نومبر ۲۰۲۱

فہرست مضامین

اقبالؒ کا فقرِ غیور اور بدلتا منظرنامہ

حبیب الرحمٰن چترالی | نومبر ۲۰۲۱ | اقبالیات

دورِ غلامی میں آنکھیں کھولنے والے علّامہ محمد اقبالؒ نے اپنی ذات کو مخاطب کرکے فرمایا تھا:

اے مرے فقر غیور! فیصلہ تیرا ہے کیا
خِلعتِ انگریز یا پیرہنِ چاک چاک!

پھر انھوں نے فقر غیور کی تشریح دوسرے شعر میں یوں فرمائی:  ؎

لفظ ’اسلام‘ سے یورپ کو اگر کدّہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے ’فقرِ غیور!‘

ایسٹ انڈیا کمپنی [تاسیس: ۳۱دسمبر ۱۶۰۰ء] اور برطانوی افواج برصغیر جنوبی ایشیا پر عملاً جب قابض ہوگئیں، تو شاہ ولی اللہؒ کے بڑے صاحبزادے شاہ عبدالعزیز (۱۷۴۶ء-۱۸۲۳ء) نے ۱۸۰۳ء میں برصغیر کے خطّہ کا ’دارالاسلام‘ نہ رہنے اور فقہی لحاظ سے ’دارالحرب‘ ہونے کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے انگریزی سامراج کے خلاف جہاد شروع کرنے کا فتویٰ دیا۔اسی کے تحت سیّداحمد بریلوی اور شاہ اسماعیل نے تحریک ِ جہاد شروع کی، جو مختلف صورتوں میں پورے جنوبی ایشیا میں پھیلتی ہوئی عظیم تحریک ِ مزاحمت میں ڈھل گئی۔ برطانوی راج نے شاطرانہ منصوبہ بندی کی تاکہ فقر غیور دکھانے والوں کو لہولہان اور خلعت ِ انگریز نہ پہننے والوں کا پیرہن چاک چاک کر دیا جائے اور بزورِ قوت اُن پر اپنا نظریہ اور اپنی تہذیب مسلط کر دی جائے۔

برصغیر میں مسلمانوں کی ۸۰۰ سو سالہ حکومت افغانستان سمیت پورے خطّہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ اقبالؒ نے اپنے ۱۹۳۰ء کے خطبہ الٰہ آباد میں سرحد، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی جغرافیائی آزادی کو انگریز کی عمل داری یا اس کے بغیر اسلامی نظریے کی بنیاد پر تقدیر مبرہم قرار دیا۔ یوں انگریزوں کے خلاف ایک طویل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں خطۂ پاکستان نے ۱۹۴۷ء میں آزادی حاصل کرلی اور انگریزی سلطنت برصغیر چھوڑنے پر مجبور ہوگئی۔ تاہم، افغانستان نے اپنی آزادی کا اعلان، انگریزوں، کمیونسٹ روس، نیٹو اتحادیوںاور امریکی افواج کی شکست اور انخلا کے موقع پر، پورے سوسالہ صبرآزما جہاد کے بعد ۱۵؍اگست ۲۰۲۱ء کو کیا، جب طالبان نے کابل کو فتح کرلیا۔ پوری دنیا اس فتح کی شاہد ہے۔ طویل مذاکرات اور گفت و شنید کے بعد انخلا کے لیے ۳۱؍اگست ۲۰۲۱ءکی ڈیڈلائن پر معاہدہ ہوا اور افغانیوں کی استقامت کے سبب ۲۰سالہ جنگ کے بعد امریکی اور نیٹو اتحادی فوجوں نے مقررہ تاریخ پر انخلا مکمل کرلیا اور پلٹ گئے: وَرَدَّ اللہُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِغَيْظِہِمْ لَمْ يَنَالُوْا خَيْرًا۝۰ۭ (احزاب۳۳:۲۵) ’’اللہ نے جارح کفّار کا منہ پھیر دیا اور وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یوں ہی نامراد پلٹ گئے‘‘۔

