مئی ۲۰۱۵

فہرست مضامین

کینیا میں پُرتشدد کارروائیاں

حافظ محمد ادریس | مئی ۲۰۱۵ | عالم اسلام

کینیا مشرقی افریقہ کا ایک اہم ملک ہے۔ یہ بھی اکثر افریقی ممالک کی طرح کثیرالقومیتی اور کثیراللسانی ملک ہے۔ آبادی کے تناسب کے بارے میں سرکاری اور مغربی اداروں کے اعداد وشمار خاصے متنازعہ ہیں۔ کُل آبادی۲۰۰۹ء کی مردم شماری میں ۳ کروڑ، ۸۶لاکھ ۱۰ہزار ۹۷ ریکارڈ کی گئی۔ اس وقت آبادی کا تخمینہ اضافۂ آبادی کے حساب سے ساڑھے چار کروڑ سے زائد لگایا جاتا ہے۔ عیسائی آبادی (تمام عیسائی فرقوں کو شامل کرکے) ۴۰ سے ۴۵فی صد ہے۔ مسلمان ۲۵ سے ۳۰فی صد کے درمیان ہیں، جب کہ باقی آبادی قدیم افریقی مذاہب، روایت پرست، بت پرست یا لامذہب قبائل پر مشتمل ہے۔ مشنری ادارے اور مغربی این جی اوز مسلمانوں کے علاوہ تمام آبادیوں کو عیسائی شمار کرلیتے ہیں۔ کینیا ۱۹۶۳ء میں برطانوی استعمار سے آزاد ہوا تھا۔ یہ آٹھ صوبوں پر مشتمل ہے۔ ساحلی پٹی اور سمندری جزائر میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اسی طرح شمال مشرقی صوبہ کم وبیش ۹۰فی صد مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ مشرقی صوبے میں بھی مسلمان عیسائیوں سے نسبتاً زیادہ ہیں۔ صومالیہ کے ساتھ ملحقہ صوبے میں مسلمان صومالی الاصل ہیں۔ اس صوبے کا دارالحکومت گریسا ہے۔

۲؍ اپریل۲۰۱۵ء کو گریسا میں سرکاری یونی ورسٹی کے گریسا کالج ہاسٹل پر صومالیہ میں برسرِپیکار عسکری تنظیم الشباب نے طلبہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ۱۴۷؍افراد مارے گئے۔ ان میں اکثریت طلبہ کی تھی اور باقی سٹاف اور عملے کے لوگ تھے۔ یہ سب نہایت سفّاکی اور بے دردی سے ہلاک کردیے گئے۔ ایک بہت تشویشناک بات یہ تھی کہ حملہ آوروں نے ہاسٹل پر قبضہ کرکے پہلے اعلان کیا کہ مسلمان طلبہ الگ ہوجائیں۔ پھر انھیں حکم دیا گیا کہ وہ بھاگ جائیں۔ اس کے بعد باقی ماندہ طلبہ اور عملے پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی۔ نیروبی سے نکلنے والے مسلمانوں کے  ہفت روزہ ترجمان فرائیڈے بلٹن، شمارہ۶۲۳،۱۰ اپریل کے مطابق کینیا کی مسلمان آبادی اور مسلم تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے ایک گہری سازش قرار دیا۔ نیروبی کی مرکزی جامع مسجد کے امام، شیخ جمعہ امیر اور مسلمان راہنما شیخ سُبقی نے مقتولین کے خاندانوں سے اظہار تعزیت بھی کیا اور متاثرہ خاندانوں میں امداد بھی تقسیم کی۔ انھوں نے اس موقعے پر کہا کہ کینیا میں تمام مذاہب کے لوگ آپس میں امن وامان سے رہتے ہیں۔ ہمیں اس سازش کو سمجھنا اور اس کا تدارک کرنا چاہیے۔

الشباب نے اس تازہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سے قبل ۱۹۹۸ء میں امریکی سفارت خانے پر بھی حملہ ہوا تھا جس میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔ اس حملے میں کون ملوث تھے،  یہ ثابت نہ ہوسکا، مگر الزام مقامی مسلمانوں پر ہی لگا تھاجس کے بعد بہت سے نوجوانوں کو سکیورٹی اداروں نے گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ گذشتہ سال کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ویسٹ گیٹ شاپنگ سنٹر پر اچانک حملہ کرکے دن دہاڑے ۷۰گاہکوں اور دکان داروں کو قتل کردیا گیا تھا، جن میں عورتیں اور بچے بھی تھے۔ اس حملے میں تمام حملہ آور بھی سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں مارے گئے تھے۔ ۱۰،۱۲ برسوں سے صومالیہ میں حکومت کے ساتھ الشباب کی جھڑپیں اور جنگیں ہوتی رہتی ہیں۔ الشباب کے لوگ اپنا تعلق القاعدہ سے جوڑتے ہیں۔ کینیا اور صومالیہ کی حکومتیں آپس میں ایک دوسرے سے دوستانہ تعلقات رکھتی ہیں۔ ان واقعات سے بحیثیت مجموعی کینیا میں سرگرمِ عمل اسلامی تنظیموں اور اداروں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر بہت سے بے گناہ مسلمان علما اور اسکالر اور دیگر شخصیات کے خلاف کارروائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ پاکستان میں فورتھ شیڈول کی طرح کینیا میں بھی اسی طرح کے قواعد وضوابط استعمال ہوتے ہیں۔

