نومبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

افغانستان: دو نئے معاہدے

ڈاکٹر محمد اقبال خلیل | نومبر ۲۰۱۴ | اخبار اُمت

۲۰۱۴ء میں افغانستان کے صدارتی انتخابات کا تنازع بالآخر حل کر لیا گیا ہے اورایک معاہدے کے تحت دو صدارتی امیدواروں ڈاکٹراشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان شراکت اقتدار کا معاہدہ طے پانے کے بعد نئے صدر نے حلف اٹھالیا۔ اس طرح حامدکرزئی کے طویل دور صدارت کا ۱۰سالہ خاتمہ اور اس کے جانشین کے تعین کا مسئلہ حل ہو گیا ہے ۔ نئے صدر نے حلف اٹھانے کے بعد اگلے روز امریکا کے ساتھ اس دو طرفہ معاہدے پر دستخط کر دیے جس کا امریکی حکومت کو ایک طویل عرصے سے انتظار تھا اور اس کے لیے اس کو بہت سے پاپڑ بیلنے پڑے، کیونکہ سابق صدرحامد کرزئی نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اس معاہدے کی رو سے اب امریکی صدر باراک اوباما اپنی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج دسمبر ۲۰۱۴ء تک نکال سکیں گے اور نسبتاً طویل عرصے تک اپنی افواج کا ایک حصہ افغانستان میں بر قرار رکھیں گے ۔

ان دونوں معاہدوں کا ایک تفصیلی جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم ان چند اہم عوامل کا تذکرہ کریں جو موجودہ دور میں افغانستان کی عالمی سطح پر اہمیت اور واحد سوپر پاور امریکا کے   اس کے بارے میں جاری رویے کی عکاسی کرتے ہیں ۔ ۱۹۷۹ء میں روس نے افغانستان پر    فوج کشی کی اور پھر ایک دہائی تک وہ دنیا کے اس غریب ترین ملک میں کمیونسٹ نظام نافذ کرنے کے لیے کوشاں رہا ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے پورے افغانستان کو بمباری سے     تباہ و برباد کیا۔ سابق سوویت یونین کی اس جارحیت کے نتیجے میں ۱۵لاکھ افغان جاں بحق ہوئے ہیں، ۵۰لاکھ سے زائد افغان شہر ی پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ پوری دنیا نے اس جارحیت کی مذمت کی اور بالآخر افغان مجاہدین کی لازوال قربانیوں اور عالمی طاقتوں کی کوششوں سے وہ افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوا۔ نائن الیون کے واقعے کے بعد۲۰۰۱ء میں امریکا اپنے تمام اتحادیوں اور لائو شکر سمیت افغانستان پر چڑھ دوڑا اور طاقت کے بے تحاشا استعمال کے بعد یہاں کی اسلامی امارت کو ختم کرنے اور اپنی مرضی کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوا ۔

 گذشتہ ایک دہائی میں امریکی حکومت نے اربوں ڈالر خرچ کر کے افغانستان میں اپنی مرضی کا جمہوری نظام قائم کرنے کی کوشش کی ۔ صدارتی ،پارلیمانی ، صوبائی ہر سطح پر انتخابات ہوتے رہے لیکن وہ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوا، اس کی ہلکی سی جھلک آپ ۲۰۱۴ء کے انتخابات کے نتائج میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب ناکام ہونے والے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے دوسرے مرحلے کے نتائج ماننے سے انکار کر دیا اور بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا، تو اس کے بعد دوبارہ گنتی کا اہتمام ہو اجس کو ’ووٹ آڈٹ‘کا نام دیا گیا۔ عالمی مبصرین کی موجودگی میں دونوں صدارتی امیدواران کے نمایندوں کے سامنے ووٹوںکی دوبارہ گنتی کی گئی اور جعلی ووٹوں کو مسترد کیا گیا، تو آخر میں کسی بھی حتمی نتیجے کا اعلان تک نہ کیا جا سکا۔گویا پورا انتخابی عمل جو کئی مہینوں پر محیط تھا اور جس پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے تھے، بے نتیجہ رہا اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی کوششوں سے دونوں سیاسی شخصیات کے درمیان ایک معاہدے کے نتیجے میں نئی کابل حکومت وجود میں آئی ۔ اب آئیں ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا معاہدہ

۲۰ستمبر ۲۰۱۴ء کو طے پانے والے اس معاہدے کا عنوان ہے: ’’قومی اتحادی حکومت کی تشکیل کے لیے دو انتخابی ٹیموں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ‘‘۔ اس معاہدے کا آغاز اللہ کے بابرکت نام سے کیا گیا اور اس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اس کے ذریعے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کا ایک قانونی حل طے کیا جائے گا ۔ اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ہمارا محبوب وطن افغانستان جس نازک دور سے گزر رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ یہاں ایک مضبوط آئینی حکومت کا قیام عمل میں آئے جو سیاسی استحکام اور اجتماعی سوچ کی حامل ہو ۔

