مئی ۲۰۰۴

فہرست مضامین

مولانا مودودیؒ کا تنظیمی کارنامہ

ڈاکٹر حسن صہیب مراد | مئی ۲۰۰۴ | افکار

Responsive image Responsive image

جماعت اسلامی اپنی ہم عصر قومی سیاسی و دینی جماعتوں ہی میں نہیں‘ بلکہ دیگر اسلامی تحریکوں کے درمیان بھی ممتاز مقام رکھتی ہے۔ ۲۰ ویں صدی میں اس جماعت نے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ معاشی‘ معاشرتی‘ تعلیمی‘ ثقافتی اور دفاعی معاملات میں قومی ترجیحات کے تعین‘ اقدار کے تحفظ اور رجحانات کے فروغ میں بھی اپنا خاطرخواہ اثر ڈالا ہے۔ سیاسی تاریخ پر نظر رکھنے والے اہل دانش‘ جماعت اسلامی کو پاکستان کی انتہائی منظم اور بین الاقوامی سطح پر با اثر جماعت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔

جماعت کا کردار‘ قومی ارتقا میں تبدیلی کے جان دار محرک کے طور پر ہمیشہ مسلمہ رہا ہے۔ جماعت کی اس دیرپا اور ممتاز خصوصیت کو اس کے اصل پس منظر میں دیکھنے کے بجاے بعض تجزیہ نگار مغالطے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک سوشلسٹ لیڈر طارق علی نے لاہور میں گذشتہ برس تقریر کرتے ہوئے کہا: ’’جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے زیادہ منظم جماعت ہے‘ مگر اس نے تنظیمی اصول کمیونسٹ پارٹی سے لیے ہیں‘‘۔ سوال یہ ہے کہ اگر واقعی کمیونسٹ پارٹی کوئی آئیڈیل اور مثالی تنظیمی اصول رکھتی تھی‘ تو پھر وہ اپنی اٹھان کے بعد بقا اور اقتدار کے لیے محض ریاستی جبر ہی کی محتاج کیوں رہی‘ اور پھر یہ کہ آج معدوم کیوں ہوگئی ہے؟

  • ابتـدائیہ: جماعت اسلامی‘ اپنے موسس سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی شاہکار تخلیق ہے۔ بجا طور پر اسے ان کی تنظیمی فکر اور قائدانہ صلاحیت کا پر تو قرار دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی جماعت یا ادارے کے لیے اپنے بانی کی فکر اور قیادت کی چھاپ سے فرار اختیار کرنا ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تنظیم کا قیام‘ اس کی ترقی اور وسعت‘ اس کا زمانی و مکانی ارتقا‘ پیش آمدہ چیلنج اور مقابلے کی حکمت عملی‘ ان سب کا انحصار خاصی حد تک بانی کی سوچ پر ہوا کرتا ہے۔ جماعت اسلامی کی بنیاد‘ تنظیم و قیادت کے جن اساسی تصورات پر رکھی گئی اور جس کی جھلک آج بھی اس کے کام کے مختلف گوشوں میں دیکھی جا سکتی ہے‘ اس کا مشاہدہ اس کے بانی کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ مولانا مودودیؒ Organization & Management Science (علم نظمیات و ادارات)کے شعبے میں کلیدی مقام کے حامل ہیں۔ نظم و قیادت کے امور پر سوچنے اور سمجھنے والوں کی اکثریت‘ مشاہدے کے ذریعے تنظیمات و قیادت کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتی ہے اور بالعموم قرطاس و قلم تک ہی محدود رہتی ہے۔ دوسروں کے کام کو دیکھنا‘ پرکھنا‘ اور سمجھنا آسان کام ہے۔ مولانا مودودی کی خدمات‘ علم و عمل دونوں لحاظ سے کسی بھی دوسرے ماہر علم اجتماعیات و ادارات سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہیں۔ اس پہلو سے ان کی فکر اور ان کی عملی کوشش کا ماہرانہ جائزہ اب تک باقاعدہ طور پر نہیں لیا گیا ہے۔

اس مضمون میں پیش کردہ معروضات کا مقصد مولانا مودودی کو ان کے تنظیمی کارنامے کی روشنی میں‘ علم نظمیات کے شعبہ میں متعارف کرانا ہے۔ اس شعبہ علم میں وہ دو لحاظ سے تحقیق اور مباحثے کا اہم اور دل چسپ موضوع بن سکتے ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر تفہیم القرآن اور دیگر تحریروں میں تفصیلی گفتگو کی ہے: معاشرے کی تنظیم‘ قوم و ملک کی سطح پر بننے والی اجتماعیت‘ تنظیم سازی‘ تحریک اٹھانے اور چلانے کا عمل‘ حکومت کا نظام اور اس کے متبادل راستے‘ قیادت اور اولوالامر کی ذمہ داریاں‘ شہریوں یا ممبران کے فرائض و حقوق وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام اور اس کے علاوہ بھی اس اہم موضوع سے متعلق دیگر امور پر مولانا مودودی نے گہرائی کے ساتھ اور کھل کر اپنی آرا کو پیش کیا ہے۔ نظریاتی دلائل دینے کے ساتھ ساتھ تاریخی تجزیے بھی کیے ہیں۔یہ افکار تنظیم سازی کے میدان میں ایک نئے زاویۂ نظر کے اضافہ کا باعث ہیں۔ بالخصوص ایک ایسے شعبۂ فکر میں کہ جس کی تشکیل بنیادی طور پر لادینی فکر کے سائے میں ہوئی ہے۔

ثانیاً‘ انھوں نے اپنے آپ کو نظریت تک محدود رکھنے اور علمی قیادت کے بلند منصب پر محض فائز رہنے کو کافی سمجھنے کے بجاے عملی قیادت کا بیڑا بھی اٹھایا۔ اس لحاظ سے خود اپنا ایک ’خصوصی مطالعہ‘ (case study) بھی فراہم کیا۔ نظری و اصولی بحث کے شیش محل سے باہر نکل کر‘ عملی میدان میں خاک آلود ہونے کا خطرہ مول لیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے مولانا مودودی نے اپنے افکار و نظریات کو کیا فائدہ یا نقصان پہنچایا؟ انھوں نے مقصدی لحاظ سے کیا کھویا اور کیا پایا؟ خلافت و ملوکیت اور تجدید و احیاے دین کے بے لاگ مصنف نے خود کیا معیار اور نمونہ چھوڑا؟ اس نمونے کے مثبت یا منفی پہلو کیا ہیں؟ یہ سوالات آج کے اور مستقبل کے مورخ کی دل چسپی اورتوجہ کا موضوع بن چکے ہیں۔ زیر نظر مضمون مولانا مودودی کی تنظیمی میدان میں فکری و عملی کاوش کو مرکز بحث بنانے کی ایک ادنیٰ کوشش ہے۔ بلاشبہہ ان کی تنظیمی خدمات کو جس طرح پیش کیا جانا چاہیے تھا وہ اب تک نہیں ہو سکا ہے۔ یہ کام ایک معروضی جائزے کا محتاج ہے۔

۱

گذشتہ نصف صدی میں‘ دوسری جنگ عظیم کے بعد نظم و ادارات اور تنظیم و قیادت کے شعبے میں فکری وعملی اعتبار سے بہت زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ جامعات میں اس مضمون سے متعلق خصوصی شعبے اور ادارے بہت مقبول ہوچکے ہیں۔ ایک نئے اختصاصی صنفِ علم کی تشکیل کا یہ سارا کام‘ مادیت اور لادینیت کے فکری ڈھانچے میں ڈھلا ہے۔ اس فکر کے تحت قائم ہونے والے تعلیم و تربیت کے مراکز دنیا بھر میں پھیلتے جا رہے ہیں۔ ہر ایک یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ انسان کیسے جمع ہو سکتے ہیں؟ قیادت کے اوصاف کیا ہونا چاہییں؟ تنظیمی عمل کن عوامل کا مرکب ہے؟ انسانوں کی فطری جبلت کیا ہے؟ ان سے کس طرح اعلیٰ معیار پر کام لیا جا سکتا ہے؟ کون سی اقدار اور کون سے اصول انسانی تعلقات کو مثبت رخ دے سکتے ہیں؟ تنظیم کی ساخت کیسے تبدیل ہوسکتی ہے؟ تنظیمیں اپنے ماحول پر کیسے اثر ا نداز ہوتی ہیں اور کس طرح ماحول پر اثر ڈال سکتی ہیں؟ فیصلہ سازی کا بہترین طریقہ کار کیا ہے؟ اجتماعیت میں انصاف کے تقاضے کیا ہیں؟ کون سے محرکات انسان کو فعال بنا سکتے ہیں؟ تنظیم کا تشخص کیسے قائم ہوتا ہے؟

ریاستی اداروں‘ فوج‘ سیاسی جماعتوں‘ کاروباری اداروں‘ غیر سرکاری تنظیموں‘ بین التنظیمات انجمنوں (Interorganizational Associations) ہی کا نہیں بلکہ ہر خاندان اور فرد کی کامیابی و ناکامی کا انحصار درج بالا سوالات کے جوابات پر ہے۔ مغرب میں علوم اجتماعیہ کے فکری امام اور ان کے پیروکار گذشتہ عرصے میں افراط و تفریط کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ ایک نظریے کی ناکامی کے بعد وہ دوسرے نظریے کی طرف قلابازی کھا کر پہنچ جاتے ہیں۔ دوسرے سے مایوس ہو کر تیسری طرف ٹکر مارتے ہیں۔ انھی ٹامک ٹویوں کے نتیجے میں نظریۂ قیادت‘ فکرِاجتماعی اور اصولِ ادارت کو ٹھیرائو نہیں مل سکا۔ ایک دور کے مقبول ترین قاعدے اور مقدس کلیے اگلے دور میں آسانی کے ساتھ مسترد کر دیے گئے۔ اس شعبۂ علم کا جھکائو اب آخرکار ان نظریات اور اقدار کی جانب ہو رہا ہے‘ جس میں بعض مولانا مودودی کے طرز قیادت اور تصور تنظیم سے کسی نہ کسی درجے مناسبت بھی رکھتی ہیں۔

