نومبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

مؤثر قیادت: چند غور طلب پہلو

ارشد احمد بیگ | نومبر ۲۰۱۴ | دعوت و تحریک

قیادت کے لغوی اور اصطلاحی معنی تو اپنی جگہ لیکن قیادت کا اصل مفہوم ایسی صلاحیت ہے جس سے دو سروںپر اثر انداز ہوا جاسکے، اور جس سے افرادِکار میں تحرک ، فعالیت اور جذبۂ عمل پیدا کیا جائے، اور اس کے نتیجے میں مطلوبہ معیار کے مطابق طے شدہ اہداف کا حصول ممکن ہوسکے۔

قیادت کی صفات کیا ہیں اور ایک اچھا قائد کیسا ہوتا ہے؟ اس مضمون میں ایک قائد، ناظم  یا امیر کے لیے چند عملی پہلوئوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے تاکہ مؤثر قیادت سامنے آسکے۔

 جذبہ و دانش

تحریکوں کی کامیابی کے لیے جذبہ(passion) اوردانش(wisdom) دونوں کی اہمیت ہے۔ نہ تو محض جذبے سے سرشار ہجوم فائدہ مند ہے اور نہ محض مجلس ہاے دانش سے ہی انقلابات کشید ہوتے ہیں۔افرادِ کار میں جذبہ بیدار کرنا اور برقرار رکھنا قائد کی اولین ذمہ داری ہے۔    اسی طرح اہلِ دانش سے استفادہ کرنا بھی اہل قیادت کا کام ہے۔ جذبہ و دانش میں خلیج کی تحریک کو بڑے نقصانات ہیں۔قیادت کو چاہیے کہ اس خلیج کو پاٹنے کے لیے حکمت ِ عملی بنائے۔ بصیرت، حکمت، پختہ سوچ، عمدہ تجزیہ،اصابت راے، اگر قوت ِ عمل میں نہ ڈھلے تو سرگرمیاں ہوں گی مگر ثمرآور نہ ہو سکیںگی،جوش و جذبہ تو ہوگا مگر مؤثر نہ ہو سکے گا،تحرک تو ہوگا مگر پیش قدمی نہ ہوگی۔

بعض اوقات تنظیمی درک رکھنے والے افراد خود کو میدانِ عمل کے دانش ور سمجھنے لگتے ہیں اور سوچنے سمجھنے والے افراد خود کو تنظیمی حرکیات کے ماہر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ہر دو گروہوں کی اپنی حد ِ استعداد ہے، دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے اور دونوں طرح کے افراد مطلوب ہیں۔ اعلیٰ ذہنی صلاحیت ،تفکر و تدبر اور قوتِ عمل کے امتزاج سے کام کا معیار اور رفتار مثالی ہوسکتی ہے۔ذمہ داریوں پر فائز افراد تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور سوچنے سمجھنے والے افراد تحریک کا دماغ۔قیادت کو چاہیے کہ دونوں طرح کے افراد کو مرکزی دھارے کا حصہ بنائے اور ان کے درمیان نفسیاتی بُعد اور دُوری ختم کرے۔

مختلف شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور متخصصین کا فورم ضلعی یا بالائی سطح پر قائم ہوسکتاہے۔ یہ فورم شوریٰ کے ساتھ سہ ماہی بنیادوں پر نشستیں رکھ سکتا ہے۔ اس طرح تنظیمی قوت کو اگر تحقیق وتخصص سے تقویت ملے گی تو کام کے لیے نئی راہیں کھلیں گی۔

 مشیر اور مشاورت

دنیاوی و دینی امور میں فیصلہ سازی کے لیے مشیروں کے اہمیت مسلمہ ہے۔ سیرتِ نبویؐ، خلافت ِ راشدہ،آثارِ صحابہؓ اور اسلاف کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ مشیران کے انتخاب کی کتنی اہمیت ہے۔دنیاوی لحاظ سے بھی ایک مثالی انتظام کاری میں صائب الراے،بیدار مغز،با صلاحیت اور اعلیٰ استعداد رکھنے والے افراد کی مشاورت میں شرکت کو کامیابی کا زینہ سمجھا جاتاہے۔

