نومبر ۲۰۱۸

فہرست مضامین

تحریکات اسلامی کی حکمت عملی

پروفیسر ڈاکٹر انیس احمد | نومبر ۲۰۱۸ | بحث و نظر

مسلم دنیا میں گذشتہ نصف صدی کے دوران مصر، سوڈان ، ترکی ، تیونس ، پاکستان ، لبنان اور بنگلہ دیش میں تحریکات اسلامی کو جن مسائل کا سامنا رہا ہے ،ان میں اکثر کو نظر انداز کرتے ہوئے ابلاغ عامہ ہی نہیں خود تحریکی کارکن تحریک کی مقبولیت یا ناکامی کو صرف ایک ہی پیمانے پر ناپنے لگے ہیں اور وہ ہے سیاسی محاذ پر پارلیمان میں نشستوں کی تعداد اور حکومت میں عمل دخل۔ بلاشبہہ سیاسی کامیابی کسی تحریک کی توسیع،مقبولیت اور اثر کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہو سکتا ہے لیکن محض سیاسی عینک سے ہر چیز کو دیکھنا تحریکی مزاج اور مقاصد سے مناسبت نہیں رکھتا۔

اگر تحریک اسلامی ، دعوت اسلامی ، اقامت دین ، تبدیلیِ قیادت کی اصطلاحات کا صرف ایک سیاسی مفہوم ہی ہے تو یہ فکر کی ایک بنیادی غلطی ہے ۔ دنیا کی تمام اسلامی تحریکیں قرآن و سنت سے اخذ کر دہ ترجیحات کی بنا پر تبدیلی کا آغاز فرد، خاندان، معاشرہ اوراداروں کی تبدیلی و اصلاح سے کرتی ہیں۔سنت انبیاؑ بھی یہی ہے اور اسی کو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار فرمایا۔ تحریکات اسلامی اور دیگر تحریکات اصلاح نفس کا بنیادی فرق یہی ہے کہ اول الذکر تحریکات فرد کی اصلاح کو اپنا اعلیٰ مقصد قرار دے کر اجتماعیت کی جگہ انفرادیت میں اُلجھ جاتی ہیں اور بعض اوقات مثالی انفرادی کردار پیدا کرنے میں کامیاب ہونے کے باوجود فرد کی اصلاح سے امت کو کوئی اجتماعی فائدہ نہیں ہوتا۔گو نظری طورپر یہی کہا جاتا ہے کہ جب سارے افراد درست ہو جائیں گے تو معاشرہ خود بہ خود ٹھیک ہو جائے گا ۔ اگر واقعی ایسا ہی ہوتا تو اللہ تعالی کو اقامت صلوٰۃ فرض کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں نماز خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھ لیا کرتے اور نفس کی اصلاح کے اعلیٰ مقام تک پہنچ جاتے ۔ نہ روزہ کو ایک پورے مہینے کے لیے اجتماعی طور پر فرض کرنے کی ضرورت تھی، نہ جہاد فی سبیل اللہ کو افضل و اعلیٰ کہنے کی ضرورت تھی۔ لوگ مجاہدۂ نفس کرکے اپنے خیال میں دنیا اور آخرت میں کامیابی کے مستحق بن جاتے اور سیاست، معیشت، ثقافت ہر شعبے کو آزاد چھوڑ کر کسی غیبی قوت کے ذریعے اچانک معاشرے میں عدل و انصاف، امن و محبت اور حقوق و فرائض کے نظام کا قیام ہو جاتا ۔ نہ حضرت موسٰی کو وقت کے جباروں سےٹکرانے کی ضرورت تھی، نہ حضرت سلیمانؑ اور حضرت داؤدؑ کو زمین پر خلافت الٰہی قائم کرنے کی خواہش ہونی چاہیے تھی۔

 تحریکی فکر اور عام دینی فکر میں فرق یہی ہے کہ اسلام کی اجتماعیت ، جو اس کی روح ہے،  کو بنیاد بناتے ہوئے فرد، خاندان معاشرہ اور زمام اقتدار کی تبدیلی اس کے واضح اہداف ہیں ۔

