نومبر ۲۰۱۴

فہرست مضامین

ترکی: عالمی و علاقائی سیاسی منظرنامہ

ارشاد الرحمن | نومبر ۲۰۱۴ | اخبار اُمت

علاقائی اور عالمی تبدیلیوں نے ترکی کو ایک فیصلہ کن موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ اُس کے لیے  علاقائی اور عالمی سیاست میں کردار ادا کرنے کا انحصار کئی باتوں پر ہے:

  1. امریکا اور یورپی یونین کے تعلقات ترکی کے ساتھ کیا رُخ اورنوعیت اختیار کریں گے؟ امریکا کی نسبت یورپی یونین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا ترکی کی ترجیحات میں شامل ہے، لیکن اس کے باوجود امریکا کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
  2. عرب ریاستیں عالمی جغرافیائی سیاست میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ اُنھیں محض تیل اور گیس کے چشمے سمجھ کر اُن کا سیاسی کردار متعین نہیں کیا جاسکتا، بلکہ یہ عرب ممالک دنیا بھر کے نہایت اہم بحری محلِ وقوع پر واقع ہیں اور ترکی کو یہاں نفوذ کی بہرحال ضرورت ہے۔ اسی طرح اس خطے کے اندر ایران کا کردار بھی اہمیت رکھتا ہے جس نے گذشتہ ۳۰سال کے دوران متعدد ممالک، تحریکات اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے روابط کا ایک گہرا نظام قائم کرلیا ہے۔ اس صورت حال میں ترکی   اپنا یہ کردار عالمی طاقتوں کے ساتھ تصادم مول لے کر ادا نہیں کرنا چاہتا۔ قفقاز میں روسی اثرونفوذ  قائم ہے۔ البانیا اور بوسنیا میں وسطی یورپ کے ممالک اپنے اثرات رکھتے ہیں۔ لہٰذا ترکی عالمِ عرب کو اپنا ہدف بنائے بغیر کچھ نہیں کرسکتا۔
  3. حالیہ عرب انقلابات نے سیاسی اعتبار سے ترکی کے کردار کو ایک نمونے کے طور پر خطے میں اہم بنا دیا ہے۔ عرب علاقائی صورت حال نے ترکی کو یہ موقع بھی فراہم کردیا ہے کہ وہ ایک تیسرے اور درمیانے فریق کی حیثیت سے عرب ممالک کے داخلی اختلافات کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
  4. اقتصادی لحاظ سے ترکی سرمایہ کاری کو عرب ممالک میں خسارے سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ ۲۰۱۱ء کے ابتدائی تین ماہ کے دوران ترکی برآمدات مصر اور یمن میں ۲۴ فی صد، تیونس میں ۲۰فی صد، لیبیا میں ۴۳ فی صداور شام میں ۵ فی صد کم ہوگئی تھیں۔ لیبیا اور شام کے حالات زیادہ خراب ہونے کی بنا پر اس شرح میں مزید کمی ہوگی۔

عرب انقلابات کے دوران اور بعد میں عرب ممالک کے حوالے سے ترکی نے کئی اہم مواقع پر اپنے موقف میں تبدیلی کی۔ خصوصاً لیبیا اور شام کے حوالے سے ترکی نے موقف بدلا اور یہ اپنی جگہ ضروری تھا۔ عرب بہار کے دوران ترکی کو داخلی طور پر کچھ انتشار و انارکی کی صورت حال سے سابقہ رہا۔ اس بنا پر ترکی اور دیگر علاقائی ممالک کے مابین تعلقات میں تعطل بھی رہا۔خصوصاً شام، عراق اور ایران کے ساتھ تعلقات سخت کشیدہ ہوچکے تھے۔

مستقبل میں ترکی کے علاقائی کردار کو کئی حوالوں سے دیکھا جاسکتا ہے:

  1. ترکی کردار میں بھتری اور پیش رفت: اس کا انحصار ان اُمور پر ہے کہ  اردگان حکومت کو علاقائی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے قومی تائید حاصل رہے۔ کرد مسئلے کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے داخلی اصلاحات کی تکمیل کا مکمل موقع ملے اور اس میں کامیابی حاصل ہوجائے۔ ترک خارجہ سیاست عمومی امریکی سیاست کے ساتھ اتفاق کرتی رہے۔ امریکا، یورپ اور عالمِ عرب کو ایران کے کردار کو متوازن رکھنے کے لیے ترکی کے کردار کی ضرورت برقرار رہے۔
  2. علاقائی منظرنامے میں ترکی کردار کا خاتمہ: یہ امکان رد نہیں کیا جاسکتا۔ کُردوں سے مصالحت میں اردگان حکومت کی ناکامی اس میں اہم عامل ہوگی۔ موجودہ ترکی کا علاقائی کردار ختم ہوجانے میں سیکولر اور اسلامی طاقتوں کے تصادم کو بھی دخل حاصل ہوگا۔ ایک عامل یہ بھی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے میں ترکی خود کو ایک پُل کے طور پر     پیش کرنے میں ناکام رہے۔

