نومبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

قرآن کے ذریعے دعوت اور اسوۂ رسول ؐ

ڈاکٹر اختر حسین عزمی | نومبر۲۰۲۰ | اسوہ حسنہ

دعوت واصلاح کے عمل کے مؤثر اور پائیدار ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُس منہج سے زیادہ سے زیادہ قریب اور ہم آہنگ ہو جسے رسولِ اکرم ؐ نے اختیار کیا۔ بقول امام مالکؒ: اس قوم کے آخری حصے کی اصلاح بھی اس وقت تک نہ ہو گی جب تک وہ اسی طریقے کو نہ اختیار کرے جس طریقے پر ابتدا میں اصلاح ہوئی تھی۔ بعثت نبوی کا ابتدائی دور ہو یا بعد کے ادوار، اللہ کے رسولؐ کے دعوتی منہج میں تذکیر بالقرآن کی خصوصیت نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ آپ ؐ نے افراد کو دعوت دی یا قبائل کو، وفود کو تبلیغ کی یا شاہانِ وقت کو، آپؐ کی دعوتی گفتگو میں تلاوتِ قرآن کا التزام ہر جگہ دکھائی دیتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے آپ کو مکی دور میں ہی اس بات کی ہدایت کی تھی:
وَجَاہِدْہُمْ بِہٖ جِہَادًا كَبِيْرًا۝۵۲ (الفرقان ۲۵:۵۲)اور اس قرآن کو لے کر ان (کافروں)کے ساتھ بڑا جہاد کرو۔
 گویا نظامِ باطل کو اگر چیلنج کرنا ہے تو مکی دور میں بھی جہاد کرنا ہو گا اور یہ جہاد قرآن کے ابلاغ کے ذریعے ہو گا۔ عرب کی اکھڑ اور جھگڑالو قوم کو ڈرانا بھی قرآن سنائے بغیر ممکن نہ تھا۔ فرمایا:
فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّـرَ بِہِ الْمُتَّقِيْنَ وَتُنْذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا۝۹۷ (مریم ۱۹:۹۷) اس قرآن کو ہم نے آسان کر کے تمھاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیزگاروں کو خوش خبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو۔
تمام انسانیت کو خبردار کرنے کے لیے بھی یہی مؤثر ذریعہ ہے:
ہٰذَا  بَلٰغٌ  لِّلنَّاسِ  وَلِيُنْذَرُوْا  بِہٖ (ابراہیم ۱۴:۵۲) یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے ، تاکہ ان کو اس کے ذریعے سے خبردار کر دیا جائے۔
قرآن کی تاثیر ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ تلاوت کی تاثیر سے عرب کی اکھڑ اور جھگڑالو قوم نے اسلام قبول کیا اور جنھوں نے قبول نہیں کیا انھوں نے بھی اس کی تاثیر کا کھلے لفظوں اعتراف کیا۔ دوران دعوت قرآن سنانا نہ صرف سنتِ نبویؐ ہے بلکہ صحابہؓ کا عمل بھی ہے۔