ظاہر ہے انسانی معاشرے میں کوئی کام اس وقت ہی ہو سکتا ہے جب اس کام کے کرنے والےباصلاحیت اور ماہرانہ اہلیت رکھتے ہوں ۔ اگر ہم ایک مکان نہیں، ایک شلوار قمیص بھی سلوانا چاہتے ہیں تو بہترین درزی تلاش کرتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک گروہ معاشرے اور ملک کی اصلا ح کرنے چلے اور اس کے پاس افراد وہ ہوں جو نہ دین سے آگاہ ہوں ، نہ انتظامی معاملات میں مہارت رکھتے ہوں ۔ اس لیے افراد سازی بذریعہ تطہیر افکار وہ پہلا قدم ہے جس کے بغیر کوئی دعوتی، اصلاحی اور اقامت دین کی تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ سب انسان ایک سانچے میں ڈھل کر یکساں نہیں ہو سکتے ۔کیا سارے صحابہؓ اور عشرہ مبشرہ برابر تھے۔؟ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عشرہ مبشرہ کے علاوہ دیگر صحابہؓ میں کوئی خامی پائی جاتی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ مصدقہ طور پر اخلاص کے باوجود نبی کریمؐ نے حضرت ابوذرؓ سے یہی تو کہا تھا کہ ہم تمھیں  کسی ذمہ داری پر نہیں لگائیں گے کیوں کہ اس کے لیے جو صلاحیت درکار ہے وہ تم میں نہیں ہے۔  یہ نہ ان کے تقویٰ پر ، نہ دین کے علم پر کسی قسم کے شبہہ کااظہار تھا۔ اسی لیے ہر تحریک اسلامی کو اپنے فرد مطلوب کے لیے ایک معیار اور پیمانہ طے کرنا ہوتاہے۔ جماعت اسلامی کے حوالے سے دستور جماعت اسلامی کی دفعہ ۳عقیدہ کے زیر عنوان اپنے فرد مطلوب کے تصور کو واضح کر تی ہے ۔ دستور کی دفعہ۴ یہ وضاحت کر دیتی ہے کہ وہ کس قسم کی تبدیلی چاہتی ہے، جزوی اصلاح کی یا مکمل دین کی اقامت۔اسلامی نظام زندگی سے مراد محض عبادات ہیں یا انفرادی ، اجتماعی ، معاشرتی اور  ملکی سطح پر قرآن و سنت کی تعلیمات کا نفاذ و قیام اور اس کام کے لیے اجتماعی جدو جہد لازمی ہے ۔

یہی وہ فرق ہے جو کسی تحریک کو تحریک اسلامی بناتاہے لیکن کیا جب تک ہر فرد انسانِ مطلوب کے معیار کا نہ ہو جائے ، دعوتی ، اصلاحی  اور سیاسی سرگرمیوںکو معطل کر دیا جائے ؟نظری طور پر تو  یہ بات شاید معقول نظر آئے، عملاً ایسا ممکن نہیں ہے۔ بلاشبہہ ایک کم سے کم معیار کا تعین کیا جانا چاہیے کہ اگر ایک فرد نہ نماز باجماعت کا اہتمام کرتا ہو، نہ اس کے گھر کا ماحول طہارت وپاکیزگی کا عکاس ہو ، نہ اس کا کاروبار حلال و حرام کا فرق کرے لیکن اس سب کے باوجود بھی اسے تحریک میں شامل کر لیا جائے تو یہ دستور کے منافی ہو گا۔ہاں، اگر وہ باوجود کوشش کے تین نمازیں جماعت سے ادا کرپاتا ہو ، اپنے گھر میں تمام کوشش کے باوجود ابھی کامیاب نہیں ہوا ہو اور اپنے کاروبار سے حرام کے عنصر کو نکالنے میں لگا ہوا ہو اور جلد اسے پاک کر لے گا، تو اس سعی و کوشش اور خلوص نیت اور مسلسل جدوجہد میں لگنے کی بنا پر اسےتحریک میں شامل تو کر لینا چاہیےلیکن ساتھ ہی اس کی تربیت و تعمیر سیرت کا عمل جاری رہنا چاہیے ۔ قرآن کاا صول ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی برداشت سے زیادہ بوجھ اس پر نہیں ڈالتا ۔ جو چیز ایک فرد کی طاقت سے باہر ہو اس پر اس کی گرفت نہیں کی جاسکتی۔

