نومبر۲۰۲۰

فہرست مضامین

’ قرآنی آیات‘ میں قادیانی تحریفات

عارف الحق عارف | نومبر۲۰۲۰ | یادداشت

آزاد کشمیرکی وادی بِناہ میں مولانا محمد اعظم صاحب، ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے تھے اور اسی وجہ سے ان کے بیٹے محمد شفیع بھائی سے بھی دوستی کا رشتہ قائم ہوگیا تھا۔ اور پھر یہ دوستی تھوڑے عرصے کے لیے استاد اور شاگرد کے رشتے میں بدل گئی کہ وہ ہمارے پاس انگریزی پڑھنے کے لیے آنے لگے۔ ہم میٹرک کے بعد نومبر ۱۹۶۰ء میں کراچی آگئے اور محمد شفیع بھی دینی تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے ،اور پھر وہیں، ماڈل ٹاؤن کی جامع مسجد میں خطیب مقرر ہوئے۔ انھوں نے اپنی خطابت میں جوشیلے پن کی مناسبت سے ’جوش‘ کا لاحقہ بھی لگا لیا۔
برسوں بعد ۱۹۸۰ء میں ایک ملاقات کے دوران انھوں نے مولانا مودودیؒ کی زندگی کے بعض ایسے درخشاں پہلوؤں پر روشنی ڈالی، جو ابھی تک ہم سے مخفی تھے اور ان کے بقول مولانا کی ہدایت تھی کہ ان کو بیان نہ کیا جائے۔ ایسی باتوں میں سے ایک حصہ اس رُوداد کا بھی شامل ہے، جو ’جب کلمہ طیبہ متنازع بنا دیا گیا‘ کے عنوان سے ترجمان القرآن کے ستمبر۲۰۲۰ء کے شمارے میں شائع ہوئی ہے۔ مولانا محمد شفیع نے بڑی تفصیل کے ساتھ مولانا سے اپنی ملاقاتوں اور اسلامیات کی نصابی کتاب میں کلمہ طیبہ میں اضافے کی نشان دہی، اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور اس کے لیے مولانا مودودیؒ کی طرف سے جملہ اخراجات کی ذمہ داری تک کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
مولانا مودودی فرقہ وارانہ سوچ سے نہ صرف لا تعلق تھے، بلکہ سارے مکاتب فکر کے  جید علمائے کرام کے لیے احترام کے جذبات رکھتے تھے اور اس اعلیٰ مقصد کے لیے بڑھ چڑھ کر تعاون کرنے اور ان کو اعتماد میں لینے کے بھی شدت سے حامی تھے۔ بریلوی مکتبہ فکر کے عالم دین مولانا شفیع جوش سے ان کا اس قدر قریبی تعلق اور ان پر اعتماد اس کا واضح ثبوت تھا کہ سیدی نے کلمہ طیبہ کے حوالے سے ان کی نشان دہی اور تشویش کو پوری ملت اسلامیہ کا اہم مسئلہ سمجھا اوران سے بھرپور علمی،قانونی اور مالی تعاون کیا۔
ایسے ہی اعتماد کا مظاہرہ انھوں نے ایک اور موقع پر مفتی اعظم پاکستان شیخ الحدیث مفتی ولی حسنؒ کے ساتھ بھی کیا تھا، کہ جب انھوں نے ۱۹۷۸ء میں ریڈیوپاکستان سے نشر ہونے والے مشہور انٹر ویو میں ایڈیٹنگ سے پیدا ہونے والے اعتراض کی اپنی طرف سے وضاحت لکھ کر اخبارات کو جاری کرنے کا اختیار انھیں دیا تھا۔
۱۹۸۰ء ہی میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حج کی سعادت سے نوازا۔ رابطہ عالم اسلامی نے مختلف ممالک کے عازمین حج کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی مکہ المکرمہ میں اپنا مہمان بنا لیا۔ ان مہمانوں میں  چیف جسٹس (ریٹائرڈ ) سردار محمداقبال بھی شامل تھے، جوحج کی سعادت کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس لیے ہمیں ان سے کئی بار ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور پھر مکہ المکرمہ سے مدینہ المنورہ کا مبارک سفر بھی ہم دونوں نے ایک ہی گاڑی میں کیا۔ مکہ المکرمہ سے مدینہ المنورہ کے سفر کے دوران ہم نے ان سے دوسری باتوں کے علاوہ اس خاص مقدمے کا بھی ذکر کیا اور اس کے بارے میں چند سوالات بھی کیے۔ انھوں نے حیران ہوکر سوال کیا: ’’آپ کو اس کا علم کیسے ہوا ؟‘‘ جس پر انھیں بتایا کہ ’’ہم اور مولانا شفیع جوش، آزاد کشمیر کے ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور بچپن کے دوست ہیں‘‘ تو یہ سن کر وہ بڑے خوش ہوئے اور مولانا جوش کے جذبۂ ایمانی اور کلمہ طیبہ کے تحفظ کے لیے ان کے جوش و خروش کو سراہتے ہوئے فرمایا: ’’میں ان کا شکر گزار ہوں کہ عدالت میں ان کے ایک مکالمے نے مجھے ایمان کی دولت سے مالامال کردیا‘‘۔
مولانا جوش نے ہمیں مزید بتایا تھا کہ ’’اسی زمانے میں مولانا مودودیؒ کی اپنے ساتھ شفقت، سرپرستی اور محبت سے بڑا متاثر تھا کہ انھوں نے قرآن وحدیث کے مجھ جیسے ایک ادنیٰ طالب علم کو اس قدر اہمیت دی اور قادیانیوں کی کتب کے حوالے سے تحقیقی کام کی سرپرستی اور رہنمائی بھی کی۔ نمازِ عصر کے بعد کی عصری نشستوں میں مَیں پابندی کے ساتھ شریک ہوتا تھا، اور ان دنوں اخبارات میں مضامین لکھنے کا بھی شوق تھا اور یہ مضامین نوائے وقت میں شائع ہوتے تھے۔ ایساہی میرا ایک مضمون امام اعظم امام ابو حنیفہؒ پر شائع ہوا، جس میں ان کے آباواجداد کے عجمی النسل اور اپنے قبیلے جاٹ ہونے اور قدیم علاقائی تعلق کے بارے میں یہ بات لکھی تھی کہ ’’امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے دادا ،شمالی ہندستان سے کشمیر، کشمیر سے افغانستان اور افغانستان سے کوفہ میں آباد ہوئے‘‘۔ اس مضمون کی اشاعت کے ایک دو دن بعد میں حسب معمول عصری نشست میں شرکت کے لیے پہنچا، تو مولانا نے بڑے خوش گوار موڈ میں منہ میں پان کی گلوری لیتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بہت ہی پیارے انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے کہا:’’جوش صاحب، امام ابوحنیفہؒ کے علاقائی تعلق کے بارے میں آپ نے شمالی ہندستان لکھنے کا خواہ مخواہ تکلف کیا ؟ سیدھے سبھاؤ لکھ دیتے کہ وہ ’مجوال شریف‘ ( آزاد کشمیر میں مولانا جوش کا گاؤں ) سے افغانستان اور وہاں سے کوفہ گئے تھے‘‘۔ اس پر مجلس میں زور کا قہقہہ لگا اور بات آئی گئی ہوگئی۔ تاہم، میں بہت حیران ہوا کہ مولانا نے مجھ جیسے عام نوجوان کا مضمون بھی مطالعہ فرمایا ہے۔
’’کچھ دن گزرے تو ہفت روزہ ایشیا میں یہ واقعہ ایک لطیفے کے طور پر شائع ہوگیا اور مَیں اس کی اشاعت سے بھی لا علم تھا۔ ایک ڈیڑھ مہینے بعد اپنے گاؤں گیا۔ آزاد کشمیر کے صدر سردار عبدالقیوم خان دورے پر ہمارے گاؤں آئے اور انھوں نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس علاقے سے تو پہلے ہی واقف تھا، لیکن مولانا شفیع جوش نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے کہ میں خاص طور پر اس گاؤں کو ایک بار پھر دیکھنے آیا ہوں کہ اس مجوال شریف کو دیکھوں جہاں امام ابو حنیفہؒ کا خاندان پہلے پہل آباد تھا‘‘۔ اور پھر انھوں نے ہفت روزہ ایشیا میں شائع ہونے والے مولانا مودودیؒ کے اس لطیفے کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’’مجھے تو یہاں کسی ’شریف‘ کا مزار نظر نہیں آیا‘‘۔ جس پر میرے والد نے جواب دیا کہ ’’ہمارے یہاں مرنے کے بعد نہیں بلکہ زندگی ہی میں لوگ’شریف‘ کہلاتے ہیں‘‘۔
