نومبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

علامہ اقبالؒ کا تصورِ اتحاد

محمد طالب جلال ندوی | نومبر ۲۰۱۴ | اقبالیات

علامہ اقبال نے اُمت اسلامیہ کو ہمہ گیر سطح پر جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی شاعری اُمت اسلامیہ کی تاریخ میں جامعیت کے لحاظ سے عدیم المثال شاہکار ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو مختلف جہات سے اتحاد و یگانگت کا سبق دیا۔ وہ اپنی نظم ’بزمِ انجم‘ میں باہمی اتحاد کو ستاروں سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

اک عمر میں نہ سمجھے اس کو زمین والے

جو بات پاگئے ہم تھوڑی سی زندگی میں

ہیں جذبِ باہمی سے قائم نظام سارے

پوشیدہ ہے یہ نکتہ تاروں کی زندگی میں

علامہ اقبال اُمت اسلامیہ کے اتحاد میں مغربی تصورِ قومیت کو نہایت تباہ کن خیال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رنگ، نسل، وطن، ذات اور برادری اسلامی اتحاد قائم کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اُمت اسلامیہ کا اتحاد وحدت مذہب و تمدن پر قائم ہے۔

اس سلسلے میں علامہ اقبال اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ: ’’قدیم زمانے میں ’دین‘ قومی تھا، جیسے مصریوں، یونانیوں اور ہندیوں کا۔ بعد میں نسلی قرار دیا، جیسے یہودیوں کا۔ مسیحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیویٹ ہے۔ جس میں انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن ’اسٹیٹ‘ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نوع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ ’دین‘ نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیویٹ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اور اس کا مقصد یا وجود فطری امتیازات کے عالمِ بشریت کو متحد اور منظم کرنا ہے‘‘۔

علامہ اقبال جس قومیت کے قائل ہیں، اس کا دائرہ اسلام کے اندر ہے اور اس کی بنیاد وہ دینی معتقدات پر رکھتے ہیں۔ لہٰذا وہ کہتے ہیں    ؎

قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں

جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں

وہ مزید کہتے ہیں کہ    ؎

تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے

نشۂ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

وہ مزید کہتے ہیں کہ:

اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِؐ ہاشمی

ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری

دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں

اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملّت بھی گئی

وہ مزید کہتے ہیں کہ    ؎

ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

ایک اور جگہ کہتے ہیں:

اقوامِ جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے

تسخیر ہے مقصودِ تجارت تو اسی سے

خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے

کم زور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے

اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے

قومیتِ اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اسلام کا نصب العین ہی یہ ہے کہ اجتماعیت و اتحاد قائم کیا جائے۔ حضرت عمرؓ کے الفاظ میں: لااسلام الا بالجماعۃ ولا جماعۃ الا بالامارۃ ولا امارۃ الا بالطاعۃ ’’جماعت کے بغیر اسلام نہیں اور امارت کے بغیر جماعت نہیں اور اطاعت کے بغیر امارت نہیں‘‘۔

وہ مسلمانوں کو ایک ملّت میں گم ہوجانے کا درس دیتے ہیں اور ایک عالم گیر ملّت کے قیام کی خواہش رکھتے ہیں جس کا خدا، رسولؐ، کتاب، کعبہ، دین اور ایمان ایک ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ:

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک

ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک

کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

وہ اجتماعیت و اتحاد کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

فرد را ربط جماعت رحمت است

جوہر اورا کمال از ملّت است

تا توانی باجماعت یار باش

رونق ہنگامۂ احرار باش

(فرد کے لیے جماعت رحمت ہے۔ اس کی خوبیوں کو ملّت ہی کے ذریعے کمال حاصل ہوتا ہے۔ جہاں تک ہوسکے جماعت کے ساتھ وابستہ رہو اور آزاد لوگوں کے ہنگامے کی رونق بنے رہو)۔