آج کاروباری اداروں میں مشن‘ مقاصد‘ اخلاقیات‘ خدمتِ عامہ‘ ایمان پر مبنی قائدانہ کردار‘ انسانی اثاثہ کی نشوونما‘ کسی بھی کام کے نتیجے کا انتظار کرنے کے بجاے نتیجے کا پہلے سے اندازہ لگانا‘ فیصلہ سازی میں اقدار اور پیمان کو اولیت دینا‘ تنظیم میں روایات کو شعوری طور پر فروغ دینا‘ طویل المیعاد اور مابعد طویل المیعاد بنیاد پر سوچنا‘ دنیا کو اکائی کی صورت میں دیکھنا‘ اموال اور افراد کے مابین ترتیب کو درست کرنا‘ انسان کو محض مادی جنس سمجھنے کے بجاے اس کے دل و دماغ کے مرکب اور روحانی اور جذباتی پہلوئوں کو بھی بروے کار لانا‘ اجتماعی سرگرمیوں کو ہر سطح پر جواب دہی اور امانت داری کے ساتھ انجام دینا‘ یہ اور اس طرح کے بہت سارے دیگر تصورات جو آج تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں‘ جدید دور میں مولانا مودودی نے کم و بیش ان تمام امورِ نظم و ربط کو عملاً جماعت میں کہیں زیادہ خوبی اور کمال کے ساتھ رائج کیے ہیں۔ اگر مولانا مودودی کے تنظیمی نظریات اور ان کا تنظیمی کارنامہ مغربی درس گاہوں اور علم تنظیم کے ماہرین تک کسی صورت میں پہنچ پاتا تویقینا ان کے افکار کی ضرور قدر ہوتی اور وہ اس مضمون کے صف اوّل کے ماہرین بھی شمار ہوتے۔

مولانا مودودی نے عملی زندگی کا آغاز علمی صحافت سے کیا تھا۔ ان کے مضامین کی پذیرائی اور مقبولیت نے ان کو بہت جلد صف اول میں لاکھڑا کیا۔ ان کے فکر کی گہرائی‘ اسلام سے لگن‘ حالات پر عبور‘ اور طرز تحریر کی اثر پذیری نے ان کو فکری رہنما بنا دیا۔ کسی عام فردکے لیے اس مقام پر پہنچ جانا کافی ہوتا ہے۔ کتب کی تصنیف‘ مذاکرے اور مباحث میں شرکت کی دعوتوں کا طومار‘ نقادوں اور تبصرہ نگاروں کی دل چسپی‘ اور فکر کی بڑھتی ہوئی چھاپ‘ صاحب قلم وقرطاس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ بس اسی میدان کا ہو کر رہے اور بلاوجہ عملی کاوش کی آزمایش میں اپنے آپ کو مبتلا کرنے سے بچ کر رہے۔ فکر کو عملی روپ دینا سخت مشکل کام ہوتا ہے۔مولانا مودودی اگر قُل تک محدود رہتے تو بھی وہ برصغیر کے نامور ترین علما میں شمار ہوتے اور ان کی فکر دُور دُور تک پھیلتی۔ لیکن قُل کے بعد قُم کے منصب پر فائز ہو کر انھوں نے ان گنت دشمنیاں‘ مصائب اور خطرات مول لیے۔

مولانا مودودیؒ نے حق کو واشگاف کیا اور ا س کے بعد ’حقیقت‘ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جمعیت العلما کے اخبار الجمعیۃ کی ادارت سے جماعت کی امارت کا سفر‘ اجتہاد سے جہاد کی معراج کا عنوان بنا۔ اسی سفر کے دوران وہ رسولؐ اللہ کی اتباع کرتے ہوئے ہجرت کے راستے پر چلے اور تاسیسِ تحریک کے اقدام کی منزل کو سامنے پایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مصنف مودودی کی خشتِ اوّل ہی میں موسسِ تحریک‘ سید مودودی کی صورت پنہاں تھی۔ الجہاد فی الاسلام ان کی پہلی پکار بھی تھی اور اس پکار پرپہلی لبیک بھی ان کی اپنی تھی۔ منزل کی طرف  قدم بڑھانے کا عزم بھی موجود تھااور تحریک کے لیے قربانی کا شعور بھی موجزن تھا۔

مولانا مودودی کے لیے فکری قیادت سنبھالنے کے بعد‘ عملی قیادت کے میدان میں قدم رکھنا ایک بہت بڑا امتحان تھا۔ بالعموم یہ دو مختلف خصوصیات رکھنے والے مزاج کی شخصیتوں کا تقاضا کرتا ہے۔ فکری قیادت: سوچ‘ مطالعے‘ مشاہدے‘ خلوت اور فکری مباحث میں شرکت کا تقاضا کرتی ہے۔ اس میدان میں ممتاز ہونے کے لیے عمل کا روگ نہ لگا ہو تو اسے بھی ایک خوبی سمجھا جاتا ہے۔ فرد‘ حساب دینے کی پابندی سے آزاد رہ کر صرف نظری مہارت تک محدود رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں عملی قیادت: تحرک‘ رابطہ‘ دورہ‘ مہمات اور اثر و نفوذ کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھنے کے لیے جتناکام کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ عملیت پسندی کا تقاضا ہوتا ہے کہ نظریات کے قلاوے سے دور رہا جائے‘ تاکہ پابندیاں کم سے کم ہوں۔ اکثر مفکر‘ مصلح بن کر پھر مصلحت اور مصالحت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ بالعموم بڑے رہنما ان دوخانوں میں سے کسی ایک میں تخصص حاصل کرکے ہی اپنی قیادت کے جوہر دکھلا پاتے ہیں اور ایسا کرنے کو بالعموم کوئی عیب بھی نہیں کہتا۔

مولانا مودودی نے دونوں میں منقسم یا کسی ایک میں مقید ہونے کے بجاے دونوں کو ایک ہی وحدت کے دو تقاضوں کے طور پر دیکھا۔ ان کی تقریر آسانی سے تحریر بن جاتی ہے اور تحریر میں تقریر کا مزا لیا جاسکتا ہے۔ ان کا قول ایک پکار کی مانند بلند ہوتا ہے‘ جب کہ ان کا    عمل اس قول کی تائید میں گواہی دیتا ہوا ہر لفظ کے پیچھے نظر آتا ہے۔ ایک صاحبِ کلام فرد کا صاحبِ تنظیم بن جانا شخصی لحاظ سے ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ اس کمال درجے کے قائدانہ معیار پر گذشتہ صدی میں مشرق و مغرب میں اور کون پہنچ سکا ہے؟ یہ نمونہ پیش کرنا کسی کرشمے سے کم نہ تھا۔ قولی شہادت اور عملی شہادت دونوں کی ادایگی‘ زمین کے اوپر تنظیم کی گاڑی کی ڈرائیوری اور ساتھ ہی افکار کے افق پر مسلسل ضربِ کاری اور ان دونوں کاموں کو ساتھ لے کر چلنا ایک ایسے ذہن کی غمازی کرتا ہے کہ جو تنوع کو وحدت کا رخ دے سکتا ہے۔ جو کہنے اور کرنے کو دو الگ نوعیت کے کام سمجھنے کے بجاے ان کو ایک کام کے دو زاویوں کے طور پر نبھا سکتا ہے۔

علمی کام تو عام طور پر درس گاہوں‘مکتبوں اور کتب خانوں تک محدود رہتا ہے۔ جہاں بعد میں بھی ان کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے۔ تنظیم کی بنا ڈال کر مولانا مودودی نے اپنے علمی کام کو جہاں ایک جانب محدود کر لینے کا اور اسے مخالفین کی جانب سے تنقید و جرح کا نشانہ بننے کا خطرہ مول لیا‘ وہیں بالآخر اس کام کو تحریک کی شکل دے کر زیادہ موثر اور دیرپا بنانے کا انتظام بھی کیا۔ مؤثر تحریر وہی کہلائے گی جو عملی دنیا میں تبدیلی لا سکے۔

مولانا مودودی نے کتاب اور انسان دونوں ہی تصنیف کیے ہیں۔ انسان کے لیے کتاب تھی اور کتاب کے لیے انسان تیا ر ہوئے۔ فَانْتَظِرُو سے فَفِرُّوکے درمیان کوئی فرق باقی نہ رہا۔ مفکرمودودی کی فکر کے بارے میں کہا جا سکتا ہے: انھیں جو کرنا چاہیے وہ اسے       نہ کرتے‘ قعدہ ہی میں رہ کر سوزوساز میں مشغول اور قیام سے غافل رہتے تو ان کی تحریریں    بے جان اور غیر متعلق ہوکر رہ جاتیں اور تاریخ کا فیصلہ ان کے بارے میں مختلف ہوتا۔