اس کا یہ مطلب بھی نہیں لیا جا سکتا کہ ایک سیاسی کارکن جو اپنے علاقے میں اثر و رسوخ تو رکھتا ہو لیکن عبادات و معاملات میں بہت پیچھے ہو پھر بھی محض اپنی سیاسی قوت میں اضافہ کرنے  کے لیے اسے تحریک میں شامل کر لیا جائے ۔ تحریک کو فرد کی اصلاح کے معیار پر سختی سے عمل کرنا ہو گا ۔کیوں کہ اس کا ہدف کثرت افراد نہیں ، تطہیر و تبدیلی افراد ہے اور ایسے افراد کو پوری محبت و احترام کے ساتھ موقع دینا ہو گا کہ وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کر یں اور اس کے بعد ہی تحریک کا حصہ بنیں ۔

            ایسے ہی تطہیر افکار اور تربیت افراد کسی خلا میں نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ایک ایسی  جماعت کے وجود کی ضرورت ہے جو ہمہ وقت تزکیہ نفس اور تعمیر سیرت کے مواقع پیدا کرتی ہو اور جس میں افراد کی شمولیت کا مقصد محض سیاسی قوت کے حصول کی جگہ باصلاحیت، فکری اور عملی قیادت کی تیاری ہو ۔یہ کام ایک طویل المعیاد عمل ہے ۔ یہ دو تین تربیت گاہوں یا اجتماعات میں شرکت کرنے سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے مسلسل عملی تربیت کی ضرورت ہے،جو صرف دعوتی میدان ہی میں ہو سکتی ہے ۔ کوئی ایک ہفتہ یا تین دن کا کورس اس کام کو حتمی طور پر نہیں کر سکتا ۔

تزکیہ فکر اور تربیت اخلاق محض نئے آنے والے افراد کے لیے نہیں،تحریک میں ہر سطح کی ذمہ دار قیادت کے لیے بھی ضروری ہے ۔اگر قیادت ایک مقام فکر وعمل پر رُک جائے اور اس میں مسلسل ترقی کی کوشش نہ کرے تو وہ کارکنوں کو قابل عمل مثال فراہم کرنے میں ناکام رہے گی۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ تھوڑے یا عبوری عرصے کے لیے کارکن اپنی بے چینی کا اظہار نہ کریں اور حُسنِ ظن رکھتے ہوئے قیادت کے ساتھ چلتے رہیں لیکن جلد ان کے ذہنوں میں گمان ، ظن اور بدگمانی پیدا ہو نا ایک فطری عمل ہے۔تحریک اسلامی میں جس لمحے کارکنوں میں یہ بے چینی پائی جائے فوری طور پر اسے سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے اور تعمیری انداز میں اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔

اس فکر کا پایا جانا اس پہلو سے تو اچھا ہے کہ تحریک میں لوگ اپنی سوچ اور فکر کا استعمال کررہے ہیں اور تحریک جامد اور ساکت نہیں ہے ۔لیکن ہر فکر خود اپنی جگہ پر صحیح قرار نہیں دی جاسکتی اور بعض تصورات بہت معصوم ہوتے ہیںلیکن وہ تحریک کے مقصد وجود کی ضد ہوتے ہیں ۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا دعوتی ، اصلاحی اور سیاسی تبدیلی الگ الگ دائروں کا نام ہے یا دعوت اصلاح میں سیاسی اصلاح ایک لازم و ملزوم عنصر ہے؟ تحریکات اسلامی اور جماعت اسلامی کو دیگر تحریکات سے ممتاز کرنے والا یہی وہ پہلو ہے جو ہم اکثر بھول جاتے ہیں ۔ جماعت اسلامی کا مقصد چند ایسے زاہد و عابد افراد کا پیدا کرناکبھی نہ تھا جو علم کے موتی بکھیرتے رہیں اور معیشت ، معاشرت ، ثقافت اور سیاست و قانون پر شیطانی فکر غالب رہے بلکہ روز اول سے اس کا نصب العین اقامت دین رہا ہے ۔ جس میں سیاسی تبدیلی ایک لازمی مرحلہ ہے اور کام وہاں جاکر ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ملکی اداروں کی تبدیلی و اصلاح کا کام وہاں سے شروع ہوتا ہے ۔ نظام کی تبدیلی محض پارلیمان میں چند نشستوں پر جا کر بیٹھ جانے کا نام نہیں ہے ، بلکہ ملکی معیشت ، تعلیم ، قانون، ابلاغِ عامہ، غرض ہر شعبے میں افرادی قوت ، نظریاتی اور مقصدی اصلاح کرنے کا نام ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ کام چند وزراتوں یا کسی طرح وزارت عظمیٰ تک پہنچ جانے سے نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک طویل اور مسلسل عمل ہے جس میں نصرتِ الٰہی کے ساتھ صحیح حکمت عملی کا بڑا دخل ہے۔