تاثیر قرآن

قرآن کافروں کو انفرادی طور پر بھی اور ان کے مجمعوں کے اندر بھی سنایا گیا اور ان میں سے ہر ایک نے اس کی عظمت اور تاثیر کا اعتراف کیا۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت ہے کہ قریش کا سردار ولید بن مغیرہ نبی ؐ کے پاس آیا۔ آپ نے اسے قرآن پڑھ کر سنایا ۔قرآن سن کر وہ نرم پڑ گیا۔ ابوجہل کو خبر پہنچی تو ولید کے پاس پہنچ کر اس نے کہا:’’اے چچا جان !آپ کی قوم آپ کے لیے مال جمع کرنا چاہتی ہے‘‘۔ولید نے پوچھا ’’کس لیے؟‘‘ ابو جہل نے کہا:’’آپ کو دینے کے لیے ، کیونکہ آپ محمد ؐ کے پاس اس لیے گئے تھے تا کہ آپ کو ان سے کچھ مل جائے‘‘۔ ولید نے کہا:’’قریش کو خوب معلوم ہے کہ میں ان میں سے سب سے زیادہ مال دار ہوں (مجھے محمدؐ سے مال لینے کی ضرورت نہیں )۔ ابو جہل نے کہا:’’تو پھر آپ محمد ؐ کے بارے میں ایسی بات کہیں جس سے قوم کو یقین ہو جائے کہ آپ محمد ؐ کے منکر ہیں‘‘۔ ولید نے کہا: ’’میں کیا کہوں ؟اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی آدمی مجھ سے زیادہ اشعار اور قصیدوں کا جاننے والا نہیں ہے۔ اللہ کی قسم !محمد ؐ جو کچھ کہتے ہیں، وہ ان میں سے کسی چیز کے مشابہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم !وہ جو کچھ کہتے ہیں اس میں بڑی حلاوت اور کشش ہے اور ان کا کہا ہوا ایسا تناور درخت ہے جس کے اوپر کا حصہ خوب پھل دیتا ہے اور نیچے کا حصہ خوب سر سبز ہے۔ یہ کلام ہمیشہ اونچا رہنے والا ہے۔ کوئی کلام اس سے برتر نہیں ۔ ایسا کلام جو اپنے سے نیچے والے کلاموں کو تو ڑ کر رکھ دیتا ہے‘‘۔
ابوجہل نے کہا کہ آپ کی قوم اس وقت تک آپ سے راضی نہ ہو گی جب تک آپ محمد ؐ کے خلاف کچھ کہیں گے نہیں۔ولید نے کہا :’’اچھا اس بارے میں مجھے کچھ سوچنے دو‘‘۔کچھ دیر سوچ کر ولید نے کہا: ’’محمد کا کلام جادو ہے جسے وہ دوسروں سے سیکھ کر بیان کرتا ہے‘‘(بیہقی، البدایہ ، ج۳، ص۶۰؛ تفسیر ابن کثیر، ج ۴،ص۴۴۳)۔
حضرت جابر ؓ بن عبداللہ اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایات کے مطابق ایک دن قریش نے مشورہ کیا کہ محمد ؐ کو سمجھانے کے لیے ایسے آدمی کا انتخاب کیا جائے جو جادو کا جاننے والا ، کاہن اور سب سے بڑا شاعر ہو۔ عتبہ بن ربیعہ کے نام پر ان کا اتفاق ہوا کہ اس سے بہتر کوئی آدمی نہیں ۔ عتبہ بن ربیعہ قریش کے نمایندے کی حیثیت سے حضوؐر کے پاس آیا اور کہنے لگا:
’’اے بھتیجے :میں سمجھتا ہوں کہ آپ ہم سب سے بہترین خاندان والے اور سب سے اونچے مرتبے والے ہیں لیکن آپ نے ہمیں ایک ایسی مصیبت میں ڈال دیا ہے کہ کسی نے اپنی قوم کو ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کیا ہو گا ۔ اس کی وجہ سے قوم کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا ہے۔ اگر اس سے آپ کا مقصد مال جمع کرنا ہے تو آپ ؐ کی قوم آپ کے لیے اتنا مال جمع کر دے گی کہ آپ ہم سب سے زیادہ مال دار ہو جائیں ۔ اگر آپ باد شاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم سب آپ کو اپنا باد شاہ بنا لیتے ہیں۔ اگر آپ کو کسی عورت کی خواہش ہو تو قریش کی جس عورت سے چاہیں ہم آپ سے شادی کرا دیتے ہیں۔ اگریہ سب جنّاتی اثرات سے ہے تو قوم آپ کا علاج اپنے خرچے پر کروانے کے لیے تیار ہے۔ بشرطیکہ آپ اس دعوت سے باز آ جائیں‘‘۔