موجودہ دور کی نزاکتوں کے پیش نظر ضروری ہے کہ ایک ایسی وسیع البنیاد قومی فکر پیدا کی جائے جو سیاسی اصلاحات اور بنیادی تبدیلیوں کو انگیز کر سکے ۔ قوم کی واضح اکثریت کی نمایندگی کرتے ہوئے دوسرے مرحلے کی انتخابی ٹیمیں اپنی قومی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ایک قومی وحدانی حکومت قائم کر رہی ہیں ۔ اس معاہدے کے تین بنیادی نکات درج ذیل ہیں:

  1. اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین کو تسلیم کیا جائے گا اور اس کے فراہم کردہ اصولوں ، جہاد کے مقاصد کے حصول اور افغان عوام کی جدوجہد کے پیش نظر ایک قومی و اصلاحی پروگرام بنایا جائے گا۔
  2.  سیاسی مفاہمت کے نتیجے میں قومی حکومت کا قیام ، صدارتی فرمان کے ذریعے چیف ایگزیکٹو کے عہدے کی تخلیق، لویہ جرگہ کا انعقاد جس میں ایگزیکٹو وزیر اعظم کے منصب کا قیام، اہم حکومتی عہدوں کی تعیناتی ،اتفاق راے اور میرٹ اور انتخابی اصلاحات کو عمل میں لایا جائے گا۔
  3. جس طرح دونوں پارٹیوں نے باہمی اتفاق سے الیکشن آڈٹ کا کام مکمل کیا اسی طرح سیاسی محاذ پر بھی دونوں مل کر کام کریں گے ۔ اس کے لیے مشترکہ کمیشن مقرر کیا جائے گا جو مل کر تمام معاملات طے کرے گا۔

بعد میں اس معاہدے پر دونوں صدارتی امیدواروں ڈاکٹر محمد اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اپنے دستخط ثبت کیے ۔ معاہدے کے گواہ کے طور پر افغانستان میں امریکی سفیر جیمزبی کننگھم اور اقوام متحدہ کے نمایندے جان کیوبس نے بھی دستخط کیے۔

معاہدے میں بین الاقوامی برادری کا شکریہ ادا کیا گیا ہے جس نے سیاسی اور تکنیکی معاونت فراہم کی، اور متعلقہ پارٹیوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاہدے پر عمل درآمد اور قومی حکومت کے قیام کی حمایت کرتے رہیں گے ۔

اس معاہدے کے بعد ۲۹ستمبر کو ڈاکٹر اشرف غنی نے افغان صدارتی محل (ارگ)میں ہونے والی ایک بڑی تقریب میں نئے افغان صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ۔ اس موقعے پر جنرل عبدالرشید دوستم اور سرور دانش نے نائب صدور کی حیثیت سے حلف اٹھایا ، جب کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے چیف ایگزیکٹو (CEO)کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ یہ وہ منصب ہے جو خاص ان کے لیے نئے معاہدے میں تخلیق کیا گیا ہے ۔ تقریب حلف برداری میں صدر پاکستان ممنون حسین، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان، پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ اور اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے علاوہ متعدد ممالک کے سربراہان اور نمایندوں نے شرکت کی۔ نئی حکومت کو اب کابینہ سازی کا مرحلہ درپیش ہے جس کے لیے دونوں گروپوں کے ممکنہ امیدوار کابل میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور زبردست جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔

دوسرا معاہدہ

دوسرا معاہدہ جو ریاست ہاے متحدہ امریکا اور اسلامی جمہوریہ افغانستان کے درمیان طے پایا وہ باہمی دفاع اور سلامتی کے لیے تعاون کا معاہد ہ ہے جس پر حلف اٹھانے کے بعد اگلے ہی روز ڈاکٹر اشرف غنی احمدزئی نے دستخط کیے ۔ یہ وہ معاہدہ تھا جس کی امریکی حکومت کو بہت جلدی تھی اور عرصۂ دراز سے وہ اس موقعے کے انتظار میں تھے ۔ چنانچہ کوئی وقت ضائع کیے بغیر نئی کابل انتظامیہ کے سربراہ سے دستخط کروا لیے گئے ۔