وہ فرد اور جماعت کے ربط کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے ایک جگہ کہتے ہیں کہ:

فرد تا اندر  جماعت گم شود

قطرہ وسعت طلب قلزم شود

فرد تنہا از مقاصد غافل است

قوتش آشفتگی را مائل است

(فرد جب جماعت میں گم ہوجاتا ہے تو وہ وسعت طلب قطرے کی طرح سمندر بن جاتا ہے۔ تنہا آدمی اپنے مقاصد سے غافل ہوجاتا ہے اور اس کی طاقت انتشار کی طرف مائل ہوتی ہے)۔

وہ کہتے ہیں کہ فرد کی بھرپور توانائی کا اظہار اجتماعیت کے ساتھ ہی پورے طور سے ہوسکتا ہے    ؎

فرد قائم ربطِ ملّت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

وہ مزید کہتے ہیں کہ:

ملّت کے ساتھ رابطۂ اُستوار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے ، اُمیدِ بہار رکھ

وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں ک رنگ و خون کے بتوں کو توڑ کر ایک ملّت کی شکل میں متحد ہوجائیں۔ کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ملک، قوم، نسل اور وطن کی مصنوعی حدبندیوں نے نوعِ انسانی کا شیرازہ منتشر کرکے رکھ دیا ہے اور اس کا علاج سواے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلامی معاشرے کے تصور کو رائج کیا جائے اور کم از کم مسلمان خود کو اسی معاشرے کا حصہ بنا لیں:

یہی مقصودِ فطرت ہے ، یہی رمز مسلمانی

اُخوت کی جہانگیری، محبت کی فراوانی

بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا

نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

وہ مزید کہتے ہیں کہ:

ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو

اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہوجا

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی

تو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہوجا

غبارآلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پَر تیرے

تو اے مرغِ حرم !اُڑنے سے پہلے پَرفشاں ہوجا

وہ انتشار و افتراق کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد کہتے ہیں کہ:

تعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میں

یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے بُرا تو نے

وہ مزید کہتے ہیں کہ:

رشتہ وحدت چوں قوم از دست داد

صد گرہ بر روئے کارے ما افتاد

ما پریشاں در جہاں چوں اختریم

ہمدم و بیگانہ از یک دیگریم

باز ایں اوراق را شیرازہ کن

باز آئین محبت تازہ کن

(جب قوم نے اتحاد کا رشتہ چھوڑ دیا تو ہمارے کام میں سیکڑوں گرہیں پڑگئیں۔ ہم دنیا میں ستاروں کی مانند بکھرے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے سے بیگانہ ہیں۔ ان اوراق کی پھر سے شیرازہ بندی کرو اور محبت کے آئین کو پھر تازہ کرو)۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ:

بتان شعوب و قبائل کو توڑ

رسومِ کُہن کے سلاسل کو توڑ

یہی دینِ محکم ، یہی فتح باب

کہ دنیا میں توحید ہو بے حجاب

وہ ایک دوسرے زاویے سے مزید کہتے ہیں کہ:

ربط و ضبطِ ملّتِ بیضا ہے مشرق کی نجات

ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مُقدم ہوگئی

اُڑ گیا دنیا سے ُتو مانندِ خاکِ رہ گزر

وہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک ازلی ، ابدی، آفاقی اور عالم گیر پیغام ہے۔ اس کا مقصد تمام نوعِ انسانی کو اخوت کی لڑی میںپرو کر ایک وسیع تر ملّت اسلامیہ کاقیامِ عمل میں لانا ہے۔ اسلام، ہر قوم اور ہرملک کے لیے راہِ ہدایت ہے۔ اس لیے اس کے پیروکاروں کو رنگ و نسل اور ملک و وطن کے امتیازات مٹاکر یک جا ہوجانا چاہیے اوردنیاے انسانیت کے لیے ایک عالم گیر برادری کی مثال پیش کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں ’جمعیت اقوام‘ کی تنظیم پر طنز کرتے ہوئے   کہتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان اخوت کا جذبہ پیدا ہونا اصل ہے نہ کہ قوموں کا ایک جگہ اکٹھا ہوجانا:

اس دور میں اقوام کی صحبت بھی ہوئی عام

پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدتِ آدم

تفریقِ ملل حکمتِ افرنگ کا مقصود

اسلام کا مقصود فقط ملّتِ آدم

مکے نے دیا خاکِ جنیوا کو یہ پیغام

جمعیتِ اقوام کہ جمعیتِ آدم

علامہ اقبال اتحاد کے لیے اسلامی قومیت کی درست فکر کو لازمی خیال کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلامی قومیت کی بنیاد اسلام پر ہے۔ ملک و نسب، نسل اور وطن پر نہیں۔ اس تصور کی انھوں نے عمربھر شدومد سے تبلیغ کی۔ قومیت کے متعلق نظریات کے حوالے سے اقبال ایک ارتقائی عمل سے گزرے اور آخرکار اس نتیجے پر پہنچے کہ نسلی، جغرافیائی، لسانی حوالے سے اقوام کی تقسیم مغرب کا چھوڑا ہوا شوشہ ہے، جس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس لیے انھوں نے دنیابھر کے مسلمانوں کو اپنے نظریۂ ملت سے ایک ہونے کا پیغام دیا تاکہ مغرب کی ان سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے اور مسلمان اقوامِ عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام ایک بار پھر حاصل کرسکیں۔ اس مسئلے میں ان کا ارتقائی عمل بالکل ظاہروباہر ہے۔ ان کی ابتدائی نظموں میں وطن سے ان کی گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے اوّلین اُردو مجموعہ بانگِ درا کا آغاز ایک ایسی نظم سے ہوتاہے جو    وطن پرستی کے بلندپایہ جذبات سے بھرپور ہے۔ اس کا شمار ان نظموں میں ہوتا ہے جو حصولِ تعلیم کی غرض سے ان کے یورپ جانے سے قبل لکھی گئی۔ مثلاً اپنی نظم ’تصویر درد‘ میں وہ ہندستان کی قسمت پر آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں:

رُلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کو

کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے

عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستاں والو

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

’ترانہ ہندی‘ ان کی وہ مشہور اور مقبول نظم ہے جو ہندستان کے بچے بچے کی زبان پر ہے۔ اس میں انتہائی دل نشین طریقے سے اپنے وطن کے ساتھ گہرے لگائو اور محبت کا اظہار ہوتا ہے۔

سارے جہاں سے اچھا ہندستان ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

غربت میں ہوں اگر ہم ، رہتا ہے دل وطن میں

سمجھو وہیں ہیں ہم بھی، دل ہو جہاں ہمارا

اس زمانے کی ایک اور نظم ’ہندستانی بچوں کا گیت‘ ایک ایسی نظم ہے جس کے ایک ایک لفظ سے وطن پرستانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے:

بندے کلیم جس کے، پربت جہاں کے سینا

نوحِؑ نبی کا آکر ٹھیرا جہاں سفینا

رِفعت ہے جس زمیں کی بامِ فلک کا زینا

جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا

میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

اسی طرح اپنی نظم ’نیا شوالہ‘ میں انھوں نے یہ کہہ کر اپنی وطن پرستی کی انتہا کردی تھی کہ     ؎

پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے  ُتو خدا ہے

خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

بعض نقادوں کا خیال ہے کہ جوں جوں اقبال فکری ارتقا کے مراحل طے کرتے گئے، ان کے وطن پرستانہ جذبات دھیمے اور ملت پرستانہ جذبات گہرے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ وطن کی محبت کے نظریے سے قطعاً کنارہ کش ہوگئے۔ مگر یہ اعتراض بالکل درست نہیں ہے۔ طاہر فاروقی سیرتِ اقبال میں لکھتے ہیں: ’’وطنیت کا وہ نظریہ جس کی تبلیغ سیاست ِ مغرب کی طرف سے ہوئی ہے، آپ اس کے شدید مخالف ہیں اور اقوام و ملل کے حق میں اس کو سمِ قاتل خیال کرتے ہیں۔ لیکن وطنیت کا یہ مفہوم کہ ہندی،عراقی، خراسانی،افغانی، روسی، مصری وغیرہ ہونے کے اعتبا ر سے ہرفرد کو اپنے وطن ولادت سے تعلق اور نسبت ہے، اس کے آپ قائل اور معترف ہیں‘‘۔

ان کی پختگی کے دورکی تصانیف جاویدنامہ ، پس چہ باید کرداے اقوام مشرق  اور مثنوی مسافر میں بھی حب ِ وطن کے لطیف جذبات کا اظہار جابجا ہوا ہے۔ جاویدنامہ  کا وہ حصہ تو خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جہاں انھوں نے ’قلزم خونیں‘ کے تحت روحِ ہندوستان اور   اس کے نالہ و فریاد کی خوب تصویر کشی کی ہے۔ انھوں نے میرجعفر اور میرصادق جیسے وطن کے غداروں کو ننگِ آدم، ننگ دیں، ننگِ وطن قرار دے کر ان کی روحوں کو ایک قدر ناپاک ثابت کیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلے پر علامہ اقبال نے اپنے ایک مضمون میں حتمی گفتگو کی ہے۔

علامہ اقبال وطنیت کے مسئلے پر مارچ ۱۹۳۸ء کے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ: ’’میں نظریۂ وطنیت کی تردید اس زمانے سے کر رہا ہوں، جب کہ دنیاے اسلام اور ہندستان میں اس نظریے کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا۔ مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتدا ہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدتِ دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں فرنگی نظریۂ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔ (بحوالہ سیرتِ اقبال)

آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:’’اگر بعض مسلم علما اس فریب میں مبتلا ہیں کہ ’دین‘ اور ’وطن‘   اسی تصور کے تحت یک جا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت متنبہ کرتا ہوں کہ اس راہ کا مرحلہ اوّل تو لادینی ہوگی، اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپروائی۔(بحوالہ سیرتِ اقبال)

علامہ اقبال وطنیت کو اسلام کی عالم گیر روح کے منافی خیال کرتے ہیں۔دوسرے لفظوں میںوہ اس کو شرک سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ اس نئے بت کو توڑنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ بانگِ درا کی ایک نظم ’وطنیت‘ جس کا ذیلی عنوان ہے: ’’وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے‘‘۔ انھوں نے بڑی وضاحت سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے:

اس دور میں مے اور ہے، جام اور ہے جم اور

ساقی نے بِناکی روشِ لطف و ستم اور

مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور

تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

یہ بت کہ تراشیدۂ تہذیب نوی ہے

غارت گرِ کاشانۂ دین نبویؐ ہے

بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے

اسلام ترا دیس ہے ، ُتو مصطفوی ہے

وہ کہتے ہیں:

ما مسلمانیم و اولاد خلیل

از ابیکم گیر اگر خواہی دلیل

اصل ملّت در وطن دیدن کہ چہ

باد و آب و گل پرستیدن کہ چہ

بر نسب نازاں شدن نادانی است

حکم او اندر تن و تن فانی است

ملّت ما را اساسِ دیگر است

ایں اساس اندر دل ما مضمر است

حاضریم و دل بغائب بستہ ایم

پس زبند این و آں  وارستہ ایم

مدّعائے ما ، مآل ما یکے ست

طرز و انداز و خیالِ ما یکے ست

ما ز نعمت ہائے او اخواں شدیم

یک زبان و یک دل و یک جاں شدیم

(ہم حضرت ابراہیم ؑ خلیل اللہ کی اولاد ہیں۔ اگر تم دلیل چاہتے ہو تو قرآن کی آیت ملّۃ ابیکم ابراھیم سے دلیل حاصل کرو۔قوم کی بنیاد وطن میں دیکھنا کیسا! ہوا، مٹی اور پانی کو کیا پوجنا! نسب پر فخر کرنا حماقت ہے۔ اس کا تعلق جسم سے ہوتا ہے اور جسم فانی ہے۔ ہماری قوم کی بنیاد دوسری ہے۔ یہ بنیاد ہمارے دل کے اندر پوشیدہ ہے۔ ہم حاضر ہیں لیکن ہم نے دل کو غائب (اللہ تعالیٰ) سے وابستہ کر رکھا ہے۔ پس ہم کسی بھی طرح کی پابندی سے آزاد ہیں۔ ہمارے طورطریقے اور ہمارا خیال ایک ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمت (اسلام) سے بھائی بھائی بن گئے۔ ہم ایک زبان، ایک دل اور ایک جان ہوگئے)۔

اس کی عملی مثال پیش کرتے ہوئے علامہ اقبال ایک جگہ کہتے ہیں     ؎

اسود از توحید احمر می شود

خویش فاروق و ابوذر می شود

(توحید کے ذریعے کالا گورا بن جاتا ہے، یعنی اس کا ہمسر بن جاتا ہے اور حضرت عمرفاروق ؓ اور حضرت ابوذرؓ کا قرابت دار ہوجاتا ہے)۔

وہ مزید کہتے ہیں   ع

ہر ملک ملکِ ما ست کہ ملکِ خداے ماست

(ہر ملک ہمارا ملک ہے کیونکہ ہمارے خدا کا ملک ہے)۔

حضرت کعب بن زہیرؓ نے جب ’قصیدہ بردہ‘ کہا تھا تو انھوں نے اس میں آپؐ کی شان میں یہ شعر بھی کہا تھا کہ:

ان الرسول لنور یستضاء بہ

وسیف من سیوف اللہ مصلول

(رسولؐ کی ذات بلاشبہہ نور کی مانند ہے جس کے ذریعے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے سونتی ہوئی ایک تلوار ہیں)۔

انھوں نے پہلے (سیف من سیوف الھند، ہندستانی تلواروں میں سے ایک تلوار، اس زمانے میں ہندستانی تلوار اپنی تیزی اور اچھائی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور تھی) کہا تھا، تو آپؐ نے اس کو ناپسند فرمایا اور (سیف من سیوف اللّٰہ، اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار) کہنے کو کہا۔

علامہ اقبال کہتے ہیں:

جوہر ما بامقامے بستہ نیست

بادۂ تندش بجا مے بستہ نیست

صورت ما ہی بہ بحر آزاد شو

یعنی از قیدِ مقام آزاد شو

(ہمارا جوہر کسی ایک مقام سے وابستہ نہیں ہے۔ اس کی سخت شراب کسی ایک جام تک محدود نہیں ہے۔ مچھلی کی مانند سمندر میں آزاد رہو، یعنی کسی مقام کی قید سے آزاد ہوجائو)۔

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ہجرت کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو یہ درس دیا جائے کہ ان کی قومیت کی بنیاد وطن نہیں بلکہ نظریۂ توحید ہے:

عقدۂ قومیتِ مسلم کشود

از وطن آقاے ما ہجرت نمود

حکتمش یک ملت گیتی نورد

بر اساس کلمۂ تعمیر کرد

قصہ گویاں حق ز ما پوشیدہ اند

معنی ہجرت غلط فہمیدہ اند

ہجرت آئینِ حیاتِ مسلم است

ایں ز اسباب ثبات مسلم است

معنی او از تنک آبی رم است

ترک شبنم بہر تسخیریم است

بگذر از گل گلستاں مقصود تست

ایں زیاں پیرایہ بند سود تست

(حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم قومیت کا عقدہ حل کر دیا۔ ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وطن سے ہجرت کی۔ آپؐ کی حکمت نے دنیا میں پھرنے والی قوم کی تعمیر کلمۂ توحید کی بنیاد پر کی۔ قصہ سنانے والوں نے ہم سے حق کو پوشیدہ رکھا اور ہجرت کے معنی غلط سمجھائے۔ ہجرت مسلمان کی زندگی کا دستور ہے۔ یہ مسلمانوں کے ثبات و استحکام کا ایک سبب ہے۔ اس کا مطلب تھوڑے پانی سے گریز اور دریا کی خاطر شبنم کو ترک کرنا ہے۔ اے مسلماں! پھول کو چھوڑ دے کیونکہ تیرا مقصود تو باغ ہے اور پھول چھوڑنے کا یہ نقصان تیرے فائدے کی خاطر ہے)۔

اسلام حسب و نسب کے حوالے سے تشخص کا قائل ہے نہ کہ تفضّل کا۔ حضرت سلمانؓ سے کسی نے نسب پوچھا تو آپ نے کہا کہ سلمان بن اسلام۔ علامہ اقبال کہتے ہیں:

نہ افغانیم و نے ترک و تتاریم

چمن زادیم و از یک شاخساریم

تمیز رنگ و بو بر ما حرام است

کہ ما پروردۂ یک نو بہاریم

(ہم نہ افغانی ہیں نہ ترکی اور نہ تاتاری۔ ہم ایک چمن اور ایک شاخسار (اسلام) سے ہیں۔ ہم پر رنگ و بو کی تمیز حرام ہے۔ ہم ایک نئی بہار کے پروردہ ہیں)۔

ایک دوسری جگہ انھوں نے کہا ہے    ؎

یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو، بتائو تو مسلمان بھی ہو

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اتحاد کے لیے ایک مرکز درکار ہوتا ہے اور ہمارا مرکز بیت الحرام ہے:

قوم را ربط و نظام از مرکزے

روزگارش را دوام از مرکزے

رازدار و راز ما بیت الحرام

سوزما ہم سازِ ما بیت الحرام

تو ز پیوند حریمے زندۂٖ

تا طواف او کنی پایندۂٖ

(قوم ایک مرکز کے ساتھ ہی مربوط اور منظم ہوتی ہے۔ اس کی زندگی کو مرکز ہی سے دوام حاصل ہوتا ہے۔ ہمارا رازدار اور ہمارا راز بیت الحرام ہے۔ ہماری آرزوئوں اور تگ و دو کا محور بیت الحرام ہے۔ تو بیت الحرام سے وابستگی کے ذریعے زندہ ہے۔ جب تک تو اس کا طواف کرتا رہے گا، قائم رہے گا)۔

علامہ اقبال اتحاد کے لیے وسعتِ نظری کو لازمی خیال کرتے ہیں ۔ فقہی و کلامی مباحث میں کشادگی و وسعت کی وکالت کرتے ہیں اور تنگ نظری پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں:

نہ فلسفی سے ، نہ مُلّا سے ہے غرض مجھ کو

یہ دل کی موت ، وہ اندیشہ و نظر کا فساد

فقیہِ شہر کی تحقیر! کیا مجال مِری

مگر یہ بات کہ مَیں ڈھونڈتا ہوں دل کی کشاد

ملت اسلامیہ کا اتحاد اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب اس کو صالح اور باشعور افراد میسر ہوں۔ ہرشخص اپنے آپ میں مثلِ انجمن ہو اور انھی سے اسلامی قیادت تشکیل پاتی ہو۔ اس کے لیے علامہ اقبال کا یہ شعر نہایت جامع ہے    ؎

نگہ بلند، سخن دل نواز ، جاں پُرسوز

یہی ہے رختِ سفر میرکاررواں کے لیے


(بہ شکریہ وحدتِ جدید، بھارت، وحدت اُمت ِ رسولؐ نمبر)