۱۴۰۰ سال پہلے کہی ہوئی بات کو نئے تناظر میں پیش کر دینا ایک طرف‘ لیکن اس نظام کے ازسرنو قیام اور اس کو اعلیٰ درجے کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا معیار قرار دے کر تحریک کھڑی کر دینا‘ مجاہدانہ جرأت ہے۔ وہ بھی ایک ایسے دور میں جبکہ زوال پستیوں کو چھو رہا ہو‘ ملت کا شیرازہ پارہ پارہ ہو چکا ہو‘ غلامی کا شکنجہ ذہنوں کو جکڑ چکا ہو‘ مغرب زدگی کا چلن عام ہو‘ مذہبیت فرسودگی کی علامت ہو‘ مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو متحدہ قومیت کے تیزاب میں پھینکے جانے کی تیاری ہو رہی ہو‘ مجرد مادی ترقی کو تمدنی ترقی کا قائم مقام سمجھ لیا گیا ہو‘ اور مشین کے اوتار کو قیام و سجود کا سزاوار سمجھ لیا گیا ہو۔

ایسے دور میں کیا مولانا مودودی تنظیم کھڑی کرنے میں حق بجانب تھے؟ کیا وہ یہ سوچ نہیں سکتے تھے کہ ’’حالات مزید سازگار ہو جائیں تو قدم اٹھانا چاہیے‘‘ --- بھلا ۷۵ افراد اور ۷۴روپے سے کیا بوجھ اٹھانا مقصود تھا۔ جو کام صدیوں میں دوبارہ نہ ہو سکا‘ اس کو منزل مقصود بناکر چلنا کیا دانش مندی تھی؟ ان کے سامنے کیا نسخہ تھا جس پر ان کو بھروسا تھا کہ اس کا نتیجہ ضرور نکلے گا۔ اسباب و تدابیر کا کون سا امتزاج پیش نظر تھا جو ان کے خیال میں قومی سطح پر بڑی تبدیلی لانے کا باعث بن جائے گا؟ مولانا نے تنظیم کی جدت کو‘ اسلام کے کا م کے لیے کیوں اختیار کیا؟ اور پھر سب کچھ تنظیم کے لیے وقف کر دیا۔ اُنھوں نے اپنے آپ کو فکری قیادت کے وسیع اور محفوظ اُفق سے گرا کر کچھ کر کے دکھانے کا شوق کس بل بوتے پر پالا؟

۲

درحقیقت تنظیم وہ حکمت تھی‘ جو ان کو امید دلاتی کہ صرف کچھ ہی نہیں بلکہ بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ پاکیزہ اور پختہ افکار کی قوت کے ساتھ اگر تھوڑی تعداد میں سہی‘ لیکن منظم گروہ کھڑا ہو تو وقت کے دھارے کو موڑنے اور نئے مستقبل کو ترتیب دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم ایک موثر ہتھیارہے جو پیغام کو تحریک کا روپ دے کر قوت و اختیار کے ایوان میں پہنچا سکتا ہے۔ مولانا مودودی پختہ نوعیت کا تنظیمی ذہن رکھتے تھے‘ جو دلیل‘ اسباب اور عمل کے پیمانے کو اُس کے ربط اور ضبط کے ساتھ اچھی طرح سمجھ سکتا تھا۔ ان کی وہ تحریریں جو قیام جماعت سے قبل شائع ہوئی ہیں اس بات کا پتا دیتی ہیں کہ قوموں کی ہیئت ترکیبی‘ اجتماعی بنائو اور بگاڑ‘ عملِ قیادت‘ مقصدیت اور اس کے تقاضے‘ نظمیات‘ علوم اجتماعی اور قانون سازی پر انھیں گہرا عبور حاصل تھا۔ انھوں نے غالب جماعتوں اور ان کی مقبول قیادت کو منطق سے بھرپور تنقید کا نشانہ بنایا۔    تجدید واحیاے دین کی کاوشوں کا تاریخی طور پر جائزہ لیا‘ اور نظام ریاست کو اس کی تمام تر باریکی اور پیچیدگی کے ساتھ سمجھا۔  شہادت حق سے لے کر اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے‘ پھر ہدایات سے لے کر کامیابی کی شرائط تک‘ اور تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل سے لے کر خلافت وملوکیت تک‘ ان کا تجزیہ ایک ماہر تنظیم کا ثبوت دیتا ہے۔ رسولؐ اللہ کی بنائی ہوئی اجتماعیت اور تحریک پر اُن کی گہری نظر‘ ان کے قاری سے چھپی نہیں ہے۔

مولانا مودودی نے دوسروں کے تنظیمی ماڈل کے محاسن و عیوب کا کھلے عام جائزہ پیش کیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک مختلف اور نیا تنظیمی ماڈل تجویز کیا۔ حکمت و ہمت کے ساتھ اس ماڈل کو عملی روپ دینے کی کوشش کی۔ ان کی بنائی ہوئی تنظیم کا ایک عرصہ ان کی قیادت میں گزرا اور پھر ان کی رحلت کو بھی ایک عرصہ گزر چکا ہے۔  اسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے مولانا مودودی کا فیصلہ درست تھا۔ ان کی بنائی ہوئی تنظیم ان کے طے شدہ اہداف پر اور دیے ہوئے معیار پر کس حد تک پورا اتر سکی ہے؟ اس پر بات کرنے کی گنجایش موجود ہے‘ لیکن یہ امر کسی بحث سے بالاتر ہے کہ کیا تنظیم بنانا واقعی ضروری تھا؟

مولانا مودودی کے تصور تنظیم کی آبیاری تو قرآن و سنت کے مطالعے سے ہوئی‘ لیکن مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعے نے ان کے اندر تنظیمی ضرورت کی شدت کو ایک نیا اُبھار دیا۔ انھوں نے اس کائنات کو نظم کی نظرسے دیکھا اور اس عظیم نظام کو نقص سے پاک ‘ایک فعال و متحرک کرشمے (dynamic organized entity) کے طور پر دیکھا۔ توحید کو تنظیم کے بنیادی اصول کے طور پر سمجھا اور اختیار کیا۔ صرف اللہ تعالیٰ کو حاکمیت کا مالک سمجھا۔ واضح کیا کہ انسان کو اللہ کا خلیفہ بنایا گیا ہے۔ بندگی رب اور اطاعت الٰہی نے ان کو دستور‘ ضابطے‘ قوانین سے روشناس کرایا۔ حدود و قیود کی اہمیت کی وضاحت کی۔ انسانوں کی ہدایت کے بعد گمراہی‘ طاغوت کے روپ میں دوسرے انسانوں کو اپنی بندگی کی زنجیر میں جکڑنے کی کوششوں کا تجزیہ انھوں نے قرآن میں  مذکور واقعات کی روشنی میں کیا۔ پھر انبیاء علیہم السلام کی جدوجہد سے پھوٹنے والی ہدایت سے رہنمائی لینے کا قرینہ سکھایا۔ بالخصوص رسول اللہؐ کی عظیم الشان جدوجہد جو قرآن میں مذکور ہے‘ اسے جدید ترین اسالیب میں پیش کیا۔ امت کا تصور جو نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ ایمان پر استوار ہے‘ دراصل ایک جماعت کا عندیہ دیتا ہے۔ امت ایک پارٹی ہے جو حاکمیت الٰہی اورحکومت الٰہیہ کے لیے قائم ہوئی ہے۔ اگر امت یہ کام نہ کر رہی ہو تو وہ بحیثیت امت اپنا منصبی کام نہیں کر رہی ہے۔ امت کا یہ تصور‘ قوموں کی تشکیل کے نظریات سے یکسر مختلف ہے۔ یہ ایک متحرک اور مقصدی گروہ ہے  جس کا اصل رشتہ زمین کے کسی ٹکڑے یا نسل کے کسی سلسلے سے نہیں‘ بلکہ ایمان سے ہے۔ مملکت اور ریاست کی یہ محتاج نہیں اور زبان و نسل‘ رنگ و علاقہ کی یہ پابند نہیں۔

امت کا یہ تصور‘ اور پھر امت کے اندر ایک ایسے گروہ کی نشان دہی جو امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے لیے وقف ہو‘ جس نوعیت کی تنظیم سازی کا تقاضا کرتا ہے مولانا مودودی نے عملاً اس کی بنیاد رکھی۔ رسولؐ اللہ نے کس طرح جماعتِ صحابہؓ کے ذریعے تیس سال میں پورب و پچھم کو اسلام کی دعوت سے ہمکنار کر دیا؟ اسوہ رسولؐ اس کا ایک عملی نمونہ ہے۔ یہ ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ عام انسانوں کے ہاتھوں یہ کچھ ہونا ممکن ہے اور ایسا بار بار ہو سکتا ہے۔ بہرصورت اس طرح کی تبدیلی کے قریب پہنچا جا سکتا ہے۔ ایمان اور پھر ہو سکنے پر یقین ہی کر سکنے کی بنیادی تدبیر یعنی تنظیم کی طرف راغب کرتا ہے۔

مولانا مودودی کا ذہن نظم کا خوگر تھا‘ تنظیم کا بھرپور ادراک رکھتا تھا‘ اور تاریخی لحاظ سے انسانی معاشرے میں نظم و تنظیم کے ارتقا کے مراحل کو پہچانتا تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ بادشاہت پر مبنی سلطنت کی جگہ جمہوریت پر مبنی مختلف نظریات کے حامل افراد ‘سیاسی پارٹیوں کی صورت میں مجتمع ہو رہے ہیں‘ تاکہ ریاست کا انتظام ان کی ترجیحات اور اقدار کے مطابق چلایا جائے۔