برطانوی افواج پر پہلا تباہ کن حملہ

۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کچل دینے کے بعد انگریزوں نے اپنی توسیع پسندانہ نگاہ افغانستان پر مرکوز رکھی، مگر اس سے پہلے ۱۸۴۲ء میں پہلی جنگ ِ افغانستان کے دوران فقر غیور کے حامل افغانیوں کے ہاتھوں، انگریز استعمار کو اور ان کی طرف سے حملہ آور ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی افواج کو ذلّت آمیز شکست ہوئی تھی، جسے وہ تباہ کن شکست یا Disaster کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ولیم جارج الفن سٹن (۱۷۸۲ء- ۱۸۴۲ء) کی کمان میں برطانوی افواج کی مڈبھیڑ کابل اور جلال آباد کے درمیان مجاہد وزیر اکبر خان کی قیادت میں افغان قبائلی مجاہدین کے ساتھ ہوئی اور افغانیوں نے برطانوی افواج اور سویلین کے مجموعی طور پر ۳۰ ہزار افراد کا قلع قمع کر دیا، سوائے ایک انگریز کے جو پیشہ کے اعتبار سے سرجن ڈاکٹر تھا، کوئی بھی زندہ نہ بچا۔ زندہ چھوڑے جانے والے فوجی ڈاکٹر کا نام ولیم برائڈن (۱۸۱۱ء-۱۸۷۳ء) تھا، جو زخموں سے چُور مگر زندہ حالت میں راولپنڈی پہنچا۔ اُن سے پوچھا گیا: باقی برطانوی فوجی کہاں ہیں؟‘‘ تو اس کا مختصر جواب یہ تھا: No Army, Me the only Army  (یعنی میرے سوا کوئی فوجی نہیں بچا)۔طبعی موت کے بعد یہ ڈاکٹر راولپنڈی چھائونی کے ایک گرجا کے احاطے میں دفن ہے۔

عام تاثر یہی ہے کہ جنگیں مادی قوت اور توانائی کے بل بوتے پر جیتی جاتی ہیں۔ اس مادی توانائی پر فخر کرکے معروف فرانسیسی جرنیل نپولین (۱۷۶۹ء-۱۸۲۱ء) نے کہا تھا: Who has steel, has everything ’جس کے پاس فولاد ہے، اس کے پاس سب کچھ ہے‘، تو علامہ اقبالؒ نے کہا: I venture to modify it by saying, "Who is steel, has every thing     میں ترمیم کی جرأت کرکے کہتا ہوں’’جو خود مثلِ فولاد ہے، سب کچھ اسی کا ہے‘‘۔

اقبالؒ نے بجاطور پر مغربی جرنیل کی مادی سوچ کی تردید کی اور اُن پر واضح کیا کہ جنگیں، صرف مادی توانائی کی بنیاد پر ہی نہیں بلکہ نظریاتی توانائی کی بنیاد پر بھی لڑی اور جیتی جاسکتی ہیں۔ سرمایہ و ٹکنالوجی ایک مادی قوت ہے مگر نظریہ اور آئیڈیالوجی ایک ایمانی قوت ہے، جو انسان کو مثلِ فولاد مضبوط بناتا ہے اور کمزوری کو قوت میں بدل دیتا ہے  ؎

لادینی و لاطینی ، کس پیچ میں اُلجھا تُو
دارُو ہے ضعیفوں کا ’لا غَالِبَ اِلَّا ھُو‘

افغانستان کی تاریخ عالمی قوتوں کی بدعہدیوں سے بھری پڑی ہے مگر افغانیوں نے تین بڑی سامراجی اور سپر طاقتوں سے اُن کی بدعہدی کا بدلہ چکا دیا جو خطے میں اُن کی مداخلت اور جارحیت کا شرمناک انجام ہے۔

