نومبر ۲۰۱۸

فہرست مضامین

مدیر کے نام

| نومبر ۲۰۱۸ | مدیر کے نام

خالد علی، پشاور

میں قانون کا طالب علم ہوں۔ گذشتہ روز ایک کلینک پر ترجمان القرآن  پڑھنے کو ملا، جس میں  ڈاکٹر ریحان اختر قاسمی کا مضمون ’ ڈاکٹر حمید اللہ اور قانون بین الممالک‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء)،تاریخ اور علم وفن کی گہرائی تک لے گیا۔ ہمارے بزرگوں نے اتنی محنتوں کے ساتھ علوم وفنون کے دامن کو مالا مال کیا اور ہم ہیں کہ بدقسمتی سے محض مغرب کی چکا چوند سے متاثر ہو کر ، احساس کم تری کا شکار ہیں۔


ابصار علی، سرگودھا /  زاہد رؤف ،کراچی

’مستحکم پاکستان : مولانا مودودی کا لائحہ عمل‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء ) جاوید اقبال خواجہ نے بڑی رواں تحریر میں قابلِ تحسین مضمون لکھا  ہے ، جس میں اہل وطن کے لیے مستقل رہنمائی کا خزانہ موجود ہے


حسیب احمد ،کراچی

اکتوبر ۲۰۱۸ء کے شمارے میں عارف الحق عارف کا مضمون:’بنگلہ دیش کا ایک تحریکی سفر‘، اعلیٰ درجے کا عملی اور رہنما مضمون ہے۔ یقینا تحریک کے پالیسی ساز اس کے مندرجات کی گہرائی پرغور فرمائیں گے۔   اس مضمون کو پڑھنے کے بعد طلب پیدا ہوئی ہے کہ پروفیسر غلام اعظم مرحوم کی خود نوشت کا اردو میں ترجمہ شائع ہو۔


جواد حسین ،ملتان /  راجا محمد عاصم ، موہری شریف

انصار عباسی کے مضمون ،’ اعلیٰ عدلیہ ، عربی زبان…، (اکتوبر ۲۰۱۸ء ) نے حکمران طبقے اور عدلیہ کے رویے کو بے نقاب کیا ہے۔ مضمون کے جامع تعارفی نوٹ نے نواز شریف اور شہباز شریف کی کم ہمتی بلکہ عربی کی سراسر مخالفت دیکھ کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہییں ، جو انھیں دینی شرافت کی علامت سمجھتے ہیں ۔


ڈاکٹر مسعود احمد شاکر ، فیصل آباد

’قادیانیت کے حوالے سے بحث‘ (اکتوبر ۲۰۱۸ء )میں برطانوی سامراج کی ہندستان آمد، کے حوالے سے ایک انگریزی رپورٹ کا ذکر کیا گیا ہے کہ: ’یہ رپورٹ آج بھی انڈیا آفس لائبریری میں موجود ہے، جس کی روشنی میں مرزا ے قادیان کو ’ظلی نبی ‘ بنایا گیا ہے‘ (ص ۲۹)۔ بلاشبہہ انڈیا آفس لائبریری میں تقریباً تین سو برسوں پر پھیلے برطانوی مسودات اور رپورٹیں موجود ہیں۔ان کے بارے میں معلومات ’ویب سائٹ ‘ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ افسوس کہ پوری کوشش کے باوجود مَیں اس رپورٹ کا کسی شکل میں سراغ نہیں لگا سکا۔ قادیانیت کے خلاف بعض غیر ثقہ باتوں یا حوالوں کو بھی دُہرایا جا تا ہے جو مناسب نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جھوٹی سامراجی اور گمراہ کن اقلیت کی حماقتوں، غداریوں اور ضلالتوں کے لیے خود ان کا اپنا مطبوعہ ریکارڈ ہی بہت کافی ہے ، جس پر اکتفا کر کے مقدمہ پیش کرنا چاہیے ۔

[اعتذار: مذکورہ مضمون کے آخر میں ’ایک قادیانی کو وزیر بنانے‘ کا ذکر ہے۔ یاد رہے اس جملے سے فاضل مضمون نگار کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ بے جا اضافہ (نائب مدیر کی غیرموجودگی میں) ادارے کے ایک کارکن کی طرف سے ہوا ہے، جس پر معذرت خواہ ہیں۔ ادارہ]


عاطف    نوید، ایبٹ آباد

’تاریخ کے دریچے ہولناک ہیں اور حوصلہ افزابھی‘ اس بیان کی سچائی کے لیے پروفیسر ابصار عالم کا مقالہ:’ شیخ احمد سرہندی کے خلاف جہانگیری الزامات‘ ( اکتوبر ۲۰۱۸ء ) بڑے قیمتی واقعات ومباحث کو پیش کررہا ہے۔ اس بھولے بسرے باب کی یاد دہانی پر ترجمان القرآن مبارک باد کا مستحق ہے۔


شائستہ معین ، منڈی بہائوالدین / مراد عثمان ، سکھر

’سیکولر جناح؟‘ از احمد سعید (ستمبر ۲۰۱۸ء ) دل چسپ مضمون ہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں سیکولر طبقے نے اپنی فکری بے اعتدالی کو پروان چڑھانے کے لیے قائد اعظم کے نام کو استعمال کرنے کا وتیرا اختیار کر رکھا ہے۔ یہ مضمون اس ذہنیت کا ایک مؤثر جواب ہے۔


محمد حسین محنتی، کراچی

ستمبر ۲۰۱۸ء کا شمارہ مؤثر ، دلچسپ اور فکر انگیز تھا۔ خصوصاً پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد کے ’اشارات‘ بہت گہرا، وسیع اور قابلِ عمل پیغام دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی تشکیل کی وضاحت پر جناب سید مودودی ؒ کا مضمون سوچنے پراُبھارتا ہے اور احمد سعید کی تحریر ’سیکولر جناح؟ ‘ کئی پہلوئوں سے نئی معلومات پیش کرتی ہے۔


امان  اللہ     بٹ، قلعہ دیدار سنگھ / محمد حسنین ،اوسا والا، کراچی

ڈاکٹر انیس احمد کے اشارات ’تحریک اسلامی اور خلافت جمہور‘(ستمبر ۲۰۱۸ء ) میں امتِ مسلمہ کے روشن ادوار کا جو تجزیہ پیش کیا گیا ہے ، وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کے لیے حوصلے اور استقامت کا باعث ہو گا۔ اسی مضمو ن میں دعوت کی نئی راہوں کے تحت بیان کردہ نکات عمل درآمد کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر عبدالغفار عزیز کا مضمون ’خود احتسابی اور ایک تجویز، بھی دعوت فکر دیتا ہے۔