حضرت عمرؓ نے اپنی شوریٰ میں کیسے کیسے جلیل القدر اصحاب جمع کیے تھے! وہ ان سے اختلاف بھی کرتے ، بہترین تجزیاتی صلاحیت کی مدد سے صورت حال کا جائزہ لیتے،اصابت ِ راے اور پختہ فکر کی بدولت ٹھوس اور مدلل راے کا اظہار کرتے۔مسلمانوں کی حکمران تاریخ میں اچھے اور بُرے مصاحبین اور مشیروں کا بڑا حصہ ہے۔اداروں،تنظیموں اور حکومتوںکے عروج و زوال میں مشیروں کا کردار سب پر واضح ہے۔ اچھے بُرے ،ہر دو طرح کے افراد تاریخ کا حصہ ہیں۔ جی حضوری اور خوشامدی طرزِ مشاورت کسی بھی تنظیم یا ادارے کے لیے زہر ِ قاتل ہے۔رفتہ رفتہ اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اپنی راے سے ہٹ کر کسی دوسری رائے کو سننے کا حوصلہ نہیں رہتابلکہ اس سے  بڑھ کر یہ کہ اختلاف ِ راے رکھنے والا فرد مطعون و مذموم قرار پاتا ہے،لہٰذا مشیروں کی تلاش میں  اس امر پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ مشاورت کے فورم میں اس طرح کی فضا کو پروان چڑھایا جائے جہاں آزادانہ اظہارِ رائے کا ماحول ہو اور مختلف زاویوں سے کسی بھی معاملے پر کھل کر بحث کی جاسکے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ذمہ داران اس بات کا بھی اہتمام کرسکتے ہیں کہ متعین فورم کے علاوہ بھی غیر رسمی مشاورتی فورم تشکیل دیں جو یقینا فیصلہ سازی کا فورم نہیں ہوگا بلکہ یہاں مختلف استعداد و مہارت رکھنے والے کے اجتماع سے گتھیوں کے سلجھنے کے امکانات روشن ہوں گے۔

منصوبہ و جائزہ

منصوبہ(planning)اور جائزے(evaluation)کی اصطلاحات اور ان کے معنی و مفہوم سے ہم واقف ہیں۔سال کے آغاز میں منصوبہ بنانا اور آخر میں جائزے کا عمل تحریکی زندگی میں معمول کی بات ہے۔یہاں توجہ طلب دو باتیں ہیں۔سال کے آغا ز میں منصوبہ بندی کے لیے بالعموم گذشتہ سال یا زیادہ سے زیادہ چند برسوں کے منصوبۂ عمل کی روشنی میں مستقبل کے لیے نیامنصوبۂ عمل تیار ہو جاتا ہے۔عشروں پر محیط ہماری روایات ،کارکنوں کی دی ہوئی تجاویز، دانش وروں سے کچھ ملاقاتیں،سینیر حضرات سے نشستوں وغیرہ سے اس نئے منصوبۂ عمل میں ’نیا پن ‘شامل ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں قیادت کو سائنسی انداز میں منصوبۂ عمل کی سرگرمی کو انجام دینا چاہیے۔منصوبہ تو اپنی جگہ مگر منصوبے کے لیے بھی کوئی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔ اس سوال کا جواب تلاش کیا جا نا چاہیے۔ہماری ٹیم ،افرادِ کار یا انسانی وسائل کی کیفیت کیا ہے؟ ان کی استعداد، صلاحیت اور مہارتیں کیا اور کون سی ہیں؟ان میں کمی اور خامیاں کیا ہیں؟سماجی حقائق کیا کہتے ہیں؟ماحول کی مکمل جانچ کیسے کی جائے گی؟ گذشتہ جائزے میں بہتری کا خاکہ کیا تجویز کیا گیا تھا؟، اسی طرح سیاسی حرکیات ،تنظیمی قوت،سماجی شعور،اور اپنے وژن اور مشن کی روشنی میں جملہ وسائل، یعنی انسانی، مالی،مادی اور اطلاعاتی وسائل کے مکمل آڈٹ کے بعد مستقبل کے لیے منصوبۂ عمل تیار کرنا ضروری ہے۔دور بین اور دور اندیش قیادت کو یہ کام بہر صورت کرنا چاہیے۔

اس سلسلے میں جائزے کے عمل کا جائزہ بھی لیاجانا چاہیے۔ ’ جائزے کا جائزہ‘ لے کر ہم مروجہ کمزوریوں کو جان سکیں گے اور مؤثر طریقے سے اس اہم کام کو انجام دے سکیں گے۔یاد رکھنا چاہیے کہ سال کے آغاز میں منصوبے سے شروع ہونے والا چکر، جائزے پرمکمل نہیں ہو جاتا بلکہ یہ اگلی منصوبہ بندی کے لیے پہلی سیڑھی ہے۔ گویا جائزہ’ پہلے مرحلے سے پہلے ‘کا عمل ہے۔