تحریکِ جہاد اور غدارانِ ملّت

کشمیر کی جدوجہد ِ آزادی ہو یا افغانستان اور ہندستان کی آزادی کی تحریک، یہ تاریخ کی اَلم ناک داستان ہے۔ عظیم مجاہد کشمیر سیّد علی گیلانی (م: یکم ستمبر۲۰۲۱ء) اپنی کتاب اقبال روح دین کا شناسا میں رقم طراز ہیں: ’’غداروں کی غداری کے نتیجے میں یہ خطّہ ابھی تک سامراجیت کے چنگل سے نہیں نکلا اور ابھی تک خاک و خون میں غلطاں ہے‘‘ (ص۵۲)۔ بنگال میں میر جعفر [م:۱۷۶۵ء] نے غداری کرکے نواب سراج الدولہ [م:۱۷۵۷ء] کو شکست سے دوچار کر دیا جس سے انگریزوں کا اثر و رسوخ ہندستان میں اور جنوبی و وسطی ایشیا تک بڑھ گیا۔ دوسری طرف دکن کے میرصادق [م: ۱۷۹۹ء] نے سلطان ٹیپو (۱۷۵۱ء-۱۷۹۹ء) کے ساتھ غداری کی۔ ۱۷۹۹ء میں اُن کی شہادت کے بعد انگریزی عملداری میں آخری رکاوٹ بھی دُور ہوگئی اور ہندستان دارالاسلام سے دارالحرب بن گیا جہاں شریعت اسلامی کے قوانین معدوم ہوگئے۔ ہندستان پر غلبہ پانے کے بعد انگریزوں نے افغانستان پر جارحیت کی۔ کابل، جلال آباد کے درمیان کندمک وہ مقام تھا، جہاں فقر غیور کے حاملین افغانوں نے انگریزی افواج کی پوری بریگیڈ کو شکست فاش سے دوچار کر دیا۔ یہ ۱۳جنوری ۱۸۴۲ء تھی کہ ۱۶ہزار۴سو۹۹ کی تعداد میں باقاعدہ فوج کو ملیامیٹ کرکے صرف ایک سرجن کو زندہ چھوڑ دیا۔

ہندستان میں انگریزوں کو مدد کے لیے بے شمار آستین کے سانپ مل گئے۔ جاگیرداروں، زرپرست نوابوں اور غداروں کی ایک پوری فوج مل گئی۔ ان ننگ وطن اشرافیہ کے سہارے انگریزوں نے ہندستان میں اپنی حکومت مستحکم کرلی۔ یہ طبقہ آج تک اپنے اثرات دکھانے کے علاوہ معاشرے کو اپنے شکنجے میں لیے ہوئے ہے۔ اس لیے اقبالؒ نے کہا تھا:

ملّتے را ہر کجا غارت گرے است
اصل اُو صادقے یا جعفرے است

الاماں از روحِ جعفر الاماں
الاماں از جعفران ایں زماں

[جہاں کہیں کوئی ملّت تباہ ہوتی ہے، اس کی تہ میں کوئی صادق ہوتا ہے یا کوئی جعفر۔ اللہ تعالیٰ روحِ جعفر سے اپنی پناہ میں رکھے، اللہ تعالیٰ اس دور کے جعفروں سے بچائے]۔

اِن غداروں کی قوت کے سہارے انگریز، مخلص علماء کی مزاحمتی قوت کو توڑنے کے لیے سرگرم تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کو غدر (بغاوت) قرار دے کر لاکھوں انسانوں کو تہ تیغ اور ہزاروں علماء کو تختۂ دار پر لٹکایا گیا۔ انگریزی راج کو اپنے خلاف ہرکوشش اور سازش کے تانے بانے علماء پر آکر ملتے تھے کیونکہ اُن کا دین اُن کو کافر اغیار کی غلامی اور خلعت انگریز پہننے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ شریعت ِ محمدیؐ اُن کو بندوں کی غلامی سے آزاد کرکے خدائے واحد کی بندگی سے جوڑتی تھی۔ شرع اور فقر کا یہ کردار، اقبال نے اس شعر میں واضح کر دیا تھا  ؎