عتبہ کی بات سن کر رسولِ اکرمؐ نے پوچھا: ’’اے ابو الولید تم نے اپنی بات مکمل کر لی؟‘‘ عتبہ نے جواب دیا ’’جی ہاں‘‘۔ اب حضور ؐ نے سورۂ حم السجدہ پڑھنا شروع کی۔ حتیٰ کہ آپ اس آیت پر پہنچے :فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ۝۱۳ۭ  (۴۱:۱۳) ’’پھر اگر یہ منہ پھیرتے ہیں تو آپ کہہ دیں کہ میں تمھیں ایسی چنگھاڑ کے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسی چنگھاڑ (کا عذاب) عادوثمود پر آیا‘‘۔
یہ سن کر عتبہ اتنا گھبرایا کہ بے ساختہ اس نے آپؐ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا:بس کریں۔ پھر عتبہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا لیکن ان آیات سے وہ اتنا مرعوب ہوچکا تھا کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ قریش کو کیا جواب دے۔ سرداران قریش نے اس کے اترے چہرے کو دیکھ کر دور سے ہی کہا:’’عتبہ جس شان کے ساتھ گیا تھا، ا س کا چہرہ بتا رہا ہے کہ وہ اس شان کے ساتھ واپس نہیں آ رہا ہے‘‘۔ قریش کی مجلس میں پہنچ کر اس نے کہا :’’میں نے اس سے تمام طریقوں سے بات کی اور پھر محمد ؐ نے میری بات کا ایسا جواب دیا جو جادو ہے، نہ شعر اور نہ کہانت۔ اس نے جو کلام سنایا اللہ کی قسم !میرے کانوں نے ایسا کلام نہیں سنا ۔ اے قریش آج تم میری بات مان لو ، آیندہ چاہے نہ ماننا۔ اس آدمی کو اس کے حال پر چھوڑ دو، کیونکہ وہ تو اس کام کو چھوڑنے والا نہیں ہے۔ اگر وہ ان عربوں پر غالب آیا تو اُس کی برتری تمھاری برتری ، اُس کی عزت تمھاری عزت ہوگی۔ اور اگر عربوں نے اسے دبا لیا تو تمھارے آپس میں لڑے بغیر تمھارا مقصد پورا ہو جائے گا‘‘۔
یہ سن کر قریش نے کہا:’’اے ابو الولید !لگتا ہے تم بھی بے دین ہو گئے ہو‘‘ (دلائل النبوہ ، بیہقی ،ص۷۵؛ مجمع الزوائد ،ج ۶،ص۲۰، البدایہ، ج ۳،ص۶۲)۔
ان دو واقعات سے معلوم ہوا کہ ادبی وشعری ذوق رکھنے والے لوگ قرآن کی عظمت اور تاثیر کلام سے مرعوب تھے اور یہ بھی کہ کافروں کی بڑی سے بڑی بات کا مؤثر جواب وہی ہے جو آیاتِ قرآنی کے ذریعے دیا جائے۔ اسی طرح سیرت ابن ہشام میں بیان شدہ وہ واقعہ کہ ابوسفیان ، ابوجہل ، اخنس بن شریق اور ابن وہب ثقفی تین رات تک مسلسل حضور ؐ کی تلاوتِ قرآن چھپ کر سنتے رہے اور جب ایک دوسرے کے سامنے آتے تو نہ سننے کا وعدہ کرتے لیکن اگلے دن پھر ایک ایک کر کے سننے پہنچ جاتے اور قرآن کی عظمت کا اعتراف کرتے ۔حضرت عمر ؓ نے چھپ کر حضور ؐ سے قرآن سنا اور اس سے مرعوب ہوئے (ابن ہشام)۔
معلوم ہوا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بلند آواز سے تلاوت کر کے دوسروں کو سنانے کے مواقع پیدا کرتے تھے ۔ اور یہ بھی کہ کافر قرآن کی تاثیر سے خوف زدہ تھے۔ قرآن نے ان کے اس خوف کو یوں بیان کیا ہے:
وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْـغَوْا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ۝۲۶ (حٰمٓ السجدہ ۴۱:۲۶)یہ کافر کہتے ہیں کہ اس قرآن کو ہرگز نہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو تا کہ تم غالب آ جاؤ۔