دوسری جانب طبقات اور مفادات کا گٹھ جوڑ ریاستی نظام کی چولیں مسلسل ہلا رہا تھا۔ ریاستی نظام‘ سیاسی جماعتوں کی کش مکش اور ان کے ذریعے نظریات و قیادت کی فراہمی پر منحصر ہوگیا تھا۔ یورپ و امریکہ میں بڑی سیاسی جماعتوں کے قیام کے ساتھ ہی تجارت و معیشت کے میدان میں بھی بڑی بڑی کمپنیاں عالمی سطح پر اشیا کی کثیر المقدار ترسیل و صناعی کے لیے وجود میں آرہی تھیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا تجارتی لین دین ہی سیاسی تسلط اور حکمرانی کا ذریعہ بن گیا تھا۔ ریل‘ ڈاک‘ پریس‘ تار‘ موٹر گاڑی‘ ریڈیو‘ فلم‘ اخبار یہ سب کچھ ایسے دور کے آغاز کی نوید دے رہے تھے کہ جس میں کسی قوم کے تمام افراد پہلے سے زیادہ مربوط اور باہم پیوستہ ہوں گے۔ آسانی سے اور جلدی میں متاثر کرنے اور متاثر ہو سکنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

مغربی افکار کی گھن گرج‘ اخلاق و اقدار کو لپیٹ میں لے رہی تھی۔ ۱۹۲۰ء کے عشرے میں کمیونسٹ پارٹی نے روس کو عملاً اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ روس کی قدیم سلطنت ’زار‘(Czar) کا تار و پود کمیونسٹ پارٹی کی یلغار کے سامنے ڈھیر ہو گیا تھا۔ دونوں بڑی عالمی جنگوں نے جدید خطوط پر منظم افواج کی برتری کے نئے اسلوب نمایاں کیے۔ اسی عرصے میں خلافت عثمانیہ کی  ٹوٹ پھوٹ‘ مسلم ممالک میں اسلام کی غربت‘ عوام کی جہالت‘ اخلاقی زوال اور دوسری تبدیلیاں اس بات کا پتا دے رہی تھیں‘ کہ مسلمان قوم‘ تباہی کے غار میں گرچکی ہے‘ نصب العین کھو چکی ہے‘ اپنے عظیم کارنامے بھول چکی ہے‘ اور مرعوبیت نے اس کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ تحرک اور داعیہ مفقود ہے‘ اور قیادت کا بحران‘ نظم و ضبط کا فقدان‘ باہم رسہ کشی اور فکری ژولیدگی اس سب پر مستزاد۔

جس مفکر کو تبدیلی مطلوب تھی‘ وہ اس فضا میں تنظیم کو بحیثیت قوت اور ذریعہ (instrument) کے طور پر روبہ عمل لانے کا قائل ہو چکا تھا۔ مولانا مودودی کا یہ وہ رفیع الشان اجتہاد ہے‘ جس کے اثرات ان کے دیگر فکری کارناموں سے کہیں زیادہ وقیع ثابت ہوئے۔ مسلمانوں کو جدیدتنظیم کی صورت میں پرونے کا کام آسان نہ تھا۔ وہ ایک عام فرد تھے‘ اور ان کے پاس کوئی الہٰ دین کا چراغ نہ تھا۔ دنیا کے مروجہ چلن کے مطابق وہ حکمرانی کا حق بھی نہ رکھتے تھے‘ دولت و قوت بھی نہیں رکھتے تھے‘ اللہ کے عاجز بندے تھے۔ ان کی یہ سوچ کہ: ’’میں بندگان رب کو اکٹھا کروں گا‘‘ اُس زمان و مکان میں ایک جسارت تھی۔ خود اﷲ کے مددگار کی حیثیت سے کھڑا ہوجانا اور دوسروں کو بلانا ایک عظیم الشان چیلنج کو دعوت دینا تھا۔ خدائی فوجداری کا طعنہ سننے کے لیے تیار ہونا سخت مشکل کام تھا۔ حصولِ اقتدار کی خاطر کوشش کرنے والوں کے مقابلے میں حاکمیت الٰہی کے لیے امامت ِ صالحہ کا نسخہ لے کر کھڑا ہونا کسی بھی طرح آسان نہ تھا۔

مسلمانوں میں تنظیم کا شعور‘ معاصر مغربی اقوام کے مقابلے میں کہیں زیادہ کمزور تھا۔ مسلمانوں کے اندر اسلام کی بنیاد پرمسلمانوں کی الگ سے تنظیم‘ یہ ایک عجیب سی بات نظر آتی تھی۔ تعلیمی و تربیتی ادارے‘ علما کی مستقل تحقیقی مجالس‘ اولیا کے مراکز سے لوگ مانوس تھے اور انھی ’مراکز تجلیات‘ سے باخبر تھے۔ لیکن ایک بھرپور جماعت جس میں شمولیت کو ایمان کا تقاضا سمجھا جائے‘ اس حقیقت سے لوگ ناآشنا تھے۔ جو چند ایک آشناے راز تھے بھی تو اس بھروسے اور اعتماد کے مقام پر نہ تھے جو افراد کو کھینچ کر قریب لے آتا ہے‘ یا وہ اس عزم و استقلال سے محروم تھے جو پہاڑوں سے ٹکرانے اور طوفانوں کا رخ موڑنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

مولانا مودودی نے تنظیم کی روایت کو‘ جیسا کہ اسے اس وقت کے ’جدید معاشرے ‘ میں سمجھا جاتا ہے‘ مسلمانوں میں فروغ دیا۔ اس کو جہاد اور عمل صالح کا لازمی تقاضا قرار دیا۔ اس طرح تنظیم کو ایمان کا جزو لاینفک ٹھیرایا۔ یہی ان کا بہت بڑا اجتہاد تھا۔ یہ کار خیر ان کے دوسرے کار ہائے خیر سے کہیں زیادہ بھاری اور بابرکت ثابت ہوا ہے۔ دینی جدوجہد کے پورے دھارے کو گذشتہ صدی میں ایک نئی جہت ملی ہے۔ اس ماڈل پر ہر معاشرے میں جہاں مسلمان بستے ہیں‘ چھوٹی بڑی تنظیمات وجود میں آئی ہیں۔ مسلمانوں میں تنظیمی رویے کو فروغ ملا ہے۔ اس کے ذریعے امت اور جماعت مسلمین کے تصور کو‘ ریاست کے نظام کی مخالفت کے باوجود اپنانے کا موقع ملا ہے۔ حاکمیت الٰہی اور اطاعت رسولؐ کے ساتھ‘ نظم جماعت کو وابستہ کرنے سے وحدت اور حرکت کو بیش بہا قوت ملی ہے۔ ریاست کی چھتری اور مملکت کی چار دیواری میسر نہ ہونے کے باوجود معاشرے میں اثر و نفوذ حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

آج عالمی کش مکش میں اسلام کا جو وزن محسوس کیا جا رہا ہے‘ وہ ان درجنوں ریاستوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان اجتماعی کوششوں کے سبب ہے جو مسلمانوں نے از خود اختیار کیں اور جن کے ذریعے تعلیم و تربیت‘ تحقیق و مطالعے‘ دعوت و ابلاغ‘ اتحاد و اجتماعیت سے متعلق سرگرمیاں ترتیب دی گئیں۔ تنظیمات کے اس جال نے امت کے سفینے کو بھنور سے نکالنے کی راہ دکھائی ہے‘ اقدار کا تحفظ کیا ہے‘ خطرات اور یلغار کا مقابلہ کیا ہے‘ اندرونی طور پر استحکام عطا کیا ہے‘ حکومت پر قابض گروہوں کی اندرونی سازشوں کے آگے بند باندھا ہے۔ یہ جذبہ مسلمانوں کو ملا ہے کہ وہ از خود اپنے آپ کو مجتمع کر کے درحقیقت بڑے بڑے کام انجام دے سکتے ہیں۔ جمع ہونا اور جمع ہو کر کام کرنا‘ ایمان کا لازمی حصہ ہے‘ تاہم اس کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ محاذ اور انداز و طریقہ کار میں اختلاف ہو سکتا ہے‘ مقاصد کے دائرہ کار میں انتخاب کیا جا سکتا ہے‘ قیادت و فیصلہ سازی کا نظام‘ دستوری اصول اور ضابط کار مختلف ہو سکتے ہیں لیکن اس قافلے میں شمولیت اور عمل شرکت ایک ناگزیر عمل ہے۔ اسی کے ذریعے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے‘ اعمال صالحہ کا حصول ہوتا ہے۔ یہی سنت نبوی صلی اﷲ علیہ و سلم اور سنت صحابہؓ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تنظیم پر مبنی اجتماعی ماڈل کا احیا ہونے سے مسلمانوںکو ایک بھرپور شناخت قائم کرنے کا موقع ملا۔ اس شناخت نے ناتواں اور منتشر قوم میں عظیم قوت کی لہر دوڑا دی۔ پژمردگی اور مردنی کو امید اور زندگی سے بدل دیا۔