کَس نہ گردد درجہاں محتاجِ کس
نکتۂ شرع مبیں این است و بس

شرعِ مبین کا مرکزی نکتہ ہی یہ ہے کہ اس جہاں میں انسان دوسرے انسان کا محتاج نہ رہے، مگر برصغیر کے دارالحرب اور دارالکفر میں انگریزوں کے غلبے کے بعد ہندستان کے مسلمان انگریز کے دست ِ نگر اور محتاج بن کر رہ گئے۔ تاہم، افغانیوں نے انگریزوں کو شکست فاش دے کر پرچم اسلام اور فقر غیور کی لاج رکھی۔ انگریزوں نے ۱۸۸۵ء میں انڈین نیشنل کانگریس کی ہندوئوں سے سازباز کرکے بنیادرکھی۔ اس کے پس منظر میں ہندو دھرم اور مذہب اور سیاست کی علیحدگی کارفرما تھی۔ مگر افغانستان میں شکست کھانے کے بعد اس نئی چنگیزی فکر کے ساتھ تاج برطانیہ نے وائسرائے ہند پر دبائو ڈالا کہ افغانوں سے بدلہ لینے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کی افواج کو کابل پر چڑھائی کا حکم دیا جائے۔ اس دوران ایک افغانی شیرعلی آفریدی [پھانسی: ۱۱مارچ ۱۸۷۲ء] کے ہاتھوں ۸فروری ۱۸۷۲ء کو جزائر انڈیمان میں وائسرائے لارڈ رچرڈ بورک میو قتل ہوچکا تھا۔

ھر فرعونے را موسٰی

طیش میں آکر برطانوی وزیراعظم نے نئے وائسرائے کا تقرر کرکے ۱۸۷۷ء میں  کابل پر حملہ کرنے کے احکامات دیئے۔ یہ کیا حُسنِ اتفاق تھا کہ عین اُسی دورِ غلامی میں محمدعلی جناح کی ۱۸۷۶ء میں ولادت ہوئی اور ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں شیخ نورمحمد کے گھر میں ایک نابغہ روزگار بچے اقبال کی ولادت ہوئی۔ دوسری جانب ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی افواج افغانستان کی طرف کوچ کر رہے تھے۔ انگریزوں نے برصغیر کی تحریک ِ مزاحمت کو کچلنے کے لیے دولاکھ۳۳ہزار کرائے کے سپاہی بھرتی کیے تھے۔

انگریز ۲۶مئی ۱۸۷۹ء کو امیر افغانستان سے معاہدہ اور سمجھوتا کرنے میں کامیاب ہوئے۔ امیردوست محمد خان کے ساتھ یہ ایک غیرمساویانہ معاہدہ تھا، جس کے تحت برطانوی افواج کو کابل میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔

خطے میں عالمی بدعہد طاقتوں کی سازباز

افغانستان کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالی جائے تو یہ سرزمین دُنیا کی مقتدر طاقتوں کی بدعہدیوں سے بھری پڑی ہے۔ ۱۸؍اگست ۱۹۱۹ء کو امن کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا اور ۱۹۴۲ء میں بدعہد تاجِ برطانیہ نےاس معاہدے میں ترمیم کرکے کمیونسٹ روس کو اپنا حلیف بنالیا جس کی بدولت ۱۹۷۹ء میں افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کی راہ ہموار ہوگئی۔ سردجنگ کے خاتمے پر روس اور امریکا نےآپس میں معاہدہ کیا۔ نائن الیون کے پس منظر میں امریکا اتحادی اور نیٹو فورسز کی افواج لے کر۲۰۰۱ء میں افغانستان پر حملہ آور ہوا اور طالبان کی پانچ سالہ حکومت (۱۹۹۲ء- ۲۰۰۱ء) کا خاتمہ کیا اور اسلحہ وجدیدعسکری قوت کے زور پر افغانستان کو بُری طرح روند ڈالا۔ اس بدعہدی کے لیے اقوام متحدہ نے بھرپور سرپرستی کی۔ اللہ تعالیٰ نے فتح و نصرت فقرِغیور کے حامل افغانیوں کے نصیب میں لکھ دی: فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ ’’اے اہلِ بصیرت ا س سے سبق حاصل کرو‘‘۔

