مقاصد‘ کے ذریعے اس اصول کو تسلیم تو کیا گیا ہے، مگر افسوس کہ  اس کے نفاذ کے راستے میں ہرطرح کی رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔ (’رسائل و مسائل‘ [پروفیسر عبدالحمید صدیقی]، ترجمان القرآن، جلد۴۹، عدد۳، ربیع الاوّل ۱۳۷۷ھ، دسمبر ۱۹۵۷ء،ص ۱۸۳-۱۸۴)