گریسا کے اس واقعے کے فوراً بعد کینیا کے صدر مسڑاوہورُو کنیاٹا (Uhuru Kenyatta) نے قوم کے نام اپنے خطاب میں مدارس اور مساجد کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا۔ مسلمان راہنماؤں نے فوری طور پر صدر کے اس بیان کی تردید کی۔ نیروبی کے مشہور وکیل اور جامع مسجد کمیٹی کے ممبر مسٹر ابراہیم لتھومے نے ٹیلی وژن کے ایک پروگرام میں کہا کہ مساجد ومدارس ہرگز تشدد کی تعلیم نہیں دیتے۔ دراصل یہ حکومت اور اس کے اداروں کی نااہلی ہے کہ وہ حالات کا صحیح ادراک نہیں کرپاتے اور نہ بروقت خطرات کا تدارک کرنے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ ’سپریم کونسل آف کینیا مسلمز‘ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ حسن اولے نادو نے بھی کہا کہ حکمرانوں کو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق اپنی سرکاری اور عوامی پالیسیاں ترتیب دینی چاہییں۔ ثبوت کے بغیر محض الزامات سے حالات درست ہونے کے بجاے مزید بگڑ سکتے ہیں۔

گریسا اور اس صوبے کے دیگر علاقے مسلمان آبادی پر مشتمل ہیں۔ ینگ مسلم ایسوسی ایشن نے آزادی کے بعد ۱۹۶۰ء کے عشرے میں گریسا میں ایک بہت بڑا اسلامی مرکز قائم کیا تھا۔ الحمدللہ یہ اب بھی موجود ہے۔ اس مرکز میں یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ نظام تعلیم میں عصری اور جدید دونوں نصاب پڑھائے جاتے ہیں۔  چند سال قبل جب اس شہر میں سرکاری یونی ورسٹی قائم ہوئی تو اس سے اس اسلامی مرکز کو بھی خاصی تقویت پہنچی۔ اس سے قبل یہاں سے میٹرک اور انٹر کے بعد طلبہ کو نیروبی، ممباسااور کسومو یا دیگر بڑے شہروں کی طرف جانا پڑتا تھا، جو یہاں سے خاصے دُور واقع ہیں۔ گذشتہ سالوں کے دوران اسلامی مرکز گریسا اور اسلامک فاؤنڈیشن نیروبی کی طرف سے قائم کردہ دیگر شہروں میں تعلیمی اداروں سے نکلنے والے طلبہ سرکاری اور پرائیویٹ یونی ورسٹیوں سے ماسٹر، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اہم سرکاری اور سفارتی عہدوں پر فائز ہیں۔ یونی ورسٹیوں میں مسلم یوتھ آرگنائزیشن بھی منظم انداز میں کام کررہی ہے۔ اس طرح کے پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں اس کا کام بھی بُری طرح متاثر ہوا ہے۔

گریسا کے واقعے نے ملک بھر میں عمومی طور پر اور تعلیمی اداروں میں بالخصوص خوف وہراس کی کیفیت پیدا کردی ہے۔ اس گمبھیر صورت حال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نیروبی یونی ورسٹی کے ایک ہوسٹل میں ۱۱اور ۱۲؍اپریل۲۰۱۵ء کی درمیانی شب، صبح صادق کے وقت دھماکے کی آواز سے خوف و ہراس پھیل گیا کہ دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے، حالانکہ یہ دھماکا بجلی کے نقص کے باعث ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں بھگدڑ سے ایک طالب علم جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے۔

تیسری دنیا اس وقت آتش فشاں کے دہانے پر ہے۔ اس کے پیچھے بڑی طاقتوں اور ان کی ایجنسیوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے، مگر ترقی پذیر مسلم وغیرمسلم ممالک کے حکمرانوں اور عوام کو خود اپنے حالات درست کرنے کی فکر کرنا ہوگی۔ محض دوسروں کو ذمہ دار قرار دینے سے حالات نہیں سدھر سکتے۔