یہ خیال کمزور ہونے کے باوجود بذاتِ خود بحث اور تجزیے کا تقاضا کرتا ہے کہ کچھ عرصے کے لیے سیاسی کام کو معطل کر دیا جائے یا دو الگ دائرے طے کر لیے جائیں۔ درحقیقت یہ تصور  جماعت کے قیام و مقصد اور دستور کے منافی ہے ۔اگر ایسا کیا جائے گا تو جماعت اسلامی اس تصور کی توثیق کرے گی جس میں بعض حضرات نے تبلیغ کو اختیار کر لیا اور بعض افراد نے سیا سی محاذ سنبھال لیا ، نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔اگر ایسا کیا جائے تو یہ سیکولر افراد کی تقویت اور خوشی کا باعث ہو گا اور جو حضرات جماعت اسلامی سے کسی نہ کسی وقت بھلائی کی امید رکھتے ہیں ان کی امیدوں کو چکنا چور کرنا ہو گا ۔نہ صرف یہ بلکہ خود وہ لوگ جو جماعت میں اس بنا پر شامل ہو ئے کہ یہاں دین کا ا جتماعی تصور ہے، اور یہاں وہ توازن ہے جو دین چاہتا ہے۔ یہاں اخلاص نیت ہے ۔ یہاں عہدوں کی طلب نہیں ہے۔ یہاں حصول امارت یا شوریٰ کے لیے نجویٰ اورcanvassing نہیں ہے۔ یہاں کسی لسانی یا صوبائی وابستگی کی بنیاد پر کسی کا انتخاب نہیں کیا جاتا ۔یہ اور جماعت کے کلچر سے وابستہ دیگر وجوہ جو کسی کے جماعت سے قریب آنے کا سبب بنتی ہیں ، ان تمام توقعات کو ختم کر دینا ہو گا۔

جماعت اسلامی کے بانی امیر نے اس طرف تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل  میں متوجہ کیا تھا:’’یہ کہنا کہ جماعت اسلامی سیاسی جدوجہد کے میدان سے ہٹ کر پہلے کارکنوں کے اخلاق بنائے پھر اس میدان میں قدم رکھے،اپنے پیچھے اخلاق کی تیاری کا یہ تصور رکھتا ہے کہ ایک کام کے لیے جس قسم کے اخلاق کی ضرورت ہے وہ اس کام میں پڑے بغیر کہیں باہر سے تیار کرکے لائے جاسکتے ہیں۔ حالاںکہ یہ تصور اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی آدمی پانی میں اترے بغیر تیراک ہوسکتا ہے۔ عقل اس کو غلط کہتی ہے ‘‘۔(ص ۱۱۶)

تاہم، جس چیز پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم تحریک کی کامیابی و ناکامی کو صرف سیاسی پیمانے ہی سے ناپنا چاہتے ہیں تو گذشتہ دو اور حالیہ الیکشن کے اعداد وشمار سامنے رکھ کر دیکھا جائےکہ ہمارے مجموعی حاصل کر دہ ووٹوں میں کس تناسب سے کمی یا اضافہ ہوا ہے؟ہم نے کس عمر ، قابلیت ، تجربہ کے افراد کو انتخابی نمایندہ بنایا اور ہر صورت حال میں کامیابی و ناکامی کی وجوہ کیا تھیں؟ اس پہلو سے خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ گذشتہ ۱۰ سال میں ہماری ترجیحات کیا رہی ہیں؟ ہمارے وقت ، مالی وسائل ، صلاحیتوں، منصوبہ بندی کا کتنا تناسب ، قیادت کی اپنی تربیت ، مرکزی شوریٰ اور عاملہ کے ہر فرد کی کارکردگی اور مالی ، فکری تعاون میں صرف ہوا؟ اور کتنا صوبائی اور ضلعی بنیاد پر افراد کے تقرر ، ان کی صلاحیتوں کی نشو ونما (grooming )، ان کا احتساب،  ان کی کارکردگی کے معروضی جائزے پر صرف ہوا؟

اس بات کے جائزے کی بھی ضرورت ہے کہ ۱۰ سالہ مدت میں سیا سی منصوبہ بندی اور تنظیمی دوروں اور معاملات میں وقت کا استعمال اور دعوت پر غور وفکر، فکر مودودی سے استفادہ،  قرآن و سنت کا براہِ راست مطالعہ اور تجزیہ ، جماعت کی مجموعی فضا سیاسی رہی یا دعوتی؟ للہیت کے پیدا کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ سیاسی محاذ پر مقصود محض شکست دینا تھا یا ہماراطرزِ عمل مصلحانہ اور دعوت کار ہے یا پیشہ ور حزبِ اختلاف کی طرح ہر بات پر منفی طرزِ عمل و تنقید کرتے رہے ، یا وَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى (جو کام نیکی اور خداترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو۔ المائدہ۵:۲)پر عمل ہو رہا ہے یا صرف عدم تعاون پر عمل رہا؟ مخالف کا دل جیتنے کے لیے اپنے اہداف و طریقۂ کار سے ایک انچ ہٹے بغیر کیا اقدامات کیے ؟ دیگر تحریکات اسلامی خصوصاً تیونس اور ترکی جہاں تحریک اسلامی کو سیاسی کامیابی ہوئی ، کیا ان کا علمی، تاریخی جائزہ لیا گیا؟ تیونس میں خصوصاً جس طرح النہضۃ نے اپنے مخصوص حالات میں تبدیلی اختیار کی ہے، کیا اس کے بعد وہ ہمارے لیے مثال بن سکتی ہے؟ ترکی میں طیب اردگان کو لانے میں نجم الدین اربکان کا کتنا دخل تھا اور پھر باہمی اختلافات کے بعد آج وہاں پر دعوتی اور تحریکی کام کی شکل کیا ہے؟غرض علمی اور تحقیقی جائزے کے بغیر کسی بھی تحریک اسلامی کی حکمت عملی کو کسی دوسرے مقام پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مزید یہ کہ کیا واقعی جماعت کی حکمت عملی میں کوئی ایسی خرابی ہے کہ جب تک تیونس اور ترکی سے تریاق نہیں آئے گا، کام نہیں ہو سکتا یا ہم نے خود بعض فیصلے غلط کیے ہیں ، جن کی بنا پر ہم دعوتی اور سیاسی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ ان تمام پہلوؤں پر ان حضرات کو غور کرنےکی ضرورت ہے جو خود میدان میں کام میں مصروف ہوں۔ چند دانش وَر کسی بھی تحریک کو مسائل کا حل نہیں دے سکتے ۔ گو، حکمت مومن کی گم شدہ پونجی ہے اور جہاں سے بھی ملے اسے لینے میں کوئی حرج نہیں۔

 اس امر کی ضرورت ہے کہ ترجیح اوّل کے طور پر کارکنوں کی فکر ی تربیت اور دعوتی میدان میں شرکت کے ذریعے عملی تربیت کو اختیار کیا جائے اور ساتھ ہی بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں، صالح اور مکمل طور پر تحریکی فکر رکھنے والے افراد کو متعارف کروایا جائے جو ۱۰ سال بعد ملکی سطح پر تحریک کو قیادت دے سکیں۔