تفہیم القرآن کے اکثر قارئین جن کا دائرہ صاحب تفہیم القرآنکی بنائی ہوئی  تنظیم سے باہر دور دور تک پھیلا ہوا ہے۔ جس میں ان کے مخالفین بھی شامل ہیں‘ کے لیے   تنظیم بالقرآن کی صورت میں عملی تفسیر کی جہت پر قدم بڑھانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔ گویا کہ تفہیم القرآن علمی تصویر ہے‘ جبکہ جماعت اسلامی عملی تفسیر اور تحریک کا روپ لیے ہوئے ہے۔ اس تحریک میں ہرقاری خود تفسیر کا رنگ بھر سکتا ہے۔ خطوط کار موجود ہیں۔ صاحب تفہیم القرآنکا   مطلوب و مقصود‘ انقلاب امامت تھا۔ جو شخص ترجمان القرآن کا مدیر‘ مضمون نگار‘ خزانچی‘ اور قاصد تھا‘ وہ اس کڑی سے بخوبی واقف تھا‘ جو کسی ادارے کو عمل کا روپ دینے اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے تسلسل سے قائم کرنا ہوتی ہے۔ وہ جانتا تھا کہ تنظیم کا قیام پیغام حق کی ترویج و اشاعت کے ذریعے کے طور پر انتہائی ضروری ہے‘ ایک مفکر انقلاب اور قائد تحریک میں بنیادی فرق‘ منتظم کے کردار کا ہے۔ مولانا مودودی کی سب سے بڑی انفرادیت دراصل منتظم اعلیٰ کی حیثیت سے ان کا کردار ہے۔ تنظیم بالقرآن کی اٹھان اور صورت گری‘ اجتماعیت کی تشکیل اور اس کو تحریک کی شکل میں فعال بنا کر نتیجہ خیز بنانا‘ یہ ان کا اصل ورثہ ہے۔ یہی خصوصیت ان کو ہم عصر علما اور دانش وروں کی صف میں ممتاز کرتی ہے۔موذنِ جماعت‘ مصورِ جماعت‘ کارکن جماعت اور امیرجماعت کی حیثیت سے ان کا کردار اسلامی تاریخ میں ایک نئی روایت اور ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔

۳

اس مضمون کے دوسرے حصے میں ان تصورات کا مختصراً تذکرہ کیا جائے گا جو مولانا مودودی نے عصر حاضر میں تنظیم کی تشکیل کرتے ہوئے پیش نظر رکھے:

  • محرکات اور مقصدیت: متفرق انسانوں کو ایک اجتماعی نظام میں اکٹھا کرنا اور کام پر لگانا‘ بغیر محرکات کے ممکن نہیں۔ آخر کوئی اپنا وقت کیوں لگائے؟ کیوں قربانی دے؟ کیوں کسی کی بات مانے؟ کیوں اس ایک مخصوص نوعیت کے اجتماع میں زندگی کی متاع کو صرف کرنے کے بارے میں سوچے؟ یہ سب کیسے ممکن ہو؟

مولانا مودودی نے محرکات پر بہت زور دیا ہے۔ ان کی رائے میں ایمان اور علم یہ دونوں وہ جذبہ اور داعیہ فراہم کرتے ہیں جس کی قوت انسان کو عمل پر ابھارتی ہے۔ ایمان‘ علم اور عمل پر بیک وقت ان کا زور رہا ہے۔ ’’اسلام پہلے علم کا نام ہے اور علم کے بعد عمل کا نام ہے‘‘ (خطبات: ص ۳۲)۔ شعوری مسلمان کا تصور‘ پیدایشی مسلمان اور پیدایشی برہمن یا عیسائی کے تصور سے مختلف ہے۔ اسلام کو جاننا اس کو ماننے سے قبل ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ محرک اور داعیہ پیدا ہوتا ہے‘ جو عقل اور قلب دونوں کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ عقلی محرکات یقین کی کیفیت پیدا کرتے ہیں‘ جبکہ قلبی محرکات فرد کو عمل کے لیے اٹھا کر کھڑا کر دیتے ہیں۔

مولانا مودوی نے انسانوں کو اجتماعی تحریک میں لانے کے لیے ’’شعوری ایمان‘‘ کی طاقت ور اصطلاح کو رائج کیا۔ ایک مقصد اور نظریہ فراہم کیا۔ جماعت ایک نظریاتی قوت کے طور پر نمایاں ہوئی‘ کیونکہ یہاں افراد کی وابستگی نظریے سے اور مقصد سے پہلے استوار ہوئی۔ جماعت میں شرکت نظریے کی بالادستی کی کوشش کا ذریعہ قرار پاتی ہے۔ بلاشبہہ جماعت اسلامی ایک نظریاتی تحریک ہے۔ جس کی بنیاد اور اٹھان ’علم‘کے اوپر ہوئی ہے۔ اس کی ترقی اور کامیابی کا انحصار اس علم کی وسعت پر ہے۔ اس علم پر ایمان اور وفاداری‘ اس جماعت کے افراد کی اولین خصوصیت ہے۔مولانا مودودی نے نظریے کو تنظیم پر سبقت دی۔ نظریے کو تسلیم کر کے تنظیم میں شامل ہونا ایک مختلف معنی رکھتا تھا۔ بالخصوص ایک ایسے دور میں کہ جب اصلاً لوگ تنظیم کو اور اس کے مفادات کو نظریے سے اوپر غالب رکھتے تھے۔ جماعت نظریے سے بنتی ہے اور نظریے کو ماننے والے اس میں حصول مقاصد کے لیے متحرک ہوتے ہیں۔ افراد کی حیثیت اور اہمیت نظریے کے تابع ہونے کے اعتبار سے ہے۔ تنظیم کے بجاے خود افادیت نظریے کے مفاد کے لیے ہے۔ یہ کلیہ ہر خاص و عام فرد کو مطمئن رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اجتماعیت کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع ملتا ہے‘ نیز فرد تنظیم کو جبر اور زیادتی کا آلہ کار سمجھنے کے بجاے‘ بقاے ایمان اور تقاضاے علم کے تحت ناگزیر سمجھتا ہے--- اساس تنظیم کا اس سے زیادہ دائمی نظریہ قائم نہیں کیا جاسکتا ہے۔

مقصدیت پر مبنی مرکزیت‘ افراد کو تنظیم پر قائم رکھنے اور امانت کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ ذمہ داران کو بے قابو ہونے کے بجاے احساس گرانباری سے بوجھل رکھتی ہے‘ سبک رفتاری اور نتیجہ خیزی کے ساتھ انھیں بے چین اور بیدار رکھتی ہے۔ مولانا مودودی نے جدید دور میں Management by Knowledge - Orineted Mission کی بنیاد پر جماعت کے نظم کی بنیاد رکھی۔مولانا مودودی کے الفاظ میں: ’’نظم جماعت کے لیے ہم نے اول روز سے جو بات لوگوں کے ذہن نشین کی‘ وہ یہ تھی کہ اس جماعت میں وہی شخص داخل ہو جو اس کو جانچ پرکھ کر‘ اچھی طرح اس بات کا اطمینان کر لے کہ یہ جماعت فی الواقع اقامت دین کے لیے قائم ہوئی ہے‘ اور اس کی دعوت‘ طریق کار اور اصول تنظیم وہی ہیں‘ جو قرآن و سنت کے مطابق اقامت دین کی سعی کرنے والی ایک جماعت کے ہونے چاہییں۔ پھر جب اس معاملے میں پوری طرح مطمئن ہو جانے کے بعد وہ جماعت میں آئے تو اسے ٹھیک اس سمع و طاعت فی المعروف کا التزام کرنا چاہیے جس کا حکم قرآن و حدیث میں دیا گیا ہے۔ اس کے بعد جماعت کے ڈسپلن کو توڑنا محض یہ معنی نہیں رکھتا کہ آدمی نے ایک پارٹی کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے‘ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے خود اپنے عقیدے میں جس کام کو خدا کا کام سمجھا تھا‘ اس کو جان بوجھ کر خراب کیا اور قصداً خدا اور رسول کی نافرمانی کی‘ (جماعت اسلامی کا مقصد‘ تاریخ‘ اور لائحہ عمل ، ص ۶۳ - ۶۴)

  • قیادت اور وحدت: جماعت اسلامی کا دستور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ یہ ایک جماعت ہے اور اس کا ایک امیر ہے۔ ایمان اور آخرت کی جواب دہی کے احساس سے بھرپور یہ نظریہ‘ جماعت کو وہ بیش بہا قوت فراہم کرتا ہے‘ جو اس کی بقا اور دوام کے لیے ضروری ہے اور جو اسے بیوروکریٹک نقائص سے دُور رکھتا ہے۔ جماعت افراد پر مبنی ہے۔ تمام افراد اس مقصد کے لیے اکٹھا ہیں اور ایک فرد کے گرد جمع ہوکر رہتے ہیں۔ خواہ افراد کی تعداد تھوڑی ہو یا زیادہ‘ اس نظریے کے تحت جماعت کو ہمیشہ ایک پکار پر مستعد ہونے اور ایک مرکز پر متحد ہونے کا سامان فراہم کر دیا گیا ہے۔ پوری جماعت کی یکجہتی کو بحران کے گرداب میں بھی یقینی بنا دیا گیا ہے۔ اس کلیے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جماعت چلانے کے لیے جو بھی نظام اختیار کرے‘ کتنا ہی پیچیدہ ڈھانچہ ترتیب دے‘ کام کا پھیلائو ڈھانچے پر کتنا ہی بوجھ ڈال دے‘ افراد میں ذمہ داریاں جس انداز سے بھی تقسیم کی جائیں‘ بحمدللہ جماعت کا شیرازہ منتشر نہیں ہو گا۔ اس کلیے کے تحت جماعت اس حد درجہ سیدھے سادے اصول پر استوار رہے گی۔