عظمتِ قرآن کا اعتراف

اعلانیہ تبلیغ کے آغاز میں جب قریش نے زائرین حرم کے سامنے اپنا مشترکہ موقف طے کرنے کے لیے اجتماع کیا اور اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے کاہن، شاعر، دیوانے اور جادوگر ہونے کی تجاویز پیش ہوئیں تو ان کے سردار ولید بن مغیرہ نے ایک ایک تجویز کے بودے پن کو واضح کیا اور قرآن کی عظمت کا یوں اعتراف کیا:’’خدا کی قسم اس کلام میں بڑی حلاوت وشیرینی ہے۔ اس کی جڑ پائیدار اور شاخیں پھل دار ہیں۔ یہ پیغام غالب ہونے والا ہے، اسے کوئی مغلوب نہیں کر سکتا اور یہ سب کو کچل کر رکھ دے گا‘‘ ( سیرۃ ابن ہشام، ص۲۳۳)۔
lحضرت امیر معاویہ ؓ راوی ہیں کہ ان کے والد ابو سفیان اپنی بیوی ہندہ کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھائے اپنے کھیت کی طرف چلے۔ میں بھی اپنی گدھی پر سوار ان دونوں کے آگے چل رہا تھا۔ میری نو عمری کا زمانہ تھا۔ اس دوران حضوؐر ہمارے پاس پہنچے ۔ میرے باپ نے مجھے کہا: ’’اے معاویہ ! تم سواری سے نیچے اتر جاؤ تا کہ محمد ؐ اس پر سوار ہو جائیں‘‘۔ چنانچہ میں اس سے اتر گیا اور حضوؐر اس پر سوار ہو گئے ۔ آپ کچھ دیر ہمارے ساتھ چلے اور پھر ہماری طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا:’’اے ابو سفیان بن حرب، اے ہند بنت عتبہ !اللہ کی قسم تم ضرور مرو گے اور پھر تمھیں زندہ کیا جائے گا ۔ پھر نیکوکار جنت میں اور بد کار دوزخ میں جائیں گے اور میں تمھیں بالکل صحیح اور حق بات بتا رہا ہوں اور تم دونوں سب سے پہلے عذاب الٰہی سے ڈرائے گئے ہو‘‘۔ پھر حضوؐر نے سورئہ حٰمٓ السجدہ کی آیات  حٰـمۗ۝۱ۚ  تَنْزِيْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝۲ۚ  سے لے کر  قَالَتَآ اَتَيْنَا طَاۗىِٕعِيْنَ ۝ تک تلاوت فرمائیں۔ جب آپ اپنی بات سے فارغ ہوگئے تو گدھی سے اُتر گئے اور میں اس پر سوار ہو گیا۔ میری ماں ہند نے میرے باپ سے کہا: ’’کیا اس جادو گر کے لیے تم نے میرے بیٹے کو اس کی سواری سے اتارا؟ ابو سفیان نے کہا: ’’نہیں ! اللہ کی قسم وہ جادو گر اور جھوٹے نہیں ہیں‘‘ (طبرانی ، ابن عساکر، الہیثمی ج۴، ص۲۰، کنزالعمال ، ج ۷،ص۹۴)۔
اس حدیث کے مطابق حضوؐر نے پہلے فکرِ آخرت کے ذریعے دل کو نرم کرنے کی تدبیر کی اور پھر سورئہ حم السجدہ کی پہلی گیارہ آیات سنائیں جن میں قرآن کا تعارف اور قرآن سے لوگوںکی بے پروائی کا ذکر ہے ۔ پھر آپؐ کی رسالت اور توحید الٰہی اور اس کو نہ ماننے والوں کی تباہی کا ذکر ہے ۔ زمین و آسمان کی تخلیق اور وقوع آخرت پر دلیل دی گئی ہے۔
حضرت عمروؓبن عثمان اپنے والد حضرت عثمانؓ بن عفان سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ میں اپنی خالہ ارویٰ بنت عبدالمطلب (نبی ؐ کی پھوپھی) کے پاس ان کی بیمار پُرسی کے لیے گیا تو وہاں حضور ؐ بھی تشریف لے آئے۔ میں آپ ؐ کی طرف غور سے دیکھنے لگا تو آپ ؐنے مجھ سے پوچھا:’’اے عثمان!تم اس طرح مجھے کیوں گھور رہے ہو؟‘‘۔ میں نے کہا:’’میں اس بات پر حیران ہوںکہ آپ کا ہمارے ہاں بڑا مرتبہ ہے لیکن لوگ آپؐ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کررہے ہیں ‘‘۔ یہ سن کر آپ ؐ نے فرمایا :لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ ۔ اللہ گواہ ہے کہ میں یہ سن کر کانپ گیا۔ پھر آپ ؐ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ۝۲۲ فَوَرَبِّ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۝۲۳(الذاریات ۵۱:۲۲-۲۳) ’’اور آسمان ہی میں ہے تمھارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے ۔ پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی! یہ بات حق ہے۔ ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو‘‘۔ پھر حضوؐر کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے ۔ میں بھی آپؐ کے پیچھے چل دیا اور پھر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسلمان ہوا(الاستیعاب ،ج۲،ص۲۲۵ ، بحوالہ حیاۃ الصحابہ ، ج ۱،ص ۸۳)۔
ابن اسحاق کے مطابق حضرت ابو بکرؓ نے مسلمان ہونے کے بعد حضرت زبیرؓ بن عوام ، حضرت عثمانؓ بن عفان ،حضرت طلحہؓ بن عبیداللہ ، حضرت سعدؓ بن ابی وقاص ، اور حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کو تبلیغ کی اور انھیں لے کر خدمت رسولؐ میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا ۔ انھیں قرآن پڑھ کر سنایا اور انھیں اسلام کے حقوق بتائے ۔ وہ سب ایمان لے آئے (مسند احمد، ابوداؤد، طبقات ابن سعد ، ج ۵،ص۵۱۰، البدایہ ، ج ۵،ص۳۲)۔