معاہدے کے مندرجات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں نے اس کو خاصی عرق ریزی سے تیار کیا ہے ۔ اس کی ۲۶دفعات ہیں ۔ جس میں تفصیل سے ان تمام معاملات و تنازعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو تادیر افغانستان میں امریکی افواج کے قیام سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اس معاہدے کے جواز کے طور پر جو حوالے دیے گئے ہیں، ان میں ۲مئی ۲۰۱۴ء کو افغانستان اور امریکا کے درمیان ہونے والے اسٹرے ٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ ، ۲۱مئی ۲۰۱۴ء کو شکاگو میں سربراہان مملکت کانفرنس کا اعلامیہ، اور ۲۰۱۳ء میں افغانستان کے لویہ جرگہ کی قرار داد شامل ہیں۔ اس کا اصل مقصد افغانستان کی سا لمیت، آزادی ،جغرافیائی سرحدوں اور قومی وحدت کی حفاظت ہے ۔ معاہدے کی تمہید میں باربار افغانستان کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصول کو دہرایا گیا ہے ۔ معاہدے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس ملک کو القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ پڑوسی ممالک کے خدشات کے پیش نظر اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی اڈے اور افواج ان کے خلاف بہر صورت استعمال نہیں کی جائیں گی ۔

معاہدے کی ۲۶ دفعات کے عنوانات حسب ذیل ہیں: اصلاحات کی تشریح ، مقصد اور دائرہ اختیار ، قوانین ، افغانستان کی دفاعی صلاحیت کی ترقی اور استحکام ، دفاع اور سلامتی کے لیے باہمی تعاون کا طریقۂ کار ، بیرونی جارحیت کا سد باب ، طے شدہ سہولتوں اور اڈوں کا استعمال ، جایداد کی ملکیت ، اسلحہ اور آلات کی اسٹوریج اور استعمال ، جہازوں ،کشتیوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت ، ٹھیکہ داری کے ضابطے ، اشیا ے صرف اور مواصلات ، افرادِ کار کی قانونی پوزیشن ، اسلحہ اور یونیفارم کا استعمال ، ملک میں آنے اورجانے کے ضابطے ، درآمدات و برآمدات ، محصولات ، ڈرائیونگ اور پیشہ ورانہ لائسنس کا اجرا ، موٹر گاڑیوں کے لائسنس ، ضروری خدمات، مثلاً ڈاک ، بینکاری وغیرہ ، زرمبادلہ ، قانونی دعوے ، ضمیمے ، تنازعات اور معاہدے ، مشترکہ کمیشن اور معاہدے کی تاریخ نفاذ اور خاتمے کا طریقہ۔ گویا کوشش کی گئی ہے کہ جزئیات میں جا کر امریکی مفادات اور کارروائیوں کو قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔

اس معاہدے کے تحت ہر ہر معاملے میں امریکی مفاد کو ترجیح دی گئی ہے اور پھر بھی دعویٰ  کیا جا رہا ہے کہ افغان امور میں عدم مداخلت اس معاہدے کا سب سے اہم نکتہ ہے ۔ یہ معاہدہ   یکم جنوری ۲۰۱۵ء سے لاگو ہو گا اور اس کی مدتِ کار کا کوئی تعین نہیں کیا گیا ہے، یعنی خاتمے کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ایک پارٹی اس کو ختم کرنا چاہے تو اس کے لیے      اس دوسری پارٹی کو دوسال کا تحریر ی نوٹس دینا پڑے گا۔ اس معاہدے کے تحت امریکی افواج کو درج ذیل مقامات اور شہروں میں اپنے اڈے قائم کرنے یا برقرار رکھنے کی اجازت ہو گی: کابل ، بگرام ، مزار شریف ، ہرات ، قندہار ، شوراب (ہلمند )،گردیز ، جلال آباد اور شین ڈھنڈ۔ اس کے علاوہ بھی اگر کسی اور مقام پر امریکی فوج چاہے تو اپنی موجودگی رکھ سکے گی، صرف وزارت دفاع سے اس کی اجازت لینی ہو گی ۔

جن مقامات کے ذریعے امریکی افواج افغانستان میں داخل یا خارج ہو سکیں گی ان میں بگرام کا ہوائی اڈا ،کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈا ، قندہار ، شین ڈھنڈ ، ہرات ، مزارشریف اور شوراب کے فضائی مستقر ، زمینی راستے طورخم ، سپین بولدک ، طور غنڈی (ہرات )،ہیرتان بندر (بلخ )اور شیرخان بندر (قندوز) شامل ہیں۔ اس میں ایک عجیب بات یہ ہے کہ جن پڑوسی ممالک سے امریکی افواج گزر کر افغانستان میں داخل ہوں گی آیا ان سے کوئی معاہدہ کیا گیا ہے یا اجازت لی گئی ہے یا نہیں، جس میں پاکستان بھی شامل ہے ، واضح نہیں۔