اس قاعدے کا مطلب امیر کی آمریت نہیں ہے‘ بلکہ وہ امیر کی مرکزیت کو اختیارات کی تقسیم اور وحدت کے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یہ ایک باریک نزاکت ہے جسے مولانا مودودی کے تنظیمی ادراک کی عظمت سمجھا جا سکتا ہے۔ مرکزیت کے بجائے جب اسے وحدت کے معنوں میں سمجھا جائے تو اس کلیے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جماعت کو وسعت پانے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ وسعت کے ساتھ تنظیم کو پھیلانے میں کوئی رکاوٹ نہیں پیدا ہوئی اور اختیارات کی تقسیم کوئی مسئلہ نہیں بنی۔

مسلم دنیا کے ریاستی اور پارٹی تجربات میں اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قیادت پر فائز اپنے آپ کو تاحیات منصب پر برقرار رکھتے ہیں۔ ’ایک جماعت‘ ایک امیر اور قیادت میں تبدیلی کے لیے مقررہ مدت پر انتخاب کا طریقہ کار بھی وضع کیا‘ اور اس کی مکمل پاسداری کی۔ مولانا مودودی نے خرابی صحت کی بنا پر معذوری پیش کر کے یہ اصول تسلیم کرایا‘ کہ دیگر شرائط کے ساتھ کام کرنے اور بوجھ اٹھانے کی جسمانی سکت کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ بانی کی حیثیت سے اپنے آپ کو منصب کے ساتھ لازم نہ کر کے جماعت کے اندر جمہوری مزاج کو پروان چڑھایا۔ ورنہ جو شخص اپنی قائدانہ ذمہ داری کے شعور میں اتنا پختہ تھا اور جس کے دل و دماغ نے اس منصب کے تقاضوں کو اس انتہا پر جذب کر لیا تھا‘ کہ جب ۱۹۶۳ء میں اجتماع عام میں سامنے سے فائرنگ ہوئی اور ایک صاحب نے مولانا مودودی سے درخواست کی کہ وہ ڈائس سے ہٹ کر بیٹھ جائیں تو مولانا نے بے ساختہ کہا: ’’میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا‘‘۔ قیادت کا یہی شعور تھا کہ  جس کا انھوں نے اس مرحلے پر بے ساختہ اظہار کیا۔

جماعت کا قیام کسی شخصیت کے افکار یا اثرات پھیلانے کے لیے عمل میں نہیں آیا تھا‘ بلکہ اس کا مقصدِ وجود ہی دعوت ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ بھی نکلنا تھا کہ مختلف مراحل پر مختلف مزاج‘ سوچ اور انداز کار کے حامل افراد اس میں شامل ہوتے جائیں گے۔ یہ افراد جغرافیائی لحاظ سے بھی پھیلے ہوئے ہوں گے۔ لیکن ایک جماعت اور ایک امیر کے اصول میں وحدت کو متاثر کیے بغیر وسعت میں سمونے کی بے پناہ گنجایش موجود ہو گی۔ غور کیا جائے تو جماعت بندی کا یہ تصور درحقیقت توحید کے عقیدے کا پرتو ہے۔ قرآن میں اطاعتِ امیر کو اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کے بعد کا درجہ دیا گیا ہے۔ ایک جماعت اور ایک امیر کا اصول‘ اس آیت سے مترشح ہوتا ہے۔ تنظیم ایک حکم ہے۔ امیر خود اس حکم کا پابند ہے۔ عملاً پوری تنظیم اس حکم کے ماتحت ہے۔

  • مشاورت اور سمع و طاعت:تنظیمیں حکم سے چلتی ہیں‘ لیکن مشاورت کے ذریعے قائم رہتی اور ترقی حاصل کرتی ہیں۔ قیادت و کارکنان میں سے کوئی بھی مشورے سے  بے پروا نہیں ہو سکتا ہے۔ فیصلے کے معیار کا انحصار‘ مشاورت کے معیار پر ہوتا ہے۔ شورائیت محض ایک حکم خداوندی کے تحت رسمی طور لینے کے بجاے‘ مولانا مودودی نے پوری جماعت کو اس اصول پر استوار کیا۔ ہر سطح‘ ہر مقام اورہر مرحلے پر شورائیت کو فروغ دیا۔ اس عمل کو ان خرابیوں سے بچایا جس کی وجہ سے کسی کو تنقید کرنے میں جھجک آتی ہو۔ رائے کے لیے بے لاگ اظہار کو شعار بناتے ہوئے‘ ہر بات کو سننے اور اس کا جواب دینے کی روایت ڈالی۔ احتساب اور تنقید کے آداب کو اپنایا۔ مباحثے اور گفتگو کو مسائل سلجھانے اور فیصلے تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کا مقصدمحض شرکت کا احساس دینا نہ تھا‘ بلکہ جماعت کو احسن انداز میںچلانا تھا۔ مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں: ’’ہم نے عام انسانیت کی‘ اپنے ملک کی اور اپنی ملت کی خرابیوں پر تنقید کرنے میں جو آزادی برتی‘ اس آزادی تنقید کو اپنی جماعت میں بھی برقرار رکھا‘ تاکہ جماعت کے اندر جہاں جو خرابی بھی موجود ہو‘ اس کی بروقت نشان دہی ہو جائے‘ اور اسے دور کرنے کی کوشش کی جاسکے‘‘۔ (جماعت اسلامی کا مقصد‘ تاریخ‘ اور لائحہ عمل‘ ص ۶۵)۔

سمع و طاعت کے اس تصور کو جماعت اسلامی کی تنظیم کی بنیادی صفت بنانے کے بارے میں مولانا مودودیؒ کہتے ہیں: ’’جو لوگ بھی جماعت میں آئے وہ ڈسپلن کی پابندی کے لیے خارجی دبائو کے محتاج نہ تھے۔ انھوںنے زیادہ تر خود اپنے ایمان کے تقاضے سے ڈسپلن کو قبول  کیا اور انھیں باقاعدگی‘ نظم ‘ اور ضبط کے ساتھ کام کرنے کا عادی بنانے میں کچھ زیادہ زحمت پیش نہیں آئی۔ (ایضًا‘ ص ۶۴)

لیکن سمع و طاعت کو شخصی بیعت یا اندھی اطاعت مطلق سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔ اطاعت فی المعروف اور اطاعت نظم کو توحید اور رسالت کے تابع سمجھا اور سمجھایا گیا۔ اس طرح قرآن کے اطاعت امیر کے حکم کے بے جا استعمال یا حدود سے تجاوز کے امکانات کو ختم کر دیا گیا۔

مشاورت میں تخلیقی قوت کا استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات میں مناسب حکمت عملی کی تشکیل ضروری ہوتی ہے۔ جماعت نے جدید ترین اسلوب کو تکنیکی اعتبار سے مقاصد کے حصول کے لیے اپنانے میں پہل قدمی کی۔ تجزیے‘ معلومات کا حصول‘ سوچ بچار‘ میڈیا کی آرا‘ بین الاقوامی سطح پر دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا لائحہ عمل‘ ان تمام ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے کھلے دل و ذہن کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کے لیے سوچا۔

  • مقاصد‘ معاشرہ‘ تنظیم اور قیادت: تنظیموں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ نظام العمل کو ترتیب دیں تاکہ استحکام نصیب ہو۔ تنظیمی ڈھانچہ اور قواعد و ضوابط وغیرہ کی تفصیلات جب ایک دفعہ طے ہو جاتی ہیں تو ان کو تبدیل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ مشکل ہر تنظیم کو پیش آتی ہے‘ جب کہ ماضی کے تمام ہی فیصلے مستقبل میں من و عن جاری رہیں تو کام جمود کا شکار ہو کر پیچھے  سمٹ جاتا ہے۔

صحیح بات یہ ہے کہ نظام اور ڈھانچے سے متعلق امور‘ مقاصد اور حکمت عملی کے تابع ہوتے ہیں۔ جب حکمت عملی تبدیل ہوتی ہے تو نظام بھی تبدیل ہوتا ہے۔ اگر حکمت عملی کے بجائے نظام کو فوقیت مل جائے تو مقاصد سے انحراف‘ عمل میں رونما ہو جاتا ہے۔ نظام کی حیثیت ذریعے کی ہے۔ یہ ایک سواری ہے۔ جب کہ حکمت عملی کا تعلق سمت اور طریقہ کار سے ہے۔

مولانا مودودی نے جماعت کو جمود سے بچایا۔ تشکیلِ پاکستان کے بعد تقسیم برعظیم‘ تحریک پاکستان‘ دستور پاکستان‘ تحریک جمہوریت‘ انتخابات اور دیگر مراحل‘ جیسے جیسے نئی حکمت عملی اور نئے اہداف کا تقاضا کرتے گئے‘ مولانا مودودی نے طریق کار اور نظام‘ دستور اور اہداف بھی تبدیل کیے۔ لائحہ عمل کی تبدیلی میں بھی دیر نہ کی۔ اس طرح جماعت کو پاکستان کی انتہائی موثر تنظیم بنا دیا۔ یہ قائدانہ شعور کی پہچان ہے‘ کہ قائد اپنی تنظیم کو حکمت عملی اور نظام العمل کے لحاظ سے ماحول کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے تحت مقاصد کے حصول کے لیے ترتیب دیتا رہتا ہے۔ نئے شعبہ جات کا قیام‘ معاونت کے لیے نئی تنظیمات کا قیام‘ مختلف مواقع پر تحریکوں کا آغاز‘ دیگر جماعتوں کے ساتھ یا حکومت کے ساتھ اشتراک و تعاون وغیرہ ان تمام معاملات میں مولانا مودودی نے مقاصد و اصول کی رہنمائی میں پیش قدمی کے لیے طریق کار وضع کیا۔ اسی لیے جماعت ہمیشہ پہلی صف میں ممتاز اور اہم ترین جماعت کی حیثیت سے ہمیشہ تسلیم کی جاتی رہی ۔