ابن اسحاق ہی کی روایت ہے کہ قبیلہ دوس کے سردار طفیل بن عمرو مکہ گئے تو قریش کے چند آدمی ان سے ملے اور انھیں کہا کہ ہماری قوم کے محمدؐ نا می شخص سے کوئی بات نہ کرنا۔ وہ ایسا جادو اثر کلام رکھتا ہے کہ جس کے ذریعے اس نے باپ بیٹے، بھائی بھائی اور میاں بیوی کے درمیان جدائیاں ڈال دی ہیں۔ انھوں نے اتنا اصرار کیا کہ طفیل دوسی کے بقول :میں نے حضوؐر کے کلام سے بچنے کے لیے کانوں میں روئی ٹھونس لی اور آپ ؐ سے دور رہنے کی کوشش کی۔ ایک صبح جب حضوؐر خانہ کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے تو میں بھی آپؐ کے قریب کھڑا ہو گیا ۔ تمام تر احتیاط کے باوجود اللہ نے مجھے آپ ؐ کی تلاوت کے الفاظ سنا ہی دیئے ۔ مجھے وہ کلام بہت ہی بھلا محسوس ہوا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: ’’میری ماں مجھے روئے !میں ایک قبیلے کا سردار ہوں، خود شاعر ہوں، اچھے بُرے کلام میں تمیز کر سکتا ہوں ،کیا حرج ہے کہ میں محمد ؐ کی بات سنوں ۔ دل لگتی بات ہو گی تو قبول کر لوں گا۔ کوئی زبر دستی تو میرے ساتھ کر نہیں سکتا۔ چنانچہ میں خدمت رسولؐ میں حاضر ہو گیا۔ اپنی رُوداد سنانے کے بعد عرض کی:’’آپؐ اپنی دعوت میرے سامنے پیش کیجیے!‘‘ حضوؐر نے میرے سامنے اسلام کو پیش کیا اور قرآن سنایا ۔ اللہ کی قسم میں نے اس سے پہلے اس سے زیادہ عمدہ کلام اور انصاف والی بات نہیں سنی تھی، چنانچہ میں کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گیا (دلائل النبوہ للبیہقی، ص۷۸، طبقات ابن سعد ، ج۴،ص ۲۳۷ ، الاصابہ ، ج۲،ص۲۲۵)۔
ابن اسحاق کے مطابق حبشہ کے بیس عیسائیوں کا وفد حضوؐر کے پاس صحن حرم میں حاضر ہوا۔ رسولؐ اللہ سے جو سوالات وہ کرنا چاہتے تھے، جب کر چکے تو آپؐ نے انھیں اللہ کی طرف دعوت دی اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ جب انھوں نے تلاوت قرآن سنی تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ انھوں نے آپ ؐ کی نبوت کی تصدیق کی، ایمان لے آئے۔ جب وہ جانے لگے تو راہ میں ابو جہل نے انھیں دین اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کہا کہ ہم جاہلوں سے نہیں الجھتے تو اللہ نے سورۂ قصص کی آیت ۵۲ اور ۵۵ نازل فرما کر ان کی تعریف فرمائی: وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْہِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖٓ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِـمِيْنَ۝۵۳  ’’اور جب انھیں قرآن سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے۔ یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ،ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں‘‘ (سیرۃ ابن ہشام،ص۳۳۸-۳۳۹)۔