اس معاہدے میں جس انداز سے افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس پر اب تک عالمی ادارے اور حقوق انسانی کے دعوے دار خاموش ہیں ۔ بین الاقوامی ضابطوں میں اس کی کس قدر گنجایش ہے، اس پر بھی کوئی بات نہیں کر رہا ہے ۔ اس کے اخلاقی پہلوئوں پر بھی کوئی آواز بلند نہیں ہو رہی ہے ۔ ایک عجیب سی خاموشی ہے ۔ اس پر کسی حکومت نے اب تک اپنا احتجاج ریکارڈ نہیں کروایا ۔اس پرکوئی بھی نہیں بول رہا ہے،   حتیٰ کہ افغانستان کے دو اہم اور بڑے پڑوسی اور حریف ممالک روس اور چین کے علاوہ امریکا مخالف ایران بھی اس معاہدے پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں ۔ یورپین یونین ، او آئی سی ، اقوام متحدہ کے ادارے ، انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ، ہیومن رائٹس کمیشن، سب کے سب خاموش ہیں ، جیسے ان سب کے لب سی دیے گئے ہوں۔

امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ بھارت نے بھی اس معاہدے کا نہ صرف خیر مقدم کیا ہے بلکہ اسے افغانستان کے استحکام اور امن و سلامتی کے لیے ناگزیر بھی قرار دیا ہے ۔ حیرت ہے کہ پاکستا ن جس پر افغانستان میںمداخلت اور طالبان کی تحریک مزاحمت کی پشتیبانی کا الزام تسلسل کے ساتھ لگتا رہا ہے، اس کی جانب سے اس نام نہاد دو طرفہ معاہدے کو سراہا گیا ہے ۔ یہاں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ جس معاہدے کی تحسین بھارت کی جانب سے کی جا رہی ہے اسے پاکستان کے مفاد میں کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے ۔ کیا یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ ہے کہ اس خطے میں ڈیورنڈ لائین کے آرپار لگی آگ کا واحد ذمہ دار امریکا ہے؟ کیا امریکا افغانستان میں اپنی کھلی جارحیت اور پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کی پشتیبانی کے الزامات سے خود کو بری الذمہ قرار دے سکتا ہے؟  یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکا جب تک اس خطے میںموجودرہے گا تب تک یہاں نہ تو امن کی خواہش پوری ہو سکتی ہے اور نہ یہ خطہ ہی ترقی اور خوش حالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ۔ افغان امریکا دو طرفہ سیکیورٹی معاہدے کا حکومت پاکستان کی جانب سے خیر مقدم تو شاید پاکستانی حکمرانوں کی مجبوری ہو گی لیکن اس کا ایک قابل افسوس پہلو یہ ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کسی بھی سیاسی اور مذہبی راہنما کو بھی اس یک طرفہ معاہدے پر لب کشائی کی ہمت نہیں ہوئی، جن میں نام نہاد قوم پرست راہنمائوں سے لے کر مذہبی راہنما تک شامل ہیں ۔

تاہم، امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے خیبر ایجنسی کے اپنے حالیہ دورے کے موقعے پر پاک افغان بارڈر پر واقع سرحدی علاقے لنڈی کوتل میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کے دوران افغان امریکا سیکیورٹی معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے اس پر جن تحفظات کا اظہار کیا ہے،  اس کا افغانستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے دیکھنے والوں کی غالب اکثریت نے زبردست خیر مقدم کیا ہے ۔ واضح رہے کہ سراج الحق صاحب نے مذکورہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے طالبان اور حکمت یار گروپ کے ساتھ مذاکرات کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں، البتہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ٹھیرانے کے معاہدے پر تشویش ہے۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی اور ناٹو افواج کی موجودگی میں تمام ہمسایہ ممالک کے خلاف سازشیں ہوں گی اور اس سے ہمسایہ ممالک میں بے چینی برقرار رہے گی۔ انھوں نے امریکی افواج کی دسمبر۲۰۱۴ء کے بعد افغانستان میں موجودگی کے نتیجے میں ہمسایہ ممالک کی جس بے چینی کا ذکر کیا ہے عملاً تو یہ بات افغانستان کے ہر پڑوسی ملک کے دل کی آواز ہے، لیکن چونکہ یہ ممالک اپنی کمزوریوں اور سیاسی مجبوریوں، نیز بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے افغان امریکا معاہدے پر کھل کر کچھ کہنے سے معذور ہیں، اس لیے عام تاثر یہی ہے کہ اس معاہدے پر ان کی خاموشی کو جس ظاہری رضامندی سے تعبیر کیا جا رہا ہے، وہ دراصل ان ممالک کی ’دیکھو اور انتظار کرو‘ پالیسی کا مظہر ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک نے گذشتہ ۱۳ سالہ خاموشی کے باوجود امریکا کی اپنے پڑوس میں موجودگی کو نہ تو دل سے قبول کیا ہے اور نہ وہ اس موجود گی کو آیندہ ہی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کریں گے۔ وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے اس کی حقیقت سے ہرکوئی بخوبی واقف ہے ۔