مولانا مودودی محض تنظیمی سربراہ نہ تھے‘ بلکہ وہ تنظیم ساز قائد تھے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اس عمل کے چاروں اجزا کو الگ الگ تجزیے سے گزارتے تھے‘ یعنی مقاصد کو جو حاصل کرنے ہیں یا نتائج جو رونما ہونا چاہییں‘ معاشرہ جس میں کام کرنا ہے‘ قیادت کہ جسے معاشرے اور مقاصد میں ربط پیدا کرنا ہے‘ اور تنظیم جسے معاشرے میں مقاصد کے حصول کے لیے تشکیل دیا جانا چاہیے۔ وہ مسلسل ایک ایسے امتزاج اور مرکب کی جستجو میں رہتے تھے  جس میں بہتر تنظیم کے ذریعے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ نتائج کا حصول ممکن ہو۔ یہ قیادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونے کی نشانی ہے کہ وہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو تنظیم کی حدود سے باہر سمجھ کر بھی تنظیم کا جائزہ لے سکتی ہے۔ یعنی قائد‘ اپنی تنظیم کے اندر اپنے آپ کو گرفتار رکھ کر سوچے تو وہ محدود پیمانے پر ہی سوچ سکتا ہے۔ قائد کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہ تنظیم سے ذہنی طور پر جدا ہو کر (detach)تنظیم کو اس کے ماحول میں پرکھے اور اس کی سمت اور رفتار‘ مقاصد اور طریقۂ کار کے بارے میں سوچتا رہے۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی زمین کو زمین پر کھڑے ہوکر دیکھے یا کوئی خلا میں جاکر دُور سے زمین پر نگاہ ڈالے۔ زمین کو دونوں صورتوں میں دیکھنے ہی سے مکمل تصویر بن سکتی ہے۔ اس طرح قائدمعاشرے میں مقاصد کے حصول کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل میں مولانا مودودی کی یہ قائدانہ سوچ اپنے پورے عروج پر نظر آتی ہے۔ وہ جماعت کو نئے حالات کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر مشاورت کے ذریعے راغب کرنا چاہتے تھے۔

  • تحریکی معاشرت اور تنظیم: بعض تنظیمیں محض کاغذی نوعیت کی ہوتی ہیں‘ بعض جزوی نوعیت کے تعلق پر اکتفا کرتی ہیں اور بعض مکمل انہماک اور لگائو کا تقاضا کرتی ہیں۔ جماعت اسلامی اقامت دین کے لیے کھڑی ہوئی ہے‘ اس لحاظ سے یہ کُلّی تبدیلی اور کُلّی وابستگی کی دعوت دیتی ہے۔ ایسا محض لٹریچر کے مطالعے‘ تربیت گاہوں میں تقاریر‘ نعروں‘ اور دفتری سرگرمیوں کے ذریعے ممکن نہیں۔ مولانا مودودی نے انقلاب کے لیے فکری رہنمائی فراہم کی‘ اس فکر پر کام کو آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی کوشش کی بنیاد رکھی‘ اجتماعیت کو تنظیم کی باقاعدہ شکل دی اور پھر اس تنظیم کو ایک جیتی جاگتی بستی بنایا۔ اس بستی کو ایک بڑا خاندان اور گھر بنایا۔ روکھی پھیکی تنظیم مولانا مودودی کے پیش نظر نہ تھی۔ وہ تنظیم کے جسم میں تحریکی معاشرت کی روح ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ انفرادی طور پر افراد کار کو اجتماعی مزاج کا خوگر بنانا آسان نہیں ہوتا۔ انھوں نے اخوت‘ محبت‘ اعتماد‘ للٰہیت‘ مقصدیت‘ شورائیت اور نصیحت جیسی اقدار سے لبریز اجتماعیت اور معاشرے میں نئے طرزمعاشرت کی بنیاد ڈالی۔

مولانا مودودی نے ایک طرف بار بار اس امر کی تنبیہ کی کہ اس تنظیم کا مقصد کوئی خانقاہ بنانا نہیں ہے۔ جس معاشرے میں تنظیم کام کر رہی ہے‘ اس معاشرے سے کسی کمزور سے رشتے  کو قائم رکھ کر تنظیم کو چلانا مقصود نہیں۔ بلکہ ایک ایسی تنظیم مطلوب ہے ‘جو اندرونی طور پر مستحکم ہو‘ لیکن اپنے بیرونی ماحول میں پوری طرح مربوط ہو ۔ گویا کہ اس کو معاشرے پر اثرانداز ہونا ہے اور معاشرے سے یقینا متاثر بھی ہونا ہے۔ جماعت نے شخصیت کی تعمیر‘ خاندان کی تشکیل اور تنظیم میں شامل افراد کے درمیان روابط اور معاملات جیسے امور پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔گفتگو کا طریقہ‘ اخلاق‘ مختلف مواقع پر رویہ اور سلوک ان سب کو متاثر کیا ہے۔ جماعت کا فر داور گھرانہ پہچانا جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ طور طریق‘پسند و ناپسند‘ شخصی انداز‘بودوباش‘ معاملات‘ رکھ رکھائو‘ زبان کے لحاظ سے ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔ اجتماعی امور میں جماعت کا مخصوص طریقہ کار ایک خاص طرز معاشرت کو ترتیب دیتا ہے۔ ایسا طرز معاشرت جس میں افراد آسانی سے ڈھل جائیں‘ اور تحریکی کام ان کی زندگی کا اس طرح جزو بن جائے کہ انھیں کوئی بوجھ محسوس نہ ہو۔ عام معاشرے میں رہ کر‘ بلکہ اس میں سرگرم کردار ادا کرتے ہوئے ایک نئی معاشرت و ثقافت کو پروان چڑھانا ایک مشکل کام تھا۔ حفاظتی خول (enclave) کے بغیر ایک نیا اجتماعی ماحول ترتیب دینا‘ سیاسی و معاشرتی تبدیلی کے لیے کھڑی ہونے والی تنظیم کے لیے بیش بہا تجربہ ثابت ہوا اور تنظیم کی فعالیت کا بھی بہتر اہتمام ہوا۔

  • نیوکلیئس اور آزادی عمل: جماعت میں درجہ بندی شروع ہی سے موجود رہی ہے۔ اس کی موجودگی مختلف حوالوں سے دیکھنے والوں کے لیے مختلف نوعیت کے ردعمل کا باعث بنتی ہے۔ بعض نقاد حضرات کا کہنا ہے: اُس طرزِعمل میں کمیونسٹ پارٹی کی چھاپ نظرآتی ہے۔ بعض کے نزدیک: ’یہ ایک مخصوص تنظیمی نوکرشاہی (hierarchy) کو فروغ دیتا ہے ‘جس کے نتیجے میں خودساختہ نیکوکاروں یا سندیافتہ نیکوکاروں کا جتھا بن کر حکمرانی کرتا ہے‘۔ جماعت سے باہر جماعت کے متاثرین کا کہنا ہے:’جماعت میں شمولیت کی شرائط سخت ہیں اور ہر ایک شامل نہیں ہو سکتا ہے۔ خود جماعت کے اندر یہ رائے سامنے آتی ہے:’درجہ بندی جماعت کے عوامی جماعت بننے میں‘ اہم افراد کی شمولیت اور وسعت میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

جماعت اسلامی‘ پاکستان کی واحد دینی و سیاسی تنظیم ہے جو ساتھ چلنے والوں کی درجہ بندی کرتی ہے۔ اس سے قبل کسی دینی جماعت میں اس طرح کی روایت بھی نہیں رہی۔ سوال یہ ہے کہ مولانا مودودی کے نزدیک اس میں کیا حکمت تھی؟ انھوں نے کیوں اس کو اختیار کیا؟ مولانا مودودی کے نزدیک ہر جماعت کو ایک نیوکلئیس چاہیے ہوتا ہے۔ یعنی وہ جماعت کو ایک متحرک ایٹم کی طرح دیکھتے تھے کہ جن میں ایک حصہ مرکز ثقل (core) کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ پوری تنظیم اس مرکزثقل کے گرد گھومتی ہے۔ اس مرکزثقل کا کام‘ معیار اور مقصد کی حفاظت ہے۔ اس مرکزثقل کا وجود اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ جماعت کی عملاً کوئی سرحد نہیں ہے۔ یہ ایک کھلی دعوت ہے‘ ایک تحریک ہے۔ لاکھوں افراد جو اس کے پیغام کو درست مان لیتے ہیں‘ وہ اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اگر اس مرکز ثقل کو تحلیل کر دیا جائے یا یہ محو ہوجائے تو تنظیم کس بنیاد پر کھڑی رہ سکے گی؟ ارکان جماعت دراصل ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یعنی تنظیم اس ادارے کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ اجتماعی تحریک جس میں شمولیت کے دروازے ہر ایک کے لیے کھلے ہیں‘ اگر اسے تنظیم کی شکل دینا ہو تو ایسے بنیادی ادارے کا قیام ناگزیر محسوس ہوتا ہے۔ آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی جماعت اسلامی اپنی تنظیمی ہیئت کی بنا پر کام کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔

اس درجہ بندی کا غلط طور پریہ مطلب لیا گیا ہے کہ اس کا مقصد کوئی تفریق پیدا کرنا ہے۔ یہ درجہ بندی کارکردگی کی بنیا دپر ہے۔ تنظیمیں اس وقت آگے بڑھتی ہیں جب کارکردگی کو تنظیمی معیار بنا لیں۔ وہ افراد‘ جو ذمہ داریاں اٹھانے کے اہل ہوتے ہیں‘ تنظیم کے لیے قابل بھروسا ہوتے ہیں‘ جن کی رائے فیصلہ سازی اور امیر اور شوریٰ کے انتخاب کے لیے ضروری ہوتی ہے‘ اور جو مقصد سے وفاداری اور تنظیم کے ساتھ مکمل وابستگی کا حلف اٹھاتے ہیں‘ ان کو الگ سے شمار کرنا‘ اور نیوکلیئس کی حیثیت سے تنظیم کا ذمہ دار گرداننا‘ یقینا حکمت عملی کے لحاظ سے انتہائی دانش مندی ہے۔ بالخصوص ایک ایسی تنظیم کے لیے کہ جس کا مقصد وجود ہی وسعت اور تبدیلی ہے۔ یہ طریقۂ کار دراصل پھیلائو اور ارتقا و نمو کے نامیاتی طریقہ کار (organic growth) سے حددرجہ مماثل ہے۔ درخت کی مثال لے لیجیے۔ ایک بیج کا زمین میں جذب ہو کر اثرات کو جذب کرنے کا اور اپنی اصل پرکار بند رہنے کا نتیجہ مضبوط تنے‘ پھیلی ہوئی شاخیں‘ ایک ہی انداز کے پتے اور پھل کی مسلسل افزایش کی صورت میں نکلتا ہے۔ یوں مضبوط جڑ کے ساتھ وسعت کے لامتناہی امکانات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیم جہاں ایک مرکزثقل کی تشکیل کو اپنا ایک بنیادی کام سمجھتی ہے‘ وہیں وہ اس کو سمیٹ کر رکھنے یا محدود ہوکر جم جانے کے بجاے متحرک کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو انھی نظریات کے مطابق استوار کرنے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ یعنی اس مرکزثقل کامقصد نمو ہے جمود نہیں‘ اور ہر فرد مکمل طور پر خود مختار ہے‘ کہ وہ اپنے اندر قائدانہ اوصاف پیدا کرے‘ معاشرے کے لیے نقیب بن جائے‘ اور دعوت کا کام کرے۔ ہر فرد مکمل طور پر بااختیار ہے کہ زیادہ اور بہتر کام کرنے کی کوشش کرے۔ درجہ بندی درحقیقت صلاحیتوں کی وسیع پیمانے پر نشوونما کو یقینی بنانے کے لیے ہے‘ اختیارات اور کام کو چند افراد تک سمیٹنے کے لیے نہیں ہے۔

  • توازن اور اعتدال: منہاج علی النبوۃ پر تحریک اقامت دین کو کھڑا کرنا اس لحاظ سے کٹھن ہوتا ہے‘ کہ اس کام کی مختلف جہتوں کا مکمل احاطہ کرنا ضروری ہے۔ تربیت‘ دعوت‘ سیاست‘ تعلیم اور تحقیق یہ سارے بنیادی افعال قرار پاتے ہیں۔ تحریک اسلامی کو تنظیم کی شکل میں چلانے کے نتیجے میں یہ صلاحیت بھی بہم پہنچ گئی کہ تمام کاموں کا احاطہ کیا جا سکے۔ ہمہ پہلو تبدیلی کے لیے تکمیلی لائحہ عمل‘جو ہر محاذ کا احاطہ کرتا ہو‘اس کی تیاری‘ عمل اور جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ تنظیم کے ذریعے وہ مشینری وجود میں آ جاتی ہے‘ جو ترجیحات‘ منصوبے اور حالات کے پیش نظر تمام متفرق محاذوں پر کام کو گرفت میں لے سکے۔ مقاصد کی نگہداشت کرسکے اور پیش رفت کا جائزہ لے سکے۔

مولانا مودودی نے توازن و اعتدال کو تنظیم کا خاصّہ قرار دیا۔ تنظیم‘ عالم اسباب میں ایک کڑی کی حیثیت سے وجود میں آتی ہے اور مادی و انسانی وسائل کو سمیٹ کر مطلوبہ نتائج کے حصول کی کوشش کرتی ہے۔ عمل اور ردعمل میں جذباتیت کا شکار ہونے سے بچاتی ہے۔ تنظیم کا قیام اس ادراک کا نتیجہ ہے کہ اقامت دین کا کام جدید معاشرے میں حد درجہ نظم کا تقاضا کرتا ہے اور یہ کام آناً فاناً نہیں ہوتا‘ بہ تدریج آگے بڑھتا ہے۔ بغیر سوچے سمجھے‘ صلاحیتوں اور وسائل کو کھپانا مقصود نہیں‘ انتہائی احتیاط اور فکر مندی کے ساتھ اس قوت کو مستقبل میں تبدیلی کے لیے بروے کار لانا مطلوب ہے۔ تنظیم کے دیرپا استحکام اور چلتے رہنے کے لیے قیادت و مشاورت انتہائی ضروری ہیں۔ مشاورت کے ذریعے حکمت کو نکھارا جاتا ہے اور اجتماعی فیصلہ سازی میں بہتری آتی ہے۔ اجتماعی فیصلے ہی اجتماعیت کو لے کر چل سکتے ہیں۔ قیادت‘ مشاورت کے ذریعے جب کام کرتی ہے تو اس کا حکم موثر ہوتا ہے اور سمع وطاعت کے اعلیٰ درجے کا جواب (response) ملتا ہے۔

مولانا مودودی کے ہاں اعتدال کا مطلب سست روی یا سہل انگیزی یا مصلحت کوشی نہیں ہے‘ بلکہ اس کا مطلب ہوش مندی کے ساتھ مسلسل جدوجہد ہے‘ تاکہ مجموعی طور پر اسلام کے احیا کے لیے کام ہو۔

  • اعلانیہ کام اور دستوری طریقۂ کار: مولانا مودودی کا ذہن‘ ضابطہ اور قانون کا پابند تھا۔ وہ اپنے معمولات اور ذاتی زندگی کے طریقہ کار میں نظام کو خود اختیار کر کے اس کی پاس داری کرتے تھے۔ تنظیم ان کی فطرت کا حصہ تھی۔ ان کی شخصیت اعلیٰ درجے کے  نظم و ضبط کی آئینہ دار تھی۔ جماعت اسلامی کو تنظیم کی شکل میں قائم کرتے ہوئے بھی جو بات ابتدا سے طے کر دی گئی تھی‘ وہ یہ کہ یہ جماعت دستور اور قانون کے مطابق کام کرے گی۔ اور جہاں دستور و قانون کا اسلام سے ٹکرائو ہو گا‘ اس کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن یہ کوشش بھی قانونی دائرے میں رہ کر ہو گی۔ جماعت‘ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے گی۔ اس طرح مولانا نے جماعت اسلامی کو انارکی اور اشتراکی طریقہ انقلاب سے دور رکھا اور جماعت کو یہ راستہ دکھایا کہ اپنے تمام تر نظام کار کے باوجود وہ معاشرے سے کٹ نہ جائے‘ ریاستی نظام میں جمہوری انداز سے آگے بڑھتے ہوئے اپنا مقام بنائے اور معاشرے میں خیر کو پروان چڑھانے کی کوشش کرے۔

تنظیم کی حیثیت سے جماعت ‘ریاست کے دوسرے تنظیمی اداروں کے مدمقابل نہیں آئی‘ بلکہ کھلے عام کام کے ذریعے اثر و نفوذ کے راستے کو اختیار کیا گیا۔ جس طرح مولانا مودودی کی شخصیت کھلی کتاب کی طرح تھی اسی طرح ان کی بنائی ہوئی تنظیم کے دستور میں بھی واضح طور پر یہ لکھا گیا کہ یہ علانیہ جدوجہد کرے گی‘ کوئی خفیہ تحریک جو زیرزمین کام کرتی ہے  اس کے     علی الرغم یہ تنظیم راے عامہ کو ابلاغ عام کے ذریعے مخاطب کرے گی۔ اس تنظیم کے حسابات‘ معاملات‘ فورم‘ سرگرمیاں ہر چیز ہمیشہ کھلی کتاب کی طرح ہر ایک کے سامنے رہی ہیں۔ بنیادی طور پر جماعت کا قیام ایک کھلی تنظیم کے طور پر عمل میں آیا۔ اس میں ہر ایک شامل ہوسکتا ہے‘    ہر ایک اس کو قریب سے دیکھ سکتا ہے‘ ہر ایک کے لیے اس کی دعوت عام ہے‘ اور معاشرے کا ہرفرد اس کے لیے اہم ہے۔ یعنی ایک ایسی تنظیم جو پورے معاشرے کو اپنے اندر سمونا چاہتی ہو‘ جوکسی قسم کی طبقاتی تفریق‘ لسانی و نسلی تعصب‘ کی حامل نہ ہو۔

مضمون کا آغاز طارق علی کے جملے سے کیا گیا تھا۔ اس کا اختتام اس جملے پر مولانا مودودیؒ کے ردعمل پر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی ایک معروف سیاسی و دینی شخصیت نے اس انداز کا تقابل مولانا مودودیؒ کے سامنے کیا تو انھوں نے بجاطور پر اس تقابل پر ناگواری کا اظہار کیا۔ گذشتہ صفحات پر پائے جانے والے مباحث مولانا مودودی کے ردعمل کی بجا طور پر تائید کرتے ہیں۔