افغانیوں کی غیرتِ دین اور ذوقِ یقین پر شاعر مشرق کو اتنا اعتماد تھا کہ وہ بے تیغ بھی لڑتے ہوئے طویل غلامی کی زنجیریں کاٹ کر رکھ دیں گے:

آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملّتِ افغاں درآں پیکر دل است

از فسادِ او فساد آسیا
در کشاد او کشادِ آسیا

[ایشیا کی مثال آب و گل کے ایک پیکر کی سی ہے۔ اس ڈھانچے کے اندر ملّت افغان کی حیثیت دل کی سی ہے اور افغانستان کے اندرفساد دراصل ایشیا کا فساد ہے۔ افغانوں کی آزادی سے ایشیا آزاد ہوگا ]۔

ماضی کایہ الہامی شعر آج ایشیا ہی نہیں بلکہ دُنیا کے لیے پالیسی بیان کا رُوپ دھار چکا ہے جو کوئی بھی دُنیا میں امن کے طالب ہیں، البتہ جو امن کے طالب نہیں، افغان مجاہدین کے ہاتھوں ’کشاد آسیا‘ خنجر بن کر ان کے دل میں اُتر رہا ہے۔

بلاشبہہ عظیم سلطنتوں کے پیچھے عظیم دانش وروں کی فکر کارفرما ہوتی ہے۔ علّامہ ڈاکٹر محمد اقبال، جمال الدین افغانی [۱۸۳۸ء-۱۸۹۷ء]کی پان اسلام ازم کی فکر سے متاثر تھے۔ دونوں نابغہ روزگار شخصیات کی فکر کا نچوڑ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی محور قیادت و سیادت کے گرد گھومتا ہے، یعنی اقامت دین و اجراء شریعت    ؎

از رسالتؐ در جہاں تکوینِ ما
از رسالتؐ دینِ ما آئینِ ما

[رسالت ہی سے اس دنیا میں ہمارا وجود قائم ہے، رسالت سے ہی ہمارا دین اور ہمارا آئین (شریعت) ہے۔]

اقبالؒ، سیّد جمال الدین افغانیؒ کو دورِ حاضر میں مسلم نشاتِ ثانیہ کا مؤسس قرار دیتے ہیں۔ ۱۸۷۰ء میں جمال الدین افغانیؒ کو استنبول کے دارالفنون میں خطاب کی دعوت دی گئی۔ خطاب کے دوران اُن کا وژن یہ تھا: ’’جسم کی زندگی روح کے بغیر ممکن نہیں۔ معاشرے کی روح نبوت ہے یا فلسفہ، مگر ان دونوں میں بنیادی فرق ہے۔ نبوت، اللہ کی رحمت سے ملتی ہے، محنت و ریاضت سے حاصل نہیں ہوتی، جب کہ فلسفہ غوروفکر اور بحث و مباحثے کا ماحصل ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے نبی معصوم عن الخطا ہوتا ہے اور فلسفی غلطی کرتا ہے اور کرتا رہتا ہے (مشاہیر الشرق، جلد دوم،ص ۱۵۴)۔