 توازن ِ زندگی

زندگی میں توازن کی اہمیت سے ہم خوب واقف ہیں۔توازن فطرت کا دوسرا نام ہے۔دین اسلام چونکہ دین ِ فطرت ہے، اس لیے یہ ایک متوازن نظام زندگی ہے۔ نبی کریم ؐ کی زندگی کا کمال تھا کہ آپؐ زندگی کے تمام پہلوئوں میں توازن قائم رکھتے۔آپؐ بیک وقت ایک مہربان باپ،محبت کرنے والے شوہر تھے۔ایک بہترین منتظم، بے مثال قائد اور نڈر سپہ سالار تھے۔جہاں ِ قوتِ ارادی اور مضبوطی شخصیت سے جھلکتی وہاں تواضع،حلم اور نرمی سے بھی مالا مال تھے۔ گویا اسلامی تحریک کے ایک قائد کو یہ سمجھنا چاہیے کہ توازن میں ہی حُسن ہے۔کیا ہم بحیثیت باپ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں؟بچوں کی تربیت پر کتنی توجہ ہے؟۔میاں بیوی کے حقوق کا معاملہ کیا ہے؟والدین کے حقوق کی ادایگی کی کیا کیفیت ہے؟ان تمام معاملات میں غفلت و لاپروائی کوفریضۂ اقامت ِ دین کے راستے میں قربانی تصور کرناایک بہت بڑا مغالطہ ہے۔ قیادت کو چاہیے کہ وہ خانگی معاملات پر بھی توجہ دے اور اسے درست رکھے۔قائد کو اپنی ذات سے بننے والے خاندانی نظام کی فکر کرنی چاہیے اور اسے بکھرنے اور ٹوٹنے سے بچانا چاہیے۔ مزید یہ کہ خاندانی نظام کی تعمیر اور اس کو مستحکم کرنا،گویا خاندان کی حفاظت ،تعمیر اور استحکامِ قیادت کے لیے ضروری ہے۔ اللہ کے دین کے کام کا مطلب کیا ہے؟۔اس کی کلیت اور جامعیت کیا ہے؟اس کا جاننا بھی ضروری ہے۔

تحصیلِ علم کی جستجو

قیادت کے اہم فرائض میں تعلیم و تذکیر بھی شامل ہے۔تعلیم بغیر آموزش (learning) کے ممکن نہیں ۔منتظم بہت ہوتے ہیں اور اچھے منتظمین کی بھی کمی نہیں۔لیکن ایسا قائد یا منتظم جو افراد کی کردار سازی کرے،مطلوب قائد وہی ہے۔جو انھیں اخلاق و آداب سکھلائے،زندگی کے رموز سے آگاہی دے،اخلاقِ حسنہ نکھارے اور اخلاقِ رذیلہ کی کانٹ چھانٹ کرے۔گویا تعلیم و تذکیر قیادت کی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے۔قائد قوت ِ علم سے جتنا مالا مال ہوگا اس کی قیادت میں اتناہی اعتبار اور وزن ہوگا۔علم ایک بے مثل قوت ہے ۔یہ دو افراد کے درمیان فرق کو واضح کر دیتا ہے۔

قائد کو علم میں اضافے کے لیے شعوری کوشش کرنی چاہیے ۔مطالعۂ کتب، سنجیدہ علمی مجالس، مثبت گروہی مباحث،ذہنی نشوونما کے لیے مؤثر نسخے ہیں۔ اس میں قرآنِ مجید کا مطالعہ سرفہرست ہے۔  تفہیم القرآن کے ساتھ ساتھ معروف تفاسیر کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے۔ اسی طرح احادیث کے بنیادی ذخیرے سے آگہی، فقہ میں عمومی نوعیت کی معلومات ناگزیر ہیں۔گویا ان علومِ عالیہ کے خزانے سے مالامال قیادت مرجعِ خلائق بن سکتی ہے۔اسی طرح سماجی علوم ،سیاسی تحریکوں کا مطالعہ، انقلاباتِ عالم سے واقفیت،قوموں کے عروج و زوال کے اسباب سے آگہی قیادت کی اہلیت، استعداد اور قوت میں اضافہ کرے گی۔ اسی طرح قیادت اپنی ذمہ داریوں کے دوران سیرت ِ نبویؐ کا از سر ِ نو مطالعہ کرے،جذب کرے،ماہیت ِ قلب(transformation) کے لیے خود کو آمادہ اور تیار کرے۔سیرت کا مطالعہ در اصل کسوٹی ہے،جس سے اپنی شخصیت کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔ روے زمین پر گزرنے والے عرصۂ حیات میں خلافت ِ راشدہ کا زریں دور بے مثل اور یکتا ہے۔ اس دور کا مطالعہ بھی انتہائی ضروری ہے۔ انتظامیات اور گڈ گورننس کے باب میں عمر بن خطابؓ اور عمر بن عبد العزیز ؒکی حکمت ِ عملی،فیصلے، طریقۂ کار،انتظامی امور،مالی ڈسپلن اور انسانی تعلقات کا مطالعہ قیادت کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی طرح دنیا بھر کی مؤثر شخصیات کی سوانح کا مطالعہ یقینا ہماری سوچ کو وسیع اور کشادہ کرے گا۔ بزنس میں کامیاب تجربے جاننے سے قائدانہ صلاحیت میں گونا گوں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ فلسفہ،معاشیات،عمرانیات،اور ابلاغیات جیسے علوم کی بنیادی معلومات و استعداد قیادت کو بہترین اور مثالی قیادت میں تبدیل کرے گی۔

زمینی حقائق اور تنظیمی مصروفیات کے پیشِ نظر تحصیلِ علم کے اہداف بظاہر ممکن نظر نہیں آتے۔ اس سلسلے میں چند عملی اقدام کیے جا سکتے ہیں۔سب سے پہلے تو خود ایک فرد میں اس ہدف کا حاصل کرنے کا شعور ،جذبہ اور عزم ہونا چاہیے۔ شورائوں اور مشاورتی فورم میں اس طرف توجہ دلائی جائے اور آموزش کے اہداف مقرر کیے جائیں۔ہر فرد کے لیے مطالعے کے لیے وقت نکالنا شاید مشکل ہو، لہٰذا رجحان و صلاحیت کے اعتبار سے چند افراد کو یہ کام دیا جا سکتا ہے جو تیاری کر کے حاصل مطالعہ پیش کرنے کا اہتمام کریں۔دفاتر میں یا علیحدہ سے لرننگ ریسورس سینٹر کے قیام کو بھی ترجیح دی جائے۔ضلع کی سطح پر ان امور کی انجام دہی کے لیے فورم بنا یا جا سکتا ہے جو ذمہ داران کے لیے سہولت و خدمت فراہم کرے ۔ صوبائی سطح پر اس عمل کی رہنمائی کا معقول بندوبست کیا جائے۔

سادہ طرزِزندگی

تصنع سے پاک سادہ طرزِ زندگی اختیار کرنا عمومی طور پر تو سب کے لیے اور خصوصی طور پر ان کے لیے ضروری ہے جن کو لوگ اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ دنیا کے عظیم انسانوں نے معمول کی زندگی گزاری۔وہ معاشرے میں چھپی ہوئی تہوں سے واقف ہوتے ہیں اور ان کی قیادت کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں۔ اگر واقفیت ہی نہ ہو تو قیادت چہ معنی؟ہوائوں میں اڑنے والوں کو زمینی حقائق سے کیا علاقہ؟زمین اور بر سرِ زمین معاملات کا وہی اِدراک کر سکتے ہیں جو اپنے آپ کو زمین ہی پر رکھتے ہیں۔اگر اپنی شخصیت کے اوپر ہی غلاف در غلاف کا معاملہ ہو جائے تو سماجی حرکیات سے آگاہی تو ایک طرف، فرد خود اپنی شخصیت کا غلام بن جاتا ہے۔ اس لیے معاشرے میں اجنبی بننے کے بجاے اس کا حصہ بننا چاہیے اور اس کے لیے پہلا کام یہ ہے کہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو ان تمام مراحل سے گزارنے کے لیے تیار ہو۔

کام کا تصور ِ کلیت

ہرادارے اور تنظیم کے مختلف منصوبے ہوتے ہیں۔بعض اوقات مختلف زاویوں سے کام ہوتا ہے۔ انتظامی طور پر درجنوں شعبہ جات سے انھیں تقویت ملتی ہے۔ تحریک میں مختلف افراد کو   ان کے میلان اور استعداد کے مطابق شعبہ جات اور مختلف منصوبے تفویض کیے جاتے ہیں۔تنظیم کو چلانے والے،سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ،بلدیات سے متعلق افراد ،تعلیم سے وابستہ افراد،  شعبہ خدمت میں مصروف رجالِ کار و دیگر یہ سب تحریک کے گلدستے کے پھول ہیں، ان سب کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ اگر سیاسی امور کو انجام دینے والے دیگر افراد یا کام کو کم تر درجہ دیں، یا شعبۂ تعلیم میں مصروف لوگ اپنے آپ ہی کو نقیب ِ انقلاب سمجھیں، یا خدمت کے شعبے سے وابستہ افراد اسی کام کو ہی تبدیلی کا ذریعہ سمجھیں اور تنظیم کو چلانے والے بقیہ سب کو بے وقعت جانیں، تو تحریک کو قوت و استحکام نہیں مل سکتا ۔تبدیلی کے کام کی جامعیت اور وسعت جاننے کی ضرورت ہے،’’میں ایک بڑے کل کا محض ایک جزو ہوں‘‘اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، لہٰذا تبدیلی کے لیے مکمل تصور کا ادراک ضروری ہے۔ قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر طرح کے افراد، مختلف النوع منصوبوں اور معاون شعبہ جات کو یکساں اہمیت دے اور تبدیلی کے لیے ہر ایک کی اہمیت کو محسوس کرے۔

 تصورِ امانت

کیا یہ بات اہم نہیں ہے کہ اخلاقِ حسنہ کے مجسم پیکر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ نے نبوت کے لیے مبعوث کیا تو وہ نبوت سے پہلے ہی صادق اور امین کے لقب سے معروف تھے۔ امانت کے تصور کی وسعت کیا ہے؟قیادت کو اس ضمن میں خود بھی اور اپنی ٹیم میں بھی احساس پیدا کرنا چاہیے۔وسائل ہمارے پاس امانت ہیں۔ قائد کے پاس انسانی ،مالی اور مادی وسائل ہوتے ہیں اور وہ انھیں تصرف میں لاتا ہے۔ مجلس اور فورم کے فیصلے اور گفتگو بھی امانت ہے۔ اسی طرح اختیارات بھی امانت ہیں۔ چنانچہ قیادت کا اُجلاپن اس میں ہے کہ وہ انسانی وسائل کا درست استعمال کرے، اپنے پیچھے چلنے والوں کی فکر کرے ،مالی لحاظ سے سادگی اور میانہ روی کا مظاہرہ کرے۔ مالی معاملات میں شفافیت کو برقرار رکھے اور اسی طرح ذاتی و تنظیمی حوالے سے مادی وسائل کے استعمال میں فرق ملحوظ رکھے۔ یہ سب اعلیٰ اوصاف ہیں،بہترین قدریں ہیں اور دین میں مطلوب ہیں۔

اھلیت

اہلیت پر افرادِ کار کا تقرر دراصل نصف کامیابی ہے۔بظاہر اس معمولی عمل کی اہمیت  قرآنی تعلیمات میں واضح ہے،احادیث ِ نبویؐ میں اس کی تاکید ہے،سیرت ِ نبویؐ میں عملی مثالیں ہیں اور خلافتِ راشدہ میں اس کی توثیق ہے۔ امانتوں کو اہل افراد کے سپرد کرنے کی کس قدر تاکید ہے، اور نااہلوں کو مناصب پر فائز کردینے پر کیسی وعید ہے، اسے ذہن نشین رکھنا چاہیے۔ کام کی اہلیت و استعداد نہ رکھنے کے باوجود کسی کو ذمہ داری سونپ دینا در اصل ظلم ہے۔فقہ کی کتابیں کھولیے:’’ ایک چیز گویا اپنی جگہ سے ہٹا دی گئی‘‘۔نقصان اس فرد کا بھی کہ کام نتیجہ خیز نہ ہو تو تاثر خراب اور تنظیم کا بھی کہ کام مطلوبہ رفتار اور معیار کا نہ ہواور وسائل کا زیاں ہو جائے۔

اقامت ِ دین کے لیے جدوجہد کرنے والی اجتماعیت روے زمین پر اللہ کی عظیم نعمت ہے۔ اسلامی تحریک کی ہر سطح کی قیادت،انتہائی مخلص،باصلاحیت اور درد دل رکھنے والے بہترین افراد پر مشتمل ہے۔ وطنِ عزیزکی دیگر دینی و سیاسی جماعتیں اس حقیقت کا برملا اعتراف کرتی ہیں۔     ایسی وفاشعار قیادت اور ایسے ایثار کیش کارکنان کو دجالیت کے اس پُرفتن دور میں اور مادیت کے اس طوفان میں بہت بڑا چیلنج درپیش ہے،انفرادی حیثیت میں تہذیب ِ نفس اور اجتماعی حیثیت میں اصلاح معاشرہ۔چیلنج ایسا کہ زُہد و رُشد بھی متاثر نہ ہو اور تبدیلی کا خواب بھی دھندلا نہ ہو۔

 

مضمون نگار رفاہ انٹرنیشنل یونی ورسٹی، اسلام آباد میں سینیر ریسرچ فیلو ہیں