اخلاقی برتری پر مبنی تعلیمات

حضرت علی کی ایک طویل روایت تلخیصاً ذکر ہے کہ بعثتِ نبوی کے دسویں سال حج کے موقع پر حضوؐر حضرت ابو بکرؓ اور حضرت علیؓ کے ہمراہ منیٰ میں تشریف لے گئے۔ آپؐ قبیلہ بنوشیبان کے خیمے میں پہنچے ۔ باہمی تعارف کے بعد حضور ؐ نے انھیں توحید و رسالت کے قبول کرنے اور اپنی حمایت کرنے کی دعوت دی تو قبیلہ کے ایک سردار مفروق بن عمرو نے کہا:’’اے قریشی بھائی آپ مزید کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟‘‘ آپ نے اس کے سوال کے جواب میں سورۃ الانعام کی آیات ۱۵۱ تا ۱۵۳  قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ  سے لے کر ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۝ تلاوت فرمائیں ۔ جن کا ترجمہ ہے:’’ کہو ! کہ آؤ میں تمھیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمھارے ربّ نے تم پر پابندیاں عائد کی ہیں۔کسی چیز کو اللہ کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ سے حُسنِ سلوک کرتے رہنا، ناداری کے باعث اپنی اولاد قتل نہ کرنا کیونکہ تمھیں بھی اور انھیں بھی رزق ہم ہی دیتے ہیں اور بے حیائی خواہ ظاہری ہو یا پوشیدہ، اس کے پاس نہیں پھٹکنا اور کسی جان کو جس کے قتل کو اللہ نے حرام کر دیا ہے، قتل نہ کرنا سوائے حق کے۔ ان باتوں کی وہ تمھیں تاکید کرتا ہے تا کہ تم سمجھو۔ اور مالِ یتیم کے پاس بھی ہرگز نہ جانا سوائے اس طریقہ کے جو پسندیدہ ہو حتیٰ کہ یتیم جوانی کو پہنچ جائے اور  ناپ تول میں پورا انصاف کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب بات کہو انصاف کی کہو، خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔ اور اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ان باتوں کا اللہ تمھیں حکم دیتا ہے تا کہ تم نصیحت پاؤ۔نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی راستے پر چلو۔ اور راستوں پر نہ چلنا مبادا کہ اللہ کے راستے سے بھٹک جاؤ۔ اللہ تمھیں ان باتوں کا حکم دیتا ہے تا کہ تم پرہیز گار بنو‘‘(الانعام۶: ۱۵۱-۱۵۳)۔
 مفروق جسے اپنی فصاحت وبلاغت پر بڑا ناز تھا اللہ کا کلام سن کر کہنے لگا:’’اے قریشی بھائی ! آپ مزید کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟ اللہ کی قسم یہ کلام جو تم نے سنایا ہے، زمین والوں کا کلام نہیں ہے اور اگر یہ زمین والوں کا کلام ہوتا تو ہم اسے ضرور پہچان لیتے ‘‘۔ اب حضور ؐ نے  سورۃ النحل کی آیت ۹۰  کی تلاوت کی: اِنَّ اللہَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْہٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ۝۰ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ۝۹۰ ’’بے شک اللہ تمھیں انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ بے حیائی اور بُرے کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے ۔وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم یاد رکھو‘‘۔ یہ سن کر مفروق نے کہا:     اے قریشی بھائی !اللہ کی قسم !آپ نے بڑے عمدہ اخلاق اور اچھے اعمال کی دعوت دی۔
اس کے بعد قبیلہ کے دوسرے سرداروں ہانی بن قبیصہ اور مثنیٰ بن حارثہ نے بھی آپؐ کی دعوت اورر قرآن کی عظمت کا اعتراف کیا۔ البتہ انھوں نے اپنی علاقائی اور قبائلی مجبوریوں کے  پیش نظر غوروفکر کی مہلت مانگی اور حضور ؐ نے بھی ان کی سچائی پر مبنی بات کو سراہا (چند سال بعد یہ قبیلہ مسلمان ہوا اور ان کے سردار مثنیٰ بن حارثہ نے ایک کمانڈر کی حیثیت سے عراق اور ایران کی فتوحات میں بنیادی کردار اداکیا)۔ بنو شیبان کے بعد حضور ؐ اوس وخزاج کی مجلس میں پہنچے ۔ ان کے سامنے اپنی دعوت پیش کی اور وہاں بھی قرآن کی تلاوت کی۔ مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی نعمان بن شریک اور دیگر کئی افراد مشرف بہ اسلام ہوئے(بیہقی ، حاکم،ابو نعیم، فتح الباری، ج ۷، ص۱۵۶، سیرۃ ابن کثیر ، ج ۲،ص۱۲۹)۔
ابن اسحاق کے مطابق سوید بن صامت حج کی لیے یثرب سے مکہ آئے۔ ان کے حسب نسب ، جسمانی قوت اور شعرو شاعری میں پختگی کے باعث ان کی قوم انھیں ’الکامل‘ کہتی تھی۔ رسول اللہ نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو یہ کہنے لگے:’’غالباً آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ اسی سے ملتا جلتا ہے جو میرے پاس ہے‘‘۔ آپ نے پوچھا:’’تمھارے پاس کیا ہے؟ سوید نے کہا: ’’حکمتِ لقمان‘‘۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ سناؤ۔ انھوں نے سنایا تو آپ ؐنے اس کی تعریف کی اور ساتھ فرمایا:’’میرے پاس اس سے بھی زیادہ عمدہ کلام ہے جو اللہ نے مجھ پر نازل کیا ہے ، وہ ہدایت ہے اور نور‘‘۔ اس کے بعد آپ ؐ نے قرآن کا کچھ حصہ تلاوت کیا اور انھیں اسلام کی دعوت دی۔ یہ سن کر سوید بولے:’’یہ تو بہت ہی اچھا کلام ہے‘‘ اور مسلمان ہو گئے (ابن ہشام،ص:۳۷۲-۳۷۴)۔