مذکورہ امکانات و خدشات کو پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو گذشتہ چند مہینوں میں ترکی نے بعض اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں اور بعض مواقع پر اپنے موقف میں حیرت انگیز لچک بھی دکھائی ہے۔ امریکا ’داعش‘ کے معاملے میں ترکی سے حمایت اور سرگرم تعاون کا خواہاں ہے، جب کہ ترکی   ’داعش‘ سے پہلے آمربشارالاسد کے خلاف کارروائی چاہتا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ترکی اپنے جنوب میں موجود فضائی اڈے سے امریکا کو فضائی کارروائیوں کی اجازت دے بلکہ وہ ترک فضائیہ کو بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔ امریکا نے ترکی سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ شام اور عراق میں مجاہدین کے داخلے پر پابندی سخت کرے اور ان کی مالی مدد بھی بند کی جائے۔

ترکی صدر اور وزیراعظم دونوں کی ترجیحات امریکا سے مختلف ہیں۔ وہ شام کی مقامی جنگ کو اپنے ملک میں داخل ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ وہ اس معاملے میں حق بجانب بھی ہیں کہ ترکی اس وقت ۱۶لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہے۔ شامی شہر کوبانی سے گذشتہ ہفتے ایک لاکھ ۶۰ہزار مزید شامی کُرد خانہ جنگی کی وجہ سے ترکی میں داخل ہوگئے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ترکی میں کُردوں کی ہنگامہ آرائی اور لڑائی، شام کے دارالحکومت دمشق کی مرہون منت ہے۔ ترکی حکومتی ذرائع نے کہا ہے کہ کچھ لوگ ہم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم ’کُرد ورکر پارٹی‘ یا ’داعش‘ میں سے کسی ایک کو قبول کرلیں، مگر ترکی حکومت داعش کو بھی اسی طرح دیکھتی ہے جس طرح ’کُردورکر پارٹی‘ کو۔

اس صورت حال نے امریکی مطالبات میں کچھ شدت پیدا کردی ہے اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ترک صدر اردگان نے خطے کے مسائل پر جان دار موقف اپنایا۔ داعش کے خلاف جنگ کے بجاے شامی آمر بشارالاسد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مصری فوج کے سابق سربراہ اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور نام نہاد صدرسیسی کے خلاف احتجاج کیا کہ اسے اقوامِ متحدہ کی اسمبلی میں شرکت کا حق حاصل نہیں۔ یہ ایک آمراور غیرجمہوری سربراہِ مملکت ہے۔ سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ بان کی مون کی طرف سے ناشتے کی دعوت ٹھکرا دی کہ: ’’جس دعوت میں مصری آمر جنرل عبدالفتاح سیسی ہوگا مَیں وہاں نہیںجائوں گا‘‘۔

رجب طیب اردگان کی توانا آواز اور جرأت مندانہ اظہار راے کو برطانوی روزنامہ گارڈین نے یوں بیان کیا ہے: امریکی نائب صدر جوبائیڈن نے ہارورڈ یونی ورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران ترکی پر الزام عائد کیا کہ وہ شام اور عراق میں سرکردہ سُنّی جماعت داعش کی حمایت کر رہا ہے۔ طیب اردگان نے امریکی نائب صدر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر معذرت کرے اس پر امریکی نائب صدر کو معذرت کرنا پڑی۔ ان حالات کے باوجود ابھی ترک امریکا تعلقات  اس قدر کمزور نہیں ہوئے جس قدر ۲۰۰۳ء میں ہوگئے تھے۔ جب ترکی نے امریکی افواج کو       اپنی سرزمین سے عراق پر حملے کی اجازت نہیں دی تھی۔ داعش کے خلاف برسرِپیکار شام کی کُرد جمہوری پارٹی کو امریکا نے اسلحہ فراہم کرنا شروع کیا تو ترکی نے سخت احتجاج کیا، مگر دوسرے ہی روز یہ خبر آگئی کہ ترکی ان کُردوں کو اپنی حدود سے گزر کر کوبانی کے معرکے میں شریک ہونے کی اجازت دینے پر رضامند ہوگیا ہے۔