محمد شفیع صاحب نے یہ بھی بتایا:’’۱۹۷۴ء میں سردار عبدالقیوم صاحب نے مجھے کہا کہ تم قادیانیوں کی ساری کتابوں کا عام مولویوں اور روایتی مناظرہ بازوں کی طرح نہیں بلکہ ایک ریسرچ اسکالر کی طرح آئین اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ناقدانہ جائزہ لو اور ایک    مدلل کیس تیار کرو کہ ان دلائل کی بنیاد پر انھیں دائرۂ اسلام سے خارج کیا جا سکتا ہے‘‘ ۔ چنانچہ میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی سو سے اوپر اور دوسرے مصنّفین کی ۵۰ کتب کا تنقیدی مطالعہ کیا اور ان تمام عبارتوں کی نشان دہی کی جہاں جہاں من مانی تفسیر،تشریح اور تعبیر کی گئی تھی۔ ان کتب کے بغور مطالعے کے دوران پتا چلا کہ ختم نبوت کا انکار تو ایک جرم ہے،پھر جہاد کا انکار دوسرا جرم ہے لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کا سب سے بڑا کفر اس جرم کی صورت میں سامنے آیا کہ اس نے اپنے گمراہ کن اور کافرانہ دعویٰ نبوت کو قرآن سے ثابت کرنے کے لیے سات آیات قرآنی میں لفظی تحریف کر رکھی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب کا مطالعہ کرتے کرتے جب میری نگاہ اس کی کتاب حقیقت الوحی  میں سورۃ الانبیاء کی آیت ۲۵ پر پڑی تو ماتھا ٹھنکا۔ جس کا اصل متن یہ ہے:  وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْہِ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ۝۲۵ لیکن مرزا کی کتاب میں اس طرح لکھا ہوا ملا: وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَلَا نَبِیٍّ وَلَا مُحَدِّثٍ۔ اس آیت کو براہین احمدیہ کی فہرست ص۳۸ میں سورۃ الانبیاء کی آیت ۲۱، اور ۲۵ دکھایا گیا تھا۔ اس میں لفظ ’محدث‘ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ حالاں کہ پورے قرآن میں کہیں بھی یہ لفظ موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد میں نے مرزا صاحب کی کتب میں موجود قرآنی آیات کا زیادہ گہرائی کے ساتھ جائزہ لیا تو مزید چھے آیات میں لفظی تحریف کا سراغ مل گیا‘‘۔
’’ اس قسم کی گستاخی کا تو تصور ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میں نے قرآن کریم میں لفظی تحریف کی ان ساری آیات کو حوالوں کے ساتھ جمع کیا اور مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے قرآن مجید میں الفاظ کی تحریف پر تحریف قرآن اور قادیانی امت اور قرآن کے نام سے الگ الگ دو کتابچے لکھے جن کو جمعیت اتحاد العلمائے پاکستان نے بڑی تعداد میں طبع کرایا۔ پنجاب اسمبلی میں بھی اس کی باز گشت  سنی گئی اور حقائق جاننے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ جس کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ     یہ تحریف ثابت ہوتی ہے۔ اس پر قادیانی مرکز ربوہ سے ان کے ذمہ داروں کی طرف سے مجھ سے رابطہ کیا گیا اور اس لفظی تحریف کو ’سہو کتابت‘ قرار دیتے ہوئے یقین دلایا گیا کہ اس کی اصلاح کر دی جائے گی۔حالاں کہ اس تحریف کو کسی بھی طرح کتابت کی غلطی تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کاوش کا علم سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ کو ہوا، توانھوں نے ملاقات میں میری کوشش کی تحسین فرمائی‘‘۔
میں نے یہ تفصیلات اس نسبت سے تحریر کی ہیں کہ قارئین مولانا مودودی مرحوم و مغفور کی اس خوبی سے واقف ہوں، جس کے تحت وہ دین کے کام کے لیے ہرسطح پر افراد کی قدر کرتے تھے، چیزوں پر نظر رکھتے تھے اور نہایت مشفقانہ انداز سے حوصلہ افزائی کرتے تھے۔