اپنے مشاہیر کے افکار کی روشنی میں افغانستان کی سرزمین کو دین متین اور شرع مبین کا مرکز بنانا اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے چھڑانا امارت اسلامی افغانستان کی اوّلین ذمہ داری بنتی ہے۔ شاید یہ غیرمعمولی فتوحات ربِ کائنات نے اسی لیے کرشماتی طورپر اُن کو عطا کی ہیں تاکہ وقت کے مستکبر فرعونوں کا سر، اِن درویش اصحابِ فقر مستضعفین کے آگے جھک جائے اور اُن کی رُعونت ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جائے اور اُن کی مادی قوت، ایمانی نظریے سے مات ہوجائے:

قبائل ہوں ملّت کی وحدت میں گم
کہ ہو نام افغانیوں کا بلند

محبت مجھے اُن جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

سردار ابراہیم خان اپنی کتاب کشمیر ساگا میں لکھتے ہیں کہ ’’غلبۂ اسلام کے لیے شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی دعوت پر احمد شاہ ابدالیؒ [۱۷۲۲ء-۱۷۷۲ء]نے نہ صرف ہندستان بلکہ ۱۷۵۰ء میں ریاست کشمیر میں بھی اپنی سلطنت قائم کی۔ ریاست کشمیر ۷۰سال تک افغانیوں کے زیرنگیں رہی۔ یہاں تک کہ برطانوی استعمار نے سازش کے ذریعے ۱۸۴۶ء میں کشمیر راجا گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا، جب کہ جموں کی ریاست بارھویں صدی سے پندرھویں صدی تک غوری خاندان کے ماتحت رہی۔ پھر مغلوں اور ۱۸۲۰ء میں جموں کی ریاست گلاب سنگھ کے حوالے کر دی گئی‘‘ (کشمیرساگا، ص ۷)۔ یوں عرصۂ دراز تک جنوبی و وسطی ایشیا کا یہ خطّہ افغانوں کے زیرتسلط رہا اور خطّے پر اسلام کا پرچم لہرایا اور دارالاسلام بنا رہا۔

اقبالؒ نے افغانستان کی سرزمین پر کھڑے ہوکر یہ نعرئہ مستانہ بلند کیا تھا  ؎

افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
مُلا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو

اُن کا یہ اعلان الحکم للّٰہ اور والملک للّٰہ ایک ناقابل انکار سچائی ہے اور اس سچ کی شہادت ہماری ذمہ داری ہے۔ اقبال نے جب اپنی کتاب پیامِ مشرق کا انتساب غازی امان اللہ خان، امیرکابل کے نام کے ساتھ معنون کیا، تو ڈاکٹر عبداللہ چغتائی نے سوال اُٹھایا جس کے جواب میں علّامہ نے فرمایا: ’’میں کسی آزاد مسلمان کے نام یہ انتساب کرنا چاہتا تھا۔ اس ضمن میں امیرامان اللہ خان سے زیادہ موزوں کوئی دوسرا نہ تھا‘‘۔