بندگیِ رب کی دعوت

خبیب بن عبدالرحمٰن کی روایت ہے کہ حضرت اسعدؓ بن زرارہ ، اور حضرت ذکوان ؓ بن عبدقیس، سردارِ قریش عتبہ بن ربیعہ سے اپنا ایک فیصلہ کروانے کے لیے یثرب سے مکہ پہنچے ۔ وہاں پہنچ کر انھوں نے نبی ؐ کے بارے میں کچھ سنا تو وہ دونوں حضور ؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے انھیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن پڑھ کر سنایا۔ وہ دونوں مسلمان ہو گئے اور عتبہ بن ربیعہ کے پاس بھی نہیں گئے، واپس مدینے آ گئے ۔مدینہ میں یہ اوّلین مسلمان تھے (طبقات ابن سعد، ج۳، ص۳۴۷)۔
l ابن اسحاق کے مطابق محمود بن لبید بیان کرتے ہیں کہ ان کے قبیلہ اوس کے خاندان بنواشہل کے کچھ نوجوان انس بن رافع کی سربراہی میں یثرب سے مکے پہنچے تا کہ قبیلہ خزرج کے مقابلے کے لیے قریش کے ساتھ حلیفانہ معاہدہ کریں ۔ اللہ کے رسولؐ کو جب ان کی آمد کی خبر ہوئی تو آپ ؐ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا:’’تم جس کام کے لیے آئے ہو، میں تمھیں اس سے بھی بہتر بات نہ بتاؤں؟‘‘۔ انھوں نے کہا:’’وہ کون سی بات ہے ؟‘‘آپ ؐ نے فرمایا مجھے اللہ نے بندوں کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میں انھیںایک اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے مجھ پر کتاب نازل کی ہے۔ پھر آپ ؐ نے اسلام کی خوبیوں کا ذکر فرمایا اور انھیں قرآن پڑھ کر سنایا ۔ حضرت ایا سؓ بن معاذ ، جو کہ ابھی نوعمر لڑکے تھے، نے کہا:’’اے میری قوم !اللہ کی قسم !تم جس کام کے لیے آئے ہو، واقعی یہ بات اس سے بہتر ہے ، اگرچہ باقی لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا لیکن حضرت ایاسؓ نے خاموشی سے اسلام قبول کر لیا(مسند احمد، طبرانی ، کنزالعمال،ج۷،ص۱۱، سیرت ابن ہشام ، ص۳۷۴) ۔

دلوں کا نرم پڑ جانا

طبرانی نے حضرت عروہ سے مرسل روایت بیان کی ہے کہ زمانہ حج میں یثرب کے بنومازن کے حضرت معاذؓ بن عفرا اور حضرت اسعدؓ بن زرارہ ، بنوزریق کے حضرت رافعؓ بن مالک اور حضرت ذکوانؓ بن عبدالقیس ، بنو اشہل کے حضرت ابوالہیثمؓ بن تیہان اور بنو عمروبن عوف کے حضرت عویم بن ساعدہؓ مکہ گئے۔ حضوؐر نے ان کے سامنے اپنی نبوت پیش کی، انھیں قرآن پڑھ کر سنایا ۔ جب انھوں نے آپ کی بات سنی تو خاموش ہو گئے۔ جب ان کے دل آپؐ کی دعوت پر مطمئن ہو گئے تو انھوں نے آپ کی تصدیق کی اور اسلام قبول کیا (حیاۃ الصحابہ، ج۱،ص ۴۸۶) ۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ قرآن سننے کا یہ اثر ہو اکہ سننے والے: ۱- خاموش ہو گئے۔ ۲-ان کے دل دعوت پر مطمئن ہو گئے اس لیے کہ دلوں کا اطمینان ذکر الٰہی میں ہے اور قرآن سب سے بڑا ذکر ہے۔ ۳- نہ صرف تصدیق کی بلکہ آپؐ کی رسالت پر ایمان لائے۔
حضرت اُمّ سعد بنت سعد ربیعؓ کی روایت ہے کہ حضور ؐ یثرب کے کچھ لوگوں کے پاس پہنچے جو منیٰ میں عقبہ کی گھاٹی کے پاس بیٹھے ہوئے اپنے سرمنڈوا رہے تھے۔ وہ چھے سات افراد تھے   جن میں تین بنی نجار کے اور تین اسعد بن زرارہ اور عفرا کے دو بیٹے تھے۔ حضور ؐ نے ان کے پاس بیٹھ کر انھیں اللہ کی دعوت دی۔ انھیں قرآن پڑھ کر سنایا۔ چنانچہ ان لوگوں نے اسلام قبول کرلیا(ابونعیم،دلائل النبوہ،ص۱۰۵)۔
حضرت عقیلؓ بن ابی طالب سے مروی ایک طویل روایت کا ایک حصہ ملاحظہ ہو۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ منیٰ کے دنوں میں جمرۂ عقبہ کے پاس رات کے وقت اوس وخزرج کے چھے آدمیوں سے حضوؐر کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے انھیں اللہ کی عبادت اور دین اسلام کی نصرت کی دعوت دی۔ انھوں نے آپؐ سے وحی الٰہی سننے کی خواہش کی تو آپؐ نے سورۂ ابراہیم کی آیت ۳۵ تا۵۲    وَاِذْ  قَالَ اِبْرٰہِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ  سے لے کر آخر تک پڑھ کر انھیں سنائی ۔ جب انھوں نے قرآن سنا تو ان کے دل نرم پڑ گئے اور اللہ کے حضور عاجزی کرنے لگے اور انھوں نے آپؐ کی دعوت قبول کر لی۔
ان اٹھارہ آیات میں حضرت ابراہیم ؑ کی بیت اللہ کے لیے امن، رزق اور اولاد کی توحیدپرستی کی دعا مذکور ہے ۔ مومنوں کو تسلی دی گئی کہ آج کے ظالم کل روز قیامت خوف زدہ ہوں گے۔ روزِ قیامت کی ہولناکی اور میدان حشر کی پریشانی کا منظر پیش کیا گیا ہے ۔ یہ سننے کا نتیجہ یہ ہوا کہ: ۱-سننے والوں کے دل نرم پڑگئے ۲- اللہ کے حضور عاجزی کرنے لگے،۳- اسلام قبول کر لیا (ایضاً، بحوالہ حیاۃ الصحابہ  ، ج۱،ص۱۳۲)

دعوت دین کی اساس

حضوؐر جب مدینہ تشریف لے آئے تو وہاں بھی تلاوت قرآن آپؐ کی دعوتی گفتگو کا اہم حصہ تھی۔ صحیح بخاری اور سیرۃ ابن ہشام میں اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ ایک دن حضوؐر گدھے پر سوار بنو خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ کی بیمار پُرسی کے لیے چلے اور مجھے بھی ساتھ لے لیا۔ راستے میں عبداللہ بن ابی کے مکان کے سائے میں اس کی مجلس میں کچھ مسلمان، کچھ یہودی اور بت پرست ملے جلے بیٹھے تھے۔ آپ مروتاً وہاں رُک گئے، سواری سے اُترے، اہلِ مجلس کو سلام کیا اور کچھ دیر کے لیے بیٹھ گئے ۔ مجلس میں قرآن پڑھ کر سنایا اور لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دی۔ اللہ کی رحمت کی خوش خبری اور عذاب الٰہی کی وعید سنائی۔ عبداللہ بن ابی نے اگرچہ آپؐ کی دعوت پر ناگواری کا اظہار کیا لیکن مجلس میں بیٹھے عبداللہ ؓبن رواحہ اور دیگر صحابہ نے آپؐ کی گفتگو پر پسندیدگی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں آپؐ سعد بن عبادہؓ کی عیادت کے لیے ان کے گھر چلے گئے۔ (سیرۃ ابن ہشام ، ص۵۲۷)
سیرتِ نبویؐ کے ان واقعات وحقائق کے پیش نظر آج کے مبلّغین اور داعیانِ اسلام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی گفتگو میں ضعیف روایات وحکایات ، بزرگانِ دین سے منسوب کشف وکرامات کے غیر مستند واقعات اور اخباری کالم نگاروں کی سطحی معلومات کو دعوتی گفتگو کی بنیاد بنانے کی بجائے قرآن کی پُرتاثیر آیات اور ٹھوس تعلیمات کو اپنی دعوت کا محور ومرکز بنائیں۔ کیونکہ: الْقُرْاٰنَ يَہْدِيْ  لِلَّتِيْ ھِيَ   اَقْوَمُ (بنی اسرائیل ۱۷:۹) ’’قرآن وہ راہِ ہدایت دکھاتا ہے جو سیدھی اور واضح ہے‘‘۔  جس شخص میں تھوڑا سا بھی خوفِ خدا ہے، اس کی نصیحت کے لیے قرآن سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں۔ اسی لیے اللہ نے اپنے نبیؐ کو حکم دیا:  فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ۝۴۵(قٓ۵۰:۴۵) ’’بس تم اس قرآن کے ذریعے ہراس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہ سے ڈرے‘‘۔
لہٰذا قرآن کے ابلاغ کا حق ادا کیے بغیر غلبۂ اسلام کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