۱۹۲۹ء میں امیرامان اللہ خان کے خلاف بغاوت کرکے اُن سے امارت چھین لی گئی اور انگریزوں نے افغانستان کو خانہ جنگی کے دھانے پر لاکھڑا کیا۔ امان اللہ خان کے بھائی جو اُن دنوں فرانس میں سفارت کار تھے۔ پیرس سے سیدھا لاہور آئے اور علّامہ اقبال ؒ سے تفصیلی ملاقات کی اور انگریزوں کے خلاف جہاد کا علَم بلند کرنے کا عزم کیا گیا۔ پشتون قبائل سے رابطہ کرنے کے لیے نادرشاہ (۱۸۸۳ء-۱۹۳۳ء) شمالی وزیرستان کے علی خیل روانہ ہوئے۔ روانگی کے وقت اقبال نے نادرشاہ کو اپنی جیب سے دس ہزار روپے کی خطیر رقم پیش کی۔ انھوں نے فقروفاقہ مستی میں یہ رقم قبول نہ کی اور وزیر و محسود قبائل کی مدد سے کابل پر حملہ کرنے کے لیے لشکر ترتیب دیا۔ اقبالؒ نے مجاہدین کی مدد کے لیے ایک فنڈ قائم کیا اور برصغیر کے مسلمانوں نے لاکھوں کے عطیات جمع کرکے نادرشاہ کی خدمت میں ارسال کر دیئے۔ شبقدر سے حاجی صاحب ترنگزئی، مُلا سنڈالئے اور کابل کے مُلا شوربازار نے جہاد میں بھرپور حصہ لیا، اور کابل فتح کرنے میں کامیاب ہوئے۔ بعد میں نادرشاہ نے اقبالؒ کو کابل کے سرکاری دورے پر بلایا تو سیّد سلیمان ندوی کے ہمراہ اقبال نے افغانستان میں قیام کیا اور نسل نو کے لیے تعلیمی نظام اور نصاب ترتیب دیا۔ اس کے ردعمل میں ۱۹۳۳ء میں نادرشاہ کو قتل کیا گیا اور تحریک ریشمی رومال کا راز فاش ہونے پر مولانا محمود حسنؒ، مولاناعزیرگل ؒاور حسین احمد مدنیؒ نے جلاوطنی کی سزا پائی۔ خلافت کی تحریک ناکام ہونے پر ملوکیت ہرطرف چھاگئی تھی اور مجاہدین کو سخت نقصان اُٹھانا پڑا   ؎

تاخلافت کی بِنا  دُنیا میں  ہو پھر  اُستوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

۱۹۳۶ء میں ’مسافر سیاحت چند روزہ افغانستان‘ کے عنوان سے علّامہ اقبالؒ کا مضمون شائع ہوا تھا۔ اس اہم دستاویز کی بنیاد پر افغانستان کے لیے فقرِ غیور کا دستوری خاکہ مرتب کیا جاسکتاہے۔

اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا وژن

خطے کے جسور و غیور عوام کے لیے بانی ٔپاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ کا وژن بھی وہی تھا، جو اقبالؒ کا تھا۔ پاکستان بننے سے پہلے قائدؒ نے ۱۱۴ مرتبہ ، اسلامی تعلیمات کو قوم کے سامنے پیش کیا، اور پاکستان بننے کے معاً بعد ۱۴ مرتبہ اسلام کے وژن کو پیش کیا جس کے تا نے بانے فقرغیور سے ملتے ہیں، جو اسلام کا شعار ہے۔

علامہ اقبالؒ کی وفات کے بعد، ۲۰مارچ ۱۹۴۰ء کو قائدؒ نے اقبالؒ کو یوں یاد کیا:

 His ideal therefore is life according to the teachings of Islam with a motto" Dare and Live".

اقبالؒ کا آئیڈیل اسلام اور اسلامی تعلیمات کے مطابق جینا تھا اور اسلام کا شعار بھی یہی ہے: ’’جیو تو غیرتِ مستانہ جیو‘‘ ۔

 اقبالؒ اس جذبے کو عشق سے تعبیر کرتا ہے، جو ہرقسم کا خطرہ مول لیتا ہے

بے خطر کود پڑاآتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی

فتح کابل کے موقع پر بانیانِ پاکستان کا یہ پیغام ’اُمت مسلمہ کی عظیم فتح‘ کی نوید ہے،  جس پر عمل کرکے افغانیوں نے خطّہ اور مستضعفین جہاں کے لیے فقر غیور کے اس پرچارک کے پیغام کو سمجھا،جس نے لاہورسے تابخاک سمرقند و بخارا اہلِ ایمان اور قومِ رسولِ ہاشمیؐ کو ولولۂ تازہ سے یوں ہمکنار کیا:

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک

حرمِ پاک بھی، اللہ بھی ، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک